Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اہرام مصر سے بھی پرانی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات

    اہرام مصر سے بھی پرانی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات

    شمال مغربی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات جنہیں ’مستطیل‘ کہا جاتا ہے تعمیرات پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ مصر کے اہرام سے بھی پہلے کی ہیں-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پتھر کے زمانے کے آخری دور میں ہوئی یہ دیوقامت تعمیرات 7000 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔


    عرب نیوز کے مطابق آثار قدیمہ کی اس دریافت سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ مستطیلیں دنیاکی قدیم ترین یادگاروں میں شامل ہیں۔


    رائل کمیشن فار العلا (آر سی یو) نے اس دریافت کو ‘مستطیل’ کا نام دیا ہے اگرچہ ان مستطیلوں کے وجود کے بارے میں سب کو پہلے سے علم ہے تاہم نئی تحقیق کے دوران ان کی پہلے سے دگنی تعداد میں دریافت ہوئی ہے یہ تقریباً ایک ہزار کے قریب ہیں۔


    ہر مستطیل کے آخر میں ایک دیوار ہے جو دیگر طویل دیواروں سے جڑی ہوئی ہے اس سے ان دیوقامت مستطیلوں کے صحنوں کے سلسلے وجود میں آ جاتے ہیں جن کی لمبائی20 میٹر سے لے چھ سو میٹر تک ہے۔


    ہر مستطیل کے مرکزی داخلی راستے کے باہراس کی بنیاد میں گول یا نیم گول سیل بنائے گئے ہیں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان مستطیلوں نے تقریباً دو لاکھ مربع کلومیٹر کا علاقہ گھیر رکھا ہے یہ مستطیلیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تعلق ایک ہی زمانے سے ہے۔


    اس دریافت پر ہونے والی تحقیق یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے اس پراجیکٹ کا حصہ ہے جو وہ العلا اور خیبر کے صوبوں میں کر رہی ہے یہ منصوبہ آر سی یو کے آثار قدیم پروگرام میں شامل ہے۔


    پرتھ میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ میلیسا کینیڈی نے این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ’ہم انہیں یاد گاری لینڈ سکیپ خیال کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تقریباً دو لاکھ مربع کلو میٹر سے زیادہ بڑے علاقے میں پائی گئی ہیں اور یہ شکل میں بالکل ایک جیسی ہیں۔ اس لیے شاید ان کے حوالے سے عقیدہ یا فہم بھی ایک جیسے ہیں۔

  • شاباش خان صاحب۔ ترش و شیرین، نثار احمد

    خان صاحب کی شخصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ خان صاحب اپنا مافی الذہن پُراعتماد لہجے میں صاف صاف بیان کرنے میں زرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ جو چیز اُنہیں جیسی سمجھ آتی ہے ویسی ہی کہہ دینے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ بڑے منصب پر فائز لوگ اظہارِ ما فی الضمیر سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس باب میں خان صاحب اپنی ایک نرالی شان اور منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ ناقدین کی ملامت کی رتی برابر پروا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے "اظہارییے” پر ممکنہ مرتب اثرات و نتائج دیکھ کر مافی الضمیر کا گلا گھونٹ کر اندر ہی اندر کُڑھتے ہیں۔
    یہ خان صاحب کی صاف گوئی اور لہجے میں تاثیر کا ہی کمال ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے باوصف بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ صرف خان صاحب کے طلسم میں گرفتار ہے بلکہ بہتر معاشی حالات کے لیے خان صاحب سے ہی امید بھی باندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف درمیانے طبقے کا چولہا بجھ رہا ہے، اُسے تین وقت کا کھانا برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف اسی درمیانےطبقے کے نوجوان اب بھی تبدیلی اور بہتری کی امید میں خان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔
    پروفیسروں کی خُوبو اور انداز ِ تکلّم رکھنے والے خان صاحب وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس کی گونج عرصے تک سیاسی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی سمجھیے کہ چند دن قبل موصوف کے دہن مبارک سے پُھوٹنے والا ارشادِ گرامی میڈیا میں زیر ِ بحث ہی نہیں رہا بلکہ جنسی آزادی پر یقین رکھنے والے ایک چھوٹے طبقے کے لیے سخت باعثِ اذیت بھی بنا ہے۔ خان صاحب کا یہ ارشاد ہمیں بہت پسند آیا۔ وجہ خان صاحب سے بے لوث محبت نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور عالمی میڈیا کا اِسے لے کر سیخ پا ہونا ہے۔ اگر خان صاحب یورپ کے کسی ملک کا وزیر اعظم ہوتے تو اس گفتگو کو بنیاد بنا کر اُن پر تنقید کی گنجائش بنتی تھی لیکن پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے اُن کی یہ بات ناقابلِ گرفت ہی نہیں، اکثر پاکستانیوں کے دل کی آواز و ترجمان بھی ہے۔

    خان صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ صرف قوانین کے زریعے جنسی جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی اور پھیلائی گئی فحّاشی کے اثرات ہوتے ہیں۔ خان صاحب کا اس دلیل پر اپنی بات کی تان توڑنا مزید دلچسپ لگا کہ ہمارے دین میں پردے کی تاکید بلا وجہ نہیں آئی ہے۔
    حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ بی بی سی سمیت دیگر عالمی میڈیا نے اس بیان کو مخصوص زوائیے میں رکھ کر نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اشاروں کنایوں میں اِسے ہدفِ تنقید بھی بنایا۔ بلکہ افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے لوگوں نے بھی اس بیان کو نذرِ سیاست کر ڈالا۔ کم از کم مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر اس بیان کی پرزور تائید کرنی چاہیے تھی۔ میڈیا کے شور شرابے سے ایسا محسوس ہوا کہ خان صاحب کوئی زیادہ ہی غلط بات کہہ گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
    ڈیجیٹل ترقی کی بدولت دن بدن سمٹ سمٹ کر دنیا نہ صرف ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے بلکہ یہاں برسوں سے چلی آنے والی مختلف تہذیبیں بھی شکست وریخت سے گذر رہی ہیں۔ اس شکست وریخت کے زریعے وہی تہذیبیں غالب آ رہی ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت و قوت ہے۔ جن کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور پروپگنڈے کے زرائع بھی۔ جن کے پاس دولت بھی ہے اور دیگر وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درست و غلط کو جانچنے کے لیے اُن کی تہذیب معیار ٹھہر رہی ہے۔
    ہماری آنکھیں اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی ہیں کہ پردے اور بے پردگی کے باب میں اسلام اور مغرب نہ صرف الگ الگ تہذیبی تصورات پر کاربند ہیں، بلکہ جدا گانہ بودو باش بھی رکھتے ہیں۔ اسلام عریان گھومنے سے ہی منع نہیں کرتا بلکہ نامحرموں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کے علاوہ جسم کا باقی حصہ حتی الامکان ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ جب کہ مغربی ممالک میں یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ جنسی آزادی کے تیئں مغربی تہذیب کی اپنی ترجیحات ہیں اور اسلام کی اپنی۔ اسلامی احکام کے دو بڑے مآخذ قرآن وسنت میں پردے کی بابت اجمالی ہی نہیں، تفصیلی باتیں بھی آئی ہیں جب کہ مغربی معاشرہ کب کا آسمانی تعلیمات کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ چکا ہے۔ مغرب میں مذہب الگ کھڑا ہے اور سوسائٹی الگ۔ مغرب میں بہ رضا و رغبت جنسی تعلق ایک نارمل کیس ہے۔ وہاں جنسی خواہش کی تکمیل سرے سے کوئی ایسا سبجیکٹ ہی نہیں ہے جسے کسی قانون کی بنیاد بنا کر کچھ اصولوں کا پابند کیا جا سکے۔ آزادی کا خوشنما عَلم تھامے یہ معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی اب اس کے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

    رہنمایان ِ قوم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں اصولی، بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں فاصلاتی فرق کم رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا فرق ہی بھلا دیں۔ آپ عمران خان کو بدھو ثابت کرنے اور اُن کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اسلامی اقدار کی تخفیف کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کے پاس ایشوز کی کونسی کمی ہے؟
    اس قضیے میں کچھ لوگ اس نقطہء نظر کے بھی پرچارک ہیں کہ مرد کی نیت ٹھیک ہو تو عورت کی نیم لباسی اور عریانیت کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ سارا مسئلہ بدنیت مرد کا پیدا کردہ ہے۔ ہماری دانست میں یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ہمارا مذہب اس کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی ہماری عمومی نفسیات۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مزاج اس حد تک سدھایا ہو کہ اُن کی طبیعت جنس مخالف کی طرف بالکل بھی مائل نہ ہوتی ہو۔ چند مستثنیٰ مثالوں کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے چلا آنے والا اصول قربان نہیں کیا جا سکتا۔
    ویسے اگر اس لوجک میں جان ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو پردے کی تلقین کی جاتی اور نہ ہی پاکیزہ کردار صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے ضروری بات چیت کے دوران پردے کے پیچھے رہنے کی تاکید کی جاتی۔
    ہمارے ایک کولیگ تھے۔ وہ اسی صیغے کی گردان پڑھتے رہتے تھے کہ بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے بس۔ پھر کچھ مہینے ساتھ رہ کر انہی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ موصوف اس "معاملے” میں نارمل حضرات سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

    یہ بات درست ہے کہ مَردوں کو بھی اپنی نگاہوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کو پردہ کروانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ جو خواتین پردہ کیے بغیر باہر نکلیں۔ آپ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں گھورتے رہیں۔ جس قرآن میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے اسی قرآن میں مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم آیا ہے۔
    بہرحال پردہ قرآن وسنت سے مستفاد ایک اٹل حکم ہی نہیں، مسلم تہذیب کا جزوِ لاینفک بھی رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن وسنت کی اہمیت و ماخذیت کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اسلامی تہذیبی شناخت کا۔
    شاہ زیب خانزادہ جیسے سینیئر اینکرز کو ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا کرنا چاہیے۔۔

  • پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام    تحریر:فاطمہ قمر

    پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام تحریر:فاطمہ قمر

    پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کو سلام!

    ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنے کراچی و حیدر آباد کے کارکنوں کو! جن کا آج حیدر آباد میں تنظیمی اجلاس تھا ۔ وہ کراچی سے قافلے کی صورت میں حیدرآباد اجلاس میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔جس میں ناصر شاہ’ نفیس احمد’ ثمر گل’ سید عثمان اور دیگر احباب شامل تھے کہ حیدر آباد کے نزدیک کچھ ڈاکو ان کے پیچھے لگ گئے کارکنوں سے موبائل اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔ہمارے کارکنوں کا مالی نقصان تو بہت ہوا۔مگر الحمدللہ! جانی نقصان سے وہ محفوظ رہے۔

    ابھی ہماری پاکستان قومی زبان تحریک کے سندھ و بلوچستان کے منتظم اعلی ناصر شاہ سے بات ہوئی۔ حادثے کے باوجود ان کا حوصلہ انتہائی بلند تھا۔” آپا! ہم اپنا اجلاس موخر نہیں کریں گے۔’ ہم اجلاس کئے بغیر کراچی بھی واپس نہیں جائیں گے۔ ہم قائدا عظم کے دستے کے حقیقی سپاہی ہیں۔ ہم اپنے عظیم قائد کے فرمان کو پورا کر کے ہی رہیں گے۔ اس طرح کی مشکلات ہمیں ہمارے غیر متزلزل ارادوں کی تکمیل سے نہیں روک سکتیں۔ میرے ساتھ جو لوگ ہیں۔

    یہ انتہائی ہیرا لوگ ہیں۔جو نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں” ہمیں اپنے کارکنوں کے اخلاص’ جانثاری پر فخر ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان قومی زبان تحریک کے ناصرشاہ’ ڈاکٹر افسر سلطانہ’ ڈاکٹر لبنی زبیر عالم’ نفیس احمد’ سید عثمان’ ثمر گل’ ڈاکٹر ساجدہ’ فہیم برنی ‘ سہیل صدیقی دیگر احباب جن کے ہم نام بھول رہے ہیں۔ یہ اللہ کے انتہائی چنیدہ لوگ ہیں۔جو خلق خدا کی بھلائی کے لئے نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے آوازیں لگا رہے ہیں۔

    جب کوئی حادثے کے باوجود اپنی کمٹمنٹ کو نہیں چھوڑتا تو اللہ کی مدد آنا لازمی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان قومی زبان تحریک پر اللہ کا فضل و نصرت شامل ہے۔۔وہ تحریک جو بارہ سال پہلے ایک چھوٹے سے کمرے میں بے سروسامانی کی حالت میں شروع ہوئی۔۔اج ایک عالمگیر تحریک بن چکی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریکیں اہنی عزم ‘ غیر متزلزل’ جراءت مند’ دیانتدار قیادت’ اخلاص سے پروان چڑھتی ہیں۔۔وسائل سے ہر گز نہیں۔۔ جذبے وسائل پیدا کر سکتے ہیں مگر وسائل جذبے پیدا نہیں کرسکتے۔

    آج پاکستان قومی زبان تحریک سندھ کے کارکنوں کا جذبہ دیکھ کر یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان قومی زبان تحریک دراصل تحریک پاکستان کا تسلسل ہے ۔

    تحریک پاکستان کی ابتداء اردو ھندی تنازعے سے ہوئی تھی۔ اج ہمارے کارکنوں نے ڈکیتی کے باوجود جس اخلاص’ کمٹمنٹ’ اپنے مشن سے جانثاری کا ثبوت دیا ہے اس سے تحریک پاکستان کے دنوں کی یاد تازہ ہوگئ۔جب مسلمانوں کے حوصلوں کو توڑنے کے لئے ھندو بنئے ایسی نیچ حرکات کرتے تھے! اس کے باوجود پاکستان بن گیا!

    اور اج ہم کارکنوں کا حوصلہ’ ہمت دیکھ کر یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ اج کے حادثے کے بعد پاکستان میں نفاذ اردو کی منزل اور قریب ا گئ ! ان شاءاللہ!
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے زبان ہی نہیں بلکہ  آپ کی معاشرت بھی  بدل رہی ہے   تحریر: فا طمہ قمر

    انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے زبان ہی نہیں بلکہ آپ کی معاشرت بھی بدل رہی ہے تحریر: فا طمہ قمر

    یادرکھیں! انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے آپ کی زبان نہیں بدل رہی بلکہ آپ کی معاشرت بھی بدل رہی ہے مام’ ڈیڈ’ انٹی’ انکل’ جب کہ تایا جان’ چچا جان ‘ چچی جان’ خالہ جان’ تائی جان کی اپنی تہذیب تھی۔

    یہ ان الفاظ کا ہی اعجاز تھا کہ جب تک والدین مام ‘ ڈیڈ نہیں بنے تھے۔تو ان کی شخصیت بارعب تھی۔ ہرگھر میں شام کو اباجان کے آنے سے پہلے گھر میں ابا کے رعب سے "صراط مستقیم” پر گامزن ہوجاتے تھے۔افسوس ڈیڈی اپنا یہ وقار کھو چکاہے!

    ہر گھر میں اماں کا ڈنڈا’ ابا کا جوتا بچوں کو سیدھا رکھنے کے لئے کافی ہوتا تھا۔ جب والدین جدیدیت اور غلامی کے چکر میں مام ڈیڈ بنے تو کہاں کا ڈنڈا اور کہاں کا جوتا! معاشرے میں غلامی کے الفاظ کے استعمال میں وہ تنزلی پیدا کی جس کا اپ دن رات مشاہدہ کرتے ہیں۔

    معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے جب خاندان کا سربراہ بارعب اور باوقار نہ رہا تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوئے۔ اماں ‘ ابا تو علی الصبح بیدار ہوتے تھے۔۔مام ‘ ڈیڈ صبح دیر تک سوتے ہیں۔

    ہم نفاذ اردو کے ذریعے سے اپنی تہذیب کو بچا رہے ہیں۔ائیں ! پوری قوم اپنی ثقافتی روایات کو بچانے کے لیے پاکستان قومی زبان تحریک کی ہم آواز بن جائے ۔

    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد کا دورہ الحمراء، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات

    گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد کا دورہ الحمراء، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات

    لاہور:- گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد نے لاہور آرٹس کونسل الحمراء کا دورہ کیا ہے. تین رکنی وفد کی سربراہی محکمہ سیاحت کے اہم رکن سلیمان پارس کر رہے تھے۔ وفد نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ثمن رائے سے ملاقات کی ہے ۔ملاقات میں مستقبل میں گلگت بلتستان کے ثقافتی رنگوں کو الحمراء کے پلیٹ فارم پر پیش کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں ۔اجلاس میں دوطرفہ ثقافتی وفوں کے تبادلہ پر بھی غور کیا گیا ہے ۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء ثمن رائے نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ملکی ہم آہنگی و یک جہتی کا باعث بنے گے، عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ تمام علاقائی ثقافتیں پاکستان کے مجموعی حسن میں نکھار پیدا کرتی ہیں، ملک بھر کے علاقوں کی اقدار کو فروغ دے رہے ہیں، گلگت بلتستان کی روایتی موسیقی بے حد دلکش اور منفرد ہیں، وفد کے دورہ سے ثقافتی رشتے مزید مضبوط ہونگے۔

    سربراہ وفد سلیمان پارس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا اپنی روایات سے لگاؤ مثالی ہے، الحمراء جیسے فعال پلیٹ فارم پر پرفارمنس کے خواہاں ہیں۔اجلاس میں ڈائریکٹر آرٹس اینڈ کلچر ذوالفقار علی زلفی نے بھی خصوصی شرکت کی ہے۔ترجمان الحمراء نے اس موقع پر کہا کہ ملک بھر کے ثقافتی رنگوں کو زندہ دلانِ لاہور کے لئے پیش کرنے پر فخر ہے،ہمارا کلچر ایک دوسرے سے محبت سے عبارت ہے۔

    واضح رہے کہ گلگت کے معروف ستار نواز میر افضال کی الحمراء میں شاندار پرفارمنس کا مظارہ کیا گیا جسے لائیو نشر کیا گیا ہے ، اس پرفارمنس کو بڑی تعداد میں لوگوں نے دیکھا اور پسند بھی کیا ہے.

  • رشتوں کی آس، زندگی میں مٹھاس – جویریہ بتول

    رشتوں کی آس، زندگی میں مٹھاس – جویریہ بتول

    انسان کی اس دنیا میں آمد ہی رشتوں کے توسط سے ہوتی ہے…انسان پیدا ہوتے ہی مختلف رشتوں کے حسین بندھن میں بندھا ہوتا ہے…ماں باپ،بہن بھائی،ددھیال،ننھیال پھر زندگی کے مدارج طے کرتے ہوئے سسرال،میکہ غرض یہ سارے رشتے زندگی کا حُسن ہیں…
    ہمارے دین اسلام نے ان کی قدر،ہر حال میں جوڑنے اور حقوق کی ادائیگی کی بڑی تاکید کی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں:
    "اللّٰہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو…!!!”(النسآء:1).
    ارحامٌ رَحِمٌ کی جمع ہے مراد رشتے داریاں ہیں…
    رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک یعنی اچھے اخلاق،مالی اعانت،ضروریات کا خیال،ہمدردی و خیر خواہی کو صلہ رحمی کہا گیا ہے…
    اور پھر صلہ رحمی کی بھی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صلہ رحمی بدلے کا نام نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی وہ ہے کہ جب تمہیں کاٹا جائے اور تم اُسے جوڑو…
    سوشل دور میں جیتے ہوئے ہم جہاں دیگر برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں وہی ایک بڑی خرابی رشتہ داری کی اہمیت کی کمی بھی دکھائی دیتی ہے…
    آج ہم روابط،تعلقات اور معاملات میں مشاورت کے لیئے غیر رشتہ داروں کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں اور رشتہ داروں سے دوریاں اور حقوق سے غفلت ہمارا معاشرتی رویہ بنتا جا رہا ہے…
    ہم دور کے امیر دوستوں سے تعلقات کے قلابے ملانا فخر سمجھتے ہیں جبکہ قریب کے غریب رشتہ داروں کو پوچھتے تک نہیں…
    یہی ذہنی پستی کی عکاسی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
    "رشتے ناتے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللّٰہ کے حکم میں…”(الانفال 75).
    رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
    "قیامت سے پہلے رشتہ داری ٹوٹ سی جائے،جھوٹی گواہی عام اور سچی گواہی نایاب سی ہو جائے گی…”
    (مسند احمد).
    ہمارے رشتے دار ہر لحاظ ہماری توجہ اور ذمہ داری کے پہلے حقدار ہیں…یہاں عقائد و نظریات کا اختلاف بھی معنی نہیں رکھتا…اور اُن کی دنیاوی معاملات میں مدد اور خیال و عزت والا معاملہ ضرور کرنا چاہیئے…
    حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں آئی ہے میں اس کے ساتھ کچھ سلوک کر سکتی ہوں؟
    آپﷺ نے فرمایا:
    صلی امک…!!! ہاں تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر…(صحیح بخاری)…
    جہاں ہمیں اسراف سے بچنے کا حکم ملا وہیں پہلے فرمایا:
    ‘اور رشتہ داروں کا،مسکینوں کا اور مسافروں کا حق اَدا کرتے رہوہ…(بنی اسرائیل:26).
    رشتہ داری کا حق ہم یوں بھی اَدا کر سکتے ہیں کہ اپنے سے کم تر رشتہ داروں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کر دیں…روزگار کاروبار میں مدد کر دیں اور پھر احسان نہ رکھیں…ذہنی اذیت نہ پہنچائیں…
    بڑی بڑی تقاریب منعقد کرتے وقت وہ دینی ہوں یا دنیاوی پہلے حقدار رشتہ دار ہی ہیں…
    چاہے وہ ہم سے متفق ہوں یا نہیں لیکن بالاولٰی وہ مستحق ہیں…
    رسول اللّٰہ ﷺ کو کھلے عام دعوت اور انذار و تبشیر کا حکم ملا تو اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا دیں…”(الشعرآء:216).
    یعنی رشتہ داروں کی آخرت کی فکر بھی ہماری پہلی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اصلاح کر کے حُسنِ عمل اختیار کریں اور ہم سب جنتوں میں بھی قربتوں کے حقدار بنیں…
    آج صورت حال یہ ہے کہ شادی بیاہ کا موقع آ جائے تو انوائیٹنگ لسٹ میں خاندان کے متعدد گھرانے بلیک لسٹ ہوتے ہیں…جبکہ دور کہیں گلی میں سے گزرتے ہوئے صرف سلام ہو جانے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے…
    ہم کوئی چیز خرید لیتے ہیں تو رشتہ داروں سے چھپاتے ہیں کہ وہ حسد کرتے ہیں…
    جبکہ سوشل میڈیا پر اس کی تشہیری مہم چلاتے ہیں…؟
    کئی ایسے واقعات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں کہ لوگ اپنے رشتہ داروں کو برابری پر آتے دیکھنا پسند نہیں کرتے،انہیں سادہ مزاج اور کم تر سمجھتے ہیں…انہیں کچھ راز و امور نہیں بتاتے اور دور کہیں بہت متاثر کن شخصیت بنے ہوتے ہیں…
    اپنوں کو دھوکہ دیتے ہیں…مالی حق تلفیاں کرتے ہیں اور باہر کی دنیا میں امین بنے ہوتے ہیں…
    تو اصل میں یہی چیزیں معاشرتی بگاڑ کی وجہ بنتی رہتی ہیں…
    اور ہم ایک دوسرے کی قدر و اہمیت اور حقوق و فرائض سمجھنے سے محروم رہ جاتے ہیں…!!!
    خاندان میں کوئی اچھا کمانے یا پہننے لگ جائے تو غلط توجیہات جبکہ باقی لوگوں کے لیئے نرم گوشہ…
    کوئی خوشی غمی کا مرحلہ آ گیا تو رشتہ داروں سے چھپاتے ہیں اور سکرین پر سات سمندر پار بھی ہمدرد نظر آ جاتے ہیں…
    یہاں مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم دوستوں اور دوستی کو خیر باد کہہ دیں،ہر گز نہیں…!!!
    لیکن ہر حق کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے…
    تبدیلی تبھی نہیں آتی جب ہم ایک دوسرے کو قربت،اپنائیت اور احساس دلائیں گے تو کوئی حسد بھی نہیں کرے گا…
    وہ کامیابی پر خوش اور دکھ پر غم ناک ہو گا…آپ کے قریب رہنا اور بیٹھنا پسند کرے گا…
    مسائل تب جنم لیتے ہیں جب ہم خود ساختہ وجوہات کے کانٹے دار درخت کو ہوا اور پانی کی فراہمی شروع کر دیتے ہیں تو پھر غلط فہمیوں کے سلسلے تھمتے نہیں…
    بغض و حسد کے طوفان اُمڈتے چلے آتے ہیں اور پھر کسی کا دُکھ ہماری خوشی بننے لگتا ہے یہی انسانیت کی پستی کا عالم ہے…!!!
    لیکن یہ ساری بات سمجھ وہی سکتا ہے جسے اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کی سمجھ آئے گی…
    پھر وہ اپنے پاس سے شمع جلانا شروع کرے گا…
    وہ موٹیویشنل بن کر دھواں دار انداز میں سات سمندر پار روشنیاں پھیلانے میں جذباتی نہیں ہو گا…
    بلکہ پہلے گھر،خاندان،ملک،اور پھر دنیا تک اپنا پیغام اور عمل پہنچائے گا…!!!
    اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم مخلص ہو کر زندگی میں توازن کی اہمیت کو سمجھ لیں گے…انسانیت کے تقاضوں سے آگہی حاصل کریں گے…
    اپنے گھر،آس پاس تقریب و مجلس میں ہر ایک کا حق اور دلجوئی کا راز سمجھ پائیں گے…
    تب ہم ایک کامیاب اور اثر انگیز شخصیت کے طور پر نکھر سکتے ہیں…ورنہ خرابیاں یونہی پیدا نہیں ہوتیں…شکوے عبث نہیں جنم لیتے…اور دوریاں بے وجہ نہیں ہوا کرتیں…
    بلکہ وہ اکثر اوقات چند الفاظ،ایک احساس،اپنے ازلی حق اور بے لوث محبّت کے متقاضی ہوتے ہیں…!!!
    لا ریب رشتوں میں قربت اور مٹھاس اس سفرِ زندگی میں ایک آس ہے اور اِسی لیئے ہمیں اس خوب صورت سرکل میں جوڑا گیا ہے تاکہ احساس کی زندگی باقی رہے…
    لیکن اگر یہاں ہی احساس دَم توڑ دے تو یہ زندگی پھیکی،ادھوری اور بوجھ و تنہائی کا شکار کرنے لگتی ہے اور یہ چیزیں صرف یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں…!!!
    ہمیشہ اپنی قسمت پر راضی رہتے ہوئے کسی رشتے دار سے موازنہ بھی نہ کریں،تبھی حسد اور انتقام جیسی بیماری سے بچا جا سکتا ہے…خود کو ملی نعمتوں کی قدر اور شکر اَدا کریں کیوں کہ آپ اُن کے مکلف اور جوابدہ ہیں…دوسروں کی نعمتوں یا غلطیوں کی باز پرس ہم سے نہیں ہونے والی،تو ہم کیوں خود کو فضول میں جلائیں؟
    اور کیوں نہ ایک اچھے اور احساس رکھنے والے ذمہ دار رشتے کا کردار اَدا کریں…!!!
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنے احکامات کو سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی توفیق دے تاکہ کل ہم اُس کے سامنے سرخرو ہو سکیں…آمین.

    جویریہ بتول اردو نظم و نثر لکھنے میں یگانہ روزگار ہیں ۔ ان کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے کمیٹی روم میں چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    باغی ٹی وی : ووجیان بن کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی کی بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ میں ٹائل سازی کی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عندیہ حکومت اضافی بجلی اور گیس فراہم کرے تو ہمارے صنعتی یونٹ کی پیداواری صلاحیت بڑہ سکتی ہے-

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی اوریل سرامکس کا نیا صنعتی یونٹ لگانے کے لئے 50ایکڑ زمین کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا-

    صوبے میں نئی سرمایہ کاری لانا حکومت کی سرفہرست ترجیح ہے بہت سی چینی کمپنیوں نے پنجاب میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے
    سازگار ماحول کے باعث بیرونی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے لئے پنجاب کا رخ کررہے ہیں-

    ان کا کہنا تھا کہ اوریل سرامکس کی پنجاب میں نئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں چینی کمپنی اوریل سرامکس کو صوبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے ہرممکن سہولت دیں گے-

    میاں اسلم اقبال نےصوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو چینی کمپنی کو نیاصنعتی یونٹ لگانے ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی-

    ان کا کہنا تھا کہ اندرونی و بیرونی سرمایہ کاروں کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں سرمایہ کاری کو فروغ دے کر غربت اور بے روزگاری مسائل پر قابو پائیں گےپنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل سلیم بھی ملاقات میں موجود تھے-

  • اچھی بیوی سے متعلق بیان پر صارفین کی موٹیویشنل اسپیکر اور رائٹر قاسم علی شاہ  پر تنقید

    اچھی بیوی سے متعلق بیان پر صارفین کی موٹیویشنل اسپیکر اور رائٹر قاسم علی شاہ پر تنقید

    پاکستان کے معروف و مقبول موٹیویشنل اسپیکر اور لکھاری قاسم علی شاہ پرگزشتہ چند روز سے ان کے ایک ویڈیو کلپ پر تنقید کی جارہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا کہ خاتون کو اچھی بیوی کیسے بننا ہے۔

    باغی ٹی وی :36 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد سے قاسم علی شاہ کا بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے جس میں قاسم علی شاہ نے ایک اچھی بیوی اور ماں سے متعلق بات کی ہے۔

    مذکورہ سوال پر مشتمل 36 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ قاسم علی شاہ کی تقریباً 15 منٹ کے دورانیے پر مشتمل اس ویڈیو کا ہے جسے انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر رواں برس مئی میں اپلوڈ کیا تھا یہ قاسم علی شاہ کے سوال و جواب کے اس سیشن کا ایک حصہ ہے جس میں انہوں نے حور فاطمہ نامی خاتون کے سوال کا جواب کا دیا تھا۔

    حور فاطمہ نے اپنے سوال میں پوچھا تھا کہ کیا ملازمت کرنے والی خواتین بچوں کی اچھی مائیں ثابت نہیں ہوپاتیں؟

    تاہم اس ویڈیو کے وائرل ہونے والے ویڈیو کلپ میں قاسم علی شاہ نے خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اچھی بیوی کیسے بننا ہے یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔

    انہوں نے کہا کہ آپ کسی اسکول میں چلے جائیں جہاں بیٹیاں ہماری پڑھتی ہیں10 سال میٹرک کی ڈگری تک،اچھی بیوی کیسے بننا ہے یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔

    ویڈیو میں قاسم علی شاہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حالانکہ عورت کی زندگی میں دو کرداروں کی بہت اہمیت ہے جن میں سے ایک کردار ہے اچھی بیوی کا اور دوسرا اچھی ماں کا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اسکول میں کہیں نہیں پڑھایا جاتا کالج میں نہیں پڑھایا جاتا اور یونیورسٹی میں بھی بالکل بھی نہیں پڑھایا جاتا اور جو ذریعہ باقی رہ گیا کہ اچھی ماں اور اچھی بیوی کیا ہوتی ہے تربیت کا وہ ذریعہ گھر ہےیعنی بچی اپنی ماں کو دیکھے۔

    یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد قاسم علی شاہ پر کئی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے۔

    اسی حوالے سے پاکستانی کامیڈین اور تھیٹر ایکٹر شہزاد غیاث شیخ نے ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے تنقیدی انداز میں لکھا کہ گرلز اسکولز کیوں ہیں اگر وہ انہیں شوہروں کی غلامی کیسی کرنی ہے نہیں سکھا سکتے؟’
    https://twitter.com/Shehzad89/status/1323299001177878530?s=20
    انہوں نے مزید کہا کہ’لاہور گرامر اسکول (ایل جی ایس) کو اپنا نام لاہور گروم سلیوز رکھ لینا چاہیے، سائنس کی ساری کتابوں کو آگ لگائیں اور لڑکیوں کو بتائیں کہ بہتر وِگس کیسے بناتے ہیں، تاکہ قاسم علی شاہ دوبارہ کبھی بھی کیمرا پر ایسے دکھائی نہ دیں۔


    ایک اور صارف نے کہا کہ دیکھیں یہ کس نے کہا ہے انہیں بہت سراہا جاتا ہے۔

    اس صارف نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ میری قبر میں بچھو اس کی وجہ سے آئیں ہم سب کو سکھیا جائے کہ ایک اچھی بیوی میسے بننا ہے وہ بھی دسویں گریڈ تک ؟پیدا ہوتے ہی شادی کر دیا کریں بس نہیں چلتا نا جاہلوں کا –

    اس نے مزید لکھا کہ تو اس شخص نے یہ کہا ہے کہ خواتین کو میٹرک تک آخر کار اچھی بیوی کیسے بناتے نہیں سکھایا جاتا جو اُن کا آگے ایک سب سے ضروری کردار ہے ایک وائف کیسے بننا ہے اور اچھا کیسے کرنا یہ نہیں سکھایا جاتا-

    صارف نے ایک اور ٹوئٹ میں مزید کہا کہ کیا عمران خان ‘پرفیکٹ وائف 101‘ کے نام سے ایک نیا مضمون متعارف کروا سکتے ہیں اور جب ہم لڑکیاں یہ مضمون پڑھیں گی تو اس وقت لڑکے کھیلوں کی کلاس میں جا سکتے ہیں کیونکہ وہ تو پرفیکٹ ہیں۔

    ساتھ ہی لکھا کہ میں نے بھی اس کے بعد اس ویڈ یو کو سننا چھوڑ دیا ، اس لئے اس نے نتیجہ اخذ کیا لیکن قاسم علی شاہ ہم آپ کی کتابیں باہر پھینک رہے ہیں

    https://twitter.com/SundusSaleemi/status/1323321553875017730?s=20
    ایک اور ٹوئٹر صارف نے اسی صارف کی ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے لکھا کہ اگر اچھی بیوی بننے کا مطلب ہے کہ بیوی، شوہر کی فرمانبردار ہو، اس کی ضروریات، خواہشات، پسند اور ناپسند کی تابع ہو، شوہر کے گرد گھومتی زندگی بنائے تو تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔


    قاسم علی شاہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے ایک اور صارف نے سوال کیا کہ مردوں کو بہتر انسان بننا کیوں نہیں پڑھاتے جبکہ پاکستان کو ریپ، غیرت کے نام پر قتل، ایسڈ حملے، گھریلو تشدد، جبری شادیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے تو کیوں نہ مردوں کو بہتر شوہر، باپ، انسان اور شہری بننا سکھایا جائے؟


    صحافی عافیہ سلام نے طنزیہ اندا میں لکھا کہ اچھا باپ اور شوہر بننے کی تعلیم تو کنڈرگارٹن میں شروع ہوتی ہے نا؟


    علی خان ترین نے لکھا کہ اگر معاشرے میں خواتین کے حصول کارنامے ’’ اچھی بیوی ‘‘ (جس کے ذریعہ میں مانتا ہوں کہ اس کا مطلب ایک نافرمان ہے) معاشرے کی ترقی کیسے ہوسکتی ہے۔واقعتا اس کا قصور بھی نہیں ہے۔ یہ جس معاشرے میں ہم بڑے ہو رہے ہیں۔جناب، اپنا دماغ کھولیں ، دوسری ثقافتوں کے بارے میں جانیں۔ کچھ مارگریٹ میڈ پڑھیں۔

    جہاں صارفین نے تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کچھ صارفین نے قاسم علی شاہ کے مذکورہ بیان کی تائید بھی کی۔

    رانا عمران جاوید نے کہا کہ قاسم علی شاہ بالکل ٹھیک ہیں خاندان ایک بنیادی اکائی ہے جو ایک معاشرہ تشکیل دیتی ہےاگر لڑکیوں اور لڑکوں کو خاندان میں ان کے کردار سے متعلق تعلیم نہیں دی جاتی تو کوئی معاشرہ پنپ نہیں سکتا۔


    رانا عمران جاوید نے کہا کہ یہ خواتین کی محرومی کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق معاشرتی ترقی سے ہے۔

    ایک اور صارف نے کہا کہ 36 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ پر ہم سوالات اور اعتراضات اٹھارہے ہیں ہم نے جاننے کی کوشش نہیں کی کہ سوال کیا تھا؟ قاسم علی شاہ نے اس سے پہلے یا بعد میں کیا کہا؟


    علی بیگ نامی صارف نے لکھا کہ کیا آپ بھی جانتے ہیں کہ وہ کون ہے؟ 30 سیکنڈ کا یہ کلپ آپ کو تصویر کا مکل رُخ نہیں دکھا سکتا-


    محمد عمار راشد نے لکھا کہ اگر لڑکی نے اچھی بیوی نہیں بننا تو آپ اُسے کیا بنانا چاہتے ہیں قسم صاھب نے کیا غلط کہا ہے بلکہ قاسم صاحب نے ایسی بات کہی ہے آج سے پہلے کسی نے نہیں کہی-


    محمد شہزاد افضل نامی صارف نے لکھا کہ قاسم علی شاہ صاحب ہمارے athecs پہ بات کر کے سوسائٹی کے استحکام کی بات کر رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اسے گھسیٹ گھساٹ کے یورپی کلچر کے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں

  • ََ’احساس’ سو لفظی کہانی تحریر حماد رزاق چدھڑ

    ََ’احساس’ سو لفظی کہانی تحریر حماد رزاق چدھڑ

    دیکھو یار چاروں طرف سے جھنڈیاں اور لائٹیں کتنی چمک رہی ہیں۔ دس سالہ اکرم اور فیضان آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔
    محسن رکو ذرا ! کہاں سے آ رہے ہو ؟
    فیضان نے اپنے دوست محسن کا راستہ کاٹتے ہوئے کہا۔
    یار ! ساری گلی روشنیوں سے جگمگا رہی ہے صرف آپ کے گھر کے سامنے لائٹیں نہیں لگی ہوئیں ؟
    بھائی ! ”بابا نے مجھے دو ہزار روپے سجاوٹ کے دیے تھے میں لائٹیں لینے جا رہا تھا تو رستے میں ایک بزرگ سردی سے کانپ رہا تھا میں نے اسے دو ہزار کا کمبل لا کے دے دیا ہے۔“

  • تم قانون نہیں بناتے، انصاف نہیں کرتے تو لوگ پھر خود ہی انصاف کریں گے !!! از قلم : غنی محمود قصوری

    تم قانون نہیں بناتے، انصاف نہیں کرتے تو لوگ پھر خود ہی انصاف کریں گے !!! از قلم : غنی محمود قصوری

    یہ ملک اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے خواب اور حضرت محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں سے قرآن و حدیث کے مطابق نظام رائج کرنے کیلئے بنایا گیا تھا جس کا اقرار کئی بار مرحوم قائد اعظم اپنی تقاریر میں کر چکے تھے یہی بات کافر کو ازل سے ناگوار ہے اور پاکستان میں شرع اللہ کا نفاذ بھی کفار کیلئے قابل قبول نہیں اسی لئے کفار نے اس نظام کو ختم کرنے کیلئے اسی ملک کے اندر سے ہی کچھ دین فروش لوگوں کو خریدا ان کو پڑھایا لکھایا اور اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کروایا تاکہ وہ منافقین اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے شرع اللہ کے نفاذ میں رکاوٹوں کا جال بچھائے رکھیں اور عوامی مطالبات کو کچلتے رہیں حالانکہ ہماری اسمبلیاں اور سینٹ عوامی مطالبات پر قانون سازی کرنے کے دعویدار ہیں جبکہ صدر پاکستان اپنا ذاتی اختیار استعمال کرتے ہوئے قانون سازی کر سکتا ہے
    ہمارا المیہ ہے کہ ہم پر مسلط سابقہ و موجودہ حکمران طبقہ ووٹ تو ہم سے لیتا ہے جبکہ نظام کفار کا چلا رہا ہے حالانکہ قیام پاکستان کے اوائل دنوں میں قائد اعظم کی قیادت میں ارض پاک پاکستان کتاب اللہ اور شریعت محمدیہ کی جانب گامزن تھا مگر اللہ کو ہمارا مذید امتحان درکار تھا سو اللہ نے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو اس دار فانی سے اپنے پاس بلا لیا جس کے بعد حالات کچھ غلط سمت چل نکلے تاہم مرحوم جنرل ضیاء الحق شہید نے عملی طور پر حدود اللہ کا کچھ نفاذ کرکے اس ملک پاکستان کو اس کی اصلی منزل کی طرف گامزن کیا مگر ازل سے شرع اللہ کے دشمن اس نظام سے گھبرا گئے تاکہ یہ شرع پر قائم پاکستان پوری دنیا پر چھا کر سپر پاور بن جائے گا کیونکہ مسلمان کی بقاء و سلامتی شرع اللہ ہی میں ہے سو انہوں نے جنرل ضیا الحق کو شہید کروا دیا
    دیکھا جائے اسلام سے دوری کمزور عدالتی نظام اور شرع اللہ سے بغاوت کے باعث آج موجودہ پاکستان میں ہر برائی ملے گی مگر حالیہ چند سالوں سے زنا کی وارداتیں انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہیں ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں سالانہ 3 ہزار سے اوپر زنا بالجبر کے مقدمات درج ہوتے ہیں جن میں چھوٹی معصوم بچیوں اور بچوں تک سے زنا کیا گیا ہوتا ہے مگر افسوس صد افسوس کے ہمارے کمزور عدالتی نظام،وڈیرہ شاہی اور رشوت ستانی کے باعث صرف 3 فیصد لوگوں کو ہی سزا ہوتی ہے وہ بھی واجبی سی باقی لوگ مکمل رہا ہو جاتے ہیں جو کہ ہمارے عدالتی نظام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں حالانکہ ریپ کیسز بہت زیادہ ہیں مگر یہاں صرف رجسٹرڈ کیسز کی بات کی گئی ہے
    جیسے جیسے ملک میں ریپ کیسز کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی لوگوں کی طرف سے مجرمان کو سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مگر افسوس کہ ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں مجرمان کو سرعام پھانسی دینے میں کیا قباحت ہے؟
    حالانکہ تین دھائیاں قبل جنرل ضیاء الحق نے ریپ کیس کے مجرمان کو جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی پر لٹکایا تھا جس کے باعث پوری ایک دھائی کوئی ریپ کیس نا ہوا تھا
    بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور پھر ملزمان کا رہا ہو جانا لوگوں کو مایوس کر رہا ہے جس پر رنجیدہ لوگوں نے ریپ کیسز کے مجرمان کو خود ہی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تناظر میں رواں برس ملک میں ایسے کئی ملزمان کو لوگوں نے خود موت کے گھاٹ اتارا مگر ان میں سے ایک حالیہ کیس قصور کا ایسا بھی ہے جس کے باعث لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہی کہ مجرمان کو سزا عدالت نہیں دیتی تو پھر ہم خود ہی سزا دینگے
    23 ستمبر کو قصور کے تھانہ کھڈیاں کے علاقے ویرم ہتھاڑ میں اسلم عرف ملنگی نامی درندے نے ایک دس سالہ بچی سے زنا بالجبر کی کوشش کی تھی ملزم کے خلاف بچی کے ورثاء نے تھانہ کھڈیاں خاص قصور میں مقدمہ نمبر 548/20 بجرم 376/511 درج کروایا مگر ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور بچی کے ورثاء کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا جس پر رنجیدہ اور عدالتی نظام سے بیزار ورثاء نے خود ہی ملزم ملنگی کو وکیل کے چیمبر میں قتل کر دیا
    سوچنے کی بات ہے ایک جگہ اکھٹے رہتے ہوئے آخر کیا وجہ تھی کہ بچی کے ورثاء نے ملزم کو کچہری میں قتل کیا حالانکہ وہ ملزم کو اس کے گھر یا علاقے میں جہاں کہ دونوں فریقین رہتے تھے، وہاں پر ہی قتل کر سکتے تھے مگر درحقیقت بچی کے ورثاء نے اپنے قریب ترین ہوئے ریپ کیسز زینب مرڈر کیس،سانحہ چونیاں قصور اور کھڈیاں ہی میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں جنسی زیادتی پر آمادہ نا ہونے پر حافظ قرآن کو قتل کرنے والے ملزم کا پروٹوکول دیکھا اور وہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری اور ملزم کی طرف سے کھلے عام دھمکیوں پر سخت رنجیدہ تھے سو انہوں نے کچہری میں ملزم کو اس لئے قتل کیا کہ یہ ایک پیغام عدلیہ،انتظامیہ،مقننہ کے نام ہو جائے کہ اگر تم انصاف کے نام لیوا اور دعوے دار ہو کر انصاف نا کر سکو گے تو پھر ہم تو اپنی عزت کی خاطر ایسا کرینگے ہی
    #قصوریات