Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جہیز لعنت نہیں رشتوں کا قاتل ہے .تحریر ماشا نور

    جہیز لعنت نہیں رشتوں کا قاتل ہے .تحریر ماشا نور

    جہیز سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہمیں بس اپکی بیٹی پسند ہے ہمارے گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے ” یہ وہ جمعلے ہیں تو تقریباً 70 فیصد رشتہ دیکھنے آنے والے لوگ اپنے منہ سے کہتے بات نکاح تک پہنچ جاتی تب انکی اصلیت کے دروازے کھلنے شروع ہوتے آپ جو دینگے اپنی بیٹی کو دینگے آخر اسکے ہی تو کام آئے گا چائیے پھر جہیز دیں یا موٹی رقم دونوں صورتوں میں آپکی بیٹی کا ہوگا ” اچھے کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ بھی جہیز کی مانگ کرتے ہیں بس طریقہ واردات الگ ہوتا ہے ہمارا بیٹا شادی کے بعد باہر جاے گا آپکی بیٹی بھی ساتھ جاے گی انکے کام آئے گا پیسہ، بڑی بڑی شاندار شادیوں میں اربوں روپیہ خرچ کرنے والے اداکار سیاستدان کہتے ہیں جہیز لعنت ہے ون ڈش پر عدالتی فیصلے آئے دن سنائی دیتے ہیں مگر یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہے ایک غریب بات ساری زندگی یہی جمع جوڑ کرتا رہتا ہے کہ بیٹی کو بیاہ کر اسکے گھر کا کرنا ہے جیسے تیسے جہیز جمع کربھی لیں تو عین موقع پر سسرال والے گاڑی کی ڈیمانڈ کرتے بیٹی سسرال میں وہ مقام نا حاصل کر پاتی جو ٹرک بھر کر جہیز لانے والی بڑی بہو کو حاصل تھا روز روز طعنے مار پیٹ جھگڑے ذہنی اذیت لڑکی کا مقدر بن جاتی، باپ بیچارہ قرضوں کے بوجھ تلے دب کر دوسری بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے سوچ سوچ کر روز مرتا ہے،
    کچھ عرصہ قبل انڈیا میں ایک عائشہ نامی لڑکی نے تالاب میں کود کر اپنی جان دے دی وجہ جہیز سسرال والے اسکو قبول نہیں کررہے تھے شوہر روزانا پیسوں کی مانگ کرتا آخر عائشہ نے ماں باپ کی مجبوری بےبسی کو دیکھتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا ایسی کتنی ہی لڑکیاں ہیں جو سسرال والوں کے تشدد سے تنگ آکر خود کو ختم کرلیتی ہیں یا اکثر جہیز نا ہونے پر گھروں میں بیٹھی ہیں آخر کب اس سوچ کو ختم کیا جاے گا، ہم بہو نہیں بیٹی بناکر لےجارے ہیں عورت کے نصیب سے آدمی بنتا ہے کیوں یہ بات مردوں کو سمجھ نہیں آتی

    لڑکی والے جہاں اپنی بیٹی کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے اچھی نوکری گھر کاروباری رشتہ ڈھونڈتے تو وہی لڑکے والے بھی خوبصورت ،کم عمر ،جہیز لانے والی لڑکی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کے ہمارے گھروں میں بھی بیٹیاں بیٹھی ہیں آج دوسرے کی بیٹی پر ظلم کریں گے کل خود کی بہن بیٹی کے ساتھ ہوگا چار برتن دو کپڑوں کے ساتھ بیٹی کو بیانے کے خواب کب حقیقت ہونگے ہمیں خود یہ روایات توڑنی ہونگی جہیز لعنت نہیں جہیز رشتوں کا قاتل ہے پڑھے لکھے نوجوان اس بلا سے کنارہ اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر خاندانی روایات کو ختم کرنا جیسے گناہ عظیم ہے کہیں سے کوئی تو اس کی شروعات کرے لڑکوں کو چائیے اپنے والدین کو اعتماد میں لیں اپنی کمائی پر بنانے کا جذبہ دکھائیں انھیں ہوسکتا ہے تب یہ سلسلہ اک نیا رخ اختیار کرے اور بہت سی لڑکیاں اپنے گھروں کی ہوجاہیں جو غربت کے باعث بالوں میں چاندی لیے گھروں میں زندگی گزار رہی ہیں قدم بڑھائیے آپ ہی وہ پہلے انسان ہوسکتے ہیں

  • عدل و انصاف کا حصول ناگزیر . تحریر: زمان خان

    عدل و انصاف کا حصول ناگزیر . تحریر: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازوعدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔ عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔ بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اورصالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور،غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے.
    آخریہ سب کب تک چلے گا؟
    آخریہ حرام کی نرسری میں پیدا ہونے والے کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقاراسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟
    اگرہوبھی تو لولا لنگڑا
    آخرکیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹرعاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیرایئرپورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھرسے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اوردیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پربیٹھیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریزکا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقداراورقرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم ازکم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اورجھوٹ کی تمیزتو ہوگی
    جنہیں ناانصافی کرنے اورجھوٹ کا ساتھ دینے پراللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پرعذاب الہی تو یاد ہوگا اورخوف خدا سے انکے ہاتھ توکانپیں گے

    کیونکہ عدل وانصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضروربن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل وانصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے.
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے.
    ارشاد باری تعالی ہے.
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    ‎@Zaman_Lalaa

  • کورونا وائرس کے اثرات اوربدلتے حالات . تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    کورونا وائرس کے اثرات اوربدلتے حالات . تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    COVID-19 کی وجہ سے جن حالات میں سے زندگی گزری ہرطرف ایک عجیب ڈرخوف اورکشمکش کی صورت حال دکھائی دی ہے.
    ایسا پہلے نہ کبھی کسی نے سنا نہ دیکھا کہ ایک ایسی بیماری جس نے یک لخت پوری دنیا کو لپیٹ میں لے کرحیران کردیا ہے.
    مارچ 2019 تک سب ٹھیک تھا زندگی اپنے پورے وجود کے ساتھ گنگناتی تھی دنیا کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کوئی ایسی وبا آۓ گی جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی ہے.

    پھراچانک چائنہ میں ایک ایسی بیماری کا جنم ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا بیماری جسے Covid-19 کا نام دیا گیا اس نے ہر ملک شہر، گاؤں، دیہات میں اپنے پنجے گاڑ لیے اورزندگی کو مکمل مفلوج کرکے رکھ دیا سکول کالجز، دفاتر، کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ تفریحی مقامات بھی بند کردیے گئے اور یوں لاک ڈاؤن میں مقید ہوکردنیا حقیقی معنوں میں مفلوج ہو کررہ گئی ہے.

    کاروباری لحاظ سے کرونا کی وبا سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لیے اقوامِ عالم متحرک ہوگیا ہے. یورپی یونین میں شامل ممالک کو گرانٹ اورآسان شرائط پرقرضے دینے کی تنظیم نے سات سوپچاس ارب یورو مختص کردیے بدا منی بھوک اورافلاس زدہ افریقی ممالک بھی باہمی تعاون کے منتظراورانکی بحالی کی کوششیں شروع کردی گئیں ہیں. مگر جنوبی ایشیا کی بدقسمتی ختم نہیں ہوسکی اور ہرگزرتے دن کے ساتھ کورونا کی تباہی کے ساتھ جنگ کے سائے گہرے ہو رہے ہیں. بھارت کومذہبی انتہا پسندی کا مرکز بنانے کے بعد مودی سرکار نے جارحانہ عزائم چھپانے کا تکلف بھی چھوڑ دیا ہے اورہمسایہ ممالک سے تعلقات بگاڑ کرخطے کی بالادستی حاصل کرنے کے بعد طاقتوراورسپرپاوربننا چاہتا ہے جو کہ ممکن نہیں ہے کیوں کہ پاکستان خطے میں امن کے لئے ہروقت کوشاں ہے اور چائنہ اس کے ساتھ کھڑا ہے لیکن بھارت کی شر پسندانہ سرگرمیوں کی بنا پر ہمسایہ ممالک بدظن ضرور ہوئے ہیں خاص کر افغانستان جہاں طالبان کے ساتھ اس کے رابطے مضبوط ہیں بھارت جن خبروں کی پہلے ہٹ دھرمی سے تردید کرتا رہا لیکن حالیہ دنوں میں اس نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا ہے.

    پاکستان سے اپنی ازلی مخاصمت کی طویل تاریخ کے باوجود خطے کی بالادست قوت تو نہیں بن سکا مگر سارک تنظیم کو کمزور کرنے میں ضرورکامیاب ہوگیا ہے. حالانکہ بھارت کی جنونی حکومت اگر امن پسندی کا مظاہرہ کرتی تو نہ صرف یورپی ملکوں کی طرح سارک ممالک بھی ترقی کی منازل طے کر سکتے تھے. بلکہ سارک تنظیم دنیا کی مضبوط ترین تنظیم بن سکتی تھی. بھارت کی ہٹ دھرمی کا دنیا ادراک نہیں کرتی بھارت کے کرتوتوں پر چشم پوشی سے کام لیتی ہے. بالخصوص امریکہ جو کہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے لئے خوفناک تصادم کی راہ ہموارہوسکتی ہے.

    موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی بھی طرح کوئی بھی ملک معاشی لحاظ سے مزید بد امنی کا متحمل نہیں ہے اور بھارت میں کورونا کی تباہی مودی سرکارکی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے. بھارت کا نظام صحت کسی بھی ناگہانی صورت حال کے لائق نہیں ایسے میں بھارت کی پہلی ترجیح اسکی عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہئے نہ کہ جنگ جبکہ گذشتہ چند روز قبل بھارت سے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی افسوسناک خبریں دیکھ کر پاکستانیوں کے دل بھی پگھلتے ہوئے نظر آئے دشمنی مقابلہ سب بھلا کرہرپاکستانی انسانیت کے لیے دعا گو دیکھا گیا ہے.

    پاکستانی حکومت اور فیصل ایدھی صاحب کی جانب سے خیرسگالی کےطورپرامدادی پیکج ایمبولینسز، آکسیجن بذریعہ کنٹینرز واگہ بارڈر بھیجی گئی عمومی طور پرسوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزپردونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان ہرمعاملے پرنوک جھونک اورجنگی کیفیت رہتی ہے تاہم کورونا کے معاملے پرحالات مختلف نظرآئے اورپاکستانی صارفین انڈین شہریوں کی خیریت کے لیے فکرمند دکھائی دیے کیوں کہ ہمارے دین میں سب سے پہلے انسانیت کو ترجیح دی گئی ہے.
    دعا گو ہوں اللہ رب العزت امن سلامتی کے ساتھ تمام دنیا کے لئے خوشحالی کے اسباب پیدا کرے. آمین یارب العالمین.

    تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر
    @AmUsamaCh

  • جنریشن گیپ،دنیا کا بڑھتا ہوا ایک مسئلہ .محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    جنریشن گیپ،دنیا کا بڑھتا ہوا ایک مسئلہ .محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    احمد پچھلے کافی دنوں سے پریشان تھا کہ وہ والدین سے بات کرے یانہ کرے ۔ اسی سوچ نے اس میں چڑچڑا پن پیدا کردیا تھا ۔ بات یہ تھی کہ وہ انجینئرنگ کے شعبے میں جانا چاہتا تھا لیکن اس کے والدین اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے ۔ یہ نہیں تھا کہ وہ ذہین نہیں یا پھر وہ محنت سے جی چراتا ہے ۔ وہ جب بھی ہمت کرتا اس کے سامنے والدین کا ادب واحترام اور ایک لاینحل سوال حائل ہوجاتا جسے حل کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی ۔ یہ ایک احمد کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ہر چھوٹے کا بڑے سے اور بڑے کا چھوٹے سے مسئلہ ہے ۔ بڑوں کا اپنے چھوٹوں سے مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان کی بات نہیں مانتے اور ان کی خواہشات کا احترام نہیں کرتے ،نتیجے میں نالائق،سست ،بے ادب ،کمزور اور بدتمیز جیسے القابات ملتے ہیں ۔ آج کی نسل اپنے بڑوں مثلاََ والدین ،خاندان کے بزرگوں اور اساتذہ سے شاکی رہتی ہے کہ ہمارے جذبات وخیالات کو نہیں سمجھ سکتے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

    ہمارا طرز زندگی ،سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلیوں نے یکسر بدل کر رکھ دیا ہے مگر ہمارے رویوں میں کوئی خاطر خواہ مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوسکی ۔ تعلیم سے معاشرے میں کسی حد تک تبدیلی تو ممکن ہوئی ہے لیکن معاشرتی سوچ اور رویے اب تک محدود ہیں ۔ جھوٹی انا اور دین سے دوری نے نوجوان نسل اور والدین میں کبھی ختم نہ ہونے والی دوریوں کو جنم دیا ہے اور اس دوری نے کئی گھروں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ جنریشن گیپ جو کہ والدین اور اولاد کے درمیان رویوں ،ترجیحات اور خیالات پر اختلافات اور غلط فہمیوں کاباعث بنتاہے ،وہیں اس سے کئی گھرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور یہ دوریاں کئی اور معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہیں ۔ دیکھنے میں آیاہے کہ جنریشن گیپ دونوں نسلوں کو تقسیم (دور) کردیتاہے ۔ جنریشن گیپ سے مراد وہ ذہنی فاصلہ ہے جو ناقابل قبول حد تک محسوس ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر پیداہوتاہے ۔ عام طور پر یہ گیپ اٹھارہ سے چالیس سال کی عمر یا اس سے زائد کے افراد کے درمیان پایاجاتا ہے جہاں دونوں اپنی اپنی جگہ الگ زاویے سے سوچتے ہیں ۔ دونوں نسلیں ایک ہی چیز کو مختلف زاویوں سے تولتی ہیں ۔ یہ باہمی فرق کام کرنے کے انداز ،ماضی کے تجربات اور ٹیکنالوجی کے استعمال تک واضح نظر آتاہے ۔ مثلاََاگر بات کی جائے ’’رابطہ رکھنے کی‘‘ تو ہمارے بزرگ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کے قائل ہیں اور خط کی شکل ہے جس کے بعد کہیں جاکر کال نظر آتی ہے جبکہ ہماری نسل کے نوجوان صرف ٹیکسٹ میسج سے ہی کام چلاتے ہیں یاپھر واٹس ایپ پر میسج کرکے اپنا پیغام پہنچادیتے ہیں ۔

    خلیل جبران کہتے ہیں کہ ہم اپنی اولاد کو بے پناہ محبت تو دے سکتے ہیں لیکن اپنے خیالات نہیں ۔ اس لئے کہ ہر کسی کے خیالات اپنے ہوتے ہیں ۔ اولاد اور والدین میں دوری کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ والدین اپنے خیالات وخواہشات اولاد پر تھوپنا چاہتے ہیں اور اولاد اپنی زندگی اپنی مرضی بلکہ اپنی خواہشات کے لئے گذارنے کی کوشش میں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ آگے چل کر والدین اور اولاد کے درمیان دوری اور باہمی چپقلش کا باعث بنتی ہے ۔ جیسے کوئی خود ڈاکٹر تونہیں بن سکا لیکن وہ اپنی اولاد کو ڈاکٹر بنانے کی مکمل کوشش کرے گا ۔ یہ درست ہے کہ والدین کا تجربہ اور زمانہ سازی بچوں سے کہیں زیادہ اور مضبوط ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود بچے اس سے مستفید نہیں ہونا چاہتے ۔ ہم اپنی فعال زندگی میں تقریباََ بیس سال تک اس تبدیلی کو محسوس نہیں کرپاتے لیکن اپنی اولاد کے لڑکپن میں ہ میں دنیا نہیں بلکہ اپنی اولاد یا اگلی نسل بدلی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ گویا زمانے میں ہونے والی سست رفتار تبدیلی اگلی نسل کی شکل میں اچانک انقلاب کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ جب تک ہ میں زمانے کی تبدیلی کا احساس ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔ اگر میں اپنی بات کروں تو میں شاید 15سال کی عمر کے لگ بھگ کمپیوٹر سے روشناس ہواتھا لیکن میرے چھوٹے بھائی اسی عمر میں مجھ سے کہیں بہتر طور پر کمپیوٹر سے بہر ہ مند ہورہے ہیں مثلاََ وہ اس وقت ہر نئی آنے والی فلم ،ویڈیو گیم اور سافٹ وئیر سے باخبر ہوتے ہیں اور میں اُس عمر میں ماءوس پکڑنا سیکھ رہا تھا ۔ اسی تناظر میں اگر ان کے بعد آنے والی نسل کی بات کروں تو میری بیٹی 3سال کی عمر میں ہی موبائل پکڑ کر یوٹیوب اور گیلری سے ویڈیوزاور تصاویر دیکھنا شروع کرچکی ہے ۔

    ہماری تعلیم و تربیت ،حالات اور ماحول ہماری شخصیت سازی میں بنیادی کردار اداکرتے ہیں ۔ اگر وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کو لازم قرار دیاجائے اور ان تبدیلیوں کو قبول کرنے کی ہم اپنے اندر قوت پیداکرلیں توآئندہ نسل کی ہم بہتر طور پر تربیت کرکے اس جنریشن گیپ کو کم کرسکتے ہیں ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ ہم ہر آنے والی تبدیلی کو قبول کرتے جائیں اور علم واخلاق جس کا حکم ہمارامذہب دیتا ہے اسے مفلوج کرکے بس ایک مفعول کی طرح جینا شروع کردیں بلکہ تبدیلی کے ہونے کے عمل کو مسلسل مان کر اپنا مثبت کردار اداکریں ۔ ہمارا یہ کردار ہم سے پہلی نسل اور آئندہ آنے والی نسل کے درمیان ایک پل کا سا ہوسکتا ہے ۔ ہم پہلی نسلوں پر اس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں کہ ان کے معاملے میں سوچ لیں کہ ان کی تربیت مسلسل ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق نہیں ہوئی ۔ درمیانی نسل کے طور پر ہ میں مسلسل فعال کرداراداکرنا ہوگا ۔ ہرپرانی نسل کو آئندہ نسل کو یہ رعایت دینا ہوگی کہ وہ ان کے زمانے میں بننے والے معیارات کا احترام کرے اور جس حد تک ممکن ہوان کا پاس کرے ۔ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا احترام نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ( سنن ابی داءود،باب فی الرحمۃ ) ۔ اس حدیث سے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم اپنے چھوٹوں کے ساتھ کس رویہ سے پیش آتے ہیں اوراپنے بڑوں کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا جارحانہ بلکہ گستاخانہ ہوتا ہے ۔ والدین کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اولاد ایک چلتی پھرتی مشین نہیں بلکہ ایک انسان ہے اسے گھر میں ایک دوست کی ضرورت ہوتی ہے ناکہ ایک داروغہ کی جس کاکام ہی ہر غلطی پر سرزنش اور ماردھاڑ ہوتا ہے ۔ والدین اپنا رویہ اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ اور مشفقانہ رکھیں اور ان کے ساتھ اپنی ماضی کی باتیں شئیر کریں لیکن کو شش کریں کہ اس میں اولاد کے متعلق ہتک کا کوئی پہلو نہ ہو ۔ نتیجے کے طور پر اولاد بھی اپنے مسائل اور اپنی خواہشات آپ ساتھ شئیر کرے گی ۔ کوشش کریں کہ اولاد کی جائز خواہشات کو مانیں اور ان پر اپنی خواہشات نہ تھوپیں ۔ اولاد کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اپنے مسائل وخواہشات شئیر کریں اور یقین رکھیں کہ ان کا مشورہ ان کے لئے بہترین ہوگا ۔ ان کی خواہشات کو حتی الامکان فوقیت دیں اور کوشش کریں کہ والدین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذاریں اور ان کے تجربات سے مستفید ہوں

  • رِستے ناسور”.تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    رِستے ناسور”.تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    ایک لڑکی کی عمر انتیس سال ہے. ایک بیٹی کی ماں ہے. بائیس سال کی عمر میں شادی اور چوبیس سال کی عمر میں بیوہ ہوئی. معاشی طور پہ آسودہ ہے. شوہر کا ترکے بھی ملا ہے اور میکہ بھی خوشحال ہے. والدہ بیمار رہتی ہیں. اس لیے گھر کی ساری زمہ داری اس پہ ہے. شادی شدہ بہنوں کی ڈیلوریز نمٹانا، اسپتال میں ان کے ساتھ رہنا اور ان کے سسرال والوں کے ناز نخرے اٹھانا اب اسی کی زمہ داری ہے. ان پانچ سالوں میں اس کے گھر والوں نے اس کی شادی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا. سوشل میڈیا پہ ہی اس کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی. لڑکا چونتیس سال کا ہے. لڑکے کی تین چھوٹی بہنیں ہیں. تینوں غیر شادی شدہ ہیں. ماں نے صاف کہہ دیا ہے کہ جب تک تینوں بہنوں کی شادیاں نہیں ہوجاتیں، وہ اپنی شادی کا سوچے بھی نا.

    یہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں. لڑکا اسے بیٹی کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہے. لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شوہر پہ معاشی بوجھ نہیں ڈالے گی. مرحوم شوہر کے ترکے سے اپنا اور اپنے بچے کا خرچہ بآسانی اٹھا لے گی. لیکن لڑکے کی والدہ ایک لفظ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں. ادھر لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اب اسے شادی کی کیا ضرورت ہے. جو خوشی اس کے نصیب میں تھی مل چکی. اب اسے اپنی زندگی بیٹی کی پرورش، والدین کی خدمت اور بہن بھائیوں کی ٹہل سیوہ میں گزارنی چاہیے.

    کچھ ماہ پہلے اس نے مجھے کہا ہے کہ ہم خفیہ نکاح کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے والدین ہماری شادی نہیں کریں گے. مجھے کہتی ہے آپا بیوہ، مطلقہ یا بڑی عمر کی غیر شادی شدہ بیٹی ہمارے ہاں سب سے سستی ہاؤس کیپر، نرس اور کک ہے. اپنے منہ سے شادی کا کہنے والی بے غیرت اور بے حیا ہے. صرف ایک سوال. انہیں یہ قدم اٹھانے کے لیے کس نے مجبور کیا؟ کیا اس لڑکی اور لڑکے کا مطالبہ غلط ہے؟ یہ تو فطرتاً صالح ہیں جو نکاح کرنا چاہتے ہیں ورنہ کیا وہ بے راہ رو نہیں ہوسکتے؟ ان کی فطری خواہش کا گلہ گھونٹنے کا حق ان کے والدین کو کس نے دیا؟؟

    ایک لڑکی ہے. اس کی شادی کی عمر نکلی جا رہی ہے. اس کا کزن جو اس کا ہم عمر ہے پانچ سال سے اس کا رشتہ مانگ رہا ہے. والدین تیار نہیں. وہ اس کے پھوپھی زاد سے اس کی دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں جو اس سے پندرہ سال بڑا ہے اور چار بچوں کا باپ ہے. صرف اس لیے کہ وہ مالدار ہے. لڑکی کے باپ نے اس سے صاف کہہ دیا ہے کہ چاہے وہ ساری زندگی گھر بیٹھی رہے، وہ اس کی شادی اس کی پسند سے نہیں کریں گے. اس لڑکی نے مجھ سے کہا ہے کہ آپا بروزِ حشر میرا ہاتھ ہوگا اور میرے والدین کا گریبان. میں آگے سے چپ رہی. کیا جواب دیتی.

    ایک لڑکا ہے بتیس سال کا. سات سال پہلے خاندان میں منگنی ہوچکی ہے. ملک سے باہر کما کما کر اپنی دو بہنوں کی شادی کر چکا ہے. مکان بھی بنا لیا ہے. ہر ماہ ایک معقول رقم بھی بھیجتا ہے. اس سال شادی کا ارادہ تھا. والدہ نے کہا کہ آتے وقت دلہن کے زیورات لیتے آنا. لڑکے کا کہنا ہے کہ اس کی اتنی گنجائش نہیں کہ شادی کے خرچے کے ساتھ زیورات بھی خریدے. اس پہ والدہ محترمہ نے فرمایا تو پھر ایک سال لیٹ کرتے ہیں کیونکہ انہیں شریکے میں منہ بھی دکھانا ہے اور بری کے زیورات کے بغیر بہو لا کر وہ اپنے خاندان کی عورتوں کے سامنے ناک نہیں کٹوا سکتیں. لڑکی بغیر زیورات کے بھی رخصت ہونے کے لیے تیار ہے لیکن اس کی ہمت نہیں کہ کسی کو کچھ کہہ سکے. وہ بس اپنے منگیتر کے سامنے رو ہی سکتی ہے، جو وہ پوری دلجمعی سے کر رہی ہے. لڑکے کے زیادہ زور دینے پہ اسے والدین کی طرف سے بیغیرت، بے حیا اور بے شرم کے خطابات مل چکے ہیں.

    اور ہم کہتے ہیں کہ معاشرے میں دن بدن بڑھتی بے راہ روی، اخلاقی تنزلی کی وجہ آج کی نوجوان نسل ہے. موبائل فون اور سوشل میڈیا ہے.
    تھوڑا نہیں پورا سوچیے.

    محمّد اسحاق بیگ

    @Ishaqbaig___

  • غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

    غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

    غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ
    لوگ کہتے ہیں غربت میں تو اپنے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں تم غیروں کی بات کرتے ہو
    ایسی ہی کہانی کچھ میری کسی سے محبت کرنا اور اسکی عادت پڑ جانا اور جب وہی ساتھ چھوڑ جائے تو انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے
    عرصہ ہونے کو ہے لیکن وہ شخص میرے ذہن میرے خیالوں سے جاتا ہی نہیں،
    مان لیا جائے کہ اسکی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن جس شخص نے مجھے اتنا چینج کیا اسکی ہر بات ماں باپ کی طرح مانی لیکن اسے ایسی کیا مجبوری پیش آئی کہ وہ چھوڑ گیا یہ سوال ہر وقت میرے ذہن میں ہے

    اسکی باتوں اور اسکے خیالوں سے میں ایک اندازہ لگا چکا کہ میری غریبی میری محبت کی قاتل نکلی
    خدارا کسی سے محبت کرنا ہے تو اسے راستہ میں مت چھوڑو وہ درمیان راستے میں نہ مر سکتا ہے نہ جی سکتا ہے
    آخر میں فراز کا ایک شاعر یاد آیا کہ
    محبت کرنا ہے تو خدا سے کرو
    ان مٹی کھلونوں میں وفا نہیں ملتی

  • آدم کی بیٹی.تحریر: محمد عدنان شاہد

    آدم کی بیٹی.تحریر: محمد عدنان شاہد

    بیٹی کا نام جب بھی زبان پر آتا ھے دل میں ایک لطیف سا محبت کا جذبہ جاگتا ھے۔اپنی بیٹی کے لیے دعا ہو یا دوسروں کی بیٹی کے لیے دعاھو یہی دعا دل سے نکلتی ھےکہ اللہ سب کی بیٹیوں کو خوش رکھے ۔یہ مہکتی کلیاں اپنے چمن کی ہوں یا دوسروں کے چمن کی پیاری لگتی ھیں دعاھے یہ سدا مہکتی رھیں۔ ماند نہ پڑیں یہ ایسے ہی چمن کی رونق بڑھاتی رھیں آمین
    ایک دفعہ ایک بزرگ خاتون نے کتنی پیاری بات کہ ھم جواپنی بیٹیوں کے لیے چاھتے ھیں وہ دوسروں کی بیٹیوں کے لیے بھی چاھیں سوچ لیں کہ آج جو بوئیں گے کل وھی کاٹیں گے۔

    کتنےظالم ھیں وہ لوگ جو اپنی بیٹی کےلیے پھول اوردوسروں کی بیٹی کے کانٹے پسند کرتے ھیں اپنی بیٹی کو خوشیوں سے کھیلنا دیکھناچاھتے ھیں اور دوسروں کی بیٹی کو دکھ دیتے ھیں اپنی بیٹی کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ھیں اوردوسروں کی بیٹی کو بد نام کرنے کا کوئی موقع ھاتھ سے جانے نھیں دیتے ۔

    لیکن سچ بات تویہ ھے کہ بیٹیاں تو سب کی بیٹیاں ھوتی ھیں یہ ھماری اور تمھاری نھیں ھوتیں۔
    اللہ ھمیں توفیق دے کہ ھم سب کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیوں کے برابر سمجھیں اور ان کو خوش رکھیں۔آمین

    یہی آدم کی بیٹی ہے
    ستم کی تیز آندھی میں
    خزاں آثار پیڑوں سے
    بکھرتے پات کی صورت
    ہوا کا ہاتھ تھامے
    چل رہی ہے
    کئی الزام سر لے کر
    ہمیشہ خشک آنکھوں سے
    جو دل اپنا بھگوتی ہے
    کبھی شکوہ نہیں کرتی
    وہی آدم کی بیٹی ہے
    کسی انجان راستے پر
    کسی ظا لم کے اشارے پر
    کسی دیوار میں چنوائی جاتی ہے۔

    میرے خالق نے گوندھا ہے
    اسے انمول مٹی سے
    مگر یہ کون جانے، کون سمجھے
    یہی آدم کی بیٹی ہے۔

  • کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی دنیا کا پانچواں بڑا شہر اور اس میں مسائل کے انبار ایک توجہ طلب مسئلہ ٹریفک کا وقت کے ساتھ ساتھ بے حساب اضافہ اس مسئلے کے بارے میں صوبائی حکومت اور کراچی سٹی ایڈمنسٹریٹر اور دیگر متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرنا چاہتی ہوں۔ شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کے ساتھ ہی شہر کے مسائل کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ ٹریفک جام کے علاوہ ، خطرناک توازن کے ذریعہ آواز کی آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ہر کوئی جلدی میں نظر آتا ہے اور تیزی سے جانا چاہتا ہے ، خاص طور پر موٹرسائیکل سوار ، رکشہ اور بس ڈرائیور ٹریفک قوانین کو توڑتے ہیں اور دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنی مرضی سے چلتا ہے ، اس ٹریفک کی گڑبڑ کے سبب طلباء ، دفتر جانے والے افراد اور دیگر عام طور پر وقت پر نہیں پہنچ سکتے ہیں۔

    کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ بھی دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے ایک ہے۔ سڑکوں پر بھاری ٹریفک کے بڑھتے ہوئے رش ​​کے نتیجے میں اکثر انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ آج شہر کراچی بہت ساری پریشانیوں سے لیس ہے۔ لیکن ٹریفک کا مسئلہ اس شہر کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    اگر آپ کراچی کے شہری ہیں تو آپ کو خاص کر صبح اور شام کے وقت شہر کی مشہور سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اگر آپ اس وقت کے دوران شہر بھر میں سفر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بہت صبر کرنا ہوگا۔ عام طور پر پورے شہر میں ٹریفک جام ہوتا ہے۔ یہ کسی خاص علاقے کا مسئلہ نہیں تھا صبح اور شام کے اوقات میں یہ پورے شہر کا مسئلہ ہے، شہر کے لوگ جب ہر دن دفاتر ، اسکولوں ، یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں تو ٹریفک میں پھنس جاتے تھے۔ لوگ اس سڑک پر ٹریفک جام میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد اپنے کام کی جگہوں سے اپنے گھروں کو واپس پہنچ جاتے ہیں۔

    کئی بار سڑکوں پر ٹریفک کا کوئی اہلکار نظر نہیں آتا ہے جو سڑکیں صاف کرتے ہیں۔ شہر کے لوگ روز بروز معمول کے مطابق لوگوں کے مابین جھڑپوں سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ سڑک پر موجود ہر شخص اپنی مایوسی کو دور کرنے کے لئے کسی سے لڑنے کے لئے تیار ہے۔ صوبائی حکومت کو اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دے کیوں کے دن بہ دن صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے ، کیوں کہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے اور لوگوں کو راحت دینے کے حکام کی مناسب توجہ کی ضرورت ہے۔ میں صوبائی حکومت اعلی حکام اور محکمہ ٹریفک پولیس سے سخت اقدامات کرنے پر توجہ دلانا چاہتی ہوں ، تاکہ ہر شخص آسانی اور راحت کے ساتھ سفر کرسکے اور ٹریفک جام کی پریشانی کو صحیح طریقے سے نبھایا جاسکے۔

  • ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“تحریر ۔۔ ڈاکٹر راہی

    ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“تحریر ۔۔ ڈاکٹر راہی

    پانچ ماہ پہلے ایک نوجوان کا سیشن تھا، نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ آپ کیسے سب سنتے ہیں اور حل بھی بتاتے ہیں جواب بھی دیتے ہیں سوالوں کا۔..

    میں یہ تصویر اور پوسٹ اُس نوجوان کے نام کر رہا ہوں۔

    میں بھی بہت کُند اور بنجر ذہن کا مالک ہوا کرتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پہ غصہ کرتا تھا، پیدل چلتے یا گاڑی چلاتے ہوئے خود ہی لوگوں سے ریس لگا لیتا تھا۔

    رشتوں کی اتنی قدر نہیں کرتا تھا، سوشل میڈیا پہ یا فضول کے پیجز بنا کر اُن پہ وقت ضائع کیا کرتا تھا۔

    لوگوں کو باتیں سناتا تھا، بس اپنی بات کرتا تھا، دوسروں کی کم سنتا تھا، خود کو ہی ٹھیک سمجھتا تھا باقی سب کو غلط، خود کو عقلِ کل سمجھتا تھا۔

    ہر فضول کام میں ٹانگ پھنساتا تھا، زندگی کے اُسلوب سے نابلد تھا، رکھ رکھاؤ نہیں جانتا تھا۔

    پھر کچھ ایسا ہوا کہ مجھے کتابوں سے عشق ہو گیا۔
    کتابیں پڑھتا جاتا ہوں زبان پہ خاموشی چھاتی جاتی ہے، لوگوں کو پہروں چپ چاپ سنتا رہتا ہوں، مجھے سب خود سے بہتر لگتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، لوگوں کو راستہ دینے لگا ہوں، کسی سے ریس نہیں لگاتا اپنی مستی میں چلتا ہوں پیدل ہوں یا گاڑی پہ۔

    لوگوں کو جج کرنا چھوڑ دیا، اُن کے ہر فعل پہ سوچتا ہوں کہ کیا پتہ وہ مجبور ہوں، اپنی مجبوری سب کو نہ بتا سکتے ہوں۔

    انسانوں سے پیار ہو گیا،ہر انسان کتاب جیسا لگتا ہے۔
    ذہن جو صحراؤں جیسا خشک تھا، بنجر تھا اُس میں بارش ہونے لگی اور ذہن کی سر زمیں پہ انسانیت کی ہری بھری فصلیں لہلانے لگیں، ہر انسان سے بے لوث محبت کرنے کا بیج ”میرے بابا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی سیرت پاک نے میرے اندر ایسا بویا کہ وہ ننھے پودے سے ایک بہت بڑا گھنی چھاؤں والا تناور درخت بن گیا اور اب دن رات دعائیں مانگتا ہوں کہ اس درخت کو پھل لگ جائیں تو انسانیت کو فائدہ ہو۔

    غمِ جاناں اور غمِ روزگار کے شہر چھوڑ کر غمِ انسانیت کے ملک میں جابسا ہوں۔۔

    باتیں تو شیطان کی انت جیسی ہیں ختم ہی نہیں ہوتیں۔
    یہ سارے کمالات تو والدین کی تربیت، ”میرے بابا محسنِ انسانیت، پیغمبرِ بے مثال صاحبِ شرف و کمال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی سیرت پاک اور کتابوں کے ہیں ورنہ یہ بندہ ناچیز تو اس قابل نہیں تھا۔۔

    مجھے نسبتوں اور حوالوں نے ایک پہچان بخشی ہے ورنہ میں بھی ایک گمنام زندگی گزار رہا ہوتا۔۔
    تصویر میں موجود کتابیں میرے پچھلے پانچ ماہ ہیں،ہر روز دو لیکچرز سننا، میڈیکل کی کتابیں، اخبارات کے دو تین کالمز ہر ہفتے پڑھنا ان کتابوں کے علاوہ ہیں۔
    دو بلیک ڈائیرز بھی ہیں جن میں سیشنز لکھے ہوئے ہیں۔

    ”ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“

  • آج کا معاشرہ اور والدین کا کردار.تحریر :یاسر خان بلوچ

    آج کا معاشرہ اور والدین کا کردار.تحریر :یاسر خان بلوچ

    آجکل ہم آئے دن سوشل میڈیا پر جنسی استحصال کا سنتے ہیں۔اور یہی وہ سب سے بڑی غلطی ہے جسمیں والدین غفلت کا شکار ہیں۔جسمیں ان کی اولادیں بلیک میلنگ جیسے گھٹیا کاموں میں ذلیل ہو رہے ہیں خواہ وہ جنسی، جسمانی، مالی اور ذہنی استحصال ہو۔اور کچھ عرصے سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جسمیں حقیقت والدین کے سامنے کھل کر آ گئی ہو گی۔
    سب سے پہلے ہمیں اس غلط فہمی سے باہر آنا ہو گا کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں۔ہمیں اپنے بچوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے نچوں کی ذہنی، جسمانی، اور جنسی ضرورتوں کے بارے میں خیال رکھنا ہو گا۔والدین کو کھل کر اس کے متعلق اپنے بچوں سے بات کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر لڑکیوں سے۔کسی بھی سنگین غلطی کے بعد بلیک میل ہونے کیلئے تیار ہونا بھی ایک سنگین غلطی ہے۔
    ہمیں یہ بات اب سمجھ لینی چاہیے کے باہر ایسے خونخوار اور بیہودہ قسم کے بھیڑیے (عثمان مرزا) گھوم رہے ہیں جو کبھی بھی ہماری نسل پر حملہ کر سکتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دوستی کے نام پر ایک ٹرینڈ بنا ہوا ہے انسان کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دل میں ایک جگہ بنتی جاتی ہےجسے وہ فرینڈ شپ سے پورا کرنا چاہتا ہے۔اسی فرینڈ شپ سے وہ ایک معاشرے تک پہنچتا ہے۔ اور جب تک اسے پتا چلتا ہے کہ یہ کیسا معاشرہ ہے تو وہ اسکی دلدل میں پھنس چکا ہوتا ہے اور اس سے نکل نہیں سکتا۔پھر یہ معاشرہ یا تو اسے نشے پہ لگا دیتا ہے یا تو اسے گندگی میں گاڑھ کر رکھ دیتا ہے۔ پھر اسے جرائم پیشہ عناصر میں ملوث کروا دیتا ہے۔

    اکثر والدین کو یہ زعم ہوتا ہے کہ ان کی اولاد کا کردار بہت پختہ ہے اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ کس سے مل رہے ہیں؟ کس کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں؟ کون سی محفل میں ان یا آؤٹ ہو رہے ہیں؟ گھر کب آ رہے ہیں؟ کیونکہ وہ اس یقین میں رہتے ہیں کہ ان کی اولاد ایسا کر ہی نہیں سکتی۔
    مگر افسوس کے ساتھ جب تک انہیں ان کے پختہ کردار کا علم ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔تب وہ سوائے اپنی آنکھوں سے اشک بہانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ جب تک انہیں معلوم ہوتا ہے تب تک وہ اس گندگی میں اتنے پھنس چکے ہوتے ہیں کہ نکلنا مشکل ہوتا ہے۔
    حالیہ واقع میں عثمان مرزا اور اسکے ساتھی جس جوڑے کی ویڈیو بناتے ہیں وہ ایک سال پہلے کی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس جوڑے کو پانچ سے چھ دفعہ بلیک میل کر چکے ہوتے ہیں۔ اور میرے مطابق ایسے واقعات جن وجوہات کی بنا پر رونما ہو رہے ہیں ان میں سب سے بڑی وجہ اپنے بچوں کیلئے والدین کا ٹائم نہ نکالنا ہے۔ اور بچوں سے ایسا تعلق نہ بنانے کی وجہ ہے جسمیں آپکے بچے آپکو اپنے بارے میں کھل کر بتا سکتے ہوں۔
    آپ خود سے یہ سوال کریں کہ کیا آپ اپنی بیٹی یا بہن سے ان کے جسمانی تعلق کے متعلق بات کرنے کو تیار ہیں؟ کیا آپ اسکی ذہنی، نفسیاتی تعلق کے متعلق بات کرنے کیلئے تیار ہیں؟ معاشرہ اور لوگ اسکا تماشہ لگائیں اسے ذلیل کریں اس سے بہتر ہے کہ آپ اس سے پہلے ان سے اس کے متعلق بات کریں۔
    ہمیں پاکستان میں ایسا قانون نافذ کروانے کی ضرورت ہے جسمیں ایسے بھیڑیوں کیلئے سنگین سزائیں رکھی جائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسطرح کے جرائم سے دور رہیں۔
    ماں باپ، معاشرہ، تعلیمی ادارے اور مساجد و مدارس کی سطح پر اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے محفوظ رہیں۔
    ہمارا معاشرہ اس حد تک گر چکا ہے۔اور ہمیں اس گندگی کو صاف کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اگر ہم نے یہ نہ کیا تو یہ گندگی آج نہیں تو کل ہم تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اور پھر پچھتانے کو کچھ نہیں بچے گا۔