Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جو کہ اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی قوت ہے۔

    اسلامی ملک میں اسلامی قانون اور شرعی حدود کے ہوتے ہوئے بھی بہت سے کام ایسے ہو رہے ہیں جو غیر مسلم ممالک میں بھی نہیں ہوتے وہاں بھی ایسے کاموں پے پابندی اور سخت ترین سزائیں ہیں۔

    پاکستان میں آئے روز بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

    ہر روز ہر صوبے ہر شہر سے کوئی نا کوئی خبر رپورٹ ہو رہی ہوتی ہے
    زیادتی کا شکار ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے جو ابھی سمجھ بوجھ بھی نہیں رکھتے لیکن درندہ صفت لوگ ان کو بہلا پھسلا کر ادھر ادھر لے جاتے ہیں اور پھر وہاں پہلے ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں پھر ان کو قتل کر کے کسی ویرانے میں پھینک دیتے ہیں۔
    تو اس طرح کیسز میں اگر دیکھا جائے تو 3 طرح کی ایف آئی آر بنتی ہیں
    پہلی بچوں کو اغواء کرنی کی
    دوسری زیادتی کی
    تیسری قتل کی
    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ کیسز بنائے گا کون؟

    https://twitter.com/AlwaysTalat/status/1405573144602107904?s=19

    کون دے گا ایسے درندوں کو سزائیں
    کون کرے گا ایسے کیسز کی پیروی
    اکثر ایسا بھی رپورٹ ہوا ہے کچھ لڑکے جوان لڑکیوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں پھر ان کے ساتھ جسمانی تعلق بناتے ہیں اور خفیاء طور پر ویڈیو بنا کر ان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں
    جس میں کبھی پیسوں تو کبھی جنسی حوس کا نشانہ بناتے رہنے کا مطالبہ ہوتا ۔

    جب لڑکی اپنی عزت بچانے میں ناکام ہو جاتی ہے تو اس کے پاس آخری آپشن خود کشی ہوتا ہے وہ غیرت کے مارے خود کشی کو ترجیح دیتی ہے اور بلیک میلنگ سے بچنے کے لئے وہ آپ جان دے دیتی ہے۔

    پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے
    پاکستان کی قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل کے نام سے ایک بل تو پاس کر لیا گیا لیکن ابھی تک اس بل پر نا تو عمل ہوا اور نا ہی دوبارہ اس بل کو دیکھا گیا۔

    صرف پاس کی حد تک وہ اسمبلی سے پاس ہو کر اسمبلی تک ہی رہ گیا
    آج پاکستان کے ہر ادارے میں جنسی ہراساں کرنے لے کیسز سامنے آرہے ہیں
    کبھی پشاور کی لڑکیاں بینر اٹھائے احتجاج کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی سرکاری محکموں کی خواتین شکایت کرتی نظر آتی ہیں.
    کبھی مدارس سے زیادتی کے کیسز سامنے ا رہے ہوتے ہیں تو کبھی یونیورسٹیز سے۔

    آخر کب تک اسلامی ملک میں ایسے ہی چلتا رہے گا؟
    کب تک ہماری بہنیں بیٹیاں جنسی زیادتی، ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی رہیں گی؟
    کب تک زینب، فروا، جیسی معصوم کلیوں کو نوچا جاتا رہے گا
    اسلام میں بھی زانی کے لیے سزا متعین کی گئی ہے لیکن آج تک پاکستان میں میں زانی کو کوئی سزا نہیں ہوئی.

    اسلام میں زانی کی سزا کچھ یوں ہے
    "”زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے””

    اگر صرف دو یا چار کیسز کو نشان عبرت بنایا جائے تو پھر باقی خود بخود زیادتی کے کیسز میں کمی دیکھنے کو ملے گی.

    اس وقت پاکستان میں زیادتی کے کیسز میں بہت حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے

    اس پر حکومت وقت، متعلقہ اداروں کا کام ہے وہ اسلامی قانون کے مطابق ان درندوں کو سزائیں دیں تاکہ آئندہ ایسے کیسز کا سامنا نا کرنا پڑے.
    ہماری آنے والی نسلیں ان درندوں سے محفوظ رہ سکیں.

    ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں …… !

    ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں..

    تحریر::: طلعت کاشف سلام

  • سیکس ایجوکیشن عیب کیوں؟؟؟ تحریر :عمار احمد عباسی

    سیکس ایجوکیشن عیب کیوں؟؟؟ تحریر :عمار احمد عباسی

    مولوی sex edeucation کے بارے میں سوشل میڈیا پہ کھلے عام لکھنے پہ فتوے جاری کر دیتے ہیں ۔ آج تک خود ان کی جانب سے کوui ویڈیو یا تحریری مواد تو سامنے آیا نہیں البتہ کرتوت کبھی کبھار منظر عام پہ آ جاتے ہیں ۔موٹیویشنل اسپیکرز دنیا کے ہر موضوع پہ پیسہ کمانے کی خاطر لیکچر دیتے نظر آتے ہیں مگر اس sex education کو حساس معاملہ سمجھتے ہوٸے لب کشاٸ سے گریزاں رہتے ہیں ۔

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کی اکثریت نے فیس بُکیے دانشوروں کو ایڈ کر رکھا ہوتا ہے جسے فیس بک کا منٹو کہا جاٸے تو غلط نہ ہو گا اور جو کسی بھی موضوع پہ کھل کر لکھ لیتا ہے مگر اس کے باوجود یہ سوشل میڈیا کے نامور لکھاری sex education کے بارے کھل کر اپنا مٶقف پیش نہیں کر سکتے کہ مولویوں کی تنقید کا سامنا ہو گا ، معاشرہ تنقید کرے گا ، ان کو خواتین کے سامنے بات کرنے میں مشکل کا سامنا ہو سکتا اور ممکن ہے تنقید کا نقطہ عروج ان کی فین فالونگ میں کمی کا سبب بن جاٸے ۔۔۔!!!

    ” مگر ” سوال یہ ہے کہہ کیا مسجد کے منبر پہ بیٹھے ذمہ دار مدرسین ، اسکول کے اساتذہ ، موٹیوشنل اسپیکرز ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس ، میڈیا پرسنز اور سب سے بڑھ کر والدین کی ہزار مجبوریوں کے باوجود یہ ذمہ داری نہیں کہہ بچوں کو کم عمری میں ہی اتنا ایجوکیٹ کر دیں کہہ انہیں اٹھارہ بیس سال کی عمر تک پہنچ کر بھی شرماتے ہوٸے مسجد کے مولوی ، اسکول کے معلم ، بس ڈراٸیور یا بڑی عمر کے دوست کی لذت کو پورا کروانے میں مدد نہ کرنی پڑ جاٸے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ذمہ داری ان کی نہیں کہہ ان پڑھ والدین میں یہ آگاہی پیدا کی جاٸے کہ بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ سات آٹھ سال کی عمر میں ان کے بستر الگ کر دیں ، ماں بیٹا ، باپ بیٹی ، بہن بھائی ایک ساتھ نہ سوٸیں ۔۔۔۔؟؟؟ بچوں کو ہم عمر یا عمر سے بڑے خالہ زاد ، پھوپھو زاد ، ماموں زاد اور چچا زاد کے ساتھ سونے سے روکنا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ کیا یہ ذمہ داری والدین کی نہیں کہ چھوٹی عمر کے بچوں کو مدرسہ یا ہاسٹل میں کسی پہ اعتبار کرتے ہوٸے مت چھوڑیں ، بچوں کو اسکول یا مدرسہ اپنی نگرانی میں لے کر آٸیں جاٸیں ۔۔۔؟؟ کس کے ساتھ ہاتھ ملانا ہے کس کے ساتھ نہیں ، کس کو چُمی لینے دینی ہے کس کو نہیں ، کسی کی گود میں نہیں بیٹھنا ، کسی سے کوئی شے گفٹ نہیں لینی ، کسی جنسی ہیجان رکھنے والے درندے کی ٹھرک پہ کیسے رسپانڈ کرنا ہے ، یہ سب کس نے بتانا اور سکھانا ہے ؟؟؟؟؟ بچوں کی دوستیوں ، گیدرنگز ، ٹیچر کے ساتھ ریلیشن ، پڑھائی کے اوقات کار ، ان سب پہ نظر کس نے رکھنی ہے ۔۔۔؟؟؟

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    جب تک ہم بطور معاشرہ مل کر بچوں کی تربیت کا خیال نہیں کریں گے ، ان کی تربیت اور نگرانی نہیں کریں گے تب تک لاہور اور سکھر جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے ۔ مسجد ، مدسہ ، اسکول ہو یا مفتی ، عالم اور اسکول و کالج کا پروفیسر ان سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ کل کلاں بے اعتمادی اس نہج پہ پہنچ جاٸے کہ ترقی کے اس دور میں بھی عوام بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے ہی انکار کر دیں ۔۔۔!!!

  • ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا

    ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا

    ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا سرور

    ہم جنس پرستی ایک معاشرتی لعنت ہے جس کے خلاف حال ہی میں وزیراعظم نے ہم جنس پرستی کی جتنی این جی او ہے ان کے خلاف کاروائ کا حکم دیا تھا ۔۔جی ہاں یہ حکم تب دیا تھا جب عورت مارچ کے چاہنے والے سڑکوں پر نکل کر اسلام کے خلاف گستاخانہ بینر لگا رہے تھے ۔۔یہ حکم تب دیا تھا جب ان عورت مارچ والیوں کے خلاف جنرل حمید گل صاحب کے بیٹے عبداللہ اور شاہیر سیاہلوی نے دھرنے کا اعلان کیا تھا ۔۔۔اس کاروائ کے حکم کو کافی مہینے ہو گے ہیں ۔۔لیکن اللہ جانے کاروائی ہوتے ہوتے کیوں رہ گئی ۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی ہزار بار مختلف سوشل میڈیا ٹیمز نے ۔ٹک ٹاکر کے گھٹیا عمل پر ٹرینڈز چلا کر حکومت وقت کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔۔۔ ہم جنس پرستی ایک لعنت ایک گھٹیا عمل ہے

    جس کی تمام آسمانی مذاہب میں یکساں طور پر مذمت کی گئی ہے اور قرآن و سنت کی طرح بائبل میں بھی اسے لعنتیوں کا کام اور قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسی جرم پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو اس سنگین سزا اور عذاب کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی نشانی آج بھی بحیرۂ مردار کی صورت میں سطح زمین پر موجود ہے مگر آسمانی تعلیمات سے انحراف نے انسانی سوسائٹی کو ذلت کے اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اقوام عالم کی ایک اچھی خاصی تعداد اس لعنتی عمل کو انسانی حقوق میں شامل کرنے کے لیے بے چین ہے۔۔۔۔ان میں سے ہی کچھ شیطانی طاقتوں نے ٹک ٹاک سنیک ایپ بنائ ۔انھوں نے مسلمانوں کو اس طرح اپنے جال میں جھکڑ لیا.کہ مسلمان کو اس سے منافع بھی ملے اور ان کی شیطانی چال بھی چلتی رہے ۔۔ان شیطانی قوتوں نے اسلام بیزار مسلمانوں کو یہ دکھایا کہ یہ ایپ بزنس ہے وڈیو بناو ۔پیسے کماو ۔وڈیو لگاو پیسے کماو ۔۔وڈیو دیکھو پیسے کماو ۔۔۔پیسہ ہی پیسہ ۔شہرت راتوں رات..

    بے حیائی کا ایسا شرمناک مظاہرہ کہ کوئی باحیاء انسان دیکھ کر اس کا سر شرم سے جھک جائے ۔۔
    قوم کی وہ بیٹیاں جنہیں اسلام نے گھر سے باھر مجبوری نکلتے وقت زیب و زینت کرنے سے روکا تھا وہی خوب بن سنور کر اس فحاشی اور بے حیائی میں لڑکوں سے آگے نکل چکی ہیں ۔۔
    وہ نوجوان جن کو قوم کا اثاثہ قرار دیا جاتا ہے
    جنہیں قوم کے معمار تصور کیا جاتا ہے
    جن کو اقبال نے شاہین اور قوم رسول ہاشمی قرار دیا تھا وہی معمار اخلاقیات سے عاری قوم کو مسمار کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔
    وہ بوڑھے جن کی سفید داڑھی سے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق خدا کو بھی حیاء آتی ہے وہ خود اس قدر بے حیاء ہوچکے ہیں کہ نہ تو اپنے بڑھاپے کا بھرم رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی عمر کا خیال کرتے ہیں ۔۔
    وہ بچے اور بچیاں جن سے قوم کو امید تھی کہ امت کی خستہ حالی یہی نسل اپنے کردار سے بدل دے گی لیکن ان کو والدین نے با کردار بنانے کی بجائے اسی روش پر لگا دیا جس سے امت میں مثبت نہیں بلکہ منفی اثر پڑتا ہے ۔۔

    الغرض عمر کی کسی بھی سٹیج سے تعلق رکھنے والے اس لعنت سے محفوظ نہیں ۔۔
    ٹک ٹاک کا بے حیاء دریا اس قدر روانی سے آگے بڑھ رہاہے کہ خطرہ محسوس ہوتاہے اگر بروقت اس دریا کے آگے بند نہ باندھا گیا تو آنے والی نسل ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی ۔۔
    اس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اس امت اور اس قوم کے معماروں سے دردمندوں سے انتہائی مودبانہ گذارش ہے کہ ہر کوئی حسب استطاعت اپنا کردار ادا کرے۔۔۔حناء سرور

    ٹک ٹاک ہم جنس پرستی کوپروموٹ کررہا ہے حکومت اس شیطانی ایپ پر پابندی لگائے ، پاکستانی عوام کا مطالبہ

     بھارت میں ہم جنس پرست خواتین کو عدالت نے سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے

    سرائے عالمگیر کے رہائشی محمد علی کی طرف سے ہائی کورٹ میں درخواست دی گئی کہ وہ ہم جنس پرست ہے

    ہم جنس پرستی اور شریعت کے احکام

    بلاول ہم جنس پرست ،فواد چودھری مینٹل، ایسا کس نے کہا؟

    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    پوری دنیا میں ایٹم بنانے والے ملکوں پے مخصوص قسم کی پابندیاں ہیں جن میں ایٹم میں استعمال ہونے والی دھات یورینیم کا عام استعمال اور اس کی عام عوام تک رسائی سب سے اہم پابندی ہے
    دنیا میں یورینیم کو 2 کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن میں انرجی (بجلی بنانے) اور ایٹم بنانا ہے شامل ہیں
    دنیا پوری میں بہت کم ممالک ہیں جہاں یارینیم  سی بجلی بنائی جاتی ہے  اور پھر ان ممالک میں بھی مخصوص مقدار میں بجلی بنائی جاتی ہے  باقی پوری دنیا میں جہاں بھی یورینیم استعمال ہو رہی ہے اس کا استعمال صرف ایٹم کے لیے ہو رہا ہے
    اس طرح اگر یہ دھات عام عوام یا کسی مخصوص گروہ کے ہاتھ لگ جائے تو اس کو دنیا کے امن کو خواب کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
    دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے جاپان ہے صرف 2 بم گرائے تھے اور دونوں الگ الگ مقامات پر گرائے تھے جس کا اثر آج تک دنیا محسوس کر رہی ہے
    جاپان میں آج بھی ہیرو شیما اور ناگا ساکی شہروں میں سبزہ نہیں اگتا اور نا ہی وہ انسان سکون کا سانس لے رہے ہیں
    آج بھی پیدا ہونے والے بچوں میں جسمانی کمزوری اور بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں
    80 سال بعد بھی اگر ایٹم بم کا اثر ہے تو اگر زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو کیا ہو گا
    دنیا کو اس پے سوچنا ہو گا

    گزشتہ ایک مہینے کے دوران بل ترتیب انڈیا میں 2 دفعہ یورینیم پکڑی گئی ہے جس کی مقدار جاپان میں استعمال ہونے والے ایٹم بم سے زیادہ یا اس کے برابر بتائی جاتی ہے
    انڈیا میں پکڑی جانے والی یورینیم کوئی خاص لوگوں سے نہیں بلکہ انڈین حکمران جماعت کے زیر اثر چلنے والی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے کچھ لوگوں سے پکڑی گئی ہے جو دنیا کے لیے الارمنگ سیچوایشن ہے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو اس پے سختی سے نوٹس لینا ہو گا اور انڈیا پے سخت پابندیاں لگانی ہوں گی تاکہ دنیا کا امن قائم رہ سکے اور دنیا اٹیمی ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکے

    یاد رہے انڈیا میں پکڑی جانے والی یورینیم میں ابھی تک کی انڈین رپورٹس کے مطابق کوئی بھی مسلمان ملوث ہونے کا کوئی شواہد نہیں ملے
    پکڑے جانے والوں میں زیادہ ہندو اور پھر آر ایس ایس کے لوگ شامل ہیں
    پوری دنیا خصوصی طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس پر سختی سے نوٹس لینا ہو گا

  • اہرام مصر سے بھی پرانی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات

    اہرام مصر سے بھی پرانی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات

    شمال مغربی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات جنہیں ’مستطیل‘ کہا جاتا ہے تعمیرات پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ مصر کے اہرام سے بھی پہلے کی ہیں-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پتھر کے زمانے کے آخری دور میں ہوئی یہ دیوقامت تعمیرات 7000 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔


    عرب نیوز کے مطابق آثار قدیمہ کی اس دریافت سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ مستطیلیں دنیاکی قدیم ترین یادگاروں میں شامل ہیں۔


    رائل کمیشن فار العلا (آر سی یو) نے اس دریافت کو ‘مستطیل’ کا نام دیا ہے اگرچہ ان مستطیلوں کے وجود کے بارے میں سب کو پہلے سے علم ہے تاہم نئی تحقیق کے دوران ان کی پہلے سے دگنی تعداد میں دریافت ہوئی ہے یہ تقریباً ایک ہزار کے قریب ہیں۔


    ہر مستطیل کے آخر میں ایک دیوار ہے جو دیگر طویل دیواروں سے جڑی ہوئی ہے اس سے ان دیوقامت مستطیلوں کے صحنوں کے سلسلے وجود میں آ جاتے ہیں جن کی لمبائی20 میٹر سے لے چھ سو میٹر تک ہے۔


    ہر مستطیل کے مرکزی داخلی راستے کے باہراس کی بنیاد میں گول یا نیم گول سیل بنائے گئے ہیں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان مستطیلوں نے تقریباً دو لاکھ مربع کلومیٹر کا علاقہ گھیر رکھا ہے یہ مستطیلیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تعلق ایک ہی زمانے سے ہے۔


    اس دریافت پر ہونے والی تحقیق یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے اس پراجیکٹ کا حصہ ہے جو وہ العلا اور خیبر کے صوبوں میں کر رہی ہے یہ منصوبہ آر سی یو کے آثار قدیم پروگرام میں شامل ہے۔


    پرتھ میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ میلیسا کینیڈی نے این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ’ہم انہیں یاد گاری لینڈ سکیپ خیال کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تقریباً دو لاکھ مربع کلو میٹر سے زیادہ بڑے علاقے میں پائی گئی ہیں اور یہ شکل میں بالکل ایک جیسی ہیں۔ اس لیے شاید ان کے حوالے سے عقیدہ یا فہم بھی ایک جیسے ہیں۔

  • شاباش خان صاحب۔ ترش و شیرین، نثار احمد

    خان صاحب کی شخصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ خان صاحب اپنا مافی الذہن پُراعتماد لہجے میں صاف صاف بیان کرنے میں زرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ جو چیز اُنہیں جیسی سمجھ آتی ہے ویسی ہی کہہ دینے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ بڑے منصب پر فائز لوگ اظہارِ ما فی الضمیر سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس باب میں خان صاحب اپنی ایک نرالی شان اور منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ ناقدین کی ملامت کی رتی برابر پروا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے "اظہارییے” پر ممکنہ مرتب اثرات و نتائج دیکھ کر مافی الضمیر کا گلا گھونٹ کر اندر ہی اندر کُڑھتے ہیں۔
    یہ خان صاحب کی صاف گوئی اور لہجے میں تاثیر کا ہی کمال ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے باوصف بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ صرف خان صاحب کے طلسم میں گرفتار ہے بلکہ بہتر معاشی حالات کے لیے خان صاحب سے ہی امید بھی باندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف درمیانے طبقے کا چولہا بجھ رہا ہے، اُسے تین وقت کا کھانا برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف اسی درمیانےطبقے کے نوجوان اب بھی تبدیلی اور بہتری کی امید میں خان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔
    پروفیسروں کی خُوبو اور انداز ِ تکلّم رکھنے والے خان صاحب وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس کی گونج عرصے تک سیاسی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی سمجھیے کہ چند دن قبل موصوف کے دہن مبارک سے پُھوٹنے والا ارشادِ گرامی میڈیا میں زیر ِ بحث ہی نہیں رہا بلکہ جنسی آزادی پر یقین رکھنے والے ایک چھوٹے طبقے کے لیے سخت باعثِ اذیت بھی بنا ہے۔ خان صاحب کا یہ ارشاد ہمیں بہت پسند آیا۔ وجہ خان صاحب سے بے لوث محبت نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور عالمی میڈیا کا اِسے لے کر سیخ پا ہونا ہے۔ اگر خان صاحب یورپ کے کسی ملک کا وزیر اعظم ہوتے تو اس گفتگو کو بنیاد بنا کر اُن پر تنقید کی گنجائش بنتی تھی لیکن پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے اُن کی یہ بات ناقابلِ گرفت ہی نہیں، اکثر پاکستانیوں کے دل کی آواز و ترجمان بھی ہے۔

    خان صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ صرف قوانین کے زریعے جنسی جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی اور پھیلائی گئی فحّاشی کے اثرات ہوتے ہیں۔ خان صاحب کا اس دلیل پر اپنی بات کی تان توڑنا مزید دلچسپ لگا کہ ہمارے دین میں پردے کی تاکید بلا وجہ نہیں آئی ہے۔
    حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ بی بی سی سمیت دیگر عالمی میڈیا نے اس بیان کو مخصوص زوائیے میں رکھ کر نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اشاروں کنایوں میں اِسے ہدفِ تنقید بھی بنایا۔ بلکہ افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے لوگوں نے بھی اس بیان کو نذرِ سیاست کر ڈالا۔ کم از کم مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر اس بیان کی پرزور تائید کرنی چاہیے تھی۔ میڈیا کے شور شرابے سے ایسا محسوس ہوا کہ خان صاحب کوئی زیادہ ہی غلط بات کہہ گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
    ڈیجیٹل ترقی کی بدولت دن بدن سمٹ سمٹ کر دنیا نہ صرف ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے بلکہ یہاں برسوں سے چلی آنے والی مختلف تہذیبیں بھی شکست وریخت سے گذر رہی ہیں۔ اس شکست وریخت کے زریعے وہی تہذیبیں غالب آ رہی ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت و قوت ہے۔ جن کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور پروپگنڈے کے زرائع بھی۔ جن کے پاس دولت بھی ہے اور دیگر وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درست و غلط کو جانچنے کے لیے اُن کی تہذیب معیار ٹھہر رہی ہے۔
    ہماری آنکھیں اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی ہیں کہ پردے اور بے پردگی کے باب میں اسلام اور مغرب نہ صرف الگ الگ تہذیبی تصورات پر کاربند ہیں، بلکہ جدا گانہ بودو باش بھی رکھتے ہیں۔ اسلام عریان گھومنے سے ہی منع نہیں کرتا بلکہ نامحرموں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کے علاوہ جسم کا باقی حصہ حتی الامکان ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ جب کہ مغربی ممالک میں یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ جنسی آزادی کے تیئں مغربی تہذیب کی اپنی ترجیحات ہیں اور اسلام کی اپنی۔ اسلامی احکام کے دو بڑے مآخذ قرآن وسنت میں پردے کی بابت اجمالی ہی نہیں، تفصیلی باتیں بھی آئی ہیں جب کہ مغربی معاشرہ کب کا آسمانی تعلیمات کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ چکا ہے۔ مغرب میں مذہب الگ کھڑا ہے اور سوسائٹی الگ۔ مغرب میں بہ رضا و رغبت جنسی تعلق ایک نارمل کیس ہے۔ وہاں جنسی خواہش کی تکمیل سرے سے کوئی ایسا سبجیکٹ ہی نہیں ہے جسے کسی قانون کی بنیاد بنا کر کچھ اصولوں کا پابند کیا جا سکے۔ آزادی کا خوشنما عَلم تھامے یہ معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی اب اس کے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

    رہنمایان ِ قوم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں اصولی، بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں فاصلاتی فرق کم رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا فرق ہی بھلا دیں۔ آپ عمران خان کو بدھو ثابت کرنے اور اُن کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اسلامی اقدار کی تخفیف کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کے پاس ایشوز کی کونسی کمی ہے؟
    اس قضیے میں کچھ لوگ اس نقطہء نظر کے بھی پرچارک ہیں کہ مرد کی نیت ٹھیک ہو تو عورت کی نیم لباسی اور عریانیت کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ سارا مسئلہ بدنیت مرد کا پیدا کردہ ہے۔ ہماری دانست میں یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ہمارا مذہب اس کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی ہماری عمومی نفسیات۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مزاج اس حد تک سدھایا ہو کہ اُن کی طبیعت جنس مخالف کی طرف بالکل بھی مائل نہ ہوتی ہو۔ چند مستثنیٰ مثالوں کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے چلا آنے والا اصول قربان نہیں کیا جا سکتا۔
    ویسے اگر اس لوجک میں جان ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو پردے کی تلقین کی جاتی اور نہ ہی پاکیزہ کردار صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے ضروری بات چیت کے دوران پردے کے پیچھے رہنے کی تاکید کی جاتی۔
    ہمارے ایک کولیگ تھے۔ وہ اسی صیغے کی گردان پڑھتے رہتے تھے کہ بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے بس۔ پھر کچھ مہینے ساتھ رہ کر انہی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ موصوف اس "معاملے” میں نارمل حضرات سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

    یہ بات درست ہے کہ مَردوں کو بھی اپنی نگاہوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کو پردہ کروانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ جو خواتین پردہ کیے بغیر باہر نکلیں۔ آپ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں گھورتے رہیں۔ جس قرآن میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے اسی قرآن میں مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم آیا ہے۔
    بہرحال پردہ قرآن وسنت سے مستفاد ایک اٹل حکم ہی نہیں، مسلم تہذیب کا جزوِ لاینفک بھی رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن وسنت کی اہمیت و ماخذیت کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اسلامی تہذیبی شناخت کا۔
    شاہ زیب خانزادہ جیسے سینیئر اینکرز کو ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا کرنا چاہیے۔۔

  • پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام    تحریر:فاطمہ قمر

    پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام تحریر:فاطمہ قمر

    پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام!

    ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنے کراچی و حیدر آباد کے کارکنوں کو! جن کا آج حیدر آباد میں تنظیمی اجلاس تھا ۔ وہ کراچی سے قافلے کی صورت میں حیدرآباد اجلاس میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔جس میں ناصر شاہ’ نفیس احمد’ ثمر گل’ سید عثمان اور دیگر احباب شامل تھے کہ حیدر آباد کے نزدیک کچھ ڈاکو ان کے پیچھے لگ گئے کارکنوں سے موبائل اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔ہمارے کارکنوں کا مالی نقصان تو بہت ہوا۔مگر الحمدللہ! جانی نقصان سے وہ محفوظ رہے۔

    ابھی ہماری پاکستان قومی زبان تحریک کے سندھ و بلوچستان کے منتظم اعلی ناصر شاہ سے بات ہوئی۔ حادثے کے باوجود ان کا حوصلہ انتہائی بلند تھا۔” آپا! ہم اپنا اجلاس موخر نہیں کریں گے۔’ ہم اجلاس کئے بغیر کراچی بھی واپس نہیں جائیں گے۔ ہم قائدا عظم کے دستے کے حقیقی سپاہی ہیں۔ ہم اپنے عظیم قائد کے فرمان کو پورا کر کے ہی رہیں گے۔ اس طرح کی مشکلات ہمیں ہمارے غیر متزلزل ارادوں کی تکمیل سے نہیں روک سکتیں۔ میرے ساتھ جو لوگ ہیں۔

    یہ انتہائی ہیرا لوگ ہیں۔جو نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں” ہمیں اپنے کارکنوں کے اخلاص’ جانثاری پر فخر ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان قومی زبان تحریک کے ناصرشاہ’ ڈاکٹر افسر سلطانہ’ ڈاکٹر لبنی زبیر عالم’ نفیس احمد’ سید عثمان’ ثمر گل’ ڈاکٹر ساجدہ’ فہیم برنی ‘ سہیل صدیقی دیگر احباب جن کے ہم نام بھول رہے ہیں۔ یہ اللہ کے انتہائی چنیدہ لوگ ہیں۔جو خلق خدا کی بھلائی کے لئے نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے آوازیں لگا رہے ہیں۔

    جب کوئی حادثے کے باوجود اپنی کمٹمنٹ کو نہیں چھوڑتا تو اللہ کی مدد آنا لازمی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان قومی زبان تحریک پر اللہ کا فضل و نصرت شامل ہے۔۔وہ تحریک جو بارہ سال پہلے ایک چھوٹے سے کمرے میں بے سروسامانی کی حالت میں شروع ہوئی۔۔اج ایک عالمگیر تحریک بن چکی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریکیں اہنی عزم ‘ غیر متزلزل’ جراءت مند’ دیانتدار قیادت’ اخلاص سے پروان چڑھتی ہیں۔۔وسائل سے ہر گز نہیں۔۔ جذبے وسائل پیدا کر سکتے ہیں مگر وسائل جذبے پیدا نہیں کرسکتے۔

    آج پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کے کارکنوں کا جذبہ دیکھ کر یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان قومی زبان تحریک دراصل تحریک پاکستان کا تسلسل ہے ۔

    تحریک پاکستان کی ابتداء اردو ھندی تنازعے سے ہوئی تھی۔ اج ہمارے کارکنوں نے ڈکیتی کے باوجود جس اخلاص’ کمٹمنٹ’ اپنے مشن سے جانثاری کا ثبوت دیا ہے اس سے تحریک پاکستان کے دنوں کی یاد تازہ ہوگئ۔جب مسلمانوں کے حوصلوں کو توڑنے کے لئے ھندو بنئے ایسی نیچ حرکات کرتے تھے! اس کے باوجود پاکستان بن گیا!

    اور اج ہم کارکنوں کا حوصلہ’ ہمت دیکھ کر یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ اج کے حادثے کے بعد پاکستان میں نفاذ اردو کی منزل اور قریب ا گئ ! ان شاءاللہ!
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے زبان ہی نہیں بلکہ  آپ کی معاشرت بھی  بدل رہی ہے   تحریر: فا طمہ قمر

    انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے زبان ہی نہیں بلکہ آپ کی معاشرت بھی بدل رہی ہے تحریر: فا طمہ قمر

    یادرکھیں! انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے آپ کی زبان نہیں بدل رہی بلکہ آپ کی معاشرت بھی بدل رہی ہے مام’ ڈیڈ’ انٹی’ انکل’ جب کہ تایا جان’ چچا جان ‘ چچی جان’ خالہ جان’ تائی جان کی اپنی تہذیب تھی۔

    یہ ان الفاظ کا ہی اعجاز تھا کہ جب تک والدین مام ‘ ڈیڈ نہیں بنے تھے۔تو ان کی شخصیت بارعب تھی۔ ہرگھر میں شام کو اباجان کے آنے سے پہلے گھر میں ابا کے رعب سے "صراط مستقیم” پر گامزن ہوجاتے تھے۔افسوس ڈیڈی اپنا یہ وقار کھو چکاہے!

    ہر گھر میں اماں کا ڈنڈا’ ابا کا جوتا بچوں کو سیدھا رکھنے کے لئے کافی ہوتا تھا۔ جب والدین جدیدیت اور غلامی کے چکر میں مام ڈیڈ بنے تو کہاں کا ڈنڈا اور کہاں کا جوتا! معاشرے میں غلامی کے الفاظ کے استعمال میں وہ تنزلی پیدا کی جس کا اپ دن رات مشاہدہ کرتے ہیں۔

    معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے جب خاندان کا سربراہ بارعب اور باوقار نہ رہا تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوئے۔ اماں ‘ ابا تو علی الصبح بیدار ہوتے تھے۔۔مام ‘ ڈیڈ صبح دیر تک سوتے ہیں۔

    ہم نفاذ اردو کے ذریعے سے اپنی تہذیب کو بچا رہے ہیں۔ائیں ! پوری قوم اپنی ثقافتی روایات کو بچانے کے لیے پاکستان قومی زبان تحریک کی ہم آواز بن جائے ۔

    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد کا دورہ الحمراء، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات

    گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد کا دورہ الحمراء، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات

    لاہور:- گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد نے لاہور آرٹس کونسل الحمراء کا دورہ کیا ہے. تین رکنی وفد کی سربراہی محکمہ سیاحت کے اہم رکن سلیمان پارس کر رہے تھے۔ وفد نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ثمن رائے سے ملاقات کی ہے ۔ملاقات میں مستقبل میں گلگت بلتستان کے ثقافتی رنگوں کو الحمراء کے پلیٹ فارم پر پیش کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں ۔اجلاس میں دوطرفہ ثقافتی وفوں کے تبادلہ پر بھی غور کیا گیا ہے ۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء ثمن رائے نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ملکی ہم آہنگی و یک جہتی کا باعث بنے گے، عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ تمام علاقائی ثقافتیں پاکستان کے مجموعی حسن میں نکھار پیدا کرتی ہیں، ملک بھر کے علاقوں کی اقدار کو فروغ دے رہے ہیں، گلگت بلتستان کی روایتی موسیقی بے حد دلکش اور منفرد ہیں، وفد کے دورہ سے ثقافتی رشتے مزید مضبوط ہونگے۔

    سربراہ وفد سلیمان پارس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا اپنی روایات سے لگاؤ مثالی ہے، الحمراء جیسے فعال پلیٹ فارم پر پرفارمنس کے خواہاں ہیں۔اجلاس میں ڈائریکٹر آرٹس اینڈ کلچر ذوالفقار علی زلفی نے بھی خصوصی شرکت کی ہے۔ترجمان الحمراء نے اس موقع پر کہا کہ ملک بھر کے ثقافتی رنگوں کو زندہ دلانِ لاہور کے لئے پیش کرنے پر فخر ہے،ہمارا کلچر ایک دوسرے سے محبت سے عبارت ہے۔

    واضح رہے کہ گلگت کے معروف ستار نواز میر افضال کی الحمراء میں شاندار پرفارمنس کا مظارہ کیا گیا جسے لائیو نشر کیا گیا ہے ، اس پرفارمنس کو بڑی تعداد میں لوگوں نے دیکھا اور پسند بھی کیا ہے.

  • رشتوں کی آس، زندگی میں مٹھاس – جویریہ بتول

    رشتوں کی آس، زندگی میں مٹھاس – جویریہ بتول

    انسان کی اس دنیا میں آمد ہی رشتوں کے توسط سے ہوتی ہے…انسان پیدا ہوتے ہی مختلف رشتوں کے حسین بندھن میں بندھا ہوتا ہے…ماں باپ،بہن بھائی،ددھیال،ننھیال پھر زندگی کے مدارج طے کرتے ہوئے سسرال،میکہ غرض یہ سارے رشتے زندگی کا حُسن ہیں…
    ہمارے دین اسلام نے ان کی قدر،ہر حال میں جوڑنے اور حقوق کی ادائیگی کی بڑی تاکید کی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں:
    "اللّٰہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو…!!!”(النسآء:1).
    ارحامٌ رَحِمٌ کی جمع ہے مراد رشتے داریاں ہیں…
    رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک یعنی اچھے اخلاق،مالی اعانت،ضروریات کا خیال،ہمدردی و خیر خواہی کو صلہ رحمی کہا گیا ہے…
    اور پھر صلہ رحمی کی بھی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صلہ رحمی بدلے کا نام نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی وہ ہے کہ جب تمہیں کاٹا جائے اور تم اُسے جوڑو…
    سوشل دور میں جیتے ہوئے ہم جہاں دیگر برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں وہی ایک بڑی خرابی رشتہ داری کی اہمیت کی کمی بھی دکھائی دیتی ہے…
    آج ہم روابط،تعلقات اور معاملات میں مشاورت کے لیئے غیر رشتہ داروں کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں اور رشتہ داروں سے دوریاں اور حقوق سے غفلت ہمارا معاشرتی رویہ بنتا جا رہا ہے…
    ہم دور کے امیر دوستوں سے تعلقات کے قلابے ملانا فخر سمجھتے ہیں جبکہ قریب کے غریب رشتہ داروں کو پوچھتے تک نہیں…
    یہی ذہنی پستی کی عکاسی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
    "رشتے ناتے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللّٰہ کے حکم میں…”(الانفال 75).
    رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
    "قیامت سے پہلے رشتہ داری ٹوٹ سی جائے،جھوٹی گواہی عام اور سچی گواہی نایاب سی ہو جائے گی…”
    (مسند احمد).
    ہمارے رشتے دار ہر لحاظ ہماری توجہ اور ذمہ داری کے پہلے حقدار ہیں…یہاں عقائد و نظریات کا اختلاف بھی معنی نہیں رکھتا…اور اُن کی دنیاوی معاملات میں مدد اور خیال و عزت والا معاملہ ضرور کرنا چاہیئے…
    حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں آئی ہے میں اس کے ساتھ کچھ سلوک کر سکتی ہوں؟
    آپﷺ نے فرمایا:
    صلی امک…!!! ہاں تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر…(صحیح بخاری)…
    جہاں ہمیں اسراف سے بچنے کا حکم ملا وہیں پہلے فرمایا:
    ‘اور رشتہ داروں کا،مسکینوں کا اور مسافروں کا حق اَدا کرتے رہوہ…(بنی اسرائیل:26).
    رشتہ داری کا حق ہم یوں بھی اَدا کر سکتے ہیں کہ اپنے سے کم تر رشتہ داروں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کر دیں…روزگار کاروبار میں مدد کر دیں اور پھر احسان نہ رکھیں…ذہنی اذیت نہ پہنچائیں…
    بڑی بڑی تقاریب منعقد کرتے وقت وہ دینی ہوں یا دنیاوی پہلے حقدار رشتہ دار ہی ہیں…
    چاہے وہ ہم سے متفق ہوں یا نہیں لیکن بالاولٰی وہ مستحق ہیں…
    رسول اللّٰہ ﷺ کو کھلے عام دعوت اور انذار و تبشیر کا حکم ملا تو اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا دیں…”(الشعرآء:216).
    یعنی رشتہ داروں کی آخرت کی فکر بھی ہماری پہلی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اصلاح کر کے حُسنِ عمل اختیار کریں اور ہم سب جنتوں میں بھی قربتوں کے حقدار بنیں…
    آج صورت حال یہ ہے کہ شادی بیاہ کا موقع آ جائے تو انوائیٹنگ لسٹ میں خاندان کے متعدد گھرانے بلیک لسٹ ہوتے ہیں…جبکہ دور کہیں گلی میں سے گزرتے ہوئے صرف سلام ہو جانے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے…
    ہم کوئی چیز خرید لیتے ہیں تو رشتہ داروں سے چھپاتے ہیں کہ وہ حسد کرتے ہیں…
    جبکہ سوشل میڈیا پر اس کی تشہیری مہم چلاتے ہیں…؟
    کئی ایسے واقعات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں کہ لوگ اپنے رشتہ داروں کو برابری پر آتے دیکھنا پسند نہیں کرتے،انہیں سادہ مزاج اور کم تر سمجھتے ہیں…انہیں کچھ راز و امور نہیں بتاتے اور دور کہیں بہت متاثر کن شخصیت بنے ہوتے ہیں…
    اپنوں کو دھوکہ دیتے ہیں…مالی حق تلفیاں کرتے ہیں اور باہر کی دنیا میں امین بنے ہوتے ہیں…
    تو اصل میں یہی چیزیں معاشرتی بگاڑ کی وجہ بنتی رہتی ہیں…
    اور ہم ایک دوسرے کی قدر و اہمیت اور حقوق و فرائض سمجھنے سے محروم رہ جاتے ہیں…!!!
    خاندان میں کوئی اچھا کمانے یا پہننے لگ جائے تو غلط توجیہات جبکہ باقی لوگوں کے لیئے نرم گوشہ…
    کوئی خوشی غمی کا مرحلہ آ گیا تو رشتہ داروں سے چھپاتے ہیں اور سکرین پر سات سمندر پار بھی ہمدرد نظر آ جاتے ہیں…
    یہاں مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم دوستوں اور دوستی کو خیر باد کہہ دیں،ہر گز نہیں…!!!
    لیکن ہر حق کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے…
    تبدیلی تبھی نہیں آتی جب ہم ایک دوسرے کو قربت،اپنائیت اور احساس دلائیں گے تو کوئی حسد بھی نہیں کرے گا…
    وہ کامیابی پر خوش اور دکھ پر غم ناک ہو گا…آپ کے قریب رہنا اور بیٹھنا پسند کرے گا…
    مسائل تب جنم لیتے ہیں جب ہم خود ساختہ وجوہات کے کانٹے دار درخت کو ہوا اور پانی کی فراہمی شروع کر دیتے ہیں تو پھر غلط فہمیوں کے سلسلے تھمتے نہیں…
    بغض و حسد کے طوفان اُمڈتے چلے آتے ہیں اور پھر کسی کا دُکھ ہماری خوشی بننے لگتا ہے یہی انسانیت کی پستی کا عالم ہے…!!!
    لیکن یہ ساری بات سمجھ وہی سکتا ہے جسے اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کی سمجھ آئے گی…
    پھر وہ اپنے پاس سے شمع جلانا شروع کرے گا…
    وہ موٹیویشنل بن کر دھواں دار انداز میں سات سمندر پار روشنیاں پھیلانے میں جذباتی نہیں ہو گا…
    بلکہ پہلے گھر،خاندان،ملک،اور پھر دنیا تک اپنا پیغام اور عمل پہنچائے گا…!!!
    اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم مخلص ہو کر زندگی میں توازن کی اہمیت کو سمجھ لیں گے…انسانیت کے تقاضوں سے آگہی حاصل کریں گے…
    اپنے گھر،آس پاس تقریب و مجلس میں ہر ایک کا حق اور دلجوئی کا راز سمجھ پائیں گے…
    تب ہم ایک کامیاب اور اثر انگیز شخصیت کے طور پر نکھر سکتے ہیں…ورنہ خرابیاں یونہی پیدا نہیں ہوتیں…شکوے عبث نہیں جنم لیتے…اور دوریاں بے وجہ نہیں ہوا کرتیں…
    بلکہ وہ اکثر اوقات چند الفاظ،ایک احساس،اپنے ازلی حق اور بے لوث محبّت کے متقاضی ہوتے ہیں…!!!
    لا ریب رشتوں میں قربت اور مٹھاس اس سفرِ زندگی میں ایک آس ہے اور اِسی لیئے ہمیں اس خوب صورت سرکل میں جوڑا گیا ہے تاکہ احساس کی زندگی باقی رہے…
    لیکن اگر یہاں ہی احساس دَم توڑ دے تو یہ زندگی پھیکی،ادھوری اور بوجھ و تنہائی کا شکار کرنے لگتی ہے اور یہ چیزیں صرف یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں…!!!
    ہمیشہ اپنی قسمت پر راضی رہتے ہوئے کسی رشتے دار سے موازنہ بھی نہ کریں،تبھی حسد اور انتقام جیسی بیماری سے بچا جا سکتا ہے…خود کو ملی نعمتوں کی قدر اور شکر اَدا کریں کیوں کہ آپ اُن کے مکلف اور جوابدہ ہیں…دوسروں کی نعمتوں یا غلطیوں کی باز پرس ہم سے نہیں ہونے والی،تو ہم کیوں خود کو فضول میں جلائیں؟
    اور کیوں نہ ایک اچھے اور احساس رکھنے والے ذمہ دار رشتے کا کردار اَدا کریں…!!!
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنے احکامات کو سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی توفیق دے تاکہ کل ہم اُس کے سامنے سرخرو ہو سکیں…آمین.

    جویریہ بتول اردو نظم و نثر لکھنے میں یگانہ روزگار ہیں ۔ ان کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں