وہ موقع آن پہنچا ہے جس کا ہر مسلمان کو بے تابی سے انتظار تھا. آپ سمجھ تو گئے ہونگے. وہ برکتوں, سعادتوں اور رحمتوں والا مہینہ…..!
سحری و افطاری کا اہتمام کرنا .. !
دن بھر کا بھوکا رہنا….!
ہر اس کام سے رک جانا جس کا اللہ اور نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا….!
امر بالمعروف کے لیے اپنی کمر کو کس لینا….!
قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا…!
تراویح کا اہتمام کرنا…. !
رب کے حضور اپنی التجائیں پیش کرنا….!
صدقات وخیرات کا ادا کرنا….!
اپنی انا کی قربانی دینا…. !
تمام ان رشتوں کو پھر سے گلے لگا لینا جن سے گلے شکوے ہوا کرتے تھے….!
توبہ و استغفار کے لیے اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلانا….!
بھوکوں اور مستحقین کو روزہ افطار کروانا …!
دوستوں اور رشتہ داروں کو افطار کرانا…..!
رمضان المبارک کا محبتوں بھرا مہینہ اللہ پاک بھی پھر اپنے بندے سے خوش ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا بندہ اللہ کے احکامات کو کس طرح سے بجالارہا ہے…. اللہ رب العزت اپنے بندے پر انعامات کی بارش برسا دیتا ہے….اللہ کہے گا اے میرے بندے تو نے دن بھر بھوک کے ساتھ میری خاطر گزارا جا میں تجھ سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں… اے میرے بندے تو نے میری خاطر روزہ رکھا تیرے دل میں دنیا کا لالچ نہیں تا صرف میری رضا مقصود تھی میں تیرے سارے گذشتہ سال کے گناہ معاف کرتا ہوں…. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھا, رات کا قیام کیا, نمازیں ادا کیں , زکوۃ ادا کی جا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں روز قیامت تجھے صدیقین اور شہداء کے ساتھ کھڑا کروں گا….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھ کر نہ کسی کی غیبت کی ,نہ جھوٹ بولا, نہ کسی کو زبان سے تکلیف پہنچائی تیرے منہ کی بو میرے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو جو مانگنا چاہتا ہے میں عطاء کروں گا تو مانگ کر تو دیکھ….. !
آئیے اس سعادت سے محروم نہ رہ جائیں آگے بڑھ کر اپنے رب سے جنت کا سودا کریں….!
اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں….!
میں اللہ سے دعاگو ہوں کہ مالک سب سے پہلے مجھے اور اس کے بعد آپ سب کو عمل کرنے کی توفیق دے آمین….
گنہگار ہیں سب…. اللہ ہمیں موقع دے رہا ہے ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس سے ضائع نہ ہونے دیں….
Category: معاشرہ و ثقافت
-

رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن
-

انسان کے مرنے کے بعد جسم کے آخری مراحل—از—سلطان سکندر
انسان کے مرنے کے بعد انکے جسم کے آخری مرحلے یعنی ڈی کمپوزیشن کے عمل کو ختم کردینا،
آثار قدیمہ کے ماہرین نے اٹلی میں ایک پرانے شہر کی باقیات کو دریافت کیا جو سن عیسوی 79 کے ایک آتش فشاں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگیا تھا. اس گرم آتش فشاں اور ملبے نے جلد ہی لوگوں کے جسموں کو سخت ترین کر دیا تھا, وہ منجمد ہوگئے تھے اور ان کے آخری عمل(ڈی کمپوزیشن) کو ختم کردیا.
مگر 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ درج تھا کہ اللہ جہنم میں کافروں کی حرکت بند کردے گا، وہ حرکت نہیں کر سکیں گے، گلے سڑیں گے نہیں، منجمد ہوجائیں گے

Quran 36:67
وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنَاهُـمْ عَلٰى مَكَانَتِـهِـمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِيًّا وَّلَا يَرْجِعُوْنَ (67)اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں ان جگہوں پر مسخ/منجمد کر دیں پس نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ ہی واپس لوٹ سکیں۔

خدا کافروں کو جہنم میں منجمد کر سکتا ہے، انکی حرکت کو ختم کر سکتا ہے. آج ہم جانتے ہیں کہ پومپئی کے لوگ آتش فشاں کی وجہ سے اپنے آخری عمل میں منجمد ہوگئے تھے(جیسا کے تصاویر میں دکھایا گیا ہے)
یہ سارا عمل اسی طرح ہے جو قرآن میں جہنم میں ہونے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے.

سوال تو یہ بنتا ہے کہ
1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کس طرح جان سکتا ہے کہ لوگوں کو ان کے آخری عمل میں منجمد کیا جا سکتا ہے؟انسان کے مرنے کے بعد جسم کے آخری مراحل
تحریر :
سلطان سکندر!!!

-

عزم قطرہ تھا میرا، بحر ہو گیا!!! تحریر: محمد طلحہ
اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں سے کام لینے پر آتا ہے تو کچھ لوگوں کو چن لیا کرتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی محبت کو ڈال دیا کرتا ہے اور پھر وہ لوگ دنیا جہاں سے بے خبر اپنے مقصد میں لگ جایا کرتے ہیں، اللہ رب العزت پھر انہیں وسائل بھی عطا کرتے ہیں، دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں ان کا مقدر ٹھہرتی ہیں اور بالآخر وہ رب کی جنتوں کے مستحق ٹھہر جایا کرتے ہیں
ملک پاکستان سمیت دنیا بھر میں جب خالق کائنات نے کرونا وائرس کی صورت میں اپنے عذاب کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی اور دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
انسان نے اپنے تئیں حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کا آرڈر جاری کر دیا لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جب لاک ڈاؤن ہوا تو غربت و افلاس کے ہاتھوں پسی ہوئی عوام مزید متاثر ہوئی تو ایسے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ عظیم لوگوں کو چُنا کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے ساتھ اپنے ان بھائیوں کی فلاح کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے رب سے جنتوں کی امید لگائے ڈٹ گئے
انہیں عظیم لوگوں میں ایک نام *کرونا فائٹرز تلہ گنگ* کا ہے
گورنمنٹ کی طرف سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو اِن اللہ کے بندوں کو اپنے بھائیوں کا درد ستانے لگا اور یہ لوگ اپنے مسلمان بھائیوں کی ممکنہ مدد کرنے کا سوچنے لگے
رات کے وقت ایک بھائی جو کہ گورنمنٹ ٹیچر ہیں واٹس ایپ سٹیٹس لگاتے ہیں کہ کل اس حوالے سے بھائی اکٹھے ہوں اور یوں کچھ اساتذہ کا ایک گروپ اکٹھا ہو جاتا ہے اور کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے
کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لانے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہم ابتدائی طور پر پچاس گھروں تک راشن پہنچائیں گے لیکن بات وسائل پر آکر اٹک جاتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کام لینا ہوتا ہے تو اسباب وہ خود پیدا کر دیا کرتا ہے اور بالکل ایسے ہی اللہ رب العزت نے مخیر حضرات کے دل میں اس بات کو ڈالا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے اپنا روپیہ پیسہ پیش کر دیا اور یوں وہ ابتدائی طور پر پچاس گھروں کیلئے تیار ہونے والا پیکج 100 گھروں کے پیکج میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہ کام چھ سو گھروں تک راشن پہنچانے تک جا پہنچتا ہے ۔ بحمد اللہ
اُس کے بعد رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ دستک دے رہا ہوتا ہے تو کرونا فائٹرز ایک دفعہ پھر اپنی کمر کستے ہوئے اپنے بھائیوں کی مدد کو تیار کھڑے ہوتے ہیں ان شاء اللہ
اور یوں اس ایک واٹس ایپ سٹیٹس کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے چُنے ہوئے لوگوں سے ایک اتنا بڑا کام لے لیتے ہیں
جب حوصلے بلند ہوں، اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت شامل حال ہو تو پھر ایک قطرے کو بحر ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ کرونا فائٹرز تلہ گنگ اور ان مخیر حضرات کہ جنہوں نے دل کھول کر اپنے بھائیوں کے ساتھ تعاون کیا، دنیا و آخرت میں بہترین نعم البدل عطا فرمائے اور اپنی اعلی جنتوں سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین -

یہ کیسا لاک ڈاؤن ہے؟؟؟ از قلم عبدالحفیظ
کریانہ، گوشت، دودھ دہی، میڈیکل سٹور، پہلے کھلے تھے،
اب درزی، حجام، الیکٹریشن، بک سٹیشنری، مکینک، کو بھی اجازت، کرونا مرض کیا ان پیشہ والوں سے جو سٹیل کے برتن، کراکری، لنڈے والے، کپڑے والے، جوتے والے پیٹی و ٹرنک اور موبائل ریپئرنگ والے ایزی لوڈ، ٹرانسپورٹ، وان والے، منیاری والے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے، سے پھیلتا ہے جن کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔pti ساری کملی ہوگئی اے کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں عجب تماشہ لگا دیا ہے۔
یا تو لاک ڈاؤن مکمل ہو یا پھر سب کچھ کھول دو۔
عقل سے پیدل لوگوں جب ان متعلقہ افراد کے کام بند ہونگے تو ان کو کیا پڑی ہے کہ روزی روٹی کے بندوبست کے علاوہ حجام سے حجامت بنوائیں یا الیکٹریشن کا کام کروائیں یا کتابیں کاپیاں خریدتے پھریں۔
سب سے بڑھ کر ٹرانسپورٹ ہی نہیں چلے گی تو دیہات وغیرہ کے لوگ شہر کا رخ کیسے اور کیوں کرینگے؟
جب کہ آدھے سے زیادہ ان افراد کے متعلقہ چیزوں کی دکانیں ہی بند ہو۔
حکومت پاکستان یا تو سب کو کاروبار کی اجازت دے یا پھر یہ وباء واقعی خطرناک ہے تو انسانی زندگی بچانے کیلئے سخت فیصلہ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کرے کیونکہ اگر اس وباء سے کوئی بھی شہری متاثر ہوگیا تو وہ اپنے خاندان کو درد جدائی دینے کے ساتھ انکی صحت و زندگی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے اور دیگر افراد بھی اس مرض کا شکار ہو جائیں گے۔ -

پاکستان کے خدائی خدمت گارمجھے بہت یاد آتے ہیں —-از—- انیس الرحمن باغی
پاکستان اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر چکے ہیں لیکن تاحال اسکی تقسیم کا طریقہ کار وضع نہیں کر سکے ہیں۔
ایسے میں ان خدائی خدمت گاروں کی بہت یاد ستاتی ہے کہ جنہیں جرمِ محبت کی سزا دی گئی ہے۔ جن کے قائدین پابندِ سلاسل ہیں اور انہیں کام سے روک دیا گیا ہے۔
ہاں مجھے اقوامِ متحدہ کی طرف سے ان کو دی گئی زلزلہ میں امداد یاد آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ایسے افراد نہیں رکھتے کہ وہ ان دور دراز علاقوں میں امدادی سامان پہنچا سکے۔
ہاں مجھے اپنے کندہوں پر سامان اٹھا کر ناقابلِ رسائی علاقوں تک پہنچنے والے وہ افراد یاد آتے ہیں کہ جنہیں اس کام کے کرنے میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں بلکہ رب کی رضاء کارفرماء تھی۔
مجھے ان پر امید چہروں کی خوشی سے چمکنے والی وہ آنکھیں یاد آتی ہیں کہ جو کئی دنوں بعد ان کے فیلڈ ہسپتالوں میں پہنچ جانے کے بعد بے فکر ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کے نامور ڈاکٹر عامر عزیز اب انکے بچ جانے والے اعضاء کو کٹنے سے بچا لے گا۔
ہاں پھر منظر بدلتا ہے۔۔۔
2010 کے سیلاب میں ان خدمت گاروں کی امداد کے نتیجہ میں اور ان کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوکر درجنوں ہندو خاندانوں کے اسلام قبول کرتے وقت کے وہ منظر یاد آتے ہیں۔
مشکل ترین وقت میں ان کی واٹر ریسکیو کرنے والی بے سرو سامان مگر بلند عزم و ہمت والے پہاڑوں جیسے بلند ارداے رکھنے والے دن رات ایک کرنے والی وہ ٹیمیں یاد آتی ہیں کہ جن کا مطمع نظر فقط اس ذاتِ باری تعالٰی کی بارگاہ میں سرخروئی ہے۔
نہ ختم ہونے والی یادوں کا ایک سلسلہ ہے کہ میں لکھنا چاہوں تو شاید لکھ نہ پاؤں۔ ہاں مگر ان پر پابندیاں تو لگا دی ہیں لیکن ان کو ہمارے دلوں کی دیواروں پر کنندہ یادوں سے کون کھرچ سکے گا؟؟؟
اب ایسے میں جب کہ حکومت امداد دینے اور پہنچانے میں بے بس نظر آرہی تو ان کی یاد شدید تر ہوتی جا رہی کہ وہ جن کے بے لوث کارکن ہر گلی محلہ میں موجود تھے اور اپنے ارد گرد کے غرباء اور سفید پوشوں سے واقفِ حال تھے کہ ایسے میں ان سے بہتر کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔
مگر نہیں بھائی آپ ان کا نام نہیں لے سکتے ہیں ان کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ لیکن ان کو یاد کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے نا کہ وہ تو ہمارے دلوں میں بستے ہیں نا۔
ہاں اے خدائی خدمت گارو۔۔
ہم مصیبت کے ہر لمحہ میں تمہیں یاد تو کریں گے۔۔۔لیکن ہم مجبور ہیں کہ سرِ عام تمہارا نام نہ لے پائیں گے۔۔۔
#باغیات
-

اپنے کردار کا جائزہ لیں اعتقادی و عملی منافق ✍🏻از قلم۔ مشی حیات
ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!
قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
مگر اہم بات یہ ہے
اھدنا الصراط المسقیمبہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے
اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟
اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
منافقین کی دو اقسام یہی ہیں(1)۔ اعتقادی منافق
پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
جیسے۔۔۔۔
مثلھم کمثل الذی استو قد نارااس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!
*اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟
انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
ذھب اللہ بنورھم
اللہ ان کا نور لے گیایہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
پہلی مثال کس کی ہے؟
پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
فلما اضاءت ماحول
پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔ذھب اللہ بنورھم
اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
وترکھم فی ظلمت
اندھیروں میں چھوڑ دیا
اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتےکس کو؟نبی کریم کو
اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
صم بکم عمی
انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے
رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے(2 )۔ عملی منافق ۔۔
جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
اس کصیب من السماءآسمان سے زوردار بارش ہوئی
یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
ظلمت و رعدو برق
اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تویجعلون اصابعھم فی اذانہم
اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے
عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیںولو شآءاللہ
اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے
اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
و مایشعرونلا یشعرون
اور
وما کانو مھتدین
اور نہیں یہ ہدایت پاسکتےابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اپنے کردار کا جائزہ لیں
اعتقادی و عملی منافق
✍🏻از قلم۔
مشی حیات -
رہے نام اللّٰہ کا جو قادر بھی ہے خالق بھی__!!! (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔
آجکل گھر کی کچن سے لے کر ڈرائنگ روم تک…
میڈیا سے ایوانوں تک…
ملکوں سے عالمی فورموں تک__صحت کے مراکز سے تحقیقی لیبارٹریوں تک ایک ہی بحث گردش کرتی دکھائی دیتی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنا…!!!
COVID_19
نے اس دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔زندگی کا پہیہ ایک دم سے ایسا جام ہو گیا ہے کہ
پہلے جو کبھی ہر وقت سوٹ بوٹ کی تیاری
صبح صبح جاب کی جگہ پر پہنچنے کی فکر،فنکشن میں فیشن کا لحاظ و خیال۔۔۔شادی بیاہ کی دھوم دھام پر تبادلۂ خیال…
مرنے پر لمبی چوڑی رسومات کی ادائیگی کا غم
کسی کے نہ آنے کی کلفت…دیکھ کر آنکھ چرا جانے کے شکوے…
وقت نہ دینے کی ناراضگی…
بازاروں کے ضرورت اور بلا ضرورت کے چکر…
بہنوں،بھائیوں پر گلوں کے طومار…اب ایک طرف رکھ دیئے گئے ہیں اب عالم ہے اگر تو نفسا نفسی کا…
کوئی پاس ہو کر بھی قریب نہ آئے،
اتنے فٹ کا فاصلہ ضروری ہے…ہاتھ ملانے سے گریز…
برتن کو اٹھاتے،ہاتھ لگاتے،دروازہ کھولتے،بند کرتے غرض ہر لمحہ اعصاب پر ایک ہی واہم سوار ہے کہ کہیں وائرس حملہ آور نہ ہو جائے…
ابہام و غلط فہمیوں کا سلسلہ جاری ہے کہ کل دو آنٹیاں گلی میں نظر آئیں،ایک منہ لپیٹے اپنے گھر داخل ہو گئیں تو دوسری اندازِ شکوہ میں بولیں ہائے مجھے کونسا بیماری ہے کہ مجھ سے بولی بھی نہیں؟ایک طرف گھروں میں رہنے کی ہدایات ہیں تو دوسری طرف دیہاڑی دار طبقہ پریشانیوں کے سائے میں صبح کا آغاز کر رہا ہے،روز کا روز کمانے والا اسی اُمید پر زندگی کا پہیہ رواں دواں رکھتا ہے کہ جب تک سانس اور بدن میں قوت ہے، کما کر لے آئیں گے تو اب فاقوں کے ڈر سے مجبور و بے بس بیٹھے ہیں
راشن کی دکانوں پر سوشل ڈسٹینسنگ (social distancing) سے لا پرواہ غریب چند کلو آٹے یا دال چینی کے لیئے ہلکان ہے…!!!میڈیا خبریں سجاتا ہے وائرس کی پرواہ نہیں راشن دے دو…
غرض ایسے طبقہ کی پر زور اعانت اور انہیں گھر کی دہلیز پر کچھ وقت کے لیئے یہ چیزیں فراہم کرنا حکومت کے لیئے ایک امتحان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات بھی اس نازک وقت میں دل کھول کر غرباء کی مدد کر سکتے ہیں…
اگر چہ صورتحال یہ ہے کہ تمام کاروباری مراکز بند ہونے کی وجہ سے ہر بندہ ہی اپنا اپنا رونا رونے اور معاشی سٹرکچر کو دھچکا لگنے پر نالاں دکھائی دیتا ہے…!!!دنیا جب دیتی ہے تو ذلت کے دروازے یونہی کھلا کرتے ہیں لیکن یہ صرف خیر الرازقین کی شان ہے کہ ہر روز نئی شان سے مانگنے والوں کو عطا کرتا ہے اور بے حساب کرتا ہے،پر سکون کرنے والا دیتا ہے…
ایک دم سے ڈگریاں،اسٹیٹس،اور کاروبارِ زندگی غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار ہیں اور مستقبل کے معاشی مناظر ذہنوں میں جھلملا رہے ہیں۔
دنیا بھر کی طاقتیں اور انہیں چلانے والے سبھی کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے ہیں…
دنیا تا حال علاج و دوا تیار کرنے سے قاصر اور بے بسی کی اتھاہ گہرائیوں میں نظر آ رہی ہیں…گلوبل ویلیج کی اہمیت کے ثمرات گنواتے لوگوں پر ذمہ داریوں کا بار بھی اتنا ہی زیادہ ہے اور سب کو مل کر اس وبا کے عفریت سے سامنا کرنا ہے…
وبائیں اور بیماریاں تاریخ میں بھی بنی نوع انسان کو شدید متاثر کرتی رہی ہیں مگر اتنی آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے اور پھیلاؤ کے امکانات کم تھے۔لیکن کئی سوالات کو اپنے پیچھے چھوڑتی یہ وبا حضرت انسان کے لیئے ایک بڑا امتحان بھی ہے…!!!
ایک اور مفروضہ جو زیرِ بحث نظر آتا ہے کہ یہ حیاتیاتی ہتھیار ہے اور اسے خود لیبارٹریوں میں تیار کیا گیا ہے تو کیا یہ سوال بھی اہلِ عقل کی سوچ میں نہیں آتا ہے کہ اگر یہ کسی کی کسی کو نیچا دکھانے کی سازش ہی تھی تو وہ خود اس کا شکار کیوں ہو چکے ہیں؟
خود اس کے علاج سے معذور کیوں اور متاثرین میں سب سے آگے کیوں ہیں؟؟؟تو تب بھی اللّٰہ کا قرآن ہی دل کو تسلی دیتا ہے کہ:
"دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے، اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے سو آپ اللّٰہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہیں پائیں گے…!!!”(فاطر:43)۔
انسان جتنے مرضی ترقی کے مدارج طے کر لے مگر رب کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں جا سکتا…سو ان باتوں میں سمجھنے اور عبرت پکڑنے والوں کے لیئے بڑی نشانی ہے کہ بہر حال ہمیں اپنے تمام مسائل کے حل کے لیئے اسباب اختیار کرنے کے بعد رجوع اللّٰہ کی ذات کی طرف ہی کرنا ہوگا کہ وہ ہم سے اس وبا کو ٹال دے،نجات دے اور اس کے نقصانات سے محفوظ فرمائے…!!!
تاکہ مشکلات میں گھری دنیا اور لوگوں میں سکوں کی سانس لوٹے…جو اوہام،ابہام اور اور غیر یقینی باتوں اور ماؤف اذھان کی جکڑ بندیوں میں جکڑی جا چکی ہے…!!!کہ اب ماہرینِ نفسیات اور مائنڈ چینجر لوگوں کو میڈیا کی افواہوں سے بھی دور رہنے کی تجاویز دے رہے ہیں یہ بات بھی سچ ہے کہ بے پر کی باتیں بھی بسا اوقات بنے کاموں کو بگاڑ دیتی ہیں…ایک واقعہ کسی نے سنایا تھا کہ ایک ہوٹل سے لوگ کھانا کھایا کرتے ہیں، ایک آدمی جو دودھ پینے کا شوقین تھا وہاں سے روانہ دودھ لے کر پیتا…
ایک دن اتفاق سے دودھ ختم ہونے کے بعد ہوٹل والے نے ڈول میں دیکھا تو سانپ بیٹھا تھا،تو وہ ہل کر رہ گیا کہ پتہ نہیں وہ سب لوگ جو دودھ لے کر گئے ہیں بچیں گے کہ نہیں لیکن خیریت رہی لیکن وہ شخص جو دودھ پی کر گیا تھا پھر کبھی ہوٹل پر آیا تو اس شخص نے اسے یہ بات بتائی کہ اس دودھ میں جو تم نے پیا تھا،سانپ موجود تھا،یہ سنتے ہی وہ شخص پیچھے گِرا اور…
بھلے یہ واقعہ سچ ہو یا نہیں لیکن اپنے اندر ایک سبق ضرور رکھتا ہے کہ واقعتاً وہم اور انجانا خوف انسان کی قوتِ مدافعت کمزور کر دیتے اور یوں بھی بزدل کر دیتے ہیں کہ وہ سالوں اور مہینوں بعد بھی اس سے نکل نہیں پاتا…
اسلیئے احتیاط کیجیئے،تدابیر پر عمل رکھیئے لیکن یاد رکھیئے کہ تقدیر سے کوئی نہیں بھاگ سکتا اور وہ رب چاہے تو زہر کو بھی تریاق کر دیا کرتا ہے…پہلے لوگ اتنے آگاہ نہیں ہوتے تھے جتنا کہ آج ہیں…
میڈیا سے کوئی خود کو کیسے دور رکھ پائے گا کہ پہلے تو کسی کو ٹی وی کا بٹن اُٹھ کر آن کرنا پڑتا تھا اخبار خرید کر لانا پڑتا تھا مگر اب میڈیا ہمارے ہاتھ اور بستروں میں ہے…
نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھیں پھسل کر اس کی خبروں سے جا لڑتی ہیں؟؟؟بہر حال مثبت سوچتے رہیں،کچھ وقت کے لیئے احتیاط لازم ہے تو پوری احتیاط کو لازمی اختیار کریں…
اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں…آسانیاں بانٹنے والے بنیں…مستحقین سے تعاون کر دیں…اور رب سے دعا و مناجات کا سلسلہ کبھی ہاں کبھی نہ ٹوٹنے دیں…یہی فلاح ہے__!!!اس عمرِ رواں پہ سو امتحاں
کٹتے ہیں کئی لمحے گراں…
مگر اس زندگی کی رو میں
سانسوں کی آتی ضو میں__
اُمیدِ کے چراغ سرِ رہ رکھنا
ہواؤں کا رب رُخ بدل دے گا__!!!
==============================رہے نام اللّٰہ کا جو قادر بھی ہے خالق بھی__!!!
(تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔ -

لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!—از—-جویریہ چوہدری
لا تقنطومن رحمتہ اللہ
رحیم نام ہے اُس کا__
بخشنا کام ہے جِس کا__
وہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے…
بندوں کو قریب بُلاتا ہے__!!!
پلٹ آؤ تم میرے در پر…
تمہاری آس کے جگنو…
جو چمکتے ہوئے چشمِ تر پر…
ندامت کے آنسوؤں سے دُھلی
ہوتی ہیں جو یہ ہتھیلیاں کُھلی__!!!
دل کے دریدہ دامن سے__
ہچکیوں کی لُو جو چلی__!!!
کٹوروں سے برستے نینوں کی…
گرمی جو سجدوں میں بہی__!!!
سارے غبارسے چھٹ جاتے ہیں__
ہوں درد جتنے کٹ جاتے ہیں__!!!
دل کی دھڑکن میں ہے سکوں اُبھرتا…
اور رگ رگ میں ٹھنڈ ہے بھرتا…!!!
بلائیں سب دور جاتی ہیں__
کہیں آزمائشیں جو آتی ہیں__
تو شکر و رضا کے آئینے میں…
کردار کا رُخ سنوارتی ہیں…!!!
ساحل کی تلاش میں چلتے__
سفینوں کو منزل پہ اُتار جاتی ہیں__!!!
جو دل اُس در پہ قائم ہو__
مایوسی سے رشتہ نہ دائم ہو…!!!
تو زندگی میں ابد تک__!!!
روشنیاں ساتھ نبھاتی ہیں__!!!
کہیں خزاں کوئی آ بھی جائے__
مگر اسی کی اوٹ سے پھر…
بہاریں بھی مسکراتی ہیں…!!!!!
==============================لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!
(بقلم✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔ -

یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم
عادت ہی پڑ گئی ہے ہر نقل کرنی ہے
اچھے سے واسطہ ہے نہ برے سے کوئی نفرتیکم اپریل
غداروں کی غداروں ،لالچیوں کے لالچ اور ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سے غرناطہ کی گلیاں مسلمانوں کے خون سے بھری پڑی تھیں۔صلیبی فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو خون گھوڑوں کے گھٹنوں تک آتا تھا لیکن ان بھیڑیوں کی ہوس نہیں ختم ہورہی تھی اور وہ چن چن کر مسلمانوں کو شہید کر رہے تھے ۔کتنوں کو پکڑ کر لے گئے اور ایسی ایسی روح فرسا سزا دی کہ یقین نہیں آتا کہ یہ صلیبی بھی مسلمان ہیں ۔
کسی کو تختے پہ یوں لٹایا جاتا کہ سر نیچے جھکا ہوتا ٹانگیں اوپر کی طرف باندھ کر پانی کی بالٹی منہ پہ گرائی جاتی ۔پھر گردن اور تھوڑی کے درمیان لمبا سریا لگا دیا جاتا ،کسی کے گلے میں کس کر کڑا ڈال دیا جاتا ،جسم سے گوشت، ناخن نوچے جاتے ،آنکھیں نکال لی جاتیں ۔مسلمانوں کی اکثریت شہید کچھ وطن چھوڑ کر بھاگ گئے کچھ قید ہو کر درد ناک سزائیں جھیل رہے تھے کچھ مارے ڈر کے اپنے گلے میں صلیبیں ڈال کر نام بھی عیسائیوں والے رکھ کر اپنی شناخت کو چھپا بیٹھے تھے کہ مبادہ کہیں کسی کو پتہ چلے ہم مسلمان ہیں تو ہمیں بھی شکنجے میں جکڑ لیا جائے ۔
مسلمان چھپ کر نماز پڑھتے تھے ۔قرآن مجید بھی چھپا لئے گئے تھے ۔گرجوں میں جانا شروع کردیا تھا ۔
اسلام کا نام بھی گھروں کی کنڈیاں لگا کر آہستہ اور خوف زدہ آواز میں لیا جاتا تھا کہ کوئی سن لے۔کافر بڑا شاطر تھا اسے امید تھی کہ مسلمان اب بھی ہوں گے کہیں نہ کہیں ۔
سو انھیں اندھیروں میں مسلمانوں کے کانوں میں ایک ایسی آواز پڑی کہ جس نے ان کے ڈوبتے دلوں کو سہارا دیا ،ان کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے، انھیں بہت دنوں بعد سکون شا ملا ،خوف کم ہوا اور اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا ملتا محسوس ہوا ۔اعلان تھا کہ غرناطہ سپین میں جتنے بھی مسلمان ہیں جہاں کہیں بھی وہ سب بندرگاہ پہ اکٹھے ہو جائیں وہاں جہاز آ ئے گا جو انھیں لے کر مسلمان ملک میں چھوڑ آئے گا ۔
مسلمانوں نے اسے نوید سحر سمجھا ،دلوں کی بے قراری کو کچھ اطمینان ہوا ،گھر بار وطن کے بدلے میں جان کی امان ،خوف زدہ زندگی سے چھٹکارا اور مذہب کی آزادی کا سودا کچھ کم نہ لگا ۔
سو گلے میں ڈالی صلیبیں اتار پھینکیں جو پہلے ہی سانپ کی مانند ڈستی تھیں ، خوشی خوشی سب بندرگاہ پہ اکٹھے ہونا شروع ہو گئے ۔جب سب اکٹھے ہو کر چلے ہوں گے تو دل کچھ اداس بھی ہوں گے مگر آنکھوں میں آزادی مذہب کے سہانے خواب سجائے وہ بحری جہاز میں بیٹھے سوچ رہے ہوں گے اب تو چھپ کر نماز نہیں پڑھنی ہوگی سرعام اونچی آواز میں تلاوت کیا کریں گے ۔
لا الہ الا اللہ کی تسبیح کریں گے ۔لیکن یہ جہاز جب عین اندر کے بیچ میں گہرے پانی میں پہنچ گیا تو ظالم دہشت گرد صلیبیوں نے جہاز کو ڈبو دیا ۔
بچے بوڑھے، جون عورتیں سب کی چیخیں دلوں کو چیرتی تھیں لیکن ظالموں کے دل میں رحم نہ آیا اور وہ پچاس ہزار مسلمان یکم اپریل کو ڈوب گئے ۔یعنی یکم اپریل کو اسپین سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیا گیا ۔
ان ظالموں کے دل تو کیا لرزتے اپنی دھوکہ دہی اور جھوٹ پہ اس قدر خوش ہوئے کہ باقاعدہ محل میں فول اپریل کے نام سے جشن منایا گیا ۔
پھر یہ جشن ہر سال منایا جانے لگا جو بڑھتے بڑھتے پورے یورپ میں منایا جانے لگا ۔لیکن وہ تو کفار ہیں ان کے دل بھی شیطان کا گھر ہیں بات تو ہماری ہے ہم مسلمان ہیں ہمیں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کی مانند قرار دیا ۔ہمیں ایک جسم سے تشبیہ دی پھر ہم کیسے اپنے ہی بہن بھائیوں کے قاتلوں کے ساتھ مل کر ان کے قتل کا جشن منا سکتے ہیں؟
ہم کیسے اپنے ہی شہید بہن بھائیوں کو فول (بےوقوف) کہہ سکتے ہیں؟ہم کیسے اس دیوار کی اینٹوں کے گرانے پہ خوش ہو سکتے ہیں جس دیوار کا حصہ ہم خود ہیں؟
نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔ہمارے لئے تو یکم اپریل یوم سیاہ ہے ۔ہمارے دل کٹتے ہیں کہ اس دن ہمارے بہن بھائیوں کو دھوکہ دیا گیا جھوٹ بولا گیا اور انھیں سہانا خواب دکھا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔
یکم اپریل کو جھوٹ بول کر منایا جاتا ہے ۔
جبکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔جھوٹے کے منہ میں قیامت کے روز آگ کی زبان ہوگی ۔پھر ہم کیوں جہنم کے دروازے کھولیں اپنے لئے ۔
اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہوتا ہے لیکن ہم جھوٹ بول کر کسی کو کہہ کر تیرا فلاں مر گیا ،فلاں کا ایکسیڈنت ہوگیا ،کتنی اذیت ہوتی ہے ،ہم کیوں کسی کو اپنی زبان سے غیر کر کے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کریں ؟بس بات تھوڑی سی عقل استعمال کرنے کی ہے تھوڑا غور کرنے کی ہے ۔ہر چیز میں ہم دنیا کے جاہلوں سے نہیں مل سکتے ۔
تھوڑی دیر سوچیں کیا کفار بھی ہمارے ساتھ ہر دن مناتا ہے ؟ہم ڈیڑھ ارب مسلمان دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہ ہیں لیکن دنیا کی گھٹیا ترین قوم ہندو بھی ہمارے ساتھ کوئی دن نہیں مناتی تو ہم تو پھر اس کائنات پہ سب سے اعلی قوم ہیں الحمداللہ ۔ہم کیوں نقل کریں ؟ بس ہمیں کفار کو کہنا چاہیئے
ہمارے لئے ہمارا دین اور تمہارے لئے تمہارا دینیکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم
-

پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید
آپ سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ پوری دنیا کے ڈاکٹرز حکومتی کرتا دھرتا اور میڈیا والے شور مچا رہے ہیں ہاتھ دھوئیں بار بار دھوئیں بلکہ 20 سے 30 سکینڈ تک لگاتار دھوئیں.جبکہ میں آپ کو بول رہا ہوں پانی سے ہاتھ ہرگز مت دھوئیں
تو صاحبو! معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہم کرونا سے بچاؤ کے لیے دن میں کافی بار ہاتھ دھو رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ آپ پانی کا استعمال محفوظ طریقے سے کریں کیونکہ صاف پانی اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے اس کا بے جا استعمال اس کی مقدار کم کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے.جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے شہری علاقوں میں پانی کی سطح دن بہ دن کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو اس کا حل ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے جن کو دھونے کے لیے ہم فضول خرچی کی حد سے بھی بڑھ کر پانی استعمال کر رہے ہیں
کرنا آپ کو بس یہ ہوگا کہ جب بھی آپ ہاتھ دھوئیں تو ہاتھوں کو گیلا کرنے کے بعد صابن لگائیں اور صابن لگے ہاتھ کے ساتھ نل ( ٹوٹی ) کے ہیڈ یا ہینڈل کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں اس سے ہوگا یہ کہ 20 سے 30 سیکنڈ کا جو وقت ہاتھ دھونے میں ہم صرف کریں گے
اس دورانیہ میں پانی کا ضیاع نہیں ہوگا. اور جب آپ نل کو دوبارہ کھولیں گے تو نل کے ہیڈ پہ دوبارہ صابن لگے ہاتھ لگیں گے تو ہیڈ کے جراثیم اپنی موت آپ مر چکے ہوں گے ان شاء اللہ. اب آپ پانی کے ساتھ ہاتھوں پہ لگا صابن صاف کریں اور نل کے ہیڈ پہ بھی چلو بھر کے پانی ڈال دیں اور لگے ہاتھوں نل کو بند کر دیں. اس ساری مشق کے دوران ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے ایک تو پانی ضائع نہیں ہوگا
دوسرا نل بند کرتے ہوئے اس کے ہیڈ پہ لگے جراثیم آپ کے ہاتھوں پہ منتقل نہیں ہوں گےاب سمجھ آئی کہ میں کیوں بول رہا ہوں پانی سے ہرگز ہاتھ مت دھوئیں
#سچیاں_گلاں
پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں
حفیظ اللہ سعید