Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان

    میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان

    اسلام آباد:صدر پاکستان عارف علوی نے مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز کے لئے نامزد 184 شخصیات کو آئندہ سال 23 مارچ کو یوم پاکستان پر ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔ایوارڈز کے لیے منتخب کی گئی شخصیات میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر ملکی شخصیات بھی شامل ہیں۔

    صدر پاکستان نے جہاں غیر ملکی شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے، وہیں صدر مملکت نے میوزک، اداکاری، ادب اور دیگر فنون لطیفہ کے شعبہ جات سے بھی متعدد شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے۔

    جبکہ صدر مملکت نے نشان امتیاز ایوارڈ کے لیے معروف مصور مرحوم صادقین نقوی، پروفیسر شاکر علی، مرحوم ظہور الحق، لیجنڈ صوفی گلوکارہ عابدہ پروین، ڈاکٹر جمیل جالبی، مرحوم محمد جمیل خان اور مرحوم شاعر احمد فراز کو منتخب کیا ہے۔

    دوسری جانب صدر مملکت نے ستارہ امتیاز کے لیے ادکارہ بشریٰ انصاری، اداکار طلعت حسین، آرٹسٹ محمد عمران قریشی، ڈرامہ نگار سلطانہ صدیقی، اداکار سید فاروق قیصر اوراینکر پرسن نعیم الطاف بخاری کو منتخب کیا ہے۔

    صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ایوارڈ کے لیے مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل، اداکارہ سکینہ سموں، ہمایوں سعید، گلوکار علی ظفر، گلوکار محمد علی شہکی، گلوکارہ مرحومہ مہہ جبین قزلباش، اداکار نعمت اللہ الیاس نعمت، اداکارہ صائمہ شاہ الیاس ریشم، آنجہانی گلوکار کرشن جی، گلوکارہ حنا نصر اللہ، موسیقار دریان خان، موسیقار ذوالفقار علی، آرٹسٹ ڈاکٹر عبدالقدوس عارف، لکھاری سرمد صحبائی، لکھاری ماہتاب محبوب، مرزا اطہر بیگ، اباسین یوسف زئی اور تاج جویو سمیت دیگر آرٹسٹوں کو بھی منتخب کیا ہے۔

  • ایسے ملی تھی آزادی!!!  از قلم: غنی محمود قصوری

    ایسے ملی تھی آزادی!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    پچھلے سال 14 اگست کو میں ایک دوست کے پاس گیا اس کے 86 سالہ دادا جی حیات ہیں
    مجھے دیکھ کر کہنے لگا پتر کتھے چلے او ؟ یعنی کہا جا رہے ہو میں نے جواب دیا بابا جی واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھنے جانا ہیں تو وہ بزرگ آہ بھر کے کہنا لگا سلنسر کڈ کے گون گا کے منانا اے آزادی ؟ پتہ وی او کینج لئی سے اساں آزادی؟ یعنی کہ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر اور ناچ گا کر آزادی مناتے ہو پتہ بھی ہے تمہیں کیسے ملی تھی آزادی ؟ میں نے کہا نہیں بابا جی آپ بتا دیجئے تو وہ بتانے لگا کہ
    اس کا دادا گاؤں کا چوہدری تھا ان کا گاؤں کھیم کرن کے پاس تھا اور وہ 4 مربع زمین کے مالک تھے اس کے دو چچا اور پانچ پھوپھیاں تھیں جو کہ سب شادی شدہ ہی تھے وہ خود دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا اور آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا اسے قائد اعظم بڑے اچھے لگتے تھے اس کی کہانی سنتے ہیں اسی کی زبانی
    میرا نام کرم دین ہے اور میں اپنے دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا میری دادی اماں میری پیدائش سے چھ ماہ پہلے وفات پا گئی تھیں میرے دادا جی چوہدری تھے ہمارے گاؤں میں سکھ اور ہندوں سبھی ان کی بہت عزت کرتے تھے خود میرے ساتھ سکول میں سکھ و ہندو لڑکے مل کر کھانا کھاتے تھے مگر پھر بھی میرا کھانا کھانے کے باوجود وہ مجھ سے کھینچے کھینچے سے رہتے تھے اور ہر وقت او مسلے او مسلے پکارتے تھے جو کہ مجھے بڑا ناگوار گزرتا تھا
    یہ جنوری 1947 کی بات کے حالات معمول سے ہٹ کر خراب ہو رہے تھے سکول میں بھی ہندو و سکھ لڑکوں کا رویہ مجھ سے عجیب سا ہو گیا تھا حالانکہ میں نے کبھی یہ نعرہ نا لگایا تھا کہ، بٹ کے رہے گا ہندوستان ،بن کے رہے گا پاکستان مگر پھر بھی نا جانے کیوں وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے تھے حالانکہ ہمارے نذر بیگ ماسٹر صاحب سب بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور کسی کو بھی ہندو ،سکھ اور مسلمان ہونے پر جدا نا سمجھتے تھے خیر وقت گزرتا گیا اور جولائی کا مہینہ شروع ہو گیا ہر طرف بٹ کے رہے گا ہندوستان،بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے گونجتے تھے میں نے دادا جی سے پوچھا لالہ جی ( دادا جی کو کہتا تھا) یہ کیا چکر ہے بٹوراہ کیوں ہوگا تو لالہ جی کہنے لگے بیٹا دیکھ میرے تین بیٹے ہیں تیرا باب اور دو تیرے چچا تو جیسے جیسے شادیاں ہوتی گئیں بٹوارہ ہوتا گیا اب تمہاری ماں الگ سے روٹی پکاتی ہے تمہاری چچیاں الگ سے پکاتی ہیں میرا دل جہاں سے کرتا ہے میں وہاں سے کھا لیتا ہوں اسے کہتے ہیں بٹوارہ تو ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے ہمیں تو رہنا ہی ہے نا رہ لینگے پر میں نے کہا لالہ جی میں نہیں جاؤنگا اپنا گاؤں اپنے دوست چھوڑ کر لالہ جی نے سینے سے لگا لیا
    مجھے یاد ہے جس دن میری لالہ جی سے یہ بات چیت ہوئی اسی دن میرے ابو جسے میں ابا جی کہتا تھا اپنے ساتھ اپنے ماموں زاد بھائی شمشیر کو لے کر
    تایا شمشیر میرے ابو سے بڑے تھے میں انہیں تاؤ کہتا تھا
    تاؤ لالہ جی کے پاس بیٹھ گئے اور کہنے لگے بابا جی ( لالہ جی کو سب بابا جی کہتے تھے) حالات بہت خراب ہیں کچھ کرنا پڑے گا ہمیں یہ علاقہ چھوڑ کر پاکستان جانا پڑے گا
    لالہ جی کہنے لگے اوئے جلے میں چوہدری ہوں سکھ ہندو میری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اپنا گاؤں چھوڑ کر بھاگنے کی
    تو تاؤ کہنے لگے آپ کو علم ہی نہیں حالات کس قدر خراب ہیں کوئی کسی کا نہیں بن رہا لہذہ عزت بچا کر نکلنے میں ہی فائدہ ہے پورے ہند کے قصے آپ نے سن لئے ہیں تو دیر نا کیجئے کافی تو تکار کے بعد لالہ جی روتے ہوئے ہامی بھر بیٹھے طے ہوا پرسوں 31 جولائی کی رات کو نکلا جائے گا تب تک قریبی دیہات سے پھوپھیاں اور خاندان سے دیگر افراد بھی آ جائیں گے کیونکہ لالہ جی کا اثرورسوخ کافی تھا دوسرا ہمارے گھر میں اناج وافر تھا لالہ جیں کے پاس ایک نالی بندوق اور میرے والد کے پاس ریوالور بھی تھا
    31 جولائی کو شام تک سب پہنچ گئے سوائے گاؤں موضع سری ساون کی رہائشی پھوپھو حاجراں اور ان کے سسرال کے علاوہ
    سو مجبوری کے طور پر ہم نے دو بیل گاڑیاں تیار کیں اناج لادا گھروں کو تالے لگائے اور نکل کھڑے ہوئے ابھی گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ راموں جو ہمارے گھر کا خاص ملازم تھا گالیاں بکنے لگا او مسلے ڈر کر بھاگنے لگے ابھی مزا چکھاتا ہوں
    لالہ جی نے کہا راموں تو بھول گیا میرے احسان تیری بہن کی شادی میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جیب سے کی تھی تو راموں کہنے لگا او مسلے ہند ہمارا ہے تونے کونسا احسان کیا ہے اتنا کہتے ہی راموں چلانے لگا اور کھڑے سیاں (کھڑک سنکھ ) اور فلاں اوئے فلاں مسلے بھاگ رہے ہیں
    لالہ جی اور ابا جی نے گھر کے کل 41 افراد بمعہ بچے بوڑھے جوان کو دلاسہ دیا مردوں اور عورتوں کو بیل گاڑیوں پر بٹھایا اور اپنی بندوق تان کر بیل گاڑی کے آگے جبکہ میرے والد ریوالور لے کر بیل گاڑیوں کے پیچھے پیچھے چل دیئے رات کی تاریکی تھی ابھی ہم چار منٹ ہی چلے ہونگے کہ شور سنائی دیا جے سری رام،ست سری اکال کی بلند و بالا آوازیں آنے لگیں لالہ جی نے کہا گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے آوازیں قریب تر ہوتی گئیں آخر لالہ جی نے نعرہ تکبیر لگایا اور فائر کر دیا اسی اثناء میں ابو جی نے بھی دو فائر کئے شور رک گیا بڑھتی ہوئی آوازیں تھم گئیں سب سہم گئے تھے لالہ جی نے سب کو دلاسہ دیا اور میرے جیتے جی کسے کا بال بھی بانکا نہیں ہو گا ابو جی سے لالہ جی نے کہا کہ اب فائر نا کرنا میرے پاس بھی کارتوس کم ہیں اور تمہارے پاس گولیاں کم ہیں اور ہمیں سفر لمبا کرنا ہے
    رات کی تاریکی تھی سب ڈرے ہوئے تھے پھوپھی سکینہ کا اکلوتا بیٹا بیمار تھا اور بار بار رو رہا تھا تایا شمشیر بھی اپنے بچوں کیساتھ تلوار پکڑے چل رہا تھا خیر ہم چلتے گئے اور دن کا اجالا ہونا شروع میں کچھ ہی دیر رہ گئی آگے ایک سڑک آئی تو میں ج جو کہ لالہ کیساتھ ساتھ چل رہا تھا کسی چیز سے ٹکڑا کر گر پڑا میرے منہ سے آہ نہیں اور قافلہ رک گیا جب دیکھا تو وہ ایک نوجوان عورت کی برہنہ لاش تھی جا کی چھاتی کاٹی ہوئی تھی اور تن ہر کپڑوں کے چیتھڑوں کے کچھ بھی نا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی چن دہی گھنٹے ہوئے ہیں اسے شہید کئے یہ منظر دیکھ کر سب دہل گئے
    لالہ جی نے کہا میں اس گاؤں ماڑی کامبوکی سے واقف ہوں یہاں سکھ اور ہندو زیادہ ہیں اور دن کو سفر کرنا خطرناک ہے لہذہ کہیں چھپتے ہیں کچھ فاصلے پر دیسی کماد کی فصل نظر آئی قافلہ اس سمت چل پڑا کماد کی فصل کو اندر سے کاٹا گیا جو کہ کئی ایکڑ پر محیط تھی اور قافلہ عین وسط میں لیجا کر روک دیا گیا گرے کماد کو لالہ جی اور ابو جی نے بڑی مہارت سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جو بڑی حد تک کامیاب بھی رہی سب نے تیمم کرکے نماز پڑھی اور ساتھ رکھا کھانا کھانے لگے مگر بے سود شمشیر تایا جو چار پانچ دیسی گھی کی روٹیاں کھا جاتے تھے آدھی سے بھی کم کھا کر کہنے لگے بس سیر ہو گیا ہوں سب کی یہی حالت تھی
    رفتہ رفتہ دن کا اجالا تیز ہونے کیساتھ سورج کی تپش بھی تیز ہوتی گئی اور سکینہ خالہ کے بیٹے نے رونا شروع کر دیا سب کہنے لگے اسے چپ کرواؤ مروا دے گا ہمیں بھی
    سکھوں ہندؤوں کی آوازیں اور ساتھ کچھ چیخیں بھی آ رہی تھیں سب ڈر بھی رہے تھے اور ذکر خدا بھی کر رہے تھے خیر شام ہو گئی قافلہ نکلا اور سفر شروع کر دیا ابھی چار کوس ہی گئے ہونگے کہ اچانک پچاس ساتھ بلوائیوں کا قافلہ نکلا لالہ جی نے فائر کیا مگر آگے سے چھ سات اکھٹے فائر ہوئے ایک فائر میرے چچا اقبال کو لگا اور ایک فائر تایا شمشیر کی کھوپڑی میں لگا ادھر سے ابو جی نے چار فائر کئے جس سے تین دلدوز چیخیں فضاء میں ابھریں جو کہ بلوائیوں کی تھیں میں بھی جوش میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا اور اپنی لاٹھی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اچانک شور مذید بڑھا اور ہماری سمت آیا ایک گولی لالہ جی کی ران پر لگی اور وہ بھی گر پڑے میں اور دونوں چچا،دو پھوپھے سراج اور اللہ دتہ لاٹھیاں سنبھالے کھڑے تھے بچے اور عورتیں چیخ چلا رہے تھے ایک سکھ میرے قریب آیا میں نے لاٹھی اس کے سینے پر ماری مگر ضرب کاری نا تھی الٹا اس نے کرپان میری طرف ماری جو کہ میری بائیں بازو پر لگی ابا جی نے پھر فائر کئے مگر افسوس ایک سکھ نے ان کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہم بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں سمیت 41 تھے جبکہ کرپانوں،بندوقوں اور چھڑیوں سے لیس بلوائی پچاس سے اوپر تھے میرے لالہ جی،ابو جی،تاؤ شمشیر پھوپھی تڑپ رہے تھے باقی میں بچوں میں سب سے بڑا تھا باقی دو چچا اور دو پھوپھا تھے ہم نے مقابلہ شروع کیا اتنے میں پھوپھی سکینہ کی آواز آئی میرا لال علی شیر دے دو ایک ظالم نے شیر خوار علی شیر کو نیزے پر رکھا اور دو ٹکڑے کر دیا جبکہ میری پھپھو سکینہ کو پکڑنے لگے تو پھوپھا جی نے اپنا سینہ آگے کر دیا ایک گولی آئی اور پھوپھا کے سینے میں لگی اور وہ گر پڑے چچا جی آگے بڑھے کرپان ان کے پیٹ کے پاڑ ہو گئی اتنے میں ایک اور شور ہمارے قریب آیا اور نعرہ تقریب بلند ہوا چند جوان جن کے پاس آٹومیٹک رائفلیں تھیں انہوں نے دو بلوائیوں کو نشانہ بنایا باقی بلوائی بھاگ نکلے انہوں نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا اور بولے پریشان نا ہو ہر سمت یہی صورتحال ہے ہم آپ کو واہگہ پہنچائینگے
    زخمیوں میں سے صرف میں اور چھوٹے چچا اور بڑا پھوپا جی ںچے باقی پھوپھو سکینہ پھوپا جی کو گولتی لگتے ہی دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں کل 41 میں سے میں دو چچا ایک چچی دو ننھے بچے اور ایک مجھ سے دو سال چھوٹی تاؤ شمشیر کی بیٹی بچی باقی سب انتہائی گہرے زخموں کی بدولت جان ہار بیٹھے تھے چچاؤں نے لالہ جی کی بندوق اور ابو جی کا پستول اٹھایا جبکہ میں نے تاؤ شمشیر کی چھری
    شہداء پر نظر ڈال کر قافلہ چل پڑا دو کے بجائے ایک بیل گاڑی ہو گئی اور واہگہ بھی انتہائی کم رہ گیا تھا سو اگلی صبح تک واہگہ مہاجر کیمپ پہنچے راستے میں ہر طرف خون ہی خون تھا اور کٹی پھٹی لاشیں خاص کر شیر خوار بچوں اور عورتوں کی جا بجا لاشیں پڑیں تھیں
    اتنا سنانے کے بعد بابا جی کرم دین جن کے اب دانت بھی سلامت نہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کنے لگے
    پتر کی منہ وکھاؤ گے قائد ت اقبال نو ؟
    یعنی بیٹے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو جشن آزادی کے نام پر ہلڑ بازی پر کیا منہ دکھاؤ گے
    میں یہ سن کہ ہلکا سا رونے لگا اور اپنے دوست امان اللہ کا انتظار کئے بنا نکل آیا اور گھر جا کر سوچنے لگا یہ تو جشن آزادی نہیں ،یہ تو قائد و اقبال اور ان کے رفقاء کا طریقہ نہیں

  • افریقی نژاد سینیٹر کمالا ہیرس ،امریکی  نائب صدر کیلئے نامزد ، کمالا کی زندگی کے اہم پہلو

    افریقی نژاد سینیٹر کمالا ہیرس ،امریکی نائب صدر کیلئے نامزد ، کمالا کی زندگی کے اہم پہلو

    واشنگٹن :امریکی نائب صدر کی امیدوارکمالا دیوی کی زندگی کے اہم پہلو،رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر کی امیدوارکملا دیوی ہیریس 20 اکتوبر 1964 کو آکلینڈ کیلیفورنیا میں پیدا ہوئیں۔

    ذرائع کے مطابق کمالا دیوی کی والدہ جن کا نام شرمالہ گوپلان تھا چھاتی کے کینسر کی سائنس دان تھیں جو 1960 میں یو سی برکلے میں انڈوکرونولوجی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے لئے ہندوستان سے ہجرت ہوگئیں۔

    کیلی فورنیا میں پیدا ہونے والی کمالا ہیرس کی والدہ بھارتی نژاد امریکی سائنس دان تھی جن کا تعلق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تھا تاہم کمالا کے والد کا تعلق جمیکا سے تھا اور وہ پروفیسر تھے۔

    کمالا ہیرس 2004 سے 2011 کے دوران دو مرتبہ سان فرانسیسکو کی ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل رہی تھیں جس کے بعد 2011 سے 2017 کے دروان دومرتبہ کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل منتخب ہوئی تھیں اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی نہ صرف پہلی خاتون تھیں بلکہ گنجان ریاست کی پہلی سیاہ فارم اٹارنی جنرل بن گئی تھیں۔

    جنوری 2017 میں انہوں نے کیلیفورنیا کے جونیئر امریکی سینیٹر کے طور پر حلف اٹھایا اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں اور اسی طرح امریکی تاریخ میں کیرول موسیلے براؤن کے بعد دوسری سیاہ فارم خاتون بن گئی تھیں۔کمالا ہیرس 2008 میں آنے والے مالی بحران کے دوران کئی خاندانوں کے دفاع پر اکثر فخر کا اظہار کرتی ہیں جہاں انہوں نے بڑے بڑے مقدمات کا سامنا کیا۔

    خود کو متوسط طبقے کی نمائندہ قرار دینے والی کمالا ہیرس پولیس کے ظلم اور سیاہ فارم غیر مسلح افراد کے قتل کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔کمالا ہیرس 2016 میں کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹس کی سینیٹر منتخب ہوئیں اور وہ امریکی تاریخ میں منتخب ہونے والی دوسری سیاہ فارم خاتون سینیٹر بن گئیں۔

    بعد ازاں 2019 میں امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کے امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

    ٹوئٹر میں جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کمالا ہیرس نے کہا تھا کہ ‘ہمارے ملک کا مستقبل آپ اور دیگر لاکھوں افراد پر منحصر ہے جو ہماری امریکی اقدار کے لیے ہماری آوازیں بلند کررہے ہیں’۔

    ان کا کہنا تھا کہ ‘اسی لیے میں امریکا کے صدر کے منصب کے لیے مہم چلارہی ہوں’۔کمالا دیوی کی زندگی کے نجی پہلووں‌پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہےکہ کمالا دیوی کے والد ڈونلڈ ہیرس ، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایمریٹس کے پروفیسر برائے معاشیات ہیں ، جو یوسی برکلے میں معاشیات میں گریجویٹ کی تعلیم کے لئے 1961 میں جمیکا سے ہجرت کر گئے تھے

    کمالا دیوی کے بارے میں معلوم ہوا ہےکہ وہ ایک کالے بپتسمہ دینے والے چرچ اور ہندو مندر میں جاکر بڑی ہوئی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اور اس کی بہن اس موقع پر ہندوستان کے مدراس (اب چنئی) میں اپنی والدہ کے اہل خانہ سے مل گئیں

    اطلاعات کے مطابق ہیرس نے برکلے کے اسکول ڈیسیگریسیشن بسنگ پروگرام کے دوسرے سال میں کنڈرگارٹن شروع کیا جب وہ 7 سال کی تھیں تو اس کے والدین نے طلاق دے دی۔

    وہ اور اس کی بہن ہفتے کے آخر میں پالو الٹو میں اپنے والد سے ملنے جاتی تھیں تو انہوں نے بتایا کہ ہمسایہ ممالک کے بچوں کو سیاہ فام ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔

    جب وہ 12 سال کی تھی ، تو حارث اور اس کی بہن اپنی والدہ کے ساتھ کینیڈا کے کیوبک کے مانٹریئل چلے گئے ، جہاں ان کی والدہ نے یہودی جنرل اسپتال میں تحقیقاتی پوزیشن قبول کی تھی اور میک گل یونیورسٹی میں تدریس دی تھی۔

    وہ واشنگٹن ڈی سی میں ہاورڈ یونیورسٹی میں داخل ہو گئی جہاں انہوں نے کیلیفورنیا کے سینیٹر ایلن کرینسٹن کے لئے میل روم کلرک کی حیثیت سے پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس ڈبل ایم اے پاس کا ،

    وہی کمالا دیوی جس نے زندگی میں بڑے کھٹھن سفرطئے کئے اب ایک ایسے سفر کی طرف رواں ہے کہ اگروہ منتخب ہوگئیں‌تو امریکہ میں سیاہ فاموں‌کے خلاف نفرت میں کمی آسکتی ہے

  • الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں…از… ابوارحام محمد الازہری

    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں…از… ابوارحام محمد الازہری

    کچھ روز قبل مجھے اپنے مادر علمی میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔ کورونا کے باعث تمام تعلیمی اداروں کی طرح دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں بھی گذشتہ چند ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں . مگر حالیہ ایام میں دورہ حدیث شریف کے طلباء کے امتحانات کے باعث ادارے کو جزوی طور پہ کھولا گیا۔ اساتذہ کرام سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا تو میری ملاقات قبلہ علامہ حافظ نعیم الدین صاحب الازہری سے ہوئی۔

    آپ سے جامعہ الازہر الشریف کے احوال پہ تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ اور باتیں بھی ہوئیں جو خالصتاً علمی نوعیت کی تھیں کچھ کتب پر تبصرے بھی ہوئے۔ باتوں باتوں میں الحاد و ملحدین کا ذکر ہوا تو قبلہ فرمانے لگے کہ کاشف صاحب ہم نے ایک 3 روزہ سیشن شروع کیا ہے آپ بھی اس میں شامل ہو جائیے۔ آمنا کہتے ہوئے استاذی المکرم کے حکم پہ اس کلاس کا حصہ بنا جو زوم ایپ پہ رد الحاد و ملحدین کے حوالے سے انعقاد پذیر تھی۔ کلاس کیا تھی گویا علم کا ایک بحر بے کنار تھا اور مجھ جیسے ناکارہ خلائق کو ایک بار پھر گلستان ضیاءالامت سے خوشہ چینی کا شرف مل رہا تھا۔

    اس سیشن کا عنوان:
    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین کے اعتراضات کا علمی محاکمہ اور نسل نو کی الحاد پر فکری بالیدگی کے ذرائع

    اس سیشن کے ابتدائیے میں جامعہ الازہر الشریف کے فارغ التحصیل عظیم مذہبی سکالر جناب ثاقب شریف الازھری نے ایک اہم ترین موضوع کی طرف توجہ دلائی جو اس دور کی اہم ضرورت بھی ہے اور ملحدین کے رد کے لیے نوجوان طبقہ کے لیے نسخہ اکسیر بھی۔

    ثاقب صاحب نے فرمایا کہ آج کے دور میں ملحدین کا رد کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ آپ دلیل کے ساتھ نرمی سے بات کریں قرآن کریم تو فرعونِ موسیٰ سے بھی کلام کرنے کے لیے قول لینا کی ترغیب دیتا ہے۔ ان اصول اختلاف کو سکھانے کے بعد الحاد کے مادہ اشتقاق کو زیر بحث لایا گیا اور اس کی لغوی و اصطلاحی تعریف بیان کی گئی۔ الحاد اپنے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے ظلم کا مترادف ہے اور راہ حق سے اعراض کرنے والے کو اسلام ملحد کہتا ہے۔

    لغت کی کتابوں کے ساتھ ساتھ یہی معنیٰ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے اللہ رب العزت نے الحاد کے صریح لفظ کو سورۃ الحج میں ذکر فرماتے ہوئے اس سے مراد "راہ حق سے روگردانی” ہی لی ہے۔ عہد جدید و قدیم ہر زمانے کے ملحدین کے اعتراضات کا اگر علمی محاکمہ کیا جائے تو درحقیقت یہ حقیقت سے اعراض ہی ہے کیونکہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اللّٰه رب العزت کی ذات بابرکات ہے اور ملحدین کا بنیادی اعتراض ہی وجود باری تعالیٰ پر ہے۔ ملحدین اپنے عقائد کی بنیاد بھی انکار وجود باری تعالیٰ پہ رکھتے ہیں۔ اور یہ نظریہ جدید دور کی پیداوار نہیں بلکہ زمانہ قدیم اور عہد صحابہ و تابعین سے چلا آ رہا ہے۔

    اللّٰه کریم کی ذات کا انکار وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر یہ طبقہ آج بھی قائم ہے امام اعظم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد میں ان بدطینت لوگوں کے نظریات کی عقلی و نقلی دونوں طرق سے نفی فرمائی اور مناظرہ بھی کیا۔ لیکن یہ نظریہ ازمنہ قدیم میں محدود پیرائے پر محدود طبقے تک ہی رہا۔ زمانہ جوں جوں ترقی کرتا گیا علمانیین(سیکولر طبقات) اور دیگر صیہونی و صلیبی طاقتوں کو جب عروج ملنے لگا تو ڈارونائز لوگ پیدا ہونے لگے اور ڈارون (جو الحادی نظریات کا موجد تھا) نے الحادی نظریات کو سائنٹیفک بنیاد پر فروغ دیا۔ جس سبب الحاد کو ایک نئی فکر ملی جو فکر آج بھی ڈارون ازم کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔

    لیکن یہ ساری فکر عالم کفر تک ہی محدود رہی اسلامی ممالک اپنے نظریات میں خالص تھے کہ اچانک خلافت عثمانیہ ٹوٹ گئی خلافت کے منتشر ہونے کی دیر تھی مصطفیٰ کمال اتاترک اور اس جیسے کئی لبرلز نے اسلامک معاشروں میں ماڈرنزم کے نام سے الحاد کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ ڈاروانائز اور لبرل طبقے نے ہر دور میں سادہ لوح مسلمانوں کو عقلی ادلہ اور سائنسی نظریات سے مات دینے کی کوشش کی۔ مگر امت مسلمہ پر اللّٰه کریم کا یہ احسان ہے کہ الله کریم نے اپنے ہی کلام قرآن مجید سے مسلمانوں کو عقلی ادلہ بھی سکھائے اور ان سے استدلال کا طریقہ کار بھی سمجھا دیا۔ قبلہ ثاقب صاحب نے چند ایک امثلہ سے قرآن کریم کے عقلی ادلہ کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو مکمل فرمایا۔

    یوں سیشن کا ابتدائیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پہلے سیشن کا پہلا حصہ مکمل ہوا دوسرا حصہ نماز عشاء کے لیے تقریباً 25 منٹ کے توقف کے بعد دوبارا شروع ہوا۔ جس میں محترم المقام حضرت علامہ نعیم الدین الازہری صاحب نے الحاد اور دیگر فتن کو موضوع بحث بنایا۔

    قبلہ نے ابتداء میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے فتنوں کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے امت مسلمہ کو تنبیہ فرمائی۔ آپ نے بتایا کہ رسول پاک صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایسا پرفتن دور بھی آئے گا کہ انسان صبح کے وقت تو مومن ہو گا مگر شام تک کافر ہو جائے گا اور اگر شام کو مومن تھا تو صبح تک کفر کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ آپ نے عہد قدیم و جدید کے متعدد فتنوں کا ذکر فرمایا جن میں سے آج الحاد، قادیانیت، غامدیت اور جہلمی فتنہ بڑی سرعت سے ہماری رگ و پے میں سرایت کرتا نظر آتا ہے۔

    آپ نے طلباء کو ان جدید فتنوں سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ ان کے تدارک کا بھی مختصراً طریقہ کار سمجھایا۔ علامہ نعیم الدین الازھری نے فرمایا کہ اسلام نے انسانیت کے سدھارنے کے 3 طریق بتائے ہیں۔ جنھیں قرآن کریم کی سورۃ النحل کی 125 ویں آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے جہاں اللّٰه رب العزت نے واعظین، خطباء و مشائخ کو یہ درس دیا ہے کہ حکمت و دانائی اور فراست کے ساتھ لوگوں کو اللّٰه کریم کے طریق رحمت کی دعوت دی جائے۔

    انسانیت میں ڈھٹائی کے بھی تو درجے ہیں اگر کسی کو حکمت کی سمجھ نہ آئے تو رب کعبہ نے عمدہ نصیحت کا حکم دیا بحث کو تیسرے درجے میں رکھا ساتھ فرما بھی دیا کہ مجادلہ(بحث) تو کرو مگر مجادلہ ان کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کے مطابق احسن انداز میں کرو ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے بھاگ جائیں۔

    آج مجموعی طور پر ہمارے واعظین و خطباء کا حال یہ ہو چکا ہے کہ ہر فرد دوسرے فرد پر ہر گروہ دوسرے گروہ پر ذاتی و مسلکی و گروہی تعصب کی بنا پر کفر کے فتوے لگا رہا ہے۔ فروعی اختلافات کی وہ گتھیاں جو اہل خانہ نے اپنی چاردیواری میں سلجھانا تھیں انھیں اسٹیجز کی بحث بنا کر تشدد کو ہوا دی گئی۔ اور ہم اتنے حصوں میں بٹ گئے کہ ہم نے مجتمع ہو کر جن بین الاقوامی عصبیتوں کا خاتمہ کرنا تھا وہ جوں کی توں ہی رہیں مگر ہم منتشر ہو گئے نتیجتاً علم، عمل اور علماء سب کچھ ہم سے عنقاء ہو گیا۔

    معاً بعد آپ نے ملحدین کے اسلوب اعتراض کو مفصل انداز میں ذکر کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ حیرت انگیز بات سننے کو ملی کہ ہماری نئی جنریشن اور نوجوان نسل اس فتنے کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔ جس کا سبب دین سے عدم واقفیت اور علماء سے دوری ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی اس حوالے سے انتہائی ناقص ہے طلباء کی ذہنی و فکری بالیدگی کو اس نظام اور نصاب نے آسودگی سے بدل دیا ہے نتیجتاً آج کا جدید ذہن الحاد کی زد میں آ رہا ہے۔ قبلہ استاذی المکرم نے آخر میں طلباء و علماء کو یہ نصیحت فرمائی کہ آج کے اس پرفتن دور میں ان مسائل کو موضوع بحث بنانے کی قطعاً حاجت نہیں جو ختم ہو چکے ہیں جن کا ماحصل کچھ نہیں۔ بلکہ ان فتنوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جو امت مسلمہ کو تباہی کی دہانے تک پہنچانے کو پر تول رہے ہیں۔

    انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ کی روشنی میں یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ رب العزت کااہل اسلام کو حکم ہے کہ جہاں دین اور مقدساتِ دین کا انکار کیا جا رہا ہو ایسی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ایسی صحبتوں سے گریز کریں وگرنہ ان کے عقائد بھی خراب ہو جائیں گے . ہاں اگر فتنہ کی سرکوبی کے لیے تیاری اور علمی پختگی ہو تو تب اصلاح کی نیت سے ضرور معترضین سے بات کرنی چاہیے .

    ان دونوں نشستوں میں علامہ ثاقب شریف صاحب الازہری اور قبلہ نعیم الدین صاحب الازہری نے نا صرف سیر حاصل گفتگو و راہنمائی فرمائی بلکہ چیدہ چیدہ مگر انتہائی اہم کتابوں اور ان کے مصنفین کا بھی ذکر فرمایا۔ تاکہ طلباء خود سے اپنے مطالعہ کو وسعت دیں۔ اور ان موضوعات پر تیاری کریں۔ یہ دونوں لیکچرز تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل تھے مگر دونوں اپنی جامعیت کے اعتبار سے کئی دنوں کی محنت کا ثمر تھے۔ مالک کریم آستان ضیاءالامت اور آپ کے تمام متوسلین و خدام کو تاابد علم دوست رکھے اور اس گلستان کو ہمیشہ ثمر بار رکھے آمین یارب العالمین

    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں…از… ابوارحام محمد الازہری

  • جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    یوں تو دنیا بھر میں لوگوں کی منفرد ،دلچسپ اور عجیب و غریب سرگرمیوں کے بارے میں اکثر وبیشتر سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھنے والوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ حیران و پریشان کر دیتی ہیں اور دلچسپی کا باعث بنتی ہیں-

    باغی ٹی وی : اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر حیران کن اور دلچسپ ویڈیو ز اور تصاویر وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اسی طرح سماجی فابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے اور ہر کوئی اس ویڈیو سے لطف اندوز ہو رہا ہے-
    https://twitter.com/Habibsu16092600/status/1292696204258750464
    حبیب سلطان اعوان نامی صارف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر چائے کے شوقین لوگوں کیلئے ایک ایسی ہی دلچسپ ویڈیو شئیر کی ہے جس میں ایک ایسا چائے کا ہوٹل دیکھا جا سکتا ہے جو کہ درخت پر بنایا گیا ہے-

    اس انوکھی طرز کے بنے عجیب و غریب ہوٹل کی چائے پینے کے لئے چائے کے شوقین لوگوں کو درخت پر چڑھنا پڑتا ہے جہاں چائے پینے والوں کے بیٹھنے کے لئے چارپائی بھی رکھی گئی ہے-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس ہوٹل کو دیکھنے اور چائے پینے کے لئے لوگوں کی ایک خاصی تعداد جمع ہے اور وہ اس انوکھے ہوٹل کو دیکھ کر حیرانی اور دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں –

    حبیب سلطان نامی صارف نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے چائے کے شوقین لوگوں جو اس ہوٹل سے چائے پینے کی دعوت دیتے ہوئے لکھا کہ چاۓ کے شوقین تو بہت لوگ ہوں گے لیکن ایسی چاۓ کسی نے نہیں پی ہوگی جو شوقین ہیں چاۓ کہ وہ یہ چاۓ ضرور پیئں –

    چائے کے نئی طرز کے انوکھے ہوٹل کی ویڈیو سو شل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے اور وہ ہوٹل کے مالک کے اس آئیڈیا کی تعریف کرتے ہوئے دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں-


    ایک صارف نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میں بہت۔چائے پیتی ھوں پر درخت پر چڑھ کر چائے آم کا درخت امرود کا درخت سیب کا درخت پھر پیش ہے چائے کا درخت-


    ایک صارف نے کہا کہ وہ دودھ والی چائے کی بالجکل بھی شوقین نہیں ہیں لیکن انہیں ایک دفعہ اس چارپائی پر ضرور بیٹھنا ہے جو درخت پر بنے ہوٹل پر چائے پینے والوں کے لئے رکھی گئی ہے-


    ایک صارف نے تو اسے پاگل پاگل پن قرار دیا-
    https://twitter.com/waqashussain777/status/1292700381349380098?s=20


    ایک صارف نے لکھا کہ ان کو کوئی جگہ نہیں ملی تھی چائے کے چکر میں ہڈی پسلی تڑوا لو-

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    زندگی ایک بار ملتی ہیں اسے بھر پور طریقے سے جینا چاہیئے مایا علی

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    مہوش حیات کی مداحوں سے جعلی ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی رپورٹ کرنے کی اپیل

    یوٹیوب پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیئے بلال مقصود

  • قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    عید الاضحی سنت ابراہیمی ہونے کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کابھی بے مثال اور منفرد موقع ہے، جس سے مذہبی فریضے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات معاشی طور پر بھی مستفید ہوتے ہیں۔

    بڑی عیدجسے قرنانی کی عید اورمعروف اوراسلامی نام عید الاضحٰی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے گزرچکی ہے اورعید کے دن سے لیکراگلے تین دن تک سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جومعاشی سرگرمیاں دیکھنے میں ملی ہیں اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

    جہاں پر یہ تہوار غربا و مساکین کو خوراک مہیا کرتا ہے وہاں یہ ہماری معیشت کے پہیے کو تیز رفتاری بھی بخشتا ہے۔عید قربان پر ہرسال پاکستانیوں کی کثیر تعداد سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے لاکھوں چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کرتی ہے۔

    عید الضحیٰ کے موقع پر عوام سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی کر تے ہیں،اِس نیک عمل کا ثواب تو مسلمانوں کو ملتا ہی ہے لیکن دوسری جانب لیدر انڈسٹری اپنی 30 فیصد چمڑے کی طلب قربان ہونے والے جانوروں کی کھال سے پوری کرتی ہے۔ رواں برس کورونا کے باعث عالمی منڈی بند ہونے کی وجہ سے چمڑے کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ سال 2019میں عید قربان پر 30 لاکھ سے زائد بڑے جانوروں جبکہ 23 لاکھ بھیڑ بکریوں اور 3 لاکھ سے زائد دنبوں کی قربانی دی گئی تھی۔جس سے معیشت کو 200ارب روپے سے 300 ارب روپے سے زیادہ کا سہارا ملا تھا۔

    اِس شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ جہاں چمڑا سازی کی صنعت سے کئی لوگوں کا روزگار جڑا ہے وہاں چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات سے 1 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھی حاصل ہو تا ہے۔ عیدالالضحیٰ پر قربانی کی کھالوں سے ملک میں چمڑے کی صنعت کو بہت فروغ ملتا ہے۔جبکہ گاڑیوں میں جانور لانے اور لے جانے والوں نے کروڑوں کا کاروبارکیا۔

    ایک روپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنت ابراہیمی کے تحت ہر سال عید قرباں پر لاکھوں جانور قربان کئے جاتے ہیں، عید الاضحی پر ہر سال 350 سے 400 ارب روپے تک کا کاروبار ہوتا ہے، مویشیوں کے علاوہ اس عید پر کھال، چارہ، چھری چاقو، قصاب، آرائشی سامان کی مد میں ہر سال معیشت کو تقریباً 4 سو ارب کا فائدہ ہوتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی عید پر عوام نے عید الاضحی پر سنت ابراہیمی کی پیروی کیلئے جانوروں خریداری اور دیگر اشیاء کے علاوہ کپڑوں اور جوتوں و دیگر اشیاءکی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ کرکے معیشت کو فائدہ دیا تھا۔

    اسی طرح 2018میں عید پر تقریبا 350 ارب روپے پاکستانی معیشت میں شامل ہوئے تھے۔ سال 2017 میں تقریبا 70 لاکھ جانوروں کو عید کے موقع پر ذبح کیا گیا۔ تین ارب روپے سے زائد مویشیوں کے چارے کے کاروبار نے کمائے تھے۔ کھالوں سے چمڑے کی تیاری کے لئے فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملاتھا۔ سال 18-2017 میں چمڑے سے 948,363 ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔چمڑے کی مصنوعات میں ملبوسات، جوتے، دستانے، کپڑوں کے علاوہ دیگر اشیا شامل ہیں۔

    عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ملک بھر میں کتنی مالیت کے جانور فروخت ہوتے ہیں اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں البتہ قربانی کے بعد جمع ہونے والی کھالوں سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

    اس سال پورے ملک میں سنت ابراہیمی کے حوالے سے قربانی کی مد میں 3کھرب کے لگ بھگ خرچ ہوئے ہیں ۔اس میں تمام اقسام کے اخراجات شامل ہیں جانوروں کی خریداری ،مویشی منڈی کے کرائے ،ٹرانسپورٹ کے کرائے ،قصابوں کی اجرتیں اور دیگر چھوٹے اور نادیدہ اخراجات شامل ہیں ۔اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صرف کراچی میں 65ارب روپئے کے قربانی کے مویشی فروخت ہوئے ہیں پورے ملک میں صرف قربانی کے جانوروں کی خریداری میں ایک کھرب سے زائد خرچ ہوئے ہیں ۔

    اسلام کے معاشی اصولوں کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ اسلام تقسیم دولت اور گردش دولت پہ زیادہ زور دیتا ہے اسی لیے اسلام میں دولت کو گن گن کر جمع کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ خرچ پر زیادہ زور دیتا ہے یعنی یہ کہ آپ کو اپنے کاروبار میں فائدہ ہورہا ہے تو اس سے مزید اپنے کاروبار کو وسعت دیں اس سے بیروزگاری کم ہوگی پھر بھی سال میں کچھ رقم بچ جاتی ہے تو اس پر زکوۃ فرض کی گئی ہے ،تاکہ دولت معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچ جائے اسی طرح صدقات پر بھی زور دیا گاہے

    مختلف احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے یہ بھی تقسیم دولت کی ایک شکل ہے اسی طرح تقسیم دولت کا یک اہم ذریعہ وراثت کی تقسیم بھی ہے ۔اگر ہم عید قربان میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ایک بہت بڑی دولت لوگوں کی جیبوں سے نکل کر گردش میں آتی ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار لگ جاتاہے یا بڑھ جاتا ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے سنت ابراہیمی کی بیشتر چیزوں میں جن چیزوں کو برقرار رکھا ہے اس میں یہ عید قربان کی سنت ہے ۔اس سنت کی ادائیگی سے جہاں ہم اطاعت رسول ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سنت ملک کی معشیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    عید قربان کے سماجی اثرات پر بات اگر کی جائے گی تو اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح ماہ رمضان میں ہر غریب سے غریب آدمی افطاری کی شکل میں وہ چیزیں کھاپی لیتا ہے جو عام دنوں میں اسے نصیب نہیں ہو پاتی ۔اسی طرح عید قرباں میں ہر اس فرد کو دل بھر کر گوشت کھانے کو مل جاتا ہے جتنا وہ عام دنوں میں نہیں استعمال کر پاتا ۔

    لیکن اس کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قربانی کے گوشت کی تقسیم کا احسن طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ رشتے داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ غرباء و مساکین اور مستحقین میں دیا جائے اور ایک حصہ خود اپنے استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی قربانی کا تمام گوشت اپنے استعمال کے لیے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام کی تمام وہ رشتے داروں میں تقسیم کردے تو کوئی حرج نہیں اور اگر وہ سارا گوشت مستحقین میں بانٹ دے تو یہ اس کی مرضی ہے ۔

    اس سنت ابراہیمی کے سماجی پہلو میں وہ تمام مدرسے اور خدمتی ادارے بھی آجاتے ہیں جو ان اداروں کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ہر مدرسے میں قربانی کھالیں جمع کی جاتی ہیں جہاں بچوں کو قران پڑھایا اور حفظ کرایا جاتا ہے اسی طرح سماجی خدمات کے ادارے بھی کھالیں وصول کرتے ہیں اورپھرسارا سال اس آمدنی سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں

    ویسے تو ہر سال بقرعید میں فریج اور ڈیپ فریزر عام دنوں سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں لیکن اس سال یہ شرح پچھلے تمام برسوں سے زیادہ ہے

    عید پر قربانی کے بعد جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں عید پر کھالیں جبری طور پر حاصل کرنے اور کھالوں پر چھینا جھپٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مسئلے کے تدارک کے لیے حکومت کی جانب سے کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اور عید پر جمع ہونے والی کھالوں کو بحفاظت گودام تک پہنچانے کے لیے ریاست کی جانب سے سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ی

    صرف لاہورشہرکی چند بڑی منڈیوں کی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ اعدادوشمارسامنے آتے ہیں کہ مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریدوفروخت کے ماضی کے تمام ریکارڈٹوٹ گئے ،شہر کی 12 منڈیوں میں 17لاکھ 71 ہزار 338 چھوٹے بڑے جانوروں کی خریدوفروخت ہوئی جبکہ 79ارب 45 کروڑ 67 لاکھ سے زائد کا کاروبار ہوا ۔

    تاہم شاہ پور کانجراں ،لکھو ڈیر،سگیاں،پائن ایونیو ،حضرت عثمان غنی روڈ پر سب سے زیادہ کاروبار ہوا ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے 36اضلاع میں شہر لاہور قربانی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے نمبر ون قراردیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق 10لاکھ 72ہزار 842 چھوٹے جبکہ6لاکھ 98ہزار398 بڑے جانور فروخت ہوئے ۔

    چھوٹے جانور کا 37ارب 55کروڑ 29لاکھ70ہزار ،بڑے جانور کا 41ارب 90کروڑ37لاکھ60ہزار روپے کا کاروبار ہوا۔گزشتہ برس 16 لاکھ 3 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔لکھو ڈیر منڈی میں چھوٹے بڑے 2لاکھ 30ہزار ،ایل ڈی اے سٹی 1لاکھ 17ہزار،پائن ایونیو 1لاکھ 78ہزار، کاہنہ کاچھا 1لاکھ39ہزار ،ڈیفنس نائن 1لاکھ 47 ہزار، کاہنہ رنگ روڈ1لاکھ 50ہزار ،سگیاں 2لاکھ 26ہزار، این ایف سی 1لاکھ 35ہزار، رائیونڈ مانگا منڈی 1لاکھ 11ہزار ،شاہ پور کانجراں ڈھائی لاکھ ،سندر 1لاکھ 20ہزار ،حضرت عثمان غنی روڈ سگیاں منڈی میں 1لاکھ72 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔سرکاری حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیشی نظر شہرمیں قربانی کاتناسب حج پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے زیادہ رہا،تاہم دیہی معیشت کومجموعی طورپر تقویت ملی ہے ۔

    کورونا وباء نے عالمی منڈی میں نے چمڑے کی عالمی مارکیٹ کو کریش کردیا ہے اور اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ٹینری ایسوسی ایشن بھی بحران کا شکار ہے۔ متعدد ٹینریز بند ہوگئی ہیں اور کئی ٹینریز کے پاس اسٹاکس پڑے ہوئے ہیں اور فروخت نہیں ہورہے ہیں۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کےمطابق عالمی منڈی میں چمڑے کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح اس بار جانوروں کی کھالوں کی قیمت خرید مزید کم ہوگی۔

    گزشتہ سال گائے، بیل کی کھال 500 سے 900 سو روپے میں خریدی گئی۔ اس بار بھی 500سو سے 900 سو روپے میں خریدی گئیں۔ بکرے کی کھال گزشتہ سال50 سے 130 روپے تک میں فروخت ہوئی۔ اس باربھی یہ کھال 50 روپے 130 میں خریدی گئی ہے ۔ دنبے کی کھال گزشتہ سال 80 روپے سے 100 روپے میں خریدی گئی، اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی۔ اونٹ کی کھال گزشتہ سال 800 روپے میں خریدی گئی اور اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی

    کھالوں کی قیمت گرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ کھالیں یورپ تو بھیجی جارہی ہیں، تاہم ایکسپورٹ ڈیمانڈ کم ہونے پر ہم قیمت نہیں بڑھا سکتے۔ عالمی منڈی میں پاکستان صرف لیدر فراہم کرتا ہے۔ چائنا نے جب سے آرٹیفیشل لیدر بنا کر اٹلی اور ترکی کو دینا شروع کیا ہے، کھالوں کی مارکیٹ خراب ہوگئی ہے۔ اس طرح پاکستانی لیدر کی مارکیٹ اٹلی اور ترکی میں خراب ہو رہی ہے اور ڈیمانڈ کم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کا بھی مسئلہ چل رہا ہے، اس طرح مارکیٹ پر مزید منفی اثر پڑے گا۔

    کھالوں کی قیمت میں اس کمی کے باعث انہیں جمع کرنے والے فلاحی اداروں کے عطیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فلاحی تنظیم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کھالوں کی قیمت میں مسلسل کمی سے غرباء اور مساکین کی ہونے والی معاونت میں کمی ہوئی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ قربانی کی کھالیں پہلے سے زیادہ تعداد میں جمع کی جائیں اور اس شعبے میں حکومت کی جانب سے سرپرستی بھی کی جائے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینریز کی صنعت جانوروں کی کھالوں کو پروسیس کرتی ہے اور انہیں چمڑے میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان میں کھالوں کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کی صورتحال دیکھ کر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں چمڑے کو پروسس کرنے والی ٹینریز کے علاوہ بڑے پیمانے پر چمڑے سے مصنوعات تیار کرنے والی صنعت بھی فروغ پارہی تھی مگر گزشتہ 3 سال کے بحران نے اس صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر چمڑے کی برآمدی صنعت کا حجم 100 ارب ڈالر ہے۔

    یہ معاشی سرگرمیوں کا نقشہ پاکستان کا بیان کیا گیا ہے اگرعالم اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے توپھرتوصورت حال اوربھی دلچسپ بن جاتی ہے ، جیسا کہ امریکی ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی چند دن کی عیدالاضحیٰ کی سرگرمیاں معیشت کووہ قوت بخشتی ہیں جوساری دنیا کی سال بھر کی معاشی سرگرمیاں نہیں بن سکتیں

  • کالے جادو پر سزا کا بل زیر التوا اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟ از قلم۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    کالے جادو پر سزا کا بل زیر التوا اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟ از قلم۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    ایک مسلمان ریاست و حکمران کا کام مسلم معاشرے میں برائی کا خاتمہ اور لوگوں کی اصلاح ہوتا ہے اگر کوئی فرد تنظیم یاں گروہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہو تو حکومت وقت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کا خاتمہ کیا جائے
    پاکستان میں جادو ٹونے کا کام سرعام ہو رہا ہے جو کہ ایک قبیح فعل ہے قرآن و حدیثِ نے اس کی سخت ممانعت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچوں اور جادو کرنے اور کرانے سے بچو ۔۔ بخاری 5764
    ایک کم علم مسلمان بھی جانتا ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اس فعل کے مرتکب کا ہمیشگی ٹھکانہ جہنم ہے اور اسی کے بعد سب سے بد عمل جادو کرنا یا کروانا بھی ہے
    اللہ تعالی قرأن میں فرماتے ہیں
    اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے ۔سلیمان نے تو کفر نا کیا تھا بلکہ یہ کفر شیطان کا تھا،وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے ۔ سورہ البقرہ 102
    اللہ تعالی نے حضرت سلیمان کے دور میں جنوں کی مثال دے کر ہمیں سمجھا دیا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھلا کر کفر کرتے تھے اور کفر بہت بڑا گناہ ہے
    آج ہم میں بھی یہ کفر بہت آ گیا ہے نا صرف یہ کفر کیا جاتا ہے بلکہ اس کی تشہیر بھی سرعام کی جاتی ہے پاکستان کی ہر دیوار،اخبار،چینل حتی کہ سوشل میڈیا بھی انہی کے اشتہاروں سے بھرا پڑا ہے
    افسوس کہ ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے جعلی پیروں اور عاملوں کے اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف ہمارے مال کو لوٹتے ہیں بلکہ ہمارے ایمان کو بھی خراب کرتے ہیں بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان اللہ رب العزت کے قرآن اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ہونا چائیے مگر افسوس آج ہم اس نام نہاد جعلی پیروں کے چکر میں اپنی دولت و ایمان کے ساتھ ساتھ اپنی عزتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ابھی ٹیلی ویژن و سوشل میڈیا پر کتنے ہی ان خبیث عاملوں اور بابوں کی عورتوں کی عزت کیساتھ کھلواڑ کرتے ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں مگر افسوس سب دیکھ ، سمجھ کر بھی ہم نادان بنے بیٹھے ہیں ایک طرف تو یہی میڈیا ان عاملوں پیروں،جعلی بابوں کے جرائم ہمیں دکھلاتا ہے تو دوسری طرف یہی میڈیا انہی بدکرداروں کی تشہیر میں بھی مصروف ہے اور ان کی تشہیر کرکے نوجوان نسل کو محبت میں فتح،ساس بہو کی لڑائی،دشمنوں کو بیمار کرنے اور ہنستے بستے گھروں کا سکون برباد کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں اور یہ عامل بابے بغیر کسی خوف کے اپنا مکرو دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں
    جادو کی روک تھام کیلئے پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں اس پر سابق حکمران جماعت ن لیگ کے سینیٹر چوہدری تنویر خان نے اگست 2017 کو ایوان بالا میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں جادو ٹونہ کرنے والے عاملوں،بابوں کے خلاف قانون بنا کر اس بدفعل پر دو سے سات سال تک قید اور دو لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا کیساتھ اس کی ہر قسم کی تشہیر کو ممنوع قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی مگر یہ بل پاس نا ہو سکا اور ابھی بھی زیر التواء ہے اس بل کے پاس نا ہونے سے ہمارے حکمرانوں کی اسلام سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جس قبیح فعل کو قرآن و حدیث نے حرام کیا ،کہ جس میں بچوں تک کو قتل کر دیا جاتا ہے کہ جس میں قبروں میں سے مردے نکال کر بے ان کی حرمتی کی جاتی ہے، اور ہنستے بستے گھروں کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے اس کے خلاف پیش کئے گئے بل کو منظور نہیں کیا گیا جبکہ ذاتی مفادات کو ہمارے یہی حکمران بغیر سوچے سمجھے بھاری اکثریت سے منظور کروا لیتے ہیں
    حکومت وقت کو چائیے کہ اخبارات میں ان کے اشتہارات پر پابندی کیساتھ ان عاملوں،بابوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائے تاکہ لوگ اپنے جان و مال کے علاوہ اپنی عزت و آبرو بھی بچا سکیں اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کچھ حد تک کم ہو سکیں
    اگر حکومت وقت اسلام و پاکستان سے مخلص ہے تو ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے کا حق ادا کرنے کیلئے اس بل کو پاس کروائے

  • مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مار خور ایک نہایت ہی اعلی خصوصیات کا حامل جانور ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مشکل سے مشکل پہاڑی راستوں پر با آسانی سفر کرتا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ آنے والے سالوں میں مارخور کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مار خور کی تعداد صرف چند ہزار ہے اور پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

    کچھ پاکستانی اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ اگر مارخور نہ رہا تو پاکستان کا قومی جانور ختم ہو جائے گا، لیکن میں اس خیال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ مارخور سے ملتا جلتا ایک جانورہمارے معاشرے اور پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے پہل تو یہ جانوربہت کم تعدادمیں پایا جاتا تھا لیکن اب ہر گلی اور محلے میں پایا جاتا ہے اور اس جانور کا نام ہے حرام خور۔ یہ درندہ صفت انسان ملک کے بہت سے اداروں میں پائے جاتے ہیں جو حرام کے چند روپوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

    میری حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ مارخور کی بجائے حرام خور کو اپنا قومی جانور قرار دیا جائے کیونکہ ان کے جانور ہونے پر تو اختلاف کسی کو نہیں ہوگا، اور ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ حرام خور وطنِ عزیز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کئی صدیوں تک ان کے ختم ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہیں اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں کرپٹ عناصریعنی حرام خوروں کو پاکستان کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

  • اسلام آباد میں مندر کی تعمیر خوش آئند، مگر مساجد بھی توجہ چاہتی ہیں  …از…اسد عباس

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر خوش آئند، مگر مساجد بھی توجہ چاہتی ہیں …از…اسد عباس

    ریاست مدینہ اپنے دارلخلافہ میں سرکاری خرچ پر مندر تعمیر کرے گی جس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اقلیتوں کو اپنی مذہبی عبادات میں مکمل آزادی ہو یا انہیں اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر و دیکھ بھال میں کامل خود مختاری۔ غیر مسلموں کو جو حقوق اسلام نے دئیے ہیں کوئی اور مذہب اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی انسانی تاریخ سے اسلام کے انصاف جیسی مذہبی رواداری و ہم آہنگی کی کوئی نظیر پیش کی جا سکتی ہے۔

    ریاست اسلامی پر لازم ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم شہریوں کی جان ومال عزت و آبرو کے ساتھ ان کی عبادت گاہوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا ہے مساجد کی تعمیر و دیکھ بھال مانگے ہوئے عوامی چندے پر ہو اور ریاست مدینہ چرچوں، گردواروں اور مندروں کی تعمیر شاہی خزانے سے کرے۔ مملکت خداداد جسے خالصتاً اسلام نے نام پر بنایا گیا۔

    آج اس اسلامی ریاست کے حکمران ان اغیار کی قربت حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے جا رہے ہیں جو مساجد کو شہید کر کے اس جگہ بت خانوں کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ کشمیر میں ایک طرف ہندو ریاست کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم عروج پر ہیں

    جبکہ دوسری طرف مساجد کی تالہ بندی بھی۔ تمام بین الاقوامی میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فقط نماز جمعہ کی ادائیگی بھی مہینوں تک نہ ہو سکی۔ جبکہ اسلامی پاکستان میں ریاست کی طرف سے مساجد کی نگہبانی تو درکنار، مسجدوں میں بجلی کے بل کے ساتھ ٹیلی ویژن فیس وصول کرنے کی بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔

    لاحول ولا قوۃ
    کئی دہائیوں تک دہشتگردی اور انتہا پسندی کے شکار معاشرے میں اس طرح کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی اقدام سے شدت پسند فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکمران طبقے کو سمجھنا ہو گا کہ غیر مسلموں کی محرومیوں کا ازالہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر نہیں کیا جا سکتا۔

  • پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا  تحریر: غنی محمود قصوری

    پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا تحریر: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا کا ہے ہم سب باخبر رہنے کیلئے ان کا سہارا لیتے ہیں جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہے
    ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے افراد اور مہذب افراد کی پہچان ان کے کردار سے ہوتی ہے
    پاکستانی پرنٹ میڈیا پر انتہائی گندے اور غیر مہذب اشتہار دیکھنے کو ملتے ہیں ایسے ہی پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پر مختلف چینلز پر اشتہارات اور ڈراموں کی شکل میں قوم کی غیرت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے
    افسوس کہ اس وقت ان پر مثبت کی بجائے منفی پہلو زیادہ اجاگر کئے جا رہے ہیں خاص طور پر پاکستانی ٹیلی میڈیا ہماری نسلوں کو ڈرامے دکھا کر اسلام سے دور کر رہا ہے
    پکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے ماضی میں کئی ڈرامے ایسے بنائے اور دکھائے گئے جن میں مقدس رشتوں جیسے،دیور،بھابھی،ساس کی پامالی کی جاتی رہی جس کے دیکھنے سے پاکستانی معاشرے پر بہت برے اثرات پڑے اب ایک بار پھر ایسا ہی جلن نامی ڈرامہ نجی ٹی وی چینل پر 17 جون سے دکھایا جائے گا جس میں بہن اپنے بہنوئی یعنی بہن کے خاوند پر فریفتہ ہے ،آفس میں کام کرنے والی کی بیوی پر آفس کا باس دل پھینک چکا جبکہ اللہ معاف کرے سسر اپنی بہو پر فدا ہے افسوس کی بات ہے کہ ان پاکستانی چینلز کو کنٹرول کرنے کیلئے پیمرا نامی ادارہ بھی موجود ہے مگر ماضی میں بھی اس ادارے کی جانب سے کوئی خاص قابل ذکر کاروائی نا سامنے آئی اور اب جبکہ اس جلن ڈرامے کا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے تب بھی اس ادارے کی طرف سے کوئی بھی ایکشن سامنے نہیں آیا جس پر اس ادارے کے کردار پر شکوک وشبہات مذید بڑھ رہے ہیں
    اللہ معاف فرمائے کہ سالی اور بہنوئی کا ایک مقدس رشتہ ہے اور سالی بہنوئی کیلئے غیر محرم ہے اور سالی کا اپنے بہنوئی سے پردہ لازم ہے
    اسلام نے ایک وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی ہے مگر سگی بہنوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک ہی وقت میں دو بہنوں سے نکاح حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد ایک بہن کے ہوتے ہوئے دوسری کو اس کی سوتن بننے سے بچانا ہے تاکہ بہنیں آرام اور سکون سے زندگی بسر کر سکیں
    اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا۔۔
    اور یہ حرام کیا گیا کہ تم دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو ۔۔سورہ النساء آیت 32
    فطری طور پر ہر عورت کو اپنی سوتن سے جلن محسوس ہوتی ہے اسی لئے بہنوں میں بگاڑ سے بچاؤ کیلئے اللہ نے دو بہنوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں حرام کر دیا مگر یہاں پاکستانی چینل اس مقدس رشتے کو پامال کرتے ہوئے دکھا رہے ہیں بیوی کے زندہ اور نکاح میں ہونے تک بیوی کی بہن یعنی سالی نکاح کیلئے حرام ہے یعنی بہنوں کی طرح ہے مگر افسوس کہ یہاں اسی بہن کیساتھ عاشقی معشوقی دکھائی جارہی ہے جس کا زیادہ تر اختتام زنا پر ہوتا
    اور پھر ڈرامے کا نام بھی رکھا ہے جلن یعنی کہ بہن کو بہن سے جلن ہے.
    سسر وہ رشتہ ہے کہ جس میں بہو اپنے والد کے بعد سسر کو ابو یا ابا جان کہتی ہے اور سسر بہو محرم ہیں بہو خاوند کی غیر موجودگی میں سسر کیساتھ سفر کر سکتی ہے اس کیساتھ حج و عمرہ پر جا سکتی ہے کیونکہ بیٹی کے بعد بیٹی بہو ہوتی ہے مگر افسوس کہ اس مقدس ترین رشتے کی بھی پامالی دکھائی جانے لگی اور لوگوں کو گمراہ کر کے اسلام سے دور کیا جانے لگا ہے مگر افسوس کہ آزاد مملکت پاکستان میں اس سرعام اسلام سے دوری کرنے پر کوئی ایکشن لینے والا نہیں خاص کر پیمرا کو چاہیے کہ اس ڈرامے کو رکوائے تاکہ مقدس رشتوں کی پامالی ہونے سے بچ جائے اور ہمارا پاکستانی معاشرہ دین اسلام کی روشنی میں گزر بسر کر سکے
    کچھ لوگ کہتے ہیں جی ایسا کچھ تو انڈین فلموں ڈراموں میں بھی دکھایا جاتا ہے تو ان سے عرض ہے کہ وہ تو ایک کافر ملک ہے وہاں کے پروڈیوسر ہدایتکار،گلوکار،فنکار غرضیکہ زیادہ تر کافر ہیں اور ان میں سزا ،جزاء،قبر قیامت کا تصور نہیں تو پھر ان پر گلہ کیسا گلہ تو اپنوں پر ہے جو اسلام کے نام لیوا ہیں اور کام کفار جیسا کرتے ہیں