Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    ‏ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر:عامر سہیل

    معاشرے میں ہم کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ نہیں سکتے جبکہ انسانیت کا کام دوسروں کی مدد ہے
    ہم اللہ کی رضا کی خاطر انسانیت کی مدد کرنی چاہیے اور دوسروں کی کامیابی میں خوش ہونا چاہیے نا کہ کسی کو خود سے آگے نکلتا دیکھ کر حسد کرنا چاہیے
    دوسروں کی خوشی میں ہونے سے یقیناََ اللہ ہمیں بھی خوشی سے نوازتا ہے۔

    دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے، اس کے بالکل پیچھے سپین کا رنر ایون فرنینڈز دوڑ رہا تھا اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی کی دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی، مطیع اس کی لینگوئج نہیں سمجھتا تھا اس لئیے اسے بالکل سمجھ نہ آئی، یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈز اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کے فنش لائن سے پار کروا دیا
    تماشائی اس سپورٹس مین سپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنینڈز ھار کے بھی ھیرو بن چکا تھا

    ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئیے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے”
    صحافی نے پھرپوچھا "مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا”
    فرنینڈز نے جواب دیا
    "میں نے اسے جیتے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی”
    صحافی نے اصرار کیا” مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے”
    فرنینڈز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا
    ” اس جیت کا کیا میرٹ ہوتا؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری ماں میرے بارے میں کیا سوچتی؟”
    اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو کیا سکھانا چاھئیے، بلاشبہ یہ کہ جیتنے کےلئے کوئی بھی ناجائز طریقہ اختیار نہیں کرنا، وہ آپ کی نظر میں جیت ہوسکتی ہے، دنیا کی نظر میں آپ کو بددیانت کے علاوہ کوئی خطاب نہیں ملے گا۔

    ہم اپنے بچوں کو یہ لازمی سکھائیں کہ کامیاب ضرور بنیں کسی کو گرا کر نہیں بلکہ اپنی قابلیت پر اپنی ہمت پر اگر ہم کسی کو گرا کر کامیاب ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک ظلم کی شکل ہے ہم دنیا میں تو کامیاب ہو سکتے لیکن آخرت میں اپنے اعمال کا اللہ پاک کے سامنے جوابدہ ہیں
    اور یہ کیسے ممکن ہے کسی کا حق تلافی کریں ہم سے اُس کے بارے میں پوچھا نہ جائیے۔

    ہمیں تو حکم دیا گیا ہے راستے میں کانٹا پڑا ہو تو اس کو ہٹا کر لوگوں کو تکلیف سے بچانا چاہیے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے۔
    ہم لوگ صرف محض چند دنیاوی مفاد کے لئے لوگوں کی زندگی تباہ کر دیتے. اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ہم کس طرف جا رہے ہیں
    ہم آنے والی نسلوں کو کیا سیکھا رہے ہیں؟
    کیا ہماری سمت درست ہے؟

  • کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں الیکٹریسٹی ایک معمہ بن گئی ہے کراچی والوں کے لئے روز بدلتے ہوئے تجزیات کا تھوڑا سا احوال سننے کی ہمت کریں
    پہلے لائٹ گئی تو ایمرجنسی نکالوں کی سدا لگائی جاتی تھی پھر حالات بدلے ایمرجنسی کی جگہ یو پی ایس نے لے لیں لیکن بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے حالات اپڈیٹ ہونے کے بجائے مزید بدصورت ہوتے گئے اس کے بعد کراچی کے گھروں میں جگہ بنائی جنریٹرز نے جو اپنی سریلی آواز سے پورے محلوں کو راگ بھیروی سناتے سناتے بیچ بیچ میں پٹاخوں کی آواز نکال کر شادی اور شب رات کی بھی یاد دلوایا کرتے تھے زندگی چلتی رہی بجلی گھٹتی رہی اور پھر دور آیا ہو پی ایس سے انویسٹرز کا ڈرائی بیٹریوں نے گھر کو رونقیں بخشی اور گھر میں نئی وائرنگ کے زریعے پنکھے اور ایل ای ڈی بلب الگ سے لگوائے گئے جو لائٹ آنے پر جی بلکل درست سنا لائٹ آنے پر بند کئے جاتے ہیں مگر بجلی تقسیم کرنے والے اب بھی پرانے انجنوں کو رپئیر کرکے کراچی کا جوس نکال رہے ہیں اور کراچی ہے کے اس کا جوس ختم ہی نہیں ہوتا تاکہ جوس نکالنے والوں سے اس کی جان چھوٹ جائے اب ہے 2020 فاسٹ ہوتی اس ڈیجیٹل دنیا میں جدت اور تیزی اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب آیا ہے دور سولر انرجی کا جو بلکل فری تو ہے مگر اس کو بنانے کے آلات بہت مہنگے ہونے کی وجہ سے ہر ایک کی دسترس میں نہیں

    کراچی کی آبادکاری اور مردم شماری کو دیکھا جائے تو اس میں مرغی اور گائے کے برابر فرق ہے یہ اس لئے لکھا ہے کہ قربانی کا مہینہ ہے آپ تمام مسلمانوں کو عید الضحیٰ اور حج کی پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں اچھا تو کراچی پر پھر سے آجائیں بہت بڑا ظلم ہے کہ کراچی کی ابادی کو 1.5 کروڑ دکھایا گیا جو کسی بھی طرح 3.0کروڑ سے کم نہیں مگر چلیں کراچی کا ایک عام سا شہری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈا گیا مگر اس شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو اپنے جنریشن گیپ اور سازوں سامان میں اپگریڈ کرنے کی عقل کیوں نہیں آئی کراچی کی بیشتر سوسائٹی اور فلیٹس کراچی شہر کے بجلی تقسیم کار ادارے کے عین سسٹم میں ہونے کے باوجود سیلف پیمنٹ پر اپنی پی ایم ٹی پرچیز کرکے لگانے پر مجبور ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کراچی میں آباد علاقوں کا سسٹم ڈالنا بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کے معاہدے میں لکھا گیا ہے مگر پھر بھی اپنی بجلی اس ادارے سے خریدنے پر مجبور ہیں کراچی کے لوگ مرتے ہیں بل بھرتے ہیں مگر پتہ نہیں کونسی آسمانی بجلی گرنے کے انتظار میں ہیں کہ وہ گرے تو یہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اب سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اس بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کا نام کیوں نہیں لیا اس تحریر میں تو وجہ یہ ہے کہ یہ اداراہ اپنے ساتھ کراچی لگانے کا مستحق ہی نہیں اس لئے میں کراچی کے شہری ہونے کے ناطے اس کو کراچی کا ادارہ مانتا ہی نہیں یہ ایک بھتہ خوروں کا گروپ ہے جو کراچی سے غیر قانونی بھتہ وصول کررہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کوئی وفاقی اور صوبائی حکومت تیار نہیں ہم کراچی والوں کی نظر اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جیف جسٹس آف پاکستان پر لگیں ہیں شائد ان کو کراچی کی عوام پر مسلط اس بھتہ خوری سے نجات دلانے کی خاطر کوئی اقدام ہوسکے تو ہو ورنہ کراچی والوں کی پانی سیوریج ٹرانسپورٹ روڈ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اور ضرورت زندگی کی چیزوں کا کس کو خیال ہے جو کراچی میں گرمی میں اس بجلی کی 10سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے نام پر بھتے سے ہوگا

  • "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    "چھلاوا ملزم بالمقابل آمر "تحریر: حبیب الرحمن

    یہ واقعہ ضیاء الحق مرحوم کے دور اقتدار کا ہے اس میں کچھ شخصیات کے فرضی نام بوجہ لکھوں گا۔ تاکہ کسی کی بھی تحقیر نہ ہو۔
    ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک شخصیت (فرضی نام بابر خان) نے گولڑہ شریف میں وہاں کی مقامی مذہبی شخصیت کے ساتھ بھی بڑا تنازعہ بناۓ رکھا۔ بعد ازاں ایک دلچسپ واقعے کا اہم ملزم بھی تھا۔ اس دور میں راولپنڈی صدر میں ایک تکہ شاپ تھی جہاں امیر ترین شخصیات کھانا کھانے جاتی تھیں۔ ایک دن اس تکہ شاپ کا مالک شاپ کو بند کر کے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تو خیابان سر سید کے علاقے میں ویران سڑک پر ایک انتہائی خوبرو لڑکی کو کھڑا پایا۔ جو بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی گاڑی کو دیکھتے ہی اس نے گاڑی سے لفٹ لینے کے لیے اشارہ کیا۔ شاپ کے مالک نے گاڑی روکی تو لڑکی نے بتایا کہ اسکی گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ اور وہ بہت پریشان ہے۔ سو شاپ کے مالک نے اس لڑکی کو بٹھا لیا۔ راستے میں گپ شپ کے دوران معلوم ہوا کہ موصوفہ شوبز کا حصہ ہیں۔ جب لڑکی اپنے گھر کے پاس پہنچی تو شاپ مالک کو انتہائی محبت سے کافی پینے کی دعوت دی جسے شاپ مالک نے قبول کر لیا۔گھر کے اندر پہنچنے کے بعد لڑکی نے مخصوص حرکات و سکنات شروع کر دیں۔ بہرحال لڑکی کی دعوت گناہ کو شاپ مالک نے قبول کر لیا لیکن شاپ مالک پر مصیبت کے پہاڑ اس وقت ٹوٹے جب دونوں کی برہنہ تصاویر لے لی گئیں۔اس کے بعد شاپ مالک کو چلتا کر دیا گیا۔ ازاں بعد ایک فون کال (یاد رہے کہ اس وقت تک پاکستان میں موبائل دستیاب نہیں تھا) پر شاپ مالک کو دس لاکھ روپے گولڑہ شریف لا کر اپنی تصاویر لینے کا کہا گیا۔ جب موصوف رقم لے کر پہنچے تو بابر خان (فرضی نام) نے رقم بھی لے لی اور شاپ مالک کو زود و کوب کر کے بھیج دیا۔ شاپ مالک کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بالآخر ضیاء الحق مرحوم کے فرزند اعجاز الحق جو ان دنوں دوستوں کے ساتھ اس تکہ شاپ پر بیٹھتے تھے ان کے گوش گزار کیا۔

    اعجاز الحق نے اپنے والد کو صورت حال بتاہی اور پولیس نے بابر خان کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے بعد بابر خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر کے اس وقت کی آرمی کورٹ کو مقدمہ بھیج دیا گیا۔ایک دن جب تکہ شاپ کا مالک دکان بند کر رہا تھا تو اچانک ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔ اس شخص کو دیکھتے ہی شاپ مالک کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ یہ شخص بابر خان تھا جو قانونی طور پر اڈیالہ جیل میں تھا۔ بابر خان نے شاپ مالک کو دھمکی دی اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر تک تو مالک کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے پھر اس نے اعجاز الحق کو فون کر کے ساری صورت حال سے مطلع کیا۔ لیکن اعجاز الحق یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ ایک شخص جیل سے کیسے آسکتا ہے لیکن مالک شاپ کے یقین دلانے پر اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ کو جب فون کر کے پوچھا گیا۔ تو سپرنٹینڈنٹ نے بتایا کہ ملزم تو جیل میں ہے۔ اس بات کا شاپ مالک نے بہت اثر لیا اور تقریباً مقدمے سے دست برداری اختیار کر لی۔ چونکہ پولیس کی ملی بھگت سے ملزم بابر خان سے کچھ برآمد بھی نہیں ہوا تھا سو کچھ ماہ بعد ملزم بری ہو کر گھر آ گیا۔ملزم نے پھر شاپ مالک سے چھبیس لاکھ روپے لے کر تصاویر واپس کیں۔
    اس واقعے کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے
    اگر ایک عام ملزم اس طرح کر سکتا ہے تو کرپٹ مافیا تو کسی حد تک بھی جا سکتی ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہ جائے گی
    جب تک اس کرپٹ سسٹم اور اس میں موجود کالی بھیڑوں کو اپنے انجام تک نہ پہنچایا گیا
    انصاف کا خون ہوتا رہے گا

  • ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ؛تحریر: محمد عدنان شاہد

    ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ؛تحریر: محمد عدنان شاہد

    ھمارا معاشرہ جہاں اور بہت سے مسائل کا شکار ہے وہیں پر ایک مسئلہ اچھے رشتوں کا ہے_
    وا لدین کا اپنے بچوں کے لیے اچھے اور مناسب رشتے تلاش کرنا ایک بڑا صبر آزما اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے_

    سب سے پہلے رشتے کروانے والوں کو پیسے بٹورنے کا موقع ملتا ہے جو ایک بے جوڑ رشتے کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جیسے یہ دنیا کا بہترین جوڑ ہو_ رشتہ دیکھنے کے لیے آنے والوں پر بے جا اسراف کے ذریعے خوب پیسہ لگایا جاتا ہے_ جبکہ آخر میں جواب کے انتظار کی اذيت سے سا رے خاندان کو گزرنا پڑتا ہے_ جس کا سب سے بڑا شکار خصوصی طور پر لڑکیاں ہوتی ہیں_ جو بار بار شو پیس کے طور پر آنے والو ں کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور جن پر سوالوں کی بھرمار کی جاتی ہے_

    خوش قسمتی سے اگر رشتہ پکا ہو جائے تو تحفے تحائف اور رسومات کی صورت میں جو کہ فرائض سے ذیادہ اھم تصور کیے جا تے ہیں بے انتہا پیسہ اڑایا جاتا ہے خواہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے_ الغرض یہ کہ شادی ایک خوبصورت خواب ہونے کے باوجود ایک خوفناک اور ایک تکلیف دہ حقیقت بن چکی ہے_

    آج کل نفسا نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں

    دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم جہیز کو لعنت کو تو کہتے ہیں مگر پھر بھی لینے سے باز نہیں آتے !
    جہیز ایک لعنت ہی نہیں معاشرے کا ناسور ہے جس پر قابو پانا بہت ضروری ہے !!!

    بات ساری احساس کی ہے ، اگر ہم سب اپنی اپنی اصلاح کر لیں تو بہت جلد معاشرے سے یہ لعنت ختم کی جا سکتی ہے اور بہت سی غریب بچیوں کا گھر بس سکتا ہے !

    الله پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے. آمین

  • ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    “جب میں نے کہہ دیا تو تمہیں سمجھ نہیں آتی ایک بار جو کہا میں دن کو دن بولوں تو دن سمجھو، تمہاری عقل ہے یا کہیں بیچ کھائی ہو۔ خبردار آیندہ میرے سامنے آواز اونچی ہوئی”
    “میری بات رد کرنے کی ہمت کیسے کی تم نے؟ مجھے پسند نہیں کہ کوئی میرے فیصلے پر چوں و چرا کرے۔ میری بات پتھر پر لکیر ہے۔”
    “میں اسے کیوں کال کروں؟ میری بلا سے وہ زندہ رہے یا جئے بس یہ میری انا گوارہ نہیں کرتی کہ اس کے پیچھے پیچھے پھروں”
    "بڑا ہی انا پرست ہے, اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا/لاتی۔”
    “میرا مشورہ کو یہ فالتو ہے جو بلاوجہ ہی دوں، اتنا فالتو نہیں میں کہ ہر ایرے غیرے کو منہ لگاؤں۔”
    "جیسے میں یہ کام کر سکتا کسی اور میں تو یہ صلاحیت ہے ہی نہیں اتنے اچھے سے کرنے کی، سب میرے سامنے پانی بھرتے۔”
    اکثر اس قسم ۔کے فقرے ہمیں سننے کو ملتے ہیں، ہم سب ایسے رویے کہ وجہ سے مسلسل حالت تکلیف میں بھی رہتے، لیکن انا پسندی کی عادت کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
    آناہے کیا؟
    خودغرضی اور انا کا کیا رشتہ ہے؟
    انا کی منفیت سے بچنے کے کیا راستے ہیں؟

    عربی لفظ "انا” کا مطلب "میں” واحد متکلم ہے، ہر وہ چیز جو ہم اپنی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنا پر کرتے، اور اس میں دوسرے انسان کے نفع نقصان کے بارے میں نہیں سوچتے تو اس کیفیت قلبی کو اناکہتے۔
    انا بذات خود غلط نہیں ہے، انا پسندی ضرور غلط ہے۔ جب ہم انا کے غلام بننے لگتے تو یہ ایک منفی جذبہ بن جاتی، تب یہ خودغرضی کا لبادہ اوڑھ لیتی۔ اور اصل برائی کی جڑ یہ انا کی غلامی ہی ہے۔ انا کا موجود ہونا تب تک قابل قبول رہتا جب تک اسے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتارہتا، انسانی انہی نے انسان کو بقاء کے مقام پر کھڑا کیا، لیکن جیسے ہی اسے ایک مکمل سکروٹنی کے نظام سے آزاد کرتے تو انا کا سرکش گھوڑا سرپٹ دوڑتا اور خودپسندی اور خودغرضی کا عفریت انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے لگتا، جس کے سائے اتنے دبیز ہوجاتے کہ دوسرے انسان اور ان کی ضروریات اپنے سامنے ہیچ لگنے لگتے۔

    انا کی غلامی میں جانے والے شخص کی زندگی سطحی اور مصنوعی ہونے لگتی، اسے ہر آن اپنی کھوکھلی شخصیت کو برقرار رکھنے کے لئے کھوکھلے اور جھوٹے رویوں کا سہارا لیناپڑتا، اور نتیجتا” تنہائی کا شکار ہونے لگتا۔ انا پسند اور خودغرض انسان کے لئے اس کی ذات کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی کہ وہ اذیت پسند ہونے لگتا، بلاوجہ کاغصہ دراصل اس کی کمزور شخصیت کو کیموفلاج کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہوتا، لیکن اس کی وجہ سے ہر محبت کرنے والا اس سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا۔
    انکی پیروی کرنے والے ہی تھے جنہوں نے ربوبیت سے انکار اور انا الحق کا نعرہ بلند کرنے والے بن گئے، ایک اللہ کی نا ماننے والے ہوئے اور منکرین ہونے کے ساتھ ہی اپنی خودپسندی کے زعم میں فرعون و نمرود بن کر خدائی تک کے دعوے کربیٹھے۔ زمینی تخت نشین اپنی انا کے ہاتھوں مجبور عام لوگوں کو روانسان بھی نہیں گردانتے، تو یہ انا جب اک بیماری کی شکل اختیار کر لے تب ہی خدائے عزوجل کی طرف سے ان زمینی خداؤں پر عذاب الٰہی کی صورت کچھ نا کچھ ایسااتارا جاتا جو نسل انسانی کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اے حضرت انسان، اگر تم خود کو سپرد کر دو گے اس کے جو میری چاہت یے،تو میں بخشدوں گا تجھ کو جو تیری چاہت ہے۔

    حتمی فلاح کا نسخہ کیمیا یہی ہے کہ انکے سرکش گھوڑے کو لگام ڈالی جائے اوراسے خود غرضیوں خود پسندی کی راہ تک جشنے سے روکا جائے تاکہ انسانیت کی روح پنپ سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان دوسرے انسان کو جینے کا حق دینے پر راضی ہو جائے گا، جب وہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ پوری ایمانداری سے فرائض کی ادائیگی پر بھی کام کرے۔ کہ ایک کے فرائض ہی دوسرے کے حقوق ہیں۔
    اسلامی نظام معاشرت ایسے تمام منفی رجحانات کا حل دیتا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اس معاشرت کو اختیار کریں جس میں اناتو قابل قبول ہے، انا پسندی و خودنمائی نہیں۔

    @humerafs

  • روڈ ایکسیڈینٹ  کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    روڈ ایکسیڈینٹ کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں روڈ حادثے کے شکار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتے ہیں یا معزور ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے یا پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو روڈ سیفٹی کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے
    پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر روڈ حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس میں ڈرائیورز کی غفلت سب سے نمایاں ہے۔ ڈرائیورز کی غفلت اور جلد بازی کے ساتھ غیر تربیت یافتہ ڈرائیونگ ہے

    مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر آۓ روز ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں

    👈 گاڑی چلانے کی مہارت سکھانے والے اداروں کا فقدان
    👈 ناتجربہ کار ڈرائیور
    👈 جعلی لائسنس کی روک تھام نہ ہونا
    👈مسلسل کئی گھنٹوں تک گاڑی چلانا
    👈 ملک بھرمیں یکساں لائسنس کا اجراء نہ ہونا
    👈 ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری
    👈 موبائل فون کا استعمال
    👈 سڑکوں پر سفید اور زرد لائنوں کا نہ ہونا
    👈 مسافر بسوں میں سیٹ بیلٹ کا نہ ہونا
    👈 گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ نہ ہونا
    👈مسافر بسوں میں ہنگامی دروازہ نہ ہونا
    👈 گاڑی میں حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا
    👈 نشہ آور چیزوں کا استعمال
    👈 پرانی گاڑیوں کا بےدریغ استعمال

    چند ایک وجوہات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
    ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی ، گاڑی میں خرابی ، اوورلوڈنگ ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہے۔لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ ہے۔ 80 سے 90 فیصد ٹریفک حادثات غیر محتاط رویے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں ، مگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے قطعاً تیارنہیں، اوریہ ہی ٹریفک کے مسائل اور حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔جب تک ہم اپنے رویوں کو درست نہیں کریں گے اس وقت ٹریفک حادثات میں کمی ممکن نہیں۔
    جبکہ ٹریفک حادثات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا کہ گاڑیوں کے لیے تو موٹر وہیکلز کے قوانین موجود ہیں مگر آہستہ چلنے والی گاڑیاں مثلاً گدھا و بیل گاڑی کے لئے کوئی قانون سازی نہیں ہے، اس وجہ سے روڈ استعمال کرنے والے یہ لوگ قانون سے نہ صرف بالا تر ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات بھی ہیں۔ ان افراد کو تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے ، تاکہ ان کو روڈ استعمال کرنے سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوسکے

    دنیا بھرمیں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ اسکول بنے ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے کا خواہشمند ہر شخص کئی دنوں تک اسکول جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کی مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کا نظام ہونے کے برابر ہے، اکثر لوگ اپنے رشتداروں یا دوستوں سے گاڑی چلانا سکیھ لیتے ہیں اور ایسا کرنا جرم بھی نہیں سمجھتے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مخصوص ادارے ہی ڈرائیونگ سکھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
    حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں اس قسم کا نظام متعارف کرائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے سخت سے سخت سزا مقرر کرے۔ ڈرائیونگ اسکول بنانے سے ملک میں سیکڑوں افراد کو روزگار مہیا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تربیت یافتہ ڈرائیور میسر ہونگے

    پاکستان کے ہرصوبے میں الگ الگ قسم کے لائسنس کارڈ جاری کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کارڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لائسنس کارڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح مرکز اسلام آباد سے ہی جاری کیا جائے تاکہ جعلی کارڈ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکے۔

    اسی وجہ سے پاکستان میں روڈ ایکسیڈینٹ کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ہے جس کے برعکس پاکستان کی گورنمنٹ کا کام سست روی کا شکار ہوتا ہے باہر کے ممالک میں قانون سازی کرکے اس پہ عمل پیرا کروانا گورمنٹ کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ہم سب کی یہی کوشش ہوگی ہے موجودہ گورنمنٹ اس پر توجہ دے تاکہ بہتری کیلئے بہتر اقدام کرکے لوگوں کو ہلاکتوں سے بچاۓ
    @JingoAlpha

  • افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    گزشتہ کچھ دہائیوں سے افغانستان کے حالات میں نشیب و فراز دیکھنے کو ملا ہے۔ خاص کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کے بعد افغانستان میں امریکی جارحیت  نے خطے میں جیوگرافیائی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی اثرات مرتب کئے ہیں۔

    افغانستان روس کی طرح امریکہ کے لیے  قبرستان ثابت ہوا اور  شکست خوردہ ھو کر یہاں سے راتوں رات تاجکستان کے راستے سے رہ فرار اختیار کررہا ہے۔

    امریکی آمد کی طرح اسکی یہاں سے روانگی بھی خطے کے حالات کو نیا روخ دے گی۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھی اس تبدیلی کو محسوس کرینگے ۔خاص کر پاکستان ایران اور انڈیا کے اندر اس تبدیلی کے جھٹکے محسوس کئے جائیں گے۔
    انڈیا اس وقت بہت "شش و پنج”  میں مبتلا ہے ایک طرف افغانستان میں انڈین انویسٹمنٹ ڈوب رہی ہے اور "ڈوبتے ہوۓ کو تنکے کا سہرا” کے مصداق انڈیا افغان حکومت کو بچانے کی "تگ و دو "میں لگا ہوا ہے اور دوسری طرف افغان طالبان سے ملنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔ مگر اب تک منہ کی کھانی پڑی ہے مستقبل میں بھی ایسا لگ رہا کہ انڈیا کا رول امریکہ کے ساتھ افغانستان سے ختم ہورہا ہے اور اب انڈیا کو افغانستان میں پاکستان مخالف سازشیں کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

    رہی بات پاکستان کی تو وہ بھی اس تبدیلی کو ماضی کی طرح پھر سے محسوس کرے گا۔ افغانستان سے امریکی روانگی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی ایک نیا موڑ آئے گا۔پاکستان کو امریکہ کے جانے کے بعد ایک بڑا چیلنج کا سامنا ہے کہ کسی طرح افغانستان میں امن قائم ہو اور خانہ جنگی نہ ہو ۔
    اگر خدا نہ خواستہ افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس کے برے اثرات یقینی طور پر ماضی کی طرح پاکستان پہ مرتب ہونگے اسلیے پاکستان مستحکم  اور پرامن افغانستان کے لئے ہر ممکن کوشیش کرے گا۔

    پروفیسر عمیر انس کہتے ہیں کہ "ایران کے پاس ایک نیا صدر ہے اور انڈیا اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی نئی حکومت کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد کے بعد ایران پر کچھ پابندیاں ہٹائے جانے کی امید ہے اور ممکن ہے کہ انڈیا اس سے فائدہ اٹھانا چاہے گا۔”
    افغانستان کے حالات نازک دور سے گزر رہے  ہیں خطے کا ہر ملک آنے والے حالات سے اضطراب کی کفیت میں دیکھائی دے رہا ہیں۔
    اب خطے کے دیگر ممالک کو چاہئے کہ ایک بلاک بنا کر چین روس کے ساتھ ملکر افغانستان کے امن کے لئے کوشش کریں نہیں تو یہ خانہ جنگی کے منفی اثرات پورے خطے کے ممالک پر ہونگے۔ اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر ہے۔

  • ‏غیبت ،ایک ناجاٸز اور قبیح گناہ .تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏غیبت ،ایک ناجاٸز اور قبیح گناہ .تحریر حمزہ احمد صدیقی

    آج ہمارے معاشرہ میں جو برائیاں،خرابیاں اور تباہ کاریاں سرکش عفریت کی طرح سر اٹھائے کھڑی ہیں ان کا شمار کرنا ناممکن ہے مگر غیبت ایک ایسا ناجاٸز ، قبیح گناہ ہے ،جس نے ہمارے معاشرہ کا امن اور سکون بربادکر دیاہے۔ اس سنگین گناہ کی قباحت و شناعت قران و سنت کے اندر واضح ہے مگر افسوس ہے کہ آج کی محفلیں اس گناہِ بے لذت سے آباد ہیں ۔

    مکرمی! غیبت کیا ہے ؟ کسی کے پس پشت اس کے کسی ایسے عیب کوذکر کرناجواس میں موجود بھی ہواورمقصداس کی برائی ہو اوراگر اسے اس بارے میں معلوم ہوجائے تو اسے ناگوار گزرے یہ غیبت ہے

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺنے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہ اجمعین نے کہا ﷲ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: اپنے بھائی کے اس عیب کو بیان کرے کہ جس کو وہ ناپسند سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر وہ عیب واقعی اس بھائی میں ہو جو میں بیان کر رہا ہوں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا : اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو وہ تبھی تو غیبت ہے اگر اس میں نہ ہو تو وہ بہتان ہے۔
    (صحیح مسلم)

    قرآن نے اس گناہ کو مردہ انسان کے گوشت کھانے سے توصیف کیا ہے اور روایات میں اس کا گناہ زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید کہا گیا ہے، غیبت کا شمار بھی گناہ کبیرہ میں ہی آتا ہے اور اس حوالہ سے اس قدر ممانت ہے کہ عام زندگی میں اس کا تصور بھی محال ہے، اللہ اور اس کے محبوبؐ نے غیبت کو پسند نہیں کیا اورغیبت کا شمار بھی گناہ کبیرہ میں ہی آتا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو ﷲ سے، بے شک ﷲ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔ (الحجرات)

    یہاں بہت واضح ہے کہ اللہ تعالی نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے اور غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے اور جگہ ارشاد ربانی ہے کہ بڑی خرابی ہے ایسے شخص کی جو غیبت ٹٹولنے والا غیبت کرنے والا ہو، سوۃ الحمزہ، آیت نمبر 1،

     خاتم النبیین ﷺکا فرمانِ ہے:معراج کی رات ميں ايسی عورَتوں اور مَردوں کے پاس سے گزرا جو اپنی چھاتیوں کے ساتھ لٹک رہے تھے، تو ميں نے پوچھا:اے جبرئيل! يہ کون لوگ ہيں؟ عرض کی:يہ منہ پر عيب لگانے والے اور پيٹھ پيچھے برائی کر نے والے ہیں

    اگر ذرا اپنی محفلوں، مجلسوں پر نظر ڈالیے! کس قدر اس گناہ کا رواج ہو چکا ہے اور ہم دن رات اس گناہ میں مبتلا ہیں غیبت کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حقوق العباد کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک بندہ اس کو معاف نہ کرے اس وقت تک یہ معاف نہ ہوگا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں پر لعنت وملامت کی گئی ہے جوایک دوسرے کی غیبت اور چغلخوری کرتے ہیں ،اور ادھر کی بات ادھر پھیلایا کرتے ہیں یا ایک دوسرے کی راز کو فاش کرکے سماج میں فتنہ وفساد پھیلانے کا ذریعہ وسبب بنتے ہیں نیز آپسی دوستانہ و یارانہ تعلقات کو خراب کرتے نیز ایسا کرکے معاشرے کے اندر برائیوں ، بےحیائیوں اور فحاشیوں کو عروج دیتے ہیں

    آج کل لوگ دعاؤں میں کم اور
    غیبتوں میں زیادہ یاد رکھتے 

    میرے بھائیو! حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کا محافظ ہے مگر افسوس!ایسا نازک دور آ گیا ہے کہ اب اکثر مسلمان ہی دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کے پیچھے پڑا ہوا ہے جی بھر کر غیبتیں کررہا ہے اور چغلیاں کھا رہا ہے غیبت میں مرتکب ہونے کے علاوہ، اس کو سننا بھی حرام ہے جس مجلس میں کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو گفتگو کا رخ بدلنے کی کوشش کریں کوئی دوسرا موضوع چھیڑ دیں کیونکہ غیبت کرنے والا دوقسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے

    ایک جرم تو اللہ تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے، جس کا کفارہ یہ ہے کہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرے، جبکہ دوسرا جرم بندے کے حق میں کرتا ہے ، جس کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے ،اگر اُس شخص کو غیبت کا علم ہوا ہو تو اس سے معذرت کا اظہار کرے، اور اگر اس کو غیبت کا علم نہ ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرے اور اُس بندے کے حق میں نیک دعا کرے،نیز یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے اور اللہ کے فرشتے اس کے ایک ایک عمل کو قلمبند کر رہے ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ؟کہ غیبت سے کس طرح پرہیز کیا جائے۔ جب دل خیشت الہی سے سرشار ہو،آخرت کی زندگی کا پختہ یقین ہوگا اور قبر کی زندگی ہر وقت یاد ہوگی تو یقین مانیے، یہ گناہ سرزد نہیں ہوگا۔ کوشش کیجیے غیبت سے خود بھی بچیں اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس قبیح گناہ سے بچاٸیں کیونکہ غیبت کی خباثتوں معاشرے میں ناچاقی ، بے چینی ،اختلاف وانتشار کا ماحول پیدا ہو تا ہے لہذاہمیں غیبت سے باز رہنا چاہیے اور ایک صالح ، پاکیزہ اور تعمیری معاشرہ قائم کرنے لیے ہمہ دم جد وجہد کر نی چاہیے۔

    ﷲﷻ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو غیبت جیسی جان لیوا بیماری سے بچائے۔آمین!!

  • لاقانونیت  . تحریر:فرمان اللہ

    لاقانونیت . تحریر:فرمان اللہ

    کسی بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی سب سے بڑی وجہ لاقانونیت ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف ریاست قانون نافذ کرنے میں ناکام رہتی ہے تو دوسری طرف عوام قانون کو توڑنے میں پیش پیش ہوتی ہے۔ قانون کا رکھوالا اگر ایک طرف رشوت لیتا ہے تو دوسری طرف جن کے لیے قانون بنتا ہے وہ رشوت کی پیش کش کرتے ہیں۔

    میں بیرون ملک مقیم ہوں لیکن جس طرح یہاں قانون کی پاسداری کرتا ہوں ویسے ہی پاکستان جا کر بھی کرتا ہوں۔ جس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اسی طرح قانون کا نفاذ بھی ریاست اور عوام دونوں ملکر کرتے ہیں اور جس معاشرے میں لاقانونیت ہو اُس معاشرے میں طاقتور قانون کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیتا ہے اور ایسے معاشرے میں ظلم کی انتہا بھی ہوتی ہے اور ظلم کا حساب بھی نہیں ہوتا۔

    ریاست کے ساتھ ساتھ اگر عوام بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے قانون کو فالو کرے تو یقیناً قانون کے رکھوالے بھی اپنے فرائض سرانجام دیں گے

    @ForIkPakistan

  • دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی .تحریر:ملک حسن

    دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی .تحریر:ملک حسن

    پچھلے 12 سالوں میں کیا کچھ نہیں ہوا اس ملک میں۔۔
    یہاں تک کہ پاکستان کے نئے نقشے بھی تیار ہو چکے تھے۔ دشمن گلی کوچوں میں پہنچ چکا تھا، بہت خطرناک دن گزرے اس ملک پر۔۔۔۔ ہر لحاظ سے ملک کو خطرہ لاحق تھا پچھلی حکومتوں کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ ہونے کے قریب تھا، خطے میں تنہا ہونے کے قریب تھا۔۔۔
    معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔۔۔
    لیکن پھر بھی آج اس ملک کے سامنے دنیا کی سپر پاورز بھی سر جھکائے کھڑی ہیں۔۔ الحمدللہ۔
    (روس بھی کہتا ہے ہم آپ سے تعاون کو تیار ہیں ہمیں سی پیک میں شامل کرو اور امریکہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر ہم افغانستان سے نہی نکل پائیں گے)

    اتنے دکھ سہنے کے باوجود یہ قوم اور یہ ملک اب بھی دنیا کے سامنے اپنا سکہ جمائے ہوئے ہے۔ یہ قوم اتنے دکھ سہنے کے باوجود آج بھی خوش رہنے والوں کی فہرست میں ہے۔

    یہ ملک خدا داد آج بھی دنیا کے نقشہ پر پورے آب و تاب سے موجود ہے۔ اور الحمدللہ دن بدن نا قابل تسخیر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہ آج ملک میں جو کچھ چوری ظلم زیادتیاں مہنگائی اور دیگر جو مسائل ہیں انکی صرف 2 ہی وجہ ہیں
    1 :- کرپشن ! مال سارا سیاستدانوں کی جیب میں جاتا رہتا ہے اور غریب دیکھتا ہی رہ جاتا ہے اور عام عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ مہنگائی ہوتی۔۔۔
    2:- دوسری اور سب سے بڑی وجہ ناقص قانون ، اور پھر اس ناقص قانون کا بھی برابر اطلاق نا ہونا امیر کے الگ اور غریب کے لیے الگ ، ناقص عدالتی نظام ، بکاو جج وغیرہ وغیرہ

    لیکن آپ پریشان نا ہوں مایوس نا ہوں، مایوسی کفر ہے۔
    وہ دن دور نہیں جب یہ سب مسائل بھی حل ہو جائینگے۔ ان شاءاللہ
    لکھ کر لے لو ایک دن آئے گا اقوام عالم کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور نا میں ہونگے
    یہ میں نہیں کہہ رہا یہ اللہ کے بہت خاص لوگ اس ملک کے بارے میں کہہ گزرے ہیں ۔
    اور یہ ہو کر رہے گا انشاءاللہ۔
    لیکن فلحال آزمائش کا وقت ہے وطن سے وفا کا وقت ہے۔
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج آئی ایس آئی زندہ باد