گزشتہ روز گورنر پنجاب اور ان کی اہلیہ نے پاکستان کے معروف ٹک ٹاکرز کو مدعو کیا اور ان سے استدعا کی کہ وہ کورونا کی آگاہی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں. اس پر خاصی لے دے جاری ہے، بعض ان کو ناچنے والے، کنجر اور کئی برے ناموں سے لکھ رہے ہیں اور یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب یہ کنجر ناچ ناچ کر ہمیں کرونا سے آگاہ کریں گے وغیرہ وغیرہ. تو دوستو ذرا قومی گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ ان ہمارا قومی مزاج بھی تو یہی ہے کہ وہ کشمیر ہو یا کچھ اور ان پر ہم ناچ گانے کروا کر ہی آزادی کی کوشش کر رہے ہیں تو کرونا کی آگاہی کے لیے اگر ٹک ٹاکرز کو مدعو کرکے ان سے گزارش کی گئی تو اس میں عجب کیسا؟ اور دوسری بات کہ ان ٹک ٹاکرز کو معروف میں نے اور آپ نے ہی کیا نا ان کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر اب وہ معاشرے میں انفلواینسر بن چکے ہیں . انہوں نے اپنا آپ منوایا ہے اور قوم نے ان کو دیکھا ہے ان کی ویڈیوز کے ویوز کروڑوں میں ہوتے ہیں آپ کہیں کہ آپ ان کو فالو نہی کرتے ان کو نہیں دیکھتے تو جن یا کوئی مخلوق تو ہے نہیں جو ان کو فالو کر رہی ہے ہم انسان ہی ہیں جو ان کو دیکھتے اور فالو کرتے ہیں. آپ مانیں یا نہ مانیں. ان کی پچاس پچاس لاکھ فالونگ ہے جتنی ہمارے سیاستدانوں یا علماء کی بھی نہیں ہوتی. جب ہم علماء اور رہنماؤں کو فالو کرنا چھوڑ کر ٹک ٹاکرز کو ہی فالو کریں گے تو کرونا آگاہی بھی تو پھر یہ ٹک ٹاکرز ہی دیں گے. جب قوم جہاد اور مظلوموں کی مدد کو قران و حدیث کی بجائے ڈراموں اور فلموں میں ڈھونڈے گی تو پھر نیلم منیر سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک چلائی جائے گی نا پھر گانوں سے ہی کشمیر کی آزادی کی تحریک کو تقویت دی جائے گی. ہر ایشو پر متشدد رائے دینے سے قبل ذاتی اور قومی گریبان میں ضرور جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا انفرادی اور قومی مزاج کیسا ہے. لاکھوں کروڑوں کی فالونگ رکھنے والوں کو اگر گورنمنٹ اپنی کسی مہم میں استعمال کرنا چاہ رہی ہے تو اچھی بات ہے. ویسے بھی قوم ان ڈاکٹروں اور علماء کی بات کہاں سن رہی ہے جو ان کو احتیاط کی تلقین کر رہے چلو اب قوم کے "پسندیدہ” لوگ ٹک ٹاکرز ہی ان کو سکھائیں گے سب کچھ……
محمد عبداللہ
Category: معاشرہ و ثقافت

ٹک ٹاکرز کی گورنر کے ہاں دعوت اور ان کے کرونا آگاہی مہم میں کردار پر اعتراض کیوں؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود
آپ میں سے کس کو یقین ہے کہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سمیع کو انصاف ملے گا، آصف محمود
حافظ سمیع الرحمن کے لاشے کی تصویر دیکھ کر ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے وہ میں آپ سب کے سامنے رکھ دیتا ہوں.
سوال یہ کہ آپ میں سے کتنوں کو یقین ہے اس معاملے میں انصاف ہو جائے گا؟ ایک دو تین چار یا چلیے دس سال میں بھی ایسا کوئی امکان ہے؟
مزید کتنوں کا خیال ہے کہ مقتول کے باپ کے لیے جمع پونجی بیچے بغیر حصول انصاف کے مراحل سے گزرنا ممکن ہو گا؟
ان دونوں سوالات پر غور کیجیے اور جواب کی ڈور کا کوئی سرا ہاتھ آئے تو پھر سوچیے اس معاشرے کا مستقبل کیا ہے؟ ایک عام آدمی اس پر کم از کم آواز تو اٹھائے. اب یہ سوچنا کا مقام ہے سوشل میڈیا پر ہماری توانائیاں اپنے اپنے حصے کے سیاسی رہنما کی مدح سرائی اور دوسروں کی ہجو میں ہی ضائع ہونی ہیں یا کبھی سماج کے حقیقی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے؟
واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور میں پولیس اہلکار سے دوستی نہ کرنے کے جرم میں نوجوان کو قتل کر دیا گیا
قصور کے علاقے کھڈیاں میں قاری خلیل الرحمن کے حافظ قرآن بیٹے کو عید کے دن ہی پولیس کانسٹیبل نے بری نیت سے دوستی اور برائی نہ کرنے پر قتل کر دیا
واقعہ کا مقدمہ حافظ قرآن کے والد قاری خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، والد کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم معصوم علی نے میرے بیٹے سمیع الرحمان کو عید کے روز صبح مسجد جاتے ہوئے گلی میں روکا اور کہا کہ عید کے دن بھی میری بات نہ مانی تو اچھا نہیں ہو گا، میرے بیٹے نے انکار کیا تو ملزم نے فائرنگ کر دی جس سے میرا بیٹا زخمی ہو گیا، اسے علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسکی موت ہو گئی
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ملزم عیاش قسم کا آدمی ہے اور میرے بیٹے کو ہراساں کرتا رہتا تھا، اسکے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
جنسی خواہش پوری کرنے سے انکار،پولیس اہلکار نے عید کے روز حافظ قرآن نوجوان کو قتل کر دیا

فواد چوہدری کی بات صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر ان کا انداز یکسر غلط ہے از فیصل ندیم
فواد چوہدری کی بات صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر ان کا انداز یکسر غلط ہے از فیصل ندیم
حکومتی وزراء کی ذمہ داری ملک میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کی ہے نہ کہ انتشار ،حضرت علامہ فواد چوہدری صاحب فرما رہے ہیں کہ دنیا کے بائیس ممالک کل عید منا رہے ہیں اس کیے ہمیں بھی منانی چاہئے تو حضرت دنیا میں کتنے اسلامی ممالک ایسے ہیں کہ ان میں رات ہوتی ہے تو ہمارے پاس دن اب اس کا کیا حل نکالا جائے ہر ملک کے چاند کا تعلق اس کے اپنے مطلع سے ہے جسے کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتافواد چوہدری صاحب ماشاءاللہ ان وزیروں میں سے ہیں جو عمران خان صاحب کیلئے “ بڑی نیک نامی” کا باعث ہیں
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی صاحب کوئی اور کارنامہ تو سرانجام دینے میں تقریباً ناکام رہے ہیں اس لئے ان کی پوری سائنس اور ٹیکنالوجی عید کے چاند میں پھنسی دکھائی دیتی ہے پاکستانی عوام کا جناب عمران خان صاحب کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ جس طرح آپ نے فردوس آپا کو کھڈے لائن لگایا ہے بالکل اسی طرح فواد چوہدری صاحب کو بھی کسی دوسرے کام سے لگادیں بلکہ ایک اور مشورہ جو ملک و قوم کیلئے بڑی خیر کا باعث ہوسکتا ہے ملک کی ایکسپورٹ کرونا کی وجہ سے سخت متاثر ہے عمران خان صاحب اگر فواد چوہدری صاحب جیسے باصلاحیت وزیر کو عالمی مارکیٹ میں پیش کریں تو امید ہے کوئی یوروپین یا ایشین نہیں تو کوئی افریقی ملک ضرور فواد چوہدری صاحب کے اچھے دام لگا دے گا
فیصل ندیم
فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا
فواد چودھری کی بدتمیزی، مبشر لقمان نے کیا اہم اعلان،ثاقب کھرل نے معافی کیوں مانگی؟ انکشاف کر دیا
حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان
صحافیوں کے احتجاج میں ڈبو مردہ باد کے نعرے، فواد چوہدری نے تھپڑ کیوں مارا؟ سمیع ابراہیم نے بتا دیا
تبدیلی سرکار یا تھپڑوں والی سرکار،فواد چودھری کا سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کی اطلاعات
فواد چودھری نے تھپڑ مارا اور گالیاں دیں،سمیع ابراہیم نے مقدمہ کیلئے درخواست دائر کر دی
سمیع ابراہیم کو تھپڑپڑا تو فردوس عاشق نے کی معذرت،صحافیوں کی مذمت
سمیع ابراہیم کو تھپڑ، ملک بھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج، فواد چوہدری کو وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ
مبشر لقمان میدان میں آ گئے،فواد چودھری کے خلاف اندراج مقدمہ کے لئے درخواست دائر
فواد چودھری مفتی پوپلزئی بن گئے، عیدالفطر کو متنازعہ بنا دیا
فواد چودھری کا مذہبی جماعتوں کیخلاف بیان، حکومتی جماعت کے رہنما جاوید بدر نے کھری کھری سنا دیں

کامیاب لوگوں کی صبح کی عادات تحریر: عاشر مشتاق
یہ بات سچ ہے کہ آپکو کامیاب ہونے کے لیے ہر روز اپنے لیے وقت نکالنا پڑھتا ہے نا کہ آپ خود کو بہتر بنا سکیں، اچھی اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے آپکا جسمانی اور زہنی طور پر تندرست ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ صبج اٹھ کے کچھ اچھی چیزوں کو روز روز کر کے انکی عادت بنا سکتے ہیں۔کیونکہ جو صبح کو جیت لیتا ہے وہ اپنا سارا دن جیت لیتا ہے اور جو چھ عادات میں آپکو بتانے جا رہا ہوں یہ دنیا کے سب سے کامیاب لوگوں کی ھیں جنہیں آپ بھی اپنی زندگی میں اپنا کے کامیاب ہو سکتے ہیں۔
خاموشی: خاموشی سے مراد ہے دعا کرنا یا میڈیٹیٹ کرنا۔ بہت سے لوگ صبح اٹھتے ہی دنیا بھر کی چیزوں کی فکر کرنے لگ جاتے ہیں اخبار پڑھ کر یا ٹی وی پر خبریں دیکھ کر وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کامیاب لوگ یہ سب نہیں کرتے بلکہ وہ صبح اٹھنے کے بعد میڈیٹیشن، یوگا، یا دعا کرتے ہیں جو کہ انکے دماغ کو سکون میں رکھتا ہے اور انہیں دن بھر کام کرنے کےلیے تیار بھی کرتا ہے۔
افرمیشن: یہ ایک پاورفل ٹیکنیک ہے جسے کئی کامیاب لوگ استعمال کرتے ہیں یہ اور کچھ نہیں بس ایک مثبت جملہ ہے جو ہم بار بار خود سے بولتے ہیں جس سے وہ بات ہمارے لاشعوری دماغ میں بیٹھ جاتی ہے اور ہمارا دماغ اسے سچ ماننے لگتا ہے مثال کہ طور پے اگر آپ بار بار اپنے آپ سے کہیں کہ میں ایک پراعتماد انسان ہوں تو پھر آپکا دماغ اسے سچ ماننے لگتا ہے اور آپ سچ میں ایک پراعتماد انسان بننے لگتے ہیں۔
تصور: یہ بھی ایک پاورفل ٹیکنیک ہے جو تھوڑی بہت افرمیشن سے ملتی جلتی ہے اس سے آپ تصور کرتے ہیں ان چیزوں کا اور تصویر بناتے ہیں اپنے دماغ میں جو آپ سچ میں چاہتے ہیں۔
ورزش:صبح کے وقت ورزش کرنے کے بہت سارے سائنسی فائدے ہیں کیونکہ آپکے دماغ میں زیادہ آکسیجن جاتی ہے اور آپکا دماغ زیادہ اینڈورفین نکالتا ہے جس سے آپکی سوچ مثبت اور صاف ہوتی ہے آپکو اچھا محسوس ہوتا ہے اور اپکا انرجی لیول بڑھتا ہے پورے دن کے لیے۔ اس سب کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ جم ہی جائیں بلکہ یہ سب فائدے آپ بس کچھ منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش کر کے بھی لے سکتے ہیں۔
پڑھنا: پڑھنے سے مراد اخبار پڑھنا نہیں ہے بلکہ وہ کتابیں یا آرٹیکل پڑھنا ہے جو آپکو بہتر بننے میں مدد کریں، ایسی کتابیں جو آپکو علم دیں اور ہر طرح سے آپکی اینٹیلیجنس کو بڑھائیں۔
لکھنا: لکھنے سے مراد آپکے دن بھر کے کام، مقاصد اور آپکے خواب وغیرہ لکھنا ہے۔ لکھنے میں بہت طاقت ہوتی ہے کیونکہ یہ آپکے خوابوں کو حقیقت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے آپ ہمیشہ اپنے پاس کوئی نوٹ بک رکھیں تا کہ جو بھی نئے آئیڈز آپکے دماغ میں آئیں اسکو فورن لکھ سکیں۔ یہ سادہ سی چیز آپکی بہت مدد کرے گی۔
یہ سب باتیں میں نے آپکو ہال ایلروڈ کی کتاب میریکل مورننک سے بتائی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں اور میں نے سوچا آپ دوستوں سے بھی شئیر کروں۔ اگر پسند آئیں تو آگے ضرور شئیر کریں
رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن
وہ موقع آن پہنچا ہے جس کا ہر مسلمان کو بے تابی سے انتظار تھا. آپ سمجھ تو گئے ہونگے. وہ برکتوں, سعادتوں اور رحمتوں والا مہینہ…..!
سحری و افطاری کا اہتمام کرنا .. !
دن بھر کا بھوکا رہنا….!
ہر اس کام سے رک جانا جس کا اللہ اور نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا….!
امر بالمعروف کے لیے اپنی کمر کو کس لینا….!
قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا…!
تراویح کا اہتمام کرنا…. !
رب کے حضور اپنی التجائیں پیش کرنا….!
صدقات وخیرات کا ادا کرنا….!
اپنی انا کی قربانی دینا…. !
تمام ان رشتوں کو پھر سے گلے لگا لینا جن سے گلے شکوے ہوا کرتے تھے….!
توبہ و استغفار کے لیے اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلانا….!
بھوکوں اور مستحقین کو روزہ افطار کروانا …!
دوستوں اور رشتہ داروں کو افطار کرانا…..!
رمضان المبارک کا محبتوں بھرا مہینہ اللہ پاک بھی پھر اپنے بندے سے خوش ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا بندہ اللہ کے احکامات کو کس طرح سے بجالارہا ہے…. اللہ رب العزت اپنے بندے پر انعامات کی بارش برسا دیتا ہے….اللہ کہے گا اے میرے بندے تو نے دن بھر بھوک کے ساتھ میری خاطر گزارا جا میں تجھ سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں… اے میرے بندے تو نے میری خاطر روزہ رکھا تیرے دل میں دنیا کا لالچ نہیں تا صرف میری رضا مقصود تھی میں تیرے سارے گذشتہ سال کے گناہ معاف کرتا ہوں…. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھا, رات کا قیام کیا, نمازیں ادا کیں , زکوۃ ادا کی جا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں روز قیامت تجھے صدیقین اور شہداء کے ساتھ کھڑا کروں گا….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھ کر نہ کسی کی غیبت کی ,نہ جھوٹ بولا, نہ کسی کو زبان سے تکلیف پہنچائی تیرے منہ کی بو میرے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو جو مانگنا چاہتا ہے میں عطاء کروں گا تو مانگ کر تو دیکھ….. !
آئیے اس سعادت سے محروم نہ رہ جائیں آگے بڑھ کر اپنے رب سے جنت کا سودا کریں….!
اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں….!
میں اللہ سے دعاگو ہوں کہ مالک سب سے پہلے مجھے اور اس کے بعد آپ سب کو عمل کرنے کی توفیق دے آمین….
گنہگار ہیں سب…. اللہ ہمیں موقع دے رہا ہے ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس سے ضائع نہ ہونے دیں….
انسان کے مرنے کے بعد جسم کے آخری مراحل—از—سلطان سکندر
انسان کے مرنے کے بعد انکے جسم کے آخری مرحلے یعنی ڈی کمپوزیشن کے عمل کو ختم کردینا،
آثار قدیمہ کے ماہرین نے اٹلی میں ایک پرانے شہر کی باقیات کو دریافت کیا جو سن عیسوی 79 کے ایک آتش فشاں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگیا تھا. اس گرم آتش فشاں اور ملبے نے جلد ہی لوگوں کے جسموں کو سخت ترین کر دیا تھا, وہ منجمد ہوگئے تھے اور ان کے آخری عمل(ڈی کمپوزیشن) کو ختم کردیا.
مگر 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ درج تھا کہ اللہ جہنم میں کافروں کی حرکت بند کردے گا، وہ حرکت نہیں کر سکیں گے، گلے سڑیں گے نہیں، منجمد ہوجائیں گے

Quran 36:67
وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنَاهُـمْ عَلٰى مَكَانَتِـهِـمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِيًّا وَّلَا يَرْجِعُوْنَ (67)اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں ان جگہوں پر مسخ/منجمد کر دیں پس نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ ہی واپس لوٹ سکیں۔

خدا کافروں کو جہنم میں منجمد کر سکتا ہے، انکی حرکت کو ختم کر سکتا ہے. آج ہم جانتے ہیں کہ پومپئی کے لوگ آتش فشاں کی وجہ سے اپنے آخری عمل میں منجمد ہوگئے تھے(جیسا کے تصاویر میں دکھایا گیا ہے)
یہ سارا عمل اسی طرح ہے جو قرآن میں جہنم میں ہونے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے.

سوال تو یہ بنتا ہے کہ
1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کس طرح جان سکتا ہے کہ لوگوں کو ان کے آخری عمل میں منجمد کیا جا سکتا ہے؟انسان کے مرنے کے بعد جسم کے آخری مراحل
تحریر :
سلطان سکندر!!!


عزم قطرہ تھا میرا، بحر ہو گیا!!! تحریر: محمد طلحہ
اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں سے کام لینے پر آتا ہے تو کچھ لوگوں کو چن لیا کرتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی محبت کو ڈال دیا کرتا ہے اور پھر وہ لوگ دنیا جہاں سے بے خبر اپنے مقصد میں لگ جایا کرتے ہیں، اللہ رب العزت پھر انہیں وسائل بھی عطا کرتے ہیں، دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں ان کا مقدر ٹھہرتی ہیں اور بالآخر وہ رب کی جنتوں کے مستحق ٹھہر جایا کرتے ہیں
ملک پاکستان سمیت دنیا بھر میں جب خالق کائنات نے کرونا وائرس کی صورت میں اپنے عذاب کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی اور دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
انسان نے اپنے تئیں حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کا آرڈر جاری کر دیا لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جب لاک ڈاؤن ہوا تو غربت و افلاس کے ہاتھوں پسی ہوئی عوام مزید متاثر ہوئی تو ایسے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ عظیم لوگوں کو چُنا کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے ساتھ اپنے ان بھائیوں کی فلاح کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے رب سے جنتوں کی امید لگائے ڈٹ گئے
انہیں عظیم لوگوں میں ایک نام *کرونا فائٹرز تلہ گنگ* کا ہے
گورنمنٹ کی طرف سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو اِن اللہ کے بندوں کو اپنے بھائیوں کا درد ستانے لگا اور یہ لوگ اپنے مسلمان بھائیوں کی ممکنہ مدد کرنے کا سوچنے لگے
رات کے وقت ایک بھائی جو کہ گورنمنٹ ٹیچر ہیں واٹس ایپ سٹیٹس لگاتے ہیں کہ کل اس حوالے سے بھائی اکٹھے ہوں اور یوں کچھ اساتذہ کا ایک گروپ اکٹھا ہو جاتا ہے اور کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے
کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لانے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہم ابتدائی طور پر پچاس گھروں تک راشن پہنچائیں گے لیکن بات وسائل پر آکر اٹک جاتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کام لینا ہوتا ہے تو اسباب وہ خود پیدا کر دیا کرتا ہے اور بالکل ایسے ہی اللہ رب العزت نے مخیر حضرات کے دل میں اس بات کو ڈالا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے اپنا روپیہ پیسہ پیش کر دیا اور یوں وہ ابتدائی طور پر پچاس گھروں کیلئے تیار ہونے والا پیکج 100 گھروں کے پیکج میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہ کام چھ سو گھروں تک راشن پہنچانے تک جا پہنچتا ہے ۔ بحمد اللہ
اُس کے بعد رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ دستک دے رہا ہوتا ہے تو کرونا فائٹرز ایک دفعہ پھر اپنی کمر کستے ہوئے اپنے بھائیوں کی مدد کو تیار کھڑے ہوتے ہیں ان شاء اللہ
اور یوں اس ایک واٹس ایپ سٹیٹس کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے چُنے ہوئے لوگوں سے ایک اتنا بڑا کام لے لیتے ہیں
جب حوصلے بلند ہوں، اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت شامل حال ہو تو پھر ایک قطرے کو بحر ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ کرونا فائٹرز تلہ گنگ اور ان مخیر حضرات کہ جنہوں نے دل کھول کر اپنے بھائیوں کے ساتھ تعاون کیا، دنیا و آخرت میں بہترین نعم البدل عطا فرمائے اور اپنی اعلی جنتوں سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین
یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے؟؟؟ از قلم عبدالحفیظ
کریانہ، گوشت، دودھ دہی، میڈیکل سٹور، پہلے کھلے تھے،
اب درزی، حجام، الیکٹریشن، بک سٹیشنری، مکینک، کو بھی اجازت، کرونا مرض کیا ان پیشہ والوں سے جو سٹیل کے برتن، کراکری، لنڈے والے، کپڑے والے، جوتے والے پیٹی و ٹرنک اور موبائل ریپئرنگ والے ایزی لوڈ، ٹرانسپورٹ، وان والے، منیاری والے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے، سے پھیلتا ہے جن کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔pti ساری کملی ہوگئی اے کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں عجب تماشہ لگا دیا ہے۔
یا تو لاک ڈاؤن مکمل ہو یا پھر سب کچھ کھول دو۔
عقل سے پیدل لوگوں جب ان متعلقہ افراد کے کام بند ہونگے تو ان کو کیا پڑی ہے کہ روزی روٹی کے بندوبست کے علاوہ حجام سے حجامت بنوائیں یا الیکٹریشن کا کام کروائیں یا کتابیں کاپیاں خریدتے پھریں۔
سب سے بڑھ کر ٹرانسپورٹ ہی نہیں چلے گی تو دیہات وغیرہ کے لوگ شہر کا رخ کیسے اور کیوں کرینگے؟
جب کہ آدھے سے زیادہ ان افراد کے متعلقہ چیزوں کی دکانیں ہی بند ہو۔
حکومت پاکستان یا تو سب کو کاروبار کی اجازت دے یا پھر یہ وباء واقعی خطرناک ہے تو انسانی زندگی بچانے کیلئے سخت فیصلہ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کرے کیونکہ اگر اس وباء سے کوئی بھی شہری متاثر ہوگیا تو وہ اپنے خاندان کو درد جدائی دینے کے ساتھ انکی صحت و زندگی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے اور دیگر افراد بھی اس مرض کا شکار ہو جائیں گے۔
پاکستان کے خدائی خدمت گارمجھے بہت یاد آتے ہیں —-از—- انیس الرحمن باغی
پاکستان اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر چکے ہیں لیکن تاحال اسکی تقسیم کا طریقہ کار وضع نہیں کر سکے ہیں۔
ایسے میں ان خدائی خدمت گاروں کی بہت یاد ستاتی ہے کہ جنہیں جرمِ محبت کی سزا دی گئی ہے۔ جن کے قائدین پابندِ سلاسل ہیں اور انہیں کام سے روک دیا گیا ہے۔
ہاں مجھے اقوامِ متحدہ کی طرف سے ان کو دی گئی زلزلہ میں امداد یاد آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ایسے افراد نہیں رکھتے کہ وہ ان دور دراز علاقوں میں امدادی سامان پہنچا سکے۔
ہاں مجھے اپنے کندہوں پر سامان اٹھا کر ناقابلِ رسائی علاقوں تک پہنچنے والے وہ افراد یاد آتے ہیں کہ جنہیں اس کام کے کرنے میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں بلکہ رب کی رضاء کارفرماء تھی۔
مجھے ان پر امید چہروں کی خوشی سے چمکنے والی وہ آنکھیں یاد آتی ہیں کہ جو کئی دنوں بعد ان کے فیلڈ ہسپتالوں میں پہنچ جانے کے بعد بے فکر ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کے نامور ڈاکٹر عامر عزیز اب انکے بچ جانے والے اعضاء کو کٹنے سے بچا لے گا۔
ہاں پھر منظر بدلتا ہے۔۔۔
2010 کے سیلاب میں ان خدمت گاروں کی امداد کے نتیجہ میں اور ان کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوکر درجنوں ہندو خاندانوں کے اسلام قبول کرتے وقت کے وہ منظر یاد آتے ہیں۔
مشکل ترین وقت میں ان کی واٹر ریسکیو کرنے والی بے سرو سامان مگر بلند عزم و ہمت والے پہاڑوں جیسے بلند ارداے رکھنے والے دن رات ایک کرنے والی وہ ٹیمیں یاد آتی ہیں کہ جن کا مطمع نظر فقط اس ذاتِ باری تعالٰی کی بارگاہ میں سرخروئی ہے۔
نہ ختم ہونے والی یادوں کا ایک سلسلہ ہے کہ میں لکھنا چاہوں تو شاید لکھ نہ پاؤں۔ ہاں مگر ان پر پابندیاں تو لگا دی ہیں لیکن ان کو ہمارے دلوں کی دیواروں پر کنندہ یادوں سے کون کھرچ سکے گا؟؟؟
اب ایسے میں جب کہ حکومت امداد دینے اور پہنچانے میں بے بس نظر آرہی تو ان کی یاد شدید تر ہوتی جا رہی کہ وہ جن کے بے لوث کارکن ہر گلی محلہ میں موجود تھے اور اپنے ارد گرد کے غرباء اور سفید پوشوں سے واقفِ حال تھے کہ ایسے میں ان سے بہتر کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔
مگر نہیں بھائی آپ ان کا نام نہیں لے سکتے ہیں ان کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ لیکن ان کو یاد کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے نا کہ وہ تو ہمارے دلوں میں بستے ہیں نا۔
ہاں اے خدائی خدمت گارو۔۔
ہم مصیبت کے ہر لمحہ میں تمہیں یاد تو کریں گے۔۔۔لیکن ہم مجبور ہیں کہ سرِ عام تمہارا نام نہ لے پائیں گے۔۔۔
#باغیات

اپنے کردار کا جائزہ لیں اعتقادی و عملی منافق ✍🏻از قلم۔ مشی حیات
ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!
قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
مگر اہم بات یہ ہے
اھدنا الصراط المسقیمبہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے
اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟
اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
منافقین کی دو اقسام یہی ہیں(1)۔ اعتقادی منافق
پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
جیسے۔۔۔۔
مثلھم کمثل الذی استو قد نارااس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!
*اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟
انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
ذھب اللہ بنورھم
اللہ ان کا نور لے گیایہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
پہلی مثال کس کی ہے؟
پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
فلما اضاءت ماحول
پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔ذھب اللہ بنورھم
اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
وترکھم فی ظلمت
اندھیروں میں چھوڑ دیا
اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتےکس کو؟نبی کریم کو
اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
صم بکم عمی
انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے
رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے(2 )۔ عملی منافق ۔۔
جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
اس کصیب من السماءآسمان سے زوردار بارش ہوئی
یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
ظلمت و رعدو برق
اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تویجعلون اصابعھم فی اذانہم
اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے
عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیںولو شآءاللہ
اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے
اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
و مایشعرونلا یشعرون
اور
وما کانو مھتدین
اور نہیں یہ ہدایت پاسکتےابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اپنے کردار کا جائزہ لیں
اعتقادی و عملی منافق
✍🏻از قلم۔
مشی حیات













