Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • رِستے ناسور”.تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    رِستے ناسور”.تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    ایک لڑکی کی عمر انتیس سال ہے. ایک بیٹی کی ماں ہے. بائیس سال کی عمر میں شادی اور چوبیس سال کی عمر میں بیوہ ہوئی. معاشی طور پہ آسودہ ہے. شوہر کا ترکے بھی ملا ہے اور میکہ بھی خوشحال ہے. والدہ بیمار رہتی ہیں. اس لیے گھر کی ساری زمہ داری اس پہ ہے. شادی شدہ بہنوں کی ڈیلوریز نمٹانا، اسپتال میں ان کے ساتھ رہنا اور ان کے سسرال والوں کے ناز نخرے اٹھانا اب اسی کی زمہ داری ہے. ان پانچ سالوں میں اس کے گھر والوں نے اس کی شادی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا. سوشل میڈیا پہ ہی اس کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی. لڑکا چونتیس سال کا ہے. لڑکے کی تین چھوٹی بہنیں ہیں. تینوں غیر شادی شدہ ہیں. ماں نے صاف کہہ دیا ہے کہ جب تک تینوں بہنوں کی شادیاں نہیں ہوجاتیں، وہ اپنی شادی کا سوچے بھی نا.

    یہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں. لڑکا اسے بیٹی کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہے. لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شوہر پہ معاشی بوجھ نہیں ڈالے گی. مرحوم شوہر کے ترکے سے اپنا اور اپنے بچے کا خرچہ بآسانی اٹھا لے گی. لیکن لڑکے کی والدہ ایک لفظ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں. ادھر لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اب اسے شادی کی کیا ضرورت ہے. جو خوشی اس کے نصیب میں تھی مل چکی. اب اسے اپنی زندگی بیٹی کی پرورش، والدین کی خدمت اور بہن بھائیوں کی ٹہل سیوہ میں گزارنی چاہیے.

    کچھ ماہ پہلے اس نے مجھے کہا ہے کہ ہم خفیہ نکاح کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے والدین ہماری شادی نہیں کریں گے. مجھے کہتی ہے آپا بیوہ، مطلقہ یا بڑی عمر کی غیر شادی شدہ بیٹی ہمارے ہاں سب سے سستی ہاؤس کیپر، نرس اور کک ہے. اپنے منہ سے شادی کا کہنے والی بے غیرت اور بے حیا ہے. صرف ایک سوال. انہیں یہ قدم اٹھانے کے لیے کس نے مجبور کیا؟ کیا اس لڑکی اور لڑکے کا مطالبہ غلط ہے؟ یہ تو فطرتاً صالح ہیں جو نکاح کرنا چاہتے ہیں ورنہ کیا وہ بے راہ رو نہیں ہوسکتے؟ ان کی فطری خواہش کا گلہ گھونٹنے کا حق ان کے والدین کو کس نے دیا؟؟

    ایک لڑکی ہے. اس کی شادی کی عمر نکلی جا رہی ہے. اس کا کزن جو اس کا ہم عمر ہے پانچ سال سے اس کا رشتہ مانگ رہا ہے. والدین تیار نہیں. وہ اس کے پھوپھی زاد سے اس کی دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں جو اس سے پندرہ سال بڑا ہے اور چار بچوں کا باپ ہے. صرف اس لیے کہ وہ مالدار ہے. لڑکی کے باپ نے اس سے صاف کہہ دیا ہے کہ چاہے وہ ساری زندگی گھر بیٹھی رہے، وہ اس کی شادی اس کی پسند سے نہیں کریں گے. اس لڑکی نے مجھ سے کہا ہے کہ آپا بروزِ حشر میرا ہاتھ ہوگا اور میرے والدین کا گریبان. میں آگے سے چپ رہی. کیا جواب دیتی.

    ایک لڑکا ہے بتیس سال کا. سات سال پہلے خاندان میں منگنی ہوچکی ہے. ملک سے باہر کما کما کر اپنی دو بہنوں کی شادی کر چکا ہے. مکان بھی بنا لیا ہے. ہر ماہ ایک معقول رقم بھی بھیجتا ہے. اس سال شادی کا ارادہ تھا. والدہ نے کہا کہ آتے وقت دلہن کے زیورات لیتے آنا. لڑکے کا کہنا ہے کہ اس کی اتنی گنجائش نہیں کہ شادی کے خرچے کے ساتھ زیورات بھی خریدے. اس پہ والدہ محترمہ نے فرمایا تو پھر ایک سال لیٹ کرتے ہیں کیونکہ انہیں شریکے میں منہ بھی دکھانا ہے اور بری کے زیورات کے بغیر بہو لا کر وہ اپنے خاندان کی عورتوں کے سامنے ناک نہیں کٹوا سکتیں. لڑکی بغیر زیورات کے بھی رخصت ہونے کے لیے تیار ہے لیکن اس کی ہمت نہیں کہ کسی کو کچھ کہہ سکے. وہ بس اپنے منگیتر کے سامنے رو ہی سکتی ہے، جو وہ پوری دلجمعی سے کر رہی ہے. لڑکے کے زیادہ زور دینے پہ اسے والدین کی طرف سے بیغیرت، بے حیا اور بے شرم کے خطابات مل چکے ہیں.

    اور ہم کہتے ہیں کہ معاشرے میں دن بدن بڑھتی بے راہ روی، اخلاقی تنزلی کی وجہ آج کی نوجوان نسل ہے. موبائل فون اور سوشل میڈیا ہے.
    تھوڑا نہیں پورا سوچیے.

    محمّد اسحاق بیگ

    @Ishaqbaig___

  • غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

    غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

    غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ
    لوگ کہتے ہیں غربت میں تو اپنے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں تم غیروں کی بات کرتے ہو
    ایسی ہی کہانی کچھ میری کسی سے محبت کرنا اور اسکی عادت پڑ جانا اور جب وہی ساتھ چھوڑ جائے تو انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے
    عرصہ ہونے کو ہے لیکن وہ شخص میرے ذہن میرے خیالوں سے جاتا ہی نہیں،
    مان لیا جائے کہ اسکی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن جس شخص نے مجھے اتنا چینج کیا اسکی ہر بات ماں باپ کی طرح مانی لیکن اسے ایسی کیا مجبوری پیش آئی کہ وہ چھوڑ گیا یہ سوال ہر وقت میرے ذہن میں ہے

    اسکی باتوں اور اسکے خیالوں سے میں ایک اندازہ لگا چکا کہ میری غریبی میری محبت کی قاتل نکلی
    خدارا کسی سے محبت کرنا ہے تو اسے راستہ میں مت چھوڑو وہ درمیان راستے میں نہ مر سکتا ہے نہ جی سکتا ہے
    آخر میں فراز کا ایک شاعر یاد آیا کہ
    محبت کرنا ہے تو خدا سے کرو
    ان مٹی کھلونوں میں وفا نہیں ملتی

  • آدم کی بیٹی.تحریر: محمد عدنان شاہد

    آدم کی بیٹی.تحریر: محمد عدنان شاہد

    بیٹی کا نام جب بھی زبان پر آتا ھے دل میں ایک لطیف سا محبت کا جذبہ جاگتا ھے۔اپنی بیٹی کے لیے دعا ہو یا دوسروں کی بیٹی کے لیے دعاھو یہی دعا دل سے نکلتی ھےکہ اللہ سب کی بیٹیوں کو خوش رکھے ۔یہ مہکتی کلیاں اپنے چمن کی ہوں یا دوسروں کے چمن کی پیاری لگتی ھیں دعاھے یہ سدا مہکتی رھیں۔ ماند نہ پڑیں یہ ایسے ہی چمن کی رونق بڑھاتی رھیں آمین
    ایک دفعہ ایک بزرگ خاتون نے کتنی پیاری بات کہ ھم جواپنی بیٹیوں کے لیے چاھتے ھیں وہ دوسروں کی بیٹیوں کے لیے بھی چاھیں سوچ لیں کہ آج جو بوئیں گے کل وھی کاٹیں گے۔

    کتنےظالم ھیں وہ لوگ جو اپنی بیٹی کےلیے پھول اوردوسروں کی بیٹی کے کانٹے پسند کرتے ھیں اپنی بیٹی کو خوشیوں سے کھیلنا دیکھناچاھتے ھیں اور دوسروں کی بیٹی کو دکھ دیتے ھیں اپنی بیٹی کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ھیں اوردوسروں کی بیٹی کو بد نام کرنے کا کوئی موقع ھاتھ سے جانے نھیں دیتے ۔

    لیکن سچ بات تویہ ھے کہ بیٹیاں تو سب کی بیٹیاں ھوتی ھیں یہ ھماری اور تمھاری نھیں ھوتیں۔
    اللہ ھمیں توفیق دے کہ ھم سب کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیوں کے برابر سمجھیں اور ان کو خوش رکھیں۔آمین

    یہی آدم کی بیٹی ہے
    ستم کی تیز آندھی میں
    خزاں آثار پیڑوں سے
    بکھرتے پات کی صورت
    ہوا کا ہاتھ تھامے
    چل رہی ہے
    کئی الزام سر لے کر
    ہمیشہ خشک آنکھوں سے
    جو دل اپنا بھگوتی ہے
    کبھی شکوہ نہیں کرتی
    وہی آدم کی بیٹی ہے
    کسی انجان راستے پر
    کسی ظا لم کے اشارے پر
    کسی دیوار میں چنوائی جاتی ہے۔

    میرے خالق نے گوندھا ہے
    اسے انمول مٹی سے
    مگر یہ کون جانے، کون سمجھے
    یہی آدم کی بیٹی ہے۔

  • کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی دنیا کا پانچواں بڑا شہر اور اس میں مسائل کے انبار ایک توجہ طلب مسئلہ ٹریفک کا وقت کے ساتھ ساتھ بے حساب اضافہ اس مسئلے کے بارے میں صوبائی حکومت اور کراچی سٹی ایڈمنسٹریٹر اور دیگر متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرنا چاہتی ہوں۔ شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کے ساتھ ہی شہر کے مسائل کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ ٹریفک جام کے علاوہ ، خطرناک توازن کے ذریعہ آواز کی آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ہر کوئی جلدی میں نظر آتا ہے اور تیزی سے جانا چاہتا ہے ، خاص طور پر موٹرسائیکل سوار ، رکشہ اور بس ڈرائیور ٹریفک قوانین کو توڑتے ہیں اور دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنی مرضی سے چلتا ہے ، اس ٹریفک کی گڑبڑ کے سبب طلباء ، دفتر جانے والے افراد اور دیگر عام طور پر وقت پر نہیں پہنچ سکتے ہیں۔

    کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ بھی دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے ایک ہے۔ سڑکوں پر بھاری ٹریفک کے بڑھتے ہوئے رش ​​کے نتیجے میں اکثر انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ آج شہر کراچی بہت ساری پریشانیوں سے لیس ہے۔ لیکن ٹریفک کا مسئلہ اس شہر کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    اگر آپ کراچی کے شہری ہیں تو آپ کو خاص کر صبح اور شام کے وقت شہر کی مشہور سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اگر آپ اس وقت کے دوران شہر بھر میں سفر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بہت صبر کرنا ہوگا۔ عام طور پر پورے شہر میں ٹریفک جام ہوتا ہے۔ یہ کسی خاص علاقے کا مسئلہ نہیں تھا صبح اور شام کے اوقات میں یہ پورے شہر کا مسئلہ ہے، شہر کے لوگ جب ہر دن دفاتر ، اسکولوں ، یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں تو ٹریفک میں پھنس جاتے تھے۔ لوگ اس سڑک پر ٹریفک جام میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد اپنے کام کی جگہوں سے اپنے گھروں کو واپس پہنچ جاتے ہیں۔

    کئی بار سڑکوں پر ٹریفک کا کوئی اہلکار نظر نہیں آتا ہے جو سڑکیں صاف کرتے ہیں۔ شہر کے لوگ روز بروز معمول کے مطابق لوگوں کے مابین جھڑپوں سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ سڑک پر موجود ہر شخص اپنی مایوسی کو دور کرنے کے لئے کسی سے لڑنے کے لئے تیار ہے۔ صوبائی حکومت کو اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دے کیوں کے دن بہ دن صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے ، کیوں کہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے اور لوگوں کو راحت دینے کے حکام کی مناسب توجہ کی ضرورت ہے۔ میں صوبائی حکومت اعلی حکام اور محکمہ ٹریفک پولیس سے سخت اقدامات کرنے پر توجہ دلانا چاہتی ہوں ، تاکہ ہر شخص آسانی اور راحت کے ساتھ سفر کرسکے اور ٹریفک جام کی پریشانی کو صحیح طریقے سے نبھایا جاسکے۔

  • ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“تحریر ۔۔ ڈاکٹر راہی

    ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“تحریر ۔۔ ڈاکٹر راہی

    پانچ ماہ پہلے ایک نوجوان کا سیشن تھا، نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ آپ کیسے سب سنتے ہیں اور حل بھی بتاتے ہیں جواب بھی دیتے ہیں سوالوں کا۔..

    میں یہ تصویر اور پوسٹ اُس نوجوان کے نام کر رہا ہوں۔

    میں بھی بہت کُند اور بنجر ذہن کا مالک ہوا کرتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پہ غصہ کرتا تھا، پیدل چلتے یا گاڑی چلاتے ہوئے خود ہی لوگوں سے ریس لگا لیتا تھا۔

    رشتوں کی اتنی قدر نہیں کرتا تھا، سوشل میڈیا پہ یا فضول کے پیجز بنا کر اُن پہ وقت ضائع کیا کرتا تھا۔

    لوگوں کو باتیں سناتا تھا، بس اپنی بات کرتا تھا، دوسروں کی کم سنتا تھا، خود کو ہی ٹھیک سمجھتا تھا باقی سب کو غلط، خود کو عقلِ کل سمجھتا تھا۔

    ہر فضول کام میں ٹانگ پھنساتا تھا، زندگی کے اُسلوب سے نابلد تھا، رکھ رکھاؤ نہیں جانتا تھا۔

    پھر کچھ ایسا ہوا کہ مجھے کتابوں سے عشق ہو گیا۔
    کتابیں پڑھتا جاتا ہوں زبان پہ خاموشی چھاتی جاتی ہے، لوگوں کو پہروں چپ چاپ سنتا رہتا ہوں، مجھے سب خود سے بہتر لگتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، لوگوں کو راستہ دینے لگا ہوں، کسی سے ریس نہیں لگاتا اپنی مستی میں چلتا ہوں پیدل ہوں یا گاڑی پہ۔

    لوگوں کو جج کرنا چھوڑ دیا، اُن کے ہر فعل پہ سوچتا ہوں کہ کیا پتہ وہ مجبور ہوں، اپنی مجبوری سب کو نہ بتا سکتے ہوں۔

    انسانوں سے پیار ہو گیا،ہر انسان کتاب جیسا لگتا ہے۔
    ذہن جو صحراؤں جیسا خشک تھا، بنجر تھا اُس میں بارش ہونے لگی اور ذہن کی سر زمیں پہ انسانیت کی ہری بھری فصلیں لہلانے لگیں، ہر انسان سے بے لوث محبت کرنے کا بیج ”میرے بابا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی سیرت پاک نے میرے اندر ایسا بویا کہ وہ ننھے پودے سے ایک بہت بڑا گھنی چھاؤں والا تناور درخت بن گیا اور اب دن رات دعائیں مانگتا ہوں کہ اس درخت کو پھل لگ جائیں تو انسانیت کو فائدہ ہو۔

    غمِ جاناں اور غمِ روزگار کے شہر چھوڑ کر غمِ انسانیت کے ملک میں جابسا ہوں۔۔

    باتیں تو شیطان کی انت جیسی ہیں ختم ہی نہیں ہوتیں۔
    یہ سارے کمالات تو والدین کی تربیت، ”میرے بابا محسنِ انسانیت، پیغمبرِ بے مثال صاحبِ شرف و کمال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی سیرت پاک اور کتابوں کے ہیں ورنہ یہ بندہ ناچیز تو اس قابل نہیں تھا۔۔

    مجھے نسبتوں اور حوالوں نے ایک پہچان بخشی ہے ورنہ میں بھی ایک گمنام زندگی گزار رہا ہوتا۔۔
    تصویر میں موجود کتابیں میرے پچھلے پانچ ماہ ہیں،ہر روز دو لیکچرز سننا، میڈیکل کی کتابیں، اخبارات کے دو تین کالمز ہر ہفتے پڑھنا ان کتابوں کے علاوہ ہیں۔
    دو بلیک ڈائیرز بھی ہیں جن میں سیشنز لکھے ہوئے ہیں۔

    ”ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“

  • آج کا معاشرہ اور والدین کا کردار.تحریر :یاسر خان بلوچ

    آج کا معاشرہ اور والدین کا کردار.تحریر :یاسر خان بلوچ

    آجکل ہم آئے دن سوشل میڈیا پر جنسی استحصال کا سنتے ہیں۔اور یہی وہ سب سے بڑی غلطی ہے جسمیں والدین غفلت کا شکار ہیں۔جسمیں ان کی اولادیں بلیک میلنگ جیسے گھٹیا کاموں میں ذلیل ہو رہے ہیں خواہ وہ جنسی، جسمانی، مالی اور ذہنی استحصال ہو۔اور کچھ عرصے سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جسمیں حقیقت والدین کے سامنے کھل کر آ گئی ہو گی۔
    سب سے پہلے ہمیں اس غلط فہمی سے باہر آنا ہو گا کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں۔ہمیں اپنے بچوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے نچوں کی ذہنی، جسمانی، اور جنسی ضرورتوں کے بارے میں خیال رکھنا ہو گا۔والدین کو کھل کر اس کے متعلق اپنے بچوں سے بات کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر لڑکیوں سے۔کسی بھی سنگین غلطی کے بعد بلیک میل ہونے کیلئے تیار ہونا بھی ایک سنگین غلطی ہے۔
    ہمیں یہ بات اب سمجھ لینی چاہیے کے باہر ایسے خونخوار اور بیہودہ قسم کے بھیڑیے (عثمان مرزا) گھوم رہے ہیں جو کبھی بھی ہماری نسل پر حملہ کر سکتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دوستی کے نام پر ایک ٹرینڈ بنا ہوا ہے انسان کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دل میں ایک جگہ بنتی جاتی ہےجسے وہ فرینڈ شپ سے پورا کرنا چاہتا ہے۔اسی فرینڈ شپ سے وہ ایک معاشرے تک پہنچتا ہے۔ اور جب تک اسے پتا چلتا ہے کہ یہ کیسا معاشرہ ہے تو وہ اسکی دلدل میں پھنس چکا ہوتا ہے اور اس سے نکل نہیں سکتا۔پھر یہ معاشرہ یا تو اسے نشے پہ لگا دیتا ہے یا تو اسے گندگی میں گاڑھ کر رکھ دیتا ہے۔ پھر اسے جرائم پیشہ عناصر میں ملوث کروا دیتا ہے۔

    اکثر والدین کو یہ زعم ہوتا ہے کہ ان کی اولاد کا کردار بہت پختہ ہے اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ کس سے مل رہے ہیں؟ کس کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں؟ کون سی محفل میں ان یا آؤٹ ہو رہے ہیں؟ گھر کب آ رہے ہیں؟ کیونکہ وہ اس یقین میں رہتے ہیں کہ ان کی اولاد ایسا کر ہی نہیں سکتی۔
    مگر افسوس کے ساتھ جب تک انہیں ان کے پختہ کردار کا علم ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔تب وہ سوائے اپنی آنکھوں سے اشک بہانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ جب تک انہیں معلوم ہوتا ہے تب تک وہ اس گندگی میں اتنے پھنس چکے ہوتے ہیں کہ نکلنا مشکل ہوتا ہے۔
    حالیہ واقع میں عثمان مرزا اور اسکے ساتھی جس جوڑے کی ویڈیو بناتے ہیں وہ ایک سال پہلے کی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس جوڑے کو پانچ سے چھ دفعہ بلیک میل کر چکے ہوتے ہیں۔ اور میرے مطابق ایسے واقعات جن وجوہات کی بنا پر رونما ہو رہے ہیں ان میں سب سے بڑی وجہ اپنے بچوں کیلئے والدین کا ٹائم نہ نکالنا ہے۔ اور بچوں سے ایسا تعلق نہ بنانے کی وجہ ہے جسمیں آپکے بچے آپکو اپنے بارے میں کھل کر بتا سکتے ہوں۔
    آپ خود سے یہ سوال کریں کہ کیا آپ اپنی بیٹی یا بہن سے ان کے جسمانی تعلق کے متعلق بات کرنے کو تیار ہیں؟ کیا آپ اسکی ذہنی، نفسیاتی تعلق کے متعلق بات کرنے کیلئے تیار ہیں؟ معاشرہ اور لوگ اسکا تماشہ لگائیں اسے ذلیل کریں اس سے بہتر ہے کہ آپ اس سے پہلے ان سے اس کے متعلق بات کریں۔
    ہمیں پاکستان میں ایسا قانون نافذ کروانے کی ضرورت ہے جسمیں ایسے بھیڑیوں کیلئے سنگین سزائیں رکھی جائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسطرح کے جرائم سے دور رہیں۔
    ماں باپ، معاشرہ، تعلیمی ادارے اور مساجد و مدارس کی سطح پر اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے محفوظ رہیں۔
    ہمارا معاشرہ اس حد تک گر چکا ہے۔اور ہمیں اس گندگی کو صاف کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اگر ہم نے یہ نہ کیا تو یہ گندگی آج نہیں تو کل ہم تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اور پھر پچھتانے کو کچھ نہیں بچے گا۔

  • اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    آئے روز ہم بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سنتے ہیں ۔ پھول جیسے جسموں کو کیسے مسل کر پھر موت کے گھاٹ دیا جاتا ہے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہم سوچنے لگتے ہیں کہ آیا ایسا کرنے والے انسان بھی ہیں یا نہیں ؟ کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہوتے یا وہ دل نہیں رکھتے جو ایسا گھناؤنا کام کرتے ہیں

    لیکن میں آپ کو بتاؤں ایسا کرنے والے بھی ہم ، آپ میں سے ہی لوگ ہوتے ہیں ۔ ہمارے قریبی یا دور کے رشتہ دار جن پر ہم اندھا یقین کر کے اپنے بچوں کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اور وہ انہی بچوں کے ساتھ تنہائی میں اپنی حوس کی تسکین کرتے ہیں

    عام طور پر بچوں کے ساتھ ایسا کرنے والے قریبی تعلقات والے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہم سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کچھ کرسکتے ہیں ۔

    سو میں سے اسی فیصد ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے اپنے ہونے ہونے والی ظلم و تشدد کی روداد کسی کو نہیں بتاتے کیونکہ انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ انکی بات سنی نہیں جائے گی اگر سنی بھی گئی تو انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا اس لیے وہ خاموشی سے جنسی تشدد برداشت کرتے رہتے ہیں جو کہ ایسا کرنے والوں کو اور دلیر بنا دیتا ہے اور ایسی درندگی کرنے والے بار بار اس عمل کو دہراتے ہیں

    اور باقی کے بیس فیصد بچے اگر اپنے والدین یا کسی اقارب کو اس بارے میں آگاہ بھی کریں تو یا تو انکی آواز کو بدنامی کے ڈر سے دبا دیا جاتا ہے یا پھر انکی بات پر یقین نہیں کیا جاتا ۔ اور ایسا خصوصاََ بچیوں کے معاملات میں ہوتا ہے

    میں نے خود ایسی بہت سی لڑکیاں جنسی ہراسگی کا شکار ہوتے دیکھی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے گھر بتایا تو الٹا اسے ہی قصوروار سمجھ کر برابھلا کہا گیا کیونکہ اس نے ایسے شخص کا نام کیا تھا جو کہ خاندان میں بہت معزز اور پانچ ٹائم کا نمازی تھا

    میری آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے درندوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں ۔ انہیں بتائیں کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی بھی ایسی حرکت کرے جو وہ دوسروں سے چھپا کر کرے یا چھپانے کا کہے تو اسے فوراً گھر والوں کو بتائیں ۔ اگر آپ کے چھوٹے بہن بھائی ہیں تو انہیں خود سمجھائیں ۔ اور ان سے ایسے تعلقات ضرور بنا کے رکھیں کہ ایسا کوئی بھی مسئلہ ہو تو وہ بلا جھجک آپ کو آکر بتا سکیں

    بچوں کو اپنے سگے رشتہ داروں کے ساتھ بھی اکیلے مت چھوڑیں ۔ حالات اتنے بھیانک ہوگئے ہیں کہ خون کے رشتوں کا تقدس ہی ختم ہوگیا ہے ۔ اس لیے کسی پر بھی اندھا یقین نا کریں

    اور ڈرائیور ، ٹیچر ، چوکیدار کسی کے ساتھ بھی بچوں کو ہرگز اکیلا مت چھوڑیں ۔ جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے کس مائنڈ سیٹ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں اور پھر انکے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تصور ہی خوفناک ہے

    دعا ہے اللہ سب کے بچوں کو ایسی درندگی سے محفوظ رکھیں اور انکی معصومیت کو برقرار رکھیں آمین

  • پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ زندگی کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی باہوش انسان انکار نہیں کر سکتاخصوصاً آج کے جدید تیز رفتار معاشرے میں اس حقیقت کو انکار تو دور کی بات نظر اندازتک نہیں کیا جا سکتا ۔

    سوال یہ ہے کہ کس حد تک پیسہ زندگی کیلئے ضروری ہے ۔

    ہمارے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا پر کوئی پروگرام خوبصورت چہروں، بڑے گھر، بڑی گاڑیوں اور بیرون ملک شاندار لوکیشنز کے بغیرنہ تو بنایا جاتا ہے نہ دکھایا جاتا ہے ۔

    ان چیزوں کا اثر ہمارے معاشرے کے اَپر اور مڈل کلاس طبقہ پر بہت منفی ہوتا ہے اور وہاں پیسہ کماؤ اور پیسہ دکھاؤ کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجاتی ہے ۔

    پاکستان میں جائز نا جائز طریقے سے پیسہ کمانے کے ساتھ بیرون ممالک جانے کے لیے کن مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے وہ الگ کہانی اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے

    یورپ میں بسنے والے لوگ آجکل جاب لیس کے بعد خود اپنے خرچے اٹھانے سے محروم ہیں لیکن پاکستان میں بسنے والے دس بارہ افراد پر مشتعمل کُنبہ بھی انکی طرف نگاہ لگائے ہوئے ہوتا ہے

    گھرکے افراد کی بے جا خواہشات اور ان خواہشات کے حصول کیلئے
    میں نے یہاں بھی لوگوں کو مشین بنتے دیکھا اپنے لیے نہیں اپنوں کے لیے مگر ان سب کا اک ہی دکھ سب سے بھاری ہوتا ہے کہ جب پیسے کے مقابلے میں انکی ذاتی خوشی اور خواہش کی اپنوں کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہوتی

    ہزاروں داستانیں ہیں ــــــــ سب کے پاس ہونگی ـــــــــ

    اک فیملی ہے پہلے امریکہ اب 15 سال سے یہاں مقیم ہے
    اپنی یہاں فیملی کے 5 افراد کا اکلوتا کفیل اور پاکستان میں سارے خاندان کی مشین ہے

    شادی شدہ بہن بھائیوں ، انکی اولادوں کے بھی خرچے اسکے ذمہ ہیں
    کسی بھتیجے کو باہر بھیجنا ہو ـــــــ کسی بھانجے کو کاروبار بنا دینا ہو اسی کے ذمہ ہے اس نے سب کیا

    جائیداد بنائی ــــــــــ گھر بنایا ــــــ سب بھائیوں کے حوالے سب سانجھا
    اک بہن میکے بیٹھی تھی اسکے بچوں کو سالوں پالا جب بچے بڑے ہوئے انکے باپ کو بچوں کی یاد آئی لے واپس لے گیا

    دوسری بہن کے میاں کو یہ طریقہ بڑا مناسب لگا اپنی بیوی بچوں کو نکال دیا جاو بھائی پالیں گے
    باقی بھائی کیا انھی صاحب پر وہ بھی آ پڑے
    وہ بندا سب خوشی غمی سے بہت سکون اور حوصلے سے سب کو پال رہا ہے مگر ـــــــــــ

    دس سال ہوگے پاکستان نہیں گے ـــــــ جب بھی جانے کا نام لیں پاکستان سے فون اجاتے ہیں فلاں مجبوری ہے پیسے چاہیے
    آپ ائیں گے تو کہاں ٹھہریں گے ـــــــ گھر چھوٹا ہے پہلے ساتھ والا احاطہ بھی تعمیرکرتے ہیں پھر شوق سے ملنے آنا پھر اچھے سے بندا مل بیٹھتا ہے

    دل میں رو کر پھر بیٹھ گیا ــــــــــــــــــ بیوی بچے بچارے جانا چاہتے ہیں پچھلے سال انکو چھٹیوں میں امریکہ لے گیا کہ چلو یہاں ہی گھوم پھر لیتے ہیں

    پھر دل پر پتھر رکھا ــــــــ اور سوچنے لگے کہ جائیں گے تو پاکستان اک بار دو ماہ ملکر واپس اجائیں گے

    مارچ بریک میں تیاری ہے ۔۔ کل پوچھنے لگے ـــــــــ کوئی مکان کرائے پر مل سکتا ہے ہمیں دو تین ماہ کے لیے چاہیے
    اس بار جو بھی ہوا میں اپنا الگ سے گھر کیسے بھی ہوا خرید کر آوں گا مگر دو ماہ کے لیے مجھے کوئی ٹھکانہ چاہیے

    ـــــــــــــ

    یہ وہ رشتے جو خون جگر پی جاتے ہیں مگر خون میں ابال تک نہیں آتا
    لعنت ہے ایسے رشتوں پر اور ایسے سفید خون پر جو اپنوں کے خون پر پلتے ہیں اور جیببوں پر نظر رکھتے ہیں ان سے تو بندا تنہا اکیلا ہی ٹھیک ہے کم ازکم یوز ہونے کا غم تو نا ہو !!

  • یتیم کا مال .تحریر :فضیلت اجالہ

    یتیم کا مال .تحریر :فضیلت اجالہ

    ارشاد باری تعالی ہے
    جو لوگ ناحق ظلم سے یتیم کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب دوزخ میں جائیں گے ۔

    ہمارے معاشرہ وہ تاریک معاشرہ ہے جس میں بلا خوف و خطر یتیم کا مال کھایا جاتا ہے ۔
    وہ کمسن بچے جن کے والدین کو اجل اسوقت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے جب ان معصوموں کو لفظ یتیم کا مطلب بھی نہی پتہ ہوتا تو قریبی رشتہ دار ان کی پرورش کی زمہ داری لیکر زمانے کی نظر میں معزز ٹھرتے ہیں مگر اندر ہی اندر ان بچوں کی جڑے کاٹتے ہوئے کاغزات میں اتنی ہشیاری سے رد وبدل کرواتے ہیں کہ جیسے ان کی وراثت کا حق بھی باپ اپنے ساتھ قبر میں لے گیا ہو ۔اور ایسا کرتے ہوئے انہیں ایک لمحے کیلیے بھی خوف خدا محسوس نہی ہوتا ۔
    اگر کبھی ضمیرملامت کرے بھی تو طرح طرح کے بہانوں سے دلوں کو بہلاتے ہیں کہ کیا ہوا جائداد رکھ لی تو ،
    انکے نان نفقے کا بوجھ بھی تو مرے سر پر ہے
    آخر انکو رہنے کو چھت دیں رہیں ہے
    لیکن یہ دلائل دیتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ یتیم کا مال ہڑپ کرنا سراسر ناجائز اور حرام ہے اور ایسا کرنے والوں کیلیے قرآن میں سخت عزاب کی وعید ہے ۔

    ایک حدیث مبارک ہے کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا ؟
    تم لوگ مفلس کس کو سمجھتے ہو؟
    صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ مفلس وہ ہے جس کہ پاس مال و دولت نا ہوں ،درہم ،نا ہو۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا نہی ۔مفلس تو وہ ہے جو قیامت کہ دن آئے ،اس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں ،روزے بھی رکھیں ہوں ،زکواۃ بھی دی ہو حج بھی کیا ہو لیکن،اس کے ساتھ ساتھ اسنے کسی کو گالی دی تھی ،کسی کا حق کھایا تھا ،یتیم و مسکین کا مال ہڑپ کیا تھا کیسی پہ تہمت لگائ تھی ،کسی پہ ناجائز بہتان بھی باندھا تھا ،اب جب اعمال پلڑے میں ڈالے گئے تو اسکا ایک برا عمل ایک نیکی لے گیا دوسرا عمل دوسری نیکی لے گیا اس طرح ایک ایک کر کہ ساری نیکیاں چلی گئ لیکن اب بھی کچھ لوگوں کا حق اس پہ باقی ہے تو اب ان حقداروں کے گناہ اس شخص پہ لاد دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ یہ بوجھ اٹھائے جہنم میں جا گرے گا یہ ہے اصل مفلسی ۔
    اسلام میں یتیم کے مال کی حفاظت پہ زور دیا گیا ہے ۔
    یہاں تک کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں تو انکا مال انکے حوالے کرنے کا حکم آیا ہے ۔صرف یہ نہی بلکہ یتیم کی کفالت اور اسکو اسکا حق دینے والے کیلیے خصوصی انعام کا اعلان بھی ہے ۔
    سھیل بب سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    رسول اللہ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی کو آپس میں ملایا اور صحابہ کو دکھاتے ہوئے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والہ قیامت میں اس طرح ساتھ ہون گے۔
    لہزا ہمیں ان تمام باتوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور خود کو جہنم سے محفوظ کرنا ہے کیونکہ ہم نے ہمیشہ یہاں نہی رہنا اور آخر ایک دن پلٹنا ہے اس خدائے بزرگ و برتر کی جانب جس سے کوئ عمل چھپا ہوا نہی ۔
    نئ نسل کہ پاس اسلام سیکھنے کے بہت سے زرائع ہیں ۔نا صرف خود بلکہ اپنے بڑوں کو بھی نیک عمل کی ترغیب دیں انہیں یتیم کا حق دینے پہ آمادہ کریں اور اپنی آخرت سنواریں ۔

  • معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ ہم سب مل کر بناتے ہیں یعنی اس میں رہنے والے تمام افراد اور عناصر مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں
    معاشرے کی اچھائی اور برائی کو دیکھنا ہم پہ لاگو ہے معاشرے کا خیال رکھنا ہم سب کی زمہ داری ہے معاشرے میں اچھے برے دونوں لوگ بستے ہیں
    معاشرے کو اچھا بنانے کے لیے ہم پر لازم ہے کے ہم برائی کی روک تھام کے لیے کلیدی کردار ادا کریں اور سب سے اہم ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کے لیے ان کی روز مرہ زندگی پہ نظر رکھنی چاہیے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق بتانا لازمی ہے اگر ہم اپنے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق نہیں بتائیں گے تم بچوں کو ہم اچھا اور زمہ دار شہری نہیں بنا سکتے.
    ہمارے معاشرے میں اجکل سگریٹ-نوشی جیسی بُری لعنت بہت عام ہو چکی ہے
    کیونکہ ہم نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی کے ہمارے بچے کس ماحول میں کھیلتے ہیں ان کا اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ ہے؟

    سگریٹ-نوشی ایک ایسی بری لعنت ہے جس کے ساتھ بچے منشیات بھی لینا شروع کر دیتے ہیں اور گویا یوں ہمارا معاشرہ برائی کی لپیٹ میں اجاتا ہے

    معاشرے کو اچھا بنانا ہم سب کی زمہ داری ہے یہ کسی ایک فرد کا کام نہیں ہے ہم سب کو مل کر معاشرے کو اچھا بنانے میں سامنے آہ کر اہم کردار ادا کرنا چاہیے
    اجکل ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں کیا کبھی ہم نے ان کی روک تھام کے لیے کچھ سوچا؟
    نہیں کبھی نہیں ہم اس برائی کی زمہ داری یا تو لوگوں ہر یا معاشرے پہ ڈال دیتے ہیں یا پھر ہم اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں کے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کے ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے یہ سوچ سراسر غلط ہے کیونکہ کے اگر ہم اج اس کو نظرانداز کریں گے تو کل کو ہمیں ہی اس برائی کا سامنہ کرنا پڑے گا
    تو اس وقت ہم اپنے کل کو پچھتائیں گے لیکن اس وقت پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا کیونکہ
    ایک مشہور کہاوت ہے کے

    (اب کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئی کھیت)

    وقت گزر چکا ہوگا اس لیے ہمیں اپنے آنے والی نسل کے کل کو سنوارنے کے لیے اس آج کو بہترین بنانا بہت ضروری ہے
    اگر ہم اپنے آج کو بہتر بنانے کیلئے اگے ہونگے تو کل کو ہماری انے والی نسلوں کے لیے ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا جس کی ضرورت معاشرے کے ہر فردوواحد کو ہے
    معاشرے کو اچھا بنانا کسی ایک گھر کے افراد یا کسی ایک خاندان کی زمہ داری نہیں ہے بلکہ اس معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کی زمہ داری ہے

    اس برائی کے خاتمے کے لیئے ضروری ہے کے ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آج سوچنا چاہیے تاکہ آنے والے کل میں ان کے لیے ایک بہترین ماحول ملے جس کے لیے ہم سب کو مل کر ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینا انتہائی ضروری ہے