زمانہ جہالت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیتے تھے کیونکہ عورتوں کے بھی حقوق ہیں سو ان کے حقوق کو کھانے کی خاطر ان کو قتل کرنا معمول تھا پھر میرے اور آپ کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اس فعل بد سے لوگوں کو روکا اور حقوق خواتین وضع کئے
اسلام میں جہاں مردوں کے حقوق ہیں وہیں عورتوں کے بھی حقوق ہیں اور قرآن و حدیث نے ان حقوق کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بہنوں ،بیٹیوں کا وراثتی شرعی حق کھانا ایک فیشن بن چکا ہے اور اس حق ماری کو بلکل بھی حرام نہیں سمجھا جاتا
اگر کوئی عورت اپنا حق مانگے تو اسے سو طرح کے بہانے سنا کر طعنہ زنی کی جاتی ہے کبھی اس کی پرورش کی تو کبھی اسے تعلیم دلوانے کی کبھی اس کو اچھا کھلانے کی تو کبھی اس کی شادی پر آنے والے اخراجات کی غرض زیادہ تر عورتوں کو انکے اس جائز شرعی وراثتی حق سے محروم ہی رکھا جاتا ہے اگر کوئی بیچاری اپنا حق بھائی،باپ سے مانگ بیٹھے تو بمشکل ہی ادا کیا جاتا ہے بعض تو ایسے واقعات بھی رونما ہو چکے کہ بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں ان کا حق نا دینے کی خاطر پوری جائیداد بیٹوں کے نام کر دی جاتی ہے اور یوں چاہتے ہوئے بھی وہ بیچاری اپنا حق نہیں لے سکتیں
واضع رہے جس طرح ایک لڑکے کی پرورش،تعلیم اور شادی والدین پر فرض ہے بلکل اسی طرح ایک لڑکی کی پرورش،تعلیم اور شادی بھی والدین پر بحیثیت واجب ہے اور یہ ان کا حق ہے
کسی کا حق مارنا چوروں ڈاکوؤں کا کام ہے اور اس حق مارنے کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں
اے ایمان والوں تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نا کھاؤ ،سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور تم اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو ،بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔۔ النساء 29
اس سورہ میں اللہ تعالی نے کسی کا بھی حق مارنے سے منع فرمایا اور کہا کہ ایسا کرنے والے اپنی جانوں پر ظلم کرینگے اور ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نا کرو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک گئے ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ آخرت کو بھول گئے ۔۔سورہ ص 26
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے نبی کو بڑے سخت الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ تم زمین میں خلیفہ مقرر کئے گئے ہو سو اللہ کی راہ سے بھٹک کر اپنے نفس کی پیروی کے پیچھے لگ کر حق کے خلاف فیصلے نا کر بیٹھنا ورنہ ٹھکانہ جہنم ہو گا حالانکہ نبی جنت کے وارث اور معصوم الخطاء ہوتے ہیں مگر اللہ کا مقصد نبی کی مثال دے کر ہمیں سمجھانا ہے
والدین اولاد کے خلیفہ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے مابین حق کیساتھ وراثت کی تقسیم کریں جو اسلام نے بتا دی بصورت دیگر وہ جہنم کے حقدار ہونگے لہذہ وراثت تقسیم کرتے وقت عورتوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ان کا اسلام کی رو سے مقرر کردہ حق لازمی دینا چاہیے ہاں اگر کوئی بہن بیٹی اپنا حق نہیں لیتی تو اس کی مرضی اور آج ہے بھی ایسا زیادہ تر عورتیں اپنے بھائیوں بھتیجوں کو اپنا حق فی سبیل اللہ دے دیتی ہیں جو کہ ان کی اعلی ظرفی کی بہت بڑی پہچان ہے
حقوق خواتین پر میرے شفیق نبی علیہ السلام نے بہت زور دیا
اس پر ایک صحابی رسول فرماتے ہیں
کہ میں نے پوچھا ،یارسول اللہ میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلح رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ،میں پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے پھر فرمایا اپنی ماں کیساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنے باپ کیساتھ میں پھر پوچھا کس کے ساتھ تو آپ نے فرمایا رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ۔۔۔ ترمذی 1645
اس حدیث میں صحابی رسول کے صلح رحمی کے متعلق پوچھنے پر تین بار ماں اور پھر اس کے بعد باپ اور پھر اس کے بعد قریبی رشتہ داروں اور پھر درجہ بدرجہ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا ہماری صلح رحمی، حق گوئی اور انصاف کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے ماں باپ اور رشتہ دار ہیں تو جب مسئلہ وراثت میں تقسیم کا ہوگا تو پھر سب سے پہلے صلح رحمی اور انصاف کے حقدار ماں باپ کے بعد بہنیں اور بیٹیاں کیوں نا ہونگیں؟
جہاں شرعیت نے بہنوں کا حق مارنا ممنوع قرار دیا ہے وہاں پاکستانی قانون نے بھی اس کی ممانعت کی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو سال قبل والدہ کی طرف سے صرف بیٹوں کو ہی وراثت دینے پر اسے کالعدم قرار دے کر بیٹیوں کو بھی اس وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا اور کہا کے بیٹیوں کو ان کے شرعی وراثتی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ، بحوالہ 2080 _ scmr 2018
بہنوں بیٹیوں کا حق مارنے والے اسلام کے بھی مجرم ہیں اور قانون پاکستان کے بھی ایسے بندے کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور وہ دنیا میں تو رسواء ہوتا ہی ہے روز قیامت بھی رسوا ہو گا کیونکہ اسلام میں کسی غیر کا حق مارنے کی اجازت نہیں تو پھر اپنی سگی بہنوں، بیٹیوں کا حق مارنے والوں کو کسطرح اجازت ہو گی؟
لہذہ ماں باپ تقسیم ترکے کے وقت بیٹیوں کا حق ادا کرنا ہرگز نا بولیں اور بیٹوں کیساتھ بیٹیوں کا جائز حق بھی انہیں ادا کریں تاکہ ان کے جگر کا ٹکڑا جو اب کسی اور کے گھر کی زینت ہے وہ بھی اپنے شرعی حق کو لے کر عزت و سکون سے گزر بسر کرسکے
یقین کریں آج جہیز جیسی لعنت کو ختم کرکے اس جائز شرعی حق کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے گا ورنہ بیٹیوں ،بہنوں کے حق مارنے سے ہم عذاب الٰہی کے حقدار تو ہیں اللہ کی رحمت کے ہرگز نہیں کیونکہ چور، ڈاکو حق مارنے والے اور غاصب کبھی فلاح نہیں پاتے
اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
Category: معاشرہ و ثقافت
-

بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری
-

نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ
ہر سال پاکستان میں ذی الحجہ کے آخری دن، محرم مکمل اور صفر کے کچھ دن کچھ لوگوں کو بالکل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں زبانیں دراز کریں اور وطن عزیز میں امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں. عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی بات پر مذہبی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران پر عرصہ حیات تنگ کرنے والا "نیشنل ایکشن پلان” ان دنوں میں بھنگ پی کر سو جاتا ہے. اہل تشیع علماء کے مطابق جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا کہ اہل تشیع جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں بکواس کرنے والے ذاکر "آصف” پابندی تھی تو اس کو کس نے آزادی دی بولنے کی، کس نے اس کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اس کو جرات دی کہ وہ انبیاء کرام کے بعد کائنات کی مقدس ترین ہستیوں پر زبان طعن دراز کرے. کیا نیشنل ایکشن پلان اس کے سہولت کاروں کا تعین کرکے ان کو ویسے ہی نشان عبرت بنائے گا ؟ جیسے مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کا نشان عبرت بنایا گیا.
اس کے بعد کراچی میں ایک جلوس کے دوران پھر سے یہی عمل دہرایا گیا جس کو ایک نجی ٹی وی چینل نے براہ راست دکھایا لیکن "نیشنل ایکشن پلان” اسلام آباد کے کسی کلب میں سویا رہا. ان واقعات پر اہل السنہ والجماعة کی جماعتیں سیخ پا ہوئیں اور ردعمل کے طور پر کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا دفاع کیا جائے اور ان پر تبراء پر قانونی پابندی ہونی چاہیے لیکن تاحال کوئی ایکشن یا قانون سازی کا دور دور تک امکان نہیں ہے. جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے سے واپس لوٹنے والوں پر مری کے مقام پر شرپسند عناصر جو مبینہ طور پر صحابہ کرام کی گستاخیوں پر آمادہ رہتے ہیں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس پر "نیشنل ایکشن پلان” تاحال گہری نیند میں ہے.
میں سمجھتا ہوں اس میں جہاں ملکی ادارے ذمہ دار ہیں وہیں پر اہل السنہ والجماعة کی تمام جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں جو سواد اعظم ہونے کے باجود ملکی کی اسمبلیوں سے صحابہ کرام کی ناموس کے تحفظ کے بل پاس کروا سکیں.
ملکی اداروں اور ذمہ داران کو بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کی ناموس پر حملے یہ وہ دروازہ ہے جو اگر بند نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان اک خواب بن جائے گا جس کا متحمل ہمارا ملک نہیں ہوسکتا کہ بڑے قربانیوں کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ہمارے شہروں میں سکون ہے معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں ایسے میں اسلام ہم تک پہنچانے والوں صحابہ کرام پر ہی سوالات اٹھا دینا ملک کو فرقہ واریت کی شدید آگ میں دھکیلے گا.
محمد عبداللہ -

خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ
جانتے ہیں یہ مرد ریپسٹ کیسے بنتے ہیں ، خواتین اور بچے ان کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟؟
تحریر: محمد عبداللہجنسی ہراسگی، ریپ، زیادتی، تیزاب گردی، چھیڑچھاڑ یہ بڑے ایشوز ہیں جو خواتین کو پیش آتے ہیں. ہم دیکھتے ہیں کہ آئے دن خواتین سوشل میڈیا پر شور کر رہی ہوتی ہیں کہ ان کو انباکس میں ہراساں کیا جا رہا. نہ صرف خواتین بلکہ چھوٹے بچے بھی ان شیاطین سے محفوظ نہیں ہیں. ہمارے ناران ٹور میں بڑی لمبی چوڑی بحث اس بات پر ہوئی کہ یہ حادثات پیش کیوں آتے ہیں. مختلف وجوہات پر بڑی مدلل بات ہوتی رہی. وہ وجوہات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ ہم ان کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے میں سے یہ جرائم بلکہ قبیح ترین حرکتیں ختم کرنے کی کوشش کرسکیں.
سب سے بنیادی بات والدین کی تربیت کی ہے جب والدین سے تربیت انسان کو بہترین ملے تو اس کے اندر شیطانیت پنپنے کے چانسز کم ہوتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں سب سے بڑا ایشو یہی ہوتا ہے کہ والدین کی ساری زندگی بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزر جاتی ہے جبکہ بچوں کی تربیت کے لیے ان کے پاس ذرہ برابر ٹائم نہیں ہوتا.جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بچہ اپنی ذات میں اکیلا ہوتا جاتا اور اگر اس کو دوستوں کی اچھی صحبت میسر نہ آئے تو اس بچے کا بگڑنا سو میں سے نوے فیصد طے ہوتا.
خواتین اور بالخصوص چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ ان ایشوز کے پیش آنے کی دوسری بڑی وجہ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ماحول جو بظاہر ہمارے معاشرے کا حسن ہے لیکن بعض جگہوں پر جوائنٹ فیملی سسٹم سے مراد یہی ہوتا ہے کہ ہر انکل آنٹی اور ہر کزن کو کھلم کھلا چھوٹ ہوتی ہے ہر جگہ آنے جانے کی اور بچوں کو دکان، سکول، ٹیویشن وغیرہ پر لانے اور لے جانے کی. اسلام نے جو بنیادی محرم و غیرمحرم اور ان کی حدود مقرر کی ہیں لیکن جب ان حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا تو نتائج سنگین نکلتے ہیں. کتنی ہی چھوٹی عمر کی لڑکیاں اور لڑکے ایسے ہوتے جو رشتے میں لگنے والے چاچو، ماموں اور کزنز کی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں.تیسری بڑی وجہ بچوں کو سیکس ایجوکیشن نہ دینا مسئلہ ہے جو تلخ واقعات کی وجہ بنتا ہے. اسی سیکس ایجوکیشن کی بنیاد پر ہمارا لبرل طبقہ بڑا سیخ پا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن دی جانی چاہیے لیکن درحقیقت یہ سیکس ایجوکیشن والدین دے سکتے یا سگے بہن بھائی دے سکتے وہ بہتر بتا سکتے کہ گڈ ٹچ کیا ہے اور بیڈ ٹچ کیا ہے. جب ماں بیٹی کو بتائے گی کہ یر وہ ٹچ جو غیر محرم کہیں بھی کرے گا وہ حرام ہے اور غلط ہے تو اس کا فائدہ ہے لیکن جب سیکس ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں دی جاتی یے تو اس کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلتے بلکہ وہاں پھر لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی سے بننے والے حرام تعلق کو بھی گڈ ٹچ میں لیا جاتا ہے.
چوتھی بڑی وجہ اسلام کے پردے کے سسٹم کو نہ اپنانا ہے. آپ تعلیمی اداروں اور بالخصوص یونیورسٹیز میں جا کر دیکھ لیں لڑکیاں حدیث کے مصداق لباس پہننے کے باوجود بےلباس ہوتی ہیں اور اپنے اس عمل کے ساتھ نادانستگی میں درندہ صفت لوگوں کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں کہ وہ موقع ملنے پر ان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکیں جبکہ ان کی نسبت پردہ کرنے والی خواتین اکثر ان چیزوں سے محفوظ رہتی ہے.
ان کیسز کے پیش آنے کی پانچویں بڑی وجہ شادیوں کا لیٹ ہونا، نکاح کے لیے مسائل جب کہ بدکاری کے لیے سہولیات کا وافر ہونا بھی ہیں. لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کی لمبی لسٹ اور لڑکی والوں کی طرف سے اپنی بیٹی کے مستقبل محفوظ کرنے کے نام پر جو فہرستیں بنائی ہوئی ہیں ہمارے معاشرے نے انہوں حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا ہے جو نوجوانوں کو بغاوت کی طرف لے جاتا یے اور جس کا نتیجہ ہم ایسے کیسز کی صورت بھگتتے ہیں.
تعلیمی اداروں میں مخلوط ماحول جہاں بعض مثبت چیزوں کو جنم دیتا ہے وہیں پر حرام کے رشتوں کو بنانے کا موجب بھی بنتا ہے اور چھٹی بڑی وجہ یہی ہے. ہمارے تعلیمی اداروں میں کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جو بےچاری چند نمبرز کے لیے پروفیسرز اور کلاس فیلوز کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہتی ہیں. تعلیمی اداروں میں یہ واقعات عام ہیں یہ اور بات ہے کہ رپورٹ نہیں ہوتے.
ساتویں نمبر پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہمارے مدارس اور مساجد تک میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات ہیں جو ان کے مربی اور قران پڑھانے والوں کے ہاتھوں ہوتا ہے. یہاں پر بدقسمتی سے بڑا اعتراض آتا ہے کہ بچہ ہو یا بچی جب قران یا دین پڑھنے آتا ہے تو اس کا لباس بھی ٹھیک ہوتا اور آتا بھی مسجد یا مدرسے میں ہے جبکہ ریپ کرنے والا بھی قران کا قاری اور دین کا عالم ہے تو کیسے یہ واقعات پیش آتے ہیں. ہمارے مدارس، اسکولز اور مساجد میں ہمہ وقت سیکیورٹی کیمرے لگے ہونے چاہیں جن پر ذمہ دار بندوں کی نگرانی ہو. بچوں کو قراء حضرات کے پاس اکیلا ہرگز نہ چھوڑا جائے وہ چاہے مسجد میں ہوں یا گھر میں.
آٹھویں نمبر پر جو وجہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے بڑی وجہ ہے اور وہ ہے ان شدید ترین کیسز پر موثر سزاؤں کا نہ ہونا، کمزور عدالتی سسٹم کے باعث شکوک و شبہات کا فائدہ اٹھا کر مجرم کر بچ جانا یہ سب سے بڑی وجہ ہے جو ان درندوں کو ان برے افعال پر ابھارتی ہے. اگر موثر اور عوامی سزاؤں کا اطلاق ہو یہ درندے بھی قابو میں رہیں گے اور ہاارے بچے بھی محفوظ رہیں گے.نویں بڑی وجہ ہمارے میڈیا پر چلنے والے ڈرامے، موویز اور اشتہارات ہیں جن میں سسر بہو کے پیچھے پڑا ہے تو بہنوئی سالی کے پیچھے، بھاوج دیور پر ڈورے ڈال رہی تو بھائی نما دوست اپنے ہی بھائی کی بیوی کے پیچھے پڑا ہے. اگر اشتہارات کی بات کریں تو ان کا واحد سبجیکٹ ہی عورت ہے. عورت کے جسم کے مختلف اعضاء دکھائے بغیر جب کوئی چیز نہیں بکے گی تو ان کمرشلز کو دیکھنے والے بھی پھر عورت کے پیچھے ہی رہیں گے اور ان کو عورت بیٹی، بیوی، ماں، بہن کے روپ میں نہیں بس ایک سبجیکٹ عورت کے طور پر دکھے گی. جب مکمل ذرائع ابلاغ اور تفریح کے سارے ادارے عورت کو ایک شوپیس، پراڈکٹ اور ماڈل کے طور پر دیکھیں اور استعمال کریں گے تو اس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ریپ ہی ہوتا جو ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں
محمد عبداللہ -

زنا کے بڑھتے واقعات کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!! از قلم: غنی محمود قصوری
پچھلے چند سالوں سے ارض پاک میں زنا کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں ہر روز نئے سے نیا واقعہ سامنے آتا ہے دل اکتا گیا ہے ان واقعات کو سن سن کر اور اپنے مسلمان ہونے پر افسوس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر گر گئے کہ اپنی عزت پر آنچ آنے پر قتل تک کرنے سے گریز نہیں کرتے جبکہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالتے وقت ہمارا ضمیر مر جاتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید اس کا حساب نہیں ہو گا حالانکہ اللہ تعالی نے ہمارے مسلمان بھائیوں کی جان و مال ،عزت و آبرو ناجائز طریقے سے ہم پر حرام کر دی ہے آخر زنا کے واقعات کیوں بڑھ گئے ہیں اس کیلئے جائزہ لیتے ہیں
اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے تعداد کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں کے تناسب میں تھوڑا ہی فرق ہے مردوں کی تعداد عورتوں سے 51 لاکھ زیادہ ہے اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کی کل تعداد 10420 ہے
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت مطلقہ و بیوہ عورتوں کی تعداد 60 لاکھ ہے جن کی عمریں 30 سے 45 سال تک ہیں یعنی وہ عین شادی کے قابل ہیں مذید 10 لاکھ عورتیں شادی کے انتظار میں بالوں میں چاندی لئے بیٹھی ہیں جن کی عمریں 35 سال تک ہیں یوں وہ کنواری ہو کر رسم و رواج ،ذات پات اور دیگر رسم و رواج کی بھینٹ چڑھی بیٹھی ہیں
1 کروڑ لڑکیاں ایسی ہیں جن کی عمر 20 سال سے اوپر اور 35 سال سے کم ہیں اور ان کی ابھی شادی ہونی ہے اور ان کی شادیوں میں بڑی رکاوٹ رسم و رواج ہیں جن کے لئے پیسے ہونا لازم ہے
یوں کل ملا کے 1 کروڑ 70 لاکھ عورتیں اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی کی عمر ہے مگر رسم و رواج ،ذات برادری اور سٹیٹس ان کی شادی کی راہ میں رکاوٹ ہیں
نکاح ایک ایسا فریضہ ہے جو کہ ہر مرد وعورت ،کنوارے،بیوہ،رندوے اور مطلقہ پر فرض ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے
النکاح من سنتی
نکاح میری سنت ہے
ایک اور جگہ فرمایا
من رغب سنتی فلیس منا
جس نے میری سنت (نکاح) سے منہ موڑا وہ ہم میں سے نہیں
ایک اور جگہ فرمایا
یا معشر الشباب تزواجوا
اے نوجوانوں کی جماعت شادی کر لو
مذید فرمایا کہ نکاح نصف ایمان ہے
اور مردوں کیلئے کہا کہ نکاح کرو ایک ایک سے ،دو دو سے ،تین تین سے اور چار چار سے مگر انصاف کیساتھ
اللہ رب العزت نے انسان کو بنایا اور اس کی خواہشات کے مطابق اسے رعایت بھی دی اسی لئے عورت کو ایک وقت میں ایک مرد سے جبکہ ایک مرد کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی مذید عورت کو راضی نا ہونے کی صورت میں خلع کا بھی اختیار دیا گیا ہے
بچے بچیوں کے نکاح میں انتہائی جلدی کرنی چائیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کو پہلا حیض ماں باپ کے گھر آئے تو دوسرا سسرال میں آئے یعنی بلوغت آتے ہی نکاح کر دیا جائے اور یہی شرط لڑکے کیلئے ہے جس کا خالصتاً مقصد زنا جیسی لعنت سے بچنا ہے
یعنی نکاح کی اتنی اہمیت ہے کہ قرآن نے جتنا کھل کر میاں بیوی کے مسائل کو بیان کیا اتنا اور کسی مسئلے کو بیان نہیں فرمایا گیا
کیونکہ نکاح نا ہونے سے معاشرے میں فسق و فجور بڑھتا ہے اور بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اسی لئے اللہ تعالی نے سوری بنی اسرائیل میں فرمایا
لا تقربوا الزنی
خبردار زنا کے قریب بھی مت جانا
یہ واحد عمل ہے جس کے متعلق اللہ نے بڑی سختی سے کہا کہ اس کے قریب بھی نا جانا یعنی کوئی بھی ایسا عمل نا کرنا کہ تجھ سے زنا سر زد ہو جائے کیونکہ زنا سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے امن و امان ختم ہو جاتا ہے اور روئے زمین پر فساد برپاء ہونے کیساتھ بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اس کے برعکس ہر کام کے متلعق اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسے کر نا بیٹھنا یا اس بچ جانا وغیرہ مگر زنا کے متعلق اتنی سخت بات کہی کے کوئی بھی عمل ایسا نا کرنا کے تم زنا کے قریب بھی جاؤ
زنا سے بچنے کا واحد ذریعہ نکاح ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ ہے ہی نہیں
ہماری زندگی اسوہ محمد کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محتاج ہے نبی کریم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ طاہرہ سے 40 اور بعض روایات کے مطابق 45 سال کی عمر میں ہوا جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال تھی حضرت خدیجہ ایک بیوہ عورت تھیں جنہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام نکاح بھیجا جسے نبی کریم نے اپنے چچا کیساتھ مشورے کے بعد قبول کر لیا
جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ کا نکاح آپ سے 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 10 سال کی عمر میں ہوئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اس وقت تقریبا 49 سال 7 ماہ تھی
اگر ہم مطالعہ سیرت نبوی کریں تو ماسوائے حضرت عائشہ صدیقہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات اور ہماری امہات المؤمنین مطلقہ یا بیوہ تھیں اس لحاظ سے سنت پر عمل کرتے ہوئے بیوہ و مطلقہ سے نکاح عین حلال اور سنت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے
آج ان بیوہ مطلقہ عورتوں کے نکاح کو ہمارے معاشرے میں انتہائی معیوب سمجھتا جاتا ہے جو کہ سنت نبوی کے بلکل برعکس ہے جیسے بھوکے کو بھوک پیاس لگتی ہے ایسے ہر مرد و عورت چاہے وہ شادی شدہ ہے یاں غیر شادی شدہ ،رندوا،بیوہ ہے یا مطلقہ اسے بھی جنسی خواہش ہوتی ہے جو کہ فطرت انسانی ہے اس کا حل صرف نکاح ہے بغیر نکاح کے زنا ہے، اور زنا کرنے والا اللہ کا تقرب نہیں پا سکتا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جوان مرد،عورت بہت پسند ہے جو زنا سے بچنے کے لیے نکاح کرے
مگر افسوس کے آج ہمارے رسم و رواج ،ذات برادری کی قید،حسب نسب نے ہمیں نکاح کی بجائے زنا پر لگا دیا ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور آئے روز جنسی زیادتی کے واقعات جنم لے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ صرف نکاح سے دوری اور مردوں میں دوسرے ،تیسرے اور چوتھے نکاح کو معیوب سمجھا جانا ہے اکثر مرد دوسری شادی کی خواہش رکھتے اور وہ کسی بیوہ،مطلقہ کا سہارا بننا چاہتے ہیں تو کہیں پہلی بیوی تو کہیں معاشرہ آڑے آ جاتا ہے اور بندہ زنا کی طرف مائل ہوتا ہے
ہر انسان کی خواہشات ہوتی ہیں اور ان خواہشات کو اللہ تعالی خوب جانتا ہے مرد کی خواہشاتِ عورتوں سے جنسی لحاظ سے زیادہ ہیں اسی لئے ان کو چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے مگر شرط انصاف کی رکھی گئی ہے بصورت دیگر ٹھکانہ جہنم ہے اب یہ مرد پر ہے کہ وہ انصاف کر سکتا ہے تو نکاح کرے بصورت دیگر صبر اور صبر کرنے والوں کیلئے اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے مگر ایک نکاح ہر حال میں لازم ہے
بی بی خدیجہ طاہرہ کا نبی کریم کو پیغام نکاح بیجھنا عورت کے حقوق کو بلند کرتا ہے کہ عورت اپنی پسند کے مرد سے نکاح کر سکتی ہے جائز شرائط اور حدود اللہ میں رہ کر مگر افسوس آج بیوہ ،مطلقہ عورتوں کو سب سے زیادہ پریشانی نکاح کرنے میں ہے اگر وہ حلال کام کر گزریں تو ہمارا معاشرہ ان کو طعنے دے دے کر زندہ درگور کر چھوڑتا ہے حالانکہ بیوہ سے نکاح کرکے میرے نبی نے سنت بنائی جس پر عمل کرنا ہم پر لازم ہے تاکہ ہم کنواری لڑکیوں سے نکاح کیساتھ بیوہ،مطلقہ کا بھی سہارہ بنیں کیونکہ مرد ہی عورت کا سہارا اور تحفظ ہوتا ہے بھائی تحفظ تو دے سکتے ہیں مگر عورت کی جنسی خواہشات منکوحہ مرد ہی پوری کر سکتا ہے اس لئے اسلام نے بیوہ و مطلقہ عورتوں کو کنواری عورتوں سے بڑھ کر حقوق دیئے ہیں تاکہ وہ بھی پوری شان و شوکت سے زندگی گزار سکیں
مگر آج دیکھا جائے تو زنا انتہائی سستا اور آسان ہے ہر شہر میں آپ کو زنا کرنے کے لئے ہر رنگ،عمر کی عورت میسر ہو گی جن کی نا کوئی عمر پوچھتا ہے نا کوئی ذات پات اور نا ہی مرد کی سالانہ و ماہانہ انکم بس چند روپے دیئے اور زنا کر لیا
اور ان سارے واقعات کے ذمہ دار ہم خود ہیں ہماری زندگی محتاج ہے سیرت نبوی کی اور ہمارا ہر عمل بتائے گئے طریقے پر ہو گا بصورت دیگر مصائب ہمارا مقدر ہونگے اور آج اسلام سے ہٹ کر اغیار کے طرز زندگی کو اپنا کر ہم پریشان ہیں اور ہمارے معاشرے کا امن و سکون تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے جس امن میں بدلنے کیلئے ہمیں اسوہ رسول پر عمل پیرا ہو کر رسم و رواج کو ختم کرکے آسان نکاح کا طریقہ اپنانا ہو گا مگر آج لڑکے لڑکیاں کہیں روزی روٹی کا بہانہ بناتے ہیں ت کہیں کم آمدن کا حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب کسی دوسری گھر میں کوئی فرد جاتا ہے تو اپنی قسمت کا رزق لے کر جاتا ہے مگر ہم نے دوسری شادی کیلئے مرد کی انکم کو بہانہ بنا لیا اور اسے زنا کی طرف مائل ہونے پر مجبور کر دیا
جان لیجئے دوسری،تیسری یاں چوتھی بیوی کے ہوتے ہوئے کوئی بھی مرد کسی غیر عورت سے ہر گز تعلقات نہیں رکھ سکتا کیونکہ رب تعالی مرد کی فطرت جانتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وہ کتنی عورتوں کی طرف راغب رہ سکتا ہے
اور آج اسی بد عمل زنا کی بدولت جسمانی و روحانی بیماریاں جنم لے رہی ہے جس سے چہروں کا نور ختم اور جوانیاں برباد ہو رہی ہیں
اگر کوئی مرد دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے سو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی صورتحال بیوہ و مطلقہ عورتوں کیساتھ ہے
اس کیساتھ آج جہیز کی لعنت نے نکاح کو مذید مشکل ترین کر کے رکھ دیا ہے جس کے باعث لاکھوں عورتیں اپنی جنسی خواہشات کو دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں جس کا کل روز قیامت ہمیں اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ میرے رب نے تو کوئی رسم و رواج کی قید نہیں رکھی یہ سب رسم و رواج ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں جس کے باعث نکاح جیسا عظیم فریضہ مشکل ہو گیا اور زنا جیسا قبیح فعل عام ہو گیا آخر اس جرم کے ذمہ دار ہم بھی تو ہیں کیونکہ ہم نے دین کی بجائے دنیاوی رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں کو ترجیح دی تو پھر جان لیجئے یہ رسم رواج تو میرے نبی و اصحاب کے دور میں بھی تھے مگر انہوں نے ان کا رد کیا اور سرخرو ہوئے تو آئیے ان رسم و رواج کا رد کرکے کرکے نکاح کریں تاکہ ہم معاشرے کو فسق و فجور اور بے راہ روی سے بچا سکیں
اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں فرمائے -

برانڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے، محرم الحرام کی مناسبت سے کولیکشنز متعارف کروانے پر صارفین برینڈز پر پھٹ پڑے
محرم الحرام غم اور دکھ کی گھڑی میں برینڈز بلیک کلر کی کلیکشن نکال کر پیسے بنارہے ہیں جس پر سوشل میڈیا صارفین نے نہایت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے ان برانڈز کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے-
باغی ٹی وی : آج کل دنیاوی رسم و رواج معاشرے میں بہت ہی پھیل رہا ہے شادی میں مہندی میں پیلا ،رخصتی میں سُرخ ،اگر کوئی فوت ہو جائے تو تب سفید اور غم میں کالا اس چیز کو دیکھتے ہوئے مختلف برانڈ نے موسموں اور دیگر تہواروں کی مناسبت سے تو فیبرک اور کلر کولیکشنز متعارف کروانا شروع کر دی جو لوگوں میں بے حد مقبول ہوئی لیکن نام اور پیسہ کمانے کے چکر میں یہ برینڈز اور عوام اسلامی تہواروں کی حرمت اور مذہب کو بھی اس قدر نظر انداز کر رہے ہیں کہ غم اور دکھ کے مہینے محرم الحرام میں مختلف فیشن اور ڈیزائنوں میں بلیک کلر کی کلیکشن نکال کر ماڈلز کے ذریعے اشتہارات لگا رہے ہیں اور غم و سوگ کے دِنوں میں بھی فیشن کو پروموٹ کر رہے-
معروف برینڈز کے اس عمل پر لوگ سوشل میڈیا پر مذمت کر رہے ہیں اور غم و غصے میں سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں یہاں تک کہ محرم 2020 ٹویٹر پر ٹرینڈ کررہا ہے اور #SayNotoBareeze ٹرینڈ کر رہا ہے-
New #Muharram2020 trends 🖤 pic.twitter.com/GHAdNZMxir
— Showbiz & News (@ShowbizAndNewz) August 26, 2020
https://twitter.com/Meera_Ji/status/1298523537439850496?s=20
ایک صارف نے لکھا کہ اللہ غارت کرے ایسے لوگوں کو جو محرم میں برپا ہونے والی قیامت پر بھی فیشن سے باز نہیں آ رہےGaitonde sahi bolta tha, ‘Mazhab sa bara koi dhanda nh’ in brands models ne Mazhab ko bhi business bana diya! Allah maaf kry, shame on such ppl.
— NomiSays (@says_nomi) August 26, 2020
ایک صارف نے لکھا کہ گائٹونڈی صحیح کہتا تھا کہ مذہب سے بڑا کوئی دھندا نہیں اور ان برینڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے اللہ معاف کرے-Shame on trending on muharram strongly condemned this hyperbolic fashion move
— AliMuhammadVirk (@AliMuhammadVir2) August 26, 2020
ایک صارف نے لکھا کہ محرم کے اس رجحانات پر شرم آنی چاہیئے ہائپربولک فیشن اقدام کی شدید مذمت کرتے ہےShame on you who is promoting this
— Ayesha Ash #ReleaseImranKhan (@AyeshaArooj172) August 26, 2020
ایک صارف نے ان برینڈز کو پروموٹ کرنے والوں پر تنقید کی-Lanat hai aisy logo par Muharram ko dhanda bna dia hai
— سید محمد وصی ارتضی زیدی (@wasijanzaidi) August 26, 2020
کچھ تو شرم کر لو
— Dr Ashar (@DrAsharBhatti2) August 26, 2020
دوسری جانب نمرہ شہزاد نامی ٹویٹر صارف نے بریزے برینڈ کو محرم میں کولیکشنز متعارف کروانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے #SayNotoBareeze کا ٹرینڈ چلایا جس میں صارفین مذکورہ برانڈ پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-The clothing brand #Bareeze introduces its Muharram Collection. What's coming next? "your parents died collection", "You just got willowed collection" & you lost your Only sibling collection"
The years ago someone died for us and our religion. Respect Muharram! #SayNotoBareeze— Nimra Shehzadi (@NimraShehzadi19) August 23, 2020
نمرہ شہزاد نامی صارف نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بریزے نے محرم کے حوالے سے کولیکشنز متعارف کرائیں ہیں ۔ آگے کیا ہو رہا ہے؟ کہ یہ برانڈ ز بنیں گے "آپ کے والدین کا انتقال ہو گیا” ، "آپ کو ابھی سے وصولی کی جکولیکشنز ملیں” اور آپ نے اپنے بھائی بہن کا واحد مجموعہ کھو دیا "برسوں پہلے کوئی ہمارے اور ہمارے مذہب کے لئے شہید ہوا تھا۔ محرم کا احترام کرو!
https://twitter.com/_clownnextdoor/status/1297587278567616518?s=20
ایک صارف نے بریزے پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مارکیٹ میں آگے بڑھنے کے لیے کتنا گھٹیا طریقہ ہے اس سے آگے بڑھنے سے پہلے آپ نے اپنے ایمان کو کہاں فروخت کیا؟ شرم کرو یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے غم کا دور ہے-The clothing brand #Bareeze has launched its 'Muharram Collection'. Like what the hell is going on. What will be the next collection?Death collection,Martayed Collection? Doing such a thing is equal to making fun of sacrifices made by AHL E BAIT and MUHARRAM#SaynotoBareeze pic.twitter.com/s0fmDY0NLO
— Areej Fatima (@areej_fatima_01) August 23, 2020
اریج فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ لباس برانڈبریزے نے اپنا ‘محرم کلیکشن’ لانچ کیا ہے۔ جیسے کیا ہو رہا ہے۔ اگلا مجموعہ کیا ہوگا؟ موت کا مجموعہ ، شہید مجموعہ؟ ایسا کام کرنا اہل بیت اور محرم کی قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے
https://twitter.com/MushtaqErum/status/1297658567537958913?s=20
ارم مشتاق نامی صارف نے لکھا کہ تو یہاں بریزے برانڈ کا ایک نیا مجموعہ آیا ہے۔ جسے بہت زیادہ پسند کیا جیا رہا ہے؟ کیا محرم منانے کے لئے کسی تہوار کی طرح ہے؟ شیعہ یا سنی کے بارے میں بھول جاؤ ، ایک مسلمان اس حماقت کو کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ برسوں پہلے کسی نے ہمارے اور ہمارے مذہب کے لئے اپنی جان دے دی۔ برائے مہربانی محرم کا احترام کرو-#Bareeza what is next? Death…Martyr.#SayNotoBareeze #RespectMuharram
— 𝕂𝕒𝕤𝕙𝕒𝕗 𝔾𝕀𝕃𝕃𝔸ℕ𝕀🥀 (@SyedaKashaf1472) August 24, 2020
https://twitter.com/UsamaZMalik/status/1298356623858176000?s=20
https://twitter.com/molana_sayru/status/1298152262506774529?s=20Such a shame for @BareezeStore . No words for this act. How disrespectful . Respect Muharram!! #saynotobareeze pic.twitter.com/lIlZYSbNbv
— Amina Ali (@AminaAl13806122) August 26, 2020
-

مظلوموں کی پکار اور ہماری بے حسی از قلم ،، غنی محمود قصوری
گھڑی ہر وقت اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے اور ہمیں وقت بتلاتی رہتی ہے اور اس وقت کا پتہ تب ہی چلتا ہے جب ہم نظر گھڑی کی طرف دیکھیں آج ہم ہر کام گھڑی دیکھ کر کرتے ہیں دن ہو یا رات وقت دیکھنے کیلئے گھڑی کا سہارا لیا جاتا ہے آج دور حاضر میں روایتی گھڑیوں کے بجائے موبائل فون پر ہی وقت دیکھ لیا جاتا ہے کوئی جیئے یا مرے وقت نہیں رکتا اور نا ہی ہمیں وقت کا احساس ہوتا ہے زیادہ تر گھروں میں آج بھی وال کلاک کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ہلکا سا ٹک ٹک کا شور کرتا ہے مگر دن میں ہمیں اس شور کا احساس نہیں ہوتا مگر جو ہی رات ہوتی ہے اور خصوصا آدھی رات کو جب لوگ بستر پر لیٹ کر آرام کرتے ہیں تب گھڑی ہمیں ٹک ٹک کر کے اپنے وجود اور وقت گزرنے کا احساس دلاتی ہے حالانکہ وہی گھڑی سارا دن بھی ٹک ٹک کرتی ہے مگر ہم گھڑی کی ٹک ٹک سن نہیں سکتے ایسا اس لئے ہیں کہ ہم اس وقت اپنے کام کاج، دوستوں ,رشتہ داروں اور فیملی میں مگن ہوتے ہیں اور دن کو رات کی نسبت کافی شور ہوتا ہے اور یوں ہم گھڑی کی آواز نہیں سن پاتے رات کو
ایسا ہی حال کچھ مظلومین کا ہے آج پوری دنیا میں عالم اسلام پر کشت و خون کا کھیل کھیلا جا رہا ہے مگر اس گھڑی کی آواز سننے سے قاصر ہم آج بھی اپنی ہستی اپنی مستی میں مگن ہیں ہمیں ان مظلوموں کی صدا کی پرواہ نہیں یہ صدائیں یہ دلدوز آئیں ہمارے پڑوس کشمیر سے بھی آ رہی ہیں اور یہ فلسطین سے بھی یہ شام سے بھی آ رہی ہیں اور افغانستان سے بھی مگر یہ ہمیں سنائی نہیں دے رہیں کیونکہ ہم خوشحال ہیں ہماری خوشحال اور امن و امانی ان صداؤں پر حاوی ہو چکی ہے مگر ہم بھول گئے وقت بدلتے دیر نہیں لگ وقت کبھی رکتا نہیں یہ تو چلتا ہی جاتا ہے آج ان پر برا وقت ہے تو خدانخواستہ کل کو ہم پر بھی یہ برا وقت آ سکتا ہے
کیونکہ فرمان باری تعالی ہے
"کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دینگے؟ ان سے پہلوں کو بھی ہم نے خوب آزمایا تھا یقینا اللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی جو معلوم کرلے گا جو کہ جھوٹے ہیں” العنکبوت1-2
اس آیت مبارکہ سے اللہ تعالی نے واضع کر دیا کہ اللہ تعالی کسی کو بھی کسی بھی وقت کسی بھی ذرائع سے آزما سکتا ہے
آج اللہ تعالی کشمیریوں،فلسطینوں،شامی اور افغانیوں پر کفار کو مسلط کر کے آزما رہا ہے جبکہ دوسری جانب اللہ تعالی ہمیں عیش و عشرت دیکھ کر آزما رہے تو ہمیں اللہ کے خوف سے ڈرنا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
پھر ہم نے بدحالی کی جگہ خوش حالی کو بدل دیاحتیٰ کہ وہ خوب بڑھ گئے اورانہوں نے کہا: بلاشبہ دُکھ سکھ توہمارے باپ دادا کوبھی پہنچے تھے۔تو ہم نے اُن کواچانک اس حال میں پکڑلیاکہ وہ سوچتے نہ تھے
سورہ الااعراف آیت 95
اس آیت میں اللہ نے وضع کر دیا ہم پر کہ وقت بدلتے دیر نہیں وہ وہ مالک و ملک ہر چیز پر قادر ہے
اس تندرستی و آزادی میں ہمیں ان مظلومین کی مشکلات کا پتہ نہیں کہ کیسے وہ بیچارے کافروں، ظالموں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور زندگی کے دن کیسے کاٹ رہے ہیں ہمیں ان کشمیری ,فلسطینی مظلوم و بے کس مسلمانوں کی تکالیف کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کبھی ہم خود قید میں جیل کی کوٹھری کے اندر پھنس جائیں حالانکہ ہم تو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی قید میں اپنے ہی کئے ہوئے جرم کی پاداش میں پس زندان ڈال دئیے جاتے ہیں مگر سوچیں کہ وہ بیچارے کافر کی گرفت میں مقید ہیں حالانکہ ان کا جرم ایمان یعنی مسلمان ہونا ہے صحت و ایمان ہوتے ہوئے بھی وہ بیچارے کس قدر بے بس ہیں اللہ نا کرے کل کو ہمارے اوپر ایسا وقت آجائے اور پھر ہمیں اس آزادی جیسی نعمت، کہ جس کو گھر کی ٹک ٹک کی طرح دنیا کی رنگینی نے ہمیں سمجھنے نہیں دیا ہم سے چھن جائے اور پھر ہمیں پچھتانا پڑے لہذا مظلومین کی آہ و فریاد کی اہمیت اور اپنی آزادی کی قدر جان لیجئے اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کا ہاتھ تھام لیجئے اور جس پلیٹ فارم پر بھی آپ ان کی آواز دنیا تک پہنچا سکتے ہیں پہنچائیے اور اپنے رب کو راضی کیجئے
اگر آپ کشمیریوں،فلسطینوں،شامیوں و افغانیوں کی مالی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کیجئے اس ملک میں کئی این جی اوز ہیں جو آپ کے عطیات و صدقات ان تک پہنچاتی ہیں اور اگر آپ مالی طور پر مستحکم نہیں تو پھر ان مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھئیے -

میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان
اسلام آباد:صدر پاکستان عارف علوی نے مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے-
باغی ٹی وی: سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز کے لئے نامزد 184 شخصیات کو آئندہ سال 23 مارچ کو یوم پاکستان پر ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔ایوارڈز کے لیے منتخب کی گئی شخصیات میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر ملکی شخصیات بھی شامل ہیں۔
صدر پاکستان نے جہاں غیر ملکی شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے، وہیں صدر مملکت نے میوزک، اداکاری، ادب اور دیگر فنون لطیفہ کے شعبہ جات سے بھی متعدد شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے۔
جبکہ صدر مملکت نے نشان امتیاز ایوارڈ کے لیے معروف مصور مرحوم صادقین نقوی، پروفیسر شاکر علی، مرحوم ظہور الحق، لیجنڈ صوفی گلوکارہ عابدہ پروین، ڈاکٹر جمیل جالبی، مرحوم محمد جمیل خان اور مرحوم شاعر احمد فراز کو منتخب کیا ہے۔
دوسری جانب صدر مملکت نے ستارہ امتیاز کے لیے ادکارہ بشریٰ انصاری، اداکار طلعت حسین، آرٹسٹ محمد عمران قریشی، ڈرامہ نگار سلطانہ صدیقی، اداکار سید فاروق قیصر اوراینکر پرسن نعیم الطاف بخاری کو منتخب کیا ہے۔
صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ایوارڈ کے لیے مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل، اداکارہ سکینہ سموں، ہمایوں سعید، گلوکار علی ظفر، گلوکار محمد علی شہکی، گلوکارہ مرحومہ مہہ جبین قزلباش، اداکار نعمت اللہ الیاس نعمت، اداکارہ صائمہ شاہ الیاس ریشم، آنجہانی گلوکار کرشن جی، گلوکارہ حنا نصر اللہ، موسیقار دریان خان، موسیقار ذوالفقار علی، آرٹسٹ ڈاکٹر عبدالقدوس عارف، لکھاری سرمد صحبائی، لکھاری ماہتاب محبوب، مرزا اطہر بیگ، اباسین یوسف زئی اور تاج جویو سمیت دیگر آرٹسٹوں کو بھی منتخب کیا ہے۔
-

ایسے ملی تھی آزادی!!! از قلم: غنی محمود قصوری
پچھلے سال 14 اگست کو میں ایک دوست کے پاس گیا اس کے 86 سالہ دادا جی حیات ہیں
مجھے دیکھ کر کہنے لگا پتر کتھے چلے او ؟ یعنی کہا جا رہے ہو میں نے جواب دیا بابا جی واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھنے جانا ہیں تو وہ بزرگ آہ بھر کے کہنا لگا سلنسر کڈ کے گون گا کے منانا اے آزادی ؟ پتہ وی او کینج لئی سے اساں آزادی؟ یعنی کہ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر اور ناچ گا کر آزادی مناتے ہو پتہ بھی ہے تمہیں کیسے ملی تھی آزادی ؟ میں نے کہا نہیں بابا جی آپ بتا دیجئے تو وہ بتانے لگا کہ
اس کا دادا گاؤں کا چوہدری تھا ان کا گاؤں کھیم کرن کے پاس تھا اور وہ 4 مربع زمین کے مالک تھے اس کے دو چچا اور پانچ پھوپھیاں تھیں جو کہ سب شادی شدہ ہی تھے وہ خود دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا اور آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا اسے قائد اعظم بڑے اچھے لگتے تھے اس کی کہانی سنتے ہیں اسی کی زبانی
میرا نام کرم دین ہے اور میں اپنے دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا میری دادی اماں میری پیدائش سے چھ ماہ پہلے وفات پا گئی تھیں میرے دادا جی چوہدری تھے ہمارے گاؤں میں سکھ اور ہندوں سبھی ان کی بہت عزت کرتے تھے خود میرے ساتھ سکول میں سکھ و ہندو لڑکے مل کر کھانا کھاتے تھے مگر پھر بھی میرا کھانا کھانے کے باوجود وہ مجھ سے کھینچے کھینچے سے رہتے تھے اور ہر وقت او مسلے او مسلے پکارتے تھے جو کہ مجھے بڑا ناگوار گزرتا تھا
یہ جنوری 1947 کی بات کے حالات معمول سے ہٹ کر خراب ہو رہے تھے سکول میں بھی ہندو و سکھ لڑکوں کا رویہ مجھ سے عجیب سا ہو گیا تھا حالانکہ میں نے کبھی یہ نعرہ نا لگایا تھا کہ، بٹ کے رہے گا ہندوستان ،بن کے رہے گا پاکستان مگر پھر بھی نا جانے کیوں وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے تھے حالانکہ ہمارے نذر بیگ ماسٹر صاحب سب بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور کسی کو بھی ہندو ،سکھ اور مسلمان ہونے پر جدا نا سمجھتے تھے خیر وقت گزرتا گیا اور جولائی کا مہینہ شروع ہو گیا ہر طرف بٹ کے رہے گا ہندوستان،بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے گونجتے تھے میں نے دادا جی سے پوچھا لالہ جی ( دادا جی کو کہتا تھا) یہ کیا چکر ہے بٹوراہ کیوں ہوگا تو لالہ جی کہنے لگے بیٹا دیکھ میرے تین بیٹے ہیں تیرا باب اور دو تیرے چچا تو جیسے جیسے شادیاں ہوتی گئیں بٹوارہ ہوتا گیا اب تمہاری ماں الگ سے روٹی پکاتی ہے تمہاری چچیاں الگ سے پکاتی ہیں میرا دل جہاں سے کرتا ہے میں وہاں سے کھا لیتا ہوں اسے کہتے ہیں بٹوارہ تو ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے ہمیں تو رہنا ہی ہے نا رہ لینگے پر میں نے کہا لالہ جی میں نہیں جاؤنگا اپنا گاؤں اپنے دوست چھوڑ کر لالہ جی نے سینے سے لگا لیا
مجھے یاد ہے جس دن میری لالہ جی سے یہ بات چیت ہوئی اسی دن میرے ابو جسے میں ابا جی کہتا تھا اپنے ساتھ اپنے ماموں زاد بھائی شمشیر کو لے کر
تایا شمشیر میرے ابو سے بڑے تھے میں انہیں تاؤ کہتا تھا
تاؤ لالہ جی کے پاس بیٹھ گئے اور کہنے لگے بابا جی ( لالہ جی کو سب بابا جی کہتے تھے) حالات بہت خراب ہیں کچھ کرنا پڑے گا ہمیں یہ علاقہ چھوڑ کر پاکستان جانا پڑے گا
لالہ جی کہنے لگے اوئے جلے میں چوہدری ہوں سکھ ہندو میری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اپنا گاؤں چھوڑ کر بھاگنے کی
تو تاؤ کہنے لگے آپ کو علم ہی نہیں حالات کس قدر خراب ہیں کوئی کسی کا نہیں بن رہا لہذہ عزت بچا کر نکلنے میں ہی فائدہ ہے پورے ہند کے قصے آپ نے سن لئے ہیں تو دیر نا کیجئے کافی تو تکار کے بعد لالہ جی روتے ہوئے ہامی بھر بیٹھے طے ہوا پرسوں 31 جولائی کی رات کو نکلا جائے گا تب تک قریبی دیہات سے پھوپھیاں اور خاندان سے دیگر افراد بھی آ جائیں گے کیونکہ لالہ جی کا اثرورسوخ کافی تھا دوسرا ہمارے گھر میں اناج وافر تھا لالہ جیں کے پاس ایک نالی بندوق اور میرے والد کے پاس ریوالور بھی تھا
31 جولائی کو شام تک سب پہنچ گئے سوائے گاؤں موضع سری ساون کی رہائشی پھوپھو حاجراں اور ان کے سسرال کے علاوہ
سو مجبوری کے طور پر ہم نے دو بیل گاڑیاں تیار کیں اناج لادا گھروں کو تالے لگائے اور نکل کھڑے ہوئے ابھی گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ راموں جو ہمارے گھر کا خاص ملازم تھا گالیاں بکنے لگا او مسلے ڈر کر بھاگنے لگے ابھی مزا چکھاتا ہوں
لالہ جی نے کہا راموں تو بھول گیا میرے احسان تیری بہن کی شادی میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جیب سے کی تھی تو راموں کہنے لگا او مسلے ہند ہمارا ہے تونے کونسا احسان کیا ہے اتنا کہتے ہی راموں چلانے لگا اور کھڑے سیاں (کھڑک سنکھ ) اور فلاں اوئے فلاں مسلے بھاگ رہے ہیں
لالہ جی اور ابا جی نے گھر کے کل 41 افراد بمعہ بچے بوڑھے جوان کو دلاسہ دیا مردوں اور عورتوں کو بیل گاڑیوں پر بٹھایا اور اپنی بندوق تان کر بیل گاڑی کے آگے جبکہ میرے والد ریوالور لے کر بیل گاڑیوں کے پیچھے پیچھے چل دیئے رات کی تاریکی تھی ابھی ہم چار منٹ ہی چلے ہونگے کہ شور سنائی دیا جے سری رام،ست سری اکال کی بلند و بالا آوازیں آنے لگیں لالہ جی نے کہا گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے آوازیں قریب تر ہوتی گئیں آخر لالہ جی نے نعرہ تکبیر لگایا اور فائر کر دیا اسی اثناء میں ابو جی نے بھی دو فائر کئے شور رک گیا بڑھتی ہوئی آوازیں تھم گئیں سب سہم گئے تھے لالہ جی نے سب کو دلاسہ دیا اور میرے جیتے جی کسے کا بال بھی بانکا نہیں ہو گا ابو جی سے لالہ جی نے کہا کہ اب فائر نا کرنا میرے پاس بھی کارتوس کم ہیں اور تمہارے پاس گولیاں کم ہیں اور ہمیں سفر لمبا کرنا ہے
رات کی تاریکی تھی سب ڈرے ہوئے تھے پھوپھی سکینہ کا اکلوتا بیٹا بیمار تھا اور بار بار رو رہا تھا تایا شمشیر بھی اپنے بچوں کیساتھ تلوار پکڑے چل رہا تھا خیر ہم چلتے گئے اور دن کا اجالا ہونا شروع میں کچھ ہی دیر رہ گئی آگے ایک سڑک آئی تو میں ج جو کہ لالہ کیساتھ ساتھ چل رہا تھا کسی چیز سے ٹکڑا کر گر پڑا میرے منہ سے آہ نہیں اور قافلہ رک گیا جب دیکھا تو وہ ایک نوجوان عورت کی برہنہ لاش تھی جا کی چھاتی کاٹی ہوئی تھی اور تن ہر کپڑوں کے چیتھڑوں کے کچھ بھی نا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی چن دہی گھنٹے ہوئے ہیں اسے شہید کئے یہ منظر دیکھ کر سب دہل گئے
لالہ جی نے کہا میں اس گاؤں ماڑی کامبوکی سے واقف ہوں یہاں سکھ اور ہندو زیادہ ہیں اور دن کو سفر کرنا خطرناک ہے لہذہ کہیں چھپتے ہیں کچھ فاصلے پر دیسی کماد کی فصل نظر آئی قافلہ اس سمت چل پڑا کماد کی فصل کو اندر سے کاٹا گیا جو کہ کئی ایکڑ پر محیط تھی اور قافلہ عین وسط میں لیجا کر روک دیا گیا گرے کماد کو لالہ جی اور ابو جی نے بڑی مہارت سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جو بڑی حد تک کامیاب بھی رہی سب نے تیمم کرکے نماز پڑھی اور ساتھ رکھا کھانا کھانے لگے مگر بے سود شمشیر تایا جو چار پانچ دیسی گھی کی روٹیاں کھا جاتے تھے آدھی سے بھی کم کھا کر کہنے لگے بس سیر ہو گیا ہوں سب کی یہی حالت تھی
رفتہ رفتہ دن کا اجالا تیز ہونے کیساتھ سورج کی تپش بھی تیز ہوتی گئی اور سکینہ خالہ کے بیٹے نے رونا شروع کر دیا سب کہنے لگے اسے چپ کرواؤ مروا دے گا ہمیں بھی
سکھوں ہندؤوں کی آوازیں اور ساتھ کچھ چیخیں بھی آ رہی تھیں سب ڈر بھی رہے تھے اور ذکر خدا بھی کر رہے تھے خیر شام ہو گئی قافلہ نکلا اور سفر شروع کر دیا ابھی چار کوس ہی گئے ہونگے کہ اچانک پچاس ساتھ بلوائیوں کا قافلہ نکلا لالہ جی نے فائر کیا مگر آگے سے چھ سات اکھٹے فائر ہوئے ایک فائر میرے چچا اقبال کو لگا اور ایک فائر تایا شمشیر کی کھوپڑی میں لگا ادھر سے ابو جی نے چار فائر کئے جس سے تین دلدوز چیخیں فضاء میں ابھریں جو کہ بلوائیوں کی تھیں میں بھی جوش میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا اور اپنی لاٹھی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اچانک شور مذید بڑھا اور ہماری سمت آیا ایک گولی لالہ جی کی ران پر لگی اور وہ بھی گر پڑے میں اور دونوں چچا،دو پھوپھے سراج اور اللہ دتہ لاٹھیاں سنبھالے کھڑے تھے بچے اور عورتیں چیخ چلا رہے تھے ایک سکھ میرے قریب آیا میں نے لاٹھی اس کے سینے پر ماری مگر ضرب کاری نا تھی الٹا اس نے کرپان میری طرف ماری جو کہ میری بائیں بازو پر لگی ابا جی نے پھر فائر کئے مگر افسوس ایک سکھ نے ان کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہم بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں سمیت 41 تھے جبکہ کرپانوں،بندوقوں اور چھڑیوں سے لیس بلوائی پچاس سے اوپر تھے میرے لالہ جی،ابو جی،تاؤ شمشیر پھوپھی تڑپ رہے تھے باقی میں بچوں میں سب سے بڑا تھا باقی دو چچا اور دو پھوپھا تھے ہم نے مقابلہ شروع کیا اتنے میں پھوپھی سکینہ کی آواز آئی میرا لال علی شیر دے دو ایک ظالم نے شیر خوار علی شیر کو نیزے پر رکھا اور دو ٹکڑے کر دیا جبکہ میری پھپھو سکینہ کو پکڑنے لگے تو پھوپھا جی نے اپنا سینہ آگے کر دیا ایک گولی آئی اور پھوپھا کے سینے میں لگی اور وہ گر پڑے چچا جی آگے بڑھے کرپان ان کے پیٹ کے پاڑ ہو گئی اتنے میں ایک اور شور ہمارے قریب آیا اور نعرہ تقریب بلند ہوا چند جوان جن کے پاس آٹومیٹک رائفلیں تھیں انہوں نے دو بلوائیوں کو نشانہ بنایا باقی بلوائی بھاگ نکلے انہوں نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا اور بولے پریشان نا ہو ہر سمت یہی صورتحال ہے ہم آپ کو واہگہ پہنچائینگے
زخمیوں میں سے صرف میں اور چھوٹے چچا اور بڑا پھوپا جی ںچے باقی پھوپھو سکینہ پھوپا جی کو گولتی لگتے ہی دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں کل 41 میں سے میں دو چچا ایک چچی دو ننھے بچے اور ایک مجھ سے دو سال چھوٹی تاؤ شمشیر کی بیٹی بچی باقی سب انتہائی گہرے زخموں کی بدولت جان ہار بیٹھے تھے چچاؤں نے لالہ جی کی بندوق اور ابو جی کا پستول اٹھایا جبکہ میں نے تاؤ شمشیر کی چھری
شہداء پر نظر ڈال کر قافلہ چل پڑا دو کے بجائے ایک بیل گاڑی ہو گئی اور واہگہ بھی انتہائی کم رہ گیا تھا سو اگلی صبح تک واہگہ مہاجر کیمپ پہنچے راستے میں ہر طرف خون ہی خون تھا اور کٹی پھٹی لاشیں خاص کر شیر خوار بچوں اور عورتوں کی جا بجا لاشیں پڑیں تھیں
اتنا سنانے کے بعد بابا جی کرم دین جن کے اب دانت بھی سلامت نہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کنے لگے
پتر کی منہ وکھاؤ گے قائد ت اقبال نو ؟
یعنی بیٹے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو جشن آزادی کے نام پر ہلڑ بازی پر کیا منہ دکھاؤ گے
میں یہ سن کہ ہلکا سا رونے لگا اور اپنے دوست امان اللہ کا انتظار کئے بنا نکل آیا اور گھر جا کر سوچنے لگا یہ تو جشن آزادی نہیں ،یہ تو قائد و اقبال اور ان کے رفقاء کا طریقہ نہیں -

افریقی نژاد سینیٹر کمالا ہیرس ،امریکی نائب صدر کیلئے نامزد ، کمالا کی زندگی کے اہم پہلو
واشنگٹن :امریکی نائب صدر کی امیدوارکمالا دیوی کی زندگی کے اہم پہلو،رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر کی امیدوارکملا دیوی ہیریس 20 اکتوبر 1964 کو آکلینڈ کیلیفورنیا میں پیدا ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق کمالا دیوی کی والدہ جن کا نام شرمالہ گوپلان تھا چھاتی کے کینسر کی سائنس دان تھیں جو 1960 میں یو سی برکلے میں انڈوکرونولوجی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے لئے ہندوستان سے ہجرت ہوگئیں۔
کیلی فورنیا میں پیدا ہونے والی کمالا ہیرس کی والدہ بھارتی نژاد امریکی سائنس دان تھی جن کا تعلق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تھا تاہم کمالا کے والد کا تعلق جمیکا سے تھا اور وہ پروفیسر تھے۔
کمالا ہیرس 2004 سے 2011 کے دوران دو مرتبہ سان فرانسیسکو کی ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل رہی تھیں جس کے بعد 2011 سے 2017 کے دروان دومرتبہ کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل منتخب ہوئی تھیں اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی نہ صرف پہلی خاتون تھیں بلکہ گنجان ریاست کی پہلی سیاہ فارم اٹارنی جنرل بن گئی تھیں۔
جنوری 2017 میں انہوں نے کیلیفورنیا کے جونیئر امریکی سینیٹر کے طور پر حلف اٹھایا اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں اور اسی طرح امریکی تاریخ میں کیرول موسیلے براؤن کے بعد دوسری سیاہ فارم خاتون بن گئی تھیں۔کمالا ہیرس 2008 میں آنے والے مالی بحران کے دوران کئی خاندانوں کے دفاع پر اکثر فخر کا اظہار کرتی ہیں جہاں انہوں نے بڑے بڑے مقدمات کا سامنا کیا۔
خود کو متوسط طبقے کی نمائندہ قرار دینے والی کمالا ہیرس پولیس کے ظلم اور سیاہ فارم غیر مسلح افراد کے قتل کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔کمالا ہیرس 2016 میں کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹس کی سینیٹر منتخب ہوئیں اور وہ امریکی تاریخ میں منتخب ہونے والی دوسری سیاہ فارم خاتون سینیٹر بن گئیں۔
بعد ازاں 2019 میں امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کے امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا تھا۔
ٹوئٹر میں جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کمالا ہیرس نے کہا تھا کہ ‘ہمارے ملک کا مستقبل آپ اور دیگر لاکھوں افراد پر منحصر ہے جو ہماری امریکی اقدار کے لیے ہماری آوازیں بلند کررہے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اسی لیے میں امریکا کے صدر کے منصب کے لیے مہم چلارہی ہوں’۔کمالا دیوی کی زندگی کے نجی پہلووںپر روشنی ڈالتے ہوئے بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہےکہ کمالا دیوی کے والد ڈونلڈ ہیرس ، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایمریٹس کے پروفیسر برائے معاشیات ہیں ، جو یوسی برکلے میں معاشیات میں گریجویٹ کی تعلیم کے لئے 1961 میں جمیکا سے ہجرت کر گئے تھے
کمالا دیوی کے بارے میں معلوم ہوا ہےکہ وہ ایک کالے بپتسمہ دینے والے چرچ اور ہندو مندر میں جاکر بڑی ہوئی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اور اس کی بہن اس موقع پر ہندوستان کے مدراس (اب چنئی) میں اپنی والدہ کے اہل خانہ سے مل گئیں
اطلاعات کے مطابق ہیرس نے برکلے کے اسکول ڈیسیگریسیشن بسنگ پروگرام کے دوسرے سال میں کنڈرگارٹن شروع کیا جب وہ 7 سال کی تھیں تو اس کے والدین نے طلاق دے دی۔
وہ اور اس کی بہن ہفتے کے آخر میں پالو الٹو میں اپنے والد سے ملنے جاتی تھیں تو انہوں نے بتایا کہ ہمسایہ ممالک کے بچوں کو سیاہ فام ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔
جب وہ 12 سال کی تھی ، تو حارث اور اس کی بہن اپنی والدہ کے ساتھ کینیڈا کے کیوبک کے مانٹریئل چلے گئے ، جہاں ان کی والدہ نے یہودی جنرل اسپتال میں تحقیقاتی پوزیشن قبول کی تھی اور میک گل یونیورسٹی میں تدریس دی تھی۔
وہ واشنگٹن ڈی سی میں ہاورڈ یونیورسٹی میں داخل ہو گئی جہاں انہوں نے کیلیفورنیا کے سینیٹر ایلن کرینسٹن کے لئے میل روم کلرک کی حیثیت سے پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس ڈبل ایم اے پاس کا ،
وہی کمالا دیوی جس نے زندگی میں بڑے کھٹھن سفرطئے کئے اب ایک ایسے سفر کی طرف رواں ہے کہ اگروہ منتخب ہوگئیںتو امریکہ میں سیاہ فاموںکے خلاف نفرت میں کمی آسکتی ہے
-

الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں…از… ابوارحام محمد الازہری
کچھ روز قبل مجھے اپنے مادر علمی میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔ کورونا کے باعث تمام تعلیمی اداروں کی طرح دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں بھی گذشتہ چند ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں . مگر حالیہ ایام میں دورہ حدیث شریف کے طلباء کے امتحانات کے باعث ادارے کو جزوی طور پہ کھولا گیا۔ اساتذہ کرام سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا تو میری ملاقات قبلہ علامہ حافظ نعیم الدین صاحب الازہری سے ہوئی۔
آپ سے جامعہ الازہر الشریف کے احوال پہ تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ اور باتیں بھی ہوئیں جو خالصتاً علمی نوعیت کی تھیں کچھ کتب پر تبصرے بھی ہوئے۔ باتوں باتوں میں الحاد و ملحدین کا ذکر ہوا تو قبلہ فرمانے لگے کہ کاشف صاحب ہم نے ایک 3 روزہ سیشن شروع کیا ہے آپ بھی اس میں شامل ہو جائیے۔ آمنا کہتے ہوئے استاذی المکرم کے حکم پہ اس کلاس کا حصہ بنا جو زوم ایپ پہ رد الحاد و ملحدین کے حوالے سے انعقاد پذیر تھی۔ کلاس کیا تھی گویا علم کا ایک بحر بے کنار تھا اور مجھ جیسے ناکارہ خلائق کو ایک بار پھر گلستان ضیاءالامت سے خوشہ چینی کا شرف مل رہا تھا۔
اس سیشن کا عنوان:
الحاد، عصر حاضر کے ملحدین کے اعتراضات کا علمی محاکمہ اور نسل نو کی الحاد پر فکری بالیدگی کے ذرائعاس سیشن کے ابتدائیے میں جامعہ الازہر الشریف کے فارغ التحصیل عظیم مذہبی سکالر جناب ثاقب شریف الازھری نے ایک اہم ترین موضوع کی طرف توجہ دلائی جو اس دور کی اہم ضرورت بھی ہے اور ملحدین کے رد کے لیے نوجوان طبقہ کے لیے نسخہ اکسیر بھی۔
ثاقب صاحب نے فرمایا کہ آج کے دور میں ملحدین کا رد کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ آپ دلیل کے ساتھ نرمی سے بات کریں قرآن کریم تو فرعونِ موسیٰ سے بھی کلام کرنے کے لیے قول لینا کی ترغیب دیتا ہے۔ ان اصول اختلاف کو سکھانے کے بعد الحاد کے مادہ اشتقاق کو زیر بحث لایا گیا اور اس کی لغوی و اصطلاحی تعریف بیان کی گئی۔ الحاد اپنے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے ظلم کا مترادف ہے اور راہ حق سے اعراض کرنے والے کو اسلام ملحد کہتا ہے۔
لغت کی کتابوں کے ساتھ ساتھ یہی معنیٰ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے اللہ رب العزت نے الحاد کے صریح لفظ کو سورۃ الحج میں ذکر فرماتے ہوئے اس سے مراد "راہ حق سے روگردانی” ہی لی ہے۔ عہد جدید و قدیم ہر زمانے کے ملحدین کے اعتراضات کا اگر علمی محاکمہ کیا جائے تو درحقیقت یہ حقیقت سے اعراض ہی ہے کیونکہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اللّٰه رب العزت کی ذات بابرکات ہے اور ملحدین کا بنیادی اعتراض ہی وجود باری تعالیٰ پر ہے۔ ملحدین اپنے عقائد کی بنیاد بھی انکار وجود باری تعالیٰ پہ رکھتے ہیں۔ اور یہ نظریہ جدید دور کی پیداوار نہیں بلکہ زمانہ قدیم اور عہد صحابہ و تابعین سے چلا آ رہا ہے۔
اللّٰه کریم کی ذات کا انکار وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر یہ طبقہ آج بھی قائم ہے امام اعظم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد میں ان بدطینت لوگوں کے نظریات کی عقلی و نقلی دونوں طرق سے نفی فرمائی اور مناظرہ بھی کیا۔ لیکن یہ نظریہ ازمنہ قدیم میں محدود پیرائے پر محدود طبقے تک ہی رہا۔ زمانہ جوں جوں ترقی کرتا گیا علمانیین(سیکولر طبقات) اور دیگر صیہونی و صلیبی طاقتوں کو جب عروج ملنے لگا تو ڈارونائز لوگ پیدا ہونے لگے اور ڈارون (جو الحادی نظریات کا موجد تھا) نے الحادی نظریات کو سائنٹیفک بنیاد پر فروغ دیا۔ جس سبب الحاد کو ایک نئی فکر ملی جو فکر آج بھی ڈارون ازم کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔
لیکن یہ ساری فکر عالم کفر تک ہی محدود رہی اسلامی ممالک اپنے نظریات میں خالص تھے کہ اچانک خلافت عثمانیہ ٹوٹ گئی خلافت کے منتشر ہونے کی دیر تھی مصطفیٰ کمال اتاترک اور اس جیسے کئی لبرلز نے اسلامک معاشروں میں ماڈرنزم کے نام سے الحاد کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ ڈاروانائز اور لبرل طبقے نے ہر دور میں سادہ لوح مسلمانوں کو عقلی ادلہ اور سائنسی نظریات سے مات دینے کی کوشش کی۔ مگر امت مسلمہ پر اللّٰه کریم کا یہ احسان ہے کہ الله کریم نے اپنے ہی کلام قرآن مجید سے مسلمانوں کو عقلی ادلہ بھی سکھائے اور ان سے استدلال کا طریقہ کار بھی سمجھا دیا۔ قبلہ ثاقب صاحب نے چند ایک امثلہ سے قرآن کریم کے عقلی ادلہ کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو مکمل فرمایا۔
یوں سیشن کا ابتدائیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پہلے سیشن کا پہلا حصہ مکمل ہوا دوسرا حصہ نماز عشاء کے لیے تقریباً 25 منٹ کے توقف کے بعد دوبارا شروع ہوا۔ جس میں محترم المقام حضرت علامہ نعیم الدین الازہری صاحب نے الحاد اور دیگر فتن کو موضوع بحث بنایا۔
قبلہ نے ابتداء میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے فتنوں کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے امت مسلمہ کو تنبیہ فرمائی۔ آپ نے بتایا کہ رسول پاک صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایسا پرفتن دور بھی آئے گا کہ انسان صبح کے وقت تو مومن ہو گا مگر شام تک کافر ہو جائے گا اور اگر شام کو مومن تھا تو صبح تک کفر کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ آپ نے عہد قدیم و جدید کے متعدد فتنوں کا ذکر فرمایا جن میں سے آج الحاد، قادیانیت، غامدیت اور جہلمی فتنہ بڑی سرعت سے ہماری رگ و پے میں سرایت کرتا نظر آتا ہے۔
آپ نے طلباء کو ان جدید فتنوں سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ ان کے تدارک کا بھی مختصراً طریقہ کار سمجھایا۔ علامہ نعیم الدین الازھری نے فرمایا کہ اسلام نے انسانیت کے سدھارنے کے 3 طریق بتائے ہیں۔ جنھیں قرآن کریم کی سورۃ النحل کی 125 ویں آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے جہاں اللّٰه رب العزت نے واعظین، خطباء و مشائخ کو یہ درس دیا ہے کہ حکمت و دانائی اور فراست کے ساتھ لوگوں کو اللّٰه کریم کے طریق رحمت کی دعوت دی جائے۔
انسانیت میں ڈھٹائی کے بھی تو درجے ہیں اگر کسی کو حکمت کی سمجھ نہ آئے تو رب کعبہ نے عمدہ نصیحت کا حکم دیا بحث کو تیسرے درجے میں رکھا ساتھ فرما بھی دیا کہ مجادلہ(بحث) تو کرو مگر مجادلہ ان کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کے مطابق احسن انداز میں کرو ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے بھاگ جائیں۔
آج مجموعی طور پر ہمارے واعظین و خطباء کا حال یہ ہو چکا ہے کہ ہر فرد دوسرے فرد پر ہر گروہ دوسرے گروہ پر ذاتی و مسلکی و گروہی تعصب کی بنا پر کفر کے فتوے لگا رہا ہے۔ فروعی اختلافات کی وہ گتھیاں جو اہل خانہ نے اپنی چاردیواری میں سلجھانا تھیں انھیں اسٹیجز کی بحث بنا کر تشدد کو ہوا دی گئی۔ اور ہم اتنے حصوں میں بٹ گئے کہ ہم نے مجتمع ہو کر جن بین الاقوامی عصبیتوں کا خاتمہ کرنا تھا وہ جوں کی توں ہی رہیں مگر ہم منتشر ہو گئے نتیجتاً علم، عمل اور علماء سب کچھ ہم سے عنقاء ہو گیا۔
معاً بعد آپ نے ملحدین کے اسلوب اعتراض کو مفصل انداز میں ذکر کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ حیرت انگیز بات سننے کو ملی کہ ہماری نئی جنریشن اور نوجوان نسل اس فتنے کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔ جس کا سبب دین سے عدم واقفیت اور علماء سے دوری ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی اس حوالے سے انتہائی ناقص ہے طلباء کی ذہنی و فکری بالیدگی کو اس نظام اور نصاب نے آسودگی سے بدل دیا ہے نتیجتاً آج کا جدید ذہن الحاد کی زد میں آ رہا ہے۔ قبلہ استاذی المکرم نے آخر میں طلباء و علماء کو یہ نصیحت فرمائی کہ آج کے اس پرفتن دور میں ان مسائل کو موضوع بحث بنانے کی قطعاً حاجت نہیں جو ختم ہو چکے ہیں جن کا ماحصل کچھ نہیں۔ بلکہ ان فتنوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جو امت مسلمہ کو تباہی کی دہانے تک پہنچانے کو پر تول رہے ہیں۔
انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ کی روشنی میں یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ رب العزت کااہل اسلام کو حکم ہے کہ جہاں دین اور مقدساتِ دین کا انکار کیا جا رہا ہو ایسی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ایسی صحبتوں سے گریز کریں وگرنہ ان کے عقائد بھی خراب ہو جائیں گے . ہاں اگر فتنہ کی سرکوبی کے لیے تیاری اور علمی پختگی ہو تو تب اصلاح کی نیت سے ضرور معترضین سے بات کرنی چاہیے .
ان دونوں نشستوں میں علامہ ثاقب شریف صاحب الازہری اور قبلہ نعیم الدین صاحب الازہری نے نا صرف سیر حاصل گفتگو و راہنمائی فرمائی بلکہ چیدہ چیدہ مگر انتہائی اہم کتابوں اور ان کے مصنفین کا بھی ذکر فرمایا۔ تاکہ طلباء خود سے اپنے مطالعہ کو وسعت دیں۔ اور ان موضوعات پر تیاری کریں۔ یہ دونوں لیکچرز تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل تھے مگر دونوں اپنی جامعیت کے اعتبار سے کئی دنوں کی محنت کا ثمر تھے۔ مالک کریم آستان ضیاءالامت اور آپ کے تمام متوسلین و خدام کو تاابد علم دوست رکھے اور اس گلستان کو ہمیشہ ثمر بار رکھے آمین یارب العالمین
الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں…از… ابوارحام محمد الازہری