Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    پاکستان میں روز ظلم و بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہے۔ کبھی خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلا امیر زادے نے فلا عورت کے ساتھ ریپ کر دیا فلا وڈیرے نے فلا غریب کو سرعام قتل کر دیا۔ اور یہ سارے واقعات چوری چھپے نہیں ہو رہے بلکہ سرعام ہزاروں گواہوں کے سامنے بلکہ ویڈیوز تک موجود ہوتی ہے لیکن ان سب ثبوتوں کے باوجود یہ درندے چند مہینوں بعد آزاد کیسے ہو جاتے ہے؟ یقینً ہمارے ذہن میں پہلا سوال عدلیہ کا آتا ہے لیکن اکیلی عدلیہ ان سب کی قصور وار نہیں ہے۔ سب سے بڑا قصور تو ہمارے غیر مکمل اور کالے قانون کا ہے۔ ہمارا ملکی آئین خود چوروں اور لٹیروں کو آزادی دیتا ہے پھر عدلیہ کیسے سزا دے؟؟ آپ سب کو بلوچستان والا واقعہ یاد ہوگا جس میں ایک پولیس والے کو بلوچستان کے وڈیرے نے ڈیوٹی کے دوران گاڑی سے کچل دیا اور اس کیس کا سب سے اہم ثبوت ویڈیو تھی جس میں صاف نظر آرہا تھا لیکن اس وڈیرے نے اس شہید پولیس والے کی فیملی کو ڈرا دھمکا کر دیت کا نام دے کر کیس معاف کروا لیا اور پکا ثبوت ہونے کے باوجود باعزت بری ہوگیا۔ اسی طرح کشمالہ طارق کے بیٹے والا کیس بھی یاد ہوگا جس میں کئی گھروں کے چراغ بجھا کر ان کو ڈرا دھمکا کر دیت دے کر کیس معاف کروا لیا ۔

    یاد رکھیں اسلام نے دیت والی حد صرف اس کیلیے رکھی جس سے غلطی ہو جائے یا جھگڑے میں قتل ہو جائے اسلام ہرگز کسی ظالم یا بدمعاش کی دیت قبول نہیں کرتا بلکہ اسے کڑی سے کڑی سزا دیتا ہے لیکن ہمارے ملک میں سسٹم الٹا ہے یہاں پر ہر امیر اور بدمعاش کی دیت قبول کر لی جاتی ہے جو کہ ہمارے قانون میں شامل ہے۔ اب خود بتاو یہاں پر عدلیہ کیا کرے؟ جب قانون خود راستہ دے رہا ہو۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے ججز بہت پارسا ہے یقینًا بہت سے ججز کرپٹ ہے جو بڑی بڑی پارٹیوں سے پیسے لے کر فیصلہ کرتے ہے لیکن وہ ججز بھی قانون کا استعمال کر کے ہی ظالموں کو رہا کرتے ہے اسلیے آج تک کسی جج کو کوئی افف تک نہیں کر سکا کیونکہ سارا پراسس قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ اسلیے اگر ہمیں ملک میں ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہے تو ہنگامی بنیادو پر لاء ریفارمز کرنی ہوگی اور سخت شقیں شامل کرنی ہونگی تاکہ ہر ظالم اور چور کو کڑی سے کڑی سزا ہوسکے اور پھر کوئی جج چاہ کر بھی دونمبری نہیں کر سکے گا اگر کرے گا تو پکڑا جائے گا۔ انصاف کسی بھی معاشرے کیلیے سب سے اہم جز ہے۔ نبی کریمؐ نے پورانی اقوام کی تباہی کا یہی سبب بتایا کہ وہ لوگ غریب کو سزا دیتے تھے اور امیر کو چھوڑ دیے تھے جیسا آجکل ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔

    امام علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن انصافی کا نظام کبھی نہیں چل سکتا اور یہی پاکستان کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اگر پاکستان کو بہترین ملک بنانا ہے تو سب سے پہلے نئے قانون بنائے جائے اور ہر قانون کو مکمل سٹڈی کے بعد پاس کیا جائے تاکہ کسی قسم کی جھول باقی نہ رہے پھر ان شا اللہ جلد ہمارا ملک عظیم اقوام میں شامل ہوگا

  • انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے ساتھ رشتوں اور تعلق کا ایک سلسلہ لے کر آتا ہے, والدین , بہن بھائی, دادا دادی, نانا نانی, وغیرہ
    پر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے تو تعلق کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے جن میں دوست, اسکول فیلوز پارٹنر وغیرہ شامل ہوجاتے ہیں.
    کوئی انسان خوش نصیب ہوتا ہے کہ اسکو مخلص اور وفادار دوست مل جاتے ہیں اور کوئی کی زندگی اس نعمت سے خالی ہوتی ہے.
    رشتے اور تعلق کے اعتبار سے اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں دو طرح کی انتہا ملتی ہیں. ایک انتہا وہ ہے جس میں انسان سب رشتوں سے لاتعلق بن جاتا ہے اور صرف اپنی دنیا بسا لیتا ہے اور دوسری انتہا یہ کہ انسان اپنے دوستوں کو اپنی دنیا سمجھنے لگتا ہے.
    یہ دونوں صورتیں ایک انسان کو معیاری زندگی سے دور لے جاتی ہیں.
    بعض دفعہ ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے تعلقات کو اپنے رشتوں پہ فوقیت دینے لگتا ہے اور اسطرح اپنے رشتوں سے بےحس ہوجاتا ہے.
    وہی رشتے جو پیدا ہوتے ہی اپنے ساتھ لے کے آ یا ہوتا ہے.
    ایک مثال دیتی ہوں..
    جن بہن بھائیوں کے ساتھ میں کھیل کود کے بڑا ہوا ہوتا ہے, دن میں 50 بار ان سے لڑ جھگڑ کے ایک دوسرے کو مار پیٹ کے) رات کو پھر ایک ساتھ ایک دسترخوان پہ اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں.
    ایسی کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے ان رشتوں سے دوری اختیار کرلیتا ہے ؟؟
    میرا جانا ایک گھر ہوا وہاں کچھ دیر باتوں باتوں میں پتا چلا کہ چار بہنیں ہیں ایک بھائی ہے ( جو انکو چھوڑ چکا ہے)
    اس عورت کی زبانی کے ماں کی وفات بہت پہلے ہوگئی تھی اور بابا نے دوسری شادی نہیں کی ہم بہن بھائی کو پالا.
    بھائی سب سے چھوٹا تھا اس لئے بہت لاڈلا بھی تھا. دو بہنوں کی اور بھائی کی شادی ہوگئی ایک دن باپ نے اپنی 3 دکانیں ایک گھر بھائی کے نام کردیا اور بھائی کو بیٹھا کے کہا کہ تمھارا حصہ میں نے اپنی زندگی میں دے دیا ہے اب یہ گھر رہ گیا ہے یہ گھر میری چارو بیٹیو کو دونگا.
    یہ سن کے بیٹا غصے میں آ گیا اور کہا کہ بہنوں کو کیوں دوگے یہ بھی میرا ہے..
    اس بات پہ باپ بیٹے کی بحث اس حد تک بڑھ گئی کہ بیٹا اپنی بیوی کو لے کے لاہور شفٹ ہوگیا.
    باپ کو فالج ہوا اسکی بیماری میں بھی باپ کو ملنے نہ آ یا اور 4 سال تک وہ بستر پر رہا…
    اس دوران اسکو بیٹیاں ہی سنبھالتی رہی اور پھر ایک دن باپ فوت ہوگیا باپ کی فوتگی کی خبر بیٹے کو دی گئی مگر وہ باپ کے جنازے کو کندھا دینے تک کو نہ آ یا.

    جیسے جیسے وہ عورت داستان سنا رہی تھی کہ آ نسو میری آنکھوں سے نکل رہے تھے اور بار بار ایک ہی سوال میرے زہن میں گونج رہا تھا کہ کیا پیسہ, جائیداد اتنی قیمتی ہوجاتی ہے کہ اپنے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ؟؟؟
    یا شاید اس اولاد کی بدقسمتی تھی کہ دنیا میں ہی اپنی جنت اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا..
    ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی انسان ایک دم اتنا بےحس, بے درد نہیں ہوجاتا جب تک خود اسکے ساتھ ایسا مسلسل نہ ہورہا ہو جو اسکی برداشت سے باہر ہوگیا ہو….
    پر میرے خیال میں رشتوں کو برداشت نہیں کیا جاتا انکو نبھایا جاتا ہے اپنا فرض سمجھ کے.
    پر جب دُنیاوی محبت انسان پہ حاوی ہو جائے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا…

    لوگوں کے اس جنگل میں ہر طرح کے لوگوں سے آ پکا واسطہ پڑا ہوگا یا پڑ سکتا ہے بعض دفعہ آ پکو ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو بظاہر بڑے نیک, خوش اخلاق ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے..
    یاد رکھیں عظیم انسان وہ ہے جو اپنے ساتھ جڑے رشتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا .
    اور ماں باپ کو تو کبھی بھی نہیں..
    خدارا اپنے تعلقات نبھائیے پر اپنے رشتے بھی مت توڑیں..
    دنیا کی عیش کی زندگی کی خاطر ان قیمتی رشتوں سے خود کو محروم نہ کریں.
    عارضی چیزوں میں سکون تلاش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا میں خوش رہنا سیکھیں اللہ کی محبت تمھیں بھٹکنے نہیں دے گی.
    اس محبت میں اتنی طاقت ہے کہ اللہ کے ایک حکم پر عمل کرنے کے لیے انسان اس فانی دنیا سے لڑ جاتا ہے وہی کام کرنے لگتا ہے جو اللہ کو پسند ہو جب اسے اللہ کی رضا میں رہنا آ جاتا ہے تو پھر ہر طرف سکون ہی سکون,
    دنیا کی محبت دنیا کے تعلقات ایک سائیڈ کرکے اللہ کے بتائے راستے پر چل کے تو دیکھو ہر طرح کی ڈپریشن سے آ زاد ہوجائیں گے
    امید ہے یا شاید آ پ میرا پیغام سمجھ گئے ہونگے

  • بیروزگاری کا خاتمہ پر کیسے؟؟ تحریر : حمزہ بن شکیل

    بیروزگاری کا خاتمہ پر کیسے؟؟ تحریر : حمزہ بن شکیل

    اس وقت دنیا بھر میں بیروزگاری ایک بہت سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس سے دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہیں۔ بیروز گاری کے باعث معاشرہ میں بیشمار سماجی برائیاں سر اٹھاتی ہیں جن کی روک تھام کے لئے ہمیں حکومتی اور انفرادی سطح پر چند ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    ویسے تو بیروزگاری کی بیشمار وجوہات ہیں پر ان میں ایک سب سے بڑی وجہ ہماری دن بدن بڑھتی آبادی بے جس کی وجہ سے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال اس سال ہونے والے ایف آئی اے کے امتحان ہیں جن کے لئے اب تک 12 لاکھ امیدواروں نے 1137 سیٹوں کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں جو کے ٹوٹل کا دس فیصد بھی نہیں بنتا۔ بیروز گاری کی دوسری سب سے اہم وجہ آئے روز بڑھتی مہنگائی اور ٹیکس ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سب نے غریب اور بیروز گار شخص کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دو سال میں جہاں کورونا وائرس نے کئی انسانی جانیں نگلی ہیں وہیں اس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بیروز گاری کی سطح میں بہت خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سفارشی کلچر جیسی معاشرتی برائیاں بھی بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ میں سے ایک ہیں جس کے باعث بہت سے محنتی اور ہنر مند افراد کو اچھی نوکری حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اندازہ لگائیں پاکستان میں ہر سال قریب 28 ہزار نوجوان گریجویشن مکمل کرنے کے باوجود اچھی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

    بے روزگار افراد کو پریشانی اور ذہنی تناؤ کے باعث بہت سی جسمانی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے افراد اموماً معاشی بدحالی اور مایوسی کی دلدل میں پھنسنے کے بعد فرار اختیار کرنے کے لئے نشے کی لت میں لگ جاتے ہیں اور کچھ تو خودکشی تک کر لیتے ہیں۔

    ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ بیروزگاری جیسی سنگین اور سماجی برائی کو کسی صورت نظر انداز نہ کرے اور اپنی طرف سے ہر ممکن اقدامات کرے تا کہ بیروزگاری کو جلد از جلد جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ اس مسئلے کے خاتمے کیلئے حکومت کو مناسب معاشی منصوبہ بندی، موثر حکومتی پالیسیاں اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات بیروز گاری کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سفارش جیسے ترجیحی سلوک کا خاتمہ ضروری ہے تا کہ نوکریاں میرٹ کی بنیاد پر مل سکیں۔

    حکومت کے ساتھ ساتھ تمام مخیر حضرات کو بھی اس کار خیر میں کھل کر اپنا حصہ ڈالنا چاہئے تاکہ ہم مل کر معاشرے سے بیروزگاری کو ختم کر سکیں اور ایک خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکے۔

  • برداشت ۔ تحریر : منیب جنجوعہ

    برداشت ۔ تحریر : منیب جنجوعہ

    اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے، اس مسئلے پر مختلف علمائے عمرانیات اور دوسرے اہلِ فکر نے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے، اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے
    کیا وجہ ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے ہم سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر نظر لگاہیں تو ایک دوسرے کو گالی کے اعلاوہ کچھ نہیں اگر مذہب بحث کو دیکھیں تو فقہ واریت عروج پر ہے۔
    کیا ہوگیا ہے معاشرے کو؟
    ملک کے کرتا دھرتا تو سکون سے ملتے جلتے اور رہتے ہیں لیکن عام سیاسی کارکن کیوں ان کی خاطر ایک دوسرے سے نفرت کر رہا ہے ہر فورم پر ایک نفرت کیوں عیاں ہے؟
    پالیسی پر بحث کریں لیکن ذاتیات پر حملے نہ کریں۔

    قومی طور پر بھی برداشت ختم ہوچکی ہے گلی کوچے پر ایک دوسرے سے نفرت اور گالی نظر ا رہی ہے اخلاق اور دین کے حکم کو ہم نےچھوڑ دیا ہے۔

    عہد کریں
    ہر لفظ محبت کا بولیں گے کوئی گالی دے گا تو بھی محبت سے دلیل سے بات کریں گے

    بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق۔ یعنی ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

    دوسری روایت میں حُسْنَ الْاَخْلَاق کے الفاظ آئے ہیں۔
    حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ (متفق علیہ)

    حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ:
    اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔
    ’’بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔‘‘

    معاف کرنا، برداشت کرنا، محبت کرنا اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقبول سنت ہے:

  • اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین

    اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین

    اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین
    ھوَالَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ فَمِنۡکُمۡ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمۡ مُّؤۡمِنٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲﴾
    (سورة التغابن)
    اسی نےتمہیں پیدا کیا پس تم میں سے بعض تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالٰی خوب دیکھ رہاہے

    نظریہ سے مراد وہ مستحکم سوچ ہے جو آپ کو عملی زندگی میں قدم اٹھانے پر مجبور کرے.
    یا
    کسی چیز کے بارے میں کوئی تصور، حکیمانہ رائے یا خیال، خصوصی فکر، حکیمانہ بات، نچوڑ

    اور
    فلسفہ کے لحاظ وہ تصور یا ادراک جو ایک نوع کے کل افراد پر حاوی ہو، تصور کلی، لائحہٗ عمل، فکری مسئلہ
    یا یوں کہہ لیں کہ
    کسی مسئلے میں نظری اور فکری اختلاف کے لحاظ سے مخصوص نقطہٗ نظر

    وطن عزیز کی بنیاد جس نظریے پہ قائم ہوئی اسے نظریہ پاکستان کہتے ہیں

    نظریہ پاکستان کواگر اسلامی نظریہ حیات کہا جاۓ تو یہ بے جا نہ ہوگا کیونکہ یہ وہ دعوت ہے جس کو رب العالمین نے انسانیت کی راہنمائی کیلۓ بھیجے گۓ ہر نبی اور رسول دےکے بھیجا تاکہ اس کے ذریعےوہ انسانیت کو انکی تخلیق کامقصد اورخالق ومعبود کی پہچان کرواسکیں

    اور وہ دعوت تھی کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

    نبی رحمت محمدمصطفیٰ‎‎ﷺ نے سب پہلے اپنی قوم کو جو دعوت دی وہ یہی تھی اور یہی کلمہ دنیا وآخرت کی حقیقی کامیابی ہے اور اسی دعوت اسی کلمہ پہ وطن عزیز کی بنیاد رکھی گئی

    کیونکہ برصغیر میں الگ نظریات کی حامل دوایسی قومیں آباد تھی جن کی طرز زندگی ،معاشرت،عبادت ،سیاست وعدالت سب مختلف تھے ایک قوم اسی کملہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ کاعقیدہ رکھنے والی خدائے واحدپرستاردوسری لاکھوں خداؤں کی پجاری .ایک اپنے رب کےاس حکم
    فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انۡحَرۡ ؕ﴿۲﴾
    (الکوثر)
    پس تُو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر ۔

    پر عمل کرتے ہوئے جانور ذبح کرنے والی اور دوسری ان کواپنا معبود ماننے والیایک قوم المسلم اخ المسلم دعوت پر عمل پیرا دوسری اونچ نیچ کو ترجیع دینے والی ایک قوم کی برتری کامعیار تقوی اور دسری برادری ازم کو فروغ دینے والی ‎ایسے میں دونوں کا اکٹھے رہنا ممکن نہیں تھا .اور مسلمانوں نے کامطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے دین کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکے اور یہ یہی نعرہ نگرنگر گلی گلی لگایا کہ اس دعوت اس کلمے کی بنیاد پہ کہ جوابدی واخری کامیابی ہے .پاکستان مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ

    اگرچہ مٹھی بھر لوگ تھے مگر ان کو کامیابی اسی نظریے اور سوچ کی وجہ سے ملی کیونکہ یہ خود ساختہ یازمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا اورجذبہ بھی سچا تھا اللہ نے اپنی نصرت بھی اسی وجہ کی اگرچہ مخالفین کی تعداد کئی گناہ تھی کہ اپنے مخالفین کی صفوں میں نظر آئے ،
    وطن تو حاصل کر لیا مگر اس نظرے کو عملی جامہ پہنانے سے آج تک قاصر رہے

    وطن عزیز کو لاحق تمام مسائل کا حل صرف ایک آؤ اس نظریئے طرف لوٹ چلیں
    کیونکہ
    نظریہ پاکستان ہی حقیقت میں بقائے پاکستان ہے

    والسلام

  • "عورت اور مرد لازم و ملزوم” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "عورت اور مرد لازم و ملزوم” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ناقص العقل اور کم فہم بنایا ہے تو دوسری طرف عورت کی سادگی و بھولپن کو بھی لائق محبت رکھا عورت کتنی ہی غیر معمولی کیوں نہ ہو مرد کی ہوش مندی و ہوشیاری سے مات کھا جاتی ہے مرد کو اوصاف میں مقام میں برتری حاصل ہے اور اس کو سجتا بھی ہے کہ وہ اپنی برتری کا استمعال کرے حاکم بن کر نہیں بلکہ ایک زمہ داری ولی بن کر عورت کو ساتھ لے کر چلے اس کی اہمیت کو تسلیم کرے کیوں کہ عورت
    ہمیشہ سے مضبوط، خود سے بہتر و برتر، سہارے کی تلاش میں رہتی ہے
    اسے پسند ہے مضبوط اور محفوظ حصار میں رہنا مرد جتنا مضبوط ہو گا عورت خود کو معاشرے میں اتنا ہی زیادہ معتبر اور با وقار سمجھتی ہے
    مرد محبت کو بھی اپنے تابع رکھنا چاہتا ہے جب دل کیا دو لفظ محبت کے بول کر عورت کو رام کر لیا اور جب چاہا اسکی زات کی توہین و تذلیل کر دی
    مرد ہمیشہ خود کو برتر ہستی سمجھتا ہے اور سمجھنا چاہیے بھی لیکن دوسرا پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہیے صنف نازک بھی انسان ہے اسکی بھی خواہشات ہیں اسکی مرضی بھی معنی رکھتی ہے لیکن بقول
    مشتاق احمد یوسفی کے’’بعض مَردوں کو عشق میں محض اس لیے صدمے اور ذلّتیں اٹھانی پڑتی ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے کا مطلب وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید عورت بھی اندھی ہوتی ہے
    جو کہ سرا سر غلط اور قابل نفی حقیقت ہے
    عورت ہمیشہ مرد کو ہر طرح سے جانچتی ہے معاشرتی لحاظ سے اسکا اسٹیٹس بھی دیکھنا ضروری ہے اور یہ اسکا بنیادی حق ہے محض محبت کے ورد پر زندگی نہیں گزرتی بہرحال زندگی کے حقائق سے انحراف ممکن نہیں
    مرد اور عورت لازم و ملزوم ہیں اور یہ کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے جو ہمیشہ سے چلتی آئی ہے لیکن مرد کی فضیلیت کو تسلیم کرنا چاہیے اور یہی حقیقت عورت کو ہمارے معاشرے میں معتبر کرتی ہے
    مرد و زن دونوں ہی ہمارے معاشرے کا لازمی حصہ ہیں ایک کا کردار دوسرے سے مشروط ہے اور دونوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں
    اور اگر بات کی جائے تربیت کی تو اس سے انکار ممکن نہیں کہ تربیت اگر بیٹی کو دینی ضروری ہے تو بیٹا بھی ایک متوازن شخصیت بننے کے لیے مکمل تربیت کا محتاج ہے
    اگر لڑکی ماں اور بیوی کے کردار میں اہم ہے تو ایک مرد بھی باپ یا شوہر ہونے کے ناطے خاندان کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ماں اور باپ دونوں مل کر ہی ایک صحت مند خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں کوئی ایک کبھی بھی دوسرے کی کمی کبھی پوری نہیں کر سکتا اس حقیقت سے بھی
    انکار نہیں کہ بچوں کے لیے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے تو باپ بھی اس تربیت گاہ کا ایک اہم اور بنیادی کردار ہے۔کسی بھی بچے کی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ گھر کا ماحول سازگار ہو اور اس ماحول کو بنانے والےمرد اور عورت والدین ہونے کا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دیں اور یہی ہمارے معاشرے کے لئے ضروری اور خوب صورت پہلو ہے جو ہمیں دوسرے معاشروں سے ممتاز رکھتا ہے۔
    زہرا نگاہ نے عورت کا مقام یوں بیان کیا ہے
    "ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
    دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی”

  • شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    32سالوں میں ہر قسم کی حمایت کے باوجود آج تم لوگ گٹر کا پانی پینے پر مجبور ہو ایم کیو ایم کو گیارہ بار الیکشن جتوانے کی پہلی شرط کوٹہ سسٹم کا خاتمہ تھا مہاجر قومی فنڈ سے حاصل کئے گئے فنڈز سے مہاجروں کے لئے چھوٹے کارخانے لگنے تھے جس میں وہ عزت کے ساتھ نوکری کرنے والے تھے مہاجروں نے تو فنڈ دیا کیا کارخانے لگیں سوال چھوڑے جارہا ہوں مہاجر پورے پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی قوموں میں شمار ہوا کرتی تھی لوگ پورے پاکستان سے تہذیب سیکھنے کراچی آیا کرتے تھے پھر یہ ہوا کہ مہاجر پورے پاکستان میں ٹارگٹ کلرز کی نظروں سے دیکھا جانے لگا 3 مارچ کو واپس آکر مصطفیٰ کمال نے مجھے عزت اور احترام واپس دیا میں اپنے اللّٰہ کے سامنے سرخرو ہو گیا میں مہاجر منجن والوں کا اعلیٰ کار نہیں، مجھے مہاجر ہونے پر فخر ہے لیکن لسانی سیاست کرنے سے اگر فوائد ہوتے تو آج مہاجروں کا یہ حال نہیں ہوتا

    ہم پاکستانی شہری کی حیثیت سے اپنے حقوق کی جدوجہد لسانی سیاست کے بغیر مصطفیٰ کمال کی قیادت میں کریں گے پاکستان میں زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کی بھیک وہ مانگے جن کا پاکستان بنانے والوں کی اولادوں سے کوئی واسطہ نا ہو پاکستان بنانے والوں کی اولادیں پاکستان میں نئی کھینچی جانے والی کسی لسانی صوبے کی لکیروں پر نہیں پورے پاکستان پر حکومت کرنے کا اپنا آئینی حق استعمال کریں گی جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا اور اپنے حقوق آئین کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش میں آپ کو اپنی جدوجہد میں شامل ہونے کی آواز لگاتے رہیں گے میری آواز آپ کے دلوں میں اتارنا میرے رب کی مرضی ہے کیونکہ جب مسجد سے اذان کی آواز لگتی ہیں تو جسے رب العالمین توفیق دیتا ہے وہی نمازوں میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح آواز ہم دیتے رہیں گے آپ کا ہمارے ساتھ شامل ہونا میرے رب کی مرضی پر منحصر ہے

     قوم نے ایک پارٹی کو ہر لحاظ سے سپورٹ کر کے اس کے وفاقی وزیر، صوبائی وزیر اور وزیر داخلہ بنائے مگر وہ ان پولیس والوں کو کیفرِ کردار تک نا پہنچا سکے جن پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا گیا قوم نے ووٹ اور عزت دے کر 14 سال کے لئے گورنر بنایا مگر وہ بھی اس عمل کو بے نقاب کرنے سے قاصر رہا اور مہاجروں کی سپورٹ پر گورنر کا منصب سنبھال کر 14 سال پاکستان کی تاریخ کی سب لمبی گورنری سے ہٹنے کے اگلے ہی دن مہاجروں کو گٹر ملا پانی اور کچرے کے ڈھیر میں چھوڑ کر دبئی کی پر فضا ماحول میں قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اگلی فلائٹ سے روانہ ہوگیا اور آئے دن مہاجروں کو چڑانے کے لئے روز آنے اور ان پر حکومت کرنے کے شوشے چھوڑتا رہتا ہے اور اس گروپ میں موجود لوگ ایک نئی ایم کیو ایم کے قیام کی خبریں دیتے ہوئے خوشی کے ترانے بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں

    شکریہ مصطفیٰ کمال مجھے اپنی قوم سے منافقت کرنے کے دلدل سے نکالنے پر شکریہ میرے شہر میں روز مرنے والی میری قوم کے نوجوانوں کو شہداء قبرستان میں دفنانے سے بچانے پر شکریہ میری قوم کے بیروزگار کو پورے کراچی میں حصول رزق کے لئے نوگو ایریاز ختم کرانے اور حلال رزق کمانے کا راستہ ہموار کروانے کے لئے شکریہ منافقین کے چہروں پر چڑھے معصومیت کے نقاب نوچ ڈالنے کا۔شکریہ مہاجروں کے روز بند ہوتے روزگار کو مستقل جاری رہنے کے اسباب پیدا کرنے کا۔

    شکریہ سالوں سے بچھڑے جوانوں کو ان کے والدین سے ملانے کا۔شکریہ معصوم بچوں کی دروازے پر لگی اپنے والد کے چہرے کو دیکھنے کی آرزوں پوری کروانے کا۔ شکریہ دربدر بھٹکنے والے میری قوم کے نوجوانوں کو سہی راہ پر گامزن کرنے کا اور سب سے بڑھ کر شکریہ مسلمانوں سے لسانیت کے نام پر جاری دہائیوں کی دشمنی کو ختم کرکے بھائی کو بھائیوں کے گلے ملوانے کا۔شکریہ مصطفیٰ کمال .پاکستان ذندہ باد

  • مسلم پاکستان بمقابلہ سیکولر انڈیا .تحریر:حسان خان

    مسلم پاکستان بمقابلہ سیکولر انڈیا .تحریر:حسان خان

    تاریخی شہروں کے متضاد مذہبی نام اور ان دو ممالک کا نقطہ نظر

    مذہب دنیا کے تقریباً ہر معاشرے میں اولین اہمیت رکھتا ہے اور ہر معاشرہ مذہبی معاملات میں حساس پایا گیا ہے جبکہ جو معاشرے سیکولر یعنی مذہبی وابستگی سے بالاتر ہونے کے دعویدار ہیں وہاں مذہب ایک حیثیت ایک ثانوی چیز کی سی ہوتی ہے
    ہمارا ملک پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے جہاں رہن سہن ، رسم و رواج نیز ہر پہلو میں مذہب کا عمل دخل نظر آتا ہے جبکہ ہمارے برعکس بھارت ایک سیکولر ملک ہونے کا دعویدار ہے اور سیکولر نظریات کے مطابق ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے ریاست کو غرض نہیں کہ کس کا مذہب کیا ہے اور کون کیسی روایات کا قائل ہے۔ ان دونوں ہمسایہ ممالک میں مذہبی تضاد اپنی جگہ مگر پاکستان حیران کن طور پر بھارت کے مقابلے میں مذہبی طور پر زیادہ روادار ثابت ہوا ہے جبکہ بھارت میں مذہبی جنون آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ آج ہم پاکستان اور بھارت کا تاریخی شہروں کے ناموں پر رویے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کریںگے کہ مسلم پاکستان ہندو سکھ ناموں والے شہروں پر کتنا روادار ہے اور سیکولر انڈیا کس طرح مسلم دشمنی میں تاریخی شہروں کے نام بدل کر انکی تاریخی اہمیت کو سپوتاژ کر رہا ہے

    پاکستان میں متعدد شہروں سڑکوں اور عمارتوں کے نام اس دھرتی کے ہںدو اور سکھ سپوتوں کے ناموں پر ہیں جنہوں نے ان شہروں میں زندگی گزاری ، ان شہروں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ان شہروں کی تاریخی حیثیت میں ان شخصیات کا نمایاں اثر پایا جاتا ہے اسی طرح بھارت میں بھی بہت سارے شہروں ، شاہراوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے نام مسلمان فاتحین کے ناموں پر ہیں جنہوں نے ان شہروں کی بنیاد رکھی ، انکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا

    پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اگر پاکستان چاہے تو سکھ/ہندو نام والے شہروں کے نام آسانی سے تبدیل کر دے اور مسلم ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کے اس اقدام کی مذمت بھی نہیں کی جا سکتی مگر پاکستان اور پاکستانی عوام کی مذہبی رواداری کو یہ گوارہ نہیں کہ ان شہروں سے ان کے تاریخی نام چھنے جائیں۔ ننکانہ صاحب سکھوں کا ایک مقدس شہر جہاں پر سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کی پیدائش ہوئی یہاں ہر سال ہزاروں سکھ زائرین زیادت کیلئے آتے ہیں اور پھر کرتار پور راہداری کھول کر پاکستان نے مذہبی رواداری کی مثال قائم کر دی ہے کرتار پور میں گرو نانک کی آخری آرام گاہ ہے یہاں بھی یومیہ ہزاروں سکھ زائرین زیادت کیلئے آتے ہیں اس کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام بھی سکھ مذہبی گرو کے نام پر ہے۔ پاکستان کے ان دو بڑے اہم شہروں کے سکھ نام آج بھی برقرار ہیں اسی طرح لاہور میں سرگنگا رام ہسپتال اور سر گنگا رام روڈ کے علاوہ لکشمی چوک ، گرو مانگٹ وغیرہ کے نام بھی جوں کا توں قائم ہے جو ان جگہوں کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں کبھی کسی حلقے نے ان کو تبدیل کرنے کی بات نہیں کی اسکے علاوہ پورے پاکستان کے بہت سارے قصبوں کے ہندو سکھ نام ہیں جبکہ دوسری طرف سیکولر ہونے کا دعویدار مذہبی جنونی بھارت ہے جہاں بڑی تیزی کے ساتھ مسلم ناموں والے شہروں ، قصبوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں انکی شناخت چھینی جا رہی ہے جسکی تازہ مثال الہ آباد جیسے تاریخی شہر کا نام تبدیل کر کے "پریاگراج” رکھ دیا گیا جس سے شہر کی تاریخی حیثیت خراب ہو کر رہ گئی اسی طرح ضلع فیض آباد کا نام بدل کر "ایودھیہ” رکھ دیا گیا اس سب کے بعد بھارتی حکومتی تاریخی شہر آگرہ اور ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے نام بھی تبدیل کرنے کیلئے پرتول رہی ہے

    مودی کی انتہا پسند حکومت آتے ہی اس رجحان میں تیزی واقع ہوئی ہے۔ راجھستان میں تین گاوں کے نام اس وجہ سے تبدیل کر دیے گئے کہ وہ سننے میں مسلم نام لگتے تھے
    بھارت میں مسلم دشمنی کی بناء پر جس طرح مسلمانوں کی ثقافت اور تاریخ کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسکی مثال نہیں ملتی مسلم نام والے شہروں کے نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو بھی ریلوے اسٹیشن اور سنگ میل سے غائب کیا جا رہا ہے۔ سیکولرازم کا مزاق اڑاتا بھارت دراصل مذہبی جنون کا شکار ملک بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت کا قتل عام ہو رہا ہے

  • والدین عہد کریں .تحریر: شعیب رحمان

    والدین عہد کریں .تحریر: شعیب رحمان

    پاکستان میں روانہ 8 بجے زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اغواء ہونے والوں کی تعداد الگ ہے کچھ سالوں سے اچانک اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جہاں حکومت ادارے اسکی روک تھام میں ناکام وہی والدین بھی بچوں کی حفاظت پر خاص توجہ دیتے دکھائی نہیں دیتے ایسے کتنے کیسز ہیں جن میں بچے گھروں سے باہر چیز لینے جاتے مگر واپس نا آتے جیسا آج کل ماحول ہے رشتےداروں پر بھی بھروسہ کرنا مشکل ہے اکثر کیسز میں قریب کے لوگ ہی ملوث پائے جاتے ہیں پھر وہ پڑوس کے ہی کیوں نا ہوں کچھ عرصہ قبل زینب ریپ کیس میں پڑوسی ہی مجرم تھا جو ناک کے نیچے رہا مگر کسی کو شک نا ہوا وہ اپنے انجام کو پہنچا اس کے باوجود کوئی خاص ڈر خود ایسے درندوں میں نا پایا گیا آخر وجہ کیا ہے کچھ لوگ کہتے یہ بے حیائی کا نتیجہ تو جناب تین چار سال کی بچی کیا بے حیائی کرتی نوجوان لڑکے کیا خود کو چادر میں لپیٹ کر گھر سے باہر نکلیں عورت کو پردے کا طعنہ دینے والے مردوں کی نظروں میں شرم کی کمی کیا ایسے واقعات کا خمیازہ نہیں تعلیمی ادارے، مدارس، ہسپتال کی نرس ہو یا فیکٹری میں جاب کرنے والی مجبور ماں کس طرح خود کو ان واقعات سے بچائیں ایسے وقت میں جہاں حکومت کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں وہی ہمارے وزیراعظم سارا ملبہ خواتین کے کپڑوں پر ڈال دیتے ہاں وہ ڈی چوک کے دھرون کو بھول چکے جہاں 126دن خواتین و مرد سب ساتھ روزانہ علم کی روشنی جلاتے تھے اس وقت اقتدار کی بھوک تھی تو سب اچھا تھا آج اقتدار کا نشہ ہے تو عورت بے حیا ریپ کیسز کی جڑ ! تو بتائیں جناب 3 سالہ بچی کو لاہور کے ایک اسکول میں درندگی کا نشانہ بنانے والے درندے کون تھے ؟ بوائز ہاسٹل میں نوجوان کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے کون ہیں ؟ جہاں ساری زمہ داری والدین پر ڈالی جاتی وہی ہماری حکومت اپنی کارکردگی پر کب دھیان دیگی حکومتی وزراء خو آئے دن اسکینڈلز کا شکار رہتے ہیں وہ کیا ہمارے بچوں ماں بہنوں پر ہونے والی اس درندگی پر آواز اٹھائیں گے ؟ کب سرعام پھانسی کا بل پاس ہوگا ؟ کب ایسے درندوں کو سنسار کیا جاے گا؟ یا یہ مان لیں ہم کے ہمیں خود ہی ایسے شیطانوں کا خاتمہ کرنا ہوگا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں کوئی اس ماں سے پوچھے جس کی پھول جیسی بچے بنا کپڑوں کے خون میں لت پت مردہ حالت میں کچرہ کنڈی پر ملے وہ ماں کیا جانے قانون اس بے بس باپ کو کن الفاظوں میں آپ حوصلہ دینگے جس کی اک لوتی اولاد سڑک پر لٹ جاے اور حکومت کہے تحقیقات جاری ہے کیسے ملے گا ان والدین کو سکون جن کی بچیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر برہنا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرکے غلط کام پر لگایا جاتا

    کہتے ہیں ٹک ٹاک بین کریں ٹک ٹاک فساد ہے” آپ کو بنا دوں کے ٹک ٹاک سے بڑھ کر یوٹیوب پر مواد پایا جاتا ہے توکیا ہم یوٹیوب پر پابندی کا ٹرینڈ چلائیں ؟ ایسی کتنی ایپس ہیں وہ سب بند کردیں ہمارے پاکستانی ایڈز کیا کم ہیں بے حیائی پھیلانے میں ان پر پابندی کیسے ممکن ہوگئی ؟ رمضان ٹرانسمشن کے نام پر خواتین کو نچوانے والے حکومتی وزراء کے خلاف کب آواز اٹھائے گا کوئی ؟ ہم ناامید ہوچکے ہیں مان لیں والدین کو چائیے اب اس پڑوس سے لے کر کسی ادارے پر بھروسہ کرکے اپنے لخت جگر کو اکیلا باہر نا چھوڑیں نا کسی کے ساتھ جانے دیں آپ کی اولاد کا خیال صرف آپ رکھ سکتے ہیں دوسرا کوئی نہیں تو آج سے عہد کریں ہمارے بچے ہماری زمہ داری اللہ پاک سب کے بچوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین

  • کرپشن معاشرے کی تباہی کا سبب .تحریر: ملک ضماد

    کرپشن معاشرے کی تباہی کا سبب .تحریر: ملک ضماد

    کسی بھی معاشرے، ملک، ریاست مین جب کرپشن، بدعنوانی زور پکڑ جائے تو وہ معاشرہ، ملک، ریاست تباہی کی طرف سفر شروع کر دیتا ہے
    جہاں معاشرے، ملک، ریاست کے بجائے اپنی ذات کو ترجیح دی جانے لگے،
    جہاں عدل و انصاف کے بجائے رشوت، سفارش سے جائز کام بھی کروانے پڑیں
    جہاں تعلقات کی بنیاد پر گلیاں پکی ہونے لگیں
    جہاں ریفریسنزز سے لائن میں کھڑے آخری آدمی کو پہلا نمبر دیا جانے لگے
    جہاں نام بتا کر کام کروانے پڑیں
    پھر وہ معاشرے ترقی نہیں بلکہ تنزلی کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے
    پھر بھلے اس ملک، ریاست میں قدرت وسائل ہوں یا پڑھے لکھے لوگ وہ بھی اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتے جب تک معاشرے سے کرپشن کے ناسور کو ختم نہیں کیا جاتا
    جب تک معاشرے میں سب لوگوں ہو برابری کی سطح پر انصاف اور حق نہیں مل جاتا
    جب تک تعلقات نہیں بلکہ میرٹ پے گلیاں پکی نا ہونے لگ جائیں
    جب تک وزیر مشیر بھی لائن میں لگ کر کام نا کروانے لگ جائیں
    جب تک نام بتا کر نہیں بلکہ کام بتا کر کام نا ہونے لگ جائیں
    وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا
    کرپشن کو ختم کرنے کے لیے صرف حکمرانوں کی ہی نہیں بلکہ عام عوام کی ذمہ داری بھی ہے
    جب عام عوام رشوت، تعلقات کے بجائے میرٹ پے کام کروائے گی
    رشوت مانگنے والوں کو دنیا کے سامنے لائے گی

    وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ‘‘
    {البقرة:188}
    "اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا یا کرو ، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا لیا کرو ، حالانکہ تم جانتے ہو”

    حدیثِ شریف:
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ 
    ( سنن أبو داود :3580 ، القضاء – سنن الترمذي :1337، الأحكام – سنن ابن ماجه :2313 ، الأحكام)

    ترجمہ:
    حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے

    { سنن ابو داود ، ترمذی ، ابن ماجہ }

    حلال مال میں برکت ہوتی ہے اور حرام مال بے برکتی کا سبب ہے ۔

    رشوت گناہ ِکبیرہ اور رحمت الٰہی سے دوری کا سبب ہے ۔

    رشوت کا لین دین معاشرہ میں بد دیانتی اور ظلم کا سبب ہے

    قومی سطح پر بھی حکومت وقت کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی قومی فریضہ ہے وہ اپنے ارد گرد اگر کہیں کرپشن ہوتی ہے اس کو روکے اگر خود نہیں روک سکتا تو متعلقہ اداروں کو اس کی اطلاع دے تاکہ بروقت کارروائی ہو کر کرپشن، جیسے ناسور کو ختم کیا جا سکے

    آئیں مل کر عہد کریں خود بھی اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی کرپشن، رشوت ستانی سے روکیں گے اور مل کر معاشرے کو کرپشن جیسی مرضی بیماری سے نجات دلائیں گے