Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    گزشتہ کچھ دہائیوں سے افغانستان کے حالات میں نشیب و فراز دیکھنے کو ملا ہے۔ خاص کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کے بعد افغانستان میں امریکی جارحیت  نے خطے میں جیوگرافیائی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی اثرات مرتب کئے ہیں۔

    افغانستان روس کی طرح امریکہ کے لیے  قبرستان ثابت ہوا اور  شکست خوردہ ھو کر یہاں سے راتوں رات تاجکستان کے راستے سے رہ فرار اختیار کررہا ہے۔

    امریکی آمد کی طرح اسکی یہاں سے روانگی بھی خطے کے حالات کو نیا روخ دے گی۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھی اس تبدیلی کو محسوس کرینگے ۔خاص کر پاکستان ایران اور انڈیا کے اندر اس تبدیلی کے جھٹکے محسوس کئے جائیں گے۔
    انڈیا اس وقت بہت "شش و پنج”  میں مبتلا ہے ایک طرف افغانستان میں انڈین انویسٹمنٹ ڈوب رہی ہے اور "ڈوبتے ہوۓ کو تنکے کا سہرا” کے مصداق انڈیا افغان حکومت کو بچانے کی "تگ و دو "میں لگا ہوا ہے اور دوسری طرف افغان طالبان سے ملنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔ مگر اب تک منہ کی کھانی پڑی ہے مستقبل میں بھی ایسا لگ رہا کہ انڈیا کا رول امریکہ کے ساتھ افغانستان سے ختم ہورہا ہے اور اب انڈیا کو افغانستان میں پاکستان مخالف سازشیں کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

    رہی بات پاکستان کی تو وہ بھی اس تبدیلی کو ماضی کی طرح پھر سے محسوس کرے گا۔ افغانستان سے امریکی روانگی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی ایک نیا موڑ آئے گا۔پاکستان کو امریکہ کے جانے کے بعد ایک بڑا چیلنج کا سامنا ہے کہ کسی طرح افغانستان میں امن قائم ہو اور خانہ جنگی نہ ہو ۔
    اگر خدا نہ خواستہ افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس کے برے اثرات یقینی طور پر ماضی کی طرح پاکستان پہ مرتب ہونگے اسلیے پاکستان مستحکم  اور پرامن افغانستان کے لئے ہر ممکن کوشیش کرے گا۔

    پروفیسر عمیر انس کہتے ہیں کہ "ایران کے پاس ایک نیا صدر ہے اور انڈیا اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی نئی حکومت کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد کے بعد ایران پر کچھ پابندیاں ہٹائے جانے کی امید ہے اور ممکن ہے کہ انڈیا اس سے فائدہ اٹھانا چاہے گا۔”
    افغانستان کے حالات نازک دور سے گزر رہے  ہیں خطے کا ہر ملک آنے والے حالات سے اضطراب کی کفیت میں دیکھائی دے رہا ہیں۔
    اب خطے کے دیگر ممالک کو چاہئے کہ ایک بلاک بنا کر چین روس کے ساتھ ملکر افغانستان کے امن کے لئے کوشش کریں نہیں تو یہ خانہ جنگی کے منفی اثرات پورے خطے کے ممالک پر ہونگے۔ اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر ہے۔

  • ‏غیبت ،ایک ناجاٸز اور قبیح گناہ .تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏غیبت ،ایک ناجاٸز اور قبیح گناہ .تحریر حمزہ احمد صدیقی

    آج ہمارے معاشرہ میں جو برائیاں،خرابیاں اور تباہ کاریاں سرکش عفریت کی طرح سر اٹھائے کھڑی ہیں ان کا شمار کرنا ناممکن ہے مگر غیبت ایک ایسا ناجاٸز ، قبیح گناہ ہے ،جس نے ہمارے معاشرہ کا امن اور سکون بربادکر دیاہے۔ اس سنگین گناہ کی قباحت و شناعت قران و سنت کے اندر واضح ہے مگر افسوس ہے کہ آج کی محفلیں اس گناہِ بے لذت سے آباد ہیں ۔

    مکرمی! غیبت کیا ہے ؟ کسی کے پس پشت اس کے کسی ایسے عیب کوذکر کرناجواس میں موجود بھی ہواورمقصداس کی برائی ہو اوراگر اسے اس بارے میں معلوم ہوجائے تو اسے ناگوار گزرے یہ غیبت ہے

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺنے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہ اجمعین نے کہا ﷲ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: اپنے بھائی کے اس عیب کو بیان کرے کہ جس کو وہ ناپسند سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر وہ عیب واقعی اس بھائی میں ہو جو میں بیان کر رہا ہوں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا : اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو وہ تبھی تو غیبت ہے اگر اس میں نہ ہو تو وہ بہتان ہے۔
    (صحیح مسلم)

    قرآن نے اس گناہ کو مردہ انسان کے گوشت کھانے سے توصیف کیا ہے اور روایات میں اس کا گناہ زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید کہا گیا ہے، غیبت کا شمار بھی گناہ کبیرہ میں ہی آتا ہے اور اس حوالہ سے اس قدر ممانت ہے کہ عام زندگی میں اس کا تصور بھی محال ہے، اللہ اور اس کے محبوبؐ نے غیبت کو پسند نہیں کیا اورغیبت کا شمار بھی گناہ کبیرہ میں ہی آتا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو ﷲ سے، بے شک ﷲ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔ (الحجرات)

    یہاں بہت واضح ہے کہ اللہ تعالی نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے اور غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے اور جگہ ارشاد ربانی ہے کہ بڑی خرابی ہے ایسے شخص کی جو غیبت ٹٹولنے والا غیبت کرنے والا ہو، سوۃ الحمزہ، آیت نمبر 1،

     خاتم النبیین ﷺکا فرمانِ ہے:معراج کی رات ميں ايسی عورَتوں اور مَردوں کے پاس سے گزرا جو اپنی چھاتیوں کے ساتھ لٹک رہے تھے، تو ميں نے پوچھا:اے جبرئيل! يہ کون لوگ ہيں؟ عرض کی:يہ منہ پر عيب لگانے والے اور پيٹھ پيچھے برائی کر نے والے ہیں

    اگر ذرا اپنی محفلوں، مجلسوں پر نظر ڈالیے! کس قدر اس گناہ کا رواج ہو چکا ہے اور ہم دن رات اس گناہ میں مبتلا ہیں غیبت کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حقوق العباد کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک بندہ اس کو معاف نہ کرے اس وقت تک یہ معاف نہ ہوگا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں پر لعنت وملامت کی گئی ہے جوایک دوسرے کی غیبت اور چغلخوری کرتے ہیں ،اور ادھر کی بات ادھر پھیلایا کرتے ہیں یا ایک دوسرے کی راز کو فاش کرکے سماج میں فتنہ وفساد پھیلانے کا ذریعہ وسبب بنتے ہیں نیز آپسی دوستانہ و یارانہ تعلقات کو خراب کرتے نیز ایسا کرکے معاشرے کے اندر برائیوں ، بےحیائیوں اور فحاشیوں کو عروج دیتے ہیں

    آج کل لوگ دعاؤں میں کم اور
    غیبتوں میں زیادہ یاد رکھتے 

    میرے بھائیو! حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کا محافظ ہے مگر افسوس!ایسا نازک دور آ گیا ہے کہ اب اکثر مسلمان ہی دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کے پیچھے پڑا ہوا ہے جی بھر کر غیبتیں کررہا ہے اور چغلیاں کھا رہا ہے غیبت میں مرتکب ہونے کے علاوہ، اس کو سننا بھی حرام ہے جس مجلس میں کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو گفتگو کا رخ بدلنے کی کوشش کریں کوئی دوسرا موضوع چھیڑ دیں کیونکہ غیبت کرنے والا دوقسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے

    ایک جرم تو اللہ تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے، جس کا کفارہ یہ ہے کہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرے، جبکہ دوسرا جرم بندے کے حق میں کرتا ہے ، جس کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے ،اگر اُس شخص کو غیبت کا علم ہوا ہو تو اس سے معذرت کا اظہار کرے، اور اگر اس کو غیبت کا علم نہ ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرے اور اُس بندے کے حق میں نیک دعا کرے،نیز یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے اور اللہ کے فرشتے اس کے ایک ایک عمل کو قلمبند کر رہے ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ؟کہ غیبت سے کس طرح پرہیز کیا جائے۔ جب دل خیشت الہی سے سرشار ہو،آخرت کی زندگی کا پختہ یقین ہوگا اور قبر کی زندگی ہر وقت یاد ہوگی تو یقین مانیے، یہ گناہ سرزد نہیں ہوگا۔ کوشش کیجیے غیبت سے خود بھی بچیں اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس قبیح گناہ سے بچاٸیں کیونکہ غیبت کی خباثتوں معاشرے میں ناچاقی ، بے چینی ،اختلاف وانتشار کا ماحول پیدا ہو تا ہے لہذاہمیں غیبت سے باز رہنا چاہیے اور ایک صالح ، پاکیزہ اور تعمیری معاشرہ قائم کرنے لیے ہمہ دم جد وجہد کر نی چاہیے۔

    ﷲﷻ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو غیبت جیسی جان لیوا بیماری سے بچائے۔آمین!!

  • لاقانونیت  . تحریر:فرمان اللہ

    لاقانونیت . تحریر:فرمان اللہ

    کسی بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی سب سے بڑی وجہ لاقانونیت ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف ریاست قانون نافذ کرنے میں ناکام رہتی ہے تو دوسری طرف عوام قانون کو توڑنے میں پیش پیش ہوتی ہے۔ قانون کا رکھوالا اگر ایک طرف رشوت لیتا ہے تو دوسری طرف جن کے لیے قانون بنتا ہے وہ رشوت کی پیش کش کرتے ہیں۔

    میں بیرون ملک مقیم ہوں لیکن جس طرح یہاں قانون کی پاسداری کرتا ہوں ویسے ہی پاکستان جا کر بھی کرتا ہوں۔ جس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اسی طرح قانون کا نفاذ بھی ریاست اور عوام دونوں ملکر کرتے ہیں اور جس معاشرے میں لاقانونیت ہو اُس معاشرے میں طاقتور قانون کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیتا ہے اور ایسے معاشرے میں ظلم کی انتہا بھی ہوتی ہے اور ظلم کا حساب بھی نہیں ہوتا۔

    ریاست کے ساتھ ساتھ اگر عوام بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے قانون کو فالو کرے تو یقیناً قانون کے رکھوالے بھی اپنے فرائض سرانجام دیں گے

    @ForIkPakistan

  • دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی .تحریر:ملک حسن

    دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی .تحریر:ملک حسن

    پچھلے 12 سالوں میں کیا کچھ نہیں ہوا اس ملک میں۔۔
    یہاں تک کہ پاکستان کے نئے نقشے بھی تیار ہو چکے تھے۔ دشمن گلی کوچوں میں پہنچ چکا تھا، بہت خطرناک دن گزرے اس ملک پر۔۔۔۔ ہر لحاظ سے ملک کو خطرہ لاحق تھا پچھلی حکومتوں کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ ہونے کے قریب تھا، خطے میں تنہا ہونے کے قریب تھا۔۔۔
    معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔۔۔
    لیکن پھر بھی آج اس ملک کے سامنے دنیا کی سپر پاورز بھی سر جھکائے کھڑی ہیں۔۔ الحمدللہ۔
    (روس بھی کہتا ہے ہم آپ سے تعاون کو تیار ہیں ہمیں سی پیک میں شامل کرو اور امریکہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر ہم افغانستان سے نہی نکل پائیں گے)

    اتنے دکھ سہنے کے باوجود یہ قوم اور یہ ملک اب بھی دنیا کے سامنے اپنا سکہ جمائے ہوئے ہے۔ یہ قوم اتنے دکھ سہنے کے باوجود آج بھی خوش رہنے والوں کی فہرست میں ہے۔

    یہ ملک خدا داد آج بھی دنیا کے نقشہ پر پورے آب و تاب سے موجود ہے۔ اور الحمدللہ دن بدن نا قابل تسخیر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہ آج ملک میں جو کچھ چوری ظلم زیادتیاں مہنگائی اور دیگر جو مسائل ہیں انکی صرف 2 ہی وجہ ہیں
    1 :- کرپشن ! مال سارا سیاستدانوں کی جیب میں جاتا رہتا ہے اور غریب دیکھتا ہی رہ جاتا ہے اور عام عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ مہنگائی ہوتی۔۔۔
    2:- دوسری اور سب سے بڑی وجہ ناقص قانون ، اور پھر اس ناقص قانون کا بھی برابر اطلاق نا ہونا امیر کے الگ اور غریب کے لیے الگ ، ناقص عدالتی نظام ، بکاو جج وغیرہ وغیرہ

    لیکن آپ پریشان نا ہوں مایوس نا ہوں، مایوسی کفر ہے۔
    وہ دن دور نہیں جب یہ سب مسائل بھی حل ہو جائینگے۔ ان شاءاللہ
    لکھ کر لے لو ایک دن آئے گا اقوام عالم کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور نا میں ہونگے
    یہ میں نہیں کہہ رہا یہ اللہ کے بہت خاص لوگ اس ملک کے بارے میں کہہ گزرے ہیں ۔
    اور یہ ہو کر رہے گا انشاءاللہ۔
    لیکن فلحال آزمائش کا وقت ہے وطن سے وفا کا وقت ہے۔
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج آئی ایس آئی زندہ باد

  • کوئی حد نہیں خدمت کی :تحریر:فیاض احمد عباسی

    کوئی حد نہیں خدمت کی :تحریر:فیاض احمد عباسی

    سفید مصفا وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے آفیسرز اور جوان سمندر کی بے کراں وسعتوں کے حکمران ہیں۔ اُ ن کی فرض شناسی، مستعدی اور حب الوطنی کی بدولت پاکستان کی سمندری سرحدیں محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ یہ سر فروش نہ صرف ملکی بحری سرحدوں کے دفاع کے قومی فرائض بخوبی نبھا رہے ہیں بلکہ ملک میں جب بھی کوئی ناگہانی آفت رونما ہوئی تو قوم کے یہ بیٹے مدد کے لیے ہمیشہ تیار نظر آئے۔ پاکستان نیوی کی قومی خدمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ملک کی ساحلی آ بادی میں نظر آتا ہے۔ تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کی سہو لیات کا معاملہ، روزگار کی فراہمی ہو یا معیشت کا استحکام پاکستان نیوی ہر جگہ پیش پیش رہتی ہے۔ تعلیم کے لیے بحریہ کا لجز، بحریہ اسکولز،کیڈٹ کالجز اپنی خدمات پیش کیے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سر کاری اسکولوں کی سرپرستی اور ان کے ساتھ تعلیمی تعاون ایک الگ کاوش ہے۔

    صحت کی بات کی جائے تو ساحلی علاقوں میں تسلسل کے ساتھ فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد نمایاں ہے۔ کووِڈ 19- کے دوران پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے صحت کی سہولیات اور ساحلی آبادی کے علاج معالج میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔میڈیکل کیمپس قائم کیے، حفاظتی سامان کی تقسیم کی، لوگوں کو بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔ شدید امراض میں مبتلا مریضوں کا اور ماڑہ میں واقع پاکستان نیوی کے ہسپتا ل پی این ایس درماں جاہ میں جدید آلات سے علاج کیا گیا۔ کووِڈ19-کے دوران پاکستان نیوی نے ملک کے ساحلی علاقوں اور دیگر شہروں میں 70ہزار ٹن راشن بانٹا، 50ہزار کے قریب حفاظتی سامان اور طبی آلات تقسیم کیے۔

    روزگار اور معیشت کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان نیوی ساحلی پٹی کے مستحق نو جوانوں کو خصوصی رعایت کے ساتھ ملازمت دیتی ہے۔ اُ ن کے لیے کو ٹہ بھی مخصوص ہے۔پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے کی سمندری گزر گاہوں کو محفوط بنا کر پاکستان نیوی پاکستانی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بحری اقتصادی پوٹینشل کے سلسلے میں آگہی کے فروغ اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کے ضمن میں پاکستان نیوی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ یہ تو ساحلی علاقوں میں پاک بحریہ کی خدمات کا انتہائی مختصر ذکر تھا۔

    ساحلی علاقوں کے علاوہ ملک میں کبھی بھی جہاں بھی ضرورت پیش آئی پاکستان نیوی پیش پیش رہی۔ اپنی قومی خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان نیوی نے آزاد جموں و کشمیر میں تین دن پر محیط فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس فری میڈیکل کے انعقاد کا مقصد آزاد جمو ں و کشمیرکے علاقوں چہلہ بانڈی، چکار اور نیلم میں آباد مستحق خاندانوں کو علاج کی سہولیات کی دستیابی اور ادویات کی بلا معاوضہ فراہمی تھا۔ پاکستان نیوی فری میڈیکل کیمپ کے ماہر ڈاکٹر ز نے کیمپ میں آنے والے مریضوں کا انتہائی باریک بینی سے معائنہ کیا اور مرض کی تشخیص کے بعد انہیں بلا معاوضہ ادویات فراہم کی۔ میڈیکل کیمپ میں آنے والے ہزاروں مریضوں میں خواتین بچے اور معمر افراد شامل تھے۔ مقامی آبادی اور علاقے کی معزز شخصیات نے مشکل کی اس گھڑی میں گھروں کی دہلیز تک علاج معالج کی سہولیات اور ادویات پہنچانے پر پاک بحریہ کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔ میڈیکل کیمپ میں آنے والے معمر افراد نے کہا کہ ہم پاکستان نیوی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے میڈیکل کیمپ لگایا۔ ہم عمر رسیدہ لوگ دور دراز کا سفر نہیں کر سکتے اور صحت بھی اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ہمیں گھر میں علاج کی سہولیات میسر آئی ہے۔ نیوی کے ڈاکٹر بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ عملہ اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے۔ علاج بہت اچھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ معززینِ علاقہ نے کہا کہ مہم پر جب بھی مشکل آن پڑی پاک بحریہ نے ہمیشہ ہماری مدد کی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا2019 کا زلزلہ پاکستان نیوی کی امداد ی کاروائیوں، بحالی کے کاموں اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ زلزے کے بعد پاکستان نیوی نے ہمارے بچوں کے لیے اسکولوں کی تعمیر نو کی۔ گھروں کی کو دوبارہ بنانے میں مدد کی۔ ہمارے زخمیوں کا علاج معالجہ کیا۔ ہماری ہمت افزائی کی، حوصلہ دیا، تسلی دی، الغرض زندگی میں اُمید کی کرن پیدا کی۔

    یہ پہلا موقع نہ تھا جب پاکستان نیوی نے آزاد جمو ں و کشمیر میں میڈیکل کیمپ لگا یا بلکہ اس سے قبل بھی پاکستان نیوی اس خطے میں امدادی آپریشنز انجام دے کر مشکل کا شکار لوگوں کی اعانت کر چکی ہے۔ 8 اکتوبر 2005 کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں آنے زلزلے نے بڑے پیمانے پر بتا ہی پھیلائی۔ پاکستان کی تاریخ میں آنے والے اس ہولناک زلزلے سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ لاکھوں کی تعدا د میں خاندان بے گھر ہو گئے۔بے گھر خاندا ن بے سرو سامان کسی غیبی مدد کے منتظر تھے، کسی مسیحا کا انتظار کر رہے تھے۔ اس سانحہ کے فوراً بعد پاکستان کی مسلح افواج امدادی کاروائیاں کرنے اور قیمتی انسانوں جانوں کو بچانے کے لیے حرکت میں آئیں۔ ریسکو آپریشنز میں 50 ہزار سے زائد مسلح افواج کے جوان اور آفیسرز نے حصہ لیا۔ پاک بحریہ بھی ان امدادی آپریشنز میں پیش پیش رہی۔ متاثرین کی امداد کے لیے پاکستان نیوی نے مختلف شہروں میں امدادی کیمپس قائم کیے تاکہ امدادی سامان جمع کیا جاسکتے۔ان امدادی کیمپس کے ذریعے جمع ہونے والے سامان کو ریل گاڑی، ٹرکوں اور پاکستان نیوی کے طیاروں کے ذریعے کراچی اور ساحلی شہروں سے اسلام آباد لا یا گیا اور پھر انہیں آزاد کشمیر کے متاثر ین تک پہنچایا گیا۔ اس سانحے میں زخمی ہونے والوں کے لیے ریلیف کیمپس لگائے گئے۔ جہاں ان زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان ریلیف کیمپس کو فیلڈ ہسپتا ل میں بدل دیا گیا جہاں شدید زخمیوں کا علاج کیا گیا۔ پاکستان نیوی کے ڈاکٹر ز، پیرا میڈیکل اسٹاف، آفیسرز اور جوانوں نے یہاں دن رات خدمات انجام دیں اوراپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوئے۔ ادویات کی اشد ضرورت کے پیش نظر پاک بحریہ کے فو کر طیارے کے ذریعے ادویات کو کراچی سے پی اے ایف چکلالہ پہنچایا گیا جہاں سے یہ ادویات پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے متاثرہ علاقوں میں پہنچائی گئیں۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کے سی کنگ اور ایلویٹ ہیلی کاپڑز زخمیوں کو ہسپتال تک پہنچانے کا کام انجام دیتے رہے۔ اسلام آباد میں واقع پاک بحریہ کے ہسپتا ل پی این ایس حفیظ کو زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے مخصوص کیا گیا۔ پاک میرینز اور نیوی کے اسپیشل سروس گروپ کے جوانوں نے امدادی سر گرمیوں میں حصہ لے کر زخمیوں کو فیلڈ ہسپتال پہنچا یا اور متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔

    26ستمبر2019کو آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد پاک بحریہ متاثرین ِ زلزلہ کی امداد کے لیے متحرک ہو گئی۔ پاک بحریہ کی امدادی ٹیموں نے میر پور آزاد کشمیر کے گاؤں جرار اور ڈھوک گجر کے متاثرینِ زلزلہ میں امدادی سامان تقسیم کیا۔۔ زلزلے سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے تھے۔ 2005 کے زلزلے کی تلخ یادوں نے وہاں کے لوگوں کو ایک خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ سب بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھے۔ زندگی بھر کی جمع پونچی کے ضیاع نے انہیں بے حد افسردہ کر رکھا تھا۔ امدادی ٹیموں میں شامل پاک بحریہ کے آفیسرز و جوانوں نے زلزلے سے متاثرہ بھائیوں کی ڈھارس بندھائی، اُن کی ہمت افزائی کی اور کسی بھی مصیبت کی صورت میں اُن کو ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ امدادی سامان جس میں خیمے اور کئی ٹن راشن شامل تھا زلزلہ متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔

    پاکستان نیوی قومی خدمات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی کاروائیوں کو انجام دے چکی ہے۔ اس کی عالمی خدمات میں یمن کے شورش زدہ علاقوں سے سینکڑوں افراد کو بحفاظت نکالنا،بحری قزاقوں کے ہاتھو ں یرغمال ہونے والے بحر ی تجارتی جہاز ایم وی سویئزکے عملے کی بازیابی، سمندری طوفان ”سونامی“ کے دوران سری لنکا، مالدیپ اور انڈونیشیاء میں امدادی آپریشن اورکھلے سمندروں میں مصیبت میں گرفتا ر افراد کی مدد قابل ذکر کارنامے ہیں۔

    پاکستان نیوی اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ کسی بھی ناگہانی آفت کی صور ت میں ملک و قوم کی خدمت کے لیے پر عزم ہے اور اس کے آفیسرز و جوان کسی بھی مشکل میں اپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہونے جذبے سے سرشار ہیں۔

  • اکاونٹ ویریفائیڈ اور معاشرے میں چھپے بھیڑیے .تحریر: حمیرا نزیر

    اکاونٹ ویریفائیڈ اور معاشرے میں چھپے بھیڑیے .تحریر: حمیرا نزیر

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہر کسی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکے زیادہ سے زیادہ فالورز ہوں زیادہ سے زیادہ فینز ہوں اسکی بات اسکی لکھی گئی تحریر دور تک زیادہ لوگوں تک جاے، اس کے لیے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ایک بیلو ٹک کا انقعاد کیا ہے چاہے وہ فیسبک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر یا کوی بھی پلیٹ فارم ہوں، وہ بلیو ٹک آپکے حقیقی ہونے کی نشاندھی کرتا ہے بلیو ٹک سے آپکے مداحوں کو یہ پتا چلتا کہ کہ اس اکاونٹ کے پیچھے وہی شخصیت ہے جسے وہ جانتے اور پسند کرتے ہے، ایسے ہی بلیو ٹک پر سے پابندی ٹویٹر نے ایک طویل عرصے کے بعد کچھ ہفتوں کے لیے ختم کر دی تاکہ ٹویٹر یوزرز آپنے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا سکے، حالیہ گنتی کے مطابق ٹویٹر کو جوائن کرنے والوں کی تعداد 18 کروڑ سے تجاوز کر گئی، بہت سے لوگوں نے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا لیے اس سے یہ بھی فائدہ ہوتا کہ کوی بھی شخص آپکا نام آپکی پکچر لگا کر آپکا جعلی اکاونٹ نہی بنا سکتا ، مجھے ہمیرا نزیر کو بھی ٹویٹر کے بلیو ٹک کا بہت بے صبری سے انتظار تھا،

    آخر وہ دن آ ہی گیا اور اس دن کے لیے بہت سے صحافیوں سے رابطے میں بھی تھی جن کے اکاونٹ بلیو ٹک شدہ یے انہوں نے بھی مکمل یقین دہانی کروای کہ ہم آپکی بھرپور مدد کرے گے اور ساتھ میں میں نے یہ بھی کہاں کہ اگر اس پر کوی کسی قسم کا خرچہ بھی آیا تو وہ بھی میں خود کروں گی ، آخر وہ دن آ گیا پابندی ہٹ گئی میں نے بھی صحافیوں سے رابطے شروع کر دیے کچھ نے جواب دیے کچھ نے بلیک لسٹ کر دیا حقیقت میں تکلیف ہوی کہ کیا میں اس لائق بھی نہی کہ کوی میرا رپلای تک کرے، شدید افسوس ہوا آپنی بے بسی پر ، آخر ایک نے رپلای کیا تو پہلے ہی منٹ مجھ سے ویڈیو کال کا مطالبہ کر ڈالا، یہ جانتے ہوے بھی کہ میں ایک حافظ قران ہوں اور ایسی حرکت تو کیا کسی غلط لفظ سننے سے بھی کانپ جاتی ہوں ، میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سر ایسی ہماری کوی ڈیل تو نہی تھی آپکو ہیلپ کرنی تو بتا دیجیے ورنہ آپکا شکریہ آپ اپنے راستے میں آپنے راستے یہ کہہ کر میں انہیں بلاک کر دیا اب ایک اور صحافی جو کبھی پی ٹی وی نیوز پر آیا کرتے تھے یہاں نام لکھنا نہی چاہتی ان سے بات کی تو کافی بار تو میسج سین کرتے اور کوی جواب نا دیتے جب دیتے تو میں بزی ہوں کہہ کر چلے جاتے، خیر کوئی بات نہی آخر ایک دن آ گیا جب وہ فری ہوے بات چلی تعارف پوچھا میں نے بتایا لاہور سے ہوں کہتے تو پھر ملاقات کر لیں کہی ہوٹل میں ، میں جب یہ الفاظ سنے میں ہکی بکی رہ گئی کہ واللہ کیا ہو گیا ہماری عوام کو میں جب انکار کر دیا تو کہتے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا دیتے لیکن شرط یہ مجھے آپنی ننگی پکچریں شئیر کروں میں نے صاف کہاں سر آپ قابل آحترام ہے میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہے جو آپکی بیوی آپکی بہن، آپکی بیٹی آپکی والدہ کے ساتھ لگا ہے تو آپ یہی بات ان سے کہہ کر دیکھیں، یہ کہتے ہی موصوف کہتے جاو اب میں دیکھتا کہ کیسے ہوتا تمہارا اکاونٹ ویریفائیڈ، میں نے بلاک کر کے اللہ کا شکر ادا کیا کہ کہی مجھ سے وہ گناہ سرزد نہیں ہوا،

    اب آئے دن بہت سی لڑکیوں کے جن کے اکاونٹ چند دنوں میں ویریفائیڈ ہوے یے وہ لڑکیاں ان صاحب کا شکریہ آدا کرنے کے ٹویٹ کرتی نظر آتی ہے ان صاحب کی وجہ سے ہمارا اکاونٹ ویریفائیڈ ہو گیا، میں جب وہ ٹویٹ دیکھتی تو سوچتی کہ کتنوں نے آپنی ننگی تصویریں ان صاحب کو پیش کی کتنوں نے ہوٹلوں میں ملاقاتیں کی اکاونٹ ویریفائیڈ کے لیے، اور آج ہم بیٹھے ہے آپنی عزت اور آبرو بچاے بیشک اکاونٹ ویریفائیڈ نا ہوا لیکن اس معاشرے میں چھپے بھڑیئے تو سامنے آ گیے میری آپ سب بہن بیٹیوں سے گزارش ہے کہ خدارہ ایسے بھیڑیوں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچاے یہ بھیڑیے آپکو نوچ کھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہے انھیں ہر گز کوی موقع فراہم نا کریں عزت ایک بار چلی جاے پھر تامرگ واپس لوٹ کر نہی آتی،

  • نئے رشتوں کی تلاش ۔ تحریر: حنا

    نئے رشتوں کی تلاش ۔ تحریر: حنا

    دو لوگ جب آپس میں تعلق بناتے ہیں تو شروع شروع میں بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ دونوں دل ہی دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ وہی ہے ویسا ہی ہے جس کا میں۔۔۔آج تک انتظار (کرتی یا)کرتا آیا ہوں۔۔۔
    ہر انسان کی زندگی میں کوئی ایسا انسان ضرور آتا ہے جس سے بات کر کے دل کو سکون ملتا ہے اپنا غم اس سے بانٹ کر دل ہلکا ہوجاتا ہے اگر دل اداس ہو اور اچانک سے اسکا مسیج آجاۓ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے موڈ خود ہی اچھا ہوجاتا ہے
    اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ یہ جانتے ہو کہ وہ آپکی منزل کبھی نہیں ہوسکتا مگر پھر بھی دل بےبس ہوجاتا ہے
    اس کا ساتھ اتنا خوبصورت لگتا ہے کے دل چاہتا ہے جو وقت اسکے ساتھ ہو بس وہی زندگی مرتے دم تک بس یہی میرا ساتھ نبھائے دونوں کو یہ پتا ہوتا ہے جب کہ دونوں ہی ایک دسرے کا نصیب نہیں بن سکتے یہ جانتے ھوۓ بھی دونوں ہی یہ تعلق نبھاتے ہیں !!

    لمبی لمبی کالز اور مسیجیز کے بعد…..
    جب تعلق کا نیا پن‘ ختم ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے۔۔۔بندھی امیدیں بھی مرنے لگتی ہیں دونوں یہ سوچتے ہیں کہ یہ وہ نہیں ہے جسے میں نے سمجھا تھا
    کیونکہ انسان کو جب کچھ حاصل ہوجاۓ تو وہ اسکی تمنا نہیں کرتا حاصل کو چھوڑ کر پھر سے لاحاصل کہ پیچھے بھاگتا ہے اور پھر دلچسپی کم ہوجاتی ہے
    دونوں ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں فوراََ میسج کا جواب دینے والے ایک دوسرے کو کئی کئی دن جواب نہیں دیتے دونوں کے درمیان کالز کم ہو جاتی ہیں بلیم گیم شروع ہو جاتی ہے تم یہ ہو تم وہ ہو تم ایسے ہو تم ویسے ہو یہ کیا ہے؟وہ کیا ہے؟تم یہ نہیں کرتے تم وہ نہیں کرتے لاشعور کی لڑائی شعوری طور پر ہونے لگتی ہے یہاں تک کے بات قطع تعلق پر آجاتی ہے
    جو ہاتھ میں ہو اسے چھوڑنے سے پہلے کسی نئے کی تلاش۔۔۔شروع ہو جاتی ہے کچھ ’نیا‘ ڈھونڈنے کی آرزو جنم لیتی ہے اور پھر نئے کے ساتھ جب ’نیا پن‘ ختم ہوتا ہے تو۔۔۔پتا چلتا ہے کہ کہ یہ بھی وہ نہیں جس کی مجھے تلاش تھی!
    حناء ۔

  • پاکستان میں کرپشن پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے .از قلم! صاحبزادہ ملک حسنین

    پاکستان میں کرپشن پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے .از قلم! صاحبزادہ ملک حسنین

    بدعنوانی کو بین الاقوامی طور پر انگریزی زبان کا لفظ کرپشن نہیں بولا جاتا ہے کرپشن ذاتی مفاد کے لئے اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا نام ہے دنیا کے ہر دور میں بیشتر ممالک میں اس کا وجود رہا ہے سیاسی اداروں کے علاوہ حکومتوں کے سربراہوں سے لے کر معمولی درجہ کے ملازم بھی اس میں ملوث پائے جاتے ہیں پرائیویٹ اداروں اور سرکاری مالیاتی اداروں میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے
    سیاسی اداروں میں انتخابات کے موقع پر ووٹ خریدے جاتے ہیں اور اچھے عہدے دینے کے وعدے اور خصوصی مراعات کی پیشکش انتخابات کی آزادی میں مداخلت کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں

    قانونی فیصلے کرنے والے اداروں میں بھی کرپشن عروج پر ہے وہ گفٹ کی صورت میں یا پیسے کی ادائیگی رشتہ داروں کی حمایت سماجی اثر و رسوخ آدمی عام آدمی کے حق کو ختم کر دیتے ہیں جس کو ہم سادہ زبان میں رشوت کہتے ہیں غریب کے بس کی تو بات نہیں ہے کہ وہ رشوت دے سکے لیکن پاکستان میں یہ چیز برعکس ہے امیر سے لے کر غریب تک رشوت کے دلدل میں پھنس چکے ہیں کسی بھی محکمے میں چلے جائیں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا سرکاری واجبات کی ادائیگی نہ کرنا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے بینکوں سے قرضے لے کر معاف کروا لینا ٹیلی فون بجلی سوئی گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگی نہ کرنا ملک کی معیشت کو کمزور کرنا سیاسی کرپشن میں آتا ہے کرپشن نہ قابل علاج بیماری کی طرح انسانیت سے چمٹ گئی ہے اور اس کو روکنے کے لیے کئی دانشوروں اپنی توانائیاں صرف کر دی ہیں

    کرپشن روکنے کیلئے صرف اس کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ جو شخص کرپشن میں ملوث پایا جائے اس کو فورا برطرف کر دیا جائے اور تاحیات اس پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ کسی بھی سرکاری یا نجی محکمہ میں کوئی نوکری یا کاروبار نہیں کر سکتا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے اگر کسی کے بچے چند روپے کما کر آتے ہیں تو ان کے والدین یا ان کی بہن یا اگر وہ شادی شدہ ہے تو یہ سوال نہیں کرتے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں اگر پاکستان میں ہر شخص اس عمل پر عمل پیرا ہو تو لوگوں میں خوف پیدا ہوگا کہ ہم نے گھر جا کر جواب دینا ہے کہ ہم کہاں سے پیسے کما کر لائے ہیں کس طریقے سے کما کر لائے ہیں تو اس میں یہ خوف پیدا ہو گا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کرنا کیونکہ اگر میں کرتا ہوں تو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا وہ حلال رزق کمائے گا محنت کرے گا کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ میں نے گھر جا کر جواب دینا ہے اب آتے ہیں گھریلو کرپشن کی طرف وہ یہ کہ اگر ہم بچے کو سو روپے دیتے ہیں اور اس میں سے 80 روپے کا سامان آتا ہے تو وہ بقیہ 20 روپے بچہ اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے اور وہ گھر والوں کو واپس نہیں دیتا جب وہ سامان لے کر واپس گھر آتا ہے تو بتاتا ہے کہ سامان سو روپے کا آیا ہے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ والدین اس سے سوال نہیں کرتے کہ کونسی چیز کتنے کی آئی ہے کون سی چیز کتنے کی ہے حساب نہیں کرتے یہاں سے اس کی سوچ کرپشن کی طرف جاتی ہے اور کرپشن ایک ایسی دلدل ہے جو انسان کو تمام عمر نہیں چھوڑتی کرپشن صرف بچوں کی حد تک محدود نہیں ہے کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے میں پاکستان کی کرپشن پر بات اس لئے کر رہا ہوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ اگر کرپٹ لوگ ہیں یا کرپٹ سیاست دان ہیں تو وہ پاکستان میں ہیں آپ کسی بھی محکمے میں نوکری کے لیے جاتے ہیں تو بغیر رشوت کے آپ کو وہ نوکری نہیں ملتی اور اس عمل سے کتنے غریب لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں پاکستان میں کئی دہائیوں سے اس ناسوت بیماری نے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں جس کو اگر بیان کیا جائے تو لکھتے لکھتے ورک ختم ہو جائیں ایک طالب علم پڑھائی کرتا ہے اور جتنی محنت کرنے کا حق بنتا ہے اگر وہ پڑھائی میں اتنی محنت نہیں کرتا تو یہ بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے بدقسمتی اور بدبختی اس ملک میں یہ ہے کہ آج کے اس پرفتن دور میں اگر کوئی شخص سرکاری یا نجی ہسپتال میں جاتا ہے کسی بھی ہنگامی صورت میں تو اس کو جلدی آپریشن کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے کتنی شرم کی بات ہے کہ وہ ملک جس میں آئین و قوانین رشوت لینے یا دینے کی صورت میں سزا کا حکم دیتا ہے اور دین اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اسی ملک میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے پاکستان میں اگر سیاسی کرپشن ختم کر دی جائے تو تب بھی یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ اس ملک میں ہر ایک محکمہ میں کرپشن نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں پر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں چند روپوں کے عوض تعلیمی ڈگری مل جاتی ہے اور آپ یہ بھی اندازہ کر لیں کہ جس ملک میں تعلیم پیسوں میں بکتی ہو وہ ملک تباہی کے کس قدر دہانے پر پہنچ چکا ہے اگر کرپشن حقیقت میں اس ملک سے ختم کرنی ہے اس کا صرف ایک ہی واحد طریقہ ہے جو چوری کرے اس کے ہاتھ کاٹ دیا جائے ہمارا دین اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے جو ادارے ہیں جو کرپشن کے خلاف کاروائی کرتے ہیں سب سے زیادہ کرپشن انہی اداروں میں پائی جاتی ہے اللہ اللہ کر کے اگر کسی کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے تو برائے نام میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں بیان کر سکوں کے اس ملک میں کس کس ادارے میں اور کس کس جگہ کرپشن پائی جاتی ہے آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر ہم اپنی ذات کا محاسبہ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو درست سمت کی طرف گامزن کرتے ہیں تو اس سے کرپشن پر قابو پایا جاسکتا ہے "کیونکہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

  • جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ اور سچ یہ عادتیں بچپن ہی سے سیکھائی جاتی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت ماں جو کرتی ہے بچے پر اس کے اثرات  ہوتے ہیں۔ ماں باپ جھوٹ کے عادی ہوں تو یقینا بجے بھی جھوٹ ہی بولیں گے۔ دیکھا جائے تو سچ یا جھوٹ، دھوکہ فریب  ہر قول و فعل ایک دوسرے کے اردگرد ہی گھومتے ہیں
    حدیث شریف کا مفہوم ہے تمام گناہوں کی جڑ جھوٹ ہے
    جھوٹ بول کر انسان دوسرے انسان کو چپ کروا سکتا یے
    دوسرے انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے
    دوسرے انسان کو اپنی چیز بیچ سکتا ہے
    لیکن اللہ تعالٰی کے سامنے کیسے جھوٹ بولے گا
    قول و فعل میں تضاد بھی جھوٹ ہے
    اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور سچائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے۔ سچ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سچ کہا اور جھوٹ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جھوٹ کہا۔ سچ، نجات اور سکون کا باعث ہے اور جھوٹ، تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔جھوٹ بولنا انسان کو دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت سے بھی محروم کردیتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں اس کا اعتبار اور رتبہ ختم کردیتا ہے۔ اور انسان کو نا اتفاقی کے مرض میں مبتلا کردیتا ہے یہ زبان کی آفت اور ایمان کو مسمار کرنے کا  سبب بنتا ہے۔جھوٹ ہی تمام گناہوں کی جڑ ہے۔

     قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے
    ” جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ اور یہی لوگ جھوٹے ہیں”
    ( سوره النحل: 105)

    جھوٹ کے متعلق کچھ احادیث:-

       سچ اور جھوٹ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ’’تم پر سچ بولنا لازم ہے، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے، اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے، جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
    (صحیح مسلم: 6094)

       ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“
    [صحيح بخاري حديث 6095]

    جھوٹ بولنے سے انسان دوسرے انسانوں کی نظر میں تو گرتا ہی ہے ساتھ میں اللہ تعالٰی کے ہاں بھی سخت عذاب کا مستحق بھی ہو جاتا ہے

    دنیا والوں سے تو جھوٹ بول کرنی چھپا سکتا ہے اللہ تعالٰی سے کیسے چھپائے گا
    انسان جب ایک جھوٹ بولتا ہے تو اس کو چھپانے کے لیے اس کو دس جھوٹ اور بولنے کرتے ہیں

    جھوٹ سے انسان اللہ تعالٰی کے ہاں بھی اور دنیا والوں کے ہاں بھی منہ دیکھانے لے قابل نہیں رہتا

    مل کر معاشرے سے جھوٹ جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے

  • ماں باپ کی انا.تحریر: یاسر خان بلوچ

    ماں باپ کی انا.تحریر: یاسر خان بلوچ

    ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ماں باپ اپنی بیٹی کیلئے جاہل،گنوار،نکما اور فضول شخص سلیکٹ کر لیتے ہیں مگر ایک اچھا ویل ایجوکیٹڈ پرسن رشتہ لے آئے اورکہے کے میں آپکی بیٹی سے محبت کرتا ہوں تو وہ اسے ریجیکٹ کر دیتے ہیں بنا کسی جواز کے اور اپنی بیٹی سے پوچھنا تک گواراہ نہیں کرتے۔
    جبکہ ان کی اپنی بیٹی بھی اسے لائیک کرتی ہو وہ اپنی ہی اولاد کی پسند کو اپنی انا کا مسلۂ بنا لیتے ہیں کہ اس نے ہماری اجازت کے بنا باہر کیوں محبت کی؟
    جبکہ دوسری طرف اسلام نے اس بات کی مخالفت کی ہے آپؑ نے فرمایا کہ اگر آپ کے گھر کوئی رشتہ آتا ہے تو اپنی بیٹی یا بیٹے سے فیصلہ کرنے سے پہلے ضرور مشورہ کرو اور اسے فل اختیار دیں کہ وہ آزادانہ طور پر اس کے بارے میں فیصلہ کرے۔اگر اسے پسند ہو تو آپ بھی پسند کریں اور اگر اسے پسند نہ ہو تو اسے مجبور نہ کریں۔
    جبکہ ہمارے ہاں یہ بات دور دور تک عمل میں نہیں ہے۔پہلے تو کوئی اپنی بیٹی سے پوچھتا نہیں اور اگر کوئی دوسرا اسے اپنی اولاد سے مشورہ کرنے کا کہے تو اسے جواب دیتے ہیں ہمارا خون ہے ہمیں پتا ہے کہ ان کیلئے کیا برا ہے اور کیا اچھا، بھلا کوئی ماں باپ بھی اپنی اولاد کا برا چاہتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری بیٹی کو بھی ہماری پسند پر اعتراض نہیں ہوگا۔
    دوسری طرف اگر کوئی والدین اپنی بیٹی سے پوچھ لیں اور جواب میں اگر وہ اعتراض کر دے تو اسے اپنی انا بنا لیتے ہیں۔اور اس پر بدچلن کا ٹائیٹل لگا دیتے ہیں۔اس سے پورا گھر بلکہ پورا معاشرہ تک منہ موڑ لیتے ہیں۔اس بیچاری پر دباوٗ ڈالا جاتا ہے ہر کوئی اسے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے دوست،رشتہ دار اور گھر والے سب۔
    اگر والدین اپنی بیٹی سے پوچھیں اور بیٹی انکار کر دے اور والدین بیٹی کی مان لیں تو لوگ اس لڑکی پر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اس پر گندے گندے الزام لگائے جاتے ہیں۔انجام یہ کہ اس کے والدین لوگوں کی باتوں میں آکر اپنی بیٹی کی نہیں سنتے اور بس یہ کہ دیتے بیٹا ہم مجبور تھے۔

    اپنی بیٹی کی زرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھنے والے بھی ایسے موقع پر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور اپنی عزت لے کے بیٹھ جاتے۔
    المیہ یہ کہ وہ اپنی بیٹی کی پسند کو قتل کر دیتے اور وہ بھی بے دردی سے، اور اگر ان کا یہ فیصلہ غلط ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ بس نصیب!! اس کے نصیب میں ایسے تھا۔
    ہم اپنے رسم و رواج کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں۔اسی رسم و رواج کی وجہ سے بعض لڑکیاں گھر کی دہلیز پار کر جاتی ہیں وہ اپنے والدین کو نہیں بتا سکتی کہ انہیں فلاں شخص سے محبت ہے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے والدین اس کی پسند کو قبول نہیں کریں گے۔بعض اوقات لڑکیوں کا گھر سے قدم اُٹھانے کی وجہ ان کے گھر کا ماحول ہوتا ہے کہ اس کی اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے دل کی بات اپنے گھر والوں کو کھل کر کہ سکے۔کیونکہ ان کو ڈر ہوتا کہ کہیں ان کی جان نہ لیں لے۔

    بیٹی کا گھر کی دہلیز پار کرنے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کو کھل کر سب بتا دے کہ اسے فلاں شخص سے محبت ہے۔اسے کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے کسی بھی قیمت پر اسے بتا دینا چاہیے۔ اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کی بات سنیں اور اس شخص کے بارے میں تصدیق کریں اگر اچھا لگے تو ٹھیک نہیں تو بیٹی کو آگاہ کریں نا کہ اسے اپنی انا کا مسلۂ بنا ئیں۔
    اور خدارا اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا تعلق رکھیں کہ وہ اپنے بارے کوئی بھی فیصلہ لینے لگے تو آپ کو بتائے اور اسے یقین ہو آپ اس کی بات سنیں گے اور اسے اپنی انا کا مسلۂ نہیں بنائے گے۔