Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • منشیات کا  رجحان . تحریر: محمد جاوید

    منشیات کا رجحان . تحریر: محمد جاوید

    ہمارے معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اور نفسیاتی مسائل کسی سنگین خطرے سے خالی نہیں.ہر روز ہم اخبارت اور شوشل میڈیا پر اس طرح کی کئی خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ منشیات کا نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے دھوکے سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر ختم ہوجاتی ہے۔ منشیات کی لعنت صرف ہائیر تعلیمی اداروں اور ہائیر سوسائٹی میں ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ ایک فیشن کے طور پر سامنے آرہی ہے۔گاؤں کھیڑے کے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ جس کے انتہائی مضر اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں ۔ راہ چلتے چھوٹے بچے بھی سگریٹ کا دھواں اڑاتے دیکھائی دیتے ہیں۔
    اکثر بچے اور نوجوان والدین کی غفلت اور ان کے رویہ کی وجہ سے نشے کی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کو بھی دیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔۔۔کہاں جاتے کس سے ملتے ہیں۔ بعض مرتبہ تو غلط صحبت ملنے سے نشے کے عادی ہوجاتے ہیں۔کئی اپنے مسائل سے ڈر کر اور کئی حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لئے بھی نشہ کا سہارا لیتے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نوجوان نسل فیشن کے طور پر سگریٹ یا دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کرتی ہے پھر یہ فیشن یہ شوق وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بن جاتا ہے اور اس طرح وہ شخص مکمل طور پر نشے کاعادی بن جاتا ہے۔ اورپھر اس کے دل و دماغ کو مکمل تباہ و برباد کردیتا ہے ۔ پھروہ شخص ہر وقت نشے میں مدمست رہتا ہے۔ اور اس کو پورا کرنے کے لئے ہر وہ غلط کام کرنے لگتا ہے جہاں سے پیسے حاصل کرسکے۔ اور اس طرح اچھا بھلا تندرست صحت مند انسان اپنی زندگی کو تباہی کی دہلیز پر لا کر کھڑا کرتا ہے ۔
    پوری دنیا منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کے ساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ رہی ہے۔ اور کھائے جارہی ہے۔سگریٹ اور شراب پیتے ہوئے لوگوں کو دوستوں کو دیکھ کر دل مچل جاتا ہے۔جو نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے ان کی زندگی کو اندھیرے میں ڈال کر ان کی جوانی کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہا ہے۔
    منشیات کی عادت ایک خطرناک مرض ہے۔ یہ خود انسان کو اور اس کے گھربار کو معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔ اگر ایک بار کوئی نشہ کرنے کا عادی ہوجائے تو وہ پھنستا ہی جاتا ہے۔اور پھنسے کے بعد اس کے مضر اثرات کا انہیں ادراک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟؟؟

    منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشےکا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی خوشیوں کی خواہشات کی تمناؤں کی بھی موت ہوتی ہے۔کوئی اگر نشہ کرنا شروع کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ، کوئی واقعہ، مایوسی، محرومی اور ناکامی کا کوئی پہلو ہوتا ہوگا۔پر انسان یہ کیوں نہیں سوچتا کہ مایوسی اور ناکامی کا علاج صرف نشہ کرنا نہیں۔ بلکہ نشہ انسان کی صحت کے لیے زہر ہے۔ آج کل نئے نئے فلیور میں نشہ آور چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔لیکن یہ نشہ انسان کی صحت خراب کرنے کے ساتھ ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔نشہ بیچنے والے دلال، لوگوں سے، قوم سے، نئی نسل سے پیسے بٹور کر ان کو تباہی کی طرف ڈھکیل دیتے ہیں۔ نسلیں تباہ ہو رہی ہے ہو جائے اُن کی بلا سے انہیں تو صرف نوٹ بٹورنے ہیں۔
    کسی بھی قوم کے لیے اصل قوت اِن کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نئی نسل کا جذبہ ہی کسی بھی قوم کو بھرپور ترقی سے ہم کنار کرتا ہے۔ کسی بھی ملک میں نئی نسل کو ملک کی بہتر خدمت کے لیے بھرپور انداز سے تیار کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔صرف معاشی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں ہوا کرتی بلکہ ملک کے دفاع میں بھی اس کا بھرپور کردار ہوتا ہے۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو سرحدوں پر رات دن جاگ کر ملک کو دشمنوں سے بچاتے ہیں۔ ملک کی آزادی اور خود مختاری کا حقیقی تحفظ نئی نسل ہی کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔ اگر نئی نسل متحد اور چوکس ہو تو دشمن اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ کسی بھی طور نہیں پہنا سکتا.

    لیکن آج نشے کے تاجروں کے ذریعے نئی نسل کو مختلف نشوں کی عادت میں مبتلا کرنا اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔کسی ملک کی نئی نسل منشیات کی عادی ہوجائے نتائج انتہائی خطرناک ہوجاتے ہیں۔
    ایک طرف تو دنیا بھر میں منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کو ہر طرح کی منشیات سے بالکل پاک کرکے نوجوانوں کو مکمل تباہی سے بچایا جائے اور دوسری طرف منشیات کا مافیا نئی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ منشیات کی غیر قانونی تجارت سے کروڑوں کماتے ہیں۔ نوجوانوں کو ہیروئن، کوکین، چرس، گانجا، افیم اور نہ جانے کتنے طرح کے نشے میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔اور نئی نسل کا منشیات کی لَت میں مبتلا ہونا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں آگے چل کر ملک کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔اور سوال صرف معاشی نقصان کا نہیں ہے بلکہ نئی نسل کو منشیات کی لت میں مبتلا کرکے کسی کام کا نہ رہنے دیا جائے۔ جب نئی نسل منشیات کی عادی ہوگی تو معاشرتی خرابیاں بھی پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں پورے معاشرے میں بگاڑ پھیلے گا۔معاشرے کی بنیاد ہلانے میں اور نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔

  • چوراہے میں پڑا نشئی. تحریر:بشارت محمود رانا

    چوراہے میں پڑا نشئی. تحریر:بشارت محمود رانا

    انسانی معاشرتی بگاڑ میں جہاں اور بہت سی بُرائیوں کو مؤردِ اِلزام ٹھرایا جاتا ہے اُن میں سے ایک بہت بڑی بُرائی اور لعنت مختلف اقسام کی منشیات بھی ہیں جو انسانی معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں یا پھر پھیلائی گئی ہے۔

    آج میں اپنے پیارے ملک پاکستان کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اِس برائی کے خلاف آواز اُٹھانے کی اپنے تائیں بھرپور کوشش کروں گا۔

    اِس سے پہلے اسی ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کرتے ہوئے میں یہاں ایک بات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا کہ 20 جون 2021 کو میں نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پہ تھریڈ کی صورت میں “ نشہ ایک لعنت ہے” کے عنوان سے ایک ٹویٹ بھی کی تھی، جس میں میں نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب، اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کی وفاقی منسٹری اور اینٹی ناکوٹکس فورس پاکستان کے آفیشل ہینڈلز کو بھی مینشن کرتے ہوئے اِس برائی کے خلاف کاروائی کرنے اور جو کوئی بھی منشیات کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں اُن کے خلاف سخت سزاوں کے قوانین بھی بنائے جانے کی درخواست کی تھی۔

    اور اس کے ساتھ ساتھ ٹویٹر پہ موجود بڑی ٹرینڈنگ ٹیمز کے ہیڈز کو بھی ہینڈل کے ساتھ مینشن کر کے ٹرینڈ کی صورت میں اس کے خلاف آواز اٹھانے کی درخواست بھی کی تھی تا کہ اربابِ اختیار تک آواز پہنچ سکے، جس کے بعد اِن میں سے کچھ مینشنڈ ٹیمز کی جانب سے 26 جون 2021 کو منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ” #نشہایکلعنت ” کے نام سے ٹرینڈ بھی لانچ کیا گیا تھا، جو تقریباً دو دن تک پینل پہ موجود رہا۔ جس میں، میں نے بھی بھرپور حصہ لیا تھا۔ اُن ٹیمز اور اُس ٹرینڈ میں شامل ہونے والے سبھی عزیزان کا شکریہ

    تو اب معاشرے کے اِس ناسور کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں کہ

    بلاشبہ! نشہ خواہ وہ کسی بھی قسم کا ہو، جس سے انسان مدہوشی یا مستی سی کے عالم میں چلا جائے، وہ بہت سے نقصانات کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیونکہ انسان جب نشے کی حالت میں ہو تب وہ خود پہ اپنا کنٹرول کھو بیٹھتا ہے اور پھر اِس عالمِ مدہوشی کی وجہ سے اِس کا بہت ساری دوسری معاشرتی برائیوں اور گناہوں میں پڑ جانا معمولی سی بات ہو سکتی ہے۔

    اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو تقریباً پاکستان کے ہر شہر میں آپ کو فٹ پاتھوں، چوکوں، چوراہوں، پارکوں اور بہت سی جگہوں پہ ایسے نشئی نشے میں دُھت لوگ گرے، پڑے، بیٹھے اور نشہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے اور اکثر اوقات تو عام شہری بھی اِن کی وجہ سے پریشان ہوتے نظر آتے ہیں لیکن! اِن نشئیوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ نہ تو پولیس ہی انہیں کچھ کہتی ہے، نہ ہی کوئی اور ادارہ۔

    اور ایسے گِرے پڑے ہوئے یہ نشئی دِکھنے میں بھی کے لئے بھی عجب منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ لہذا اس کا سدباب بھی بہت ضروری ہے۔
    اور اِس میں ذرّا برابر بھی کوئی شک نہیں کہ اِس منشیات کو بیچنے کے کاروبار میں بھی بھاری منافع کمایا جاتا ہے۔ جِس میں بلاشبہ بیک ڈور پہ بڑے بڑے سیاسی کردار اور سرکاری محکموں میں موجود بہت ساری کالی بھیڑیں بھی ملوث ہوتی ہیں۔ جو اِس جان لیوا اور حرام دھندے میں صرف پیسوں کی خاطر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ اور یہی نہیں بلکہ اگر کوئی ان کے بارے شکایت کرے تو نہ صرف اُنہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں بلکہ جہاں ضرورت پڑے ہر قسم کی طاقت کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

    جو کہ معذرت کے ساتھ ہمارے معاشرے کی چند تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے اور یہ بدعنوان لوگ نا صرف ہمارے پیارے ملک پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں بلکہ اِس ملک کے عوام کے ساتھ بھی بہت بڑا ظلم اور ذیادتی کرتے ہیں۔

    اور یہ منشیات کا کاروبار اور نشہ ایک ایسی حرام لعنت ہے جس کے حرام ہونے کا ذکر خود اللہ تعالی نے بھی قرآنِ مجید میں کیا ہے جن میں سے چند آیات پیشِ خدمت ہیں کہ

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ: سورة المائدہ آیت نمبر90
    ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔

    يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ: سورة البقرہ آیت نمبر219
    ترجمہ: (اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو۔

    تو اس طرح ہمیں بطور مسلمان بھی اِن قرآنی احکامات کو دیکھتے ہوئے منشیات کے استعمال اور اِن کے کاروبار کو بھی حرام جانتے ہوئے اِس سے جتنا ہو سکے بچنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو سکے اس کے خلاف کھڑے بھی ہونا چاہیے۔

    اب میں اِن منشیات کے استعمال سے ہمارے معاشرے پہ پڑنے والے بُرے اثرات کا ذکر کروں گا وہ یہ کہ

    اگر ہم اپنے معاشرے میں اپنے اِرد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت ساری ایسی مثالیں دیکھنے کو مِلتی ہیں جن میں زیادہ تر افراد جو کسی بھی قسم کے نشے میں مبتلا ہو جائیں، وہ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کیلئے ہی وبالِ جان بنتے ہیں پھر اپنے گلی محلے والوں کے لئے اور پھر اپنے گاؤں، قصبے یا پھر ٹاؤن کے لئے اور پھر ان میں سے کچھ تو شہر کی سطح تک لوگوں کیلئے مصیبت کا باعث بنتے ہیں۔

    جیسے کہ پہلے پہل یہ نشے کے عادی لوگ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے کسی نہ کسی بہانے سے اپنے گھر والوں سے پیسوں کا انتظام کرتے ہیں۔ پھر جب کام ایسے نکلنا بند ہو جائے تو گھر والوں سے پیسوں کے لئے لڑائی کرنا بھی اِن کا معمول بن جاتا ہے۔

    اور پھر انہیں اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے آہستہ آہستہ اپنے ہی گھر سے پیسے چُرانے کی عادت پڑنا شروع ہو جاتی ہے، پھر اپنے گھر سے چیزیں چوری کر کے بیچنا اور اپنا نشہ پورا کرنا اور کبھی گھر والوں سے لڑائیاں، کبھی کسی سے مار پیٹ کرنا، اِن کا معمول بن جاتا ہے۔ اور یہ وقت ہوتا ہے جب ان کے گھر والے ان سے تنگ آ کر انہیں گھر سے نکال دینا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

    لیکن! تب تک اِن نشئیوں کو اس قدر نشے کی لَت لگ چکی ہوتی ہے کہ مر جانا بہتر سمجھتے ہیں مگر! اپنا نشہ کرنا نہیں چھوڑ سکتے اور پھر یہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے گلی محلوں میں چوریاں کرنا اور آہستہ آہستہ بڑے بڑے ڈاکے مارنے میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ پھر اِن چوریوں اور ڈکیتیوں کے بعد یہ نشے میں عقل سے عاری لوگ بچوں اور بچیوں کو اغوا، زنا باالجبر جیسے واقعات میں بھی ملوث پائے جانے لگ جاتے ہیں۔

    الغرض! معاشرے میں پائی جانے والی ہر برائی میں ایسے لوگوں کی شمولیت عام ہو جاتی ہے۔

    اور اب آخر میں! میں گورنمنٹ آف پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان اور باقی تمام اربابِ اختیار سے مؤدبانہ گزارش کروں گا کہ اس گمبھیر مسئلے کا لازم کوئی مستقل سدِباب کیا جائے اور منشیات کے عادی لوگوں کا اس نشے سے نجات کے لئے ان کے علاج کا کوئی مستقل انتظام اور ان منشیات کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت سزائیں اور قوانین بنائے جائیں تا کہ ہمارے معاشرے میں برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور ہم بطور پاکستانی ایک عزت دار قوم کے طور پر دنیا میں اپنا اعلی مقام حاصل کر سکیں۔

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    ‏آپ گاڑی کسی مکینک کی ورکشاپ پر کھڑی کرجاتے ہیں لیکن باقی وقت اسی غم میں گذرجاتا ہے کہ پتہ نہیں وہ انجن کی اوورہالنگ کے 40000 میں سے کتنے پیسے لگائے گا اور کتنے اپنی جیب میں ڈالے گا، کمپوننٹ اوریجنل ڈالے گا یا نقلی کوالٹی کے ڈالے گا، سامان پرانا ڈال دے گا، یا ڈالے گا ہی نہیں۔۔
    آپ گاڑی کسی رشتہ دار کے گھر کے ساتھ گلی میں کھڑی کرجاتے ہیں لیکن ساری رات اسی ٹینشن میں گذرجاتی ہے کہ پتہ نہیں کوئ اڑا ہی نہ لے جائے، کوئ ٹائر ہی نہ کھول لے جائے۔۔
    کسی الیکٹرانک شاپ سے کوئ چیز خریدتے وقت اچھی اور بری کوالٹی کا سیاپا ہی رہتا ہے…
    شوز کی کسی شاپ سے بھی اچھے اور برے مال پر تول مول چلتا رہتا ہے…
    کپڑے لیتے وقت دکان دار سے صرف اس غرض سے دوستی بڑھائ جاتی ہے کہ کہیں وہ خراب کوالٹی کا کپڑا اچھی کوالٹی کا بول کے نہ دے دے۔۔ اس سے خوامخواہ میں ڈاک خانہ ملایا جاتا ہے، یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہم پہلے بھی آپکی شاپ سے اتنا کپڑے لے کر گئے ہیں ، اگلی بار اور گاہک بھی لائیں گے لیکن پلیز ہمیں کپڑ ا اچھی کوالٹی کا دینا اور پیسے بھی کم لگانا۔۔۔۔
    رشتہ لیتے وقت بھی یہی ٹینشن رہتی ہے کہ پتہ نہی دوسرا فریق کتنی غلط بیانیاں کررہا ہوگا۔ لڑکی کیسی ہوگا، لڑکا کیسا ہوگا، نشہ تو نہیں کرتا۔۔ کاروبار کیا ہے؟ پہلے سے شادی شدہ تو نہیں؟ وغیرہ وغیرہ

    کہیں پلاٹ لے لیا تو اسکی ہزار دفعہ چھان بین کریں گے۔۔ سب یہی مشورہ دیں گے کہ جلدی سے پلاٹ کی نشانیاں لگا لو, چاردیواری پھیر لو ایسا نہ ہو کہ کوئ قبضہ ہی کرلے.
    مکان کرائے پر دیتے وقت کرائے دار سے بھی یہی مطالبہ ریتا ہے کہ بھائ وقت پر خالی کردینا اور قبضہ نہ کرلینا..
    مکان بنواتے وقت ہر وقت ٹھیکے دار کے سر پر کھڑا رہنا پڑتا ہے ورنہ یہی پریشانی رہتی ہے کہ پتہ نہیں وہ میٹریل کس کوالٹی کا استعمال کرتا ہوگا. شارٹ کٹ تو نہیں لے رہا..
    کوئ قریبی جاننے والا پیسے مانگ لے تو آپ پیسے ہوتے ہوئے بھی اس سے جان چھڑالیتے ہیں کیونکہ آپ کو یہی خدشہ ہوتا ہے کہ یہ میرا پچاس ہزار اگلے پانچ سالوں میں بھی نہیں لوٹائے گا، اسکے پیچھے ذلیل ہونا پڑے گا۔۔ 50 ہزار کے وہ پچاس ٹکڑے کرکے واپس کرے گا، چونیاں اٹھنیاں آپکے کام کے کسی کام نہ آئیں گی ۔۔
    ریڑھی والے کے سر پر بھی کھڑے ہوجاؤ کہ ٹماٹر اچھے ڈالنا لیکن وہ پھر بھی ڈنڈی مارجائے گا..
    قصائ سے گوشت لیتے وقت بار بار زبان ہونٹوں پر پھیری جاتی ہے کہ پتہ نہیں یہ گوشت بکرے کا ہے یا گدھے گا….
    بازار میں جاؤ تو ایک ہاتھ جیب پرہی رہتا ہے کہ کہیں کوئ پاکٹ نہ مارلے۔۔۔

    ٹرین میں سفر کررہے ہیں تو سامان پر نظر رکھنے کے لیے ایک بندے کو جاگ کر رہنا پڑتا ہے. ۔۔
    تھانے، کچہری کا چکر خدا کسی کو نہ لگوائے اور کوئ تھانے کچہری کے چکر میں پڑہی گیا تو بے گناہ ، مظلوم اور مدعی ہونے کے باوجود عزت بھی جاتی ہے، پیسہ بھی جاتا ہے اور وقت بھی۔۔
    آپ جس جس شعبہ زندگی پر نظر ڈالتے جائیں یہی کہانیاں ملیں گی.. میں یہ نہیں کہتی کہ سب لوگ ایک جسے ہیں لیکن یہ تناسب 80 اور 20 کا رہتا ہی ہے
    ایک مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پاکستانی اس چکی میں ہمشہ پستا ہی رہتا ہے
    ہمارا مجموعی معاشرہ بھی اسی منافقت. مفاد پرستی. لالچ ,جھوٹ اور بے حسی پر مشتمل ہے جبکہ ہر دوسرا آدمی ان باتوں کا گلہ بھی کرتا ہے اور خود ہی ا ن خرابیوں میں حصہ دار بھی ہوتا ہے۔“

  • حسد اور انسانی رویے .تحریر  :  ریحانہ  بی بی

    حسد اور انسانی رویے .تحریر : ریحانہ بی بی

    رویے کا تعلق نفسیات سے ہے اور علم نفسیات کے مطابق رویے سے مُراد انسان کی شخصیت کاایسا گہرا عنصر ہے جو خاص طور پر سوچنے, محسوس کرنے اور اس پر عمل کرنے پر آ مادہ ہوتا ہے تو یہ اسکا رویہ کہلاتا ہے.

    حسد :
    دوسرے کی اچھی قسمت کی وجہ سے تکلیف ہو یا اسکے اچھے کاموں سے جلن ہو, اسے حسد کہہ سکتے…
    حسد کے معنی ہے کسی دوسرے شخص کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اسکے نقصان کے درپے ہونا.
    کسی کی ترقی سے دل میں گھٹن محسوس ہونا اور ناخوش ہونا وغیرہ یا اسکا زوال چاہنا…
    حسد کا بنیادی سبب تو یہی ہے کہ حاسد اس نعمت سے محروم ہے جو دوسرے کو مل گئی ہے.

    اب آ تے ہیں حسد اور انسانی رویوں پر
    موجودہ دور میں لوگوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر کے رویے منفی ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اسی منفی سوچ اور رویے کی وجہ سے ایسے لوگوں سے دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں ہوتی اور برداشت نہ ہونے کی صورت میں نوبت حسد تک پہنچ جاتی ہے.

    مزے کی بات ہے کہ بظاہر ایسے لوگوں کا رویہ دوستانہ اور ہمدردانہ ہوتا ہے. جب ان سے کوئی اپنی کامیابی کا ذکر کرتا ہے تو ظاہری طور پر اسکا دل رکھنے کے لئے بہت خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن باطنی طور پر جلن محسوس کرتے ہیں.
    یاد رکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش رہنا سیکھنا ہوگا ورنہ حسد دشمنی اور دشمنی فساد کی طرف لے جاسکتی ہے. جس سے نہ صرف گھر بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے. اور حسد آ خرت میں اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے.
    اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی ایک کو نعمت عطا کرتا ہے تو دوسرے کو وہ نعمت عطا نہیں کرتا. ایسی صورت میں اللہ قرآن پاک کی سورۃ النساء میں فرماتا ہے.. اور اس فضیلت کی تمنا نہ کرو جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر دی ہے.

    سورۃ الفلق میں ہے کہ, میں اپنے پروردگار سے پناہ مانگتا ہوں خاص کر حاسد کے شر اور بُرائی سے جب وہ حسد کرنے لگے.
    رسول پاک ص نے حسد سے بچنے کیلئے یوں تلقین فرمائی
    حسد کرنے سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آ گ لکڑی کو کھا جاتی ہے.
    اگر ہم قرآن و سیرت نبوی اور صوفیاء کے حالات زندگی پڑھیں تو یقیناً یہ مرض ختم ہوجائے گا.
    اس بات پ پختہ یقین کرلیں کہ نعمتیں عطا کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے جو اپنے بندوں کو نعمتوں سے نوازتی ہے. بندہ مومن ہونے کے ناطے ہمیں اللہ کے فیصلے اور تقسیم پر راضی ہونا چاہیے.
    کسی کی کامیابی پر یا اسکی اس نعمت پر ( جو اللہ نے عطا کی) دل سے اسی طرح خوشی کا اظہار کریں جیسے بظاہر آ پ ان سے دوستانہ رویے سے کرتے ہیں.
    رویے میں منافقت تو نہ کریں, بظاہر اچھا رویہ اور اندر سے اسکی نعمت کے زوال کی خواہش….
    یہ منافقت آ پ اپنے ساتھ کرکے کسی اور کا نقصان کریں نہ کریں مگر اپنا ضرور کردیں گے کیونکہ حاسد سکون اور قناعت کی دولت سے محروم رہتا ہے. اپنے حسد کی بھڑکتی آ گ میں جلتا رہتا ہے اور مایوسی اسکا مقدر بن جاتی ہے.
    اس لئے اپنی سوچ مثبت رکھئیے. جب آ پکی سوچ مثبت ہوگی آ پکے رویے اچھے ہونگے ( ظاہری اور باطنی دونوں)
    یاد رکھیں رویے انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اور مثبت رویوں سے ہی مثبت تبدیلی آتی ہے.

  • کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    ساوتھ افریقہ کے 79 سالہ سابق صدر جیکب زوما جنہوں نے ٢٠٠٩ سے ٢٠١٨ تک حکمرانی کی ان پر کرپشن کے الزامات تھے جن پر انہوں اکڑ دکھاتے ہوئے آئینی عدالت میں پیش نہ ہونے کو ترجیح دی اور عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہوۓ جس پر عدالت نے انھیں چار جولائی تک کی مہلت دی کے یا تو گرفتاری دیں یا پھر پولیس سابق صدر کو گرفتار کرے سابق صدر جیکب زوما نے مہلت ختم ہونے سے چند لمحے پہلے خود کو حکام کے حوالے کردیا اور اب قانون کے مطابق وہ پندرہ ماہ کی جیل کی سزا کاٹیں گے

    عدل و انصاف کا نظام اسلامی ریاست کی اساس رہا ہے لیکن دیکھا جاۓ توعدل وانصاف کے اس نظام کا مملکت خدا داد پاکستان میں فقدان ہے ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں لیکن اسکے برعکس ہمارے سزا یافتہ حکمران بلندوبانگ دعووں کیساتھ عیش و آرام سے رہتے ہیں اور آزادی سے بیرون ملک سفر کرتےاور پھر عدالتی بلاوے کو روندڈالتے ہیں_

    ساوتھ افریقہ کے صدر کے حق میں کسی نے نعرہ نہیں لگایا اسکو چھوڑ دو اور ووٹ کو عزت دو . بلکہ وہاں پر عوامی تجسس یہ تھا کہ آیا سابق صدر اور پولیس آئینی عدالت کے حکم کا پاس کریں گے یا نہیں کیوں کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور قانون کے احترام میں معاشرے کی بقا ہے ہمارے سیاستدان عدالتی فیصلوں اور تصدیق شدہ جرائم کے باوجود ضمانتیں لیکر انتخابی تحریکیں چلاتے اور اپنا نظریہ عوام میں پھیلاتے ہیں اور یہ سوال پوچھتے ہیں ‘کیا آپ ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں کا وزیراعظم عدالتوں میں پیش ہو ؟_

    ہمارے ہاں قانون اور عدالتی بالادستی کیساتھ عوامی شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کے قانون سے کوئی افضل نہیں اگر خلیفہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اپنی زائد چادر کا حساب دینے کے پابند تھے تو آج کےاور سابقہ حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوۓ جوابدہی میں اپنی ہتک نہیں سمجھ سکتے اس لیے کے قانون سب کیلئے برابر ہونا چائیے

  • اڑان .تحریر: ‏حمیرا الیاس

    اڑان .تحریر: ‏حمیرا الیاس

    وہ روز صبح ہی صبح اڑان بھرتی، اور اپنی چونچ میں کچھ نا کچھ بھر کر لاتی ریتی،تب تک جب تک بچوں کی بھوک ختم نا ہو جاتی،اور وہ خاموش نا ہو جاتے
    اور میں روزانہ یہ اڑان دیکھتی
    پھر ایک دن کیا ہوا کہ صبح دم کی چہل پہل میرے روشن دان میں ختم ہو چکی تھی۔ اور وہاں بس خاموشی کا راج تھا۔ چڑیا کے بچے اڑنا سیکھ چکے تھے، اور وہ گھونسلا چھوڑ کر اڑ گئے۔ چڑیا بھی دوبارہ نظر ناآئی، کافی دن انتظار کر کے گھونسلہ ادھر سے ہٹادیا۔ تھوڑے دن گزرے تھے کہ ہماری کام والی واویلا کرتی آن موجود ہوئی، امی کے سامنے بیٹھےروئے جائے، پانی کھانا،چائے پینے کے بعد کچھ ڈھارس بندھی تو پتا چلا کہ بیٹے کی نوکری دوسرے شہر میں ہو گئی، بہت اچھی تنخواہ مل رہی اب ماں کے لئے اس گھر کو چھوڑنا اپنے محلے داروں رشتے داروں سے دور رہنا ممکن نہیں ہو رہا، اور وہ زور دے رہی تھی کہ کوئی اس کے بیٹے کو سمجھائے اپنے شہر سے دور نوکری نا کرے۔
    اور وہ رات اس سوچ میں گزری کہ ماں تو ماں ہے، وہ کیوں اتنا کچھ کرتی، وہ کسی پرندے کی ہو یا انسان کی،خود سے بڑھ کر اپنی اولاد کو دیتی۔ ہر سکھ کے لئے بار بار اڑان بھرتی۔ اندر باہر کے چکر کاٹتی۔

    لیکن کیاوجہ ہے کہ چڑیا اپنے بچوں کو گھونسلے سے اڑان بھرنا سکھاتی!!!
    جبکہ ہمارے معاشرہ کی ماں اسے اڑان سکھانے کے بجائے خود خوفزدہ اور غیر محفوظ ہوجاتی!!!
    کیوں؟؟
    بہت سی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہم پہلے سے ہی یہ سوچ کر بچے پیدا کرتے کہ یہ ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہوںگے۔

    ہجرت ہر پیغمبر کی نسبت سے ہمارے لئے سنت ہے، لیکن ہم ہجرت کے نام سے ہی خوفزدہ ہونے لگتے۔ ہم گھروندے بنا کر انہی میں اپنی وابستگیاں اتنی گہری لگاتے کہ ان کے ٹوٹ جانے سے ڈرنے لگتے۔
    یہی خوف بڑھ کر ہمارے بچوں کے اوپر ہر وقت پروں کی چھایا کئے رکھنے کی ترغیب دیتا، ہم ان کی پرواز سے ڈر جاتے کہ کہیں کچھ گزند نا پہنچے، اور یوں ان کی اونچی اڑان کی راہ میں ہم خود رکاوٹ بن جاتے

    کیا ایسے ہم اس چڑیا سے زیادہ بے بس اور کمزور نا ہوئے؟ جس نے اپنی اولاد کو پرواز کرنا سکھایا، آر آزاد کر دیا کہ کاؤ، اس دنیا میں گھومو، پھرو اور اللہ کی تسبیح بیان کرو۔
    ہمارے معاشرہ میں ہر جگہ پر محدود سوچ کی بنیادی وجہ ہمارا اپنے بچوں کو یہ ترغیب دینے سے کوتاہی ہی ہے۔
    ذمہ داری بحیثیت والدین یا اساتذہ یہی ہے کہ ہم انہیں اڑان بھرنا سکھائیں اور جب وہ آزادانہ رہنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں اپنی زندگی کو جی کر دیکھنے دیں۔

    ہاں ایک انسان اور چڑیا میں اتنا فرق ضرور ہے، کہ والدین اپنی اولاد کی کونسلنگ اور حوصلہ افزائی دونوں کے لئے ان کے پیچھے موجود رہیں تاکہ ان کے پروں کی سمت صرف اونچی پرواز ہی کی طرف اشارہ کرے، بس یہی ایک طریقہ ہو سکتا اسوقت گرتی معاشرتی اقدار کو سہارا دینے اور واپس اوج ثریا کو پانے کا۔

    @humerafs

  • ‏گھریلوتشدد بل کے نام پرآزاد خیال معاشرے کا قیام  .تحریر:عنقودہ

    ‏گھریلوتشدد بل کے نام پرآزاد خیال معاشرے کا قیام .تحریر:عنقودہ

    گھریلو تشدد بل سینٹ سے منظور ہوکر آئینِ پاکستان کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک خوشنما نام لیکن اس کے مندرجات دیکھیں تو یوں لگے گا کہ جیسے کسی سیکولر / لبرل مغربی فنڈڈ این جی او نے اپنا منشور ہی آئین پاکستان کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ خاندانی نظام، خونی رشتوں اور خصوصاً والدین اور اولاد، میاں بیوی کے درمیان تعلقات، خانگی زندگی کی بنیادیں ہلا کے رکھ دے گا۔

    آئیے پہلے اس کے چیدہ چیدہ پوائنٹس دیکھتے ہیں۔ ان کی گہرائی میں جانا، مستقبل کی تصویر سوچنا آپ پر ہے۔

    گھریلو تشدد بل کے اہم نقاط یہ درج ذیل ہیں.
    🔥والدین کا اپنے بچوں کی پرائیویسی، آزادی میں حائل ہونا جرم ہوگا
    🔥اولاد کے بارے میں ناگوار بات کرنا / شک کا اظہار کرنا بھی جرم ہوگا
    🔥معاشی تشدد یعنی کسی بھی قسم کے اختلاف، نافرمانی، کسی بھی وجہ سے بچے کا خرچہ کم یا بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ جرم ہوگا، اس پر سزا ملے گی
    🔥جذباتی / نفسیاتی اور زبانی ہراسمینٹ کی اصطلاحات متعارف کرائی گئیں ہیں، یعنی کسی بھی بات کو ہراسمنٹ قرار دے سکتے ہیں
    🔥خاوند کا دوسری شادی کا کہنا، خواہش کا اظہار کرنا جرم ہو گا، اسے گھریلو تشدد قرار دیا گیا ہے۔
    🔥طلاق کی بات کرنا بھی جرم، جس کی سزا ہوگی، اسی طرح کوئی غصے والی بات، اونچی آواز میں بولنا، کوئی بھی ایسا جملہ جو کہ جذباتی، نفسیاتی یا زبانی اذیت کا باعث بنے وہ جرم تصور ہوگا
    🔥اگر باپ نے مندرجہ بالا "جرائم” میں سے کوئی ایک سرزد کیا تو بطور سزا وہ اپنے گھر نہیں جاسکتا، اسے اولاد سے "محفوظ” فاصلے پر رہنا ہوگا۔ جی پی ایس کڑا پہننا ہوگا۔ کسی شیلٹر ہوم / یا تھانے میں سزا کاٹنی ہوگی
    🔥کم سے کم 6 ماہ جبکہ 3 سال تک سزا سنائی جاسکتی ہے۔ ایک لاکھ تک جرمانہ بھی ہوگا، اگر جرمانہ نہ دیا تو مزید 3 سال قید
    🔥اس میں ساتھ دینے والے کو بھی برابر کی قید ہوگی، یعنی ماں اور باپ دونوں مجرم بنیں گے😨

    اس بل کو بجٹ اجلاس میں انتہائی عجلت میں منظور کیا گیا، تمام سیاسی جماعتوں نے حق میں ووٹ دیا، جبکہ صرف چند مذھبی جماعتوں نے محض علامتی طور پر مخالفت کی۔
    صحافی اوریا مقبول جان کے مطابق اب تو والدین اس قدر قانون کے شکنجے میں ہوں گے کہ اگر بیٹا آوارہ پھرتا ہے ، نشہ استعمال کرتا ہے ، کسی بھی اخلاقی جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو والدین اس کو روک نہیں سکیں گے ، اسی طرح بیٹی ، بیٹے کی ” آزادی ” اور پرائیویسی میں دخل دینا قابل سزا جرم بنا دیا گیا ہے ۔ یہ تو جیسے عورت مارچ کا ایجنڈا پاکستانی قانون بن گیا ہے ، مہر گڑھ ، الف اعلان ، عورت فاؤنڈیشن وغیرہ جیسی این جی اوز ایسے قوانین منظور کراتی ہیں ۔ معاشرے کے سنجیدہ حلقوں کو احساس تک نہیں کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ چند طاقتور این جی اوز کس طرح ملکی آئین میں اپنا ایجنڈا شامل کر رہی ہیں ۔

    والدین کو مجرم بناکر پیش کرنا ایک ایجنڈا ہے ۔ اس کے کئی مقاصد ہیں ۔ جب ان قوانین کے تحت والدین جیلوں میں جائیں گے تو باقی رہ جانے والے اولاد پیدا کرنے کے بارے بھی سوچیں گے ۔ نوجوان شادی کے بندھن سے آزادی چاہیں گے ۔ اگر شادی ہو بھی گئی تو گھریلو زندگی ان قوانین کے شکنجے میں رہے گی ۔ اولاد ہوئی تو اس کے ہاتھوں جیل کی ہوا کھانے کا ڈر ہو گا ۔ کون یہ ذمہ داریاں نبھائے گا ۔ پھر وہی تصور جو عورت مارچ کے نعرے ہیں ۔ ذرا ان کو یاد کر لیں ۔ شادی کے بغیر زندگی ، گھر سنبھالنے سے انکار ، میرا جسم میری مرضی کے تحت اولاد سے انکار ، طلاق کی آسانی اور اس کو خوشنما بنا دینا ۔

    مغربی معاشرت کی ایک جھلک کا تصور کریں
    اس کے خاندانی نظام پر انتہائی گمراہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔یہ ایک مخصوص ایجنڈا ہے جس کے مقاصد بڑے واضح ہیں ۔اسی کے تحت شادی کی عمر بڑھانے، دوسری شادی کو مشکل بلکہ ناممکن بنانے ۔ طلاق کو قابل تعریف اور آسان بنانا۔ حدود آرڈیننس ، مردوں کو کڑے پہنانے کے قوانین، غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قوانین کورٹ میرج کی آسانی، خواجہ سراؤں کے تحفظ ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کے قوانین میں سے کچھ بن چکے ہیں باقی پر کام جاری ہے ۔

    ماروی سرمد جو ببانگ دہل کہتی ہے کہ یہ ملک سیکولر ہو کر رہے گا تو ایویں نہیں کہتی
    کیونکہ اسے فنانسرز کی طاقت ، دولت اور ایجنڈے کا علم ہے وہ انہی کیساتھ ملکر کام کرتی ہے ۔
    ان کو اپنے ایجنڈے کا پورا اندازہ ہے اور کام خاموشی سے جاری ہے.

  • پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا .تحریر:حنا

    پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا .تحریر:حنا

    انسانوں میں عیب دیکھنا
    القرآن:
    قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی.
    اور طور سیناء کی.
    اور اس پر امن شہر (مکہ) کی.
    البتہ یقینا ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ۔
    کبھی دل چاہتا ہے خدا سے کلام کرنے کو، لوگوں کے رویوں پر آہ وبکاہ کرنے کو۔ ہم دل تو رکھتے ہیں درد نہیں، ضمیر تو رکھتے ہیں بیداری نہیں، الفاظ تو رکھتے ہیں انداز بیان نہیں؟ ہم ہیں کیا؟ کیا انسان ہیں؟ مسلماں ہیں؟ کیا پہچان ہے ہماری؟ ہمارا وجود؟ ہمارا مذہب؟ ہمارا نام؟ ہمارا کام؟ ا ٓخر کیا ہے ہم میں خاص جو ہمیں لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت دیتا ہے؟ انسان کتنا ہی خود پر ناز کرے، غرور کرے لیکن کہیں نہ کہیں وہ اپنے نا مکمل وجود کی ترجمانی کر ہی دیتا ہے، خدا کی تخلیق میں نقص نکالنا، انسان ہو کر غیرانسانی سلوک کرنا، خود کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان سمجھنا لیکن جب اس کیاپنی ذات کی بات آجاتی ہے تو خود کو انتہائی مہذب، نیک گفتار، عاجز اور خوش طبع شخصیت تسلیم کروانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتا، یہ درست ہے کہ شکل صورت خدا کی دین ہے، اور کسی کو بھی اس میں کسی قسم کا نقص نکالنے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس بات کا صرف اور صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپکو خدا کی تخلیق پر عتراض ہے لیکن آپ کی خود کی شکل و صورت، مزاج، کردار کی بات آئےتو، میں تو ایسا؟ میں تو ویسا؟ میں اتنا محنت کش؟ میں اتنا صابر؟ میں اتنا دانش؟ میں اتنا خوش شکل؟ میں سب کچھ مگر تم کچھ بھی نہیں کا نعرہ! توبہ استغفار، اللہ بچائے ایسے مرد اور خواتین سے، پیٹ بھرنے کے لئے کھانا نہیں بس عیب نکانے کی مہم ہی کافی ہوتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے۔

    دوسروں سے تو پیدائشی دشمنی لے کر پیدا ہوتے ہیں کچھ لوگ یا یہ کہہ لیجیے خود پسندی کا شکار ہوتے ہیں، یہ الفاظ اٰپ نے اکثر سنے ہوں گے:

    ارے یہ بھی کوئی طریقہ ہوا کرتا ہے، یہ بھی کوئی انداز ہے،
    فلاں لڑکی ایسی فلاں ایسی
    اچھا ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺪ والی لڑکی ؟
    اچھا وہ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻭﺍﻟﯽ؟
    ﺟﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟ ( ﻧﻘﻞ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ )
    ﮐﻮﻧﺴﺎ لڑکا ؟
    ﻭﮦ ﮔﻨﺠﺎ؟
    وہ ﻣﻮﭨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻭﺍﻻ؟
    ﻭﮦ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺗﻨﺎ ” ﮐﻮﺟﺎ ” ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ؟
    ﮨﻢ “ﺳﻮﺭﮦ ﺗﯿﻦ” ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ۔
    ﮐﺘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺎﻻ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﻮﭨﯽ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮫ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮮ، ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ۔۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺴﯿﻦ ﭼﮩﺮﺍ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺣﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺁﭖ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ، ﺗﺴﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ ( ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﺧﺖ ) ﭘﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺬﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﮐﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟ !

    ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﺎﺋﻨﯿﺰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﮐﺎ، ﺍﻧﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﭘﮭﯿﻨﯽ / ﭼﭙﭩﯽ ﻧﺎﮎ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ refer ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻓﺮﯾﻘﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﺮﯾﺎﻟﮯ ﺑﺎﻝ، ﭼﻮﮌﯼ ﺟﺴﺎﻣﺖ، ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻣﺼﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
    ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺃَﻧْﺖَ ﺣَﺴَّﻨْﺖَ ﺧَﻠْﻘِﻲ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ
    ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ( ﺑﺎﮨﺮ ) ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ( ﺍﻧﺪﺭ ) ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ۔

    ﺭﻭﺯﻭﯾﻠﭧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻗﻮﻝ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ :
    ”Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people.” ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺲ کیٹاگری میں ہوتا ہے

  • غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی بہت مشکل سے گزار رہے ہیں
    اکثر تو ایسے ہیں جو 2 وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر سکتے اور ہم ایک وقت کا اتنا کھانا بنا رہے ہوتے ہیں جو غریب کو مل جائے تو وہ 4 دن اس سے آرام سے گزار سکے
    ہم اپنی ضرورت سے زیادہ کھانے کو کچرے میں پھینک دیتے ہیں لیکن پڑوس میں غریب کو اس کی بو تک نہیں لگنے دیتے
    اگر وہ ہی کھانا ہم خود سے بچا ہوا ہی کیوں نا ہو پڑوسی ی
    کو دے دیں اس کے بچے بھوکے نا سوئیں
    وہ کم از کم 2 ٹائم پیٹ بھر کر کھانا تو کھا سکے
    اس کے دل سے ہمارے دعائیں نکلیں
    اللہ پاک ہمارے گھروں، ہمارے رزق میں برکت ڈالیں لیکن ایسا ہم سوچتے بھی نہیں ہیں
    ہم صرف اپنا پیٹ بھرنے کی سوچ میں لگے رہتے ہیں
    ہم ہار سنگار تو کر لیتے ہیں غریب کے بچے کو پورے کپڑے بھی نہیں ملتے
    ہم پر ہفتے شاپنگ تو کر لیتے ہیں لیکن غریب کو 2 روپے دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے
    ہم بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانے کھا اور کھلا رہے ہوتے ہیں لیکن غریب کا نہیں سوچتے

    قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں
    (سورة البقرةآیت177)

    قرآن حکیم کی سورة البقرہ ہی میں ارشاد ہے” (لوگ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں۔ فرما دیجئے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے) مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتے دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“ 

    اللہ تعالٰی نے بھی ہمیں غریب کا احساس کرنے کا حکم دیا ہے
    خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں غریبوں کا احساس، غریب کا ساتھ کر عملی نمونہ بتاتا

    محسن انسانیت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا بلکہ عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی ہمیشہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کرتے

    ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا

    آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے
    جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا
    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے

    اج ہم بھی اگر مل کر اپنے معاشرے میں غریبوں کا احساس شروع کر دیں تو غریبوں کے بچے بھی بھوکے نا سوئیں، ننگے نا گھومیں، اچھے نہیں تو کم از کم سرکاری سکولز میں پی پڑھ سکیں

    ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود اپنے آپ کو پہلے پیش کرنا ہو گا غریب کا ساتھ دینے کے لیے

  • "بانجھ پن” اور بیٹیاں .تحریر: ارم رائے

    "بانجھ پن” اور بیٹیاں .تحریر: ارم رائے

    آج دو موضوعات پر بات کرونگی۔ پہلا ہے بانجھ پن جسکا مطلب عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کسی عورت کا ماں نا بن سکنا، بانجھ پن بھی ایک بیماری ہے جس طرح اور کئی بیماریاں ہیں اور یہ بیماری بھی قابل علاج ہے۔ اور اہم بات کہ یہ بیماری عورت اور مرد دونوں میں ہوتی ہے۔ پھر اسکا الزام صرف عورت پر ہی کیوں؟ صرف عورت ہی کیوں یہ طعنہ سنتی اور برداشت کرتی ہے؟ کوئی مرد کو طعنہ کیوں نہیں دیتا کہ تم باپ نہیں بن سکتے ہو؟ کسی بھی بازار میں چلے جائیں، شاپنگ مالز میں چلے جائیں، ہسپتالوں میں چلے جائیں، دیواروں کو دیکھیں یا پھر حکیموں کے اشتہارات کو ہر جگہ اپ کو مردانہ کمزوری کے علاج کے طریقے بتانے والوں کے نام اور مقام کی تفصیل ملےگی۔ کسی عورت کے بارے میں نہیںلکھا ہوگا کہ اسکا علاج موجود ہے۔ پھر عورت ہی کیوں یہ ظلم سہتی کہ وہ بانجھ ہے ماں نہیں بن سکتی، اسکا مطلب تو یہ ہے کہ 80فیصد مرد باپ نہیں بن سکتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر صرف عورت کی زندگی کو کیوں کھلواڑ بنایا جاتا ہے؟ اسلام کے نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو اولاد مرد کے نصیب سے ہے پھر مورد الزام عورت کیوں؟ ماں نا بننے کے طعنے کے ساتھ چھوڑ دینے والے مرد کیا عورت کو اسکی عمر اور جوانی بھی لوٹا سکتے ہیں؟ اس مردوں کے معاشرے میں رہتے ہوئے کیا کبھی کسی عورت نے مرد کو اس لیے چھوڑا کہ وہ باپ نہیں بن سکتا اور عورت کو بچے چاہییں؟ کیا کبھی عورت نے سرعام مرد کو طعنہ دیا؟ کبھی اولاد نا ہونے کا بہانہ بنا کر چھوڑا؟ طلاق کی وجوہات کچھ بھی ہوسکتی ہیں لیکن کبھی یہ نہیں ہوتی کہ مردچونکہ باپ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے چھوڑ رہی ہوں۔ اس لیے جب بھی کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو تو برائے مہربانی اپنا چیک آپ بھی کروا لیں اگر خود کو دوائی کی ضرورت ہے تو وہ بھی استعمال کر لیں صرف عورت کو الزام لگا کر اسکی زندگی کے بہترین سال ضائع کر کے اسے چھوڑ کر معاشرے کے رحم و کرم پر نا چھوڑیں۔ آخرت میں جواب صرف نماز کا نہیں لیا جانا بلکہ ہر اس بات کا لیا جانا ہے جسکے لیے نگران بنایا گیا۔ حاکم بنایا گیا ہے۔

    بیٹیاں
    آج کا دوسرا موضوع بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں جنہیں رحمت کہاگیا، بیٹیاں جو گھر کی رونق ہیں، بیٹیاں جو تتلیاں ہیں، بیٹیاں جن کی وجہ سے گھروں میں رونق زندگی میں سکون ہے بیٹیاں جنہیں میرے رب نے والدین کی بخشش کا زریعہ بنایا، بیٹیاں جو ہمارے آخری نبی صلی اللهعلیہ والہ وسلم کی سنت کی وارث، وہ بیٹیاں جنہیں اسلام کی آمد سے قبل دفن کردیا جاتا تھا انکی عزت، حرمت، کا تحفظ کیا ہمارے دین اسلام نے۔

    آپ صلی الله والہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ فرمایا
    بیٹیوں کی پرورش کرنے والا قیامت کے دن میرے ساتھ یوں کھڑا ہوگا جیسے انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ہم اسلام کے پیروکار ہیں، ہم اس دین کو پھیلانے والے اس سنت کا پرچار کرنے والے کیسے اتنے بڑے فرمان سے انحراف کر سکتے ہیں؟ کیسے بیٹیوں کو زحمت کہہ سکتے ہیں؟ کیسے بیٹی کے پیدائش کا الزام عورت پر لگا کر اسے چھوڑ سکتے ہیں؟ کیسے بیٹیوں کو بوجھ سمجھ سکتے ہیں؟ میں نے ایک دو لوگ ایسے دیکھے جو باقائدہ خوشی مناتے ہیں کہ بیٹیاں ہیں انکی تعلیم اور تربیت کرتے ہیں اچھے طریقے سے انکانکاح کرتے ہیں۔ کیا سب لوگ ایسے نہیں ہوسکتے؟ گھریلوتشدد کے واقعات میں سب سے زیادہ جم باتوں پر تشدد ہوتا ہے عورت پر وہ بانجھ پن اور بیٹیوں کی پیدائش پر ہے۔ جب بیٹا، بیٹی ہے ہی الله کی طرف سے تو مجرم عورت کیسے؟ اب تو سائنس نے بھی یہ بات ثابت کردی کہ بیٹی یا بیٹے کی پیدائش میں عورت سے زیادہ مرد کا ہاتھ ہے تو پھر الزام عورت پر کیوں؟ مرد اپنے آپ کو جب حاکم سمجھتے ہوئے عورت کو بیٹیوں کی پیدائش کا مجرم ٹھہرا کر چھوڑ دیتا ہے بیٹیوں سے رخ موڑ لیتا ہے اس عورت کو اور بیٹیوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے تو اس عورت اور بیٹیوں کے ہر قسم کے نقصانات کا زمہ دار وہ مرد ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی گنہگار اور آخرت کے عذاب کا بھی مستحق ہوتا ہے۔ زندگی کتنی مختصر اور عارضی ہےیہاں کس نے قیامت تک رہنا ہے رہنی صرف رب کی زات ہے۔ بیٹیوں کے بغیر تو والدین کے جنازے تک خالی ہوتے ہیں۔ رحمت کی قدر کریں تاکہ نعمت سے نوازے جا سکیں۔ بیٹیوں کی پیدائش پر خوش ہوں انکی تربیت کریں انکا ساتھ دیں معاشرے میں جینے کے قابل بنائیں۔ انہیں انکے پاؤں پر کھڑا کریں۔ انہیں بوجھ نہیں گھر کی رونق بڑھاپے کا سہارا سمجھیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر آخری الزمان نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کا آخرت میں ساتھ پانے کی سعی کریں۔ الله پاک ہمیں اپنے راستے پر چلانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اپکی دعاؤں کی طلبگار