Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • رہے نام اللّٰہ کا جو قادر بھی ہے خالق بھی__!!! (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

    آجکل گھر کی کچن سے لے کر ڈرائنگ روم تک…
    میڈیا سے ایوانوں تک…
    ملکوں سے عالمی فورموں تک__

    صحت کے مراکز سے تحقیقی لیبارٹریوں تک ایک ہی بحث گردش کرتی دکھائی دیتی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنا…!!!
    COVID_19
    نے اس دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    زندگی کا پہیہ ایک دم سے ایسا جام ہو گیا ہے کہ
    پہلے جو کبھی ہر وقت سوٹ بوٹ کی تیاری
    صبح صبح جاب کی جگہ پر پہنچنے کی فکر،فنکشن میں فیشن کا لحاظ و خیال۔۔۔شادی بیاہ کی دھوم دھام پر تبادلۂ خیال…
    مرنے پر لمبی چوڑی رسومات کی ادائیگی کا غم
    کسی کے نہ آنے کی کلفت…

    دیکھ کر آنکھ چرا جانے کے شکوے…
    وقت نہ دینے کی ناراضگی…
    بازاروں کے ضرورت اور بلا ضرورت کے چکر…
    بہنوں،بھائیوں پر گلوں کے طومار…

    اب ایک طرف رکھ دیئے گئے ہیں اب عالم ہے اگر تو نفسا نفسی کا…
    کوئی پاس ہو کر بھی قریب نہ آئے،
    اتنے فٹ کا فاصلہ ضروری ہے…

    ہاتھ ملانے سے گریز…
    برتن کو اٹھاتے،ہاتھ لگاتے،دروازہ کھولتے،بند کرتے غرض ہر لمحہ اعصاب پر ایک ہی واہم سوار ہے کہ کہیں وائرس حملہ آور نہ ہو جائے…
    ابہام و غلط فہمیوں کا سلسلہ جاری ہے کہ کل دو آنٹیاں گلی میں نظر آئیں،ایک منہ لپیٹے اپنے گھر داخل ہو گئیں تو دوسری اندازِ شکوہ میں بولیں ہائے مجھے کونسا بیماری ہے کہ مجھ سے بولی بھی نہیں؟

    ایک طرف گھروں میں رہنے کی ہدایات ہیں تو دوسری طرف دیہاڑی دار طبقہ پریشانیوں کے سائے میں صبح کا آغاز کر رہا ہے،روز کا روز کمانے والا اسی اُمید پر زندگی کا پہیہ رواں دواں رکھتا ہے کہ جب تک سانس اور بدن میں قوت ہے، کما کر لے آئیں گے تو اب فاقوں کے ڈر سے مجبور و بے بس بیٹھے ہیں
    راشن کی دکانوں پر سوشل ڈسٹینسنگ (social distancing) سے لا پرواہ غریب چند کلو آٹے یا دال چینی کے لیئے ہلکان ہے…!!!

    میڈیا خبریں سجاتا ہے وائرس کی پرواہ نہیں راشن دے دو…
    غرض ایسے طبقہ کی پر زور اعانت اور انہیں گھر کی دہلیز پر کچھ وقت کے لیئے یہ چیزیں فراہم کرنا حکومت کے لیئے ایک امتحان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات بھی اس نازک وقت میں دل کھول کر غرباء کی مدد کر سکتے ہیں…
    اگر چہ صورتحال یہ ہے کہ تمام کاروباری مراکز بند ہونے کی وجہ سے ہر بندہ ہی اپنا اپنا رونا رونے اور معاشی سٹرکچر کو دھچکا لگنے پر نالاں دکھائی دیتا ہے…!!!

    دنیا جب دیتی ہے تو ذلت کے دروازے یونہی کھلا کرتے ہیں لیکن یہ صرف خیر الرازقین کی شان ہے کہ ہر روز نئی شان سے مانگنے والوں کو عطا کرتا ہے اور بے حساب کرتا ہے،پر سکون کرنے والا دیتا ہے…
    ایک دم سے ڈگریاں،اسٹیٹس،اور کاروبارِ زندگی غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار ہیں اور مستقبل کے معاشی مناظر ذہنوں میں جھلملا رہے ہیں۔
    دنیا بھر کی طاقتیں اور انہیں چلانے والے سبھی کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے ہیں…
    دنیا تا حال علاج و دوا تیار کرنے سے قاصر اور بے بسی کی اتھاہ گہرائیوں میں نظر آ رہی ہیں…

    گلوبل ویلیج کی اہمیت کے ثمرات گنواتے لوگوں پر ذمہ داریوں کا بار بھی اتنا ہی زیادہ ہے اور سب کو مل کر اس وبا کے عفریت سے سامنا کرنا ہے…
    وبائیں اور بیماریاں تاریخ میں بھی بنی نوع انسان کو شدید متاثر کرتی رہی ہیں مگر اتنی آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے اور پھیلاؤ کے امکانات کم تھے۔

    لیکن کئی سوالات کو اپنے پیچھے چھوڑتی یہ وبا حضرت انسان کے لیئے ایک بڑا امتحان بھی ہے…!!!
    ایک اور مفروضہ جو زیرِ بحث نظر آتا ہے کہ یہ حیاتیاتی ہتھیار ہے اور اسے خود لیبارٹریوں میں تیار کیا گیا ہے تو کیا یہ سوال بھی اہلِ عقل کی سوچ میں نہیں آتا ہے کہ اگر یہ کسی کی کسی کو نیچا دکھانے کی سازش ہی تھی تو وہ خود اس کا شکار کیوں ہو چکے ہیں؟
    خود اس کے علاج سے معذور کیوں اور متاثرین میں سب سے آگے کیوں ہیں؟؟؟

    تو تب بھی اللّٰہ کا قرآن ہی دل کو تسلی دیتا ہے کہ:
    "دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے، اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے سو آپ اللّٰہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہیں پائیں گے…!!!”(فاطر:43)۔
    انسان جتنے مرضی ترقی کے مدارج طے کر لے مگر رب کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں جا سکتا…

    سو ان باتوں میں سمجھنے اور عبرت پکڑنے والوں کے لیئے بڑی نشانی ہے کہ بہر حال ہمیں اپنے تمام مسائل کے حل کے لیئے اسباب اختیار کرنے کے بعد رجوع اللّٰہ کی ذات کی طرف ہی کرنا ہوگا کہ وہ ہم سے اس وبا کو ٹال دے،نجات دے اور اس کے نقصانات سے محفوظ فرمائے…!!!
    تاکہ مشکلات میں گھری دنیا اور لوگوں میں سکوں کی سانس لوٹے…جو اوہام،ابہام اور اور غیر یقینی باتوں اور ماؤف اذھان کی جکڑ بندیوں میں جکڑی جا چکی ہے…!!!

    کہ اب ماہرینِ نفسیات اور مائنڈ چینجر لوگوں کو میڈیا کی افواہوں سے بھی دور رہنے کی تجاویز دے رہے ہیں یہ بات بھی سچ ہے کہ بے پر کی باتیں بھی بسا اوقات بنے کاموں کو بگاڑ دیتی ہیں…ایک واقعہ کسی نے سنایا تھا کہ ایک ہوٹل سے لوگ کھانا کھایا کرتے ہیں، ایک آدمی جو دودھ پینے کا شوقین تھا وہاں سے روانہ دودھ لے کر پیتا…

    ایک دن اتفاق سے دودھ ختم ہونے کے بعد ہوٹل والے نے ڈول میں دیکھا تو سانپ بیٹھا تھا،تو وہ ہل کر رہ گیا کہ پتہ نہیں وہ سب لوگ جو دودھ لے کر گئے ہیں بچیں گے کہ نہیں لیکن خیریت رہی لیکن وہ شخص جو دودھ پی کر گیا تھا پھر کبھی ہوٹل پر آیا تو اس شخص نے اسے یہ بات بتائی کہ اس دودھ میں جو تم نے پیا تھا،سانپ موجود تھا،یہ سنتے ہی وہ شخص پیچھے گِرا اور…

    بھلے یہ واقعہ سچ ہو یا نہیں لیکن اپنے اندر ایک سبق ضرور رکھتا ہے کہ واقعتاً وہم اور انجانا خوف انسان کی قوتِ مدافعت کمزور کر دیتے اور یوں بھی بزدل کر دیتے ہیں کہ وہ سالوں اور مہینوں بعد بھی اس سے نکل نہیں پاتا…
    اسلیئے احتیاط کیجیئے،تدابیر پر عمل رکھیئے لیکن یاد رکھیئے کہ تقدیر سے کوئی نہیں بھاگ سکتا اور وہ رب چاہے تو زہر کو بھی تریاق کر دیا کرتا ہے…

    پہلے لوگ اتنے آگاہ نہیں ہوتے تھے جتنا کہ آج ہیں…
    میڈیا سے کوئی خود کو کیسے دور رکھ پائے گا کہ پہلے تو کسی کو ٹی وی کا بٹن اُٹھ کر آن کرنا پڑتا تھا اخبار خرید کر لانا پڑتا تھا مگر اب میڈیا ہمارے ہاتھ اور بستروں میں ہے…
    نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھیں پھسل کر اس کی خبروں سے جا لڑتی ہیں؟؟؟

    بہر حال مثبت سوچتے رہیں،کچھ وقت کے لیئے احتیاط لازم ہے تو پوری احتیاط کو لازمی اختیار کریں…
    اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں…آسانیاں بانٹنے والے بنیں…مستحقین سے تعاون کر دیں…اور رب سے دعا و مناجات کا سلسلہ کبھی ہاں کبھی نہ ٹوٹنے دیں…یہی فلاح ہے__!!!

    اس عمرِ رواں پہ سو امتحاں
    کٹتے ہیں کئی لمحے گراں…
    مگر اس زندگی کی رو میں
    سانسوں کی آتی ضو میں__
    اُمیدِ کے چراغ سرِ رہ رکھنا
    ہواؤں کا رب رُخ بدل دے گا__!!!
    ==============================

    رہے نام اللّٰہ کا جو قادر بھی ہے خالق بھی__!!!
    (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

  • لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!—از—-جویریہ چوہدری

    لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!—از—-جویریہ چوہدری

    لا تقنطومن رحمتہ اللہ
    رحیم نام ہے اُس کا__
    بخشنا کام ہے جِس کا__
    وہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے…
    بندوں کو قریب بُلاتا ہے__!!!
    پلٹ آؤ تم میرے در پر…
    تمہاری آس کے جگنو…
    جو چمکتے ہوئے چشمِ تر پر…
    ندامت کے آنسوؤں سے دُھلی
    ہوتی ہیں جو یہ ہتھیلیاں کُھلی__!!!
    دل کے دریدہ دامن سے__
    ہچکیوں کی لُو جو چلی__!!!
    کٹوروں سے برستے نینوں کی…
    گرمی جو سجدوں میں بہی__!!!
    سارے غبارسے چھٹ جاتے ہیں__
    ہوں درد جتنے کٹ جاتے ہیں__!!!
    دل کی دھڑکن میں ہے سکوں اُبھرتا…
    اور رگ رگ میں ٹھنڈ ہے بھرتا…!!!
    بلائیں سب دور جاتی ہیں__
    کہیں آزمائشیں جو آتی ہیں__
    تو شکر و رضا کے آئینے میں…
    کردار کا رُخ سنوارتی ہیں…!!!
    ساحل کی تلاش میں چلتے__
    سفینوں کو منزل پہ اُتار جاتی ہیں__!!!
    جو دل اُس در پہ قائم ہو__
    مایوسی سے رشتہ نہ دائم ہو…!!!
    تو زندگی میں ابد تک__!!!
    روشنیاں ساتھ نبھاتی ہیں__!!!
    کہیں خزاں کوئی آ بھی جائے__
    مگر اسی کی اوٹ سے پھر…
    بہاریں بھی مسکراتی ہیں…!!!!!
    ==============================

    لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!
    (بقلم✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم

    یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم

    عادت ہی پڑ گئی ہے ہر نقل کرنی ہے
    اچھے سے واسطہ ہے نہ برے سے کوئی نفرت

    یکم اپریل
    غداروں کی غداروں ،لالچیوں کے لالچ اور ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سے غرناطہ کی گلیاں مسلمانوں کے خون سے بھری پڑی تھیں۔صلیبی فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو خون گھوڑوں کے گھٹنوں تک آتا تھا لیکن ان بھیڑیوں کی ہوس نہیں ختم ہورہی تھی اور وہ چن چن کر مسلمانوں کو شہید کر رہے تھے ۔

    کتنوں کو پکڑ کر لے گئے اور ایسی ایسی روح فرسا سزا دی کہ یقین نہیں آتا کہ یہ صلیبی بھی مسلمان ہیں ۔
    کسی کو تختے پہ یوں لٹایا جاتا کہ سر نیچے جھکا ہوتا ٹانگیں اوپر کی طرف باندھ کر پانی کی بالٹی منہ پہ گرائی جاتی ۔پھر گردن اور تھوڑی کے درمیان لمبا سریا لگا دیا جاتا ،کسی کے گلے میں کس کر کڑا ڈال دیا جاتا ،جسم سے گوشت، ناخن نوچے جاتے ،آنکھیں نکال لی جاتیں ۔

    مسلمانوں کی اکثریت شہید کچھ وطن چھوڑ کر بھاگ گئے کچھ قید ہو کر درد ناک سزائیں جھیل رہے تھے کچھ مارے ڈر کے اپنے گلے میں صلیبیں ڈال کر نام بھی عیسائیوں والے رکھ کر اپنی شناخت کو چھپا بیٹھے تھے کہ مبادہ کہیں کسی کو پتہ چلے ہم مسلمان ہیں تو ہمیں بھی شکنجے میں جکڑ لیا جائے ۔
    مسلمان چھپ کر نماز پڑھتے تھے ۔قرآن مجید بھی چھپا لئے گئے تھے ۔

    گرجوں میں جانا شروع کردیا تھا ۔
    اسلام کا نام بھی گھروں کی کنڈیاں لگا کر آہستہ اور خوف زدہ آواز میں لیا جاتا تھا کہ کوئی سن لے۔

    کافر بڑا شاطر تھا اسے امید تھی کہ مسلمان اب بھی ہوں گے کہیں نہ کہیں ۔
    سو انھیں اندھیروں میں مسلمانوں کے کانوں میں ایک ایسی آواز پڑی کہ جس نے ان کے ڈوبتے دلوں کو سہارا دیا ،ان کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے، انھیں بہت دنوں بعد سکون شا ملا ،خوف کم ہوا اور اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا ملتا محسوس ہوا ۔

    اعلان تھا کہ غرناطہ سپین میں جتنے بھی مسلمان ہیں جہاں کہیں بھی وہ سب بندرگاہ پہ اکٹھے ہو جائیں وہاں جہاز آ ئے گا جو انھیں لے کر مسلمان ملک میں چھوڑ آئے گا ۔
    مسلمانوں نے اسے نوید سحر سمجھا ،دلوں کی بے قراری کو کچھ اطمینان ہوا ،گھر بار وطن کے بدلے میں جان کی امان ،خوف زدہ زندگی سے چھٹکارا اور مذہب کی آزادی کا سودا کچھ کم نہ لگا ۔
    سو گلے میں ڈالی صلیبیں اتار پھینکیں جو پہلے ہی سانپ کی مانند ڈستی تھیں ، خوشی خوشی سب بندرگاہ پہ اکٹھے ہونا شروع ہو گئے ۔

    جب سب اکٹھے ہو کر چلے ہوں گے تو دل کچھ اداس بھی ہوں گے مگر آنکھوں میں آزادی مذہب کے سہانے خواب سجائے وہ بحری جہاز میں بیٹھے سوچ رہے ہوں گے اب تو چھپ کر نماز نہیں پڑھنی ہوگی سرعام اونچی آواز میں تلاوت کیا کریں گے ۔
    لا الہ الا اللہ کی تسبیح کریں گے ۔لیکن یہ جہاز جب عین اندر کے بیچ میں گہرے پانی میں پہنچ گیا تو ظالم دہشت گرد صلیبیوں نے جہاز کو ڈبو دیا ۔
    بچے بوڑھے، جون عورتیں سب کی چیخیں دلوں کو چیرتی تھیں لیکن ظالموں کے دل میں رحم نہ آیا اور وہ پچاس ہزار مسلمان یکم اپریل کو ڈوب گئے ۔

    یعنی یکم اپریل کو اسپین سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیا گیا ۔
    ان ظالموں کے دل تو کیا لرزتے اپنی دھوکہ دہی اور جھوٹ پہ اس قدر خوش ہوئے کہ باقاعدہ محل میں فول اپریل کے نام سے جشن منایا گیا ۔
    پھر یہ جشن ہر سال منایا جانے لگا جو بڑھتے بڑھتے پورے یورپ میں منایا جانے لگا ۔

    لیکن وہ تو کفار ہیں ان کے دل بھی شیطان کا گھر ہیں بات تو ہماری ہے ہم مسلمان ہیں ہمیں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کی مانند قرار دیا ۔ہمیں ایک جسم سے تشبیہ دی پھر ہم کیسے اپنے ہی بہن بھائیوں کے قاتلوں کے ساتھ مل کر ان کے قتل کا جشن منا سکتے ہیں؟
    ہم کیسے اپنے ہی شہید بہن بھائیوں کو فول (بےوقوف) کہہ سکتے ہیں؟

    ہم کیسے اس دیوار کی اینٹوں کے گرانے پہ خوش ہو سکتے ہیں جس دیوار کا حصہ ہم خود ہیں؟
    نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔ہمارے لئے تو یکم اپریل یوم سیاہ ہے ۔

    ہمارے دل کٹتے ہیں کہ اس دن ہمارے بہن بھائیوں کو دھوکہ دیا گیا جھوٹ بولا گیا اور انھیں سہانا خواب دکھا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔
    یکم اپریل کو جھوٹ بول کر منایا جاتا ہے ۔
    جبکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔

    جھوٹے کے منہ میں قیامت کے روز آگ کی زبان ہوگی ۔پھر ہم کیوں جہنم کے دروازے کھولیں اپنے لئے ۔
    اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہوتا ہے لیکن ہم جھوٹ بول کر کسی کو کہہ کر تیرا فلاں مر گیا ،فلاں کا ایکسیڈنت ہوگیا ،کتنی اذیت ہوتی ہے ،ہم کیوں کسی کو اپنی زبان سے غیر کر کے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کریں ؟

    بس بات تھوڑی سی عقل استعمال کرنے کی ہے تھوڑا غور کرنے کی ہے ۔ہر چیز میں ہم دنیا کے جاہلوں سے نہیں مل سکتے ۔
    تھوڑی دیر سوچیں کیا کفار بھی ہمارے ساتھ ہر دن مناتا ہے ؟

    ہم ڈیڑھ ارب مسلمان دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہ ہیں لیکن دنیا کی گھٹیا ترین قوم ہندو بھی ہمارے ساتھ کوئی دن نہیں مناتی تو ہم تو پھر اس کائنات پہ سب سے اعلی قوم ہیں الحمداللہ ۔ہم کیوں نقل کریں ؟ بس ہمیں کفار کو کہنا چاہیئے
    ہمارے لئے ہمارا دین اور تمہارے لئے تمہارا دین

    یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم

  • پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    آپ سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ پوری دنیا کے ڈاکٹرز حکومتی کرتا دھرتا اور میڈیا والے شور مچا رہے ہیں ہاتھ دھوئیں بار بار دھوئیں بلکہ 20 سے 30 سکینڈ تک لگاتار دھوئیں.جبکہ میں آپ کو بول رہا ہوں پانی سے ہاتھ ہرگز مت دھوئیں

    تو صاحبو! معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہم کرونا سے بچاؤ کے لیے دن میں کافی بار ہاتھ دھو رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ آپ پانی کا استعمال محفوظ طریقے سے کریں کیونکہ صاف پانی اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے اس کا بے جا استعمال اس کی مقدار کم کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے.جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے شہری علاقوں میں پانی کی سطح دن بہ دن کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو اس کا حل ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے جن کو دھونے کے لیے ہم فضول خرچی کی حد سے بھی بڑھ کر پانی استعمال کر رہے ہیں

    کرنا آپ کو بس یہ ہوگا کہ جب بھی آپ ہاتھ دھوئیں تو ہاتھوں کو گیلا کرنے کے بعد صابن لگائیں اور صابن لگے ہاتھ کے ساتھ نل ( ٹوٹی ) کے ہیڈ یا ہینڈل کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں اس سے ہوگا یہ کہ 20 سے 30 سیکنڈ کا جو وقت ہاتھ دھونے میں ہم صرف کریں گے

    اس دورانیہ میں پانی کا ضیاع نہیں ہوگا. اور جب آپ نل کو دوبارہ کھولیں گے تو نل کے ہیڈ پہ دوبارہ صابن لگے ہاتھ لگیں گے تو ہیڈ کے جراثیم اپنی موت آپ مر چکے ہوں گے ان شاء اللہ. اب آپ پانی کے ساتھ ہاتھوں پہ لگا صابن صاف کریں اور نل کے ہیڈ پہ بھی چلو بھر کے پانی ڈال دیں اور لگے ہاتھوں نل کو بند کر دیں. اس ساری مشق کے دوران ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے ایک تو پانی ضائع نہیں ہوگا

    دوسرا نل بند کرتے ہوئے اس کے ہیڈ پہ لگے جراثیم آپ کے ہاتھوں پہ منتقل نہیں ہوں گےاب سمجھ آئی کہ میں کیوں بول رہا ہوں پانی سے ہرگز ہاتھ مت دھوئیں

    #سچیاں_گلاں
    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں
    حفیظ اللہ سعید

  • کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

    کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

    ایک دوست نے کہا کہ جتنے لوگ کورونا وائرس سے آج تک دنیا میں مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں میں مرتے ہیں۔۔۔ مقصد دوست کا یہ تھا کہ دراصل کورونا کوئی خاص بیماری نہیں، میڈیا نے بلا وجہ ہائپ دے دی ہے اور لوگوں نے اسے خود پہ سوار کر لیا ہے۔

    عرض ہے کہ یہ بات درست ہے کہ دنیا میں ہر روز مختلف بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد اب تک کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور یہ بھی درست ہے کہ میڈیا نے اسے ہائپ دی اور یہ بھی درست ہے کہ عوام نے اسے خود پہ سوار کر لیا ہے۔۔۔ لیکن ایک اور ایسی حقیقت بھی ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں۔

    جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر روز مختلف بیماریوں سے لوگ دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں مرتے ہیں جو کہ کورونا وائرس سے ہوئی اب تک کی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر روز ہونے والی غیر طبی اموات کی تعداد طبی اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ ہر روز مختلف حوادث، خودکشیوں اور اچانک پڑنے والے دوروں (خواہ ان کی کوئی طبی منطق ہو یا نہ ہو) میں ہوئی اموات اور پراسرار اموات کے اعدادوشمار کو اکٹھا کیا جائے تو یہ مختلف بیماریوں سے ہوئی اموات سے کہیں زیادہ تعداد بنتی ہے۔

    لیکن۔۔۔۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بیماریاں اپنا وجود نہیں رکھتیں یا ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ سچ ہے کہ کورونا وائرس سے آج تک جتنے لوگ مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں سے مرتے ہیں۔۔۔ لیکن اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کورونا وائرس کی کوئی اصل یا اہمیت ہی نہیں۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کی شکل میں انسانی زندگی کو درپیش خطرات میں ایک اور خطرے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    اب کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ خطرہ تو سڑک کراس کرنے میں بھی ہے، سو کورونا وائرس کے خطرے میں کیا چیز مختلف ہے؟ تو عرض کہ فرق خطرے کی نوعیت کا ہی ہے۔ سڑک کراس کرتے ہوئے آپ چلتی ہوئی گاڑیوں پہ دیہان رکھتے ہیں۔ کیونکہ سڑک کراس کرتے ہوئے سب سے بڑا خطرہ چلتی ہوئی گاڑی ہوا کرتی ہے۔۔۔ لیکن کورونا وائرس کی ایسی کوئی ظاہری علامت نہیں کہ جس سے آپ جان پائیں کہ آپ کو دراصل خطرہ ہے کس سے۔۔۔!

    یہی وہ اندھا خطرہ ہے کہ جس نے پوری دنیا کو مفلوج کر رکھا ہے۔۔۔ لہذا اسے ہنسی مذاق نہ سمجھیں، لوگ مر رہے ہیں اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اور اس کے پھیلاؤ کی وجوہات بھی کینسر، ایڈز، ہیبی ٹائٹس اور دوسری جان لیوا بیماریوں سے مختلف ہیں۔

    کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

  • اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ”کرونا وائرس“ جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

    ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے۔ کیونکہ یہ وائرس ملنے جلنے سے پھیلتا ہے اس لیے تما م سکولز،کالجز،یونیورسٹیز،کمیونٹی سنٹرز،مدارس،دفاتر،ملز،فیکٹریز کو بند کر دیا گیا ہے،تاکہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے تقریباً786957کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں مزید کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں،جن میں سے مرنے والوں کی تعداد 37843تک پہنچ چکی ہے۔

    مزید برآں روزانہ کے حساب سے پوری دنیا میں 3500سے زیادہ لوگ مر رہے ہیں،اور پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 1865ہو چکی ہے۔اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر میں اس کو خدا کا عذاب کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں،ہر طرف بے حیائی،فحاشی عروج پہ ہے۔ امت مسلمہ پر ظلم کیا جا رہا ہے (شام،فلسطین،کشمیر) اس میں شامل ہیں۔حلال اور حرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روک نہ سکی،وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا ک کر کے ر کھ دیتی ہے۔

    دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیااور یہ پکار پکار کے کہہ رہاہے ”Where are your Fighter Jets, Missiles and your Nuclear Weapons” اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہو،لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ دنیا پر ظلم اس قدر اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کہ خدا کا عذاب آگیا۔ میرا وجدان کہتا ہے یہ صدا تھی کشمیر کی ان ماؤں اور بہنوں کی جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا،یہ صدا تھی ان بہنوں اور بیٹیوں کی جن کی عزت کو سب کے سامنے تار تار کیا گیا۔اور خدا کے عذاب نے ”کرونا وائرس“ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،

    انہوں نے تو کشمیر کو بند کیا تھا اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بند کر دیا۔مجھے شام کے اس بچے کی صدابھی یاد ہے جس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا”سَاُخْبِرُ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ“ میں سب کچھ اپنے رب کو بتاؤں گا۔مجھے عراق کی اس بیٹی کی صدا بھی یاد ہے جس نے بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا ”انکل! خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا میں بے حجاب ہوں“۔ مجھے افغانستان کے اس بچے کی بات بھی یاد ہے جس کا بازو زخمی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا بیٹا!تمہارا بازو کاٹنا پڑے گا تو اس بچے نے کہا ”خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر میری آستین مت کاٹنا کیونکہ زیب تن کرنے کیلئے میرے پاس یہی ایک جوڑا ہے“۔اس مرض سے بچنے کیلئے آج کی سائنس یہ کہتی ہے،کہ صفائی کا خاص خیال رکھو،

    جس علاقے میں یہ بیماری ہے اس سے دور رہو، ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھو، منہ پر Maskپہنو، ہاتھوں کو صاف کرو، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوچودہ سوسال پہلے ہمارے آقا و مولا جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ بیان کر چکے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ہوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ آپ کو ایک مقام پر اطلاع ملی کہ شام کی طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی شامل تھے آپ کی عرض کی یا امیر المؤمنین!میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”کہ جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کیلئے مت بھاگو“۔

    اسلام نے بھی تو یہی تعلیمات دی تھیں۔ حرام سے دور رہو،پردہ کرو،صفائی کا خاص خیال رکھوبیشک صفائی نصف ایمان ہے۔ کیونکہ اسلام وہ نظریہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی اور سبق ملتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر طبقے کیلئے براہ راست راہنمائی موجود ہے۔ مگر افسوس!ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا،اور بات پھر بھی وہاں ہی آگئی ہے ساری دنیا میں لوگ ماسک کی صورت میں پردہ کر رہے ہیں، حرام چیزوں سے دور رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کیونکہ آج پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے کہ اسلام ہی امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ مشہور رومن حکم راں (Justinan)کہتا ہے جو معمولات،دستور،باضابطہ طور پر اسلا م کے پاس موجود ہیں۔

    وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل وہ چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں،اسلام نے باضابطہ ان کا احاطہ کیا ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب وادیان جدید دور کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔جس چیز کا حل ہمیں سائنس اور کتابوں سے نہیں ملتا ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی سنت نبوی کے اندر موجود ہے کیونکہ ارشاہ نبویﷺ ہے۔”ترکتم علی حجۃ بیضاء لیلھا کنھار رھا لایزیغ عنھا الا ھالک“ ترجمہ:میں نے تم کو روشن راستے پر چھوڑا ہے،اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی مانند روشن ہیں۔

    اب اسلام کی تعلیمات سے وہی شخص انحراف کرے گا جو خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔اگر ہم اس بیماری کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ ہے ”وضو“آج کی جدیدسائنس بھی کہتی ہے اگر کوئی دن میں بانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت سے پاک ہو جاتا ہے۔

    جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے ان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔

    اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلئے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں،منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مختار سالم اپنی کتاب
    (Prayer esport for body and soul)میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں لکھتا ہے۔

    ”جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے“۔آج وقت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جبیں کو جھ کا کر استغفار کرنے کا ہے۔آج وقت اپنے اعمال کے محاسبہ کرنے کاہے۔اپنے گھروں اور مساجد کو رب کی عبادت سے آباد کرنے کا ہے۔اور ”کروناوائرس“کے خلاف جو ہماری حکومت اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنے کا ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی ان کو ہماری تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔

    اپنے گھروں سے ضرورت کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں،اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔ اگر کی ضرورت کے پیش نظرباہر نکلنا پڑتا ہے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور حکومت نے جو پورے ملک میں باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا۔”It’s not a CURFEW, It’s a CARE FOR YOU”آخر میں اتنا کہوں گا۔”سب کچھ ہر جگہ بند ہو رہا ہے،لیکن!توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے“

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم

    ازقلم:حافظ عبدالستار

  • حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    8 مارچ کو عالمی یوم خواتین سے پہلے ہی پوری دنیا کیساتھ پاکستان بھی کرونا کی لپٹ میں تھا چائیے تو یہ تھا کہ دنیا بھر کی طرح احتیاط کی جاتی اور لوگوں کو اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی جاتی مگر ہوس و شہرت کے پجاری اس وقت بھی باز نا آئے اور پورے ملک میں ان نام نہاد خود ساختہ حقوق نسواں کے دعوے داروں نے سینکڑوں مجبور و بے سہارا غریب عورتوں کو پیسے کا لالچ دے کر اکھٹا کیا جو کہ بعد میں میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا گندے بے ہودہ نعروں پر مبنی پوسٹرز اور پلے کارڈز پر ان کی طرف سے ریاست پاکستان و اسلام کے خلاف نعرے درج تھے اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ معاذاللہ اسلام عورتوں کے حقوق کا غاصب ہے ویسے تو ان دین بے زاروں کے کئی نعرے ہیں مگر سب سے مشہور ان کا نعرہ میرا جسم میری مرضی ہے جس کے تحت یہ اللہ کی جاری کردہ حدوں کو پامال کرتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں 8 مارچ یوم خواتین کو جب ملک کے ہر شہر سے خصوصاً کراچی کے فریئر ہال اور لاہور وہ اسلام آباد کے پریس کلبوں سے انہوں نے عورت مارچ کا آغاز کیا عین اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں تھی کشمیر و فلسطین،شام و افغانستان اور ہندوستان کے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے مگر افسوس کے ان لوگوں نے صرف اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا حالانکہ اگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کے اصل پشتی بان ہوتے تو کرونا سے متاثرہ عورتوں کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے کشمیر میں محصور عورتوں کیلئے چیختے چلاتے ان کیلئے صدائیں بلند کرتے مگر ان کو تو صرف عورت کی آزادانہ بوس و کنار کی فکر ہے ان کو تو عورتوں کے بوائے فرینڈز کے روٹھ جانے کی فکر ہے اور ان کو صرف آزاد بے لگام معاشرے کے قیام کا ٹاسک ملا ہوا ہے
    یہ لوگ نا صرف دین اسلام سے بیزار ہیں بلکہ یہ لوگ تو انسانیت سے بھی بیزار ہیں اس ساری نام نہاد حقوق نسواں کی ٹیم کے کارکنان جیسا کہ ماروی سرمد،اداکارہ ریشم،منصور علی خان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور گستاخ احمد وقاص گورائیہ اور دیگر لوگ سب کے سب چیخ رہے تھے میرا جسم میری مرضی اور عورت پر ظلم بند کرو ان کو ان کے حقوق دو مگر اب کرونا سے متاثرہ عورتیں ان کی خاموشی پر حیران ہیں کہ تمہارے دعوے تو صرف بے شرمی اور بے حیائی پھیلانے تک ہی تھے اب ہم پوری دنیا و پاکستان کی کرونا سے متاثرہ عورتیں کسی سہارے کی منتظر ہیں کوئی ہمارا دکھ سمجھے کوئی ہمارے ساتھ بیٹھے ہمارے علاج کے حقوق کی صدائیں بلند کرے ہمارے لئے اعلی خوراک کا انتظام کرے تا کہ ہم اپنا جسمانی مدافعتی نظام طاقتور کرکے اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکیں مگر افسوس جعلی اور نام نہاد دعوے دار اب چپ کرکے مشکل کی اس گھڑی میں بیٹھ گئے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کے خلاف کرونا وائرس نا چمٹ جائے ہمارا جسم ہماری مرضی کا دعوے دار ٹولہ جان چکا ہے کہ جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی مگر اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
    ایسے لوگوں کو میرے رب نے اپنے فرمان میں منافق اور بدکردار کہا ہے اور یہ لوگ فسادی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے میں سے ہیں وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں ،وہ بھول گئے اللہ تعالیٰ کو ،تو اس نے بھی بھلا دیا یقیناً منافق ہی نافرمان ہیں سورہ التوبہ آیت 67
    حالانکہ اب عورتوں کو ان کے پہلے حق صحت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ میرے رب کا فرمان ہے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا سورہ المائدہ آیت 32
    مگر ان کھوکھلے نعرے لگانے والوں کی کرتوت کھل کر سامنے آ گئی ہے یہ صرف عورتوں کو بوس کنار اور سیکس ایجوکیشن کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر اس پاک دھرتی کے غم خوار بیٹے جو کہ اپنے نبی کریم اور اپنے رب کے فرامین کے مطابق عورتوں ،بچوں،بوڑھوں اور مریضوں کے حقوق سے واقف ہیں وہ غم خوار انسانیت کے مددگار بے سروسامانی کیساتھ بھی ان عورتوں بچوں اور مردوں کی صحت کے حقوق کیلئے ڈٹ گئے ہیں اور دن رات ایک کرکے اس موذی مرض سے متاثرہ مریض عورتوں کا علاج شروع کر دیا اور ثابت کر دیا کہ ہم اصل دعوے دار ہیں حقوق نسواں کے ہم مان ہیں ان ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کا اور پھر پورا ملک ایک جان ہو گیا فوج و پولیس کے جوان ملک کی سلامتی و بقاء کی خاطر گلیوں چوراہوں میں آ گئے پیرا میڈیکل سٹاف ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ جڑ گیا،صحافی لوگوں کو باخبر رکھنے کیلئے دن رات ایک کئے باہر آ گئے ریسکیو 1122 کے جوان بھی بغیر نیند کی پرواہ کئے جت گئے محکمہ ڈاک نے بزرگ پینشروں تنخواہ دار عورتوں کے حقوق کی خاطر اس لاک ڈاؤن میں ان کی رقوم ان تک پہنچانے ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچے محکمہ بجلی نے لوگوں کی پریشانی جانتے ہوئے دن رات ایک کرکے لاک ڈاؤن میں بیٹھی عورتوں اور بچوں کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کا بجلی کی ترسیل کا کام بغیر رکاوٹ جاری رکھا سول گورنمنٹ کے اہلکاران و افسران نے ساری آسائشیں چھوڑیں اور قرنطینہ سنٹرز و ہسپتالوں میں زیر علاج عورتوں اور مریضوں کی ضروریات کیلئے دن رات ایک کرکے ان تک ہر چیز پہنچائی نیز پاکستان کا ہر محکمہ ہر پاکستانی تعصب اور گروہ بندی سے ہٹ کر ان عورتوں،بچوں بوڑھوں ،جوانوں اور مریضوں کے حقوق کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کئے بنا کام کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کا جعلی ٹولہ کسی بل میں چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ گیا اور ڈر رہا ہے کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کی سزا نا مل جائے مگر یہ لوگ جان جائیں اللہ کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں تو اے ظالموں اپنے رب سے ڈر جاؤ اور لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف

  • کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے—از—سفیر اقبال

    کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے—از—سفیر اقبال

    کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے
    اندھیری رات میں پرنور راستوں والے

    جو کھو گئے پس زندان اب وہ شہزادے
    دوبارہ کب انہیں پائیں گے بستیوں والے

    چھپا کے دل میں جو امت کا غم… نکلتے تھے
    پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے

    کہ دن کو رہتے تھے انسانیت کی خدمت میں
    تھے ان کے شام و سحر بھی عبادتوں والے

    ہر اک کا درد سمجھتے تھے اس لیے ان کو
    دل و نگاہ میں رکھتے تھے قافلوں والے

    تھا قافلے کو بھی معلوم کہ وہ رہبر ہیں
    مزاج جن کے مگر تھے مسافروں والے

    "ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے
    کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے ”

    لوٹا دے مولا انہیں پھر سے قافلے میں میرے
    وہ منزلوں کے نشاں… نیک صورتوں والے…!

    شاعری :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

  • اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
    مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
    قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔۔!

    ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
    صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!
    پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!

    قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
    مگر اہم بات یہ ہے
    اھدنا الصراط المسقیم

    بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
    وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
    ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے

    اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!
    دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
    اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟

    اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
    منافقین کی دو اقسام یہی ہیں
    (1)۔ اعتقادی منافق
    پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
    جیسے۔۔۔۔

    مثلھم کمثل الذی استو قد نارا
    اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

    *اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

    انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ذھب اللہ بنورھم

    اللہ ان کا نور لے گیا
    یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
    پہلی مثال کس کی ہے؟

    پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
    فلما اضاءت ماحول
    پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔
    ذھب اللہ بنورھم

    اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
    وترکھم فی ظلمت
    اندھیروں میں چھوڑ دیا

    اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتے
    کس کو؟نبی کریم کو
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
    صم بکم عمی

    انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!
    ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے

    رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
    یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

    (2 )۔ عملی منافق ۔۔
    جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
    اس کصیب من السماء

    آسمان سے زوردار بارش ہوئی
    یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
    ظلمت و رعدو برق

    اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو
    یجعلون اصابعھم فی اذانہم
    اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے

    عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
    جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
    اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں

    ولو شآءاللہ
    اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
    یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
    ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے

    اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
    جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
    و مایشعرون

    لا یشعرون
    اور
    وما کانو مھتدین
    اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے
    ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    اپنے کردار کا جائزہ لیں
    اعتقادی و عملی منافق
    ✍🏻از قلم۔
    مشی حیات

  • عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

    عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

    عورت کا وجود انسانیت کے ارتقاء کے وقت سے ہی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ عورت ہی مرد کی پہلی ہمنشیں ٹھہری اور زمین پر آتے ہی انسان کو اس عورت کے فراق کا مزہ چکھنا پڑا۔ اسی عورت کے ذریعے نسل انسانی پروان چڑھی اور اسی عورت کی وجہ سے ہی پہلی معرکہ آرائی سامنے آئی جب ہابیل اور قابیل باہم متصادم ہوئے ۔ اس تصادم کا نتیجہ پہلا انسانی قتل، اس کے پیچھے کار فرما محرک بھی عورت ہی تھی۔

    کبھی گردش زمانہ میں ایسے ایام بھی آئے کہ بنی اسرائیل میں حکم سا دیا گیا کہ لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ انھی لڑکیوں کو بچپن میں ہی زندہ درگور کر دیا گیا۔ الغرض زمانے کے پیچ و تاب کے ساتھ عورت بھی مختلف حالات سے گزرتی رہی ہے۔

    فی زمانہ بھی عورت کئی روپ میں نظر آتی ہے۔ کہیں ننھی زینب کی شکل میں بے رحم معاشرہ اس کا جسم تار تار کرتا ہےتو کہیں قریبی رشتہ دار اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ کہیں تو یہ عورت عزت پاتی ہے اور کہیں بے آبرو کر دی جاتی ہے۔ انہی متضاد کیفیات و حالات میں سے ایک حالت نیکی و پارسائی کی ہے جب یہ عورت اللہ تعالیٰ کے احکامات بجا لاتے ہوئے دین کے احکام کی پاسداری کرتی ہے اور ایک حالت وہ ہے جس میں یہ عورت پابندیوں سے آزادی مانگتی سر بازار نازیبا لباس میں نظر آتی ہے۔

    معاشرے میں عورت کے کئی رنگ ہیں۔ ہر رنگ کی اپنی ہی الگ داستان ہے۔ کوئی شادی کے لیے رشتے کی تلاش میں بوڑھی ہو رہی ہے تو کوئی شادی کے بغیر آزاد زندگی سے خوش نظر آتی ہے۔ کہیں عورت طلاق سے خوفزدہ ہے اور طلاق کے ڈر سے بہت کچھ برداشت کر جاتی ہے اور کہیں طلاق یافتہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ ایک عورت حقوقِ نسواں کی آواز اٹھاتی ہے تو دوسری اسی کے مقابل چادر اور چار دیواری کی بات کرتی ہے۔ ایک نے بیواؤں کا سہارا بننے کی بات کی تو ایک نے اس لیے شادی سے انکار کیا کہ وہ کسی کی سوتن بننے پر آمادہ نہیں۔ اپنی بیٹی کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی جب ساس کے روپ میں آتی ہے تو عورت کا معنی ہی بھول جاتی ہے۔

    شاعر نے کیا خوب کہا تھا
    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی ایک مصرعہ پر غور کر لیا جائے تو صنف نازک کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ ذرا غور کیجئے ایک مصور کمال مہارت سے کینوس پر ایک تصویر بناتا ہے اور پھر اس میں کئی طرح کے رنگ بھر دیتا ہے۔ رنگوں کا یہ امتزاج اس تصویر کی خوبصورتی کئی گنا بڑھا دیتا ہے مگر ذرا تصور کیجیے اگر ان رنگوں کے استعمال میں توازن و تناسب کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو تو یہ تصویر دیکھنے والے کو کیسی لگے گی؟ کیا دیکھنے والا اس تصویر کے محاسن پر نظر کرے گا یا رنگوں کے عدم تناسب پر؟؟؟

    خوب جان لیجیے یہی راز زندگانی ہے۔ اضداد کسی مسئلہ کا حل ہے اور نہ ہر جگہ جچتا ہے۔ اس کے بر عکس امتزاج ہر ایک کو بھاتا ہے اور دیکھنے میں دلکش معلوم ہوتا ہے۔ تو زندگی میں رنگ بھریے مگر حسین امتزاج میں نہ کے غیر متناسب اضداد میں۔

    عورت
    حافظہ قندیل تبسم