Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

    کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

    ایک دوست نے کہا کہ جتنے لوگ کورونا وائرس سے آج تک دنیا میں مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں میں مرتے ہیں۔۔۔ مقصد دوست کا یہ تھا کہ دراصل کورونا کوئی خاص بیماری نہیں، میڈیا نے بلا وجہ ہائپ دے دی ہے اور لوگوں نے اسے خود پہ سوار کر لیا ہے۔

    عرض ہے کہ یہ بات درست ہے کہ دنیا میں ہر روز مختلف بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد اب تک کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور یہ بھی درست ہے کہ میڈیا نے اسے ہائپ دی اور یہ بھی درست ہے کہ عوام نے اسے خود پہ سوار کر لیا ہے۔۔۔ لیکن ایک اور ایسی حقیقت بھی ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں۔

    جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر روز مختلف بیماریوں سے لوگ دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں مرتے ہیں جو کہ کورونا وائرس سے ہوئی اب تک کی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر روز ہونے والی غیر طبی اموات کی تعداد طبی اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ ہر روز مختلف حوادث، خودکشیوں اور اچانک پڑنے والے دوروں (خواہ ان کی کوئی طبی منطق ہو یا نہ ہو) میں ہوئی اموات اور پراسرار اموات کے اعدادوشمار کو اکٹھا کیا جائے تو یہ مختلف بیماریوں سے ہوئی اموات سے کہیں زیادہ تعداد بنتی ہے۔

    لیکن۔۔۔۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بیماریاں اپنا وجود نہیں رکھتیں یا ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ سچ ہے کہ کورونا وائرس سے آج تک جتنے لوگ مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں سے مرتے ہیں۔۔۔ لیکن اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کورونا وائرس کی کوئی اصل یا اہمیت ہی نہیں۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کی شکل میں انسانی زندگی کو درپیش خطرات میں ایک اور خطرے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    اب کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ خطرہ تو سڑک کراس کرنے میں بھی ہے، سو کورونا وائرس کے خطرے میں کیا چیز مختلف ہے؟ تو عرض کہ فرق خطرے کی نوعیت کا ہی ہے۔ سڑک کراس کرتے ہوئے آپ چلتی ہوئی گاڑیوں پہ دیہان رکھتے ہیں۔ کیونکہ سڑک کراس کرتے ہوئے سب سے بڑا خطرہ چلتی ہوئی گاڑی ہوا کرتی ہے۔۔۔ لیکن کورونا وائرس کی ایسی کوئی ظاہری علامت نہیں کہ جس سے آپ جان پائیں کہ آپ کو دراصل خطرہ ہے کس سے۔۔۔!

    یہی وہ اندھا خطرہ ہے کہ جس نے پوری دنیا کو مفلوج کر رکھا ہے۔۔۔ لہذا اسے ہنسی مذاق نہ سمجھیں، لوگ مر رہے ہیں اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اور اس کے پھیلاؤ کی وجوہات بھی کینسر، ایڈز، ہیبی ٹائٹس اور دوسری جان لیوا بیماریوں سے مختلف ہیں۔

    کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

  • اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ”کرونا وائرس“ جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

    ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے۔ کیونکہ یہ وائرس ملنے جلنے سے پھیلتا ہے اس لیے تما م سکولز،کالجز،یونیورسٹیز،کمیونٹی سنٹرز،مدارس،دفاتر،ملز،فیکٹریز کو بند کر دیا گیا ہے،تاکہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے تقریباً786957کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں مزید کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں،جن میں سے مرنے والوں کی تعداد 37843تک پہنچ چکی ہے۔

    مزید برآں روزانہ کے حساب سے پوری دنیا میں 3500سے زیادہ لوگ مر رہے ہیں،اور پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 1865ہو چکی ہے۔اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر میں اس کو خدا کا عذاب کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں،ہر طرف بے حیائی،فحاشی عروج پہ ہے۔ امت مسلمہ پر ظلم کیا جا رہا ہے (شام،فلسطین،کشمیر) اس میں شامل ہیں۔حلال اور حرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روک نہ سکی،وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا ک کر کے ر کھ دیتی ہے۔

    دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیااور یہ پکار پکار کے کہہ رہاہے ”Where are your Fighter Jets, Missiles and your Nuclear Weapons” اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہو،لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ دنیا پر ظلم اس قدر اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کہ خدا کا عذاب آگیا۔ میرا وجدان کہتا ہے یہ صدا تھی کشمیر کی ان ماؤں اور بہنوں کی جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا،یہ صدا تھی ان بہنوں اور بیٹیوں کی جن کی عزت کو سب کے سامنے تار تار کیا گیا۔اور خدا کے عذاب نے ”کرونا وائرس“ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،

    انہوں نے تو کشمیر کو بند کیا تھا اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بند کر دیا۔مجھے شام کے اس بچے کی صدابھی یاد ہے جس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا”سَاُخْبِرُ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ“ میں سب کچھ اپنے رب کو بتاؤں گا۔مجھے عراق کی اس بیٹی کی صدا بھی یاد ہے جس نے بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا ”انکل! خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا میں بے حجاب ہوں“۔ مجھے افغانستان کے اس بچے کی بات بھی یاد ہے جس کا بازو زخمی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا بیٹا!تمہارا بازو کاٹنا پڑے گا تو اس بچے نے کہا ”خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر میری آستین مت کاٹنا کیونکہ زیب تن کرنے کیلئے میرے پاس یہی ایک جوڑا ہے“۔اس مرض سے بچنے کیلئے آج کی سائنس یہ کہتی ہے،کہ صفائی کا خاص خیال رکھو،

    جس علاقے میں یہ بیماری ہے اس سے دور رہو، ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھو، منہ پر Maskپہنو، ہاتھوں کو صاف کرو، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوچودہ سوسال پہلے ہمارے آقا و مولا جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ بیان کر چکے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ہوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ آپ کو ایک مقام پر اطلاع ملی کہ شام کی طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی شامل تھے آپ کی عرض کی یا امیر المؤمنین!میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”کہ جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کیلئے مت بھاگو“۔

    اسلام نے بھی تو یہی تعلیمات دی تھیں۔ حرام سے دور رہو،پردہ کرو،صفائی کا خاص خیال رکھوبیشک صفائی نصف ایمان ہے۔ کیونکہ اسلام وہ نظریہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی اور سبق ملتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر طبقے کیلئے براہ راست راہنمائی موجود ہے۔ مگر افسوس!ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا،اور بات پھر بھی وہاں ہی آگئی ہے ساری دنیا میں لوگ ماسک کی صورت میں پردہ کر رہے ہیں، حرام چیزوں سے دور رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کیونکہ آج پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے کہ اسلام ہی امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ مشہور رومن حکم راں (Justinan)کہتا ہے جو معمولات،دستور،باضابطہ طور پر اسلا م کے پاس موجود ہیں۔

    وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل وہ چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں،اسلام نے باضابطہ ان کا احاطہ کیا ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب وادیان جدید دور کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔جس چیز کا حل ہمیں سائنس اور کتابوں سے نہیں ملتا ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی سنت نبوی کے اندر موجود ہے کیونکہ ارشاہ نبویﷺ ہے۔”ترکتم علی حجۃ بیضاء لیلھا کنھار رھا لایزیغ عنھا الا ھالک“ ترجمہ:میں نے تم کو روشن راستے پر چھوڑا ہے،اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی مانند روشن ہیں۔

    اب اسلام کی تعلیمات سے وہی شخص انحراف کرے گا جو خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔اگر ہم اس بیماری کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ ہے ”وضو“آج کی جدیدسائنس بھی کہتی ہے اگر کوئی دن میں بانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت سے پاک ہو جاتا ہے۔

    جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے ان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔

    اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلئے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں،منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مختار سالم اپنی کتاب
    (Prayer esport for body and soul)میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں لکھتا ہے۔

    ”جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے“۔آج وقت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جبیں کو جھ کا کر استغفار کرنے کا ہے۔آج وقت اپنے اعمال کے محاسبہ کرنے کاہے۔اپنے گھروں اور مساجد کو رب کی عبادت سے آباد کرنے کا ہے۔اور ”کروناوائرس“کے خلاف جو ہماری حکومت اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنے کا ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی ان کو ہماری تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔

    اپنے گھروں سے ضرورت کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں،اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔ اگر کی ضرورت کے پیش نظرباہر نکلنا پڑتا ہے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور حکومت نے جو پورے ملک میں باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا۔”It’s not a CURFEW, It’s a CARE FOR YOU”آخر میں اتنا کہوں گا۔”سب کچھ ہر جگہ بند ہو رہا ہے،لیکن!توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے“

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم

    ازقلم:حافظ عبدالستار

  • حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    8 مارچ کو عالمی یوم خواتین سے پہلے ہی پوری دنیا کیساتھ پاکستان بھی کرونا کی لپٹ میں تھا چائیے تو یہ تھا کہ دنیا بھر کی طرح احتیاط کی جاتی اور لوگوں کو اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی جاتی مگر ہوس و شہرت کے پجاری اس وقت بھی باز نا آئے اور پورے ملک میں ان نام نہاد خود ساختہ حقوق نسواں کے دعوے داروں نے سینکڑوں مجبور و بے سہارا غریب عورتوں کو پیسے کا لالچ دے کر اکھٹا کیا جو کہ بعد میں میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا گندے بے ہودہ نعروں پر مبنی پوسٹرز اور پلے کارڈز پر ان کی طرف سے ریاست پاکستان و اسلام کے خلاف نعرے درج تھے اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ معاذاللہ اسلام عورتوں کے حقوق کا غاصب ہے ویسے تو ان دین بے زاروں کے کئی نعرے ہیں مگر سب سے مشہور ان کا نعرہ میرا جسم میری مرضی ہے جس کے تحت یہ اللہ کی جاری کردہ حدوں کو پامال کرتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں 8 مارچ یوم خواتین کو جب ملک کے ہر شہر سے خصوصاً کراچی کے فریئر ہال اور لاہور وہ اسلام آباد کے پریس کلبوں سے انہوں نے عورت مارچ کا آغاز کیا عین اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں تھی کشمیر و فلسطین،شام و افغانستان اور ہندوستان کے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے مگر افسوس کے ان لوگوں نے صرف اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا حالانکہ اگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کے اصل پشتی بان ہوتے تو کرونا سے متاثرہ عورتوں کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے کشمیر میں محصور عورتوں کیلئے چیختے چلاتے ان کیلئے صدائیں بلند کرتے مگر ان کو تو صرف عورت کی آزادانہ بوس و کنار کی فکر ہے ان کو تو عورتوں کے بوائے فرینڈز کے روٹھ جانے کی فکر ہے اور ان کو صرف آزاد بے لگام معاشرے کے قیام کا ٹاسک ملا ہوا ہے
    یہ لوگ نا صرف دین اسلام سے بیزار ہیں بلکہ یہ لوگ تو انسانیت سے بھی بیزار ہیں اس ساری نام نہاد حقوق نسواں کی ٹیم کے کارکنان جیسا کہ ماروی سرمد،اداکارہ ریشم،منصور علی خان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور گستاخ احمد وقاص گورائیہ اور دیگر لوگ سب کے سب چیخ رہے تھے میرا جسم میری مرضی اور عورت پر ظلم بند کرو ان کو ان کے حقوق دو مگر اب کرونا سے متاثرہ عورتیں ان کی خاموشی پر حیران ہیں کہ تمہارے دعوے تو صرف بے شرمی اور بے حیائی پھیلانے تک ہی تھے اب ہم پوری دنیا و پاکستان کی کرونا سے متاثرہ عورتیں کسی سہارے کی منتظر ہیں کوئی ہمارا دکھ سمجھے کوئی ہمارے ساتھ بیٹھے ہمارے علاج کے حقوق کی صدائیں بلند کرے ہمارے لئے اعلی خوراک کا انتظام کرے تا کہ ہم اپنا جسمانی مدافعتی نظام طاقتور کرکے اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکیں مگر افسوس جعلی اور نام نہاد دعوے دار اب چپ کرکے مشکل کی اس گھڑی میں بیٹھ گئے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کے خلاف کرونا وائرس نا چمٹ جائے ہمارا جسم ہماری مرضی کا دعوے دار ٹولہ جان چکا ہے کہ جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی مگر اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
    ایسے لوگوں کو میرے رب نے اپنے فرمان میں منافق اور بدکردار کہا ہے اور یہ لوگ فسادی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے میں سے ہیں وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں ،وہ بھول گئے اللہ تعالیٰ کو ،تو اس نے بھی بھلا دیا یقیناً منافق ہی نافرمان ہیں سورہ التوبہ آیت 67
    حالانکہ اب عورتوں کو ان کے پہلے حق صحت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ میرے رب کا فرمان ہے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا سورہ المائدہ آیت 32
    مگر ان کھوکھلے نعرے لگانے والوں کی کرتوت کھل کر سامنے آ گئی ہے یہ صرف عورتوں کو بوس کنار اور سیکس ایجوکیشن کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر اس پاک دھرتی کے غم خوار بیٹے جو کہ اپنے نبی کریم اور اپنے رب کے فرامین کے مطابق عورتوں ،بچوں،بوڑھوں اور مریضوں کے حقوق سے واقف ہیں وہ غم خوار انسانیت کے مددگار بے سروسامانی کیساتھ بھی ان عورتوں بچوں اور مردوں کی صحت کے حقوق کیلئے ڈٹ گئے ہیں اور دن رات ایک کرکے اس موذی مرض سے متاثرہ مریض عورتوں کا علاج شروع کر دیا اور ثابت کر دیا کہ ہم اصل دعوے دار ہیں حقوق نسواں کے ہم مان ہیں ان ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کا اور پھر پورا ملک ایک جان ہو گیا فوج و پولیس کے جوان ملک کی سلامتی و بقاء کی خاطر گلیوں چوراہوں میں آ گئے پیرا میڈیکل سٹاف ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ جڑ گیا،صحافی لوگوں کو باخبر رکھنے کیلئے دن رات ایک کئے باہر آ گئے ریسکیو 1122 کے جوان بھی بغیر نیند کی پرواہ کئے جت گئے محکمہ ڈاک نے بزرگ پینشروں تنخواہ دار عورتوں کے حقوق کی خاطر اس لاک ڈاؤن میں ان کی رقوم ان تک پہنچانے ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچے محکمہ بجلی نے لوگوں کی پریشانی جانتے ہوئے دن رات ایک کرکے لاک ڈاؤن میں بیٹھی عورتوں اور بچوں کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کا بجلی کی ترسیل کا کام بغیر رکاوٹ جاری رکھا سول گورنمنٹ کے اہلکاران و افسران نے ساری آسائشیں چھوڑیں اور قرنطینہ سنٹرز و ہسپتالوں میں زیر علاج عورتوں اور مریضوں کی ضروریات کیلئے دن رات ایک کرکے ان تک ہر چیز پہنچائی نیز پاکستان کا ہر محکمہ ہر پاکستانی تعصب اور گروہ بندی سے ہٹ کر ان عورتوں،بچوں بوڑھوں ،جوانوں اور مریضوں کے حقوق کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کئے بنا کام کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کا جعلی ٹولہ کسی بل میں چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ گیا اور ڈر رہا ہے کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کی سزا نا مل جائے مگر یہ لوگ جان جائیں اللہ کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں تو اے ظالموں اپنے رب سے ڈر جاؤ اور لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف

  • کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے—از—سفیر اقبال

    کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے—از—سفیر اقبال

    کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے
    اندھیری رات میں پرنور راستوں والے

    جو کھو گئے پس زندان اب وہ شہزادے
    دوبارہ کب انہیں پائیں گے بستیوں والے

    چھپا کے دل میں جو امت کا غم… نکلتے تھے
    پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے

    کہ دن کو رہتے تھے انسانیت کی خدمت میں
    تھے ان کے شام و سحر بھی عبادتوں والے

    ہر اک کا درد سمجھتے تھے اس لیے ان کو
    دل و نگاہ میں رکھتے تھے قافلوں والے

    تھا قافلے کو بھی معلوم کہ وہ رہبر ہیں
    مزاج جن کے مگر تھے مسافروں والے

    "ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے
    کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے ”

    لوٹا دے مولا انہیں پھر سے قافلے میں میرے
    وہ منزلوں کے نشاں… نیک صورتوں والے…!

    شاعری :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

  • اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
    مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
    قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔۔!

    ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
    صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!
    پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!

    قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
    مگر اہم بات یہ ہے
    اھدنا الصراط المسقیم

    بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
    وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
    ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے

    اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!
    دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
    اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟

    اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
    منافقین کی دو اقسام یہی ہیں
    (1)۔ اعتقادی منافق
    پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
    جیسے۔۔۔۔

    مثلھم کمثل الذی استو قد نارا
    اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

    *اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

    انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ذھب اللہ بنورھم

    اللہ ان کا نور لے گیا
    یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
    پہلی مثال کس کی ہے؟

    پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
    فلما اضاءت ماحول
    پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔
    ذھب اللہ بنورھم

    اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
    وترکھم فی ظلمت
    اندھیروں میں چھوڑ دیا

    اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتے
    کس کو؟نبی کریم کو
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
    صم بکم عمی

    انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!
    ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے

    رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
    یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

    (2 )۔ عملی منافق ۔۔
    جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
    اس کصیب من السماء

    آسمان سے زوردار بارش ہوئی
    یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
    ظلمت و رعدو برق

    اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو
    یجعلون اصابعھم فی اذانہم
    اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے

    عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
    جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
    اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں

    ولو شآءاللہ
    اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
    یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
    ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے

    اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
    جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
    و مایشعرون

    لا یشعرون
    اور
    وما کانو مھتدین
    اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے
    ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    اپنے کردار کا جائزہ لیں
    اعتقادی و عملی منافق
    ✍🏻از قلم۔
    مشی حیات

  • عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

    عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

    عورت کا وجود انسانیت کے ارتقاء کے وقت سے ہی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ عورت ہی مرد کی پہلی ہمنشیں ٹھہری اور زمین پر آتے ہی انسان کو اس عورت کے فراق کا مزہ چکھنا پڑا۔ اسی عورت کے ذریعے نسل انسانی پروان چڑھی اور اسی عورت کی وجہ سے ہی پہلی معرکہ آرائی سامنے آئی جب ہابیل اور قابیل باہم متصادم ہوئے ۔ اس تصادم کا نتیجہ پہلا انسانی قتل، اس کے پیچھے کار فرما محرک بھی عورت ہی تھی۔

    کبھی گردش زمانہ میں ایسے ایام بھی آئے کہ بنی اسرائیل میں حکم سا دیا گیا کہ لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ انھی لڑکیوں کو بچپن میں ہی زندہ درگور کر دیا گیا۔ الغرض زمانے کے پیچ و تاب کے ساتھ عورت بھی مختلف حالات سے گزرتی رہی ہے۔

    فی زمانہ بھی عورت کئی روپ میں نظر آتی ہے۔ کہیں ننھی زینب کی شکل میں بے رحم معاشرہ اس کا جسم تار تار کرتا ہےتو کہیں قریبی رشتہ دار اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ کہیں تو یہ عورت عزت پاتی ہے اور کہیں بے آبرو کر دی جاتی ہے۔ انہی متضاد کیفیات و حالات میں سے ایک حالت نیکی و پارسائی کی ہے جب یہ عورت اللہ تعالیٰ کے احکامات بجا لاتے ہوئے دین کے احکام کی پاسداری کرتی ہے اور ایک حالت وہ ہے جس میں یہ عورت پابندیوں سے آزادی مانگتی سر بازار نازیبا لباس میں نظر آتی ہے۔

    معاشرے میں عورت کے کئی رنگ ہیں۔ ہر رنگ کی اپنی ہی الگ داستان ہے۔ کوئی شادی کے لیے رشتے کی تلاش میں بوڑھی ہو رہی ہے تو کوئی شادی کے بغیر آزاد زندگی سے خوش نظر آتی ہے۔ کہیں عورت طلاق سے خوفزدہ ہے اور طلاق کے ڈر سے بہت کچھ برداشت کر جاتی ہے اور کہیں طلاق یافتہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ ایک عورت حقوقِ نسواں کی آواز اٹھاتی ہے تو دوسری اسی کے مقابل چادر اور چار دیواری کی بات کرتی ہے۔ ایک نے بیواؤں کا سہارا بننے کی بات کی تو ایک نے اس لیے شادی سے انکار کیا کہ وہ کسی کی سوتن بننے پر آمادہ نہیں۔ اپنی بیٹی کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی جب ساس کے روپ میں آتی ہے تو عورت کا معنی ہی بھول جاتی ہے۔

    شاعر نے کیا خوب کہا تھا
    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی ایک مصرعہ پر غور کر لیا جائے تو صنف نازک کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ ذرا غور کیجئے ایک مصور کمال مہارت سے کینوس پر ایک تصویر بناتا ہے اور پھر اس میں کئی طرح کے رنگ بھر دیتا ہے۔ رنگوں کا یہ امتزاج اس تصویر کی خوبصورتی کئی گنا بڑھا دیتا ہے مگر ذرا تصور کیجیے اگر ان رنگوں کے استعمال میں توازن و تناسب کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو تو یہ تصویر دیکھنے والے کو کیسی لگے گی؟ کیا دیکھنے والا اس تصویر کے محاسن پر نظر کرے گا یا رنگوں کے عدم تناسب پر؟؟؟

    خوب جان لیجیے یہی راز زندگانی ہے۔ اضداد کسی مسئلہ کا حل ہے اور نہ ہر جگہ جچتا ہے۔ اس کے بر عکس امتزاج ہر ایک کو بھاتا ہے اور دیکھنے میں دلکش معلوم ہوتا ہے۔ تو زندگی میں رنگ بھریے مگر حسین امتزاج میں نہ کے غیر متناسب اضداد میں۔

    عورت
    حافظہ قندیل تبسم

  • وزیراعظم کی ٹائیگرفورس —از–طلحہ فیصل

    وزیراعظم کی ٹائیگرفورس —از–طلحہ فیصل

    #خان_صاحب
    ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کی ضرورت نہیں
    بلکہ وہ پہلے سے موجود ہے

    زرا ٹہریے
    توڑا نہیں پورا سوچیے
    کیا کرونا سے پہلے قوم پر کبھی مشکل وقت نہیں آیا

    کیا اس بیماری سے پہلے کبھی ملک کسی آفت کی زد میں نہیں مبتلا ہوا
    یقیناً آپکو معلوم ہوگا

    لیکن میں پھر بھی آپ کو یاد دہانی کرواتا ہوں
    2005 میں خوفناک زلزلہ آیا وطن عزیز میں

    اسکے بعد خودکش حملوں کی آفت آئی میرے ملک میں
    پھر 2010 سے لیکر تقریباً 2017 تک ملک میں سیلاب آتے رہے

    بلوچستان کے علاقے میں قحط اور پانی کی قلت آئی
    اور ملک کے دیگر حصوں میں حادثات ہوتے رہے ہیں

    کیا اس عرصے کے دوران اتنی بڑی بڑی مشکلات اور آفات کے وقت
    زلزلوں میں ریلیف کھانہ اور خیمہ بستیاں

    سیلابوں میں بہتے لوگوں کو نکالنا
    قحط اور پانی کی قلت میں زندگی سے مایوس ہوتے لوگوں کا سہارا بننا

    اور دھماکوں میں گرتے ہوئے لوگوں کو ہسپتالوں تک پہچاننا
    اور ان مشکلات میں راشن بستر میڈیکل کیمپنگ کرنا
    یہ کون لوگ کرتے رہے

    اور وہ لوگ آج کہاں ہیں
    جن کی خدمات کا اعتراف عالمی میڈیا نے کیا

    اور جن کے بارے ملکی اور غیر ملکی این جی اوز نے یہ بات کہی کہ یہ لوگ وہاں تک خدمت خلق کا کام کرنے پہنچ گئے
    جہاں تک حکومتی مشینری بھی ناں پہنچ سکی
    تو وزیر اعظم صاحب میں آپکو آپ کا ہمدرد ہونے کے زریعے مشورہ دیتا ہوں

    کہ ٹائیگر فورس بنانے کے حوالے سے آپکا فیصلہ بہت قابل تعریف ہے
    مگر نئے سرے سے ایک فورس بنانے اور ان کی ٹرینگ کے سلسلے پر اخراجات کرنے کی بجائے
    ان لوگوں کو منظر عام پر لائیں ان پر پابندیاں ختم کر دیں

    کیونکہ کہ یہ لوگ اپنے ہم وطنوں کی خدمت کا صرف جذبہ ہی نہیں بلکے تجربہ بھی رکھتے ہیں
    اور تجربہ بھی ایسا کہ یہ ملک کو ایک لمبا عرصہ بغیر کسی حکومتی تعاون کے ریلیف دیتے رہیں ہیں

    انکے پاس ڈاکٹرز ہیں ایمبولنسیں ہیں رضا کار لوگ ہیں اور جذبہ حب الوطنی اور خدمت انسانیت کا ولولہ ہے
    ان کو فرنٹ لائن پر لانے سے ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا
    اور اس کے ساتھ عوام کو بھی انکے ہمدرد مل جائیں گے

    جن کے چہرے دیکھنے کے لئے لوگ ترس گئے ہیں
    اور لوگوں نے سوشل میڈیا پر آپکی ٹائیگر فورس کی جگہ ان پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے

    خان صاحب آپکو بھی چاہیے کہ اس مشکل گھڑی میں ملک وقوم کے ہمدرد لوگوں کو اپنی ٹائیگر فورس بنا کر ان کے تجربات سے فائدہ حاصل کرو
    رہی بات دنیا کیا کہے گی دنیا تو انکو نان اسٹیٹ ایکٹر کہتی ہے

    تو آپ اس بات کی فکر ناں کریں کیونکہ دنیا ہمیشہ اپنا مفاد دیکھتی ہے
    اگر امریکہ اپنے مفاد کے لئے طالبان سے ساز باز کر سکتا ہے

    تو آپ بھی اس ملک وقوم کے مفاد کیلئے ان لوگوں کو آزاد کریں اور اپنی عوام کا سہارا بننے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دعائیں بھی سمیٹیں
    اللہ آپکا حامی وناصر ہو آمین

    آپکا محب وطن شہری
    #طلحہ_فیصل

  • ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں —از—علامہ علی شیر حیدری

    ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں —از—علامہ علی شیر حیدری

    بسم اللہ الرحمن الرحیم ، بندگان الہٰی کے نام میرا پیغام

    ضروری ایام میں مستعمل ماسک سے اہم سبق !

    حالیہ بیماری سے بچاو کے لیے چند احتیاطی تدابیرمیں سے ماسک اوردستانوں کے کثرت استعمال پرمیرے ذہن میں‌ایک خیال ابھرا کہ اس مصنوعی ماسک سے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہمارے ذہنوں پرپیغام الہٰی بن کردستک دے رہا ہے ، کہ موجودہ حالات میں ایک طبیب کے مشورے پرملک بھر میں ہردوسرے شخص نے کہا ہے جسمانی بیماری سے بچنے کے لیے ماسک پہن رکھا ہے

    اللہ کرے اس مصنوعی ماسک کی جگہ ہر ابن آدم وہ تقویٰ وخشیت الہٰی سے لبریز روحانی ماسک پہن لے تو رب تعالیٰ اپنی زمین پربسنے والے تمام بندوں کی بیماریاں شفا میں بدل دے ، مشکلات آسانیوں میں ، سختیاں نرمیوں میں ،زحمتیں رحمتوں میں تبدیل فرمادے گا ، اورہمیشہ ہمیش کے لیے بندوں سے راضی ہوجائے گا ، اوربند کیئے جانے والے اپنے تمام دربندوں کے لیے کھول دے گا

    قارئین کرام !،اختصار کے ساتھ زمین پرآباد انسانوں کے تمام طبقات کے ذمہ داران کواس حقیقی روحانی ماسک پہننے کی طرف توجہ دلانے لگا ہوں ،

    اللہ کرے !ایک گھر کا مسئول باپ ، مساوات کا ماسک پہن لے تاکہ اولاد میں کسی سے زیادتی نہ کرپائے

    اللہ کرے ! ایک گاوں کا نمبردار ہمدردی کا ماسک پہن لے تاکہ پورے گاوں میں کسی فرد کو دکھ نہ آنے پائے

    اللہ کرے ! ایک تھانیدارہوش کا ماسک پہن لے تاکہ پورے علاقے میں کہیں بھی اندھیرنگری نہ ہونے پائے

    اللہ کرے ! ایک وکیل سجائی کا ماسک پہن لے تاکہ کسی جھوٹے شخص کے مقدمے کوسچا اورسچے کو جھوٹا نہ ثابت کرپائے

    اللہ کرے ! ایک جج منصف عدل کا ماسک پہن لے تاکہ مظلوم کو اس کا حق دلوانے میں دیدہ دلیری دکھائے

    اللہ کرے !ایک وزیراپنے منصب کا صیح ماسک پہن لے تاکہ اپنے اہداف کوحقیقیت میں پورا کرپائے

    اللہ کرے ! ایک وزیراعظم اپنی قوم کے جزبات کی ترجمانی کا ماسک پہن لے تاکہ قوم کے خیالات کو پایہ تکمیل تک پہنچائے

    اللہ کرے ایک صدرمملکت اپنی صدارت کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ وطن عزیز کی نگہبانی کا حق اداکرپائے

     حضرات گرامی قارئین کرام

    اب آئیے ایک دوسرے طبقے کے ذمہ داران کیطرف

    اللہ کرے ! ایک تاجرسچائی اورایمانداری کا ماسک پہن لے تاکہ خریدارکوملاوٹ سے پاک اشیامل سکیں
    اللہ کرے ! ایک ڈاکٹراحساس ،خلوص،اخلاق اورشفقت کا ماسک پہن لے تاکہ مریضوں کودوا کے ساتھ دعا بھی مل سکے اورشفا بھی
    اللہ کرے ! ایک افسر اپنی کرسی کے تقاضوں کا ماسک پہن لے تاکہ سائلین کی داد رسی ہوسکے
    اللہ کرے !ایک صحافی دیانتداری کا ماسک پہن لے تاکہ کسی دنیا کوباخبررکھنے کےلیے حقائق بیان کرسکے ، غریبوں اورامیروں کے بلاامتیازمسائل ،مصائب دنیا تک پہنچا سکے
    اللہ کرے !ایک ادیب ادب کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ اس کے قلم میں کہیں جنبش نہ آنےپائے
    اللہ کرے ! ایک مفسّرفلسفہ وحی کا ماسک پہن لے تاکہ کہیں بھی آیات الہٰی کی تفسیرمیں تحریف وتاویل نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک سنار(زرگر) خوف خدا کا ماسک پہن لے تاکہ کھرے اورکھوٹے کو یکجا کرکے فروخت نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک دوکاندار خشیت الہٰی کا ماسک پہن لے تاکہ ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرنے پائے
    اللہ کرے !ایک استاد فرائض منصبی کا ماسک پہن لے تاکہ نفع مند علم سے اپنے شاگردوں کو بہرہ مند فرما سکے ، اورپڑھنے والے طلباء کی حق تلفی نہ کرنے پائے
    اللہ کرے !ایک ظالم رحمدلی کاماسک پہن لے تاکہ کسی مظلوم کا گلہ نہ گھونٹنے پائے
    اللہ کرے !ایک قاتل احیائے انسانیت کا ماسک پہن لے تاکہ ناحق کسی کے جینے کا حق نہ چھین پائے
    اللہ کرے !ایک چوکیداراپنے مالک سے وفاداری کا ماسک پہن لے تاکہ کوئی چور،ڈاکونقب نہ لگا سکے
    اللہ کرے !ایک سربراہ ادارہ محبت وشفقت کا ماسک پہن لے تاکہ اپنے ماتحت کام کرنے والوں میں جانب داری اوارزیادتی کا مرتکب نہ ہونےپائے
    اللہ کرے !ایک بنت آدم حقیقی حجاب کا ماسک پہن لے تاکہ کوئی بدقماش میرا جسم میری مرضی کہنے کی جسارت نہ کرپائے

    قصہ مختصر

    اللہ کرے !ایک بدعتی سنت رسول کا ماسک پہن لے تاکہ مسنون اعمال میں بدعت کی ملاوٹ نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک مشرک توحید الٰہی کا ماسک پہن لے تاکہ رب کی زمین پرکسی دوسرے کو اللہ کا شریک نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک بے دین دین اسلام کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ وہ دنیا کی محبت کوترک کرکے جنت کا ر اہی بن جائے
    اللہ کرے !ایک پاکستانی کلمہ طیبہ کا حقیقی ماسک اوڑھ لے تاکہ قیام پاکستان کی آزادی جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اب آزادی کےتقاضے پورے کرپائے
    اللہ کرے !ایک مسلم حرم کی پاسبانی کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ تحفظ حرمین شریفین کا حق اداکرپائے
    آخر میں درخواست گزار ہوں‌وطن عزیز کی ذمہ دار انتظامیہ سے

    کہ سود،عریانی ، فحاشی ،شراب نوشی ، رشوت خوری سمیت تمام گناہ کے اڈے بند کردیں‌ تاکہ کرونا وائرس سمیت تمام آفات سے اللہ پاک ہمیں‌نجات نصیب فرمائے
    اگر ہم نے اللہ سے کئے گئے وعدے پورے کردیئے تواللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا اوراللہ کبھی بھی اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا،اللہ ہمیں معاف بھی فرمائیں گے ، ہماری مدد بھی فرمائیں گے اورمشکلات سے نکال کرآسانیاں پیدا فرمائیں گے ،

    ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں ؟

    تحریر : علامہ علی شیر حیدری

  • محبت کا جنون اور اس کا علاج—از—عبیدالرحمن عابد

    محبت کا جنون اور اس کا علاج—از—عبیدالرحمن عابد

    اسلام عفت و پاکبازی، طہارت اور صفائی کا دین ہے۔ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا خواہش مند ہے جس میں عفت و پاکبازی کی حکمرانی اور طہارت و نظافت کی فضا ہو۔ اسلام پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے کر اخلاق کو جذبات وشہوات سے محفوظ رکھتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جذبات کو کھلا چھوڑ دینے اور جنسی آزادی کا لازمی نتیجہ اخلاق کی تباہی اور امتوں کی ہلاکت و بربادی ہے۔

    اس لیے اسلام معاشرے میں صالح قوت اور بقا کے عناصر قائم رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں تاکہ مسلمان بے راہ روی کی زندگی کا شکار نہ بن جائیں اور جسم و روح کے تقاضوں میں تناقض پیدا کر دے۔

    یقیناً اسلام نے انسانی طبیعت کے لیے ایسے ضابطے مقرر کئے ہیں جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ جن میں جسمانی اور روحانی ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کا طریقہ کار دیگر مذاہب و ادیان سے منفرد ہے۔

    اسلام سے زندگی بہترین انداز میں منظم ہوتی ہے۔اور انسانیت گمراہیوں کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ محبت انسان کی فطری عادات میں سے انتہائی قوی اور اثرانگریز عادت ہے جس کے اثرات انسانی زندگی میں بہت دور رس ہیں۔

    یہاں جس محبت کی بحث مقصود ہے اس کو جذباتی عشق یا چہرے کی محبت کہا جاتا ہے۔اسلام اس قسم کی محبت کا یکسر انکار نہیں کرتا کیونکہ بہرحال یہ ایک واقعاتی حقیقت ہے لیکن وہ اس کے لیےحدود وقیود مقرر کرتا ہے جسے عرف عام میں نکاح کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جذباتی محبت کو حقیقی واقعہ کے طور پر لیا۔

    ایک لونڈی کا غلام شوہر اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا لیکن لونڈی اسے پسند نہیں کرتی تھی،غلام اس لونڈی کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا تھا اور اس کے پیچھے روتا پھر رہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اسے غمگین اور پریشان دیکھ کر اس بےچارے کی سفارش کی اس واقعہ کی تفصیل حضرت ابن عباس یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا خاوند غلام تھا اس کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا وہ حضرت بریرہ کی آزادی کے بعد اس کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں گھومتا پھرتا تھا اسکے آنسو داڑھی پر بہہ رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا
     ‏يَا ‏‏عَبَّاسُ ‏، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ ‏ ‏مُغِيثٍ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏، ‏وَمِنْ بُغْضِ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏ ‏مُغِيثًا ‏. ‏فَقَالَ النَّبِيُّ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏لبريرة:( ‏لَوْ رَاجَعْتِهِ ! قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ‏) .
    اے عباس کیا تم مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کے مغیث سے بغض پر تعجب نہیں کرتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش کے تو اس سے رجوع کر لیتی اس نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے حکم دے رہے ہیں آپ نے فرمایا میں تو سفارش کر رہا ہوں تو اس نے کہا مجھے اس میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ (بخآری: ٥٢٨٣)

    اہل علم نے نے اس سے استدلال کیا ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جذبات محبت کو برا نہیں سمجھا بلکہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو مغیث کے عقد میں رہنے کا مشورہ دیا ۔
    انسان بےروح اور بے بدن نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ عقل مصروفیت کی وجہ سے تمام مخلوقات سے ممتاز ہے، اس لئے انسان دیگر تمام مخلوقات سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔

    انسان کے بدن میں بہت سے فطری سے جذبات و احساسات ہوتے ہیں ،انکی بنیاد پر انسانی شخصیت بنتی ہے۔ان جذبات میں سب سے اہم فطری چیز محبت ہے جس کے بہت سے عوامل و اسباب ہیں۔زندگی میں جائز وحلال محبت کی زبردست اہمیت ہے اور اس کا اثر نہایت عظیم ہے جبکہ ناجائز وحرام محبت آدمی کی دنیا خراب کر کے آخرت کو بھی تباہ کر دیتی ہے کیونکہ وہ اس کو پروردگار عالم کی عبادت سے غافل اور اس کے دینی فرائض سے بہت دور لے جاتی ہے۔آدمی اللہ تعالی کی حقیقی محبت کے ذریعے چہرے کے عشق کی لعنت سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    انسان کسی محبوب چیز کو نہیں چھوڑ سکتا مگر اس سے زیادہ محبوب چیز کے ذریعے سے سے یا کسی شدید اذیت کے ڈر سے پس دل کو ناجائز محبت سے محفوظ رکھنے کے لئے صحیح محبت یا اللہ تعالی کی طرف سے شدید پکڑ کا ڈر اور خوف مدنظر رکھنا چاہیے۔( العبودية ابن تيمية:42,43)

    ناجائز محبت کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اطاعت الہی کا عادی بنائے، اپنا دل فاسد محبوب کی تمنائے وصال سے خالی کر دے۔ اس طرح غلطی اور گناہ سے بچ جائے گا اور تکلیف و نقصان سے بھی محفوظ رہے گا ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ محبوب چیزیں تکالیف برداشت کیے بغیر نہیں حاصل ہوسکتیں۔ چاہے محبت صحیح ہو یا غلط، مال ، سرداری اور خوبصورتی سے محبت کرنے والے اپنا نقصان کئے بغیر اپنا مطلوب حاصل نہیں کر سکتے۔

    ناجائز جذباتی حمیت(عشق) کے دینی و معاشرتی نتائج
    جذباتی محبت کا سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ کہ اس سے انسان کی توجہ اللہ تعالی کی ذات عالی سے ہٹ جاتی ہے اور مخلوقات ہی اس کا محور اور مرکز بن کر رہ جاتے ہیں۔

    امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: شکل و صورت کا عشق انہیں چہروں میں جاگزیں ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی محبت سے خالی ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالی سے سے اعراض کرتے ہوئے اِدھر اُدھر منہ مارتے پھرتے ہیں۔ جب کوئی دل اللہ تعالی کی محبت اور اس کی ملاقات کے شوق سے بھر جاتا ہے تو اسے کسی صورت کے عشق کی بیماری نہیں لگتی جیساکہ اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
    كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ .(يوسف :٢٣)

    اسی طرح ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں۔بےشک وہ ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں سے تھا۔
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عشق اور اس کے نتائج گناہ اور بے حیائی کو دور کرنے کا ذریعہ اخلاص ہے۔

    بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ عشق اس دل کی بیماری ہے جو اپنے اصلی محبّ کی یعنی اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے خالی ہے۔(زادالمعاد 151/3)
    ناجائز محبت در حقیقت دل کی بیماری ہے جسے اللہ تعالی کی خالص محبت سے دور کیا جاسکتا ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی عبادت اس کے احکام کی پابندی اور اس کی ہمہ وقت یاد اس بیماری کے خاتمے کا موثر ذریعہ ہے۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بیماری کا سب سے بڑا سبب دل کا اللہ تعالی سے غافل ہونا ہے کیونکہ دل جب اللہ تعالی کی عبادت کا مزہ چکھ لے تو اسے کوئی چیز اس سے بڑھ کر لذت بخش محسوس نہیں ہوتی۔(العبودیہ لابن تیمیہ صفحہ:42)

    پھر یہ عشق صرف ایک شخص ہی کے لیے بدبختی اور مصیبت کا باعث نہیں بنتا تھا بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے کیونکہ اس قسم کی محبت معاشرے میں بداخلاقی، بدکرداری اور حیوانیت کو جنم دیتی ہے۔ پس صحیح محبت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مقصد سے ہم آہنگ ہو جو انسانی تخلیق کی بنیاد ہے۔ اگر جذبہ محبت صرف طبیعت اور شہوت کے زور پر پروان چڑھے گا تو انسان انسانیت کے درجہ سے گر کر حیوانات کی طبیعت کے قریب تر ہو جائے گا، جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو انسان بنا کر عزت بخشی ہے۔

    عشق ( جذباتی محبت ) کا صحیح رخ :
    اگر محبت انسانی زندگی میں اس قدر وسیع اثرات رکھتی ہے تو ضروری ہے کہ اس کا علاج کرکے اسے صحیح رخ پر ڈال دیا جائے اور اس روحانی علاج کی بنیاد درحقیقت ان امور کی اصلاح ہے جن سے محبت کے جذبے پیدا ہوتے ہیں ان امور کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    1) محبوب کی شخصیت سے مرعوب ہونا جس کی وجہ سے محبوب کو کمال انسانی کا مجسمہ سمجھتا ہے۔
    2) دوستی برقرار رکھنے کی امید۔
    3) محبّ اور محبوب کے باہمی راز کا انکشاف۔
    4) محبّ یہ سمجھتا ہے کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلق قائم ہونے پر موقوف ہے۔
    پہلے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ محبت کرنے والے کے سامنے اس کے محبوب کے عیوب و نقائص اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کے ذہن نشین ہو جائیں۔

    دوسرے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ اس کو جس چیز کی امید ہے اس سے مایوس کر دیا جائے کیونکہ شرعی لحاظ سے ایسے تعلقات قائم نہیں رکھے جا سکتے۔
    تیسرے عنصر سے مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے باہمی راز دور کرکے لوگوں کے سامنے فاش کر دیے جائیں۔ آخری چیز کے تدارک کی تدبیر یہ ہے کہ ان نقصانات کو اجاگر نہ کیا جائے جو اس دوستی کے نتیجہ میں لامحالہ پیدا ہوں گے آگے والا بےچینی ،عقل کی ویرانی، ذہنی خلجان، دلی تکلیف، اور آرام و راحت سے محرومی وغیرہ۔باقی رہا عاشق کا یہ سمجھنا کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلقات استوار ہونے میں ہے تو اس کا موثر حل یہ ہے کہ اس کا فوری طور پر کسی نیک مسلمان عورت سے نکاح کر دیا جائے تو مناسب ہوگا کہ یہ عورت ایسی پرکشش خوبصورتی کی حامل ہو کہ پہلی عورت اس کی نظر میں ماند پڑ جائے۔

    امام ابن قیم رحمہ اللہ نے عشق کو قابل علاج مرض قرار دیا ہے، ان کے نزدیک اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔
    1) اگر شرعی طور پر عشق وصالِ محبوب مہیا کیا جا سکتاتو اس کا مہیا ہو جانا ہی اس کا علاج ہے جیسا کہ بخاری میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا۔
    يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ. ( بخاری :کتاب النکاح : 5065)
    اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو بھی نکاح کی استطاعت کی طاقت رکھیں تو لازمی ہے کہ وہ شادی کریں اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو اس پر لازمی ہے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑنے والا ہے۔
    گویا رسول اللہ نے محبت والے کے لئے دو علاج تجویز فرمائے ہیں ایک اصل اور دوسرا متبادل۔

    آپ نے اصل علاج کا حکم دیا ہے جو اصل بیماری کی شفا ہے پس جب تک ممکن ہے اس وقت تک اس میں سستی نہ کی جائے۔
    2) محبوب کا وصال شرعاً ناممکن ہو لیکن محبت کرنے والا اسے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسے بتایا جائے جس چیز کی اللہ تعالی کی طرف سے اجازت نہ ہو اسے ناممکن ہی سمجھنا چاہیے۔ انسان کی کامیابی اور اس کی بیماری کا علاج اس چیز سے دور رہنے میں ہے جس سے حق تعالیٰ نے روک دیا ،مریض محبت اپنے دل کو سمجھائے اور یقین دلائے کے اللہ رب العزت کے منع کردہ امور کی حیثیت بھی ناممکنات میں سے ہے۔

    اگر اس کا نفس امارہ نہ مانے تو اسے اس زبردست اور ناقابل تلافی نقصانات کا احساس کرنا چاہیے کہ کہ ایک ہیچ اور فانی محبوب کے لمحاتی وصال کے مقابلے میں اور انتہائی رفیع الشان حیی و القیوم محبوب حقیقی کے جمال بے مثال کی دید سے محروم ہو جائے گا، دانا آدمی جب یہ دیکھیے گا کہ وہ ایک ادنیٰ محبوب کے وصال کی وجہ سے سے ایک لا متناہی حسن و جمال اور بے پایاں عظمت والے محبوب حقیقی کو کھو دے گا تو وہ یقینا سنبھلے گا اور تھوڑی دیر کی فنا پذیر لذت کی حقیقت خواب و خیال سے زیادہ نہیں۔

    بھلا اس فعل کی لذت ہی کیا جو ختم ہوجائے مگر اس کی تھکن باقی رہے پس ایسے مریض کا فرض ہے کہ وہ پاکبازی اور صبر کا دامن نہ چھوڑے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس کی پریشانی کا خاتمہ فرما دے یا وہ خود اپنا گوہر مقصود حاصل کر لے۔
    ارشاد باری تعالی ہے۔
    وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ( النور:33)
    اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔

    بیماری عشق سے نجات پانے کا طریقہ:
    سب سے پہلے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لیں کے اس دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کے لیے دی گئی ہے، اس لئے اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ رب العزت کی اطاعت میں بسر کرنا چاہیے، اس فنا ہوجانے والی زندگی میں نیکی کے کام سرانجام دے کر آخرت میں جنت جیسی بے مثال نعمت حاصل کی جاسکتی ہے ہے۔اسے فانی چیزوں پر فدا ہونے میں برباد کرنا دیوانگی ہے، یہ دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ اکثر نوجوان اسی دیوانگی کا شکار ہو کر جگہ جگہ خوار ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو آگ لگا رہے ہیں اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کا طریقہ صرف یہ ہے۔

    1) معصیت کی زندگی سے سے عزم مصمم کے ساتھ توبہ کریں اور کسی نیک گھرانے میں فوراً شادی کرلیں۔ یاد رکھیں! ہماری محبت کا مرکز و منتہی صرف رب جمیل کی ذات ہے، بھلا اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے بڑھ کر اور کسی کی خوبصورتی ہوسکتی ہے جس پر انسان فریفتہ ہو۔ بے وفا چہروں کی چمک کو دمک پر شیدا ہوجانا شرف خودداری کی توہین ہے۔

    2) جس کی محبت میں آپ مبتلا ہیں اس سے ہر قسم کا تعلق آج اور ابھی ختم کر دیں، اسے مت دیکھیں، اس کے گھر کے قریب تک نہ پھٹکیں، اسکا کسی سے تذکرہ نہ کریں اور نہ اس کا خیال دل میں لائیں، اپنے باطن میں انقلاب پیدا کریں۔ یوں بدل جائیں جیسے موسم بدل جاتا ہے

    خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر
    کہا جاسکتا ہے کہ اور تو ساری تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں لیکن یہ کیوں کر ممکن ہے کہ دل میں اس کا خیال بھی نہ آئے یقین خیال ضرور آئے گا لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں خیال آتا ہے تو آنے دیں البتہ خود قصداً اس کا خیال دل میں نہ لائیں۔ہاں جب خیال آجائے تو اسے فورا ذہن سے جھٹک کر کسی اچھے اور مفید کام میں مصروف ہو جائے خوب جم کر اس تدبیر پر عمل کرتے رہیں اور اللہ رب العزت سے نیکی کی زندگی کی توفیق مانگتے رہیں۔آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل چند ہفتے بھی نہ گزر پائیں گے کہ اس متاع فاسد کا خیال آنا بند ہوجائے گا۔

    درحقیقت اس بیماری کا اصل علاج استقامت کے ساتھ فاسد محبوب سے کلی طور پر دور رہنا ہے جتنی دور ہوگی اتنی ہی جلدی شفا نصیب ہو گی۔ ان شاءاللہ
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
    طبیعت تیری زور پہ ہے تو روک
    وگرنہ یہ حد سے گزر جائے گی

    محبت کا جنون اور اس کا علاج
    عبید الرحمن عابد

  • وبا کے دوران اذانیں دینے پر  بحوث —از—سعدیہ خورشید

    وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحوث —از—سعدیہ خورشید

    ہر طرف وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحث چل رہی ھے۔۔۔۔ہر فریق ایک دوسرے کے خلاف بے شمار دلائل پیش کررہا ھے۔۔۔۔

    ایک فریق تو مکمل طور پر کہہ رہا ہے کہ اس دوران اذانیں دینا لازم و جائز ھے اور انکے دئیے گئے دلائل ہر طرف گردش کررہے ھیں۔۔۔
    اور دوسرا اس کے رد میں دلائل پیش کررہا ہے جن میں تحاریر کی صورت میں پہلے فریق کے دلائل کی صورت میں پیش کی گئیں روایات کی اسناد پر بے شمار بحوث ہوئی ھیں اور علماء کے آڈیو ویڈیو بیان جاری ھوئے۔۔۔

    اب آتی ھوں اصل مدعے کی طرف۔۔۔۔
    بات انتہائی سادہ اور عام فہم ہے کہ جب حضرت رسول اللہﷺ اور آثارِ صحابہ سے یہ بات بسندٍ صحیح ٍ ثابت ہی نہیں ھے۔۔۔۔۔

    سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کے دور میں طاعون کی وبا پھیلی جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں صحابہ کرام شہید ھوئے جن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت ھوئی
    لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وباء کے دوران اذانیں دینے والے یا ایسے کسی بھی فعل کا حکم نہیں دیا

    اسکا مطلب یہی ہے کہ جو قرونِ اولیٰ کے دور میں کام نہیں ھوا وہ ظاہر سی بات ھے کہ بدعت ہے۔۔۔ اور بدعت نئی چیزوں کی ایجاد کا نام ہی تو ھے۔۔۔
    اب بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے کہ اگر ہہ بدعت ہے تو یہ اذانیں دینے والا فعل بدعتِ حسنہ میں شمار ھورہا ھے۔۔۔

    تو عرض یہ ہے کہ کوئی بدعت، بدعت ِ حسنہ نہیں ھے ۔۔۔
    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے۔۔۔۔

    کل بدعة ضلالة وہ کل ضلالة فی النار۔۔جب یہ بات طے ہوگئی کہ یہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ آگ ہے ،اس کے بعد ھمارے پاس کوئی جواز نہیں بچتا کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ” دیکھیں یہ کام اچھا ھے، اللہ کا ذکر بلند ھو رہا ہے ہر طرف اللہ اکبر کی صدا گونج رہی ھے، اس سے کیا مسئلہ ہو سکتا ھے۔۔۔

    بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی دیکھا ہے کہ اللہ کا ذکر بلند کرو تو بھی مسئلہ،،،، نہ کرو تو بھی مسئلہ ۔۔۔ ہمارا واسطہ پاکستان کے ان جہلاء سے پڑا ہوا ھے
    جب بھی کوئی کام ہوتا ہے یہ اپنی باتیں لے کر منظر عام پر آ جاتے ھیں آگے پیچھے ان کو یاد نہیں ھوتا۔”

    تو گزارش یہ ہے کہ ہر کام کی ایک حد شریعت نے مقرر کی ہوئی ھے جب ھم ان حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کریں گے تو ھمارا وہ فعل جتنا بھی اچھا ھوگا جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کام پر مہر نہیں لگی ہوئی وہ کام کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔

    مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ
    ’’جس شخص نے ہمارے دین کے معاملے میں کوئی نئی بات ایجاد کی ‘ جو اس دین میں پہلے نہیں ہے تو وہ بات ( یاعمل) مردود ہے.‘‘

    (متفق علیه)

    مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَـیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ ’’
    جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا ہمارے دین میں حکم نہیں تو وہ (عمل) مردود ہے.‘‘

    وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحوث

    تحریر از سعدیہ خورشید
    _________