Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    یوں تو دنیا بھر میں لوگوں کی منفرد ،دلچسپ اور عجیب و غریب سرگرمیوں کے بارے میں اکثر وبیشتر سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھنے والوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ حیران و پریشان کر دیتی ہیں اور دلچسپی کا باعث بنتی ہیں-

    باغی ٹی وی : اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر حیران کن اور دلچسپ ویڈیو ز اور تصاویر وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اسی طرح سماجی فابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے اور ہر کوئی اس ویڈیو سے لطف اندوز ہو رہا ہے-
    https://twitter.com/Habibsu16092600/status/1292696204258750464
    حبیب سلطان اعوان نامی صارف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر چائے کے شوقین لوگوں کیلئے ایک ایسی ہی دلچسپ ویڈیو شئیر کی ہے جس میں ایک ایسا چائے کا ہوٹل دیکھا جا سکتا ہے جو کہ درخت پر بنایا گیا ہے-

    اس انوکھی طرز کے بنے عجیب و غریب ہوٹل کی چائے پینے کے لئے چائے کے شوقین لوگوں کو درخت پر چڑھنا پڑتا ہے جہاں چائے پینے والوں کے بیٹھنے کے لئے چارپائی بھی رکھی گئی ہے-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس ہوٹل کو دیکھنے اور چائے پینے کے لئے لوگوں کی ایک خاصی تعداد جمع ہے اور وہ اس انوکھے ہوٹل کو دیکھ کر حیرانی اور دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں –

    حبیب سلطان نامی صارف نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے چائے کے شوقین لوگوں جو اس ہوٹل سے چائے پینے کی دعوت دیتے ہوئے لکھا کہ چاۓ کے شوقین تو بہت لوگ ہوں گے لیکن ایسی چاۓ کسی نے نہیں پی ہوگی جو شوقین ہیں چاۓ کہ وہ یہ چاۓ ضرور پیئں –

    چائے کے نئی طرز کے انوکھے ہوٹل کی ویڈیو سو شل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے اور وہ ہوٹل کے مالک کے اس آئیڈیا کی تعریف کرتے ہوئے دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں-


    ایک صارف نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میں بہت۔چائے پیتی ھوں پر درخت پر چڑھ کر چائے آم کا درخت امرود کا درخت سیب کا درخت پھر پیش ہے چائے کا درخت-


    ایک صارف نے کہا کہ وہ دودھ والی چائے کی بالجکل بھی شوقین نہیں ہیں لیکن انہیں ایک دفعہ اس چارپائی پر ضرور بیٹھنا ہے جو درخت پر بنے ہوٹل پر چائے پینے والوں کے لئے رکھی گئی ہے-


    ایک صارف نے تو اسے پاگل پاگل پن قرار دیا-
    https://twitter.com/waqashussain777/status/1292700381349380098?s=20


    ایک صارف نے لکھا کہ ان کو کوئی جگہ نہیں ملی تھی چائے کے چکر میں ہڈی پسلی تڑوا لو-

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    زندگی ایک بار ملتی ہیں اسے بھر پور طریقے سے جینا چاہیئے مایا علی

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    مہوش حیات کی مداحوں سے جعلی ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی رپورٹ کرنے کی اپیل

    یوٹیوب پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیئے بلال مقصود

  • قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    قربانی : سنت ابراہیمی کے ،سماجی اور معاشی اثرات :—-از—امین طاہر

    عید الاضحی سنت ابراہیمی ہونے کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کابھی بے مثال اور منفرد موقع ہے، جس سے مذہبی فریضے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات معاشی طور پر بھی مستفید ہوتے ہیں۔

    بڑی عیدجسے قرنانی کی عید اورمعروف اوراسلامی نام عید الاضحٰی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے گزرچکی ہے اورعید کے دن سے لیکراگلے تین دن تک سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جومعاشی سرگرمیاں دیکھنے میں ملی ہیں اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

    جہاں پر یہ تہوار غربا و مساکین کو خوراک مہیا کرتا ہے وہاں یہ ہماری معیشت کے پہیے کو تیز رفتاری بھی بخشتا ہے۔عید قربان پر ہرسال پاکستانیوں کی کثیر تعداد سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے لاکھوں چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کرتی ہے۔

    عید الضحیٰ کے موقع پر عوام سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی کر تے ہیں،اِس نیک عمل کا ثواب تو مسلمانوں کو ملتا ہی ہے لیکن دوسری جانب لیدر انڈسٹری اپنی 30 فیصد چمڑے کی طلب قربان ہونے والے جانوروں کی کھال سے پوری کرتی ہے۔ رواں برس کورونا کے باعث عالمی منڈی بند ہونے کی وجہ سے چمڑے کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ سال 2019میں عید قربان پر 30 لاکھ سے زائد بڑے جانوروں جبکہ 23 لاکھ بھیڑ بکریوں اور 3 لاکھ سے زائد دنبوں کی قربانی دی گئی تھی۔جس سے معیشت کو 200ارب روپے سے 300 ارب روپے سے زیادہ کا سہارا ملا تھا۔

    اِس شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ جہاں چمڑا سازی کی صنعت سے کئی لوگوں کا روزگار جڑا ہے وہاں چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات سے 1 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھی حاصل ہو تا ہے۔ عیدالالضحیٰ پر قربانی کی کھالوں سے ملک میں چمڑے کی صنعت کو بہت فروغ ملتا ہے۔جبکہ گاڑیوں میں جانور لانے اور لے جانے والوں نے کروڑوں کا کاروبارکیا۔

    ایک روپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنت ابراہیمی کے تحت ہر سال عید قرباں پر لاکھوں جانور قربان کئے جاتے ہیں، عید الاضحی پر ہر سال 350 سے 400 ارب روپے تک کا کاروبار ہوتا ہے، مویشیوں کے علاوہ اس عید پر کھال، چارہ، چھری چاقو، قصاب، آرائشی سامان کی مد میں ہر سال معیشت کو تقریباً 4 سو ارب کا فائدہ ہوتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی عید پر عوام نے عید الاضحی پر سنت ابراہیمی کی پیروی کیلئے جانوروں خریداری اور دیگر اشیاء کے علاوہ کپڑوں اور جوتوں و دیگر اشیاءکی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ کرکے معیشت کو فائدہ دیا تھا۔

    اسی طرح 2018میں عید پر تقریبا 350 ارب روپے پاکستانی معیشت میں شامل ہوئے تھے۔ سال 2017 میں تقریبا 70 لاکھ جانوروں کو عید کے موقع پر ذبح کیا گیا۔ تین ارب روپے سے زائد مویشیوں کے چارے کے کاروبار نے کمائے تھے۔ کھالوں سے چمڑے کی تیاری کے لئے فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملاتھا۔ سال 18-2017 میں چمڑے سے 948,363 ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔چمڑے کی مصنوعات میں ملبوسات، جوتے، دستانے، کپڑوں کے علاوہ دیگر اشیا شامل ہیں۔

    عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ملک بھر میں کتنی مالیت کے جانور فروخت ہوتے ہیں اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں البتہ قربانی کے بعد جمع ہونے والی کھالوں سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

    اس سال پورے ملک میں سنت ابراہیمی کے حوالے سے قربانی کی مد میں 3کھرب کے لگ بھگ خرچ ہوئے ہیں ۔اس میں تمام اقسام کے اخراجات شامل ہیں جانوروں کی خریداری ،مویشی منڈی کے کرائے ،ٹرانسپورٹ کے کرائے ،قصابوں کی اجرتیں اور دیگر چھوٹے اور نادیدہ اخراجات شامل ہیں ۔اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صرف کراچی میں 65ارب روپئے کے قربانی کے مویشی فروخت ہوئے ہیں پورے ملک میں صرف قربانی کے جانوروں کی خریداری میں ایک کھرب سے زائد خرچ ہوئے ہیں ۔

    اسلام کے معاشی اصولوں کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ اسلام تقسیم دولت اور گردش دولت پہ زیادہ زور دیتا ہے اسی لیے اسلام میں دولت کو گن گن کر جمع کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ خرچ پر زیادہ زور دیتا ہے یعنی یہ کہ آپ کو اپنے کاروبار میں فائدہ ہورہا ہے تو اس سے مزید اپنے کاروبار کو وسعت دیں اس سے بیروزگاری کم ہوگی پھر بھی سال میں کچھ رقم بچ جاتی ہے تو اس پر زکوۃ فرض کی گئی ہے ،تاکہ دولت معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچ جائے اسی طرح صدقات پر بھی زور دیا گاہے

    مختلف احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے یہ بھی تقسیم دولت کی ایک شکل ہے اسی طرح تقسیم دولت کا یک اہم ذریعہ وراثت کی تقسیم بھی ہے ۔اگر ہم عید قربان میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ایک بہت بڑی دولت لوگوں کی جیبوں سے نکل کر گردش میں آتی ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار لگ جاتاہے یا بڑھ جاتا ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے سنت ابراہیمی کی بیشتر چیزوں میں جن چیزوں کو برقرار رکھا ہے اس میں یہ عید قربان کی سنت ہے ۔اس سنت کی ادائیگی سے جہاں ہم اطاعت رسول ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سنت ملک کی معشیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    عید قربان کے سماجی اثرات پر بات اگر کی جائے گی تو اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح ماہ رمضان میں ہر غریب سے غریب آدمی افطاری کی شکل میں وہ چیزیں کھاپی لیتا ہے جو عام دنوں میں اسے نصیب نہیں ہو پاتی ۔اسی طرح عید قرباں میں ہر اس فرد کو دل بھر کر گوشت کھانے کو مل جاتا ہے جتنا وہ عام دنوں میں نہیں استعمال کر پاتا ۔

    لیکن اس کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قربانی کے گوشت کی تقسیم کا احسن طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ رشتے داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ غرباء و مساکین اور مستحقین میں دیا جائے اور ایک حصہ خود اپنے استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی قربانی کا تمام گوشت اپنے استعمال کے لیے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام کی تمام وہ رشتے داروں میں تقسیم کردے تو کوئی حرج نہیں اور اگر وہ سارا گوشت مستحقین میں بانٹ دے تو یہ اس کی مرضی ہے ۔

    اس سنت ابراہیمی کے سماجی پہلو میں وہ تمام مدرسے اور خدمتی ادارے بھی آجاتے ہیں جو ان اداروں کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ہر مدرسے میں قربانی کھالیں جمع کی جاتی ہیں جہاں بچوں کو قران پڑھایا اور حفظ کرایا جاتا ہے اسی طرح سماجی خدمات کے ادارے بھی کھالیں وصول کرتے ہیں اورپھرسارا سال اس آمدنی سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں

    ویسے تو ہر سال بقرعید میں فریج اور ڈیپ فریزر عام دنوں سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں لیکن اس سال یہ شرح پچھلے تمام برسوں سے زیادہ ہے

    عید پر قربانی کے بعد جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں عید پر کھالیں جبری طور پر حاصل کرنے اور کھالوں پر چھینا جھپٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مسئلے کے تدارک کے لیے حکومت کی جانب سے کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اور عید پر جمع ہونے والی کھالوں کو بحفاظت گودام تک پہنچانے کے لیے ریاست کی جانب سے سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ی

    صرف لاہورشہرکی چند بڑی منڈیوں کی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ اعدادوشمارسامنے آتے ہیں کہ مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریدوفروخت کے ماضی کے تمام ریکارڈٹوٹ گئے ،شہر کی 12 منڈیوں میں 17لاکھ 71 ہزار 338 چھوٹے بڑے جانوروں کی خریدوفروخت ہوئی جبکہ 79ارب 45 کروڑ 67 لاکھ سے زائد کا کاروبار ہوا ۔

    تاہم شاہ پور کانجراں ،لکھو ڈیر،سگیاں،پائن ایونیو ،حضرت عثمان غنی روڈ پر سب سے زیادہ کاروبار ہوا ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے 36اضلاع میں شہر لاہور قربانی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے نمبر ون قراردیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق 10لاکھ 72ہزار 842 چھوٹے جبکہ6لاکھ 98ہزار398 بڑے جانور فروخت ہوئے ۔

    چھوٹے جانور کا 37ارب 55کروڑ 29لاکھ70ہزار ،بڑے جانور کا 41ارب 90کروڑ37لاکھ60ہزار روپے کا کاروبار ہوا۔گزشتہ برس 16 لاکھ 3 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔لکھو ڈیر منڈی میں چھوٹے بڑے 2لاکھ 30ہزار ،ایل ڈی اے سٹی 1لاکھ 17ہزار،پائن ایونیو 1لاکھ 78ہزار، کاہنہ کاچھا 1لاکھ39ہزار ،ڈیفنس نائن 1لاکھ 47 ہزار، کاہنہ رنگ روڈ1لاکھ 50ہزار ،سگیاں 2لاکھ 26ہزار، این ایف سی 1لاکھ 35ہزار، رائیونڈ مانگا منڈی 1لاکھ 11ہزار ،شاہ پور کانجراں ڈھائی لاکھ ،سندر 1لاکھ 20ہزار ،حضرت عثمان غنی روڈ سگیاں منڈی میں 1لاکھ72 ہزار جانوروں کی فروخت ہوئی۔سرکاری حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیشی نظر شہرمیں قربانی کاتناسب حج پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے زیادہ رہا،تاہم دیہی معیشت کومجموعی طورپر تقویت ملی ہے ۔

    کورونا وباء نے عالمی منڈی میں نے چمڑے کی عالمی مارکیٹ کو کریش کردیا ہے اور اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں ٹینری ایسوسی ایشن بھی بحران کا شکار ہے۔ متعدد ٹینریز بند ہوگئی ہیں اور کئی ٹینریز کے پاس اسٹاکس پڑے ہوئے ہیں اور فروخت نہیں ہورہے ہیں۔پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کےمطابق عالمی منڈی میں چمڑے کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح اس بار جانوروں کی کھالوں کی قیمت خرید مزید کم ہوگی۔

    گزشتہ سال گائے، بیل کی کھال 500 سے 900 سو روپے میں خریدی گئی۔ اس بار بھی 500سو سے 900 سو روپے میں خریدی گئیں۔ بکرے کی کھال گزشتہ سال50 سے 130 روپے تک میں فروخت ہوئی۔ اس باربھی یہ کھال 50 روپے 130 میں خریدی گئی ہے ۔ دنبے کی کھال گزشتہ سال 80 روپے سے 100 روپے میں خریدی گئی، اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی۔ اونٹ کی کھال گزشتہ سال 800 روپے میں خریدی گئی اور اس بار بھی اتنی ہی قیمت میں خریدی گئی

    کھالوں کی قیمت گرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ کھالیں یورپ تو بھیجی جارہی ہیں، تاہم ایکسپورٹ ڈیمانڈ کم ہونے پر ہم قیمت نہیں بڑھا سکتے۔ عالمی منڈی میں پاکستان صرف لیدر فراہم کرتا ہے۔ چائنا نے جب سے آرٹیفیشل لیدر بنا کر اٹلی اور ترکی کو دینا شروع کیا ہے، کھالوں کی مارکیٹ خراب ہوگئی ہے۔ اس طرح پاکستانی لیدر کی مارکیٹ اٹلی اور ترکی میں خراب ہو رہی ہے اور ڈیمانڈ کم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کا بھی مسئلہ چل رہا ہے، اس طرح مارکیٹ پر مزید منفی اثر پڑے گا۔

    کھالوں کی قیمت میں اس کمی کے باعث انہیں جمع کرنے والے فلاحی اداروں کے عطیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فلاحی تنظیم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کھالوں کی قیمت میں مسلسل کمی سے غرباء اور مساکین کی ہونے والی معاونت میں کمی ہوئی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ قربانی کی کھالیں پہلے سے زیادہ تعداد میں جمع کی جائیں اور اس شعبے میں حکومت کی جانب سے سرپرستی بھی کی جائے۔

    پاکستان ٹینری ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینریز کی صنعت جانوروں کی کھالوں کو پروسیس کرتی ہے اور انہیں چمڑے میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان میں کھالوں کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کی صورتحال دیکھ کر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں چمڑے کو پروسس کرنے والی ٹینریز کے علاوہ بڑے پیمانے پر چمڑے سے مصنوعات تیار کرنے والی صنعت بھی فروغ پارہی تھی مگر گزشتہ 3 سال کے بحران نے اس صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر چمڑے کی برآمدی صنعت کا حجم 100 ارب ڈالر ہے۔

    یہ معاشی سرگرمیوں کا نقشہ پاکستان کا بیان کیا گیا ہے اگرعالم اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے توپھرتوصورت حال اوربھی دلچسپ بن جاتی ہے ، جیسا کہ امریکی ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی چند دن کی عیدالاضحیٰ کی سرگرمیاں معیشت کووہ قوت بخشتی ہیں جوساری دنیا کی سال بھر کی معاشی سرگرمیاں نہیں بن سکتیں

  • کالے جادو پر سزا کا بل زیر التوا اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟ از قلم۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    کالے جادو پر سزا کا بل زیر التوا اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟ از قلم۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    ایک مسلمان ریاست و حکمران کا کام مسلم معاشرے میں برائی کا خاتمہ اور لوگوں کی اصلاح ہوتا ہے اگر کوئی فرد تنظیم یاں گروہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہو تو حکومت وقت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کا خاتمہ کیا جائے
    پاکستان میں جادو ٹونے کا کام سرعام ہو رہا ہے جو کہ ایک قبیح فعل ہے قرآن و حدیثِ نے اس کی سخت ممانعت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچوں اور جادو کرنے اور کرانے سے بچو ۔۔ بخاری 5764
    ایک کم علم مسلمان بھی جانتا ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اس فعل کے مرتکب کا ہمیشگی ٹھکانہ جہنم ہے اور اسی کے بعد سب سے بد عمل جادو کرنا یا کروانا بھی ہے
    اللہ تعالی قرأن میں فرماتے ہیں
    اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے ۔سلیمان نے تو کفر نا کیا تھا بلکہ یہ کفر شیطان کا تھا،وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے ۔ سورہ البقرہ 102
    اللہ تعالی نے حضرت سلیمان کے دور میں جنوں کی مثال دے کر ہمیں سمجھا دیا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھلا کر کفر کرتے تھے اور کفر بہت بڑا گناہ ہے
    آج ہم میں بھی یہ کفر بہت آ گیا ہے نا صرف یہ کفر کیا جاتا ہے بلکہ اس کی تشہیر بھی سرعام کی جاتی ہے پاکستان کی ہر دیوار،اخبار،چینل حتی کہ سوشل میڈیا بھی انہی کے اشتہاروں سے بھرا پڑا ہے
    افسوس کہ ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے جعلی پیروں اور عاملوں کے اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف ہمارے مال کو لوٹتے ہیں بلکہ ہمارے ایمان کو بھی خراب کرتے ہیں بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان اللہ رب العزت کے قرآن اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ہونا چائیے مگر افسوس آج ہم اس نام نہاد جعلی پیروں کے چکر میں اپنی دولت و ایمان کے ساتھ ساتھ اپنی عزتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ابھی ٹیلی ویژن و سوشل میڈیا پر کتنے ہی ان خبیث عاملوں اور بابوں کی عورتوں کی عزت کیساتھ کھلواڑ کرتے ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں مگر افسوس سب دیکھ ، سمجھ کر بھی ہم نادان بنے بیٹھے ہیں ایک طرف تو یہی میڈیا ان عاملوں پیروں،جعلی بابوں کے جرائم ہمیں دکھلاتا ہے تو دوسری طرف یہی میڈیا انہی بدکرداروں کی تشہیر میں بھی مصروف ہے اور ان کی تشہیر کرکے نوجوان نسل کو محبت میں فتح،ساس بہو کی لڑائی،دشمنوں کو بیمار کرنے اور ہنستے بستے گھروں کا سکون برباد کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں اور یہ عامل بابے بغیر کسی خوف کے اپنا مکرو دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں
    جادو کی روک تھام کیلئے پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں اس پر سابق حکمران جماعت ن لیگ کے سینیٹر چوہدری تنویر خان نے اگست 2017 کو ایوان بالا میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں جادو ٹونہ کرنے والے عاملوں،بابوں کے خلاف قانون بنا کر اس بدفعل پر دو سے سات سال تک قید اور دو لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا کیساتھ اس کی ہر قسم کی تشہیر کو ممنوع قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی مگر یہ بل پاس نا ہو سکا اور ابھی بھی زیر التواء ہے اس بل کے پاس نا ہونے سے ہمارے حکمرانوں کی اسلام سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جس قبیح فعل کو قرآن و حدیث نے حرام کیا ،کہ جس میں بچوں تک کو قتل کر دیا جاتا ہے کہ جس میں قبروں میں سے مردے نکال کر بے ان کی حرمتی کی جاتی ہے، اور ہنستے بستے گھروں کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے اس کے خلاف پیش کئے گئے بل کو منظور نہیں کیا گیا جبکہ ذاتی مفادات کو ہمارے یہی حکمران بغیر سوچے سمجھے بھاری اکثریت سے منظور کروا لیتے ہیں
    حکومت وقت کو چائیے کہ اخبارات میں ان کے اشتہارات پر پابندی کیساتھ ان عاملوں،بابوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائے تاکہ لوگ اپنے جان و مال کے علاوہ اپنی عزت و آبرو بھی بچا سکیں اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کچھ حد تک کم ہو سکیں
    اگر حکومت وقت اسلام و پاکستان سے مخلص ہے تو ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے کا حق ادا کرنے کیلئے اس بل کو پاس کروائے

  • مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مار خور ایک نہایت ہی اعلی خصوصیات کا حامل جانور ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مشکل سے مشکل پہاڑی راستوں پر با آسانی سفر کرتا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ آنے والے سالوں میں مارخور کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مار خور کی تعداد صرف چند ہزار ہے اور پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

    کچھ پاکستانی اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ اگر مارخور نہ رہا تو پاکستان کا قومی جانور ختم ہو جائے گا، لیکن میں اس خیال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ مارخور سے ملتا جلتا ایک جانورہمارے معاشرے اور پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے پہل تو یہ جانوربہت کم تعدادمیں پایا جاتا تھا لیکن اب ہر گلی اور محلے میں پایا جاتا ہے اور اس جانور کا نام ہے حرام خور۔ یہ درندہ صفت انسان ملک کے بہت سے اداروں میں پائے جاتے ہیں جو حرام کے چند روپوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

    میری حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ مارخور کی بجائے حرام خور کو اپنا قومی جانور قرار دیا جائے کیونکہ ان کے جانور ہونے پر تو اختلاف کسی کو نہیں ہوگا، اور ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ حرام خور وطنِ عزیز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کئی صدیوں تک ان کے ختم ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہیں اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں کرپٹ عناصریعنی حرام خوروں کو پاکستان کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

  • اسلام آباد میں مندر کی تعمیر خوش آئند، مگر مساجد بھی توجہ چاہتی ہیں  …از…اسد عباس

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر خوش آئند، مگر مساجد بھی توجہ چاہتی ہیں …از…اسد عباس

    ریاست مدینہ اپنے دارلخلافہ میں سرکاری خرچ پر مندر تعمیر کرے گی جس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اقلیتوں کو اپنی مذہبی عبادات میں مکمل آزادی ہو یا انہیں اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر و دیکھ بھال میں کامل خود مختاری۔ غیر مسلموں کو جو حقوق اسلام نے دئیے ہیں کوئی اور مذہب اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی انسانی تاریخ سے اسلام کے انصاف جیسی مذہبی رواداری و ہم آہنگی کی کوئی نظیر پیش کی جا سکتی ہے۔

    ریاست اسلامی پر لازم ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم شہریوں کی جان ومال عزت و آبرو کے ساتھ ان کی عبادت گاہوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا ہے مساجد کی تعمیر و دیکھ بھال مانگے ہوئے عوامی چندے پر ہو اور ریاست مدینہ چرچوں، گردواروں اور مندروں کی تعمیر شاہی خزانے سے کرے۔ مملکت خداداد جسے خالصتاً اسلام نے نام پر بنایا گیا۔

    آج اس اسلامی ریاست کے حکمران ان اغیار کی قربت حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے جا رہے ہیں جو مساجد کو شہید کر کے اس جگہ بت خانوں کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ کشمیر میں ایک طرف ہندو ریاست کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم عروج پر ہیں

    جبکہ دوسری طرف مساجد کی تالہ بندی بھی۔ تمام بین الاقوامی میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فقط نماز جمعہ کی ادائیگی بھی مہینوں تک نہ ہو سکی۔ جبکہ اسلامی پاکستان میں ریاست کی طرف سے مساجد کی نگہبانی تو درکنار، مسجدوں میں بجلی کے بل کے ساتھ ٹیلی ویژن فیس وصول کرنے کی بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔

    لاحول ولا قوۃ
    کئی دہائیوں تک دہشتگردی اور انتہا پسندی کے شکار معاشرے میں اس طرح کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی اقدام سے شدت پسند فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکمران طبقے کو سمجھنا ہو گا کہ غیر مسلموں کی محرومیوں کا ازالہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر نہیں کیا جا سکتا۔

  • پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا  تحریر: غنی محمود قصوری

    پاکستانی ڈرامے مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار !!! جلن ڈرامے میں اخلاقی اقدار کو بری طرح سے پامال کیا جائے گا تحریر: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا کا ہے ہم سب باخبر رہنے کیلئے ان کا سہارا لیتے ہیں جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہے
    ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے افراد اور مہذب افراد کی پہچان ان کے کردار سے ہوتی ہے
    پاکستانی پرنٹ میڈیا پر انتہائی گندے اور غیر مہذب اشتہار دیکھنے کو ملتے ہیں ایسے ہی پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پر مختلف چینلز پر اشتہارات اور ڈراموں کی شکل میں قوم کی غیرت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے
    افسوس کہ اس وقت ان پر مثبت کی بجائے منفی پہلو زیادہ اجاگر کئے جا رہے ہیں خاص طور پر پاکستانی ٹیلی میڈیا ہماری نسلوں کو ڈرامے دکھا کر اسلام سے دور کر رہا ہے
    پکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے ماضی میں کئی ڈرامے ایسے بنائے اور دکھائے گئے جن میں مقدس رشتوں جیسے،دیور،بھابھی،ساس کی پامالی کی جاتی رہی جس کے دیکھنے سے پاکستانی معاشرے پر بہت برے اثرات پڑے اب ایک بار پھر ایسا ہی جلن نامی ڈرامہ نجی ٹی وی چینل پر 17 جون سے دکھایا جائے گا جس میں بہن اپنے بہنوئی یعنی بہن کے خاوند پر فریفتہ ہے ،آفس میں کام کرنے والی کی بیوی پر آفس کا باس دل پھینک چکا جبکہ اللہ معاف کرے سسر اپنی بہو پر فدا ہے افسوس کی بات ہے کہ ان پاکستانی چینلز کو کنٹرول کرنے کیلئے پیمرا نامی ادارہ بھی موجود ہے مگر ماضی میں بھی اس ادارے کی جانب سے کوئی خاص قابل ذکر کاروائی نا سامنے آئی اور اب جبکہ اس جلن ڈرامے کا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے تب بھی اس ادارے کی طرف سے کوئی بھی ایکشن سامنے نہیں آیا جس پر اس ادارے کے کردار پر شکوک وشبہات مذید بڑھ رہے ہیں
    اللہ معاف فرمائے کہ سالی اور بہنوئی کا ایک مقدس رشتہ ہے اور سالی بہنوئی کیلئے غیر محرم ہے اور سالی کا اپنے بہنوئی سے پردہ لازم ہے
    اسلام نے ایک وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی ہے مگر سگی بہنوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک ہی وقت میں دو بہنوں سے نکاح حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد ایک بہن کے ہوتے ہوئے دوسری کو اس کی سوتن بننے سے بچانا ہے تاکہ بہنیں آرام اور سکون سے زندگی بسر کر سکیں
    اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا۔۔
    اور یہ حرام کیا گیا کہ تم دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو ۔۔سورہ النساء آیت 32
    فطری طور پر ہر عورت کو اپنی سوتن سے جلن محسوس ہوتی ہے اسی لئے بہنوں میں بگاڑ سے بچاؤ کیلئے اللہ نے دو بہنوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں حرام کر دیا مگر یہاں پاکستانی چینل اس مقدس رشتے کو پامال کرتے ہوئے دکھا رہے ہیں بیوی کے زندہ اور نکاح میں ہونے تک بیوی کی بہن یعنی سالی نکاح کیلئے حرام ہے یعنی بہنوں کی طرح ہے مگر افسوس کہ یہاں اسی بہن کیساتھ عاشقی معشوقی دکھائی جارہی ہے جس کا زیادہ تر اختتام زنا پر ہوتا
    اور پھر ڈرامے کا نام بھی رکھا ہے جلن یعنی کہ بہن کو بہن سے جلن ہے.
    سسر وہ رشتہ ہے کہ جس میں بہو اپنے والد کے بعد سسر کو ابو یا ابا جان کہتی ہے اور سسر بہو محرم ہیں بہو خاوند کی غیر موجودگی میں سسر کیساتھ سفر کر سکتی ہے اس کیساتھ حج و عمرہ پر جا سکتی ہے کیونکہ بیٹی کے بعد بیٹی بہو ہوتی ہے مگر افسوس کہ اس مقدس ترین رشتے کی بھی پامالی دکھائی جانے لگی اور لوگوں کو گمراہ کر کے اسلام سے دور کیا جانے لگا ہے مگر افسوس کہ آزاد مملکت پاکستان میں اس سرعام اسلام سے دوری کرنے پر کوئی ایکشن لینے والا نہیں خاص کر پیمرا کو چاہیے کہ اس ڈرامے کو رکوائے تاکہ مقدس رشتوں کی پامالی ہونے سے بچ جائے اور ہمارا پاکستانی معاشرہ دین اسلام کی روشنی میں گزر بسر کر سکے
    کچھ لوگ کہتے ہیں جی ایسا کچھ تو انڈین فلموں ڈراموں میں بھی دکھایا جاتا ہے تو ان سے عرض ہے کہ وہ تو ایک کافر ملک ہے وہاں کے پروڈیوسر ہدایتکار،گلوکار،فنکار غرضیکہ زیادہ تر کافر ہیں اور ان میں سزا ،جزاء،قبر قیامت کا تصور نہیں تو پھر ان پر گلہ کیسا گلہ تو اپنوں پر ہے جو اسلام کے نام لیوا ہیں اور کام کفار جیسا کرتے ہیں

  • ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز گورنر پنجاب اور ان کی اہلیہ نے پاکستان کے معروف ٹک ٹاکرز کو مدعو کیا اور ان سے استدعا کی کہ وہ کورونا کی آگاہی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں. اس پر خاصی لے دے جاری ہے، بعض ان کو ناچنے والے، کنجر اور کئی برے ناموں سے لکھ رہے ہیں اور یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب یہ کنجر ناچ ناچ کر ہمیں کرونا سے آگاہ کریں گے وغیرہ وغیرہ. تو دوستو ذرا قومی گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ ان ہمارا قومی مزاج بھی تو یہی ہے کہ وہ کشمیر ہو یا کچھ اور ان پر ہم ناچ گانے کروا کر ہی آزادی کی کوشش کر رہے ہیں تو کرونا کی آگاہی کے لیے اگر ٹک ٹاکرز کو مدعو کرکے ان سے گزارش کی گئی تو اس میں عجب کیسا؟ اور دوسری بات کہ ان ٹک ٹاکرز کو معروف میں نے اور آپ نے ہی کیا نا ان کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر اب وہ معاشرے میں انفلواینسر بن چکے ہیں . انہوں نے اپنا آپ منوایا ہے اور قوم نے ان کو دیکھا ہے ان کی ویڈیوز کے ویوز کروڑوں میں ہوتے ہیں آپ کہیں کہ آپ ان کو فالو نہی کرتے ان کو نہیں دیکھتے تو جن یا کوئی مخلوق تو ہے نہیں جو ان کو فالو کر رہی ہے ہم انسان ہی ہیں جو ان کو دیکھتے اور فالو کرتے ہیں. آپ مانیں یا نہ مانیں. ان کی پچاس پچاس لاکھ فالونگ ہے جتنی ہمارے سیاستدانوں یا علماء کی بھی نہیں ہوتی. جب ہم علماء اور رہنماؤں کو فالو کرنا چھوڑ کر ٹک ٹاکرز کو ہی فالو کریں گے تو کرونا آگاہی بھی تو پھر یہ ٹک ٹاکرز ہی دیں گے. جب قوم جہاد اور مظلوموں کی مدد کو قران و حدیث کی بجائے ڈراموں اور فلموں میں ڈھونڈے گی تو پھر نیلم منیر سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک چلائی جائے گی نا پھر گانوں سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک کو تقویت دی جائے گی. ہر ایشو پر متشدد رائے دینے سے قبل ذاتی اور قومی گریبان میں ضرور جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا انفرادی اور قومی مزاج کیسا ہے. لاکھوں کروڑوں کی فالونگ رکھنے والوں کو اگر گورنمنٹ اپنی کسی مہم میں استعمال کرنا چاہ رہی ہے تو اچھی بات ہے. ویسے بھی قوم ان ڈاکٹروں اور علماء کی بات کہاں سن رہی ہے جو ان کو احتیاط کی تلقین کر رہے چلو اب قوم کے "پسندیدہ” لوگ ٹک ٹاکرز ہی ان کو سکھائیں گے سب کچھ……
    محمد عبداللہ

  • آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود

    حافظ سمیع الرحمن کے لاشے کی تصویر دیکھ کر ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے وہ میں آپ سب کے سامنے رکھ دیتا ہوں.

    سوال یہ کہ آپ میں سے کتنوں کو یقین ہے اس معاملے میں انصاف ہو جائے گا؟ ایک دو تین چار یا چلیے دس سال میں بھی ایسا کوئی امکان ہے؟

    مزید کتنوں کا خیال ہے کہ مقتول کے باپ کے لیے جمع پونجی بیچے بغیر حصول انصاف کے مراحل سے گزرنا ممکن ہو گا؟

    ان دونوں سوالات پر غور کیجیے اور جواب کی ڈور کا کوئی سرا ہاتھ آئے تو پھر سوچیے اس معاشرے کا مستقبل کیا ہے؟ ایک عام آدمی اس پر کم از کم آواز تو اٹھائے. اب یہ سوچنا کا مقام ہے سوشل میڈیا پر ہماری توانائیاں اپنے اپنے حصے کے سیاسی رہنما کی مدح سرائی اور دوسروں کی ہجو میں ہی ضائع ہونی ہیں یا کبھی سماج کے حقیقی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے؟

    واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور میں پولیس اہلکار سے دوستی نہ کرنے کے جرم میں نوجوان کو قتل کر دیا گیا

    قصور کے علاقے کھڈیاں میں قاری خلیل الرحمن کے حافظ قرآن بیٹے کو عید کے دن ہی پولیس کانسٹیبل نے بری نیت سے دوستی اور برائی نہ کرنے پر قتل کر دیا

    واقعہ کا مقدمہ حافظ قرآن کے والد قاری خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، والد کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم معصوم علی نے میرے بیٹے سمیع الرحمان کو عید کے روز صبح مسجد جاتے ہوئے گلی میں روکا اور کہا کہ عید کے دن بھی میری بات نہ مانی تو اچھا نہیں ہو گا، میرے بیٹے نے انکار کیا تو ملزم نے فائرنگ کر دی جس سے میرا بیٹا زخمی ہو گیا، اسے علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسکی موت ہو گئی

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ملزم عیاش قسم کا آدمی ہے اور میرے بیٹے کو ہراساں کرتا رہتا تھا، اسکے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    جنسی خواہش پوری کرنے سے انکار،پولیس اہلکار نے عید کے روز حافظ قرآن نوجوان کو قتل کر دیا

  • فواد چوہدری کی بات صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر ان کا انداز یکسر غلط ہے از فیصل ندیم

    فواد چوہدری کی بات صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر ان کا انداز یکسر غلط ہے از فیصل ندیم

    فواد چوہدری کی بات صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر ان کا انداز یکسر غلط ہے از فیصل ندیم

    حکومتی وزراء کی ذمہ داری ملک میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کی ہے نہ کہ انتشار ،حضرت علامہ فواد چوہدری صاحب فرما رہے ہیں کہ دنیا کے بائیس ممالک کل عید منا رہے ہیں اس کیے ہمیں بھی منانی چاہئے تو حضرت دنیا میں کتنے اسلامی ممالک ایسے ہیں کہ ان میں رات ہوتی ہے تو ہمارے پاس دن اب اس کا کیا حل نکالا جائے ہر ملک کے چاند کا تعلق اس کے اپنے مطلع سے ہے جسے کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتافواد چوہدری صاحب ماشاءاللہ ان وزیروں میں سے ہیں جو عمران خان صاحب کیلئے “ بڑی نیک نامی” کا باعث ہیں

    وزیر سائنس و ٹیکنالوجی صاحب کوئی اور کارنامہ تو سرانجام دینے میں تقریباً ناکام رہے ہیں اس لئے ان کی پوری سائنس اور ٹیکنالوجی عید کے چاند میں پھنسی دکھائی دیتی ہے پاکستانی عوام کا جناب عمران خان صاحب کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ جس طرح آپ نے فردوس آپا کو کھڈے لائن لگایا ہے بالکل اسی طرح فواد چوہدری صاحب کو بھی کسی دوسرے کام سے لگادیں بلکہ ایک اور مشورہ جو ملک و قوم کیلئے بڑی خیر کا باعث ہوسکتا ہے ملک کی ایکسپورٹ کرونا کی وجہ سے سخت متاثر ہے عمران خان صاحب اگر فواد چوہدری صاحب جیسے باصلاحیت وزیر کو عالمی مارکیٹ میں پیش کریں تو امید ہے کوئی یوروپین یا ایشین نہیں تو کوئی افریقی ملک ضرور فواد چوہدری صاحب کے اچھے دام لگا دے گا

    فیصل ندیم

    فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا

    فواد چودھری کی بدتمیزی، مبشر لقمان نے کیا اہم اعلان،ثاقب کھرل نے معافی کیوں مانگی؟ انکشاف کر دیا

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    صحافیوں کے احتجاج میں‌ ڈبو مردہ باد کے نعرے، فواد چوہدری نے تھپڑ کیوں‌ مارا؟ سمیع ابراہیم نے بتا دیا

    تبدیلی سرکار یا تھپڑوں والی سرکار،فواد چودھری کا سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کی اطلاعات

    فواد چودھری نے تھپڑ مارا اور گالیاں دیں،سمیع ابراہیم نے مقدمہ کیلئے درخواست دائر کر دی

    سمیع ابراہیم کو تھپڑپڑا تو فردوس عاشق نے کی معذرت،صحافیوں کی مذمت

    سمیع ابراہیم کو تھپڑ، ملک بھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج، فواد چوہدری کو وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ

    مبشر لقمان میدان میں آ گئے،فواد چودھری کے خلاف اندراج مقدمہ کے لئے درخواست دائر

    فواد چودھری مفتی پوپلزئی بن گئے، عیدالفطر کو متنازعہ بنا دیا

    فواد چودھری کا مذہبی جماعتوں کیخلاف بیان، حکومتی جماعت کے رہنما جاوید بدر نے کھری کھری سنا دیں

    اہل سنت، بریلوی ، شیعہ سب پاکستان کے خلاف تھے ، فواد چوہدری

  • کامیاب لوگوں کی صبح کی عادات تحریر: عاشر مشتاق

    کامیاب لوگوں کی صبح کی عادات تحریر: عاشر مشتاق

    یہ بات سچ ہے کہ آپکو کامیاب ہونے کے لیے ہر روز اپنے لیے وقت نکالنا پڑھتا ہے نا کہ آپ خود کو بہتر بنا سکیں، اچھی اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے آپکا جسمانی اور زہنی طور پر تندرست ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ صبج اٹھ کے کچھ اچھی چیزوں کو روز روز کر کے انکی عادت بنا سکتے ہیں۔کیونکہ جو صبح کو جیت لیتا ہے وہ اپنا سارا دن جیت لیتا ہے اور جو چھ عادات میں آپکو بتانے جا رہا ہوں یہ دنیا کے سب سے کامیاب لوگوں کی ھیں جنہیں آپ بھی اپنی زندگی میں اپنا کے کامیاب ہو سکتے ہیں۔
    خاموشی: خاموشی سے مراد ہے دعا کرنا یا میڈیٹیٹ کرنا۔ بہت سے لوگ صبح اٹھتے ہی دنیا بھر کی چیزوں کی فکر کرنے لگ جاتے ہیں اخبار پڑھ کر یا ٹی وی پر خبریں دیکھ کر وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کامیاب لوگ یہ سب نہیں کرتے بلکہ وہ صبح اٹھنے کے بعد میڈیٹیشن، یوگا، یا دعا کرتے ہیں جو کہ انکے دماغ کو سکون میں رکھتا ہے اور انہیں دن بھر کام کرنے کےلیے تیار بھی کرتا ہے۔
    افرمیشن: یہ ایک پاورفل ٹیکنیک ہے جسے کئی کامیاب لوگ استعمال کرتے ہیں یہ اور کچھ نہیں بس ایک مثبت جملہ ہے جو ہم بار بار خود سے بولتے ہیں جس سے وہ بات ہمارے لاشعوری دماغ میں بیٹھ جاتی ہے اور ہمارا دماغ اسے سچ ماننے لگتا ہے مثال کہ طور پے اگر آپ بار بار اپنے آپ سے کہیں کہ میں ایک پراعتماد انسان ہوں تو پھر آپکا دماغ اسے سچ ماننے لگتا ہے اور آپ سچ میں ایک پراعتماد انسان بننے لگتے ہیں۔
    تصور: یہ بھی ایک پاورفل ٹیکنیک ہے جو تھوڑی بہت افرمیشن سے ملتی جلتی ہے اس سے آپ تصور کرتے ہیں ان چیزوں کا اور تصویر بناتے ہیں اپنے دماغ میں جو آپ سچ میں چاہتے ہیں۔
    ورزش:صبح کے وقت ورزش کرنے کے بہت سارے سائنسی فائدے ہیں کیونکہ آپکے دماغ میں زیادہ آکسیجن جاتی ہے اور آپکا دماغ زیادہ اینڈورفین نکالتا ہے جس سے آپکی سوچ مثبت اور صاف ہوتی ہے آپکو اچھا محسوس ہوتا ہے اور اپکا انرجی لیول بڑھتا ہے پورے دن کے لیے۔ اس سب کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ جم ہی جائیں بلکہ یہ سب فائدے آپ بس کچھ منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش کر کے بھی لے سکتے ہیں۔
    پڑھنا: پڑھنے سے مراد اخبار پڑھنا نہیں ہے بلکہ وہ کتابیں یا آرٹیکل پڑھنا ہے جو آپکو بہتر بننے میں مدد کریں، ایسی کتابیں جو آپکو علم دیں اور ہر طرح سے آپکی اینٹیلیجنس کو بڑھائیں۔
    لکھنا: لکھنے سے مراد آپکے دن بھر کے کام، مقاصد اور آپکے خواب وغیرہ لکھنا ہے۔ لکھنے میں بہت طاقت ہوتی ہے کیونکہ یہ آپکے خوابوں کو حقیقت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے آپ ہمیشہ اپنے پاس کوئی نوٹ بک رکھیں تا کہ جو بھی نئے آئیڈز آپکے دماغ میں آئیں اسکو فورن لکھ سکیں۔ یہ سادہ سی چیز آپکی بہت مدد کرے گی۔
    یہ سب باتیں میں نے آپکو ہال ایلروڈ کی کتاب میریکل مورننک سے بتائی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں اور میں نے سوچا آپ دوستوں سے بھی شئیر کروں۔ اگر پسند آئیں تو آگے ضرور شئیر کریں