Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جب دوست بن جائے دشمن . تحریر : واحید خان

    جب دوست بن جائے دشمن . تحریر : واحید خان

    انسانی رشتوں کے ساتھ اگر جذبات کا گہرائی تک جانا محبت کہلاتا ہے تو نفرتوں کے ساتھ ا نتقام کے جذبات کا انتہاہ تک جانا دشمنی کے زمرے میں اتا ہے اور پھر دوستی کے گہرائی سے پیار اور اخلاص کے جذبات کا اہستہ اہستہ دشمنی کے سفر میں جو درد سینے میں محسوس ہوتا ہے وہ وحشت کا ایک بھیانک تصویر بن جاتا ہے۔جس تصویر میں اپ ساری عمر محبتوں اور چاہتوں کے رنگ بھرتے بھرتے خودایک لازوال کہانی کا تصور بن گئے ہو،اپکی دوستی اور قربانی کی مثالیں دی جاتی رہی ہواور پھر اُسی تصویر سے اپ ایک ایک کرکے محبتوں کے رنگ مٹانے پر مجبور ہو اور اندر سے ہر رنگ کے مٹانے کے ساتھ ساتھ اپکے حواص میں ایک درد سا محسوس ہو رہا ہو مگر پھر بھی دوستی سے دشمنی کا سفر جاری ہو تو اللہ نہ کرے کہ یہ درد اور یہ کرب کسی کو نصیب ہو،،

    انسان عمرکے اُس حصے میں پہنچ جائے جہاں سے دنیا کے ہر چیز کو سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے تو وہاں سے اپنے بچپن کے دوستوں کو بہت ہی مقدس مقام پر محسوس کیا جاتا ہے ایک ایک لمحہ نہ بھولا نے والا ہوتا ہے اور پھر بچپن سے جو اپکے ساتھ ایک ساتھ چلتا ایا ہو ،اپکے راز و نیاز کا ساتھی ہو،دکھ درد کا ساتھی ہو،محبتوں کے سیکھنے اور سیکھانے کے عمل سے ایک ساتھ ہو کر گزرے ہو محبت کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے ساتھ جذبات کی حد وابستگی ہو اور پھر وقت اور حالات اپکو انا کے ہاتھی پر سوار کر کے اُسی دوست کے مقابل ایک ناقابل برداشت دشمن کے شکل میں لاکھڑا کردے تو یہ عمل بہت ہی کربناک ہوتا ہے۔دوستوں کے درمیان دشمنی کے سفر میں اگر پیسہ ،دولت اور لالچ کو دخل حاصل ہے تو ساتھ ساتھ اس میں طاقت اور اختیار کا بہت بڑا ہاتھ ہو تا ہے،،،بعض دوستوں کو طاقت اور اختیار کے بنے ہوئے سانپ ڈس جاتے ہیں ،دوستوں میں جب کوئی ایک دوست طاقت اور اختیار انے کے بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدلے،منہ میں پیار کی جگہ حکم کی زبان بولنے لگے،انکھوں میں احترام کے بجائے تضحیک بھر جائے ،اخلاص کے بجائے رسمی ادائیں سمو جائے،حقیقت کے بجائے خوش امدیوں کے فرضی کہانیوں سے فیصلے کرکے اپنے دوست کے ہر حقیقی اور سچی بات کا الٹ مطلب لینا شروع کرے ،زمینی حقائق کے بجائے مولا دوپیازہ جیسے لوگوں کے نخروں والی وقتی اور غیر حقیقی کہانیوں کو اپنی مشعل راہ بنانیکی کوشش کرے تو پھر ایسے ماحول میں دوستی کا جنازہ اغیار اپنے کندھے پر اٹھا کر بے ضمیروں کے قبرستان میں بغیر کفن کے ہی دفن کرتے ہیں۔

    @waheed859

  • تنگ نظری اورحقیقت سے خوف زدہ .  تحریر: صالح

    تنگ نظری اورحقیقت سے خوف زدہ . تحریر: صالح

    ہم کہنے کو تو ایک آزاد ریاست پاکستان میں رہتے ہیں لیکن کیا ہم واقعی آزاد ہیں یہ سوال ہمیشہ سے میرے ذہن کو مطمئن نہیں کرتا اگر ہم آزاد ہیں تو پھر یہ آزادی نظر کیوں نہیں آتی حقیقت تو یہ ہے کے ہم کبھی آزاد ہوئے ہی نہیں آزادی وہاں ہوتی ہیں جہاں سوال اٹھانے کی اجازت ہو جہاں اپنے موقف اور نظریہ کو رکھنے کا موقعہ ہو جہاں آپ کے موقف کو سنا جائے لیکن پاکستان میں آپ سوال اٹھائے گے تو آپ کو ہر وقت اس بات کا خوف ہو گا کے نہ جانے کب کوئ گولی آئے اور مجھے قبرستان کا راستہ دیکھا دے یا آپ کی فیملی کا مستقبل خطرے میں ہو آپ اپنے نظریات صرف اس وجہ سے بیان نا کریں کے آپ پرسیکولرزم لبرلزم انتہا پسند کے فتوے نا لگا دیے جائے آپ کا جینا مشکل کر دیا جائے اور آپ کی رائے اورموقف کو سنا تک نا جائے مگر افسوس موقف تو وہاں سنا جاتا یا رائے کی آزادی ہو مکالمہ تو اس قوم سے پہلے ہی چھین لیا گیا اب آپ کا موقف آپ کی رائے وہی ہونی چاہیے جو ریاست کی ہے نہیں تو آپ غدار ملک دشمن کہلائے گے اس کے بعد ہمارے ہاں مذہب کو سیاست میں جس طرح سے استعمال کیا گیا اس نے آزادی کو مزید ختم کر دیے اب تو کوئ شخص مذہبی فکر میں موجود خرابی پر بھی اس ڈر سے بات نہیں کرتا کے اسے کافر اور گستاخ قرار دے کر دن دہاڑے مر دیا جائے گا تاریخ کو بھی مسخ کرنے میں ہم نے کوئ کسر نا چھوڑی اور خود کو تیس مار خان سمجھنے لگے ہیں کے دیکھو جو بیان کیا جا رہا ہے اس کو مانا جا رہا ہے اس سے آپ شاید اپنی آنکھوں میں تو دھول جھونک سکتے ہیں مگر تاریخ کو مسخ کرنے سے تاریخ کا کچھ نہیں ہو گا وہ آپ کو مسخ کر دے گی حقیقت تو یہ ہے کے پہلے ہم انگریز کے جسمانی غلام تھے ہماری سوچ فکر اور نظریے آزاد تھے مگر اب جسمانی غلام تو نا رہے مگر نظریات و افکار میں ہم پہلے سے زیادہ غلام بن گے اور بنتے جائیں گے جب تک سوال نہیں اٹھائیں گے.

  • ‏محبت اورہمارا معاشرہ . تحریر : صالح_ساحل

    ‏محبت اورہمارا معاشرہ . تحریر : صالح_ساحل

    اس کائنات میں سب سے خوبصورت جذبہ محبت ہے محبت کس حد کی پابند نہیں پھر چاہیے یہ درختوں سے ہو پرندوں سے ہو انسانوں سے وہ یا مرد اور عورت کے درمیان ہو مگر ہمارے معاشرہ محبت کے قصے کہانی بڑھے شوق سے پسند کرتا ہے ان کہانیوں داستانوں میں محبت کے مخالفین کو برا کہتا ہے مثال کے طور پر آپ ہیرے رانجھے کی کہانی اٹھا کے پڑھ لے بچپن سے جہاں سنی سب قیدو نامی کراردر کے سخت مخالف مگر جب یہ محبت ہمارے گھر میں لڑکا یا لڑکی کرے تو ہم خود قیدو بند جاتے ہیں تب مجھے یہ سمجھ آتی ہے کے ہمارہ معاشرہ دوہرہ معیار رکھتا ہے.

    اب چلیں آگے تو یہ کہانی اور اور اس جیسی ہر کہانی تو پرانی ہوئ نئے دور کی بات کرتے ہیں ہر آدمی کے پاس موبائل ہے جن کے پاس موبائل نہیں ان کے پاس ٹی وی لازمی ہو گا فلموں اور ڈرموں میں ہمیشہ لوگ محبت کے مخالف کو ویلن قرار دیتے ہیں اور ان کے جذبات دیکھنے والے ہوتے ہیں کے ان کا بس نہیں چلتا کے ڈرامہ یا فلم کے درمیان اٹھ کر ایک دوسرے کو ملا دیں مگر جب یہ محبت جن ان کے آس پاس کوئ کرتا ہے تو اس ویلن کا کردار خود ادا کرتے ہیں مگر جب اپنا معاملہ ہو تو ان کو سہی لگتا ہے دوسرے کے بارے میں غلط آخر یہ معاشرہ ڈبل سٹینڈرڈ کے ساتھ منافق بھی ہے اگر آج کسی لڑکے یا لڑکی کو یہ ڈر نا ہو کے اس کے اظہار محبت پر گھر والے اس کے مخالف نہیں ہوں گے تو وہ کبھی غلط قدم نا اٹھے مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہر شخص اپنے لیے تو رانجھا اور دوسروں کے لیے قیدو کا کردار ادا کرتا ہے تو ایسے معاشرے کو چاہیے اپنا نام منافق معاشرہ رکھ لے.

  • دورحاضر کی جنگی حکمت عملی . تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    دورحاضر کی جنگی حکمت عملی . تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    ‎اٹھارہویں صدی میں جنگ کا پہلا طریقہ یہ سامنے آیا کہ کسی ملک کی فوج اور ہتھیاروں کا رخ دوسرے ملک کی جانب موڑ دیا جاتا تھا اور یوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ ہوتا تھا۔اُنیسویں صدی میں جنگ کا دوسرا طریقہ متعارف ہوا جس میں صف بندی کر کے حملہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ منتشر اور بیک وقت کئی مقامات سے حملہ آور ہوا جانے لگا۔ دوسری قسم کی جنگ میں افرادی قوت کی بجائے ہتھیاروں پر زیادہ زور رہا۔ بیسوی صدی میں جنگ کا تیسرا طریقہ متعارف ہوا جو چار طریقوں کا مجموعہ تھا۔ اِس میں حملہ کرنے کی رفتار‘ حملہ کرتے ہوئے خود کو مخفی رکھنا‘ اچانک حملہ آورہونا اورکسی ملک کے دفاعی نظام میں موجود خامیوں کی تلاش کر کے اُس کی پشت سے حملہ کرنا تھا۔ اِس قسم کی جنگی حکمت عملی میں ٹینک‘ بھاری توپ خانہ اور جنگی ہوائی جہاز استعمال کئے گئے۔انسانی تاریخ میں باالخصوص اگر 300 برس کا مطالعہ کیا جائے تو اِس میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں جنگ کے اِنہی تین طریقوں کا استعمال کیا گیا.

    لیکن اِن تین سو سالہ جنگی تاریخ میں ممالک کے درمیان جنگ کا میدان بدل گیاہے اوراب فوجیوں کا ایک دوسرے کے سامنے صف آراہونا ضروری بھی نہیں ہے۔ چلتے چلتے ہم اکیسویں صدی میں آ پہنچے ہیں اور یہاں جنگیں ممالک کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کی صورت میں لڑی جاتی ہیں۔ آج کی جنگوں کا ایک ہتھیار ’انفارمیشن ‘ بھی ہے۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار جنرل (ریٹائرڈ) سٹینلے میک کرسٹل نے ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”عصر حاضر کی دفاعی حکمت عملی اور کسی ملک پر حملے میں وہاں کے سوشل میڈیا کا استعمال بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا جنگیں آج سچ جاننے اور سچ کی کھوج کے لئے لڑی جائیں گی اور جہاں معلومات اور غلط معلومات کی کھوج کے لئے جنگیں ہوں وہاں جنگ کا میدان اور جغرافیائی حدود و قیود بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔آج کی جنگ کسی میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ یہ اعصاب اور ذہنوں پر مسلط کر دی جاتی ہے۔ کسی ملک پر حملہ آور ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کی سوچ پر تسلط حاصل کر لیا جائے اور انہیں وہی سچ لگے جو بتایا جائے اور اُنہیں وہی جھوٹ لگے جو بتایا جائے یعنی اُن کے اپنے فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت ختم ہو جائے اور وہ سوچنے سمجھنے میں اِس حد تک محتاج ہو جائیں کہ اُن کے لئے قابل یقین حکمت عملی یہی ہو جو اُن تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچ رہی ہو۔ آج کی حقیقت کا رخ یہ ہے کہ سوشل میڈیا جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اورممالک کے لئے جہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ خود کو دشمن کی دفاعی صلاحیت سے باخبر رکھیں اوراُس کے ہتھیاروں کو توڑ بناتے رہیں وہیں غلط معلومات پھیلانے کا بھی سدباب کیا جائے ۔کسی ملک کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور یہ مقررہ وقت سے شروع ہونے کے بعد اختتام تک وقت کے حساب کتاب کے ساتھ جاری رہتی ہے کہ کوئی جنگ کتنے منٹ اور کتنے سیکنڈ جاری رہی اور اِس دورانئے کے دوران کتنا جانی و مالی نقصان یا اخراجات ہوئے۔

    موجودہ دور کی ’ہائبرڈ جنگ‘ ایسی ہے کہ یہ دن رات جاری رہتی ہے۔ اِس کا دورانیہ لامحدود ہے اور اِس کا کوئی مقررہ وقت بھی نہیں کہ یہ کب شروع اور کب ختم ہوگی بلکہ اِسے مسلسل جاری رکھا جاتا ہے کیونکہ اِس کا ہدف انسانوں کے اعصاب اور سوچ ہوتی ہے۔ یہ جنگ انٹرنیٹ کے ذریعے ’آن لائن‘ لڑی جا رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں جنگوں نے افرادی قوت و ہتھیاروں سے ذہنی و نفسیاتی شکل اختیار کرنے میں 300 سال کا وقت لیا ہے۔ اِسی طرح مشینوں سے انفارمیشن پر مبنی جنگ شروع ہونے میں 10برس کا عرصہ لگا ہے۔ آج کی جنگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے ۔ انسانی معاشروں میں جنگیں جاری رہتی ہیں یا پھر جنگوں کی تیاری جاری رہتی ہے لیکن اِن کے ہتھیار‘ طریقہ کار اور انداز بدلتے رہتے ہیں۔ آج ”سوشل میڈیا‘ ‘کا دور ہے۔ آج کے دور کی جنگ چوبیس گھنٹے جاری ہے۔

    ‎موجودہ دور میں سوشل میڈیا کسی بھی ملک میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے ویسے ہی پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔ ہماری نوجوان نسل کی بہت زیادہ تعداد سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کرتی ہے جبکہ ہمارا کردار ریاست کو مظبوط کرنے ، اسلام اور پاکستان کا مثبت امیج دنیا کے سامنے لانے، پاکستان کے خلاف جاری پروپگنڈا کو کاونٹر کرنے، حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی ،اداروں میں خرابیوں اور پاکستان کے مسائل کو آجاگر کرنے میں ہونا چاہیے

    ‎حکومت پاکستان کو چاہیے کے سوشل میڈیا کا استعمال اور اس دور میں اسکی ضرورت کو مدنظررکھتے ہوے عوام میں شعور بیدار کرے، عوام کو پاکستان کا بیانیہ سامنے لانے پرراغب کیا جائے۔ سوشل میڈیا صارفین کی پزیرائی، انکے مسائل پر اٹھائی جانے والی آواز پر ایکشن، لوگوں کو اس طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کریگا۔ اگر حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے حوالے سے کانفرس وغیرہ ہوتی رہیں تو لوگوں کو مثبت کام کی طرف لانے میں آسانی ہوگی

    ‎ہائبرڈ وار فئیر کا شکار ہونے سے بچنے کا بہترین طریقہ ہمیں ملکی مفادات کو پہلے رکھنا ہو گا۔پاکستان کے دشمن پاکستان کو زیر کرنے کے لئے کروڑوں ڈالرز ہر سال اسی پر خرچ کرتے ہیں۔ کئی محب وطن پاکستانئ سوشل میڈیا پر منہ توڑ جواب دے رہے ہیں جس کے بہترین نتائج ہمارے ملک کو ملے ہیں۔ماضی قریب میں اسکی مثال ابھی نندن کی گرفتاری ہے جب 27 فروری 2019 کو سوشل میڈیا پر بیانیئے کی جنگ کامیابی سے لڑی گئی

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

  • عدم برداشت . تحریر : معین الدین بخاری

    عدم برداشت . تحریر : معین الدین بخاری

    ایک معاشرتی ناسورجس کا قلع قمع انتہائی ضروری عدم برداشت کے ناسورنے زندگی کے ہرشعبے کومتاثر کیا ہے مثلاً بیوی نے اس لیے خلع کا کیس دائرکردیا کہ اسکا شوہرکام سے تھکا ہوا آیا تھا اوراسے آج کے بجائے کل کو باہر لے جانے کہا، ایک کاروالا اس لیے رکشے والے سے لڑ پڑا کہ وہ اس کو اوورٹیک کر گیا اورایک خاتونِ خانہ نے اپنی ملازمہ کو اس لیے پیٹ دیا کہ وہ اپنا دو سالہ بچہ ساتھ لائی تھی جس نے الٹی کر دی غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں رہا کہ جہاں عدم برداشت کا واقعہ رونما نہ ہوا ہو.

    لیوی ایڈل مین Levi Adelman نے اپنی سائیکالوجیکل ریسرچ میں لکھا ہے کہ عدم برداشت کی تین قسمیں ہیں. ایک متعصبانہ عدم برداشت دوسری بدیہی عدم برداشت اسے ہم خود ساختہ عدم برداشت یا کسی کے بارے میں بغیرکسی وجہ کے بدگمانی پیداکرلینا بھی کہ سکتے ہیں اور تیسری قسم Deliberately Intolerance یعنی جان بوجھ کر کسی کو برداشت نہ کرنا یا کسی کے بارے میں بغض رکھنا کہہ سکتے ہیں.

    بہرحال عدم برداشت چاہے کسی بھی قسم کی ہو، معاشرے میں بگاراور پر تشدد واقعات کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے. اگر کھانے میں نمک کم یا زیادہ ہو جائے تو شوہر بیوی کی 99 اچھائیاں بھلا کر اسے تنقید یا تشدد کا نشانہ بنا دیتا ہے اور بیوی بھی معمولی سی بات پر خلع کا مطالبہ کر دیتی ہے جس سے نہ صرف ایک خاندان بلکہ اس سے جڑے درجنوں افراد اذیت کا شکار ہوجاتے ہیں.
    اس طرح سے عدم برداشت نے ہمارے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے. لیکن اگر دیکھا جائے تو کسی بھی ناگوار بات پر کچھ لمحہ کا صبر ہمیں اس اذیت اور شرمندگی سے بچا سکتا ہے. ہمیں ایک دوسرے کو اس لیے برداشت کرنا ہے کہ سب ہی ہماری طرح انسان ہیں جنہیں اپنی زندگی گزارنے کا حق اللہ تعالیٰ سے ملا ہے چاہے وہ رکشہ ڈرائیور یے، ہمارے گھر کام کرنے والی خاتون ہے یا پھر کوئی غریب معصوم بچہ، سب کو ایک ہی رب العالمين نے پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بھی بنا دیا.
    بحیثیت مسلمان اس معاشرتی بگاڑ کو سدھارنے کا نسخہ یہی ہے کہ ہم ہمہ وقت صبر اور شکر کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھیں. مثال کے طور پر اگر بیوی کھانے میں نمک ڈالنا بھول گئی ہے تو یہ سوچ لیں کہ وہ بھی انسان ہے اور انسان غلطی سے مبرا نہیں ہے. مفہوم حدیث ہے کہ صبر اور شکر کرنے والے جنتی ہیں. (کشاف، ص 572 ج اول قاہرہ 1325 ھ)
    آخر میں یہی کہوں گا کہ معاشرے افراد سے بنتا ہے اور اسکی اصلاح یا بگاڑ کا انحصار بھی افراد کے رویہ پر ہوتا ہے اس لیے ہم میں سے ہر فرد (عورت، مرد) کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح میں حصہ لیں گے یا بگاڑ میں.
    معین الدین بخاری
    ٹویٹر آئی ڈی @BukhariM9

  • لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    کہتے ہیں لڑکی محبت میں بے وفا ہوتی ہے
    لیکن میں کہتی ہوں نہیں لڑکی بے وفا نہیں ہوتی

    جب لڑکی کسی لڑکے سے محبت کرتی ہے تو وہ یہ ہی چاہتی ہے کے اس کی محبّت کو نکاح کا نام ملے جس سے محبّت کرتی ہے وہ محرم بن جائے لیکن لڑکی بہت دور تک سوچتی ہے
    وہ یہ سوچتی ہے کہ کیسے اس کی محبت ملے گی کیسے اس کا نکاح ہوگا لڑکی بہت ہمت والی ہوتی ہے لیکن اپنے گھر والوں کو بتانے سے ڈرتی ہے کہ کہی کچھ غلط نہ ہو جاۓ گھر والے اس کے کردارپرشک نہ کرے ماں باپ اس پر پابندیاں نہ لگادیں جس سے وہ محبت کرتی ہے اس کو کچھ نہ کردیں لوگوں کی باتوں سے ڈرتی ہے رشتے داروں کے طنے سے ڈرتی ہے لیکن اپنی محبت کو چھوڑتی نہیں.

    کچھ لڑکیاں اس ڈرکی وجہ سے گھر سے بھاگ جاتی ہے زمانے میں بدنام ہوجاتی ہے اورجو لڑکیاں کچھ نہیں کرسکتی وہ خاموش ہوکراپنی محبت کوقربان کرکے زندگی بھر کا دکھ تکلیف لے لیتی ہیں

    اب رہا سوال محبّت کا ؟؟؟ اگر کسی لڑکی کو محبّت ہے تو وہ اپنے ماں باپ سے بات کرے ان کو بتا دے کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں ماں باپ کو بھی چاہیے کہ وہ بھی لڑکی کی بات سن لیں دیکھ لیں وہ رشتہ کیا وہ صحیح ہے یا غلط ہے وہ فیصلہ ماں باپ نے کرنا ہوتا ہے
    کیوں کے ماں باپ اپنے بچوں کا غلط نہیں سوچ سکتے اور وہ لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ماں باپ کی عزت کی قدر کریں دو دن کی محبت کے لیے گھر سے بھاگنا اچھی بات نہیں کیونکہ والدین کی محبت سب سے پہلے ہے اگر آپ کو کوئی لڑکا پسند ہے تو اپنے ماں باپ سے بات کریں ان کو بتادیں کے میرے لیے صحیح ہے باقی جو فیصلہ ماں باپ کریں تو وہ مان لیں کم سے کم آپ کو اس بات کا دکھ تو نہیں ہو گا کہ آپ نے اپنے ماں باپ سے بات نہیں کی.

    باقی قسمت پر چھوڑ دیں اور اللہ پاک سے دعا کریں اگر کوئی آپ سے سچی محبت کر تا ہے تو اس کی قدر کریں کیوں کہ سچی محبّت کرنے والے بار بار زندگی میں نہیں.

    یہ میرے دل کی تھوڑی سی بات ہے جو کہہ دی اب پتا نہیں کسی کو اچھی لگتی ہے یا نہیں اگربات بری لگی ہو تو معافی چاہتی ہوں.

    @iam_FoziaCh

  • بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    سگریٹ نوشی کرنا صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے. کچھ لوگ شروع شروع میں سگریٹ شوق کی خاطر یہ کسی پارٹی وغیرہ میں دھواں اڑانے کی خاطر پیتے ہیں. پہر آہستہ آہستہ ان لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لت لگ جاتی ہے. ان کا شوق مجبوری بن جاتی ہے. پہر سگریٹ سے جان چھڑانہ انتہائی مشکل ہوجاتی ہے.

    سگریٹ کا نشہ بہت عام ہوچکا ہے سگریٹ بہت عام ہوچکا ہے ہر جگہ ہر شہر میں باآسانی مل جاتا ہے. جو لوگ سگریٹ کے عادی ہیں سگریٹ چھوڑنا ان کے لیے مشکل ہے لہٰذا ان لوگوں سے گذارش ہے کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ مت پیئں. اس سے آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی لت میں آجائیگا. جب آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو وہ بچے بھی سگریٹ کے عادی بن جائیں گے. بچے تو بچے ہوتے ہیں ان کو پتا نہیں ہوتا کیا چیز درست ہے کیا غلط ہے کون سی چیز صحت کے لیے اچھی ہے کون سی متاثرکن.

    آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو لازمی ہے اس کا اثر آپ کے بچوں پر پڑیگا. ظاہری بات ہے جب آپ کا بچہ آپ کو سگریٹ پیتے دیکھے گا تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ پینے لگے گا. ایسا ہوتا ہے اولاد بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتی ہے. والدین کو خاص کر باپ کو چاہیے کبھی بھی اپنی اولاد کے سامنے سگریٹ مت پیئے. اس طرح آپ کی نوجوان اولاد بری عادت میں مبتلا ہوسکتی ہے.

    تمام والدین سے گذارش ہے اپنی اولاد کے سامنے کبھی بھی سگریٹ نوشی مت کریں. آج نہیں تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوسکتا ہے. پہر ایسا نہ ہو آپ کا بچہ سگریٹ کی بری عادت پر چل پڑے اور جب آپ اسے منع کریں تو وہ آپ کا کہنا نہ مانے! ایسا ہوتا ہے جوان اولاد جب باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے تو باپ کے لیے بھی مشکل ہوجاتی ہے کے اپنی اولاد کو کیسے درست راہ پر لیکر آئیں.

    اکثر دیکھا ہے جب باپ کسی نشے کا عادی ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے سامنے نشہ کرتا ہے تو اس کا اثر اس کے بچوں پر پڑتا ہے. پہر آہستہ آہستہ اس کے بچے بھی اسی نشے کی عادی بن جاتے ہیں. والدین کبھی نہیں چاہیں گے کے اس کی اولاد نشہ جیسی بری عادت میں مبتلا ہوجائے. والدین تو چاہتے ہیں اس کی اولاد ایسے برے کاموں سے دور رہیں. تو اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کے وہ اپنی اولاد کو صحیح راستہ دکھائیں یا غلط یہ سب ان تمام والدین پر فرض ہوتا ہے.

    ہم امید کرتے ہیں وہ تمام والدین جو سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوچکے ہیں. وہ کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ نہیں پیئں گے. میں ان تمام والدین کو ہاتھ جوڑ عرض کر رہا ہوں اپنا نہ صحیح اپنی اولاد کا خیال کریں اپنی اولاد کو بری عادتوں سے بچائیں. سب پہلے تو آپ خود اس بری عادت سے جان چھڑوائیں اگر آپ بہت دور نکل چکے ہیں آپ سے یہ بری عادت نہیں چھوٹ رہی تو کم از کم اپنی اولاد کو اس بری عادت سے دور رکھیں. اپنے بچوں کو بری عادتوں سے محفوظ رکھیں.

    @shamsp6

  • گڑیا . تحریر: محسن زید

    گڑیا . تحریر: محسن زید

    وہ اپنا بدبودارجانوروں جیسا وجود لے کرگڑیا کے اوپرجھک رہا تھا اورگڑیا جیسے ایک لاش کی مانند آنکھوں میں پانی کا سمندر لئے چھت کو گھور رہی تھی منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی لیکن اندر دنیا جہاں کا شور تھا، نام تھا یاسمین ابا پیارسے گڑیا کہتے تھے، پھر گھر والے رشتہ دارمحلے والے سب گڑیا کہنے لگے، گڑیا تین بھائیوں اوردو بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی، باپ قدرت اللہ گاؤں کی ایک چھوٹی سی مسجد کا امام تھا ماں ایک سیدھی سادھی گھردارخاتون تھی قدرت اللہ کی بات ماں کیلئے فرض ہوا کرتی تھی، وقت گزرا گڑیا نے بھی باقی بہن بھائیوں کی طرح گاؤں میں موجود پرائمری سکول سے پانچویں پاس کی اورگھر داری میں مصروف ہوگئی،

    ابا کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنی گڑیا کے ہاتھ پیلے ہوتے دیکھے، لیکن یہ خواہش پوری نہ ہو سکی قدرت اللہ عشاء کی نماز پڑھا کر واپس گھرآیا لیکن صبح فجر کی نماز کیلئے اٹھ نہ سکا، گڑیا کیلئے یہ دکھ آسمان کے پھٹ جانے سے کم نہیں تھا اسکا باپ ہی تو گھر میں ایک انسان تھا جو گڑیا سے پیار کرتا تھا اسکا ماتھا چومتا تھا، گڑیا بڑی ہورہی تھی جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر بھی اس نے شرم و حیاء کو اپنائے رکھا اسکی خواہش تھی اسکا پیار اسکی محبت چاہت اسکے وجود اور روح کا مالک اسکا شوہر ہو بس،
    ایک دن گڑیا کی ماں نے بتایا کہ کل کوئی دور پرے کے رشتہ دار آرہے ہیں تمہیں دیکھنے گڑیا نہ چاہتے ہوئے بھی چپ رہی، وہ آئے اور رشتہ پکا ہوگیا ، گڑیا سن رہی تھی کہ وہ جلدی شادی کرنا چاہتے ہیں،

    خیربڑے بھائیوں اور ماں نے شادی کی تاریخ تہہ کردی، شادی ہوگئی گڑیا کے بھائیوں اورماں نے صرف ایک ہی بات سمجھائی کہ اب تمہارا وہی گھر ہے تمہارا شوہر تمہارا خدا ہے تمہاری ساس تمہاری ماں ہے تم کبھی زندہ انکو دکھ دے کراس گھرمیں واپس نہیں آنا وہ جو بھی کہیں جیسے بھی ہو اب تمہارا مرنا جینا وہی ہے، شادی وہی روائتی انداز میں ہوئی دن گزرتے گئے شادی کے چھ ماہ تک کوئی اولاد جیسی خوشی گڑیا کو نصیب نہ ہوئی تو ساس نے باتوں باتوں میں سنانا شروع کر دیا، نندوں نے بھی اپنی زبان کی مٹھاس دیکھانا شروع کر دی، گڑیا کہاں جائے کس سے کہے۔؟

    خیر ایک دن ساس نے صاف کہہ دیا بات سن کڑیے بہت ہوگیا اب ہمیں اولاد چاہیے ورنہ اپنے گھر والوں کو بُلا وہ تمہں لے جائیں ہمیں یہ بانجھ عورت نہیں چاہیے، گڑیا نے بھری آنکھوں کیساتھ اپنے شوہرکی طرف دیکھا جو منہ لٹکائے چارپائی پربیٹھا ماں کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا، صبح ہوتے ہی ساس بولی چل ساتھ والے گاؤں ایک بابا جی ہیں تمہیں لے کرجانا ہے وہاں بہت پہچے ہوئے ہیں گڑیا چپ کرکے اپنی ساس کے ساتھ چل پڑی، وہاں کافی عورتوں کے درمیان ایک کالے رنگ کا بدشکل اوربدبودار کپڑے پہنے ایک بابا بیٹھا تھا گڑیا اسے دیکھ کر ہی اندر سے ڈرگئی تھی لیکن کیا کرسکتی تھی،

    خیر جب لوگ چلے گئے بابا جی نے گڑیا کی طرف بڑی بھوکی سی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسکی ساس سے پوچھا کیا مسئلہ ہے مائی،
    وہ بولی بابا جی یہ میری بہو ہے دو سال سے بچہ نہیں ہوا، بابا جی نے ہاتھ بلند کیا اور زور سے بولا بس یہی بات۔؟
    گڑیا سہم گئی بابا جی نے کہا چلو اٹھو لڑکی اس کمرے میں چلو، تم پر کوئی جادو ہے اسکا توڑ ضروری ہے،
    گڑیا نے سہمی نظروں سے ساس کی طرف دیکھا ، ساس نے فوراً ایسے انداز سے گڑیا کی طرف دیکھا کہ تم ابھی تک گئی کیوں نہیں،
    گڑیا ڈرتے ہوئے بھاری قدموں سے کمرے میں چلی گئی،

    بابا کمرے میں آیا اندر سے دروازہ لاک کیا گریا ڈر کے مارے کاپنے لگی بابا پاس آیا اپنے گندے دانت دیکھاتے ہوئے بولا تیرا بندہ ٹھیک نہیں ہے میں تمہیں اولاد دے سکتا ہوں یا پھرتیرے ساس تمہیں طلاق کروا دے گی تو تم ہوتی رہنا زلیل دنیا بھر میں، گڑیا جو سہمی ہوئی ایک کونے میں بیٹھی تھی اسکے کانوں میں غریب بھائی اور بوڑھی ماں کی آواز گونجنے لگی کہ کبھی واپس مت آنا وہ جو کہیں وہ کرنا ،
    گڑیا دنیا جہاں کے شورکے درمیان زندہ لاش کی مانند بیٹھی تھی جس نے کبھی اپنے مرد کے علاوہ کسی دوسرے مرد کو اپنا ہاتھ تک نظر آنے نہیں دیا تھا اسکا وجود ڈھیلا ہونے لگا وہ سیدھی زمیں پرلیٹ گئی۔

    @mohsin__zaid

  • مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کے معاملے میں خود اللہ پاک نے عورت میں وہ (Sensor) لگایا ہے جو دھواں سونگھ کر آگ کی خبر دیتا ہے، MBA شوہردوست کو گھر لاتا ہے اور مڈل پاس بیوی اس کو دس منٹ میں بتا دیتی ہے کہ اس کی نظر ٹھیک نہیں، عورت میں مرد کے بارے میں اتنی Applications رکھی گئی ہیں کہ وہ اس کی نظر پڑھ سکتی ہے، اس کی چال پڑھ سکتی ہے، اس کے الفاظ پڑھ سکتی ہے، یہاں تک کہ وہ مرد کی مصنوعی اورحقیقی مسکراہٹ کے فرق کو دن اوررات کی طرح جانتی ہے۔

    جھوٹ پکڑنے والی مشین کو دھوکا دیا جاسکتا ہے، عورت کو دھوکا دینا نا ممکن ہے، وہ مروت سے چپ کر جائے تو اس کی مہربانی ہے، جھگڑا دفتر میں ہوتا ہے اور اس کی خبر وہ آپ کا مُکھڑا دیکھ کر دے دیتی ہے، آپ ٹریفک وارڈن سے لڑ کرمسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوں مگر وہ اچانک پیچھے سے آ کر کہتی ہے ” کس سے لڑ کر آئے ہیں ؟ ” اور آپ کا تراہ نکل جاتا ہے،  جس خدا نے عورت کو جسمانی طور پہ نازک بنایا ہے اس خدا نے نفسیاتی طور پراس کو بڑا قوی بنایا ہے۔

    پیغمبروں کی حفاظت عورت کو سونپی گئی، کتنے بڑے امتحان کے لئے بھولی بھالی مریم علیہ السلام کو چنا گیا موسی علیہ السلام کی ماں سے کیا کام لیا ؟ موسی علیہ السلام کی 9 سال کی بہن سے کیا کام لے لیا ؟ فرعون کی بیوی سے کیا کام لے لیا ؟ اورشیخِ مدین کی بیٹی نے باپ کے سامنے اجنبی موسی کا پورا Curriculum بیان کیا تھا یا نہیں ؟ 

    کیا وہ ان کو جانتی تھی ؟ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ وہ مارشل آرٹس کے ماہر ہیں اورامین بھی ہیں حیاء والے بھی ہیں؟ جس اللہ نے عورت کو جسمانی طور پہ کمزور بنایا ہے اس اللہ نے ہی اسے نفسیاتی طور پر بہت مظبوط بھی بنایا ہے لہذا عورتوں کو ہر لحاظ سے کمزور سمجھنا یہ مردوں کی غلط فہمی ہے، اور ایک عورت کو وہی مقام دینا چاہئیے جو ایک مرد اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے، ان کی عزت ان کا احترام ایسا ہی ضروری ہے جیسے وہ اپنے لئے دوسروں سے سوچتا ہے.

    تحریر ۔۔ حنبل ریاض
    Twitter @Iamhunbli

  • باشعور قوم . تحریر:تحریر چوہدری عطا نت محمد

    باشعور قوم . تحریر:تحریر چوہدری عطا نت محمد

    بڑی قومیں ہمیشہ جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں سب سے پہلی ترجیح اپنی سرحدوں اور آزادی کی حفاظت ہوتی ہے اس کے بعد اجتماعی طور پر پورا معاشرہ اپنے آپ کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے جہاں ہر فرد انفرادی طور پر اپنا فرض سمجھ کر اپنے حصے کا کام پورا کرتا ہے۔

    دنیا میں کیا ہو رہا ہے کس ملک کی فوجیں کونسی جنگ لڑ رہی ہیں یہ کام دیکھنا سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں رہنے والے ہر فرد نے یہ ذمہ داری بھی خود لے رکھی ہے جہاں اس ملک کے اندر تقریبا دو دہائیوں پر مسلط جنگ نے ہزاروں بے گناہوں کے خون سے سر سبز و شاداب سرزمین کو رنگین کر دیا ہے۔

    آج اسی سوچ اور نظریہ کو پروان چڑھانے والے کسی دوسری سرزمین پر ہمارے محسن ٹھہرے ہیں جہاں انسانیت اور احساس مر چکا ہے اقتدار کی اس جنگ میں کوئی بھی باشعور قوم جذباتی فیصلے نہیں کر سکتی جہاں مذہب کے نام کو استعمال کر کے انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جاتا ہے اپنے مفادات اور ملکی سلامتی کے لیے جس نظریے کو دفن کرنے کے لیے ہم نے پوری دنیا میں بدنامی حاصل کی 70 ہزار سے زائد افراد کی قربانی دی لاکھوں افراد نے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی ہے کاروبار اور اولاد کی قربانیاں دی ہیں آج کسی دوسری سرزمین پر صرف اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لئے اسی نظریے کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔

    وہ سوچ جس نے پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے کے لئے ہر طرح سے اپنا کام دکھایا ہے میری قوم اس جنگ میں آج فریق بن چکی ہے جہاں دونوں طرف سے اللہ اکبر کا نعرہ لگتا ہے جہاں دونوں طرف سے اسلام کو سچا مذہب مانا جاتا ہے جہاں دونوں اطراف سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانا جاتا ہے جہاں دونوں افواج اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتی ہیں۔

    وہاں حق اور باطل کا فیصلہ ہم اتنی آسانی سے کیسے کر سکتے ہیں اس اقتدار کی جنگ میں ہر باشعور قوم اس ملک کی منتخب جمہوری حکومت کا ساتھ دے گی جو عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئی ہے اگر عوامی اعتماد کھو چکی ہے تو جمہوری راستے کا استعمال کر کے ایوان تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن طاقت اور بدمعاشی سے کسی بھی جمہوری ملک کے اندر یا آزاد قوم کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اس دوہرے معیار سے نکلیں اور دوسروں کے بارے بھی اتنا ہی بہتر سوچیں جو آپ اپنے گھر اپنے ملک اپنی سرزمین کے بارے میں جذبات رکھتے ہیں۔

    اللہ پاک ہم سب کو آچھی سوچ اور ایک قوم بن کر رہنے کی توفیق دیں

    آمین ثم آمین یا رب العالمین