Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

    خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہم سب پاکستان کی موجودہ خستہ صورتحال کے ذمہ دار میں ،مقروض پاکستان کی زبوں حالی کا ذمہ دار کرپٹ سیاست دانوں کو ٹھہرانا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ یا سٹیٹس لگا کر کو ستے رہنا معمول بن چکا ہے لیکن ہم اس امر پر غور کرنا گوارہ نہیں کرتے کہ جہاں غیر منصفانہ ،ظالمانہ اور کرپٹ نظام کے خلاف ہمیں متحد ہو کر کھڑے ہونا اور حق کی آواز بننا چاہیئے وہاں ہم سوشل میڈیا پر خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھتے ہیں جو ایک سنگین جرم ہے جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔

    ظالم کو مزید طاقتور مظلوم کی خاموشی بناتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز اور قوم کی بد حالی کے ذمہ دار اور غداروں کا ہماری خاموشی نے کس طرح ساتھ دیا۔ تاریخ گواہ ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح اپنی ہی قائم کر دہ ریاست میں مٹھی بھر غداروں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکے، قیام پاکستان کی خاطر بھائی کے ہمراہ شانہ بشانہ چلنے والی بانی پاکستان کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اسی ملک میں غدار ٹھہرا دی گئی مگر ہم خاموش رہے۔گزشتہ برس خواب پاکستان دیکھنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال کے پوتے اور بہو کو سر عام تشدد کا نشانہ بنا کر اسی ملک میں ان کی تذلیل کی گئی مگر ہم خاموش رہے۔

    مخلوط نظام تعلیم کے نام پر چلائے جانے والے تعلیمی اداروں نے ہماری نوجوان نسلوں کو فحاشی اور نشے جیسی دلدل میں دھکیل دیا ہم سے۔ہمارا باوقار نظام ،تعلیم چھین کر مخلوط تعلیمی انتظام رائج کر دیا گیا جس کا ہمارے دین میں کوئی وجود نہیں اس طرح ہماری نسلیں دین اسلام کی اصل تعلیم سے دور ہو چکی ہیں مگر ہم خاموش ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام ڈنکے کی چوٹ پر چلایا جارہا ہے جو سراسر اللہ اور اللہ کے رسول خاتم النبین” سے کھلا اعلان جنگ ہے مگر ہم اس پر بھی خاموش ہیں۔ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ، کوئی گستاخی کا واقعہ ہوتو بھی اس پر بھی ہم انتہائی کمزور سا احتجاج کر کے خاموش ہی ہو جاتے ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالت یہ ہے کہ وہا ں انصاف طاقتور اور امیروں کا کھلوناہے جسے بآسانی خریدا جا سکتا ہے تمام تر قوانین صرف غریبوں اور کمزوروں پر لاگو ہیں جبکہ با اثر افراد کوئی بھی گھناونا جرم کرنے کے بعد قانون کی بولی لگا کر مکڑی کے جانے کی طرح پھاڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں عدالتوں کے باہر لگے ترازو میں انصاف نظر نہیں آتا.

    سوال یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے قاتل پکڑے نہ جاسکے ،بے نظیر بھٹو شہید سمیت کئی رہنماؤں کے قاتل آج تک نہیں پکڑے جاسکے، کراچی میں میں ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونیوالے سینکڑوں لوگوں کے قاتل پکڑے نہیں جاسکے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عرصہ دراز سے ہونیوار خود کش دھماکوں کے نشانات ڈھونڈے نہ جا سکے۔ قاتل تو دور کراچی میں ہونے والے سٹریٹ کرائمز کرنے والے تک گرفتار نہ ہو سکے مگرجب غلامی کرنے پر آئیں تو انکل ٹرمپ کی خدمت میں ان کا مجرم محض کچھ ہی گھنٹوں میں پکڑ کر حوالےکر دیا گیا جس پر آج ٹرمپ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کر رہا ہے کہ ہمارے انتہائی مطلوب مجرم کو ہمارے حوالے کر دیا گیا ہے۔ہماری بہن پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج بھی امریکی قید خانے میں بے حد اذیت ناک زندگی گزار رہی ہے مگر ہم خاموش ہیں۔کسی سابقہ امریکی صدرنے ٹھیک کہا تھا کہ یہ پاکستانی چند پیسوں کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں وقت نے ایک بار پھر آج ثابت کر دیا ہے۔یہ ریاست کے فیصلے ہیں، اداروں کے فیصلے ہیں.حکومتوں کے فیصلے ہیں اور یہ ایوانوں میں بھاشن جھاڑنے والے لیڈرز خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں سب ایک ہی جھنکار پر ناچتے ہیں جب آواز آتی ہے۔” ہم تم کو ڈالر دے گا ڈالر ! ”

    ہم سب پاکستان کی اپنی اور اپنی نسلوں کی تباہی خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں ، بجلی ، گیس ، پانی کے بلوں میں ناجائز بے حد اضافہ، ٹیکس غریب کا گلہ گھونٹ رہے ہیں، روٹی سے لے کر کفن تک ٹیکس ادا کرنے والی قوم کا بچہ پیدا ہوتے ہی مقروض ہیں،مگر ہم خاموش ہیں،ظالموں کے ظلم کو ہماری خاموشی تقویت بخش رہی ہے، یہ کیسا خوف ہے جو ہمیں ہماری تباہی کے ذمہ داروں کا ساتھی بنا رہا ہے۔حضرت علی کا فرمان ہے۔، قبرستان بھرے پڑے ہیں ایسے لوگوں سے جو حق کیلئے اس لیئے کھڑے نہ ہوئے کہ کہیں وہ مارے نہ جائیں ؟لہذا خاموشی کو محفوظ پناہ گا ہ سمجھنا ہمیں نہ صرف خود کا مجرم بنارہا ہے بلکہ یہ بزدلانہ عمل ہی ہماری تباہی کا اصل ذمہ دار ہے ہمیں بلا کسی خوف کے حق کیلئے یکجا ہو کر ظالموں کے ہاتھ کاٹنے کی ضرورت ہے۔

  • تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    گذشتہ روز ہر کوئی نئے کپڑے زیب تن کیے عید کی خوشیاں منانے میں مشغول تھا، بینک کے اے ٹی ایم پر گیا تو بینک گارڈ کو دیکھا کہ وہ نئے کپڑوں کی جگہ اپنی وردی میں کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ انکل جی آپ کو عید کی چھٹی نہیں ملی اس نے کہا کہ سر اتنی قسمت کہاں دو میں سے کسی ایک عید کی ہی چھٹی ملتی ہے۔ میں نے پیسے نکلواتے وقت فیصلہ کیا کہ اگر کوئی عیدی کا حقدار ہے تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ کر اپنی عید قربان کرکے رزق حلال کما رہے ہیں۔میں نے اسے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ چاچا عیدی اس نے دعائیں دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح چند اور مقامات پر ڈیوٹی پر مامور افراد کو عیدی دی۔ خاص طور پر لاہور اور گاؤں دونوں جگہ گھریلو ملازمین اور محلے کے گارڈ کو عیدی دی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے ریسٹوران کا رخ کیا تو وہاں بھی ویٹر کو روٹین سے زیادہ ٹپ بطور عیدی دی۔ ان تھوڑی تنخواہ والے ملازمین کو تھوڑی سی رقم بطور عیدی دیکر نیکی کی فوری قبولیت کا احساس ہوا۔ یقین کریں قبولیت کا احساس نماز، روزہ اور عبادات سے بھی زیادہ تھا، حقیقی سکون اور خوشی۔

    نماز، روزہ اور عبادات لازم ہیں اور ریگولر کرتے بھی ہیں اس کے باوجود اللہ سے قبولیت کیلئے دعا گو بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ عبادات بھی ایسے اعمال سے ہی قبول کرے گا۔ چند ہفتے قبل دوران سفر ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کیلئے رکا، گاڑی سے مصلیٰ (جائے نماز) لی، جمعہ کی دوسری اور آخری رکعت میں سلام پھیرنے سے چند لمحے قبل ایک نمازی ساتھ شامل ہوا اور میرے ساتھ سڑک پر تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا، میں سفر میں بھی تھا اور جلدی بھی تھی لیکن سوچا کہ ”سلمان“ اللہ ایسا جلدی والا جمعہ قبول کرے نہ کرے لیکن اس بندے کو نماز کیلئے مصلیٰ دینے سے اللہ ضرور راضی ہو گا، میں سلام پھیر کر کھڑا ہوگیا اور جائے نماز اسکی طرف کردی کہ اپنی نماز مکمل کرلو یقین کریں واقعی ایسا ہوا، بہت سکون ملا کہ اللہ نے یہ عمل ضرور قبول کیا ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے عبادات کا اصل مقصد انسانیت ہی رکھا ہے اگر نماز اور عبادات کے بعد بھی ہم میں احترام انسانیت نہیں تو پھر اپنا محاسبہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ مجھے بینک کے پریمئم ورلڈ کارڈ پر اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، روٹین میں کسی نہ کسی بیکری سے ڈسکائنٹ پر بریڈ لیکر گاڑی میں رکھ لیتا ہوں جہاں کوئی کتا، بلی یا جانور نظر آتا ہے گاڑی آہستہ یا روک کر اسے کھلا دیتا ہوں یقین کریں ان بے زبان جانوروں کو معمولی سا کھانا کھلا کر جو تسکین ملتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ریسٹوران پر جاتا ہوں تو اگر کھانا بچ جائے تو پیک کروا کر خود راستے میں کسی نہ کسی جانور کو کھلا دیتا ہوں۔
    ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں، عید آتی ہے اور گزر جاتی ہیں لیکن جس عید پر حقیقی خوشی ملی وہ 2005کی عید ہے۔ اکتوبر2005کے زلزلے میں اپنے گھر سے کمبل رضائیاں، کھانے کی اشیاء سمیت اچھا خاصاسامان لیا۔ ابو، امی، بہن بھائیوں سب کے نئے کپڑے اور جوتیاں زلزلہ زدگان کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور پڑھتا تھا تو اسلامی جمیعت طلبہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے ”عید کاروان“ روانہ کرنا تھا۔ عید کاروان کیلئے بہت سارے طلبہ رضاکارانہ طور پر مدد کیلئے جارہے تھے ضلع قصور سے میں، جواد سلیم اور عرفان چوہدری بھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ اپنے نئے کپڑے زلزلہ زدگان کو عطیہ کرکے خود پرانے کپڑوں کے ساتھ گھڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے گزاری اس عید کی حقیقی خوشی کو آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔
    میرے قریبی دوست اکثر کہتے ہیں کہ آپ اشرافیہ اور بدمعاشیہ سے جتنے پنگے لیتے ہیں غریبوں اور بے زبان جانوروں کی دعائیں ہی ہیں جو آپ کو بچا دیتی ہیں۔

  • آن  لائن گینگز  بچوں کو کیسے نشانہ بنا رہے،والدین خبردار

    آن لائن گینگز بچوں کو کیسے نشانہ بنا رہے،والدین خبردار

    آن لائن دنیا میں ہر لمحہ کچھ نیا اور حیران کن ہو رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ایک انتہائی خطرناک رجحان سامنے آیا ہے، جو نوجوانوں، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے شدید خطرے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ "کام” (Com) نامی آن لائن گروہوں کی ایک ایسی شیطانی دنیا ہے، جہاں نوعمر لڑکے ایک دوسرے سے زیادہ سفاک اور ظالمانہ بننے کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔

    جو* نامی ماں کو ایک سال تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی بیٹی میری* "کام” کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔ میری کو دھوکہ دے کر خود کو نقصان پہنچانے اور بچوں کے جنسی استحصال کے مواد بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔ جو کے مطابق، اس ظلم نے میری پر خوفناک اثر ڈالا، وہ نیند سے محروم ہو گئی، دوستوں سے الگ تھلگ ہو گئی اور اس کا وزن تیزی سے کم ہونے لگا۔جو تمام والدین کو اس خطرے سے آگاہ کرنا چاہتی ہیں اور ان کا مشورہ ہے کہ بچوں کو انٹرنیٹ تک رسائی دینے میں دیر کریں اور زیادہ سے زیادہ پیرنٹل کنٹرولز کا استعمال کریں۔

    آن لائن گینگز کے بھیانک حربے
    "کام” ان بچوں کو نشانہ بناتا ہے جو جذباتی طور پر کمزور ہوتے ہیں، انہیں دھوکہ دے کر گھناؤنے مطالبات کیے جاتے ہیں، اور پھر دھمکیاں دے کر مزید خطرناک مواد مانگا جاتا ہے۔ میری بھی اسی جال میں پھنس چکی تھی۔
    جو نے بتایا کہ "میں خوفزدہ تھی کہ اگر میں اس کا موبائل لے لوں گی تو وہ خودکشی کر لے گی، اس لیے میں نے اکثر اس پر یقین کرنے کا فیصلہ کیا۔”

    یہ گینگ کیسے کام کرتے ہیں؟
    "کام” کے پیچھے کوئی ایک لیڈر نہیں ہے بلکہ یہ مختلف گروہوں کا ایک نیٹ ورک ہے۔ نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق، ان گروہوں میں زیادہ تر نوعمر لڑکے شامل ہیں، جو سائبر کرائم، فراڈ، مالویئر اٹیک اور جنسی استحصال جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہیں۔این سی اے کے ڈائریکٹر جیمز بیبج کے مطابق: "ہم نے دیکھا ہے کہ ہزاروں صارفین لاکھوں پیغامات میں جسمانی اور جنسی تشدد پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ ایک تیزی سے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔”

    سلی* نامی ماں کی 12 سالہ بیٹی بھی "کام” کے نشانے پر تھی۔ ابتدا میں بات چیت معمولی تھی، مگر آہستہ آہستہ گفتگو خودکشی، ذہنی صحت اور جسمانی نقصان تک جا پہنچی، اور آخرکار اس سے برہنہ تصاویر مانگی گئیں۔جب سلی کو اس بارے میں معلوم ہوا تو وہ سکتے میں آگئی۔ اس کی بیٹی ابھی تک صدمے اور شرمندگی میں مبتلا ہے۔

    "کام” بین الاقوامی سطح پر کام کرتا ہے اور اس کے کچھ ممبران برطانیہ میں بھی موجود ہیں۔2024 میں، ویسٹ سسیکس کا رہائشی 18 سالہ کیمرون فنیگن "کام” سے جڑے جرائم میں ملوث پایا گیا اور اسے 6 سال قید کی سزا دی گئی۔ اس پر دہشت گردی کے مواد رکھنے، بچوں کی فحش تصاویر رکھنے اور خودکشی کی ترغیب دینے کے الزامات ثابت ہوئے۔سائبر کرائم کی تحقیقات میں شامل "کیلی” نامی ایک ماہر کے مطابق: "ان چیٹس کو پڑھنا بدترین تجربہ تھا۔ تصاویر سے زیادہ خوفناک چیز وہ گفتگو تھی جو یہ مجرم کر رہے تھے۔”

    "کام” میں شامل افراد نوجوانوں کو بلیک میل کرنے کے لیے "ڈاکسنگ” (ذاتی معلومات لیک کرنا) اور "سواٹنگ” جیسے حربے استعمال کرتے ہیں۔ سواٹنگ میں جھوٹی شکایات درج کروا کر پولیس کو کسی کے گھر بھیج دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات جان لیوا واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ، "کام” کے کچھ ممبران "روبلوکس” جیسے بچوں کے آن لائن گیمز میں شامل ہو کر معصوم بچوں کو ورغلاتے ہیں، ان سے جنسی استحصال کرتے ہیں، اور پھر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔

    جب اس حوالے سے ٹیلی گرام، ڈسکارڈ اور روبلوکس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل نقصان دہ مواد کی نگرانی کر رہے ہیں اور "کام” سے منسلک گروپس کو ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے۔ ٹیلی گرام کے مطابق، فروری 2024 میں تمام "کام” گروپس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا اور مزید مانیٹرنگ جاری ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن دنیا میں بچوں کے ساتھ دوستانہ گفتگو کرنا بے حد ضروری ہے۔ جیمز بیبج کے مطابق: "ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی بچہ گھر میں انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے تو وہ محفوظ ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔”سلی نے والدین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: "آپ اپنی اولاد کو کھو سکتے ہیں۔ ہمیں مل کر اس کے خلاف کام کرنا ہوگا تاکہ ہمارے بچے محفوظ رہیں۔”ماہرین کے مطابق، حکومت، اسکولز، سوشل میڈیا کمپنیوں اور والدین کو مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ "کام” جیسے خطرناک نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

  • تھکن ،ذہنی دباؤ،رات نیند نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟ماہرین کی رائے

    تھکن ،ذہنی دباؤ،رات نیند نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟ماہرین کی رائے

    دنیا بھر میں سیاسی تبدیلیاں، تجارتی جنگوں کے امکانات، اسٹاک مارکیٹ میں افراتفری، اور صارفین کے لیے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہو رہا ہے، جب کہ ہزاروں افراد کی ملازمتیں بھی ختم ہو رہی ہیں، اور اس کا اثر مزید لوگوں پر بھی پڑے گا۔ ان دنوں میں تبدیلی اور غیر یقینی صورتحال ایک عام بات ہے، اور یہ بے چینی اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔دباؤ، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، نیند کو متاثر کر سکتا ہے۔ بہت سے افراد کے لیے یہ دباؤ بے خوابی کا سبب بن سکتا ہے، جو کہ نیند میں مشکل، نیند کا برقرار نہ رہنا، یا زیادہ جلدی جاگنا جیسی شکایات کا باعث بنتی ہے۔ اگر بے خوابی کا مسئلہ دیر تک رہے تو یہ دل کے دورے اور فالج جیسے سنگین صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

    نیند کے ماہر ڈاکٹر انا کریگر کا کہنا ہے کہ، "ہر کسی کی بے خوابی کی ایک مخصوص حد ہوتی ہے، اور کبھی کبھار کچھ ایسے عوامل آتے ہیں جو اس حد کو پار کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔ یہ دباؤ ذاتی، پیشہ ورانہ، ماحولیاتی یا سیاسی بھی ہو سکتا ہے۔”

    پچھلی کچھ دہائیوں میں سیاسی اور معاشرتی افراتفری کے دوران بے خوابی کے معاملات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جیسا کہ مائشیلا ڈریپ نے بتایا، جو کہ اوہایو کے کلیولینڈ کلینک میں نیند کے مسائل کے ماہر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ بے خوابی کا شکار ہیں، تو بستر پر تڑپنے کی بجائے اٹھ کر کچھ آرام دہ کام کریں، اور کم روشنی میں رہنے کی کوشش کریں۔ نیند کے مسائل میں مبتلا افراد کو اس بات سے بچنا چاہیے کہ وہ اپنی نیند کی کیفیت کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوں، کیونکہ یہ پریشانی نیند کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔

    عمر ایک اہم خطرے کا عنصر ہے، کیونکہ بزرگ افراد پہلے ہی صحت کے مسائل یا دائمی درد کی وجہ سے نیند کی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں اور ایسے میں اضافی دباؤ انہیں مزید متاثر کر سکتا ہے۔ خواتین میں بے خوابی کی شرح مردوں سے زیادہ ہوتی ہے، اور ایسے افراد جو کہ خاندان میں کسی کو بے خوابی کا سامنا ہے، وہ بھی زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ رات کو سوشل میڈیا یا خبریں چیک کرنے کی عادت کو ختم کیا جائے۔ جینیفر منڈٹ، جو کہ یونیورسٹی آف یوٹاہ میں نیند کی ماہر ہیں، کہتی ہیں کہ "نیند سے پہلے خبریں دیکھنا یا سوشل میڈیا پر وقت گزارنا نیند میں خلل ڈال سکتا ہے، اس لیے نیند سے ایک گھنٹہ پہلے اس سے بچنا چاہیے۔”الکحل یا دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال نیند کو بہتر کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ دراصل نیند کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، دن بھر زیادہ کیفین کا استعمال بھی نیند کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بے خوابی کے مسائل کو مستقل شکل اختیار کرنے سے بچانے کے لیے سلیپ بیہیویرل تھراپی (CBT-I) ایک بہترین طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار میں نیند کے شیڈول کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے اور نیند کے ماحول کو مثبت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر آپ کو نیند کے مسائل کا سامنا ہے، تو ضروری ہے کہ آپ اپنی نیند کی عادات اور ماحول پر توجہ دیں اور ان عوامل سے بچیں جو نیند کو خراب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر ضروری ہو تو ماہرین سے مدد لیں تاکہ آپ کی نیند کو بہتر بنایا جا سکے اور آپ ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر محسوس کر سکیں۔

  • خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان

    خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان

    خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان
    پاکستان سمیت دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن بڑے جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس دن کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی معاشرتی حیثیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں مختلف تقاریب، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات چیت کی گئی اور ان کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ تاہم، اس دن کے بعد جو افسوسناک واقعہ سامنے آیا، وہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور تشدد کے حوالے سے ابھی بھی ایک بڑی خاموشی اور لاپرواہی کا عالم ہے۔

    8 مارچ کے بعد، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایف 9 پارک کے قریب ایک معروف فوڈ چین کے باہر ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان خواتین کو سڑک پر زدوکوب کر رہا ہے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا.اس ویڈیو نے پورے ملک میں ایک ہلچل مچائی اور خواتین کے حقوق کے بارے میں ایک نئے سوالات اٹھا دیے۔ویڈیو میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف خواتین کے ساتھ تشدد کا ہے بلکہ اس میں ان کی بے بسی اور بدترین صورت حال بھی سامنے آتی ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور ایف آئی آر کے مطابق، مرکزی ملزم جمال نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 23 فروری کی رات خواتین کو مارا پیٹا اور ان سے 10 تولہ زیورات اور 20 لاکھ روپے نقد چھین لیے۔

    پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم جمال کو گرفتار کیا، لیکن اس کے بعد ایک نیا پہلو سامنے آیا۔ 10 مارچ کو یہ انکشاف ہوا کہ ملزم جمال اور متاثرہ خواتین کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔ خواتین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سب محض ایک غلط فہمی تھی اور اس وجہ سے وہ یہ مقدمہ واپس لے رہی ہیں۔ خواتین نے عدالت میں یہ کہا کہ اگر جمال کو ضمانت ملتی ہے یا وہ بری ہو جاتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم جمال نامی شخص کو گرفتارتو کر لیالیکن ایسے لگتا ہے کہ ملزم کے ہاتھ لمبے تھے، اندراج مقدمہ کے بعد تشدد کا شکار خواتین نے ملزم کے ساتھ صلح کر لی اور عدالت میں بیان دے دیا کہ غلط فہمی ہوئی…ابے غلط فہمی کس چیز کی…ویڈیو سامنے آئی…تشدد ہوا..سر عام ہوا..مقدمہ درج ہوا…پھر غلط فہمی کس بات کی….یہی چلتا ہے پاکستانی معاشرے میں..ملزم کو ضمانت ملے گی کل وہ کسی اور کو تشدد کا نشانہ بنائے گا پھر آوازیں اٹھیں گی ہائے خواتین پر تشدد..لیکن یہ جو خواتین تشدد کے بعد بھی صلح کر رہی…اب نام نہاد خواتین کے حقوق کی دعویدار تنظیموں کے منہ کو تالے کیوں لگ گئے، آئیں سامنے اور کہیں کہ ہم مدعی بنیں گی لیکن وہ کبھی ایسا نہیں کریں گی.

    یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ ہمارے معاشرتی نظام میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے نہ صرف قانونی اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ان کا اعتماد بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی آواز بلند کرسکیں اور ظالموں کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ پاکستان میں خواتین کو تحفظ چاہیے تو انہیں اپنے حقوق کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔ مار کھا کر صلح کر لینا، مجرم کو مزید شہہ دینے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر کسی عورت کو ظلم کا سامنا ہو اور وہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائے تو یہ ظلم بڑھتا ہی چلا جائے گا۔کل کو اگر ان خواتین کو کہیں اور سے تشدد کا سامنا ہوا تو اس کی ذمہ داری ان خود ہی ہوگی جنہوں نے اپنی خاموشی سے مجرم کو مزید حوصلہ دیا۔ ہمیں اس بات کا شعور حاصل کرنا ہوگا کہ حقوق کا تحفظ صرف اس صورت ممکن ہے جب ہم ان کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں اور معاشرتی بدعنوانیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت، ادارے، اور خواتین کی خود کی کوششیں اہم ہیں۔ ہمیں خواتین کے ساتھ ہمدردی اور احترام کے ساتھ پیش آنا ہوگا، تاکہ وہ اپنے حقوق کے لئے لڑ سکیں اور معاشرتی سطح پر اپنی مقام بنا سکیں۔ جب تک ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، تب تک خواتین کو ان کے حقوق نہیں مل پائیں گے اور اس طرح کے افسوسناک واقعات ہمیشہ ہمارے معاشرے کا حصہ بنے رہیں گے۔

  • صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان

    صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان

    مریم نواز شریف کے میو ہسپتال والے وزٹ سے اب تک میں نے لاہور اور پنجاب کے درجنوں ہسپتالوں میں داخل مریضوں کا فیڈ بیک لیا تو 100فیصد کی رائے تھی کہ مریم نواز کے میو ہسپتال کے ایم ایس کی معطلی کے بعد باقی ہسپتالوں میں بھی فوری بہتری آئی ہے تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ ڈاکٹروں کو بھی احتساب کا ڈر ہوا ہے۔ خاص طور پر میو ہسپتال کے مریضوں اور لواحقین کا کہنا تھا وزیراعلیٰ پنجاب ان کی دل کی آواز بنی ہیں، مریم نواز کے وزٹ سے پہلے ڈاکٹرسرنج اور برنولہ تک باہر سے منگواتے تھے جبکہ محکمہ صحت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق دو لاکھ سرنج اور اتنے ہی برنولہ میو ہسپتال کے پاس موجود تھے۔
    پاکستان میں شعبہ صحت کیلئے گذشتہ تیس سالوں میں ہم نے ورلڈ بینک سے 2ارب20کروڑ ڈالر سے زائد کے پراجیکٹس لیے۔
    دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی فنڈنگ اور حکومت کا سالانہ بجٹ اس کے علاوہ ہے۔ اس کے باوجود شعبہ صحت میں تنزلی کی وجہ صرف یہی ہے کہ کروڑوں اور اربوں کے فنڈز ڈاکٹرز کے حوالے کردیے۔ انتظامی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اربوں کھربوں روپے بدانتظامی اور کرپشن کی نظر ہو گئے۔
    میں نے گذشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمیں بھی ایم ایس کی سیٹ کوختم کرکے ایڈمنسٹریٹر لگانا ہوں گے۔
    ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹنٹ کرنل، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ انیس کے افسران کو ایڈمنسٹریٹر بنایا جائے،ان افسران کے ہوتے ہوئے کسی بھی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی بلیک میلنگ اور ہڑتال ہوجائے تو پھر کہیے گا۔
    ڈائریکٹر فنانس پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ہونے چاہئے۔ایڈمنسٹریشن اور فنانس کی سیٹوں پر کسی بھی صورت ڈاکٹر کو نہیں لگانا چاہئے۔
    تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو ہیلتھ کیلئے گریڈ 18کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس افسران بہترین انتخاب ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ تحصیل لیول اور چھوٹے ہسپتالوں کیلئے گریڈ 17اور 18کے ایڈمنسٹریٹو تجربے کے حامل ایڈمن افسران کی بھرتی کی جائے۔
    شعبہ صحت میں بہتری کا واحد حل یہی ہے کہ ڈاکٹرز کو انتظامی عہدوں سے مکمل الگ کر کے صرف علاج معالجہ پر فوکس کرنے کا کہا جائے اور انتظامی سیٹوں پر انتظامی افسران کی تقرری کی جائے۔
    شعبہ صحت میں بہتری کے لیے پریکٹیکل اقدامات پر جہاں عام عوام مریم نواز کو دعائیں دے رہی ہے وہیں چند سرکاری ڈاکٹر سوشل میڈیا پر مریم نواز کے خلاف محاذ بنائے ہوئے غلیظ کمپین کر رہے ہیں ۔
    میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف صحافی اور یوٹیوب پوڈکاسٹر بنتے جا رہے ہیں۔ سرکاری ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی صحافتی سرگرمیوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں پریکٹس پر پیڈا ایکٹ لگایا جائے جبکہ حکومت مخالف پروپیگنڈا کرنے والے باقی افراد پر پیکا ایکٹ لگانا ہی واحد ہے۔

  • لیکن ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں.تحریر:سائرہ اعوان

    لیکن ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں.تحریر:سائرہ اعوان

    پہاڑوں کے پیالوں میں یہ وہ درسگاہ ہے جہاں ابو نے ایک استاد کے طور پر اپنے فرائض سنبھالے تو یہ ویرانے میں جلتی بجھتی لو کی طرح تھا ، جس کی مدھم روشنی کو کوئی ٹھہر کر نہیں دیکھتا
    ابو نے پہلے دن سے اسے گھر کی طرح سنبھالا
    یہ سکول ایک ڈھوک میں موجود ہے۔ ڈھوک گاؤں سے بھی مختصر ، جنگلوں میں بسیرے کے مقام کو کہتے ہیں۔یہاں بجلی ، پانی کی سہولت موجود نہیں اور جن گھروں سے بچے یہاں آتے ہیں وہاں ابھی تک شعور کی خوشبو نہیں آئی اور وہاں کے مکین بھیڑ بکریاں چرا کر زندگی گزار جاتے ہیں۔یہاں کے بچے بہت ذہین ہیں ، ایک طالب علم جو قوتِ گویائی سے محروم ہے اسے دور سے آنے والوں کی آہٹ کا ادراک ہوجاتا تھا اور وہ سارے اسباق سب سے جلدی یاد کرلیتا تھا۔یہی نہیں کچھ بچوں کے ساتھ ان کا پالتو کتا سکول تک آتا اور دروازے پر بیٹھا رہتا اور پھر انہی کے ساتھ واپس چلا جاتا تھا ، جب یہ بچے اس ڈھوک سے کچھ دور ہمارے گاؤں کے ہائی سکول میں داخل ہوئے تب بھی وہ کتا اس اس سکول تک آتا ہے اور دروازے پر بیٹھ جاتا ہے، جب بچے واپس آتے تو ان کے ساتھ گھر کو لٹتا ہے۔

    جس قدر ان بچوں میں خواب اور شوق کی تازگی بھری ہے ، اتنا ہی وہاں کے والدین کو اپنا پرانا طرزِ حیات بدل کر بچوں کو پڑھنے کے لیے سکول بھیجنے پر قائل کرنا ایک مشکل کام رہا ہے۔
    ایسے میں پڑھنے والوں کو یاد نہ ہو ، ہم نے اس سکول کے لیے فنڈز اکٹھے کیے ، اس کارخیر میں آپ میں سے ایک مخصوص شخصیت نے پوری دلجمعی سے حصہ لیا اور سمندروں پار بیٹھ کر اس کچی مٹی میں خواب بونے والوں کا ساتھ دیا
    اسی فنڈ سے ہم نے یہاں ایک کمرہ تعمیر کروایا تھا جس پر سرکار کا کوئی دھیان نہ تھا ، اپنی مدد آپ کے تحت یہاں اونٹوں پر بھر بھر پانی لایا جاتا اور سخت موسموں میں بھی کسی طرح اس کام کو مکمل کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ مدھم لو اپنی پوری آب و تاب سے چمکی۔

    یہاں درخت لگائے گئے ، کلاس رومز کو شاندار انداز میں مزین کیا گیا اور کوئی سہولت نہ ہونے کے باوجود یہاں علم کی حرارت اور خوابوں کی روشنی بجھنے نہ دی۔یہ ابو نے اکیلے نہیں کیا ، آپ سب نے اس وقت ساتھ دیا جب اس ویرانے میں زندگی کے کرنے کو کوئی امید نہ ملتی تھی۔جب ابو کو اس کارکردگی پر appreciation letter دیا گیا تو میرا دل شدت سے چاہا کہ میں اسے آپ سب کے نام بھی کروں ، ہر وہ انسان جس نے کچھ برس پہلے ہماری مدد کی اور ان بچوں کو دعا دی تھی یہ حُسن کارکردگی آپ سب کے نام ہے اور ایک یاددہانی ہے کہ خیر کا ایک پل بھی کبھی ضائع نہیں جاتا
    اور کوئی خواب چھوٹا یا عام نہیں ہوتا ، ابو کو بہت لوگوں نے کہا کہ یہاں اتنی محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ انہوں نے یہ کہہ کر جاری رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان بچوں تک کسی مقصد سے بھیجا ہے۔ابو نے اس درسگاہ میں ہمیشہ نہیں رہنا مگر یہ درسگاہ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ کسی نے اپنی حیات کا ایک وسیع حصہ اس درسگاہ کو محبت دینے میں خرچ کردیا تھا۔
    میں نے ابو سے سیکھا ہے جہاں پانی بھی نہ ہو ، اس مٹی پر بھی پھول پیڑ خوشبو اگائے جاسکتے ہیں۔خوابوں کے ویرانوں میں شوق کی ایک بوند بھی کافی ہوجاتی ہے۔
    پڑھنے والی آنکھ مسکرائے
    سائرہ اعوان
    وادی سون سکیسر
    school

  • موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کے لیے مختلف ذرائع کا استعمال کیا گیا تھا، لیکن یہ ذرائع ہمیشہ محدود اور مشکل ہوتے تھے۔ اگر کسی کا رشتہ دار گھر سے طویل سفر پر نکلتا تو ہفتوں یا مہینوں تک اس کی خبر نہیں ملتی تھی، جب تک کہ وہ واپس نہ آ جائے۔ اس دور میں خط و کتابت کا آغاز ہوا، جس سے لوگ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے تھے، لیکن پھر بھی خط بھیجنے کا عمل وقت لیتا تھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ پیغام رسانی کے نئے ذرائع سامنے آنا شروع ہوئے۔ ٹیلیفون کا استعمال اس حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوا، جس سے لوگ فوراً ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچا سکتے تھے۔ لیکن آج کل موبائل فون نے ٹیلیفون کی جگہ لے لی ہے اور یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب پاکستان میں ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتا ہے، چاہے وہ مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو یا بزرگ، ہر عمر کے افراد اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    موبائل فون نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا بھر سے جڑ سکتے ہیں، بات چیت کر سکتے ہیں، اور مختلف کاموں کو آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ موبائل فون کی کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں،موبائل فون پر پیغام بھیجنا ایک انتہائی آسان عمل ہے۔ وٹس ایپ اور دیگر ایپس کے ذریعے ہم تیزی سے پیغامات ارسال کر سکتے ہیں۔موبائل فون کی بدولت ہم نہ صرف آواز، بلکہ کسی دوسرے شخص کی شکل بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے دور دراز کے رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ رابطہ کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔موبائل میں مختلف گیمز، موویز، اور ویڈیوز کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جس سے لوگ اپنے فارغ وقت میں تفریح حاصل کرتے ہیں۔موبائل فون میں کیلکولیٹر، کلینڈر، موسم کی معلومات، اور سڑکوں کے نقشے جیسی بہت سی سہولتیں شامل ہیں، جو ہمیں روزانہ کی زندگی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

    اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان بنایا ہے، مگر ان کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بچے موبائل پر گیمز کھیلنے، ویڈیوز دیکھنے اور دیگر تفریحی مواد میں غرق ہو جاتے ہیں جس سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے بچے موبائل کی وجہ سے اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگوں کے ساتھ فراڈ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ بعض لوگ آن لائن کام کے جھانسے دے کر لوگوں سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بچوں اور بڑوں دونوں پر نفسیاتی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمارے ذہنوں کو انتشار کی طرف لے جا رہی ہے۔ موبائل فون کا زیادہ استعمال فیملی تعلقات کو کمزور کر رہا ہے۔ والدین اور بچے ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، اور اس کا برا اثر گھریلو ماحول پر پڑ رہا ہے۔آج کل ٹک ٹاک جیسی ایپس نے نوجوانوں میں ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سارا دن ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سے ان کی پڑھائی اور دیگر ضروری کام متاثر ہو رہے ہیں۔ والدین اکثر اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کیا کر رہے ہیں۔

    موجودہ حالات میں حکومت کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ صورتحال ایسے ہی رہی تو آنے والے سالوں میں ہماری قوم کی ترقی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بچوں اور نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے مناسب قوانین بنانا ضروری ہے۔موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگی کو بے حد سہولت بخشا ہے، مگر ان کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ان ٹیکنالوجیز کے صحیح استعمال کے بارے میں آگاہی دینی چاہیے تاکہ وہ ان کا فائدہ اٹھا سکیں، نہ کہ ان سے نقصان پہنچے۔

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    (قصہ درد 2)
    کچھ روز پہلے قلم سے سر قلم کروانے کا شوق اچانک انگڑائی لے کر بیدار ہوا تو قصہ درد کہہ ڈالا، پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کو مخاطب کر کے اساتذہ کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایک معاشرتی موضوع پر لکھنے کی کوشش کی لیکن طبیعت میں وہ روانی نہ تھی۔ کچھ کمی تھی۔ تبھی عنوان بہ ہیت شعر آیا
    میرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں میری وفاوں پے انگلی اٹھا رہا ہے کوئی آج دوبارہ سوچا تو خیال آیا کہ قصہ درد ایک نہیں یہ تو داستان امیر حمزہ سے طویل اور بلبل ہزار داستاں سے ضخیم ہے۔ سابقہ تحریر پر کچھ قارئین نے رائے دی ہے کہ الفاظ کا انتخاب آسان کریں ۔ ان کی رائے کا بھی شکریہ۔ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کے مصداق کچھ ایسا ہی انتخاب
    پچھلی تحریر میں الفاظ ہوا
    خیر قصہ مختصر آج کا موضوع مالی معاملات حکومت اور اساتذہ سے جڑا ہے۔ سرکاری سکولز میں بیس روپے ماہانہ فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے ہر طالب علم سے لیا جاتا ہے۔ جن طلباء کے بارے ہیڈ ماسٹر کو علم ہو وہ یہ 20 روپے کی خطیر رقم بیک جنبش قلم معاف بھی کر سکتا ہے۔ آہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختیارات اب وصولی ایف ٹی ایف یعنی فروغ تعلیم فنڈ حکومت و محکمہ کے احکامات ہیں کہ اسے بینک میں جمع کرایا جائے 5000 روپے سے زائد رقم چوبیس گھنٹے سے زائد پاس رکھنا محکمانہ اجازت نہ ہے. اس رقم کو سکول کے اکاونٹ میں جمع کرایا جاتا ہے پھر اخراجات کے لیے دوبارہ بذریعہ چیک نکلوایا جاتا ہے۔ ایک اور اکاونٹ نان سیلری بجٹ NSB ہے ، جو کہ سکول کے نام پر بینک میں کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ رام کہانی شروع ہوتی ہے جس کو پڑھ کر بقول مشتاق یوسفی( مرد قتل کردیتے یا ہیں خودکشی) سکول مینیجمنٹ کونسل کے نام سے مقامی افراد کی ایک کمیٹی ہر سکول میں موجود ہے جس کا ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے اس کمیٹی کا مقرر کردہ رکن این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز دونوں اکاونٹس کا شریک دستخط یعنی کو سگنیٹری ہوتا ہے۔ شریک چئیرمین کے دستخط بینک میں جوائنٹ اکاونٹ میں اپ ڈیٹ کرانے کے لیے نئی بینکنگ پالیسی کے تحت ہیڈ کی سیلری سلپ اور کو سگنیٹری کی آمدن کے ثبوت کے لیے اس کی زمین زرعی کا فرد یا کوئی بھی آمدن کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ دونوں اکاونٹس کی آمدن گورنمنٹ کے فنڈَز سے ہے لیکن بینک پتہ نہیں کیا سمجھ کر ڈیل کر رہے ہیں۔

    خود پر بیتی ایک داستاں سناتا کہ چند سال پہلے ایک بینک منیجر نے این ایس بی اکاونٹس کے بارے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ بے نامی اکاونٹس عنقریب بند کر دیے جائیں گے عرض کی یہ پنجاب حکومت کے بی ہاف پر کھولے گئے ہیں ارشاد ہوا ہیں تو بے نام اکاونٹس سے ملتے جلتے نہ کوئی انسانی اکاونٹ ٹائٹل نہ آمدن کا کوئی واضح ذریعہ۔ خیر یہ تو حکومت پنجاب، اور تعلیم کے محکمہ میں وزارت کے لیول کی نا اہلی ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ ہر خریداری جو ان اکاونٹس سے کی جائے اس پر مختلف رقم پر مختلف ٹیکس دینا لازمی ہے۔ یعنی پہلے لاہور سے رقم سکولز کے اکاونٹس میں اور پھر اسی رقم پر ٹیکس باالفاظ دیگر حکومت ہی حکومت سے ٹیکس لے رہی۔ اساتذہ ٹیکس نہ دیں تب بھی مرتے اور دیں تو ایک نئی داستاں۔ چلیں یہ تو ہوئی انتطامی نا اہلی۔ اب رقم بینک سے بذریعہ چیک نکلوانے کے لیے سب سے پہلے تو سکول کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں اس امر کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیسے نکلوانے کی واقعی ضرورت ہے اس کے بعد اس اجلاس سے ایک دو یا تین رکنی کمیٹی برائے خریداری بذریعہ منظور شدہ رقم تشکیل پاتی ہے۔ پھر ہیڈ یا کو سگنیٹری بینک جا کر رقم نکلواتے ہیں اب چونکہ 5000 سے زائد کیش پاس رکھنا ممنوع ہے لہذا رقم نکلوانے کے فوراً بعد مطلوبہ شے کو تلاش کر کے اس کی خرید و ادائیگی ہوتی ہے ساتھ سی نیا کام شروع اب بل لینا ہے اور بل پر رقم سکول کانام پتہ مقدار شے نرخ۔ الگ و واضح درج ہوں دوسرے بل پر رسید ادائیگی ہو اب ان دونوں بلز کو لاکر اخراجات کے بلز کی فائل میں محفوظ کرنے سے پہلے بل کی پشت پر ایک مرتبہ پھر چند ایس ایم سی ممبران اور ہیڈز دستخط کریں گے اور رسیدی ٹکٹ بھی لگایا جائے گا۔ جو چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی اگلے اجلاس میں وہ کمیٹی کو معائنہ و ملاحظہ کرائی جائے گی اور اجلاس کی کاروائی تحریر کر کے اس پر ایک بار پھر دستخط ہوں گے۔

    اب چلتے ہیں حکومتی و محکمانہ ہدایات کی طرف کہ خریداری صرف اس دکان سے کریں جو این ٹی این رجسٹرڈ ہو ٹیکس کے معاملات میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر رہی ہو اور جب ان کے ہاتھ سکول ہیڈز آتے تو وہ ایڈوانس ٹیکس جمع کرا چکے ہوتے لہذا وہ رقم بھی اوور چارجنگ کر کے پوری کی جاتی یا اشیاء کی کوالٹی کم کر دی جاتی۔ اگر خریداری خود کی تو شرح ٹیکس کے حساب سے اس شے کی قیمت کے ساتھ ٹیکس الگ جمع کرانا لازمی ہے۔ یعنی پہلے ایک ادارہ یعنی محکمہ تعلیم اپنے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کو رقم دیتا ہے۔ اس رقم کو بینک اپنی پالیسی کے تحت الگ سے ماہانہ یا سہ ماہی 49 روپے، 35 روپے کٹوتی کرتا ہے پھر وہی رقم کیش ہو کر حکومت کو کچھ حصہ ٹیکس کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ قصہ درد جاری ہے۔ درخت کاٹنا وہ بھی سکول میں پرانے اساتذہ کے مطابق بندہ مارنے کے برابر جرم ہے۔ اب بڑا درخت بعض دفعہ کٹوانا لازم ہو تو،
    (کیونکہ چاردیواری کے قریب یا پانی کے بور کے نزدیک جڑیں و ٹہنیاں مسائل بناتی ہیں ) اب اس جرم ضعیفی کی سزا سنیں۔

    سب سے پہلے وہی اجلاس سکول کونسل، پھر من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق اجلاس میں تائید اس کے بعد چین آف کمانڈ کو ملحوظ خاطر رکھ کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست اس کی منظوری کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سے منظوری۔ ٹھہریں۔۔۔۔۔ دلی ہنوَز دور است۔ اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ جنگلات کو لیٹر لکھے گا اس کے بعد محکمہ جنگلات اپنے سٹاف کے ذریعے سکول کا وزٹ کرے گا اور درخت کو جانچ کر اس کی متوقع قیمت مقرر کر کے ڈپٹی ڈی ای او کو تحریری رپورٹ دے گا اب ہیڈ کو کم از کم مقررہ ریٹ پردرخت بیچنے کی اجازت بذریعہ دفتر ایجوکیشن آفس ملے گی اور درخت کو (لکڑی) بیچ کر جو رقم ملے گی اسے اکاونٹ میں جمع کرانا لازمی چاہے کتنی ہی ضروری پیمنٹ ہو ایک دفعہ پیسے اکاونٹ ایف ٹی ایف میں جائیں گے پھر نکلوا لیجئے۔

    تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون؟

    اب چلتے ہیں آڈٹ کی جانب اصول یہ ہے کہ مالی سال کے بلز باترتیب ایک فائل میں ہوں۔ فائل میں موجود بل پر مالک دکان کی مہر و دستخط ہوں۔ بل کی پشت پر ہیڈ اور کو سگنیٹری سمیت دیگر اراکین کے دستخط یوں۔ جس رقم کا آڈٹ ہو رہا ہے اس کو خرچ کرنے کی منظوری کا تحریری اجلاس ایس ایم سی درج ہو۔ سٹاک رجسٹر پر تحریر ہو ساتھ ہی ساتھ SIS سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر بھی چیک نمبر، تاریخ اور خریداری یا خرچ تحریر ہو۔ اس سارے لایعنی اور بے مقصد عمل سے مالی بے ضابطگی سے بچنے اور اخراجات شفاف کرنے میں مدد ملتی ( بقول بلکہ بحکم محکمہ تعلیم ). اس سارے عمل میں اتنی پیچیدگی ہے کہ شفاف ادائیگی بھی ضابطے کی کاروائی میں کے داو پیچ کی تاب نہ لاکر مشکوک ٹھہرتی جس سے ایک اور مسئلہ لاینحل کھڑا ہوتا ہے آڈٹ آبجیکشن۔ جس کے بعد ہیڈ ٹیچر کو لاہور، ضلع اور تحصیل کے درمیان شٹل کاک بنا دیا جاتا ہے ۔ اتنی زیادہ بے ترتیب اور لایعنی ہدایت کے بعد پڑھانے کے لیے نہ وقت ملتا ہی ہمت۔ تھک ہار کے جب سونے کو لیٹتے تو کسی نہ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہوتا اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ اور کام کم ہے۔ اللہ کے بندے ٹیچرز کی اوسط تنخواہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود، نوکری پر روز ایک شرط، پینشن غیر یقینی پھر بھی اگر زیادہ ہے تو بند کر دیں ویسے بھی بچتا تو کچھ نہیں بس دل کے بہلانے کو ہم بھی یہ نوکری کر رہے۔ اساتذہ کو ریلیف دینا ہے تو خدارا مشکل مبہم اور بے کار وقت ضائع کرنے والے ان کاموں سے ان کی جان چھڑوائیں بلکہ خود بھی چھوڑ دیں۔ خواتین ہیڈذ کبھی بینک کبھی آڈٹ میں پھنس کر گھر میں کام چھوڑ کر یہ تمام ضابطے کی کاروائی مکمل کرتے کئی مرتبہ دیر سے واپس جاتی ہیں غیر معمولی مسائل اور خانگی مسائل کے حوالے سے جس مشکل کا سامنا کرتی ہیں اس کا بھی احساس کم از کم حکومت کو نہیں۔ ویسے بھی حکومت کا تو کام ہی وہ کروانا کہ بندہ کرپٹ نہ ہوکر بھی جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے تو مجبوراً کرپٹ ہوجاتا۔ آخری بات کہ خدا را اس عمل کو آسان کیجیے آڈٹ کا طریقہ بدلیں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بدلیں اس کے بعد جو کرپشن کرے بے شک نوکری سے نکال دیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا یہ ختم کریں
    اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا (پالیسی میٹرز)
    پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار