Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور

    میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور

    میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور
    یوں تو سبھی کراچی کے وارث بنتے ہیں مگر جہاں بات کراچی والوں کے حقوق کی آئے تب وفاق دانتوں میں انگلیاں دبائے خاموش اور صوبائی حکومت سب اچھا ہے کا راگ الاپتی نظر آتی ہے کسی کو کوئی غرض ہی کے شہر کراچی میں پانی ہے یا نہیں بجلی آئے نا آئے لاکھوں کے بل آنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی نلکوں میں پانی کی امید لگائے کراچی والے ٹینکر مافیا کے رحم وکرم پر گزربسر کررہے ہیں پانی تو خرید کر پینا پڑے گا آخر پورے ملک کو پالنے کی زمہ داری کراچی والوں کی جو ہے گھر میں گیس آئے نا آئے سی این جی پمپ پر گیس ملنا کسی کراچی والے کے لیے نعمت سے کم سے روزگار کی خاطر رکشہ چلانے والے اس مہنگائی میں کیسے چلائیں پیٹرول پر رکشہ یہاں تو بڑے بڑوں کا تیل نکال دیا ہے مہنگائی نے، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر آپکو ہیل پارک کے جھولوں کا مزہ نا آئے تو کیا ہی بات ہے کہنے کو کما کر دینے والا شہر ہے مگر حساب وہی ماں اولاد کو اچھا کھلا کر پہنا کر خود بھوکی رہ جاتی ، ارے جناب ہم سے کوئی وقت کی پابندی سیکھے کے الیکٹرک کے لوڈ شیڈنگ کر کر کے عوام کو گھڑی دیکھنے کی عادت ہی چھڑا دی اب تو بجلی جانے آنے کے حساب سے ہی کراچی والوں نے خود کو ڈھال لیا ہے
    گھر سے باہر نکلتے ہی اپکو لگے گا آپ کسی کچرے کے جزیرے پر پہنچے ہیں جگہ جگہ کوڑا بہتے گٹر پارکس میں غلاظت اور ہمارے خوبصورت شہر کے بیچ پولیس کی موجودگی میں پل کے نیچے بیٹھے نشئی جو ہر طرح کا نشہ باآسانی کرتے ہی نہیں بیچتے بھی ہیں تھوڑا آگے بڑھ جائیں تو غیر مقاموں کی بڑی آبادی آپکو نظر آئے گی جنہونے اس شہر کو اپنا آبائی گھر سمجھ کر بستر ڈالے ہوئے ہیں ہم پھر بھی آف نہیں کرتے کیونکہ ہم کراچی والے ہیں ہم میں سب سما جاتے ہیں مگر ہمارا دکھ ہمارے مسائل نا کوئی سیاسی جماعت حل کر سکی نا ہی وفاقی حکومت نے "کھاتے ہیں تو لگا بھی دیں” ایک بار بھی سوچا نہیں،

    میں کراچی ہوں میں بارش،ٹوٹی سڑکیں، ٹرانسپورٹ،بہتے گٹر، بے روزگاری، لاچاری، پانی کی قلت میں سب برداشت کرونگا مگر میں تم سب کو پالوں گا کسی کو بھوکا نہیں مرنے دنگا میں خود سب سہتا رہوں گا ٹوٹ جاؤنگا مگر تمہارے گھروں کے چولھے بجھنے نہیں دنگا ہاں میں بے بس ہوں میں اکیلا ہوں مگر میں تم کو اکیلا نا چھوڑوں گا تم سب مجھ کو نوچ کر کھالو میں اف تک نا کرونگا ہاں میں "لاوارث” ہوں پر تم کو "لاوارث” نا چھوڑوں گا

  • معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی؟ تحریر: احمد لیاقت

    معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی؟ تحریر: احمد لیاقت

    کچھ لوگ معاشرےکی اصلاح کی بات کرتےہیں ضرور کرنی بھی چاہیے، اور کچھ لوگ معاشرےمیں انصاف کی بات کرتےہیں یہ بھی ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس پر بہت کم بات ہوتی ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور فساد کب پیدا ہوتاہے؟

    معاشروں میں بگاڑ خدا کی قائم کردہ حدود اور لمٹ کو کراس کرنے سے پیدا ہوتا ہے، دنیا میں جن افراد اور معاشروں نے بھی اللہ کی قائم کردہ لمٹ کو کراس کیا انہوں نے کسی اور پر نہیں خود پر ظلم کیا، معاشرے کا بگاڑ صرف غریب ملکوں میں نہیں ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ نظر آتا ہے

    چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے ہمیں اپنی قائم کردہ حدود سے باہر نکلنے کے نقصانات سے آگاہ کردیا تھا اللہ تعالی کے اس ارشاد کی روشنی میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہےکہ

    یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا سو وہی ظالم ہیں۔ (سورہ بقرۃ 229)

    معاشرے اور افراد کو حدور اور لمٹ میں قائم رکھنے کے لیے سب سے بڑی چیز انصاف اور عدالت ہے جس کی نصیحت خدا نے چودہ صدیاں قبل حکمرانوں سے فرمائ تھی

    اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو ، بے شک اللہ تمہیں نہایت اچھی نصیحت کرتا ہے بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے (سور نساء 58)

    معاشرے کی اصلاح کے لیے لمبی چوڑی پلاننگ کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو یہ دو آسان نسخے بتا دیے ہیں ان پرعمل کی ضرورت ہے، معاشرے کے افراد خدا کی بتائ ہوئ لمٹ میں زندگی بسر کریں اور جو بھی اس لمٹ کو کراس کرے چاہے وہ غریب ہو یا امیر عالم ہو یا جاہل اسٹوڈنٹ ہو یا ٹیچر مرد ہو یا عورت اور فقیر ہو یا بادشاہ اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے، جس دن یہ دو کام ہوگئے معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔

    کسی ایک فرد کی اصلاح معاشرے کی اصلاح ہے
    یہ کہاوت بھی اسلام کے بالکل برعکس ہے اسلام کہتا ہے کہ اسلام کو ریاست میں نافذ کرو جس میں معاشرے کی اصلاح ہوگی معاشرے میں ہر انسان کی اصلاح ہوگی

  • کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر ملک کا ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

    کراچی شہر ملک کی ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک

    کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو

    جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان کی حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

  • سرد جنگ .تحریر:رانا عزیر

    سرد جنگ .تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں جنگ کے اختتام کے آثار دور تک دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ امریکہ اس خطے میں رہنا چاہتا ہے اور وہ پاکستان میں ایک دفعہ پھر تباہی مچانا چاہتا ہے تاکہ سی پیک کو تباہ کیا جا سکے۔ چین سی پیک کے ذریعے ہی وسطی ایشیاء اور پھر دنیا کے دیگر ممالک تک رسائی حاصل کررہا ہے جو کہ امریکہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

    اشرف غنی نے بھی اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر واشنگٹن کی طرف کشکول بڑھا دیا ہے۔ ابھی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق طالبان 117 اضلاع پر قابض ہوچکے ہیں وہ امریکی سازوسامان پر بھی قابض ہورہے ہیں۔ اب امریکہ عرب ممالک سے پاکستان پر پریشر بڑھا رہا ہے کہ آپ کے تمام پاکستانیوں کو نکال دیا جائے گا اگر امریکہ کی افغانستان میں مدد نہ کی گئی، لیکن پاکستان کی ریاست کا دوٹوک فیصلہ ہے نو مور۔ بھارت کو بھی بڑا خطرہ لاحق ہے چونکہ بھارت بھی اپنے را کے ایجنٹ جو پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلئے دہشتگردوں کو افغانستان سے کنٹرول کرتے تھے ان کو بھارت لے جا چکا ہے، اب بھارت کو ڈر ہے کہ پاکستان کی افغانستان میں سیاسی مداخلت بڑھی گی۔ خطے میں امریکہ اور چین کے شدت پکڑتے اختلافات اور سرد جنگ کو ملحوظ خاطر نہایت ضروری ہے، چین برملا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اب سپر پاور بننے جارہا ہے، چین کے کیے اب پاکستان بہت اہم ہے اور ایسی قیادت بھی چین کو پاکستان میں چاہیے تھی جو امریکہ کے سامنے کھڑا ہوسکے اب چین کے پاس دونوں صورتیں موجود ہیں، امریکہ پاکستان کو اب ایران، عراق اور دیگر وسطیٰ ایشیائی ممالک سے توڑنے چاہتا ہے جس میں ایک پائپ لائن کا پراجکٹ بہت اہم ہے جو عراق سے شروع ہوتا ہے پاکستان کے ذریعے ہمالیہ کشمیر اور چائنہ تک جاتا ہے یوں تیل چین جائے گا اور چینی سرمایہ کاری مشرق وسطی میں پھیلے گی۔ امریکہ اب وسطی ایشیاء کے ساتھ مشرق وسطی میں بھی اسڑیجٹک ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جس کے بعد اس کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔

    دنیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور ون بیلٹ ون روڈ ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ چین سرمایہ کاری، تجارت کو استعمال کرتے ہوئے ایشیا میں ذرائع آمد و رفت کا ایسا جال بچھا رہا ہے جس سے ہر ایک پالیسی اس منصوبے کو اتنا اوپر لے کر جارہی ہے کہ پورا خطہ اس کی آغوش میں آجائے گا جس کا سب سے اہم حصہ گوادر ہے جو پوری دنیا کا حب بننے جارہا ہے جس سے عرب بھی tips for building strength پریشان ہیں کہ ان کی معیشت بھی کھڈے لائن لگ جائے گی۔ سی پیک کو سبوتازژ کرنے کیلے بھارت اور امریکہ پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر لانے کی منصوبہ بندیاکررہے ہیں۔ تاکہ پاکستان کا امن برباد کرکے سرمایہ کاری کو روکا جائے لیکن نئے پاکستان کا وقت آگیا ہے

  • ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

    ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

    آج میں آپ سب کو سنانے جا رہا ہوں اپنی ٹویٹر پہ ہونے والی پہلی اینٹری مطلب میرا پہلا دن اور اِس دوران پیش آنے والے خوشگوار واقعات پہ مبنی کہانی میری زبانی۔۔۔

    جی ہاں ٹویٹر پہ میرا پہلا دن۔۔

    ویسے تو میں ٹویٹر پہ بہت پہلے سے موجود تھا اور ۲۰۱۲ کے شروع میں ہی میں نے ٹویٹر اور فیس بُک پہ اپنا پہلا پہلا اکاونٹ بنالیا تھا۔ حالانکہ فیس بُک پہ میں نے اپنا ایک پیج بھی بنایا ہواہے جس پہ ہزاروں میں میری فالووئینگ بھی ہے اور لوگ مجھے “Pakistan Ka Tiger” کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود بھی میں ٹویٹر پہ اتنا ایکٹو نہیں رہا کرتا تھا شائد اسکی وجہ بھی فیس بک ہی تھی اور ٹویٹر پہ بس اتنا سمجھ لیں کہ کبھی مہینے بعد ٹویٹر آن کر کے دیکھ لیا کرنا یا پھرکبھی اس سے بھی زیادہ وقت بیت جایا کرتا تھا۔

    لیکن! پھر ایک دم سے میری سوشل میڈیا زندگی میں چینج آیا جب میں نے ٹویٹر پہ ایک ٹرینڈنگ ٹیم میں شمولیت اختیار کی تو اسی دن کو میں ٹویٹر پہ اپنا پہلا دن تصور کرتا ہوں۔

    تب! شروع کے کچھ دن تو مجھے کافی چیزیں سمجھنے میں ہی گزر گئے جیسے کہ کسی کو ہینڈل کے ساتھ کیسے مینشن یا پھر پکچر میں ٹیگ کیسے کرنا ہے

    یہ سب سمجھنے کیلئے ٹویٹر رولز بھی پڑھے اور کچھ آن ائیر اور کچھ آف ائیر دوستوں سے بھی مدد لی اور یوٹیوب کا بھی بہت شکریہ کہ اس سے بھی بہت سی معلومات حاصل کیں جو میرے لئے بہت مفید ثابت ہوئیں اور بہت سے ایسے سینئرز جو بہت عرصے سے ٹویٹر استعمال کر رہی/رہے تھے اُن میں سے چند ایک سے بات بھی ہوئی اور کچھ سے بات کئے بنا ہی مطلب صرف انکی ٹویٹس کو دیکھ دیکھ کے ہی بہت سی چیزیں سیکھنے کوملیں، اُن سب کا بھی مشکور ہوں۔

    اور یہ سب بتاتے ہوئے میں بالکل بھی شرم محسوس نہیں کر رہا ہوں کیوںکہ کسی بھی چیز کو سمجھنے اور پھر اُس کی جانکاری پہ مکمل عبور حاصل کرنے تک کیلئے ایک باقائدہ پروسیس ہوتا ہے جسے پورا کئے بنا کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور میں بھی اسی پروسیس سے گزرا۔

    جیسے جیسے مجھے چیزوں پہ عبور حاصل ہوتا گیا (البتہ! سیکھنے کیلئے ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے) تو میں نے دیکھا کہ یہ تو دنیا ہی الگ تھی کہ جہاں پوری دنیا، مطلب ہر ملک سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے جن میں ہیڈ آف سٹیٹس، گورنمنٹس آفیشلز، گورنمنٹس کے ادارے، انٹرنیشنل این جی اوز، انٹرنیشنل نیوز چینلز، انٹرنیشنل نیوز پیپرز، سیاستدان، صحافی، اداکار، سنگرز، رائٹرز، ڈائریکٹرز، شاعر، ادیب، فیشن ڈیزائنرز و آرٹسٹس، بیوٹیشنز یہاں تک کہ ہر طبقہِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ٹویٹر پہ اپنے مداحوں کو لبھانے کیلئے ٹویٹس کرنا اور پھر عام عوام یعنی فالوورز کا ان کو ریپلائی کرنا اور پھر جواباً آپس میں بات چیت تک کا بھی ہونا یقیناً میرے لئے یہ ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھا اور اس سے میں بہت محظوظ بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔

    پھر نیشنل اور انٹرنیشل لیول کے جو ٹرینڈز ہوتے ہیں اُن کے بارے میں بھی پتا چلا اور اس کا تجربہ ہونا بھی میرے لئے ایک نئی چیز تھی کیونکہ اس سے پہلے اکثر میں نے نیوز میں سُن اور دیکھ رکھا تھا کہ کسی کے حق میں یا مخالفت میں ٹویٹر پہ ٹرینڈ ہو رہا ہے اور اُس میں ہزاروں، لاکھوں یا کروڑوں ٹویٹس ہوئی ہیں۔

    اس سفر میں جو کہ اب تک صرف چند ماہ پر ہی محیط ہے، تو اپنے اس سفر کے دوران ایک انٹرسٹنگ بات یہ تھی جس پہ آپ بھی ہنسیں گے کہ میں نے ہر اُس ٹرینڈنگ ٹیمز میں شمولیت اختیار کی جس کے کسی ایک میمبر کا بھی مجھے آٹو انویٹیشن ملا تھا کیونکہ تب تک مجھے آٹو میسج کا بھی پتا نہیں تھا ( اور اب پتا چل جانے پہ میں کسی بھی آٹو میسج پہ کبھی کان ہی نہیں دھرتا) اور پھر میرے اپنے خود کے اصولوں پہ پورا نہ اترنے پہ میں نے کافی ٹرینڈنگ ٹیمز کو خیر باد بھی کہا (اپنے طور پہ وہ سب بھی اچھا کام کر رہی ہیں اُن کیلئے بھی میری نیک خواہشات ہیں) اور پھر اِن ٹرینڈز کے دوران میں نے اِن چند ماہ میں ہی اپنے بہت سے اکاونٹس سسپینڈ بھی کروائے، انٹرسٹنگلی ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک ہی دن میں میرے چار اکاونٹ سسپنڈ ہوگئے وہ لمحہ میرے لئے بہت ہی شاکنگ تھا لیکن! اسے میں اپنے لئے اعزاز بھی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب اسلام، پاکستان، کشمیر و فلسطین اور اپنے کپتان جناب وزیراعظم عمران خان کے حق میں آواز اٹھانے کا ہی نتیجہ تھا۔ تو ٹویٹر کے اس سفر میں مجھے بہت سے نئے اور اچھے دوست بھی ملے اور بہت سے نئے تجربات سے بھی گزرا۔

    جن میں سے ایک یہ کہ بعض افراد کے اکثر ٹویٹر پہ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات اور مطلب پرستی والی دوستیوں کے بارے ٹویٹس بھی نظر سے گزرے تاہم اب تک میرا ایسے کسی بھی تجربے سے بالکل بھی پالا نہیں پڑا کیونکہ میں تو شروع سے ہی عزت دو کی پالیسی پہ عمل پیرا ہوں اور دوسرے فریق سے کبھی بھی عزت ملنے کی توقع سے نہیں ملا اور ہمیشہ اگلے کو خود سے زیادہ عزت دار اور معتبر سمجھاہے۔

    اور ہمارا پیارا دینِ اسلام اور ہمارے پیارے نبی ص کی تعلیمات بھی ہمیں یہی اصول سکھاتی ہیں کہ “جو تم سے توڑے اُس سے جوڑو اور جو تم سے جوڑے تم اُس سے مزید مضبوطی سے جُڑو” مطلب کہ عزت اور پیار دینے والوں کو ہمیشہ اُن سے بڑھ کے عزت و احترام اور پیار دو اور جو عزت نہیں کرتے اُن کی اور زیادہ عزت کرو تاکہ وہ بھی دوسروں کو عزت دینا سیکھ سکیں۔

    باقی سوشل میڈیا کی طرح ٹویٹر کو بھی میں نے ایک آئینے کی طرح پایا جس میں آپ خود کو اور دوسروں کو اچھے سے جانچ اور پرکھ سکتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی ٹویٹس، پوسٹس اور کمنٹس کے ذریعے اپنے آپ اور اپنی تربیت و اخلاقیات کو عیاں کر رہا ہوتا ہے۔

    اس لئے میرے مطابق تو ہر کسی کو عزت اور احترام دینا ہی مناسب ترین عمل ہے اور اللہ تعالی ہم سب کو اسی پہ عمل پیرا فرمائیں۔ آمین

    چونکہ ہر کسی کا کسی کو (افراد یا ماحول) کو جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ الگ ہو سکتا ہے مگر میں نے تو سوشل میڈیا کو ایسا پایا جسے میں نے اپنی تحریر کے زریعے آپ تک پہنچایا اور یہ تو تھا میرا اب تک کا ٹویٹر کا سفرنامہ جس میں اور بھی بہت سے انٹرسٹنگ واقعات اور تجربات ہیں جو کہ سب اس ایک تحریر میں سنانا ناممکن ہے اور کوشش کروں گا کہ اپنی کسی آنے والی تحریر میں وہ بھی سُنا سکوں

    امید ہے کہ آپ کو میرا یہ خوشگوار سفرنامہ پسند آیا ہو گا۔

  • وقت کی قدر کریں.تحریر: ملک ضماد

    وقت کی قدر کریں.تحریر: ملک ضماد

    بس صبح ہوئی شام ہوئی
    عمر یوں ہی تمام ہوئی

    اللہ تعالٰی نے انسان کو اپنی زندگی کو سنوارنے یا بگاڑنے کے لیے عمر کا تعین کر کے اس مخصوص وقت دیا ہے
    ہر انسان کے پاس اتنا ہی وقت ہے جتنا اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے
    بہترین انسان وہ ہے جو وقت کی قدر و اہمیت کو سمجھ کر مخصوص اوقات میں مخصوص کام جو اس کو اللہ پاک کی طرف سے بتائے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر کے بتائے وہ کرے
    گیا وقت ہاتھ نہیں آتا
    انسان اپنی جتنی زندگی گزار چکا ہے وہ قصہ پارینہ بن چکی ہے
    اب وہ وقت کسی بھی صورت واپس نہیں آ سکتا
    اگر گزرے وقت میں اچھے کام کیے تو وہ اس کو آنے والی دنیاوی اور آخرت کی زندگی میں کام آئیں گے
    انسان کے پاس جو وقت ہے وہ اس کو اگر قیمتی بنا لے تو اس کی باقی زندگی آسان گزرتی ہے
    اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں بھی بار ہا وقت کی قسمیں کھا کر انسان کو بتایا
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔

    وَالْعَصْرِ اِنَّ ا لْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ
    (العصر:3،2)

    قسم ہے زمانہ کی۔ یقیناً انسان خسارے میں ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی قسم اٹھائی ہے ان میں سے ایک وقت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں صبح کی قسم، سورۃاللّیل میں رات کی قسم، سورۃالضحیٰ میں چاشت کے وقت کی قسم اور سورۃ العصر میں زمانہ کی قسم کھائی ہے

    اس لیے انسان کو اپنا موجودہ وقت جو وہ گزار رہا ہے اس کو قیمتی بنانے اور آگے کی زندگی کو آسان کرنے کے لیے وقت کی قدر کرنی چاہیے

    وقت کی قدر ان لوگوں سے پوچھیں جن کے پاس وقت، موقع، پیسہ سب کچھ تھا لیکن انہوں نے وقت کی قدر نہیں تو وہ لوگ آج رو رہے ہیں اقر چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہے ہیں خدا راہ وقت کی قدر کر لو آج وقت ہے تو اس کے قدر کرو کل نہیں ہو گا تو پچھتاوا ہو گا

    وقت انسان کو خود اپنی قدر کرنے کے لیے بلاتا ہے لیکن انسان غافل ہے جو وقت کی قدر نہیں کرتا
    وقت انسان کو بار بار موقع دیتا ہے اپنے آپ کو سنبھال لو، سنوار لو، کچھ کما لو، لیکن انسان کی آنکھوں پے لمبی عمر جینے اور صحت مند رہنے کی پٹی بندھی ہوئی ہے جو اس کو سمجھ نہیں آتی
    اگر لمبی عمر کا انتظار وقت کرتا تو نوح علیہ السلام 9 سو سال سے زیادہ عمر پا کر بھی دنیا سے چلے گئے

    اگر صحت پکی پکی تندرست رہتی تو اللہ کے پیارے حبیب نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم بیمار نا ہوتے

    اس لیے انسان کو آنکھیں کھول کر اللہ کے حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں پر زندگی گزارنی چاہئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے

    جب ہم اپنے کاروبار، نوکری، پیشہ کو پورا ٹائم نہیں دیتے تو وہ کاروبار تباہ ہو جاتا ہے
    نوکری سے ہمیں نکال دیا جاتا ہے
    اس طرح ہم آپ زندگی میں اگر زندگی کو گزارنے کے لئے ٹائم نہیں دیں گے
    وقت کی قدر نہیں کریں گے تو کیسے ہم سوچ سکتے ہیں ہماری زندگی آرام دہ، اور خوشیوں سے بھری گزرے گی

    جو وقت کو مفت گنوائے گا
    وہ آخر کو پچھتائے گا
    کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا
    جو بوئے گا سو کھائے گا
    تو کب تک دیر لگائے گا
    یہ وقت بھی آخر جائے گا
    اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

  • منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات وہ اشیاء جات ہیں جن کے استعمال کی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی آسودگی ہے- دنیا بھر میں سینکڑوں اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں انسان منشیات کے نشے میں گرفتار ہیں اور اس کی وجوہات میں میڈیا (رسائل، فلم، ٹی وی، ناول، کہانی وغیرہ) پر منشیات کے استعمال کو دلفریب انداز میں پیش کرنا، والدین کی ناقص توجہ اور تربیت، سنگت و صحبت کا اثر، دوسروں کو دیکھ کر رشک و طلب وغیرہ شامل ہیں- لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نشے کی عادت کیوں لاحق ہوجاتی ہے؟
    پہلی بات کہ اسلام میں ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اسکی خرابیوں سے ہر کوئی واقف بھی ہے اس لئے اسے ایک صحت مند انسان قبول نہیں کرسکتے.

    سب سے پہلا سوال کہ منشیات کیا ہے ؟؟
    منشیات مختلف کیمیائی مرکبات سے بنائی جاتی ہے جو ایک انسانی جسم میں معمول سے ہٹ کر وہ کیفیت پیدا کرے جسے استعمال کرنے والے شخص کی چاہ ہو.. منشیات میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے
    منشیات کا استعمال تو آدمی اپنے اختیار سے شروع کرتا ہے؛ لیکن جب وہ اس لت میں پڑ جاتا ہے تو آپ اپنے قابو میں نہیں رہتا، وہ اضطراراً منشیات کے خرید نے اوراستعمال کرنے پر گویا مجبور ہوتا ہے ، چاہے کھانے کو دو روٹی میسر نہ ہو ، گھر کے لوگ بھوک اور فاقہ سے گذار رہے ہوں ، علاج کے لئے پیسے میسر نہ ہوں ؛ لیکن جو اس عادت کا اسیر ہو گا، وہ انسانی ضروریات کو پس پشت ڈال کر پہلے اپنی اس بری عادت کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس لئے اسراف اور فضولی خرچی کا یہ بہت بڑا محرک ہے، نشہ خوری نے خاندان کے خاندان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ، …

    دیکھا جائے تو اس کے استعمال پر پابندی ہونے کے باوجود یہ آ سانی سے دستیاب ہے بلکہ اب تو رواج کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے.
    اور جس طرح ہماری نوجوان نسل نشے کی لت میں مبتلا ہورہی ہے وہ تشویش ناک ہے, اتنی پابندیوں کے باوجود اسکے استعمال کی شرح میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے,
    نوجوانوں میں یہ وباء عام ہونے کی وجوہات میں کچھ وجوہات یہ بھی ہیں مثلاً بےخوفی کا بڑھ جانا
    موت سے غافل ہونا
    آ خرت کی فکر اور اللہ کی بارگاہ میں حاضری اور جواب دہی کا استحضار نہ رہنا,
    جب یہ سب ہوگا تو یہ گناہوں کی طرف جائیں گے ایسا لگتا ہے کہ انکی لگام انکے نفس کے قبضے میں ہے,
    افسوس کے کچھ لوگ معاشرے میں اسکا عادی ہونا فخر سمجھتے ہیں
    منشیات کے بہت سی اقسام ہیں جن میں چرس, نشہ آور ادویات, تمباکو نوشی, شراب, گھٹکا وغیرہ…
    سب سے زیادہ خطرناک نشہ ہیروئن کا ہے, جب کوئی شخص ہیروئن کی لت میں پڑ جاتا ہے وہ نشے کا مریض کہلاتا ہے.
    آ ج پاکستان کی کئ مصروف شاہراہیں دیکھ لیں سینکڑوں نوجوان وہاں نیم بےہوشی میں پڑے نظر آ ئیں گے, ان میں کچھ گھریلو مسائل سے تنگ آ کے نشے کی طرف راغب ہوئے اور کچھ لیلیٰ مجنوں کی کہانی کا حصہ خود کو سمجھنے لگے تھے, کچھ بےروزگاری اور معاشرتی بے حسی کی وجہ سے…. وہ اسطرح کہ جب معاشرتی طعنوں کی ضد میں انسان تنہائی پسند رہتا ہے اور اسکی بےسکونی اسکی توجہ نشے کی طرف مبذول کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ معاشرتی لعن طعن سے بےحس ہونے کے لئے اسکا استعمال کرتا ہے.

    ویسے نشے کا استعمال کس دور میں ہوا یہ معلوم نہیں اور جو لوگ نشے کے استعمال سے تکلیف, ذہنی دباؤ ختم کرنا چاہتے ہیں وہ اسکا بےدریغ استعمال کرتے ہیں پر وہ نہیں جانتے کہ اس سے ذہنی دباؤ وقتی طور پر ختم ہوجاتا ہے پھر مصیبت ہمیشہ گلے پڑ جاتی ہے.
    نشے کا استعمال کرنے والے افراد حقیقت میں کمزور قوت ارادی کے ہوتے ہیں, اس لئے بعض اوقات بے سکونی اور اضطرابی کی کیفیت بھی انسان کو نشے میں مبتلا کرسکتی ہے.
    نشے کے نقصانات زیادہ ہیں یہ تیزی سے انسان کو اسکے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں, ایسے لوگ معاشرے میں دوسروں کی نظروں سے گر جاتے ہیں اور کئی تو اپنا گھر بار نشے کی لت میں بیچ دیتے ہیں,
    انکے بچے رُل جاتے ہیں. انکے خاندان بکھر جاتے ہیں.
    منشیات کا عادی انسان نہ صرف خود کا نقصان کردیتا ہے بلکہ اپنے سے جُڑی زندگیوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے انکی زندگی کو بھی توڑ پھوڑ کا شکار بنا دیتا ہے .
    ایسے لوگ حقیقت میں بہت مظلوم ہوتے ہیں انکو ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم انکو دوبارہ سے زندگی کی سہی راہ پہ لا سکتے ہیں. اس لئے انکو حقارت سے نہ دیکھیں, انکی عزت نفس مجروح ہونے سے بچائیں, ایسے لوگوں کو توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور انھیں احساس دلانا ہے کہ وہ بھی اس معاشرے کا فرد ہیں…

  • سب سے پہلے پاکستان .تحریر : ملک علی رضا

    سب سے پہلے پاکستان .تحریر : ملک علی رضا

     
    ہم امن کے ساتھی ہیں مگر کسی قسم کی جنگ میں ہم امریکہ کا ساتھ نہیں دے سکتے، ایسا کہنا تھا وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا  قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران خطاب میں۔حالیہ خطے کی  بدلتی صورتحال اور افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کے انخلا کی وجہ سے اس وقت پاکستان پر سخت پریشر ہے کیونکہ امریکہ نے اپنی افغانستان میں ناکامی کے بعد پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین میں امریکی اتحادی فوجیوں کو جگہ فراہم کرے تا کہ وہ پاکستان میں رہ کر افغانستا ن کے علاقوں پر اپنی نظر رکھ سکے۔ مگر پاکستان نے عالمی دباو  اور خطرات کو پس پُشت ڈال کر امریکہ کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اب پاکستان کسی بھی دوسرے کی جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہوگا جیسے پہلے پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر سب کچھ کیا اور اس جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اُٹھانا پڑا  ۔

    اسی اثنا میں امریکہ نے افغانستان میں  رہ کر پاکستان میں 430 کے قریب ڈرون اسٹرائیک کیے جس میں ہزاروں بے گناہ افراد کی جانیں گئیں اور بہت نقصان اُٹھانا پڑا ۔ عمران خان کی حکومت شروع ہوتے ہی وزیر اعظم کا خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے مگر  یہ کیسا ایجنٹ ہے کہ جس نے یہودیوں کے سامنے پاکستان نے عزت وقار کی خاطر گُھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا جیسا کہ گزشتہ ادوار میں کیا گیا ۔پاکستان نے طالبان ، امریکی اتحادی فوجوں اور افغانستان حکومت میں امن کی خاطر ثالث کا کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ اب کی بار امریکہ کو پاکستان کی منت سماجت کرنی پڑی کہ وہ افغانستان سے انخلا میں انکی مدد کرے اور طالبان کیساتھ امن کی فضا قائم کرنے میں مدد کرے اور پاکستان نے جہاں تک ممکن ہوا مدد کی تا کہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ دوسری جانب امریکہ ایک طرف پاکستان کے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہہ رہا ہے اور دوسری جانب بھارت کو افغانستان میں کنٹرول دلوانے کے لیے جو اس سے بن پڑ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ اسی وجہ سے 25 سال بعد ایسا موقع آیا ہے کہ بھارت کی افغان طالبان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ عمران خان نے کچھ دن پہلے ایک امریکی جریدے کو انٹرویو میں بھی امریکہ کو اپنی سرزمین دینے پر   دو ٹوک جواب دیا تھا  کہ پاکستان اب اپنی سرزمین کسی بھی قسم کی جنگ کے لیے استعمال ہونے نہیں دےگا۔

    اپوزیشن جماعتیں عمران خان پر تنقید کے نشتر چلاتے رہتے ہیں اور  دنیا بھر  کے ممالک اس وقت عمران خان کے کسی بھی بیان کو لیکر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اور انٹرنیشنل میڈیا تو عمران خان کے کسی بھی بیان کو جو امریکہ ، اسرائیل یا انکے اتحادیوں کے بارے میں بات ہوتی اس میں سے ہر منفی پوائنٹ کو اُٹھا کر دنیا کے سامنے اس طرح سے لاتے ہیں جیسے عمران کان نے انکے خلاف بات کر کے کوئی جُرم کر دیا ہو۔یہ بات تو کنفر م ہو چکی ہے ایک تُرکی کے صدر رجب طیب ادرغان اور دوسرا اب عمران خان ایسا لیڈر ہے جس کی بات پوری دنیا میں گونجتی ہے۔ کشمیر کے معاملے پر بھی اقوام متحدہ سے لیکر او آئی سی جیسے فورمز یورپین پارلیمنٹ تک کشمیر کے حوالے سے بات کی گئی جو کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہاں اگر ہم پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے کردار کی تعریف نہ کی جائے تو یہ سراسر زیادتی ہوگی یہاں تک کہ اس سب کے پیچھے جو اصل محنت ہے وہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی محنت ہےجنہوں نے  پاکستان کے وقار کی خاطر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو بھی اب انکی اصل جگہ پر رکھ دیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی  لیفٹینت جنرل فیض حمید کے مختلف ممالک کے دوروں اور خاص طور پر تُرکی ، قطر اور افغانستان کے دوروں کی خاصی اہمیت رہی۔ عمران خان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وقت پاکستانی کی سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ عمران خان کے   ہر بیان کے بعد بھارت میں ایک آگ سی لگ جاتی ہےا ور  اتنی تکلیف امریکہ کو نہیں ہوتی جتنی بھارت کو ہوتی ہے۔عمران خان کے پارلیمنٹ میں دیے جانے والے بیان کو اپوزیشن کی جماعتو ں نے بھی سراہا جس کے بعد عوام  کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جو بات عرصہ دراز سے حکومتیں کرنے والوں کے کرنی چائیں تھیں اور پہلی بار بننے والا وزیر اعظم عمران خان کر رہا ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے وقار اور عزت کی خاطر بیرونی دباو کو مسترد کر دیا ہےاور اب  اس کے آفٹر شاکس پاکستان میں متعدد جگہوں سے آئیں گے کیونکہ اس بات کی تکلیف کارد عمل پاکستان میں آئے گا ۔ اب اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو  عمران خان کا ساتھ دینا چائیے۔ آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے تا کہ پاکستان اپنے موقعف سے پیچھے ہٹ جائے تو اس کے لیے عوام کو چائیے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے سیاسی قیادتوں کے لیے کام کرنا ہے یا پاکستان کی عزت و وقار کے لیے ؟۔ عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے بھی پھر سے کہہ دیا کہ اگر بھارت اپنے  فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا تب تک  بھارت کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی ۔

  • میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

    میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

    گزشتہ روز پاکستان کی تاریخ انتہائی اہم میٹنگ ہوئی جس میں آرمی چیف اور دیگر فوجی حکام سمیت پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ یہ میٹنگ چونکہ خفیہ تھی اس لیے اس کے مندرجات کھل کر سامنے نہیں آئے، لیکن جو ذرائع نے بتایا ہے وہ بہت دلچسب ہے، آرمی چیف نے نوازشریف کا ذکر کیا، اور کچھ اہم اشارے دیے جس نے ن لیگ کی کشتی میں بڑاسوراخ کردیا اور لندن میں بیٹھا کاغذی شیر بھی رسوا ہوگیا۔
    سیاسی عسکری قیادت میں زیادہ گپ شپ کھانے کی میز پر ہوئی۔ اجلاس میں ماحول اچھا تھا، کسی معاملے پر بھی تلخی نہیں ہوئی،اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھل گئی۔

    پہلا سوال مشاہد حسین، دوسرا شہباز شریف اور تیسرا بلاول بھٹو جبکہ تیسرا شاہ محمود نے کیا۔

    ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا تھا کہ وزیراعظم اجلاس میں نہ آئیں۔حکومت اور فوج ایک ہی پالیسی پر نظر آئے۔سوال جواب کا سیشن طویل ہو گیا جس پر آرمی چیف نے کہا کہ کوئی اعتراض نہیں ، اجلاس بے شک ہفتے کے آخر پر رکھ لیں۔ آپ کے ساتھ ہم کھانا کھائیں گے ناشتہ کرنے کو بھی تیار ہیں۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ لینا ہے۔
    آرمی چیف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر اجلاس کچھ دن بعد پھر بلا لیتے ہیں۔ اجلاس میں آرمی چیف نے لیگی رہنما احسن اقبال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بیٹے سے نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں ملا تھا، رہنما ن لیگ مشاہد حسین نے کہا کہ اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ ن پر ہاتھ ہولہ رکھیں جس پر آرمی چیف سے مسکراتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری بھی ساتھے کھڑے ہیں آپ کے۔
    ذرائع کے مطابق کھانے کی میز پر رانا ثناء اللہ اور رانا تنویز بھی آ گئے۔ تو جنرل باجوہ نے کہا کہ میری تو بیوی بھی راجپوت ہے، میرے چھوٹے بیٹے کی منگنی پشتونوں میں ہوئی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی فوج میں 40 فیصد پشتون ہیں۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر کو معاف کر دیں، آرمی چیف نے جواب دیا کہ پاکستانی فوج پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

    لہذا علی وزیر کو بھی معافی مانگنی ہو گی۔مجھ پر تنقید تو نواز شریف اور ایاز صادق نے بھی کی تاہم ہم نے برداشت کی۔اس دوران محسن داوڑ نے اٹھ کر بولنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے روک لیا جس پر قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپ کھل کر بات کریں۔محسن داورڈ آپ مجھ سے علحیدگی میں بھی ملیں،کبھی آپ کا راستہ نہیں روکا۔آپ الیکشن جیت کر آئے ہیں لہذا آپ کی بات سننے کو تیار ہیں۔
    بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ علی وزیر کو معاف کردیا جائے جس میں نوازشریف کو بھی گہرا پیغام پہنچا۔ آرمی چیف نے جواب دیا : میری ذات کو گالیاں دیں میں نے کچھ نہیں کہا، جنرل فیض کو دیں خیر ہے لیکن ان لوگوں نے فوج کو گالیاں دیں وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ اب اس سے کیا واضح ہوتا ہے؟ جو صحافی دن رات یہ گن گا رہے تھے کہ نواز شریف کی ڈیل ہوچکی ہے، نوازشریف نے فوج کو الٹا لٹکانا تھا اس وجہ سے فوج نے اسے باہر بھیج دیا ان کا ڈراپ سین ہوگیا، پس ثابت ہوا ہے اب اگر نوازشریف وطن واپس آئیں گے، ان کو پاکستان کے ادارے الٹا لٹکانے کے لیے تیار ہیں، اور اس ڈر سے آج کے بعد نوازشریف وطن واپس نہیں آئیں گے اور وہ غدار الطاف حسین کا روپ دھار چکے ہیں۔

  • خود احتسابی .تحریر: مزمل مسعود دیو

    خود احتسابی .تحریر: مزمل مسعود دیو

    بزرگ فرماتے ہیں کہ جب آپ کسی دوسرے کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو ذرا غور سے دیکھا کرو کیونکہ اسی ہاتھ کی تین انگلیاں تمہاری طرف اشارہ کررہی ہوتی ہیں اس لیے کسی کو وہ بات کہنے سےُپہلے تین بار سوچو کہ کہیں وہ بات جس پر تم انگلی اٹھا رہے ہو تمہارے اپنے اندر تو نہیں پائی جاتی پھر اگلے کو تلقین کرو ایسا نہ ہو کہ پھر بعد میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔
    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے

    (لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴿٢﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 61۔ الصف:2-3) کیوں تم وہ کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔

    ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس میں اکثریت کا کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے لیکن وہی لوگ جب اس تنقید میں زد میں آتے ہیں تو بلبلا اُٹھتے ہیں کیونکہ انکے مطابق وہ معاشرے کے سب سے بہترین لوگ ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو جو انسان کسی دوسرے کی برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اس میں پہلے سے وہ برائی موجود ہوتی ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں اس کے ذہن میں اس برائی کے خواص موجود ہوتے ہیں۔

    خود احتسابی مطلب اپنے آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور خود ہی ملزم، خود ہی وکیل اور خود ہی جج بن کر گنہگار اور بے گناہ کا فیصلہ کرنا۔ گنہگار ثابت ہونے پر اپنے آپ کو سدھارنا اور ان غلطیوں کو چھوڑنے کا ارادہ بنانا۔
    اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ گھر کے اندر باپ خود سگریٹ پیتا ہے۔ کئی لوگ نشہ کرتے ہیں، جوا، زنا جیسی غلط کاریوں میں ملوث ہوتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو ان سب سے منع کر رہے ہوتے ہیں۔ گھر کا بڑا ہونے کے ناطے تو درست ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ خود ان برائیوں میں ملوث ہوں اور دوسروں کو اس سے بچنے کا درس دیں۔ پہلے اپنے آپ کو ان برائیوں سے دور کریں اپنے بچوں اور معاشرے کے سامنے ایک نمونہ بنیں پھر آپکی بات کا دوسروں پر بہت گہرا اثر ہوگا۔
    سکول وکالجز میں زیادہ تو اساتذہ اپنے کلاس ٹائم میں بچوں کو نہیں پڑھاتے اور کل کے لیے ہوم ورک دے دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ نوبت آجاتی ہے کہ وہ ہوم ورک بھی چیک نہیں کرتے اسطرح بچوں کے اندر اس استاد کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور بچوں کے نزدیک ٹائم پاس کی حیثیت رہ جاتی ہے لیکن اگر آپ انکو دوبارہ کام پڑھنے کے لیے بولو تو اس بات کو ٹال مٹول کردیتے ہیں اس میں قصوروار بچے نہیں وہ استاد ہے جس نے اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچایا۔ اگر وہی استاد اپنا محاسبہ کریں تو انہیں پتا چلے گا کہ انہیں جس کام کی تنخواہ ملتی تھی وہ کام انہوں نے سرانجام نہیں دیا اسلیے یہ نوبت آئی۔

    بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں لیکن اگر ہر فرد، ادارہ اپنا اپنا محاسبہ کرے تو کوئی شک نہیں کہ بہت ساری برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔