Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    آئے روز ہم بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سنتے ہیں ۔ پھول جیسے جسموں کو کیسے مسل کر پھر موت کے گھاٹ دیا جاتا ہے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہم سوچنے لگتے ہیں کہ آیا ایسا کرنے والے انسان بھی ہیں یا نہیں ؟ کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہوتے یا وہ دل نہیں رکھتے جو ایسا گھناؤنا کام کرتے ہیں

    لیکن میں آپ کو بتاؤں ایسا کرنے والے بھی ہم ، آپ میں سے ہی لوگ ہوتے ہیں ۔ ہمارے قریبی یا دور کے رشتہ دار جن پر ہم اندھا یقین کر کے اپنے بچوں کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اور وہ انہی بچوں کے ساتھ تنہائی میں اپنی حوس کی تسکین کرتے ہیں

    عام طور پر بچوں کے ساتھ ایسا کرنے والے قریبی تعلقات والے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہم سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کچھ کرسکتے ہیں ۔

    سو میں سے اسی فیصد ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے اپنے ہونے ہونے والی ظلم و تشدد کی روداد کسی کو نہیں بتاتے کیونکہ انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ انکی بات سنی نہیں جائے گی اگر سنی بھی گئی تو انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا اس لیے وہ خاموشی سے جنسی تشدد برداشت کرتے رہتے ہیں جو کہ ایسا کرنے والوں کو اور دلیر بنا دیتا ہے اور ایسی درندگی کرنے والے بار بار اس عمل کو دہراتے ہیں

    اور باقی کے بیس فیصد بچے اگر اپنے والدین یا کسی اقارب کو اس بارے میں آگاہ بھی کریں تو یا تو انکی آواز کو بدنامی کے ڈر سے دبا دیا جاتا ہے یا پھر انکی بات پر یقین نہیں کیا جاتا ۔ اور ایسا خصوصاََ بچیوں کے معاملات میں ہوتا ہے

    میں نے خود ایسی بہت سی لڑکیاں جنسی ہراسگی کا شکار ہوتے دیکھی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے گھر بتایا تو الٹا اسے ہی قصوروار سمجھ کر برابھلا کہا گیا کیونکہ اس نے ایسے شخص کا نام کیا تھا جو کہ خاندان میں بہت معزز اور پانچ ٹائم کا نمازی تھا

    میری آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے درندوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں ۔ انہیں بتائیں کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی بھی ایسی حرکت کرے جو وہ دوسروں سے چھپا کر کرے یا چھپانے کا کہے تو اسے فوراً گھر والوں کو بتائیں ۔ اگر آپ کے چھوٹے بہن بھائی ہیں تو انہیں خود سمجھائیں ۔ اور ان سے ایسے تعلقات ضرور بنا کے رکھیں کہ ایسا کوئی بھی مسئلہ ہو تو وہ بلا جھجک آپ کو آکر بتا سکیں

    بچوں کو اپنے سگے رشتہ داروں کے ساتھ بھی اکیلے مت چھوڑیں ۔ حالات اتنے بھیانک ہوگئے ہیں کہ خون کے رشتوں کا تقدس ہی ختم ہوگیا ہے ۔ اس لیے کسی پر بھی اندھا یقین نا کریں

    اور ڈرائیور ، ٹیچر ، چوکیدار کسی کے ساتھ بھی بچوں کو ہرگز اکیلا مت چھوڑیں ۔ جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے کس مائنڈ سیٹ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں اور پھر انکے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تصور ہی خوفناک ہے

    دعا ہے اللہ سب کے بچوں کو ایسی درندگی سے محفوظ رکھیں اور انکی معصومیت کو برقرار رکھیں آمین

  • پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ زندگی کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی باہوش انسان انکار نہیں کر سکتاخصوصاً آج کے جدید تیز رفتار معاشرے میں اس حقیقت کو انکار تو دور کی بات نظر اندازتک نہیں کیا جا سکتا ۔

    سوال یہ ہے کہ کس حد تک پیسہ زندگی کیلئے ضروری ہے ۔

    ہمارے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا پر کوئی پروگرام خوبصورت چہروں، بڑے گھر، بڑی گاڑیوں اور بیرون ملک شاندار لوکیشنز کے بغیرنہ تو بنایا جاتا ہے نہ دکھایا جاتا ہے ۔

    ان چیزوں کا اثر ہمارے معاشرے کے اَپر اور مڈل کلاس طبقہ پر بہت منفی ہوتا ہے اور وہاں پیسہ کماؤ اور پیسہ دکھاؤ کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجاتی ہے ۔

    پاکستان میں جائز نا جائز طریقے سے پیسہ کمانے کے ساتھ بیرون ممالک جانے کے لیے کن مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے وہ الگ کہانی اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے

    یورپ میں بسنے والے لوگ آجکل جاب لیس کے بعد خود اپنے خرچے اٹھانے سے محروم ہیں لیکن پاکستان میں بسنے والے دس بارہ افراد پر مشتعمل کُنبہ بھی انکی طرف نگاہ لگائے ہوئے ہوتا ہے

    گھرکے افراد کی بے جا خواہشات اور ان خواہشات کے حصول کیلئے
    میں نے یہاں بھی لوگوں کو مشین بنتے دیکھا اپنے لیے نہیں اپنوں کے لیے مگر ان سب کا اک ہی دکھ سب سے بھاری ہوتا ہے کہ جب پیسے کے مقابلے میں انکی ذاتی خوشی اور خواہش کی اپنوں کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہوتی

    ہزاروں داستانیں ہیں ــــــــ سب کے پاس ہونگی ـــــــــ

    اک فیملی ہے پہلے امریکہ اب 15 سال سے یہاں مقیم ہے
    اپنی یہاں فیملی کے 5 افراد کا اکلوتا کفیل اور پاکستان میں سارے خاندان کی مشین ہے

    شادی شدہ بہن بھائیوں ، انکی اولادوں کے بھی خرچے اسکے ذمہ ہیں
    کسی بھتیجے کو باہر بھیجنا ہو ـــــــ کسی بھانجے کو کاروبار بنا دینا ہو اسی کے ذمہ ہے اس نے سب کیا

    جائیداد بنائی ــــــــــ گھر بنایا ــــــ سب بھائیوں کے حوالے سب سانجھا
    اک بہن میکے بیٹھی تھی اسکے بچوں کو سالوں پالا جب بچے بڑے ہوئے انکے باپ کو بچوں کی یاد آئی لے واپس لے گیا

    دوسری بہن کے میاں کو یہ طریقہ بڑا مناسب لگا اپنی بیوی بچوں کو نکال دیا جاو بھائی پالیں گے
    باقی بھائی کیا انھی صاحب پر وہ بھی آ پڑے
    وہ بندا سب خوشی غمی سے بہت سکون اور حوصلے سے سب کو پال رہا ہے مگر ـــــــــــ

    دس سال ہوگے پاکستان نہیں گے ـــــــ جب بھی جانے کا نام لیں پاکستان سے فون اجاتے ہیں فلاں مجبوری ہے پیسے چاہیے
    آپ ائیں گے تو کہاں ٹھہریں گے ـــــــ گھر چھوٹا ہے پہلے ساتھ والا احاطہ بھی تعمیرکرتے ہیں پھر شوق سے ملنے آنا پھر اچھے سے بندا مل بیٹھتا ہے

    دل میں رو کر پھر بیٹھ گیا ــــــــــــــــــ بیوی بچے بچارے جانا چاہتے ہیں پچھلے سال انکو چھٹیوں میں امریکہ لے گیا کہ چلو یہاں ہی گھوم پھر لیتے ہیں

    پھر دل پر پتھر رکھا ــــــــ اور سوچنے لگے کہ جائیں گے تو پاکستان اک بار دو ماہ ملکر واپس اجائیں گے

    مارچ بریک میں تیاری ہے ۔۔ کل پوچھنے لگے ـــــــــ کوئی مکان کرائے پر مل سکتا ہے ہمیں دو تین ماہ کے لیے چاہیے
    اس بار جو بھی ہوا میں اپنا الگ سے گھر کیسے بھی ہوا خرید کر آوں گا مگر دو ماہ کے لیے مجھے کوئی ٹھکانہ چاہیے

    ـــــــــــــ

    یہ وہ رشتے جو خون جگر پی جاتے ہیں مگر خون میں ابال تک نہیں آتا
    لعنت ہے ایسے رشتوں پر اور ایسے سفید خون پر جو اپنوں کے خون پر پلتے ہیں اور جیببوں پر نظر رکھتے ہیں ان سے تو بندا تنہا اکیلا ہی ٹھیک ہے کم ازکم یوز ہونے کا غم تو نا ہو !!

  • یتیم کا مال .تحریر :فضیلت اجالہ

    یتیم کا مال .تحریر :فضیلت اجالہ

    ارشاد باری تعالی ہے
    جو لوگ ناحق ظلم سے یتیم کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب دوزخ میں جائیں گے ۔

    ہمارے معاشرہ وہ تاریک معاشرہ ہے جس میں بلا خوف و خطر یتیم کا مال کھایا جاتا ہے ۔
    وہ کمسن بچے جن کے والدین کو اجل اسوقت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے جب ان معصوموں کو لفظ یتیم کا مطلب بھی نہی پتہ ہوتا تو قریبی رشتہ دار ان کی پرورش کی زمہ داری لیکر زمانے کی نظر میں معزز ٹھرتے ہیں مگر اندر ہی اندر ان بچوں کی جڑے کاٹتے ہوئے کاغزات میں اتنی ہشیاری سے رد وبدل کرواتے ہیں کہ جیسے ان کی وراثت کا حق بھی باپ اپنے ساتھ قبر میں لے گیا ہو ۔اور ایسا کرتے ہوئے انہیں ایک لمحے کیلیے بھی خوف خدا محسوس نہی ہوتا ۔
    اگر کبھی ضمیرملامت کرے بھی تو طرح طرح کے بہانوں سے دلوں کو بہلاتے ہیں کہ کیا ہوا جائداد رکھ لی تو ،
    انکے نان نفقے کا بوجھ بھی تو مرے سر پر ہے
    آخر انکو رہنے کو چھت دیں رہیں ہے
    لیکن یہ دلائل دیتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ یتیم کا مال ہڑپ کرنا سراسر ناجائز اور حرام ہے اور ایسا کرنے والوں کیلیے قرآن میں سخت عزاب کی وعید ہے ۔

    ایک حدیث مبارک ہے کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا ؟
    تم لوگ مفلس کس کو سمجھتے ہو؟
    صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ مفلس وہ ہے جس کہ پاس مال و دولت نا ہوں ،درہم ،نا ہو۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا نہی ۔مفلس تو وہ ہے جو قیامت کہ دن آئے ،اس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں ،روزے بھی رکھیں ہوں ،زکواۃ بھی دی ہو حج بھی کیا ہو لیکن،اس کے ساتھ ساتھ اسنے کسی کو گالی دی تھی ،کسی کا حق کھایا تھا ،یتیم و مسکین کا مال ہڑپ کیا تھا کیسی پہ تہمت لگائ تھی ،کسی پہ ناجائز بہتان بھی باندھا تھا ،اب جب اعمال پلڑے میں ڈالے گئے تو اسکا ایک برا عمل ایک نیکی لے گیا دوسرا عمل دوسری نیکی لے گیا اس طرح ایک ایک کر کہ ساری نیکیاں چلی گئ لیکن اب بھی کچھ لوگوں کا حق اس پہ باقی ہے تو اب ان حقداروں کے گناہ اس شخص پہ لاد دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ یہ بوجھ اٹھائے جہنم میں جا گرے گا یہ ہے اصل مفلسی ۔
    اسلام میں یتیم کے مال کی حفاظت پہ زور دیا گیا ہے ۔
    یہاں تک کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں تو انکا مال انکے حوالے کرنے کا حکم آیا ہے ۔صرف یہ نہی بلکہ یتیم کی کفالت اور اسکو اسکا حق دینے والے کیلیے خصوصی انعام کا اعلان بھی ہے ۔
    سھیل بب سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    رسول اللہ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی کو آپس میں ملایا اور صحابہ کو دکھاتے ہوئے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والہ قیامت میں اس طرح ساتھ ہون گے۔
    لہزا ہمیں ان تمام باتوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور خود کو جہنم سے محفوظ کرنا ہے کیونکہ ہم نے ہمیشہ یہاں نہی رہنا اور آخر ایک دن پلٹنا ہے اس خدائے بزرگ و برتر کی جانب جس سے کوئ عمل چھپا ہوا نہی ۔
    نئ نسل کہ پاس اسلام سیکھنے کے بہت سے زرائع ہیں ۔نا صرف خود بلکہ اپنے بڑوں کو بھی نیک عمل کی ترغیب دیں انہیں یتیم کا حق دینے پہ آمادہ کریں اور اپنی آخرت سنواریں ۔

  • معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ کیا ہے؟ تحریر.فیضان علی

    معاشرہ ہم سب مل کر بناتے ہیں یعنی اس میں رہنے والے تمام افراد اور عناصر مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں
    معاشرے کی اچھائی اور برائی کو دیکھنا ہم پہ لاگو ہے معاشرے کا خیال رکھنا ہم سب کی زمہ داری ہے معاشرے میں اچھے برے دونوں لوگ بستے ہیں
    معاشرے کو اچھا بنانے کے لیے ہم پر لازم ہے کے ہم برائی کی روک تھام کے لیے کلیدی کردار ادا کریں اور سب سے اہم ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کے لیے ان کی روز مرہ زندگی پہ نظر رکھنی چاہیے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق بتانا لازمی ہے اگر ہم اپنے بچوں کو اچھائی، برائی اور جائز، ناجائز کے بارے میں فرق نہیں بتائیں گے تم بچوں کو ہم اچھا اور زمہ دار شہری نہیں بنا سکتے.
    ہمارے معاشرے میں اجکل سگریٹ-نوشی جیسی بُری لعنت بہت عام ہو چکی ہے
    کیونکہ ہم نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی کے ہمارے بچے کس ماحول میں کھیلتے ہیں ان کا اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ ہے؟

    سگریٹ-نوشی ایک ایسی بری لعنت ہے جس کے ساتھ بچے منشیات بھی لینا شروع کر دیتے ہیں اور گویا یوں ہمارا معاشرہ برائی کی لپیٹ میں اجاتا ہے

    معاشرے کو اچھا بنانا ہم سب کی زمہ داری ہے یہ کسی ایک فرد کا کام نہیں ہے ہم سب کو مل کر معاشرے کو اچھا بنانے میں سامنے آہ کر اہم کردار ادا کرنا چاہیے
    اجکل ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں کیا کبھی ہم نے ان کی روک تھام کے لیے کچھ سوچا؟
    نہیں کبھی نہیں ہم اس برائی کی زمہ داری یا تو لوگوں ہر یا معاشرے پہ ڈال دیتے ہیں یا پھر ہم اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں کے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کے ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے یہ سوچ سراسر غلط ہے کیونکہ کے اگر ہم اج اس کو نظرانداز کریں گے تو کل کو ہمیں ہی اس برائی کا سامنہ کرنا پڑے گا
    تو اس وقت ہم اپنے کل کو پچھتائیں گے لیکن اس وقت پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا کیونکہ
    ایک مشہور کہاوت ہے کے

    (اب کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئی کھیت)

    وقت گزر چکا ہوگا اس لیے ہمیں اپنے آنے والی نسل کے کل کو سنوارنے کے لیے اس آج کو بہترین بنانا بہت ضروری ہے
    اگر ہم اپنے آج کو بہتر بنانے کیلئے اگے ہونگے تو کل کو ہماری انے والی نسلوں کے لیے ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا جس کی ضرورت معاشرے کے ہر فردوواحد کو ہے
    معاشرے کو اچھا بنانا کسی ایک گھر کے افراد یا کسی ایک خاندان کی زمہ داری نہیں ہے بلکہ اس معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کی زمہ داری ہے

    اس برائی کے خاتمے کے لیئے ضروری ہے کے ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آج سوچنا چاہیے تاکہ آنے والے کل میں ان کے لیے ایک بہترین ماحول ملے جس کے لیے ہم سب کو مل کر ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینا انتہائی ضروری ہے

  • ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    معاشرے میں ہم کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ نہیں سکتے جبکہ انسانیت کا کام دوسروں کی مدد ہے
    ہم اللہ کی رضا کی خاطر انسانیت کی مدد کرنی چاہیے اور دوسروں کی کامیابی میں خوش ہونا چاہیے نا کہ کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ کر حسد کرنا چاہیے
    دوسروں کی خوشی میں ہونے سے یقیناََ اللہ ہمیں بھی خوشی سے نوازتا ہے۔

    دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے، اس کے بالکل پیچھے سپین کا رنر ایون فرنینڈز دوڑ رہا تھا اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی کی دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی، مطیع اس کی لینگوئج نہیں سمجھتا تھا اس لئیے اسے بالکل سمجھ نہ آئی، یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈز اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کے فنش لائن سے پار کروا دیا
    تماشائی اس سپورٹس مین سپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنینڈز ھار کے بھی ھیرو بن چکا تھا

    ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئیے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے”
    صحافی نے پھرپوچھا "مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا”
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میں نے اسے جیتے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی”
    صحافی نے اصرار کیا” مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے”
    فرنینڈز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا
    ” اس جیت کا کیا میرٹ ہوتا؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری ماں میرے بارے میں کیا سوچتی؟”
    اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو کیا سکھانا چاھئیے، بلاشبہ یہ کہ جیتنے کےلئے کوئی بھی ناجائز طریقہ اختیار نہیں کرنا، وہ آپ کی نظر میں جیت ہوسکتی ہے، دنیا کی نظر میں آپ کو بددیانت کے علاوہ کوئی خطاب نہیں ملے گا۔

    ہم اپنے بچوں کو یہ لازمی سکھائیں کہ کامیاب ضرور بنیں کسی کو گرا کر نہیں بلکہ اپنی قابلیت پر اپنی ہمت پر اگر ہم کسی کو گرا کر کامیاب ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک ظلم کی شکل ہے ہم دنیا میں تو کامیاب ہو سکتے لیکن آخرت میں اپنے اعمال کا اللہ پاک کے سامنے جوابدہ ہیں
    اور یہ کیسے ممکن ہے کسی کا حق تلافی کریں ہم سے اُس کے بارے میں پوچھا نہ جائیے۔

    ہمیں تو حکم دیا گیا ہے راستے میں کانٹا پڑا ہو تو اس کو ہٹا کر لوگوں کو تکلیف سے بچانا چاہیے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے۔
    ہم لوگ صرف محض چند دنیاوی مفاد کے لئے لوگوں کی زندگی تباہ کر دیتے. اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ہم کس طرف جا رہے ہیں
    ہم آنے والی نسلوں کو کیا سیکھا رہے ہیں؟
    کیا ہماری سمت درست ہے؟

  • کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں الیکٹریسٹی ایک معمہ بن گئی ہے کراچی والوں کے لئے روز بدلتے ہوئے تجزیات کا تھوڑا سا احوال سننے کی ہمت کریں
    پہلے لائٹ گئی تو ایمرجنسی نکالوں کی سدا لگائی جاتی تھی پھر حالات بدلے ایمرجنسی کی جگہ یو پی ایس نے لے لیں لیکن بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے حالات اپڈیٹ ہونے کے بجائے مزید بدصورت ہوتے گئے اس کے بعد کراچی کے گھروں میں جگہ بنائی جنریٹرز نے جو اپنی سریلی آواز سے پورے محلوں کو راگ بھیروی سناتے سناتے بیچ بیچ میں پٹاخوں کی آواز نکال کر شادی اور شب رات کی بھی یاد دلوایا کرتے تھے زندگی چلتی رہی بجلی گھٹتی رہی اور پھر دور آیا ہو پی ایس سے انویسٹرز کا ڈرائی بیٹریوں نے گھر کو رونقیں بخشی اور گھر میں نئی وائرنگ کے زریعے پنکھے اور ایل ای ڈی بلب الگ سے لگوائے گئے جو لائٹ آنے پر جی بلکل درست سنا لائٹ آنے پر بند کئے جاتے ہیں مگر بجلی تقسیم کرنے والے اب بھی پرانے انجنوں کو رپئیر کرکے کراچی کا جوس نکال رہے ہیں اور کراچی ہے کے اس کا جوس ختم ہی نہیں ہوتا تاکہ جوس نکالنے والوں سے اس کی جان چھوٹ جائے اب ہے 2020 فاسٹ ہوتی اس ڈیجیٹل دنیا میں جدت اور تیزی اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب آیا ہے دور سولر انرجی کا جو بلکل فری تو ہے مگر اس کو بنانے کے آلات بہت مہنگے ہونے کی وجہ سے ہر ایک کی دسترس میں نہیں

    کراچی کی آبادکاری اور مردم شماری کو دیکھا جائے تو اس میں مرغی اور گائے کے برابر فرق ہے یہ اس لئے لکھا ہے کہ قربانی کا مہینہ ہے آپ تمام مسلمانوں کو عید الضحیٰ اور حج کی پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں اچھا تو کراچی پر پھر سے آجائیں بہت بڑا ظلم ہے کہ کراچی کی ابادی کو 1.5 کروڑ دکھایا گیا جو کسی بھی طرح 3.0کروڑ سے کم نہیں مگر چلیں کراچی کا ایک عام سا شہری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈا گیا مگر اس شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو اپنے جنریشن گیپ اور سازوں سامان میں اپگریڈ کرنے کی عقل کیوں نہیں آئی کراچی کی بیشتر سوسائٹی اور فلیٹس کراچی شہر کے بجلی تقسیم کار ادارے کے عین سسٹم میں ہونے کے باوجود سیلف پیمنٹ پر اپنی پی ایم ٹی پرچیز کرکے لگانے پر مجبور ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کراچی میں آباد علاقوں کا سسٹم ڈالنا بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کے معاہدے میں لکھا گیا ہے مگر پھر بھی اپنی بجلی اس ادارے سے خریدنے پر مجبور ہیں کراچی کے لوگ مرتے ہیں بل بھرتے ہیں مگر پتہ نہیں کونسی آسمانی بجلی گرنے کے انتظار میں ہیں کہ وہ گرے تو یہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اب سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اس بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کا نام کیوں نہیں لیا اس تحریر میں تو وجہ یہ ہے کہ یہ اداراہ اپنے ساتھ کراچی لگانے کا مستحق ہی نہیں اس لئے میں کراچی کے شہری ہونے کے ناطے اس کو کراچی کا ادارہ مانتا ہی نہیں یہ ایک بھتہ خوروں کا گروپ ہے جو کراچی سے غیر قانونی بھتہ وصول کررہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کوئی وفاقی اور صوبائی حکومت تیار نہیں ہم کراچی والوں کی نظر اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جیف جسٹس آف پاکستان پر لگیں ہیں شائد ان کو کراچی کی عوام پر مسلط اس بھتہ خوری سے نجات دلانے کی خاطر کوئی اقدام ہوسکے تو ہو ورنہ کراچی والوں کی پانی سیوریج ٹرانسپورٹ روڈ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اور ضرورت زندگی کی چیزوں کا کس کو خیال ہے جو کراچی میں گرمی میں اس بجلی کی 10سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے نام پر بھتے سے ہوگا

  • "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    یہ واقعہ ضیاء الحق مرحوم کے دور اقتدار کا ہے اس میں کچھ شخصیات کے فرضی نام بوجہ لکھوں گا۔ تاکہ کسی کی بھی تحقیر نہ ہو۔
    ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک شخصیت (فرضی نام بابر خان) نے گولڑہ شریف میں وہاں کی مقامی مذہبی شخصیت کے ساتھ بھی بڑا تنازعہ بناۓ رکھا۔ بعد ازاں ایک دلچسپ واقعے کا اہم ملزم بھی تھا۔ اس دور میں راولپنڈی صدر میں ایک تکہ شاپ تھی جہاں امیر ترین شخصیات کھانا کھانے جاتی تھیں۔ ایک دن اس تکہ شاپ کا مالک شاپ کو بند کر کے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تو خیابان سر سید کے علاقے میں ویران سڑک پر ایک انتہائی خوبرو لڑکی کو کھڑا پایا۔ جو بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی گاڑی کو دیکھتے ہی اس نے گاڑی سے لفٹ لینے کے لیے اشارہ کیا۔ شاپ کے مالک نے گاڑی روکی تو لڑکی نے بتایا کہ اسکی گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ اور وہ بہت پریشان ہے۔ سو شاپ کے مالک نے اس لڑکی کو بٹھا لیا۔ راستے میں گپ شپ کے دوران معلوم ہوا کہ موصوفہ شوبز کا حصہ ہیں۔ جب لڑکی اپنے گھر کے پاس پہنچی تو شاپ مالک کو انتہائی محبت سے کافی پینے کی دعوت دی جسے شاپ مالک نے قبول کر لیا۔گھر کے اندر پہنچنے کے بعد لڑکی نے مخصوص حرکات و سکنات شروع کر دیں۔ بہرحال لڑکی کی دعوت گناہ کو شاپ مالک نے قبول کر لیا لیکن شاپ مالک پر مصیبت کے پہاڑ اس وقت ٹوٹے جب دونوں کی برہنہ تصاویر لے لی گئیں۔اس کے بعد شاپ مالک کو چلتا کر دیا گیا۔ ازاں بعد ایک فون کال (یاد رہے کہ اس وقت تک پاکستان میں موبائل دستیاب نہیں تھا) پر شاپ مالک کو دس لاکھ روپے گولڑہ شریف لا کر اپنی تصاویر لینے کا کہا گیا۔ جب موصوف رقم لے کر پہنچے تو بابر خان (فرضی نام) نے رقم بھی لے لی اور شاپ مالک کو زود و کوب کر کے بھیج دیا۔ شاپ مالک کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بالآخر ضیاء الحق مرحوم کے فرزند اعجاز الحق جو ان دنوں دوستوں کے ساتھ اس تکہ شاپ پر بیٹھتے تھے ان کے گوش گزار کیا۔

    اعجاز الحق نے اپنے والد کو صورت حال بتاہی اور پولیس نے بابر خان کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے بعد بابر خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر کے اس وقت کی آرمی کورٹ کو مقدمہ بھیج دیا گیا۔ایک دن جب تکہ شاپ کا مالک دکان بند کر رہا تھا تو اچانک ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔ اس شخص کو دیکھتے ہی شاپ مالک کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ یہ شخص بابر خان تھا جو قانونی طور پر اڈیالہ جیل میں تھا۔ بابر خان نے شاپ مالک کو دھمکی دی اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر تک تو مالک کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے پھر اس نے اعجاز الحق کو فون کر کے ساری صورت حال سے مطلع کیا۔ لیکن اعجاز الحق یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ ایک شخص جیل سے کیسے آسکتا ہے لیکن مالک شاپ کے یقین دلانے پر اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ کو جب فون کر کے پوچھا گیا۔ تو سپرنٹینڈنٹ نے بتایا کہ ملزم تو جیل میں ہے۔ اس بات کا شاپ مالک نے بہت اثر لیا اور تقریباً مقدمے سے دست برداری اختیار کر لی۔ چونکہ پولیس کی ملی بھگت سے ملزم بابر خان سے کچھ برآمد بھی نہیں ہوا تھا سو کچھ ماہ بعد ملزم بری ہو کر گھر آ گیا۔ملزم نے پھر شاپ مالک سے چھبیس لاکھ روپے لے کر تصاویر واپس کیں۔
    اس واقعے کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے
    اگر ایک عام ملزم اس طرح کر سکتا ہے تو کرپٹ مافیا تو کسی حد تک بھی جا سکتی ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہ جائے گی
    جب تک اس کرپٹ سسٹم اور اس میں موجود کالی بھیڑوں کو اپنے انجام تک نہ پہنچایا گیا
    انصاف کا خون ہوتا رہے گا

  • ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ؛تحریر: محمد عدنان شاہد

    ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ؛تحریر: محمد عدنان شاہد

    ھمارا معاشرہ جہاں اور بہت سے مسائل کا شکار ہے وہیں پر ایک مسئلہ اچھے رشتوں کا ہے_
    وا لدین کا اپنے بچوں کے لیے اچھے اور مناسب رشتے تلاش کرنا ایک بڑا صبر آزما اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے_

    سب سے پہلے رشتے کروانے والوں کو پیسے بٹورنے کا موقع ملتا ہے جو ایک بے جوڑ رشتے کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جیسے یہ دنیا کا بہترین جوڑ ہو_ رشتہ دیکھنے کے لیے آنے والوں پر بے جا اسراف کے ذریعے خوب پیسہ لگایا جاتا ہے_ جبکہ آخر میں جواب کے انتظار کی اذيت سے سا رے خاندان کو گزرنا پڑتا ہے_ جس کا سب سے بڑا شکار خصوصی طور پر لڑکیاں ہوتی ہیں_ جو بار بار شو پیس کے طور پر آنے والو ں کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور جن پر سوالوں کی بھرمار کی جاتی ہے_

    خوش قسمتی سے اگر رشتہ پکا ہو جائے تو تحفے تحائف اور رسومات کی صورت میں جو کہ فرائض سے ذیادہ اھم تصور کیے جا تے ہیں بے انتہا پیسہ اڑایا جاتا ہے خواہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے_ الغرض یہ کہ شادی ایک خوبصورت خواب ہونے کے باوجود ایک خوفناک اور ایک تکلیف دہ حقیقت بن چکی ہے_

    آج کل نفسا نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں

    دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم جہیز کو لعنت کو تو کہتے ہیں مگر پھر بھی لینے سے باز نہیں آتے !
    جہیز ایک لعنت ہی نہیں معاشرے کا ناسور ہے جس پر قابو پانا بہت ضروری ہے !!!

    بات ساری احساس کی ہے ، اگر ہم سب اپنی اپنی اصلاح کر لیں تو بہت جلد معاشرے سے یہ لعنت ختم کی جا سکتی ہے اور بہت سی غریب بچیوں کا گھر بس سکتا ہے !

    الله پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے. آمین

  • ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    “جب میں نے کہہ دیا تو تمہیں سمجھ نہیں آتی ایک بار جو کہا میں دن کو دن بولوں تو دن سمجھو، تمہاری عقل ہے یا کہیں بیچ کھائی ہو۔ خبردار آیندہ میرے سامنے آواز اونچی ہوئی”
    “میری بات رد کرنے کی ہمت کیسے کی تم نے؟ مجھے پسند نہیں کہ کوئی میرے فیصلے پر چوں و چرا کرے۔ میری بات پتھر پر لکیر ہے۔”
    “میں اسے کیوں کال کروں؟ میری بلا سے وہ زندہ رہے یا جئے بس یہ میری انا گوارہ نہیں کرتی کہ اس کے پیچھے پیچھے پھروں”
    "بڑا ہی انا پرست ہے, اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا/لاتی۔”
    “میرا مشورہ کو یہ فالتو ہے جو بلاوجہ ہی دوں، اتنا فالتو نہیں میں کہ ہر ایرے غیرے کو منہ لگاؤں۔”
    "جیسے میں یہ کام کر سکتا کسی اور میں تو یہ صلاحیت ہے ہی نہیں اتنے اچھے سے کرنے کی، سب میرے سامنے پانی بھرتے۔”
    اکثر اس قسم ۔کے فقرے ہمیں سننے کو ملتے ہیں، ہم سب ایسے رویے کہ وجہ سے مسلسل حالت تکلیف میں بھی رہتے، لیکن انا پسندی کی عادت کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
    آناہے کیا؟
    خودغرضی اور انا کا کیا رشتہ ہے؟
    انا کی منفیت سے بچنے کے کیا راستے ہیں؟

    عربی لفظ "انا” کا مطلب "میں” واحد متکلم ہے، ہر وہ چیز جو ہم اپنی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنا پر کرتے، اور اس میں دوسرے انسان کے نفع نقصان کے بارے میں نہیں سوچتے تو اس کیفیت قلبی کو اناکہتے۔
    انا بذات خود غلط نہیں ہے، انا پسندی ضرور غلط ہے۔ جب ہم انا کے غلام بننے لگتے تو یہ ایک منفی جذبہ بن جاتی، تب یہ خودغرضی کا لبادہ اوڑھ لیتی۔ اور اصل برائی کی جڑ یہ انا کی غلامی ہی ہے۔ انا کا موجود ہونا تب تک قابل قبول رہتا جب تک اسے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتارہتا، انسانی انہی نے انسان کو بقاء کے مقام پر کھڑا کیا، لیکن جیسے ہی اسے ایک مکمل سکروٹنی کے نظام سے آزاد کرتے تو انا کا سرکش گھوڑا سرپٹ دوڑتا اور خودپسندی اور خودغرضی کا عفریت انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے لگتا، جس کے سائے اتنے دبیز ہوجاتے کہ دوسرے انسان اور ان کی ضروریات اپنے سامنے ہیچ لگنے لگتے۔

    انا کی غلامی میں جانے والے شخص کی زندگی سطحی اور مصنوعی ہونے لگتی، اسے ہر آن اپنی کھوکھلی شخصیت کو برقرار رکھنے کے لئے کھوکھلے اور جھوٹے رویوں کا سہارا لیناپڑتا، اور نتیجتا” تنہائی کا شکار ہونے لگتا۔ انا پسند اور خودغرض انسان کے لئے اس کی ذات کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی کہ وہ اذیت پسند ہونے لگتا، بلاوجہ کاغصہ دراصل اس کی کمزور شخصیت کو کیموفلاج کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہوتا، لیکن اس کی وجہ سے ہر محبت کرنے والا اس سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا۔
    انکی پیروی کرنے والے ہی تھے جنہوں نے ربوبیت سے انکار اور انا الحق کا نعرہ بلند کرنے والے بن گئے، ایک اللہ کی نا ماننے والے ہوئے اور منکرین ہونے کے ساتھ ہی اپنی خودپسندی کے زعم میں فرعون و نمرود بن کر خدائی تک کے دعوے کربیٹھے۔ زمینی تخت نشین اپنی انا کے ہاتھوں مجبور عام لوگوں کو روانسان بھی نہیں گردانتے، تو یہ انا جب اک بیماری کی شکل اختیار کر لے تب ہی خدائے عزوجل کی طرف سے ان زمینی خداؤں پر عذاب الٰہی کی صورت کچھ نا کچھ ایسااتارا جاتا جو نسل انسانی کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اے حضرت انسان، اگر تم خود کو سپرد کر دو گے اس کے جو میری چاہت یے،تو میں بخشدوں گا تجھ کو جو تیری چاہت ہے۔

    حتمی فلاح کا نسخہ کیمیا یہی ہے کہ انکے سرکش گھوڑے کو لگام ڈالی جائے اوراسے خود غرضیوں خود پسندی کی راہ تک جشنے سے روکا جائے تاکہ انسانیت کی روح پنپ سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان دوسرے انسان کو جینے کا حق دینے پر راضی ہو جائے گا، جب وہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ پوری ایمانداری سے فرائض کی ادائیگی پر بھی کام کرے۔ کہ ایک کے فرائض ہی دوسرے کے حقوق ہیں۔
    اسلامی نظام معاشرت ایسے تمام منفی رجحانات کا حل دیتا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اس معاشرت کو اختیار کریں جس میں اناتو قابل قبول ہے، انا پسندی و خودنمائی نہیں۔

    @humerafs

  • روڈ ایکسیڈینٹ  کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    روڈ ایکسیڈینٹ کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں روڈ حادثے کے شکار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتے ہیں یا معزور ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے یا پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو روڈ سیفٹی کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے
    پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر روڈ حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس میں ڈرائیورز کی غفلت سب سے نمایاں ہے۔ ڈرائیورز کی غفلت اور جلد بازی کے ساتھ غیر تربیت یافتہ ڈرائیونگ ہے

    مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر آۓ روز ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں

    👈 گاڑی چلانے کی مہارت سکھانے والے اداروں کا فقدان
    👈 ناتجربہ کار ڈرائیور
    👈 جعلی لائسنس کی روک تھام نہ ہونا
    👈مسلسل کئی گھنٹوں تک گاڑی چلانا
    👈 ملک بھرمیں یکساں لائسنس کا اجراء نہ ہونا
    👈 ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری
    👈 موبائل فون کا استعمال
    👈 سڑکوں پر سفید اور زرد لائنوں کا نہ ہونا
    👈 مسافر بسوں میں سیٹ بیلٹ کا نہ ہونا
    👈 گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ نہ ہونا
    👈مسافر بسوں میں ہنگامی دروازہ نہ ہونا
    👈 گاڑی میں حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا
    👈 نشہ آور چیزوں کا استعمال
    👈 پرانی گاڑیوں کا بےدریغ استعمال

    چند ایک وجوہات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
    ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی ، گاڑی میں خرابی ، اوورلوڈنگ ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہے۔لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ ہے۔ 80 سے 90 فیصد ٹریفک حادثات غیر محتاط رویے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں ، مگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے قطعاً تیارنہیں، اوریہ ہی ٹریفک کے مسائل اور حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔جب تک ہم اپنے رویوں کو درست نہیں کریں گے اس وقت ٹریفک حادثات میں کمی ممکن نہیں۔
    جبکہ ٹریفک حادثات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا کہ گاڑیوں کے لیے تو موٹر وہیکلز کے قوانین موجود ہیں مگر آہستہ چلنے والی گاڑیاں مثلاً گدھا و بیل گاڑی کے لئے کوئی قانون سازی نہیں ہے، اس وجہ سے روڈ استعمال کرنے والے یہ لوگ قانون سے نہ صرف بالا تر ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات بھی ہیں۔ ان افراد کو تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے ، تاکہ ان کو روڈ استعمال کرنے سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوسکے

    دنیا بھرمیں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ اسکول بنے ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے کا خواہشمند ہر شخص کئی دنوں تک اسکول جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کی مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کا نظام ہونے کے برابر ہے، اکثر لوگ اپنے رشتداروں یا دوستوں سے گاڑی چلانا سکیھ لیتے ہیں اور ایسا کرنا جرم بھی نہیں سمجھتے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مخصوص ادارے ہی ڈرائیونگ سکھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
    حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں اس قسم کا نظام متعارف کرائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے سخت سے سخت سزا مقرر کرے۔ ڈرائیونگ اسکول بنانے سے ملک میں سیکڑوں افراد کو روزگار مہیا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تربیت یافتہ ڈرائیور میسر ہونگے

    پاکستان کے ہرصوبے میں الگ الگ قسم کے لائسنس کارڈ جاری کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کارڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لائسنس کارڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح مرکز اسلام آباد سے ہی جاری کیا جائے تاکہ جعلی کارڈ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکے۔

    اسی وجہ سے پاکستان میں روڈ ایکسیڈینٹ کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ہے جس کے برعکس پاکستان کی گورنمنٹ کا کام سست روی کا شکار ہوتا ہے باہر کے ممالک میں قانون سازی کرکے اس پہ عمل پیرا کروانا گورمنٹ کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ہم سب کی یہی کوشش ہوگی ہے موجودہ گورنمنٹ اس پر توجہ دے تاکہ بہتری کیلئے بہتر اقدام کرکے لوگوں کو ہلاکتوں سے بچاۓ
    @JingoAlpha