Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے کمیٹی روم میں چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    باغی ٹی وی : ووجیان بن کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی کی بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ میں ٹائل سازی کی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عندیہ حکومت اضافی بجلی اور گیس فراہم کرے تو ہمارے صنعتی یونٹ کی پیداواری صلاحیت بڑہ سکتی ہے-

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی اوریل سرامکس کا نیا صنعتی یونٹ لگانے کے لئے 50ایکڑ زمین کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا-

    صوبے میں نئی سرمایہ کاری لانا حکومت کی سرفہرست ترجیح ہے بہت سی چینی کمپنیوں نے پنجاب میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے
    سازگار ماحول کے باعث بیرونی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے لئے پنجاب کا رخ کررہے ہیں-

    ان کا کہنا تھا کہ اوریل سرامکس کی پنجاب میں نئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں چینی کمپنی اوریل سرامکس کو صوبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے ہرممکن سہولت دیں گے-

    میاں اسلم اقبال نےصوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو چینی کمپنی کو نیاصنعتی یونٹ لگانے ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی-

    ان کا کہنا تھا کہ اندرونی و بیرونی سرمایہ کاروں کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں سرمایہ کاری کو فروغ دے کر غربت اور بے روزگاری مسائل پر قابو پائیں گےپنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل سلیم بھی ملاقات میں موجود تھے-

  • اچھی بیوی سے متعلق بیان پر صارفین کی موٹیویشنل اسپیکر اور رائٹر قاسم علی شاہ  پر تنقید

    اچھی بیوی سے متعلق بیان پر صارفین کی موٹیویشنل اسپیکر اور رائٹر قاسم علی شاہ پر تنقید

    پاکستان کے معروف و مقبول موٹیویشنل اسپیکر اور لکھاری قاسم علی شاہ پرگزشتہ چند روز سے ان کے ایک ویڈیو کلپ پر تنقید کی جارہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا کہ خاتون کو اچھی بیوی کیسے بننا ہے۔

    باغی ٹی وی :36 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد سے قاسم علی شاہ کا بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے جس میں قاسم علی شاہ نے ایک اچھی بیوی اور ماں سے متعلق بات کی ہے۔

    مذکورہ سوال پر مشتمل 36 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ قاسم علی شاہ کی تقریباً 15 منٹ کے دورانیے پر مشتمل اس ویڈیو کا ہے جسے انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر رواں برس مئی میں اپلوڈ کیا تھا یہ قاسم علی شاہ کے سوال و جواب کے اس سیشن کا ایک حصہ ہے جس میں انہوں نے حور فاطمہ نامی خاتون کے سوال کا جواب کا دیا تھا۔

    حور فاطمہ نے اپنے سوال میں پوچھا تھا کہ کیا ملازمت کرنے والی خواتین بچوں کی اچھی مائیں ثابت نہیں ہوپاتیں؟

    تاہم اس ویڈیو کے وائرل ہونے والے ویڈیو کلپ میں قاسم علی شاہ نے خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اچھی بیوی کیسے بننا ہے یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔

    انہوں نے کہا کہ آپ کسی اسکول میں چلے جائیں جہاں بیٹیاں ہماری پڑھتی ہیں10 سال میٹرک کی ڈگری تک،اچھی بیوی کیسے بننا ہے یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔

    ویڈیو میں قاسم علی شاہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حالانکہ عورت کی زندگی میں دو کرداروں کی بہت اہمیت ہے جن میں سے ایک کردار ہے اچھی بیوی کا اور دوسرا اچھی ماں کا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اسکول میں کہیں نہیں پڑھایا جاتا کالج میں نہیں پڑھایا جاتا اور یونیورسٹی میں بھی بالکل بھی نہیں پڑھایا جاتا اور جو ذریعہ باقی رہ گیا کہ اچھی ماں اور اچھی بیوی کیا ہوتی ہے تربیت کا وہ ذریعہ گھر ہےیعنی بچی اپنی ماں کو دیکھے۔

    یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد قاسم علی شاہ پر کئی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے۔

    اسی حوالے سے پاکستانی کامیڈین اور تھیٹر ایکٹر شہزاد غیاث شیخ نے ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے تنقیدی انداز میں لکھا کہ گرلز اسکولز کیوں ہیں اگر وہ انہیں شوہروں کی غلامی کیسی کرنی ہے نہیں سکھا سکتے؟’
    https://twitter.com/Shehzad89/status/1323299001177878530?s=20
    انہوں نے مزید کہا کہ’لاہور گرامر اسکول (ایل جی ایس) کو اپنا نام لاہور گروم سلیوز رکھ لینا چاہیے، سائنس کی ساری کتابوں کو آگ لگائیں اور لڑکیوں کو بتائیں کہ بہتر وِگس کیسے بناتے ہیں، تاکہ قاسم علی شاہ دوبارہ کبھی بھی کیمرا پر ایسے دکھائی نہ دیں۔


    ایک اور صارف نے کہا کہ دیکھیں یہ کس نے کہا ہے انہیں بہت سراہا جاتا ہے۔

    اس صارف نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ میری قبر میں بچھو اس کی وجہ سے آئیں ہم سب کو سکھیا جائے کہ ایک اچھی بیوی میسے بننا ہے وہ بھی دسویں گریڈ تک ؟پیدا ہوتے ہی شادی کر دیا کریں بس نہیں چلتا نا جاہلوں کا –

    اس نے مزید لکھا کہ تو اس شخص نے یہ کہا ہے کہ خواتین کو میٹرک تک آخر کار اچھی بیوی کیسے بناتے نہیں سکھایا جاتا جو اُن کا آگے ایک سب سے ضروری کردار ہے ایک وائف کیسے بننا ہے اور اچھا کیسے کرنا یہ نہیں سکھایا جاتا-

    صارف نے ایک اور ٹوئٹ میں مزید کہا کہ کیا عمران خان ‘پرفیکٹ وائف 101‘ کے نام سے ایک نیا مضمون متعارف کروا سکتے ہیں اور جب ہم لڑکیاں یہ مضمون پڑھیں گی تو اس وقت لڑکے کھیلوں کی کلاس میں جا سکتے ہیں کیونکہ وہ تو پرفیکٹ ہیں۔

    ساتھ ہی لکھا کہ میں نے بھی اس کے بعد اس ویڈ یو کو سننا چھوڑ دیا ، اس لئے اس نے نتیجہ اخذ کیا لیکن قاسم علی شاہ ہم آپ کی کتابیں باہر پھینک رہے ہیں

    https://twitter.com/SundusSaleemi/status/1323321553875017730?s=20
    ایک اور ٹوئٹر صارف نے اسی صارف کی ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے لکھا کہ اگر اچھی بیوی بننے کا مطلب ہے کہ بیوی، شوہر کی فرمانبردار ہو، اس کی ضروریات، خواہشات، پسند اور ناپسند کی تابع ہو، شوہر کے گرد گھومتی زندگی بنائے تو تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔


    قاسم علی شاہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے ایک اور صارف نے سوال کیا کہ مردوں کو بہتر انسان بننا کیوں نہیں پڑھاتے جبکہ پاکستان کو ریپ، غیرت کے نام پر قتل، ایسڈ حملے، گھریلو تشدد، جبری شادیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے تو کیوں نہ مردوں کو بہتر شوہر، باپ، انسان اور شہری بننا سکھایا جائے؟


    صحافی عافیہ سلام نے طنزیہ اندا میں لکھا کہ اچھا باپ اور شوہر بننے کی تعلیم تو کنڈرگارٹن میں شروع ہوتی ہے نا؟


    علی خان ترین نے لکھا کہ اگر معاشرے میں خواتین کے حصول کارنامے ’’ اچھی بیوی ‘‘ (جس کے ذریعہ میں مانتا ہوں کہ اس کا مطلب ایک نافرمان ہے) معاشرے کی ترقی کیسے ہوسکتی ہے۔واقعتا اس کا قصور بھی نہیں ہے۔ یہ جس معاشرے میں ہم بڑے ہو رہے ہیں۔جناب، اپنا دماغ کھولیں ، دوسری ثقافتوں کے بارے میں جانیں۔ کچھ مارگریٹ میڈ پڑھیں۔

    جہاں صارفین نے تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کچھ صارفین نے قاسم علی شاہ کے مذکورہ بیان کی تائید بھی کی۔

    رانا عمران جاوید نے کہا کہ قاسم علی شاہ بالکل ٹھیک ہیں خاندان ایک بنیادی اکائی ہے جو ایک معاشرہ تشکیل دیتی ہےاگر لڑکیوں اور لڑکوں کو خاندان میں ان کے کردار سے متعلق تعلیم نہیں دی جاتی تو کوئی معاشرہ پنپ نہیں سکتا۔


    رانا عمران جاوید نے کہا کہ یہ خواتین کی محرومی کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق معاشرتی ترقی سے ہے۔

    ایک اور صارف نے کہا کہ 36 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ پر ہم سوالات اور اعتراضات اٹھارہے ہیں ہم نے جاننے کی کوشش نہیں کی کہ سوال کیا تھا؟ قاسم علی شاہ نے اس سے پہلے یا بعد میں کیا کہا؟


    علی بیگ نامی صارف نے لکھا کہ کیا آپ بھی جانتے ہیں کہ وہ کون ہے؟ 30 سیکنڈ کا یہ کلپ آپ کو تصویر کا مکل رُخ نہیں دکھا سکتا-


    محمد عمار راشد نے لکھا کہ اگر لڑکی نے اچھی بیوی نہیں بننا تو آپ اُسے کیا بنانا چاہتے ہیں قسم صاھب نے کیا غلط کہا ہے بلکہ قاسم صاحب نے ایسی بات کہی ہے آج سے پہلے کسی نے نہیں کہی-


    محمد شہزاد افضل نامی صارف نے لکھا کہ قاسم علی شاہ صاحب ہمارے athecs پہ بات کر کے سوسائٹی کے استحکام کی بات کر رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اسے گھسیٹ گھساٹ کے یورپی کلچر کے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں

  • ََ’احساس’ سو لفظی کہانی تحریر حماد رزاق چدھڑ

    ََ’احساس’ سو لفظی کہانی تحریر حماد رزاق چدھڑ

    دیکھو یار چاروں طرف سے جھنڈیاں اور لائٹیں کتنی چمک رہی ہیں۔ دس سالہ اکرم اور فیضان آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔
    محسن رکو ذرا ! کہاں سے آ رہے ہو ؟
    فیضان نے اپنے دوست محسن کا راستہ کاٹتے ہوئے کہا۔
    یار ! ساری گلی روشنیوں سے جگمگا رہی ہے صرف آپ کے گھر کے سامنے لائٹیں نہیں لگی ہوئیں ؟
    بھائی ! ”بابا نے مجھے دو ہزار روپے سجاوٹ کے دیے تھے میں لائٹیں لینے جا رہا تھا تو رستے میں ایک بزرگ سردی سے کانپ رہا تھا میں نے اسے دو ہزار کا کمبل لا کے دے دیا ہے۔“

  • تم قانون نہیں بناتے، انصاف نہیں کرتے تو لوگ پھر خود ہی انصاف کریں گے !!! از قلم : غنی محمود قصوری

    تم قانون نہیں بناتے، انصاف نہیں کرتے تو لوگ پھر خود ہی انصاف کریں گے !!! از قلم : غنی محمود قصوری

    یہ ملک اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے خواب اور حضرت محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں سے قرآن و حدیث کے مطابق نظام رائج کرنے کیلئے بنایا گیا تھا جس کا اقرار کئی بار مرحوم قائد اعظم اپنی تقاریر میں کر چکے تھے یہی بات کافر کو ازل سے ناگوار ہے اور پاکستان میں شرع اللہ کا نفاذ بھی کفار کیلئے قابل قبول نہیں اسی لئے کفار نے اس نظام کو ختم کرنے کیلئے اسی ملک کے اندر سے ہی کچھ دین فروش لوگوں کو خریدا ان کو پڑھایا لکھایا اور اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کروایا تاکہ وہ منافقین اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے شرع اللہ کے نفاذ میں رکاوٹوں کا جال بچھائے رکھیں اور عوامی مطالبات کو کچلتے رہیں حالانکہ ہماری اسمبلیاں اور سینٹ عوامی مطالبات پر قانون سازی کرنے کے دعویدار ہیں جبکہ صدر پاکستان اپنا ذاتی اختیار استعمال کرتے ہوئے قانون سازی کر سکتا ہے
    ہمارا المیہ ہے کہ ہم پر مسلط سابقہ و موجودہ حکمران طبقہ ووٹ تو ہم سے لیتا ہے جبکہ نظام کفار کا چلا رہا ہے حالانکہ قیام پاکستان کے اوائل دنوں میں قائد اعظم کی قیادت میں ارض پاک پاکستان کتاب اللہ اور شریعت محمدیہ کی جانب گامزن تھا مگر اللہ کو ہمارا مذید امتحان درکار تھا سو اللہ نے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو اس دار فانی سے اپنے پاس بلا لیا جس کے بعد حالات کچھ غلط سمت چل نکلے تاہم مرحوم جنرل ضیاء الحق شہید نے عملی طور پر حدود اللہ کا کچھ نفاذ کرکے اس ملک پاکستان کو اس کی اصلی منزل کی طرف گامزن کیا مگر ازل سے شرع اللہ کے دشمن اس نظام سے گھبرا گئے تاکہ یہ شرع پر قائم پاکستان پوری دنیا پر چھا کر سپر پاور بن جائے گا کیونکہ مسلمان کی بقاء و سلامتی شرع اللہ ہی میں ہے سو انہوں نے جنرل ضیا الحق کو شہید کروا دیا
    دیکھا جائے اسلام سے دوری کمزور عدالتی نظام اور شرع اللہ سے بغاوت کے باعث آج موجودہ پاکستان میں ہر برائی ملے گی مگر حالیہ چند سالوں سے زنا کی وارداتیں انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہیں ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں سالانہ 3 ہزار سے اوپر زنا بالجبر کے مقدمات درج ہوتے ہیں جن میں چھوٹی معصوم بچیوں اور بچوں تک سے زنا کیا گیا ہوتا ہے مگر افسوس صد افسوس کے ہمارے کمزور عدالتی نظام،وڈیرہ شاہی اور رشوت ستانی کے باعث صرف 3 فیصد لوگوں کو ہی سزا ہوتی ہے وہ بھی واجبی سی باقی لوگ مکمل رہا ہو جاتے ہیں جو کہ ہمارے عدالتی نظام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں حالانکہ ریپ کیسز بہت زیادہ ہیں مگر یہاں صرف رجسٹرڈ کیسز کی بات کی گئی ہے
    جیسے جیسے ملک میں ریپ کیسز کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی لوگوں کی طرف سے مجرمان کو سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مگر افسوس کہ ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں مجرمان کو سرعام پھانسی دینے میں کیا قباحت ہے؟
    حالانکہ تین دھائیاں قبل جنرل ضیاء الحق نے ریپ کیس کے مجرمان کو جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی پر لٹکایا تھا جس کے باعث پوری ایک دھائی کوئی ریپ کیس نا ہوا تھا
    بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور پھر ملزمان کا رہا ہو جانا لوگوں کو مایوس کر رہا ہے جس پر رنجیدہ لوگوں نے ریپ کیسز کے مجرمان کو خود ہی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تناظر میں رواں برس ملک میں ایسے کئی ملزمان کو لوگوں نے خود موت کے گھاٹ اتارا مگر ان میں سے ایک حالیہ کیس قصور کا ایسا بھی ہے جس کے باعث لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہی کہ مجرمان کو سزا عدالت نہیں دیتی تو پھر ہم خود ہی سزا دینگے
    23 ستمبر کو قصور کے تھانہ کھڈیاں کے علاقے ویرم ہتھاڑ میں اسلم عرف ملنگی نامی درندے نے ایک دس سالہ بچی سے زنا بالجبر کی کوشش کی تھی ملزم کے خلاف بچی کے ورثاء نے تھانہ کھڈیاں خاص قصور میں مقدمہ نمبر 548/20 بجرم 376/511 درج کروایا مگر ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور بچی کے ورثاء کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا جس پر رنجیدہ اور عدالتی نظام سے بیزار ورثاء نے خود ہی ملزم ملنگی کو وکیل کے چیمبر میں قتل کر دیا
    سوچنے کی بات ہے ایک جگہ اکھٹے رہتے ہوئے آخر کیا وجہ تھی کہ بچی کے ورثاء نے ملزم کو کچہری میں قتل کیا حالانکہ وہ ملزم کو اس کے گھر یا علاقے میں جہاں کہ دونوں فریقین رہتے تھے، وہاں پر ہی قتل کر سکتے تھے مگر درحقیقت بچی کے ورثاء نے اپنے قریب ترین ہوئے ریپ کیسز زینب مرڈر کیس،سانحہ چونیاں قصور اور کھڈیاں ہی میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں جنسی زیادتی پر آمادہ نا ہونے پر حافظ قرآن کو قتل کرنے والے ملزم کا پروٹوکول دیکھا اور وہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری اور ملزم کی طرف سے کھلے عام دھمکیوں پر سخت رنجیدہ تھے سو انہوں نے کچہری میں ملزم کو اس لئے قتل کیا کہ یہ ایک پیغام عدلیہ،انتظامیہ،مقننہ کے نام ہو جائے کہ اگر تم انصاف کے نام لیوا اور دعوے دار ہو کر انصاف نا کر سکو گے تو پھر ہم تو اپنی عزت کی خاطر ایسا کرینگے ہی
    #قصوریات

  • بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری

    بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری

    زمانہ جہالت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیتے تھے کیونکہ عورتوں کے بھی حقوق ہیں سو ان کے حقوق کو کھانے کی خاطر ان کو قتل کرنا معمول تھا پھر میرے اور آپ کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اس فعل بد سے لوگوں کو روکا اور حقوق خواتین وضع کئے
    اسلام میں جہاں مردوں کے حقوق ہیں وہیں عورتوں کے بھی حقوق ہیں اور قرآن و حدیث نے ان حقوق کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بہنوں ،بیٹیوں کا وراثتی شرعی حق کھانا ایک فیشن بن چکا ہے اور اس حق ماری کو بلکل بھی حرام نہیں سمجھا جاتا
    اگر کوئی عورت اپنا حق مانگے تو اسے سو طرح کے بہانے سنا کر طعنہ زنی کی جاتی ہے کبھی اس کی پرورش کی تو کبھی اسے تعلیم دلوانے کی کبھی اس کو اچھا کھلانے کی تو کبھی اس کی شادی پر آنے والے اخراجات کی غرض زیادہ تر عورتوں کو انکے اس جائز شرعی وراثتی حق سے محروم ہی رکھا جاتا ہے اگر کوئی بیچاری اپنا حق بھائی،باپ سے مانگ بیٹھے تو بمشکل ہی ادا کیا جاتا ہے بعض تو ایسے واقعات بھی رونما ہو چکے کہ بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں ان کا حق نا دینے کی خاطر پوری جائیداد بیٹوں کے نام کر دی جاتی ہے اور یوں چاہتے ہوئے بھی وہ بیچاری اپنا حق نہیں لے سکتیں
    واضع رہے جس طرح ایک لڑکے کی پرورش،تعلیم اور شادی والدین پر فرض ہے بلکل اسی طرح ایک لڑکی کی پرورش،تعلیم اور شادی بھی والدین پر بحیثیت واجب ہے اور یہ ان کا حق ہے
    کسی کا حق مارنا چوروں ڈاکوؤں کا کام ہے اور اس حق مارنے کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں
    اے ایمان والوں تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نا کھاؤ ،سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور تم اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو ،بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔۔ النساء 29
    اس سورہ میں اللہ تعالی نے کسی کا بھی حق مارنے سے منع فرمایا اور کہا کہ ایسا کرنے والے اپنی جانوں پر ظلم کرینگے اور ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا
    ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نا کرو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک گئے ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ آخرت کو بھول گئے ۔۔سورہ ص 26
    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے نبی کو بڑے سخت الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ تم زمین میں خلیفہ مقرر کئے گئے ہو سو اللہ کی راہ سے بھٹک کر اپنے نفس کی پیروی کے پیچھے لگ کر حق کے خلاف فیصلے نا کر بیٹھنا ورنہ ٹھکانہ جہنم ہو گا حالانکہ نبی جنت کے وارث اور معصوم الخطاء ہوتے ہیں مگر اللہ کا مقصد نبی کی مثال دے کر ہمیں سمجھانا ہے
    والدین اولاد کے خلیفہ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے مابین حق کیساتھ وراثت کی تقسیم کریں جو اسلام نے بتا دی بصورت دیگر وہ جہنم کے حقدار ہونگے لہذہ وراثت تقسیم کرتے وقت عورتوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ان کا اسلام کی رو سے مقرر کردہ حق لازمی دینا چاہیے ہاں اگر کوئی بہن بیٹی اپنا حق نہیں لیتی تو اس کی مرضی اور آج ہے بھی ایسا زیادہ تر عورتیں اپنے بھائیوں بھتیجوں کو اپنا حق فی سبیل اللہ دے دیتی ہیں جو کہ ان کی اعلی ظرفی کی بہت بڑی پہچان ہے
    حقوق خواتین پر میرے شفیق نبی علیہ السلام نے بہت زور دیا
    اس پر ایک صحابی رسول فرماتے ہیں
    کہ میں نے پوچھا ،یارسول اللہ میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلح رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ،میں پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے پھر فرمایا اپنی ماں کیساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنے باپ کیساتھ میں پھر پوچھا کس کے ساتھ تو آپ نے فرمایا رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ۔۔۔ ترمذی 1645
    اس حدیث میں صحابی رسول کے صلح رحمی کے متعلق پوچھنے پر تین بار ماں اور پھر اس کے بعد باپ اور پھر اس کے بعد قریبی رشتہ داروں اور پھر درجہ بدرجہ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا ہماری صلح رحمی، حق گوئی اور انصاف کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے ماں باپ اور رشتہ دار ہیں تو جب مسئلہ وراثت میں تقسیم کا ہوگا تو پھر سب سے پہلے صلح رحمی اور انصاف کے حقدار ماں باپ کے بعد بہنیں اور بیٹیاں کیوں نا ہونگیں؟
    جہاں شرعیت نے بہنوں کا حق مارنا ممنوع قرار دیا ہے وہاں پاکستانی قانون نے بھی اس کی ممانعت کی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو سال قبل والدہ کی طرف سے صرف بیٹوں کو ہی وراثت دینے پر اسے کالعدم قرار دے کر بیٹیوں کو بھی اس وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا اور کہا کے بیٹیوں کو ان کے شرعی وراثتی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ، بحوالہ 2080 _ scmr 2018
    بہنوں بیٹیوں کا حق مارنے والے اسلام کے بھی مجرم ہیں اور قانون پاکستان کے بھی ایسے بندے کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور وہ دنیا میں تو رسواء ہوتا ہی ہے روز قیامت بھی رسوا ہو گا کیونکہ اسلام میں کسی غیر کا حق مارنے کی اجازت نہیں تو پھر اپنی سگی بہنوں، بیٹیوں کا حق مارنے والوں کو کسطرح اجازت ہو گی؟
    لہذہ ماں باپ تقسیم ترکے کے وقت بیٹیوں کا حق ادا کرنا ہرگز نا بولیں اور بیٹوں کیساتھ بیٹیوں کا جائز حق بھی انہیں ادا کریں تاکہ ان کے جگر کا ٹکڑا جو اب کسی اور کے گھر کی زینت ہے وہ بھی اپنے شرعی حق کو لے کر عزت و سکون سے گزر بسر کرسکے
    یقین کریں آج جہیز جیسی لعنت کو ختم کرکے اس جائز شرعی حق کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے گا ورنہ بیٹیوں ،بہنوں کے حق مارنے سے ہم عذاب الٰہی کے حقدار تو ہیں اللہ کی رحمت کے ہرگز نہیں کیونکہ چور، ڈاکو حق مارنے والے اور غاصب کبھی فلاح نہیں پاتے
    اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہر سال پاکستان میں ذی الحجہ کے آخری دن، محرم مکمل اور صفر کے کچھ دن کچھ لوگوں کو بالکل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں زبانیں دراز کریں اور وطن عزیز میں امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں. عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی بات پر مذہبی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران پر عرصہ حیات تنگ کرنے والا "نیشنل ایکشن پلان” ان دنوں میں بھنگ پی کر سو جاتا ہے. اہل تشیع علماء کے مطابق جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا کہ اہل تشیع جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں بکواس کرنے والے ذاکر "آصف” پابندی تھی تو اس کو کس نے آزادی دی بولنے کی، کس نے اس کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اس کو جرات دی کہ وہ انبیاء کرام کے بعد کائنات کی مقدس ترین ہستیوں پر زبان طعن دراز کرے. کیا نیشنل ایکشن پلان اس کے سہولت کاروں کا تعین کرکے ان کو ویسے ہی نشان عبرت بنائے گا ؟ جیسے مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کا نشان عبرت بنایا گیا.
    اس کے بعد کراچی میں ایک جلوس کے دوران پھر سے یہی عمل دہرایا گیا جس کو ایک نجی ٹی وی چینل نے براہ راست دکھایا لیکن "نیشنل ایکشن پلان” اسلام آباد کے کسی کلب میں سویا رہا. ان واقعات پر اہل السنہ والجماعة کی جماعتیں سیخ پا ہوئیں اور ردعمل کے طور پر کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا دفاع کیا جائے اور ان پر تبراء پر قانونی پابندی ہونی چاہیے لیکن تاحال کوئی ایکشن یا قانون سازی کا دور دور تک امکان نہیں ہے. جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے سے واپس لوٹنے والوں پر مری کے مقام پر شرپسند عناصر جو مبینہ طور پر صحابہ کرام کی گستاخیوں پر آمادہ رہتے ہیں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس پر "نیشنل ایکشن پلان” تاحال گہری نیند میں ہے.
    میں سمجھتا ہوں اس میں جہاں ملکی ادارے ذمہ دار ہیں وہیں پر اہل السنہ والجماعة کی تمام جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں جو سواد اعظم ہونے کے باجود ملکی کی اسمبلیوں سے صحابہ کرام کی ناموس کے تحفظ کے بل پاس کروا سکیں.
    ملکی اداروں اور ذمہ داران کو بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کی ناموس پر حملے یہ وہ دروازہ ہے جو اگر بند نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان اک خواب بن جائے گا جس کا متحمل ہمارا ملک نہیں ہوسکتا کہ بڑے قربانیوں کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ہمارے شہروں میں سکون ہے معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں ایسے میں اسلام ہم تک پہنچانے والوں صحابہ کرام پر ہی سوالات اٹھا دینا ملک کو فرقہ واریت کی شدید آگ میں دھکیلے گا.
    محمد عبداللہ

  • خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

    خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

    جانتے ہیں یہ مرد ریپسٹ کیسے بنتے ہیں ، خواتین اور بچے ان کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟؟
    تحریر: محمد عبداللہ

    جنسی ہراسگی، ریپ، زیادتی، تیزاب گردی، چھیڑچھاڑ یہ بڑے ایشوز ہیں جو خواتین کو پیش آتے ہیں. ہم دیکھتے ہیں کہ آئے دن خواتین سوشل میڈیا پر شور کر رہی ہوتی ہیں کہ ان کو انباکس میں ہراساں کیا جا رہا. نہ صرف خواتین بلکہ چھوٹے بچے بھی ان شیاطین سے محفوظ نہیں ہیں. ہمارے ناران ٹور میں بڑی لمبی چوڑی بحث اس بات پر ہوئی کہ یہ حادثات پیش کیوں آتے ہیں. مختلف وجوہات پر بڑی مدلل بات ہوتی رہی. وہ وجوہات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ ہم ان کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے میں سے یہ جرائم بلکہ قبیح ترین حرکتیں ختم کرنے کی کوشش کرسکیں.
    سب سے بنیادی بات والدین کی تربیت کی ہے جب والدین سے تربیت انسان کو بہترین ملے تو اس کے اندر شیطانیت پنپنے کے چانسز کم ہوتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں سب سے بڑا ایشو یہی ہوتا ہے کہ والدین کی ساری زندگی بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزر جاتی ہے جبکہ بچوں کی تربیت کے لیے ان کے پاس ذرہ برابر ٹائم نہیں ہوتا.جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بچہ اپنی ذات میں اکیلا ہوتا جاتا اور اگر اس کو دوستوں کی اچھی صحبت میسر نہ آئے تو اس بچے کا بگڑنا سو میں سے نوے فیصد طے ہوتا.
    خواتین اور بالخصوص چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ ان ایشوز کے پیش آنے کی دوسری بڑی وجہ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ماحول جو بظاہر ہمارے معاشرے کا حسن ہے لیکن بعض جگہوں پر جوائنٹ فیملی سسٹم سے مراد یہی ہوتا ہے کہ ہر انکل آنٹی اور ہر کزن کو کھلم کھلا چھوٹ ہوتی ہے ہر جگہ آنے جانے کی اور بچوں کو دکان، سکول، ٹیویشن وغیرہ پر لانے اور لے جانے کی. اسلام نے جو بنیادی محرم و غیرمحرم اور ان کی حدود مقرر کی ہیں لیکن جب ان حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا تو نتائج سنگین نکلتے ہیں. کتنی ہی چھوٹی عمر کی لڑکیاں اور لڑکے ایسے ہوتے جو رشتے میں لگنے والے چاچو، ماموں اور کزنز کی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں.

    تیسری بڑی وجہ بچوں کو سیکس ایجوکیشن نہ دینا مسئلہ ہے جو تلخ واقعات کی وجہ بنتا ہے. اسی سیکس ایجوکیشن کی بنیاد پر ہمارا لبرل طبقہ بڑا سیخ پا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن دی جانی چاہیے لیکن درحقیقت یہ سیکس ایجوکیشن والدین دے سکتے یا سگے بہن بھائی دے سکتے وہ بہتر بتا سکتے کہ گڈ ٹچ کیا ہے اور بیڈ ٹچ کیا ہے. جب ماں بیٹی کو بتائے گی کہ یر وہ ٹچ جو غیر محرم کہیں بھی کرے گا وہ حرام ہے اور غلط ہے تو اس کا فائدہ ہے لیکن جب سیکس ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں دی جاتی یے تو اس کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلتے بلکہ وہاں پھر لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی سے بننے والے حرام تعلق کو بھی گڈ ٹچ میں لیا جاتا ہے.

    چوتھی بڑی وجہ اسلام کے پردے کے سسٹم کو نہ اپنانا ہے. آپ تعلیمی اداروں اور بالخصوص یونیورسٹیز میں جا کر دیکھ لیں لڑکیاں حدیث کے مصداق لباس پہننے کے باوجود بےلباس ہوتی ہیں اور اپنے اس عمل کے ساتھ نادانستگی میں درندہ صفت لوگوں کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں کہ وہ موقع ملنے پر ان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکیں جبکہ ان کی نسبت پردہ کرنے والی خواتین اکثر ان چیزوں سے محفوظ رہتی ہے.
    ان کیسز کے پیش آنے کی پانچویں بڑی وجہ شادیوں کا لیٹ ہونا، نکاح کے لیے مسائل جب کہ بدکاری کے لیے سہولیات کا وافر ہونا بھی ہیں. لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کی لمبی لسٹ اور لڑکی والوں کی طرف سے اپنی بیٹی کے مستقبل محفوظ کرنے کے نام پر جو فہرستیں بنائی ہوئی ہیں ہمارے معاشرے نے انہوں حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا ہے جو نوجوانوں کو بغاوت کی طرف لے جاتا یے اور جس کا نتیجہ ہم ایسے کیسز کی صورت بھگتتے ہیں.
    تعلیمی اداروں میں مخلوط ماحول جہاں بعض مثبت چیزوں کو جنم دیتا ہے وہیں پر حرام کے رشتوں کو بنانے کا موجب بھی بنتا ہے اور چھٹی بڑی وجہ یہی ہے. ہمارے تعلیمی اداروں میں کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جو بےچاری چند نمبرز کے لیے پروفیسرز اور کلاس فیلوز کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہتی ہیں. تعلیمی اداروں میں یہ واقعات عام ہیں یہ اور بات ہے کہ رپورٹ نہیں ہوتے.
    ساتویں نمبر پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہمارے مدارس اور مساجد تک میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات ہیں جو ان کے مربی اور قران پڑھانے والوں کے ہاتھوں ہوتا ہے. یہاں پر بدقسمتی سے بڑا اعتراض آتا ہے کہ بچہ ہو یا بچی جب قران یا دین پڑھنے آتا ہے تو اس کا لباس بھی ٹھیک ہوتا اور آتا بھی مسجد یا مدرسے میں ہے جبکہ ریپ کرنے والا بھی قران کا قاری اور دین کا عالم ہے تو کیسے یہ واقعات پیش آتے ہیں. ہمارے مدارس، اسکولز اور مساجد میں ہمہ وقت سیکیورٹی کیمرے لگے ہونے چاہیں جن پر ذمہ دار بندوں کی نگرانی ہو. بچوں کو قراء حضرات کے پاس اکیلا ہرگز نہ چھوڑا جائے وہ چاہے مسجد میں ہوں یا گھر میں.
    آٹھویں نمبر پر جو وجہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے بڑی وجہ ہے اور وہ ہے ان شدید ترین کیسز پر موثر سزاؤں کا نہ ہونا، کمزور عدالتی سسٹم کے باعث شکوک و شبہات کا فائدہ اٹھا کر مجرم کر بچ جانا یہ سب سے بڑی وجہ ہے جو ان درندوں کو ان برے افعال پر ابھارتی ہے. اگر موثر اور عوامی سزاؤں کا اطلاق ہو یہ درندے بھی قابو میں رہیں گے اور ہاارے بچے بھی محفوظ رہیں گے.

    نویں بڑی وجہ ہمارے میڈیا پر چلنے والے ڈرامے، موویز اور اشتہارات ہیں جن میں سسر بہو کے پیچھے پڑا ہے تو بہنوئی سالی کے پیچھے، بھاوج دیور پر ڈورے ڈال رہی تو بھائی نما دوست اپنے ہی بھائی کی بیوی کے پیچھے پڑا ہے. اگر اشتہارات کی بات کریں تو ان کا واحد سبجیکٹ ہی عورت ہے. عورت کے جسم کے مختلف اعضاء دکھائے بغیر جب کوئی چیز نہیں بکے گی تو ان کمرشلز کو دیکھنے والے بھی پھر عورت کے پیچھے ہی رہیں گے اور ان کو عورت بیٹی، بیوی، ماں، بہن کے روپ میں نہیں بس ایک سبجیکٹ عورت کے طور پر دکھے گی. جب مکمل ذرائع ابلاغ اور تفریح کے سارے ادارے عورت کو ایک شوپیس، پراڈکٹ اور ماڈل کے طور پر دیکھیں اور استعمال کریں گے تو اس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ریپ ہی ہوتا جو ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں
    محمد عبداللہ

  • زنا کے بڑھتے واقعات  کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!!  از قلم: غنی محمود قصوری

    زنا کے بڑھتے واقعات کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    پچھلے چند سالوں سے ارض پاک میں زنا کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں ہر روز نئے سے نیا واقعہ سامنے آتا ہے دل اکتا گیا ہے ان واقعات کو سن سن کر اور اپنے مسلمان ہونے پر افسوس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر گر گئے کہ اپنی عزت پر آنچ آنے پر قتل تک کرنے سے گریز نہیں کرتے جبکہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالتے وقت ہمارا ضمیر مر جاتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید اس کا حساب نہیں ہو گا حالانکہ اللہ تعالی نے ہمارے مسلمان بھائیوں کی جان و مال ،عزت و آبرو ناجائز طریقے سے ہم پر حرام کر دی ہے آخر زنا کے واقعات کیوں بڑھ گئے ہیں اس کیلئے جائزہ لیتے ہیں
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے تعداد کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں کے تناسب میں تھوڑا ہی فرق ہے مردوں کی تعداد عورتوں سے 51 لاکھ زیادہ ہے اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کی کل تعداد 10420 ہے
    یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت مطلقہ و بیوہ عورتوں کی تعداد 60 لاکھ ہے جن کی عمریں 30 سے 45 سال تک ہیں یعنی وہ عین شادی کے قابل ہیں مذید 10 لاکھ عورتیں شادی کے انتظار میں بالوں میں چاندی لئے بیٹھی ہیں جن کی عمریں 35 سال تک ہیں یوں وہ کنواری ہو کر رسم و رواج ،ذات پات اور دیگر رسم و رواج کی بھینٹ چڑھی بیٹھی ہیں
    1 کروڑ لڑکیاں ایسی ہیں جن کی عمر 20 سال سے اوپر اور 35 سال سے کم ہیں اور ان کی ابھی شادی ہونی ہے اور ان کی شادیوں میں بڑی رکاوٹ رسم و رواج ہیں جن کے لئے پیسے ہونا لازم ہے
    یوں کل ملا کے 1 کروڑ 70 لاکھ عورتیں اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی کی عمر ہے مگر رسم و رواج ،ذات برادری اور سٹیٹس ان کی شادی کی راہ میں رکاوٹ ہیں
    نکاح ایک ایسا فریضہ ہے جو کہ ہر مرد وعورت ،کنوارے،بیوہ،رندوے اور مطلقہ پر فرض ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے
    النکاح من سنتی
    نکاح میری سنت ہے
    ایک اور جگہ فرمایا
    من رغب سنتی فلیس منا
    جس نے میری سنت (نکاح) سے منہ موڑا وہ ہم میں سے نہیں
    ایک اور جگہ فرمایا
    یا معشر الشباب تزواجوا
    اے نوجوانوں کی جماعت شادی کر لو
    مذید فرمایا کہ نکاح نصف ایمان ہے
    اور مردوں کیلئے کہا کہ نکاح کرو ایک ایک سے ،دو دو سے ،تین تین سے اور چار چار سے مگر انصاف کیساتھ
    اللہ رب العزت نے انسان کو بنایا اور اس کی خواہشات کے مطابق اسے رعایت بھی دی اسی لئے عورت کو ایک وقت میں ایک مرد سے جبکہ ایک مرد کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی مذید عورت کو راضی نا ہونے کی صورت میں خلع کا بھی اختیار دیا گیا ہے
    بچے بچیوں کے نکاح میں انتہائی جلدی کرنی چائیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کو پہلا حیض ماں باپ کے گھر آئے تو دوسرا سسرال میں آئے یعنی بلوغت آتے ہی نکاح کر دیا جائے اور یہی شرط لڑکے کیلئے ہے جس کا خالصتاً مقصد زنا جیسی لعنت سے بچنا ہے
    یعنی نکاح کی اتنی اہمیت ہے کہ قرآن نے جتنا کھل کر میاں بیوی کے مسائل کو بیان کیا اتنا اور کسی مسئلے کو بیان نہیں فرمایا گیا
    کیونکہ نکاح نا ہونے سے معاشرے میں فسق و فجور بڑھتا ہے اور بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اسی لئے اللہ تعالی نے سوری بنی اسرائیل میں فرمایا
    لا تقربوا الزنی
    خبردار زنا کے قریب بھی مت جانا
    یہ واحد عمل ہے جس کے متعلق اللہ نے بڑی سختی سے کہا کہ اس کے قریب بھی نا جانا یعنی کوئی بھی ایسا عمل نا کرنا کہ تجھ سے زنا سر زد ہو جائے کیونکہ زنا سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے امن و امان ختم ہو جاتا ہے اور روئے زمین پر فساد برپاء ہونے کیساتھ بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اس کے برعکس ہر کام کے متلعق اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسے کر نا بیٹھنا یا اس بچ جانا وغیرہ مگر زنا کے متعلق اتنی سخت بات کہی کے کوئی بھی عمل ایسا نا کرنا کے تم زنا کے قریب بھی جاؤ
    زنا سے بچنے کا واحد ذریعہ نکاح ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ ہے ہی نہیں
    ہماری زندگی اسوہ محمد کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محتاج ہے نبی کریم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ طاہرہ سے 40 اور بعض روایات کے مطابق 45 سال کی عمر میں ہوا جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال تھی حضرت خدیجہ ایک بیوہ عورت تھیں جنہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام نکاح بھیجا جسے نبی کریم نے اپنے چچا کیساتھ مشورے کے بعد قبول کر لیا
    جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ کا نکاح آپ سے 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 10 سال کی عمر میں ہوئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اس وقت تقریبا 49 سال 7 ماہ تھی
    اگر ہم مطالعہ سیرت نبوی کریں تو ماسوائے حضرت عائشہ صدیقہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات اور ہماری امہات المؤمنین مطلقہ یا بیوہ تھیں اس لحاظ سے سنت پر عمل کرتے ہوئے بیوہ و مطلقہ سے نکاح عین حلال اور سنت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے
    آج ان بیوہ مطلقہ عورتوں کے نکاح کو ہمارے معاشرے میں انتہائی معیوب سمجھتا جاتا ہے جو کہ سنت نبوی کے بلکل برعکس ہے جیسے بھوکے کو بھوک پیاس لگتی ہے ایسے ہر مرد و عورت چاہے وہ شادی شدہ ہے یاں غیر شادی شدہ ،رندوا،بیوہ ہے یا مطلقہ اسے بھی جنسی خواہش ہوتی ہے جو کہ فطرت انسانی ہے اس کا حل صرف نکاح ہے بغیر نکاح کے زنا ہے، اور زنا کرنے والا اللہ کا تقرب نہیں پا سکتا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جوان مرد،عورت بہت پسند ہے جو زنا سے بچنے کے لیے نکاح کرے
    مگر افسوس کے آج ہمارے رسم و رواج ،ذات برادری کی قید،حسب نسب نے ہمیں نکاح کی بجائے زنا پر لگا دیا ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور آئے روز جنسی زیادتی کے واقعات جنم لے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ صرف نکاح سے دوری اور مردوں میں دوسرے ،تیسرے اور چوتھے نکاح کو معیوب سمجھا جانا ہے اکثر مرد دوسری شادی کی خواہش رکھتے اور وہ کسی بیوہ،مطلقہ کا سہارا بننا چاہتے ہیں تو کہیں پہلی بیوی تو کہیں معاشرہ آڑے آ جاتا ہے اور بندہ زنا کی طرف مائل ہوتا ہے
    ہر انسان کی خواہشات ہوتی ہیں اور ان خواہشات کو اللہ تعالی خوب جانتا ہے مرد کی خواہشاتِ عورتوں سے جنسی لحاظ سے زیادہ ہیں اسی لئے ان کو چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے مگر شرط انصاف کی رکھی گئی ہے بصورت دیگر ٹھکانہ جہنم ہے اب یہ مرد پر ہے کہ وہ انصاف کر سکتا ہے تو نکاح کرے بصورت دیگر صبر اور صبر کرنے والوں کیلئے اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے مگر ایک نکاح ہر حال میں لازم ہے
    بی بی خدیجہ طاہرہ کا نبی کریم کو پیغام نکاح بیجھنا عورت کے حقوق کو بلند کرتا ہے کہ عورت اپنی پسند کے مرد سے نکاح کر سکتی ہے جائز شرائط اور حدود اللہ میں رہ کر مگر افسوس آج بیوہ ،مطلقہ عورتوں کو سب سے زیادہ پریشانی نکاح کرنے میں ہے اگر وہ حلال کام کر گزریں تو ہمارا معاشرہ ان کو طعنے دے دے کر زندہ درگور کر چھوڑتا ہے حالانکہ بیوہ سے نکاح کرکے میرے نبی نے سنت بنائی جس پر عمل کرنا ہم پر لازم ہے تاکہ ہم کنواری لڑکیوں سے نکاح کیساتھ بیوہ،مطلقہ کا بھی سہارہ بنیں کیونکہ مرد ہی عورت کا سہارا اور تحفظ ہوتا ہے بھائی تحفظ تو دے سکتے ہیں مگر عورت کی جنسی خواہشات منکوحہ مرد ہی پوری کر سکتا ہے اس لئے اسلام نے بیوہ و مطلقہ عورتوں کو کنواری عورتوں سے بڑھ کر حقوق دیئے ہیں تاکہ وہ بھی پوری شان و شوکت سے زندگی گزار سکیں
    مگر آج دیکھا جائے تو زنا انتہائی سستا اور آسان ہے ہر شہر میں آپ کو زنا کرنے کے لئے ہر رنگ،عمر کی عورت میسر ہو گی جن کی نا کوئی عمر پوچھتا ہے نا کوئی ذات پات اور نا ہی مرد کی سالانہ و ماہانہ انکم بس چند روپے دیئے اور زنا کر لیا
    اور ان سارے واقعات کے ذمہ دار ہم خود ہیں ہماری زندگی محتاج ہے سیرت نبوی کی اور ہمارا ہر عمل بتائے گئے طریقے پر ہو گا بصورت دیگر مصائب ہمارا مقدر ہونگے اور آج اسلام سے ہٹ کر اغیار کے طرز زندگی کو اپنا کر ہم پریشان ہیں اور ہمارے معاشرے کا امن و سکون تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے جس امن میں بدلنے کیلئے ہمیں اسوہ رسول پر عمل پیرا ہو کر رسم و رواج کو ختم کرکے آسان نکاح کا طریقہ اپنانا ہو گا مگر آج لڑکے لڑکیاں کہیں روزی روٹی کا بہانہ بناتے ہیں ت کہیں کم آمدن کا حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب کسی دوسری گھر میں کوئی فرد جاتا ہے تو اپنی قسمت کا رزق لے کر جاتا ہے مگر ہم نے دوسری شادی کیلئے مرد کی انکم کو بہانہ بنا لیا اور اسے زنا کی طرف مائل ہونے پر مجبور کر دیا
    جان لیجئے دوسری،تیسری یاں چوتھی بیوی کے ہوتے ہوئے کوئی بھی مرد کسی غیر عورت سے ہر گز تعلقات نہیں رکھ سکتا کیونکہ رب تعالی مرد کی فطرت جانتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وہ کتنی عورتوں کی طرف راغب رہ سکتا ہے
    اور آج اسی بد عمل زنا کی بدولت جسمانی و روحانی بیماریاں جنم لے رہی ہے جس سے چہروں کا نور ختم اور جوانیاں برباد ہو رہی ہیں
    اگر کوئی مرد دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے سو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی صورتحال بیوہ و مطلقہ عورتوں کیساتھ ہے
    اس کیساتھ آج جہیز کی لعنت نے نکاح کو مذید مشکل ترین کر کے رکھ دیا ہے جس کے باعث لاکھوں عورتیں اپنی جنسی خواہشات کو دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں جس کا کل روز قیامت ہمیں اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ میرے رب نے تو کوئی رسم و رواج کی قید نہیں رکھی یہ سب رسم و رواج ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں جس کے باعث نکاح جیسا عظیم فریضہ مشکل ہو گیا اور زنا جیسا قبیح فعل عام ہو گیا آخر اس جرم کے ذمہ دار ہم بھی تو ہیں کیونکہ ہم نے دین کی بجائے دنیاوی رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں کو ترجیح دی تو پھر جان لیجئے یہ رسم رواج تو میرے نبی و اصحاب کے دور میں بھی تھے مگر انہوں نے ان کا رد کیا اور سرخرو ہوئے تو آئیے ان رسم و رواج کا رد کرکے کرکے نکاح کریں تاکہ ہم معاشرے کو فسق و فجور اور بے راہ روی سے بچا سکیں
    اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں فرمائے

  • برانڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے، محرم الحرام کی مناسبت سے کولیکشنز متعارف کروانے پر صارفین برینڈز پر پھٹ پڑے

    برانڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے، محرم الحرام کی مناسبت سے کولیکشنز متعارف کروانے پر صارفین برینڈز پر پھٹ پڑے

    ‏محرم الحرام غم اور دکھ کی گھڑی میں برینڈز بلیک کلر کی کلیکشن نکال کر پیسے بنارہے ہیں جس پر سوشل میڈیا صارفین نے نہایت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے ان برانڈز کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : آج کل دنیاوی رسم و رواج معاشرے میں بہت ہی پھیل رہا ہے شادی میں مہندی میں پیلا ،رخصتی میں سُرخ ،اگر کوئی فوت ہو جائے تو تب سفید اور غم میں کالا اس چیز کو دیکھتے ہوئے مختلف برانڈ نے موسموں اور دیگر تہواروں کی مناسبت سے تو فیبرک اور کلر کولیکشنز متعارف کروانا شروع کر دی جو لوگوں میں بے حد مقبول ہوئی لیکن نام اور پیسہ کمانے کے چکر میں یہ برینڈز اور عوام اسلامی تہواروں کی حرمت اور مذہب کو بھی اس قدر نظر انداز کر رہے ہیں کہ غم اور دکھ کے مہینے محرم الحرام میں مختلف فیشن اور ڈیزائنوں میں بلیک کلر کی کلیکشن نکال کر ماڈلز کے ذریعے اشتہارات لگا رہے ہیں اور غم و سوگ کے دِنوں میں بھی فیشن کو پروموٹ کر رہے-

    معروف برینڈز کے اس عمل پر لوگ سوشل میڈیا پر مذمت کر رہے ہیں اور غم و غصے میں سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں یہاں تک کہ محرم 2020 ٹویٹر پر ٹرینڈ کررہا ہے اور #SayNotoBareeze ٹرینڈ کر رہا ہے-


    https://twitter.com/Meera_Ji/status/1298523537439850496?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ اللہ غارت کرے ایسے لوگوں کو جو محرم میں برپا ہونے والی قیامت پر بھی فیشن سے باز نہیں آ رہے


    ایک صارف نے لکھا کہ گائٹونڈی صحیح کہتا تھا کہ مذہب سے بڑا کوئی دھندا نہیں اور ان برینڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے اللہ معاف کرے-


    ایک صارف نے لکھا کہ محرم کے اس رجحانات پر شرم آنی چاہیئے ہائپربولک فیشن اقدام کی شدید مذمت کرتے ہے


    ایک صارف نے ان برینڈز کو پروموٹ کرنے والوں پر تنقید کی-


    دوسری جانب نمرہ شہزاد نامی ٹویٹر صارف نے بریزے برینڈ کو محرم میں کولیکشنز متعارف کروانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے #SayNotoBareeze کا ٹرینڈ چلایا جس میں صارفین مذکورہ برانڈ پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-


    نمرہ شہزاد نامی صارف نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بریزے نے محرم کے حوالے سے کولیکشنز متعارف کرائیں ہیں ۔ آگے کیا ہو رہا ہے؟ کہ یہ برانڈ ز بنیں گے "آپ کے والدین کا انتقال ہو گیا” ، "آپ کو ابھی سے وصولی کی جکولیکشنز ملیں” اور آپ نے اپنے بھائی بہن کا واحد مجموعہ کھو دیا "برسوں پہلے کوئی ہمارے اور ہمارے مذہب کے لئے شہید ہوا تھا۔ محرم کا احترام کرو!
    https://twitter.com/_clownnextdoor/status/1297587278567616518?s=20
    ایک صارف نے بریزے پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مارکیٹ میں آگے بڑھنے کے لیے کتنا گھٹیا طریقہ ہے اس سے آگے بڑھنے سے پہلے آپ نے اپنے ایمان کو کہاں فروخت کیا؟ شرم کرو یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے غم کا دور ہے-


    اریج فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ لباس برانڈبریزے نے اپنا ‘محرم کلیکشن’ لانچ کیا ہے۔ جیسے کیا ہو رہا ہے۔ اگلا مجموعہ کیا ہوگا؟ موت کا مجموعہ ، شہید مجموعہ؟ ایسا کام کرنا اہل بیت اور محرم کی قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے
    https://twitter.com/MushtaqErum/status/1297658567537958913?s=20
    ارم مشتاق نامی صارف نے لکھا کہ تو یہاں بریزے برانڈ کا ایک نیا مجموعہ آیا ہے۔ جسے بہت زیادہ پسند کیا جیا رہا ہے؟ کیا محرم منانے کے لئے کسی تہوار کی طرح ہے؟ شیعہ یا سنی کے بارے میں بھول جاؤ ، ایک مسلمان اس حماقت کو کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ برسوں پہلے کسی نے ہمارے اور ہمارے مذہب کے لئے اپنی جان دے دی۔ برائے مہربانی محرم کا احترام کرو-


    https://twitter.com/UsamaZMalik/status/1298356623858176000?s=20
    https://twitter.com/molana_sayru/status/1298152262506774529?s=20

  • مظلوموں کی پکار اور ہماری بے حسی از قلم ،، غنی محمود قصوری

    مظلوموں کی پکار اور ہماری بے حسی از قلم ،، غنی محمود قصوری

    گھڑی ہر وقت اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے اور ہمیں وقت بتلاتی رہتی ہے اور اس وقت کا پتہ تب ہی چلتا ہے جب ہم نظر گھڑی کی طرف دیکھیں آج ہم ہر کام گھڑی دیکھ کر کرتے ہیں دن ہو یا رات وقت دیکھنے کیلئے گھڑی کا سہارا لیا جاتا ہے آج دور حاضر میں روایتی گھڑیوں کے بجائے موبائل فون پر ہی وقت دیکھ لیا جاتا ہے کوئی جیئے یا مرے وقت نہیں رکتا اور نا ہی ہمیں وقت کا احساس ہوتا ہے زیادہ تر گھروں میں آج بھی وال کلاک کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ہلکا سا ٹک ٹک کا شور کرتا ہے مگر دن میں ہمیں اس شور کا احساس نہیں ہوتا مگر جو ہی رات ہوتی ہے اور خصوصا آدھی رات کو جب لوگ بستر پر لیٹ کر آرام کرتے ہیں تب گھڑی ہمیں ٹک ٹک کر کے اپنے وجود اور وقت گزرنے کا احساس دلاتی ہے حالانکہ وہی گھڑی سارا دن بھی ٹک ٹک کرتی ہے مگر ہم گھڑی کی ٹک ٹک سن نہیں سکتے ایسا اس لئے ہیں کہ ہم اس وقت اپنے کام کاج، دوستوں ,رشتہ داروں اور فیملی میں مگن ہوتے ہیں اور دن کو رات کی نسبت کافی شور ہوتا ہے اور یوں ہم گھڑی کی آواز نہیں سن پاتے رات کو
    ایسا ہی حال کچھ مظلومین کا ہے آج پوری دنیا میں عالم اسلام پر کشت و خون کا کھیل کھیلا جا رہا ہے مگر اس گھڑی کی آواز سننے سے قاصر ہم آج بھی اپنی ہستی اپنی مستی میں مگن ہیں ہمیں ان مظلوموں کی صدا کی پرواہ نہیں یہ صدائیں یہ دلدوز آئیں ہمارے پڑوس کشمیر سے بھی آ رہی ہیں اور یہ فلسطین سے بھی یہ شام سے بھی آ رہی ہیں اور افغانستان سے بھی مگر یہ ہمیں سنائی نہیں دے رہیں کیونکہ ہم خوشحال ہیں ہماری خوشحال اور امن و امانی ان صداؤں پر حاوی ہو چکی ہے مگر ہم بھول گئے وقت بدلتے دیر نہیں لگ وقت کبھی رکتا نہیں یہ تو چلتا ہی جاتا ہے آج ان پر برا وقت ہے تو خدانخواستہ کل کو ہم پر بھی یہ برا وقت آ سکتا ہے
    کیونکہ فرمان باری تعالی ہے
    "کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دینگے؟ ان سے پہلوں کو بھی ہم نے خوب آزمایا تھا یقینا اللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی جو معلوم کرلے گا جو کہ جھوٹے ہیں” العنکبوت1-2
    اس آیت مبارکہ سے اللہ تعالی نے واضع کر دیا کہ اللہ تعالی کسی کو بھی کسی بھی وقت کسی بھی ذرائع سے آزما سکتا ہے
    آج اللہ تعالی کشمیریوں،فلسطینوں،شامی اور افغانیوں پر کفار کو مسلط کر کے آزما رہا ہے جبکہ دوسری جانب اللہ تعالی ہمیں عیش و عشرت دیکھ کر آزما رہے تو ہمیں اللہ کے خوف سے ڈرنا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    پھر ہم نے بدحالی کی جگہ خوش حالی کو بدل دیاحتیٰ کہ وہ خوب بڑھ گئے اورانہوں نے کہا: بلاشبہ دُکھ سکھ توہمارے باپ دادا کوبھی پہنچے تھے۔تو ہم نے اُن کواچانک اس حال میں پکڑلیاکہ وہ سوچتے نہ تھے
    سورہ الااعراف آیت 95
    اس آیت میں اللہ نے وضع کر دیا ہم پر کہ وقت بدلتے دیر نہیں وہ وہ مالک و ملک ہر چیز پر قادر ہے
    اس تندرستی و آزادی میں ہمیں ان مظلومین کی مشکلات کا پتہ نہیں کہ کیسے وہ بیچارے کافروں، ظالموں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور زندگی کے دن کیسے کاٹ رہے ہیں ہمیں ان کشمیری ,فلسطینی مظلوم و بے کس مسلمانوں کی تکالیف کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کبھی ہم خود قید میں جیل کی کوٹھری کے اندر پھنس جائیں حالانکہ ہم تو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی قید میں اپنے ہی کئے ہوئے جرم کی پاداش میں پس زندان ڈال دئیے جاتے ہیں مگر سوچیں کہ وہ بیچارے کافر کی گرفت میں مقید ہیں حالانکہ ان کا جرم ایمان یعنی مسلمان ہونا ہے صحت و ایمان ہوتے ہوئے بھی وہ بیچارے کس قدر بے بس ہیں اللہ نا کرے کل کو ہمارے اوپر ایسا وقت آجائے اور پھر ہمیں اس آزادی جیسی نعمت، کہ جس کو گھر کی ٹک ٹک کی طرح دنیا کی رنگینی نے ہمیں سمجھنے نہیں دیا ہم سے چھن جائے اور پھر ہمیں پچھتانا پڑے لہذا مظلومین کی آہ و فریاد کی اہمیت اور اپنی آزادی کی قدر جان لیجئے اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کا ہاتھ تھام لیجئے اور جس پلیٹ فارم پر بھی آپ ان کی آواز دنیا تک پہنچا سکتے ہیں پہنچائیے اور اپنے رب کو راضی کیجئے
    اگر آپ کشمیریوں،فلسطینوں،شامیوں و افغانیوں کی مالی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کیجئے اس ملک میں کئی این جی اوز ہیں جو آپ کے عطیات و صدقات ان تک پہنچاتی ہیں اور اگر آپ مالی طور پر مستحکم نہیں تو پھر ان مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھئیے