Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • وزیراعظم کی ٹائیگرفورس —از–طلحہ فیصل

    وزیراعظم کی ٹائیگرفورس —از–طلحہ فیصل

    #خان_صاحب
    ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کی ضرورت نہیں
    بلکہ وہ پہلے سے موجود ہے

    زرا ٹہریے
    توڑا نہیں پورا سوچیے
    کیا کرونا سے پہلے قوم پر کبھی مشکل وقت نہیں آیا

    کیا اس بیماری سے پہلے کبھی ملک کسی آفت کی زد میں نہیں مبتلا ہوا
    یقیناً آپکو معلوم ہوگا

    لیکن میں پھر بھی آپ کو یاد دہانی کرواتا ہوں
    2005 میں خوفناک زلزلہ آیا وطن عزیز میں

    اسکے بعد خودکش حملوں کی آفت آئی میرے ملک میں
    پھر 2010 سے لیکر تقریباً 2017 تک ملک میں سیلاب آتے رہے

    بلوچستان کے علاقے میں قحط اور پانی کی قلت آئی
    اور ملک کے دیگر حصوں میں حادثات ہوتے رہے ہیں

    کیا اس عرصے کے دوران اتنی بڑی بڑی مشکلات اور آفات کے وقت
    زلزلوں میں ریلیف کھانہ اور خیمہ بستیاں

    سیلابوں میں بہتے لوگوں کو نکالنا
    قحط اور پانی کی قلت میں زندگی سے مایوس ہوتے لوگوں کا سہارا بننا

    اور دھماکوں میں گرتے ہوئے لوگوں کو ہسپتالوں تک پہچاننا
    اور ان مشکلات میں راشن بستر میڈیکل کیمپنگ کرنا
    یہ کون لوگ کرتے رہے

    اور وہ لوگ آج کہاں ہیں
    جن کی خدمات کا اعتراف عالمی میڈیا نے کیا

    اور جن کے بارے ملکی اور غیر ملکی این جی اوز نے یہ بات کہی کہ یہ لوگ وہاں تک خدمت خلق کا کام کرنے پہنچ گئے
    جہاں تک حکومتی مشینری بھی ناں پہنچ سکی
    تو وزیر اعظم صاحب میں آپکو آپ کا ہمدرد ہونے کے زریعے مشورہ دیتا ہوں

    کہ ٹائیگر فورس بنانے کے حوالے سے آپکا فیصلہ بہت قابل تعریف ہے
    مگر نئے سرے سے ایک فورس بنانے اور ان کی ٹرینگ کے سلسلے پر اخراجات کرنے کی بجائے
    ان لوگوں کو منظر عام پر لائیں ان پر پابندیاں ختم کر دیں

    کیونکہ کہ یہ لوگ اپنے ہم وطنوں کی خدمت کا صرف جذبہ ہی نہیں بلکے تجربہ بھی رکھتے ہیں
    اور تجربہ بھی ایسا کہ یہ ملک کو ایک لمبا عرصہ بغیر کسی حکومتی تعاون کے ریلیف دیتے رہیں ہیں

    انکے پاس ڈاکٹرز ہیں ایمبولنسیں ہیں رضا کار لوگ ہیں اور جذبہ حب الوطنی اور خدمت انسانیت کا ولولہ ہے
    ان کو فرنٹ لائن پر لانے سے ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا
    اور اس کے ساتھ عوام کو بھی انکے ہمدرد مل جائیں گے

    جن کے چہرے دیکھنے کے لئے لوگ ترس گئے ہیں
    اور لوگوں نے سوشل میڈیا پر آپکی ٹائیگر فورس کی جگہ ان پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے

    خان صاحب آپکو بھی چاہیے کہ اس مشکل گھڑی میں ملک وقوم کے ہمدرد لوگوں کو اپنی ٹائیگر فورس بنا کر ان کے تجربات سے فائدہ حاصل کرو
    رہی بات دنیا کیا کہے گی دنیا تو انکو نان اسٹیٹ ایکٹر کہتی ہے

    تو آپ اس بات کی فکر ناں کریں کیونکہ دنیا ہمیشہ اپنا مفاد دیکھتی ہے
    اگر امریکہ اپنے مفاد کے لئے طالبان سے ساز باز کر سکتا ہے

    تو آپ بھی اس ملک وقوم کے مفاد کیلئے ان لوگوں کو آزاد کریں اور اپنی عوام کا سہارا بننے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دعائیں بھی سمیٹیں
    اللہ آپکا حامی وناصر ہو آمین

    آپکا محب وطن شہری
    #طلحہ_فیصل

  • ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں —از—علامہ علی شیر حیدری

    ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں —از—علامہ علی شیر حیدری

    بسم اللہ الرحمن الرحیم ، بندگان الہٰی کے نام میرا پیغام

    ضروری ایام میں مستعمل ماسک سے اہم سبق !

    حالیہ بیماری سے بچاو کے لیے چند احتیاطی تدابیرمیں سے ماسک اوردستانوں کے کثرت استعمال پرمیرے ذہن میں‌ایک خیال ابھرا کہ اس مصنوعی ماسک سے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہمارے ذہنوں پرپیغام الہٰی بن کردستک دے رہا ہے ، کہ موجودہ حالات میں ایک طبیب کے مشورے پرملک بھر میں ہردوسرے شخص نے کہا ہے جسمانی بیماری سے بچنے کے لیے ماسک پہن رکھا ہے

    اللہ کرے اس مصنوعی ماسک کی جگہ ہر ابن آدم وہ تقویٰ وخشیت الہٰی سے لبریز روحانی ماسک پہن لے تو رب تعالیٰ اپنی زمین پربسنے والے تمام بندوں کی بیماریاں شفا میں بدل دے ، مشکلات آسانیوں میں ، سختیاں نرمیوں میں ،زحمتیں رحمتوں میں تبدیل فرمادے گا ، اورہمیشہ ہمیش کے لیے بندوں سے راضی ہوجائے گا ، اوربند کیئے جانے والے اپنے تمام دربندوں کے لیے کھول دے گا

    قارئین کرام !،اختصار کے ساتھ زمین پرآباد انسانوں کے تمام طبقات کے ذمہ داران کواس حقیقی روحانی ماسک پہننے کی طرف توجہ دلانے لگا ہوں ،

    اللہ کرے !ایک گھر کا مسئول باپ ، مساوات کا ماسک پہن لے تاکہ اولاد میں کسی سے زیادتی نہ کرپائے

    اللہ کرے ! ایک گاوں کا نمبردار ہمدردی کا ماسک پہن لے تاکہ پورے گاوں میں کسی فرد کو دکھ نہ آنے پائے

    اللہ کرے ! ایک تھانیدارہوش کا ماسک پہن لے تاکہ پورے علاقے میں کہیں بھی اندھیرنگری نہ ہونے پائے

    اللہ کرے ! ایک وکیل سجائی کا ماسک پہن لے تاکہ کسی جھوٹے شخص کے مقدمے کوسچا اورسچے کو جھوٹا نہ ثابت کرپائے

    اللہ کرے ! ایک جج منصف عدل کا ماسک پہن لے تاکہ مظلوم کو اس کا حق دلوانے میں دیدہ دلیری دکھائے

    اللہ کرے !ایک وزیراپنے منصب کا صیح ماسک پہن لے تاکہ اپنے اہداف کوحقیقیت میں پورا کرپائے

    اللہ کرے ! ایک وزیراعظم اپنی قوم کے جزبات کی ترجمانی کا ماسک پہن لے تاکہ قوم کے خیالات کو پایہ تکمیل تک پہنچائے

    اللہ کرے ایک صدرمملکت اپنی صدارت کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ وطن عزیز کی نگہبانی کا حق اداکرپائے

     حضرات گرامی قارئین کرام

    اب آئیے ایک دوسرے طبقے کے ذمہ داران کیطرف

    اللہ کرے ! ایک تاجرسچائی اورایمانداری کا ماسک پہن لے تاکہ خریدارکوملاوٹ سے پاک اشیامل سکیں
    اللہ کرے ! ایک ڈاکٹراحساس ،خلوص،اخلاق اورشفقت کا ماسک پہن لے تاکہ مریضوں کودوا کے ساتھ دعا بھی مل سکے اورشفا بھی
    اللہ کرے ! ایک افسر اپنی کرسی کے تقاضوں کا ماسک پہن لے تاکہ سائلین کی داد رسی ہوسکے
    اللہ کرے !ایک صحافی دیانتداری کا ماسک پہن لے تاکہ کسی دنیا کوباخبررکھنے کےلیے حقائق بیان کرسکے ، غریبوں اورامیروں کے بلاامتیازمسائل ،مصائب دنیا تک پہنچا سکے
    اللہ کرے !ایک ادیب ادب کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ اس کے قلم میں کہیں جنبش نہ آنےپائے
    اللہ کرے ! ایک مفسّرفلسفہ وحی کا ماسک پہن لے تاکہ کہیں بھی آیات الہٰی کی تفسیرمیں تحریف وتاویل نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک سنار(زرگر) خوف خدا کا ماسک پہن لے تاکہ کھرے اورکھوٹے کو یکجا کرکے فروخت نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک دوکاندار خشیت الہٰی کا ماسک پہن لے تاکہ ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرنے پائے
    اللہ کرے !ایک استاد فرائض منصبی کا ماسک پہن لے تاکہ نفع مند علم سے اپنے شاگردوں کو بہرہ مند فرما سکے ، اورپڑھنے والے طلباء کی حق تلفی نہ کرنے پائے
    اللہ کرے !ایک ظالم رحمدلی کاماسک پہن لے تاکہ کسی مظلوم کا گلہ نہ گھونٹنے پائے
    اللہ کرے !ایک قاتل احیائے انسانیت کا ماسک پہن لے تاکہ ناحق کسی کے جینے کا حق نہ چھین پائے
    اللہ کرے !ایک چوکیداراپنے مالک سے وفاداری کا ماسک پہن لے تاکہ کوئی چور،ڈاکونقب نہ لگا سکے
    اللہ کرے !ایک سربراہ ادارہ محبت وشفقت کا ماسک پہن لے تاکہ اپنے ماتحت کام کرنے والوں میں جانب داری اوارزیادتی کا مرتکب نہ ہونےپائے
    اللہ کرے !ایک بنت آدم حقیقی حجاب کا ماسک پہن لے تاکہ کوئی بدقماش میرا جسم میری مرضی کہنے کی جسارت نہ کرپائے

    قصہ مختصر

    اللہ کرے !ایک بدعتی سنت رسول کا ماسک پہن لے تاکہ مسنون اعمال میں بدعت کی ملاوٹ نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک مشرک توحید الٰہی کا ماسک پہن لے تاکہ رب کی زمین پرکسی دوسرے کو اللہ کا شریک نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک بے دین دین اسلام کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ وہ دنیا کی محبت کوترک کرکے جنت کا ر اہی بن جائے
    اللہ کرے !ایک پاکستانی کلمہ طیبہ کا حقیقی ماسک اوڑھ لے تاکہ قیام پاکستان کی آزادی جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اب آزادی کےتقاضے پورے کرپائے
    اللہ کرے !ایک مسلم حرم کی پاسبانی کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ تحفظ حرمین شریفین کا حق اداکرپائے
    آخر میں درخواست گزار ہوں‌وطن عزیز کی ذمہ دار انتظامیہ سے

    کہ سود،عریانی ، فحاشی ،شراب نوشی ، رشوت خوری سمیت تمام گناہ کے اڈے بند کردیں‌ تاکہ کرونا وائرس سمیت تمام آفات سے اللہ پاک ہمیں‌نجات نصیب فرمائے
    اگر ہم نے اللہ سے کئے گئے وعدے پورے کردیئے تواللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا اوراللہ کبھی بھی اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا،اللہ ہمیں معاف بھی فرمائیں گے ، ہماری مدد بھی فرمائیں گے اورمشکلات سے نکال کرآسانیاں پیدا فرمائیں گے ،

    ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں ؟

    تحریر : علامہ علی شیر حیدری

  • محبت کا جنون اور اس کا علاج—از—عبیدالرحمن عابد

    محبت کا جنون اور اس کا علاج—از—عبیدالرحمن عابد

    اسلام عفت و پاکبازی، طہارت اور صفائی کا دین ہے۔ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا خواہش مند ہے جس میں عفت و پاکبازی کی حکمرانی اور طہارت و نظافت کی فضا ہو۔ اسلام پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے کر اخلاق کو جذبات وشہوات سے محفوظ رکھتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جذبات کو کھلا چھوڑ دینے اور جنسی آزادی کا لازمی نتیجہ اخلاق کی تباہی اور امتوں کی ہلاکت و بربادی ہے۔

    اس لیے اسلام معاشرے میں صالح قوت اور بقا کے عناصر قائم رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں تاکہ مسلمان بے راہ روی کی زندگی کا شکار نہ بن جائیں اور جسم و روح کے تقاضوں میں تناقض پیدا کر دے۔

    یقیناً اسلام نے انسانی طبیعت کے لیے ایسے ضابطے مقرر کئے ہیں جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ جن میں جسمانی اور روحانی ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کا طریقہ کار دیگر مذاہب و ادیان سے منفرد ہے۔

    اسلام سے زندگی بہترین انداز میں منظم ہوتی ہے۔اور انسانیت گمراہیوں کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ محبت انسان کی فطری عادات میں سے انتہائی قوی اور اثرانگریز عادت ہے جس کے اثرات انسانی زندگی میں بہت دور رس ہیں۔

    یہاں جس محبت کی بحث مقصود ہے اس کو جذباتی عشق یا چہرے کی محبت کہا جاتا ہے۔اسلام اس قسم کی محبت کا یکسر انکار نہیں کرتا کیونکہ بہرحال یہ ایک واقعاتی حقیقت ہے لیکن وہ اس کے لیےحدود وقیود مقرر کرتا ہے جسے عرف عام میں نکاح کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جذباتی محبت کو حقیقی واقعہ کے طور پر لیا۔

    ایک لونڈی کا غلام شوہر اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا لیکن لونڈی اسے پسند نہیں کرتی تھی،غلام اس لونڈی کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا تھا اور اس کے پیچھے روتا پھر رہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اسے غمگین اور پریشان دیکھ کر اس بےچارے کی سفارش کی اس واقعہ کی تفصیل حضرت ابن عباس یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا خاوند غلام تھا اس کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا وہ حضرت بریرہ کی آزادی کے بعد اس کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں گھومتا پھرتا تھا اسکے آنسو داڑھی پر بہہ رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا
     ‏يَا ‏‏عَبَّاسُ ‏، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ ‏ ‏مُغِيثٍ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏، ‏وَمِنْ بُغْضِ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏ ‏مُغِيثًا ‏. ‏فَقَالَ النَّبِيُّ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏لبريرة:( ‏لَوْ رَاجَعْتِهِ ! قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ‏) .
    اے عباس کیا تم مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کے مغیث سے بغض پر تعجب نہیں کرتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش کے تو اس سے رجوع کر لیتی اس نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے حکم دے رہے ہیں آپ نے فرمایا میں تو سفارش کر رہا ہوں تو اس نے کہا مجھے اس میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ (بخآری: ٥٢٨٣)

    اہل علم نے نے اس سے استدلال کیا ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جذبات محبت کو برا نہیں سمجھا بلکہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو مغیث کے عقد میں رہنے کا مشورہ دیا ۔
    انسان بےروح اور بے بدن نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ عقل مصروفیت کی وجہ سے تمام مخلوقات سے ممتاز ہے، اس لئے انسان دیگر تمام مخلوقات سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔

    انسان کے بدن میں بہت سے فطری سے جذبات و احساسات ہوتے ہیں ،انکی بنیاد پر انسانی شخصیت بنتی ہے۔ان جذبات میں سب سے اہم فطری چیز محبت ہے جس کے بہت سے عوامل و اسباب ہیں۔زندگی میں جائز وحلال محبت کی زبردست اہمیت ہے اور اس کا اثر نہایت عظیم ہے جبکہ ناجائز وحرام محبت آدمی کی دنیا خراب کر کے آخرت کو بھی تباہ کر دیتی ہے کیونکہ وہ اس کو پروردگار عالم کی عبادت سے غافل اور اس کے دینی فرائض سے بہت دور لے جاتی ہے۔آدمی اللہ تعالی کی حقیقی محبت کے ذریعے چہرے کے عشق کی لعنت سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    انسان کسی محبوب چیز کو نہیں چھوڑ سکتا مگر اس سے زیادہ محبوب چیز کے ذریعے سے سے یا کسی شدید اذیت کے ڈر سے پس دل کو ناجائز محبت سے محفوظ رکھنے کے لئے صحیح محبت یا اللہ تعالی کی طرف سے شدید پکڑ کا ڈر اور خوف مدنظر رکھنا چاہیے۔( العبودية ابن تيمية:42,43)

    ناجائز محبت کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اطاعت الہی کا عادی بنائے، اپنا دل فاسد محبوب کی تمنائے وصال سے خالی کر دے۔ اس طرح غلطی اور گناہ سے بچ جائے گا اور تکلیف و نقصان سے بھی محفوظ رہے گا ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ محبوب چیزیں تکالیف برداشت کیے بغیر نہیں حاصل ہوسکتیں۔ چاہے محبت صحیح ہو یا غلط، مال ، سرداری اور خوبصورتی سے محبت کرنے والے اپنا نقصان کئے بغیر اپنا مطلوب حاصل نہیں کر سکتے۔

    ناجائز جذباتی حمیت(عشق) کے دینی و معاشرتی نتائج
    جذباتی محبت کا سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ کہ اس سے انسان کی توجہ اللہ تعالی کی ذات عالی سے ہٹ جاتی ہے اور مخلوقات ہی اس کا محور اور مرکز بن کر رہ جاتے ہیں۔

    امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: شکل و صورت کا عشق انہیں چہروں میں جاگزیں ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی محبت سے خالی ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالی سے سے اعراض کرتے ہوئے اِدھر اُدھر منہ مارتے پھرتے ہیں۔ جب کوئی دل اللہ تعالی کی محبت اور اس کی ملاقات کے شوق سے بھر جاتا ہے تو اسے کسی صورت کے عشق کی بیماری نہیں لگتی جیساکہ اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
    كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ .(يوسف :٢٣)

    اسی طرح ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں۔بےشک وہ ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں سے تھا۔
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عشق اور اس کے نتائج گناہ اور بے حیائی کو دور کرنے کا ذریعہ اخلاص ہے۔

    بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ عشق اس دل کی بیماری ہے جو اپنے اصلی محبّ کی یعنی اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے خالی ہے۔(زادالمعاد 151/3)
    ناجائز محبت در حقیقت دل کی بیماری ہے جسے اللہ تعالی کی خالص محبت سے دور کیا جاسکتا ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی عبادت اس کے احکام کی پابندی اور اس کی ہمہ وقت یاد اس بیماری کے خاتمے کا موثر ذریعہ ہے۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بیماری کا سب سے بڑا سبب دل کا اللہ تعالی سے غافل ہونا ہے کیونکہ دل جب اللہ تعالی کی عبادت کا مزہ چکھ لے تو اسے کوئی چیز اس سے بڑھ کر لذت بخش محسوس نہیں ہوتی۔(العبودیہ لابن تیمیہ صفحہ:42)

    پھر یہ عشق صرف ایک شخص ہی کے لیے بدبختی اور مصیبت کا باعث نہیں بنتا تھا بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے کیونکہ اس قسم کی محبت معاشرے میں بداخلاقی، بدکرداری اور حیوانیت کو جنم دیتی ہے۔ پس صحیح محبت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مقصد سے ہم آہنگ ہو جو انسانی تخلیق کی بنیاد ہے۔ اگر جذبہ محبت صرف طبیعت اور شہوت کے زور پر پروان چڑھے گا تو انسان انسانیت کے درجہ سے گر کر حیوانات کی طبیعت کے قریب تر ہو جائے گا، جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو انسان بنا کر عزت بخشی ہے۔

    عشق ( جذباتی محبت ) کا صحیح رخ :
    اگر محبت انسانی زندگی میں اس قدر وسیع اثرات رکھتی ہے تو ضروری ہے کہ اس کا علاج کرکے اسے صحیح رخ پر ڈال دیا جائے اور اس روحانی علاج کی بنیاد درحقیقت ان امور کی اصلاح ہے جن سے محبت کے جذبے پیدا ہوتے ہیں ان امور کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    1) محبوب کی شخصیت سے مرعوب ہونا جس کی وجہ سے محبوب کو کمال انسانی کا مجسمہ سمجھتا ہے۔
    2) دوستی برقرار رکھنے کی امید۔
    3) محبّ اور محبوب کے باہمی راز کا انکشاف۔
    4) محبّ یہ سمجھتا ہے کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلق قائم ہونے پر موقوف ہے۔
    پہلے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ محبت کرنے والے کے سامنے اس کے محبوب کے عیوب و نقائص اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کے ذہن نشین ہو جائیں۔

    دوسرے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ اس کو جس چیز کی امید ہے اس سے مایوس کر دیا جائے کیونکہ شرعی لحاظ سے ایسے تعلقات قائم نہیں رکھے جا سکتے۔
    تیسرے عنصر سے مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے باہمی راز دور کرکے لوگوں کے سامنے فاش کر دیے جائیں۔ آخری چیز کے تدارک کی تدبیر یہ ہے کہ ان نقصانات کو اجاگر نہ کیا جائے جو اس دوستی کے نتیجہ میں لامحالہ پیدا ہوں گے آگے والا بےچینی ،عقل کی ویرانی، ذہنی خلجان، دلی تکلیف، اور آرام و راحت سے محرومی وغیرہ۔باقی رہا عاشق کا یہ سمجھنا کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلقات استوار ہونے میں ہے تو اس کا موثر حل یہ ہے کہ اس کا فوری طور پر کسی نیک مسلمان عورت سے نکاح کر دیا جائے تو مناسب ہوگا کہ یہ عورت ایسی پرکشش خوبصورتی کی حامل ہو کہ پہلی عورت اس کی نظر میں ماند پڑ جائے۔

    امام ابن قیم رحمہ اللہ نے عشق کو قابل علاج مرض قرار دیا ہے، ان کے نزدیک اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔
    1) اگر شرعی طور پر عشق وصالِ محبوب مہیا کیا جا سکتاتو اس کا مہیا ہو جانا ہی اس کا علاج ہے جیسا کہ بخاری میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا۔
    يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ. ( بخاری :کتاب النکاح : 5065)
    اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو بھی نکاح کی استطاعت کی طاقت رکھیں تو لازمی ہے کہ وہ شادی کریں اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو اس پر لازمی ہے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑنے والا ہے۔
    گویا رسول اللہ نے محبت والے کے لئے دو علاج تجویز فرمائے ہیں ایک اصل اور دوسرا متبادل۔

    آپ نے اصل علاج کا حکم دیا ہے جو اصل بیماری کی شفا ہے پس جب تک ممکن ہے اس وقت تک اس میں سستی نہ کی جائے۔
    2) محبوب کا وصال شرعاً ناممکن ہو لیکن محبت کرنے والا اسے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسے بتایا جائے جس چیز کی اللہ تعالی کی طرف سے اجازت نہ ہو اسے ناممکن ہی سمجھنا چاہیے۔ انسان کی کامیابی اور اس کی بیماری کا علاج اس چیز سے دور رہنے میں ہے جس سے حق تعالیٰ نے روک دیا ،مریض محبت اپنے دل کو سمجھائے اور یقین دلائے کے اللہ رب العزت کے منع کردہ امور کی حیثیت بھی ناممکنات میں سے ہے۔

    اگر اس کا نفس امارہ نہ مانے تو اسے اس زبردست اور ناقابل تلافی نقصانات کا احساس کرنا چاہیے کہ کہ ایک ہیچ اور فانی محبوب کے لمحاتی وصال کے مقابلے میں اور انتہائی رفیع الشان حیی و القیوم محبوب حقیقی کے جمال بے مثال کی دید سے محروم ہو جائے گا، دانا آدمی جب یہ دیکھیے گا کہ وہ ایک ادنیٰ محبوب کے وصال کی وجہ سے سے ایک لا متناہی حسن و جمال اور بے پایاں عظمت والے محبوب حقیقی کو کھو دے گا تو وہ یقینا سنبھلے گا اور تھوڑی دیر کی فنا پذیر لذت کی حقیقت خواب و خیال سے زیادہ نہیں۔

    بھلا اس فعل کی لذت ہی کیا جو ختم ہوجائے مگر اس کی تھکن باقی رہے پس ایسے مریض کا فرض ہے کہ وہ پاکبازی اور صبر کا دامن نہ چھوڑے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس کی پریشانی کا خاتمہ فرما دے یا وہ خود اپنا گوہر مقصود حاصل کر لے۔
    ارشاد باری تعالی ہے۔
    وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ( النور:33)
    اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔

    بیماری عشق سے نجات پانے کا طریقہ:
    سب سے پہلے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لیں کے اس دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کے لیے دی گئی ہے، اس لئے اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ رب العزت کی اطاعت میں بسر کرنا چاہیے، اس فنا ہوجانے والی زندگی میں نیکی کے کام سرانجام دے کر آخرت میں جنت جیسی بے مثال نعمت حاصل کی جاسکتی ہے ہے۔اسے فانی چیزوں پر فدا ہونے میں برباد کرنا دیوانگی ہے، یہ دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ اکثر نوجوان اسی دیوانگی کا شکار ہو کر جگہ جگہ خوار ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو آگ لگا رہے ہیں اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کا طریقہ صرف یہ ہے۔

    1) معصیت کی زندگی سے سے عزم مصمم کے ساتھ توبہ کریں اور کسی نیک گھرانے میں فوراً شادی کرلیں۔ یاد رکھیں! ہماری محبت کا مرکز و منتہی صرف رب جمیل کی ذات ہے، بھلا اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے بڑھ کر اور کسی کی خوبصورتی ہوسکتی ہے جس پر انسان فریفتہ ہو۔ بے وفا چہروں کی چمک کو دمک پر شیدا ہوجانا شرف خودداری کی توہین ہے۔

    2) جس کی محبت میں آپ مبتلا ہیں اس سے ہر قسم کا تعلق آج اور ابھی ختم کر دیں، اسے مت دیکھیں، اس کے گھر کے قریب تک نہ پھٹکیں، اسکا کسی سے تذکرہ نہ کریں اور نہ اس کا خیال دل میں لائیں، اپنے باطن میں انقلاب پیدا کریں۔ یوں بدل جائیں جیسے موسم بدل جاتا ہے

    خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر
    کہا جاسکتا ہے کہ اور تو ساری تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں لیکن یہ کیوں کر ممکن ہے کہ دل میں اس کا خیال بھی نہ آئے یقین خیال ضرور آئے گا لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں خیال آتا ہے تو آنے دیں البتہ خود قصداً اس کا خیال دل میں نہ لائیں۔ہاں جب خیال آجائے تو اسے فورا ذہن سے جھٹک کر کسی اچھے اور مفید کام میں مصروف ہو جائے خوب جم کر اس تدبیر پر عمل کرتے رہیں اور اللہ رب العزت سے نیکی کی زندگی کی توفیق مانگتے رہیں۔آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل چند ہفتے بھی نہ گزر پائیں گے کہ اس متاع فاسد کا خیال آنا بند ہوجائے گا۔

    درحقیقت اس بیماری کا اصل علاج استقامت کے ساتھ فاسد محبوب سے کلی طور پر دور رہنا ہے جتنی دور ہوگی اتنی ہی جلدی شفا نصیب ہو گی۔ ان شاءاللہ
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
    طبیعت تیری زور پہ ہے تو روک
    وگرنہ یہ حد سے گزر جائے گی

    محبت کا جنون اور اس کا علاج
    عبید الرحمن عابد

  • وبا کے دوران اذانیں دینے پر  بحوث —از—سعدیہ خورشید

    وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحوث —از—سعدیہ خورشید

    ہر طرف وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحث چل رہی ھے۔۔۔۔ہر فریق ایک دوسرے کے خلاف بے شمار دلائل پیش کررہا ھے۔۔۔۔

    ایک فریق تو مکمل طور پر کہہ رہا ہے کہ اس دوران اذانیں دینا لازم و جائز ھے اور انکے دئیے گئے دلائل ہر طرف گردش کررہے ھیں۔۔۔
    اور دوسرا اس کے رد میں دلائل پیش کررہا ہے جن میں تحاریر کی صورت میں پہلے فریق کے دلائل کی صورت میں پیش کی گئیں روایات کی اسناد پر بے شمار بحوث ہوئی ھیں اور علماء کے آڈیو ویڈیو بیان جاری ھوئے۔۔۔

    اب آتی ھوں اصل مدعے کی طرف۔۔۔۔
    بات انتہائی سادہ اور عام فہم ہے کہ جب حضرت رسول اللہﷺ اور آثارِ صحابہ سے یہ بات بسندٍ صحیح ٍ ثابت ہی نہیں ھے۔۔۔۔۔

    سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کے دور میں طاعون کی وبا پھیلی جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں صحابہ کرام شہید ھوئے جن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت ھوئی
    لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وباء کے دوران اذانیں دینے والے یا ایسے کسی بھی فعل کا حکم نہیں دیا

    اسکا مطلب یہی ہے کہ جو قرونِ اولیٰ کے دور میں کام نہیں ھوا وہ ظاہر سی بات ھے کہ بدعت ہے۔۔۔ اور بدعت نئی چیزوں کی ایجاد کا نام ہی تو ھے۔۔۔
    اب بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے کہ اگر ہہ بدعت ہے تو یہ اذانیں دینے والا فعل بدعتِ حسنہ میں شمار ھورہا ھے۔۔۔

    تو عرض یہ ہے کہ کوئی بدعت، بدعت ِ حسنہ نہیں ھے ۔۔۔
    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے۔۔۔۔

    کل بدعة ضلالة وہ کل ضلالة فی النار۔۔جب یہ بات طے ہوگئی کہ یہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ آگ ہے ،اس کے بعد ھمارے پاس کوئی جواز نہیں بچتا کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ” دیکھیں یہ کام اچھا ھے، اللہ کا ذکر بلند ھو رہا ہے ہر طرف اللہ اکبر کی صدا گونج رہی ھے، اس سے کیا مسئلہ ہو سکتا ھے۔۔۔

    بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی دیکھا ہے کہ اللہ کا ذکر بلند کرو تو بھی مسئلہ،،،، نہ کرو تو بھی مسئلہ ۔۔۔ ہمارا واسطہ پاکستان کے ان جہلاء سے پڑا ہوا ھے
    جب بھی کوئی کام ہوتا ہے یہ اپنی باتیں لے کر منظر عام پر آ جاتے ھیں آگے پیچھے ان کو یاد نہیں ھوتا۔”

    تو گزارش یہ ہے کہ ہر کام کی ایک حد شریعت نے مقرر کی ہوئی ھے جب ھم ان حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کریں گے تو ھمارا وہ فعل جتنا بھی اچھا ھوگا جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کام پر مہر نہیں لگی ہوئی وہ کام کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔

    مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ
    ’’جس شخص نے ہمارے دین کے معاملے میں کوئی نئی بات ایجاد کی ‘ جو اس دین میں پہلے نہیں ہے تو وہ بات ( یاعمل) مردود ہے.‘‘

    (متفق علیه)

    مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَـیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ ’’
    جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا ہمارے دین میں حکم نہیں تو وہ (عمل) مردود ہے.‘‘

    وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحوث

    تحریر از سعدیہ خورشید
    _________

  • آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں—از قلم۔۔۔ مشی حیات

    آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں—از قلم۔۔۔ مشی حیات

    ہم دنیا میں آئے پانی کی طرح شفاف اور روئی کی طرح نرم مزاج دل تھے ہم نے اپنی زندگی کا سلسلہ طے کرنا شروع کیا جو زندگی میرے رب نے ہمیں عطا کی تھی وہ بلکل گناہوں سے پاک صاف تھی لیکن ہم نے دنیا کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کو ایک نیا رنگ دیا رب کی بنائی گئی زندگی سے ناواقف ہو گئے ہم دنیا کی رنگینیوں میں کھو گئے رب تعالی کے فیصلوں کو چھوڑ کر ہم نے اپنی خواہشات کو ترجیح دی میرا رب ہمیں اپنی طرف بلاتا رہا
    حی علی الفلاح

    مگر ہم اپنے کاموں اپنے مال اور تجارت میں کھو بیٹھے اس بات کو بھول بیٹھے کہ ہمارا رب ہماری کامیابی کی بات کر رہا ہے میرے رب نے ہمیں مال۔پیسہ اور تجارت میں کامیابی کی ہی طرف بلایا ہے مگر ہمارا رب ہم سے محبت کرتا ہے ہماری زندگی کی ایک ایک سانس اس کی امانت ہے

    ہم جب اپنے رب کو بھول جائیں اپنے رب کے فرمان اور اسکے رسول کریم کے بتائے گئے اسوہ حسنہ کو بس عموما لینا شروع کر دیں تو رب پھر اپنی مخلوق کو جنجھوڑتا بھی ہے میرا رب کہتا ہے کہ میرے بندے قیامت کے عذاب کو عام سمجھنے لگتے ہیں تو ہم انہیں دنیا میں عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں

    کرونا وائرس جیسی بیماری(عذاب ) نے ہمیں اپنی زندگی کی اہمیت یاد دلائی ہے ہمیں احساس دلایا ہے کہ ہم کیوں دنیا میں آئے؟ہمیں رب نے اپنی فرمانبرداری کے لیے پیدا کیا تھا ہم کفار کے دین کے پیروکار ہو گئے شراب۔جوا۔نشہ۔چوری اور زنا کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا حقوق العباد کو بھول بیٹھے اپنی زندگی میں مگن ہو گئے خود اچھا کھا لیا ہمسائے کی فکر نہیں یتیم بھوکا سوتا رہااور ہم حلال کو حرام میں اڑاتے رہے

    پھر میرے رب نے پوری دنیا کو بند کر دیا اور ثابت کر دیا کہ حکمرانی کا ذات کی ہے مرضی کس ذات کی چل سکتی ہے
    15 تا 30 دن تک دکانیں بند کرنے والوں سے جب رمضان المبارک میں 10 دن کے اعتکاف کا بول دیا جائے تو انکے بچے بھوکے اور کاروبار بند ہونے لگتے ہیں مگر میرے رب نے آج دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے
    ابھی وقت ہے اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے چلیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں کیا بویا اور کیا کاٹا ہے

    اپنے گناہوں کی معافی مانگیں جس مقصد کے لیے دنیا میں آئیں ہیں اس مقصد کو نبھاتے چلیں دنیا کو ترک کر کے دین پر عمل پیرا ہو جائے حرام کو حرام سمجھیں تو اپنے رب کے عذاب سے محفوظ ہو جائیں
    بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب بہت درد ناک ہے

    آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں
    🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
    ✍🏻از قلم۔۔۔
    مشی حیات

  • کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس—از— محمد نعیم شہزاد

    کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس—از— محمد نعیم شہزاد

    لانگ ویک اینڈ کے بعد آج پہلے دن گھر سے باہر نکلنا ہوا۔ گلیاں، بازار سنسان، شاہرائیں ٹریفک سے خالی، شہر میں ہو کا عالم، ایک اور نیا مظاہرہ جو دیکھنے کو ملا وہ چوکوں چوراہوں پر پولیس افسران اور سپاہی اور کہیں فوجی جوان، کسی سمت ٹریفک وارڈنز اور کہیں رینجرز کے جوان۔ ائیر پورٹ روڈ پر "Chippa” کی ایمبولینس اور مستعد ڈرائیور، شہر میں ایمرجنسی اور کرفیو کا سماں پیش کر رہا تھا ۔

    وہ سڑکیں جہاں رش کی وجہ سے میں جانا پسند نہیں کرتا تھا سنسان پڑی تھیں۔ دل مغموم تو ہوا مگر ساتھ ہی مطمئن بھی کہ قوم نے حالات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور حفاظتی اقدامات پر طوحاً و قرحاً عمل شروع کر دیا ہے۔ وبا ہی ایسی پھیلی ہے کہ بچے بڑے سب اس سے محتاط ہو گئے ہیں ۔ ایک ریڑھی بان کو دیکھا جو بچوں سمیت سڑک پر جا رہا تھا اور اس نے ماسک لگا رکھا تھا۔

    اس کی بیوی اور معصوم بیٹی بھی دوپٹے سے اپنا منہ ڈھانپے ہوئے نظر آئیں۔ سٹوڈنٹس سے بات ہوئی تو ان کے والدین پہلے سے آمادہ تھے کہ بچوں کو آن لائن ٹیوشن دے دیں۔ الغرض ہر سمت ایسے مناظر دیکھنے کو ملے کہ یقین ہو گیا ہم ایک منظم قوم ہیں اور کرونا کو شکست دینے کے لیے پر عزم ہیں۔ اسی قومی جذبے کی ضرورت تھی جو بیدار ہو چکا ہے اور یقیناً یہ کرونا فری پاکستان کا آغاز ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان الانسان کان ظلوما جہولا
    خالق کائنات نے اپنے کلام قرآن مجید میں انسان کو ظالم اور بے علم قرار دیا۔ انسان کی کیفیت ایسی ہی ہے کہ وہ قریب کی چیز کا اثر فوراً قبول کرتا ہے اور دور کی چیز کو ایسے بھلا دیتا ہے گویا اس کو مانتا ہی نہیں ۔ آج دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے، اس کی وجہ سے کربناک اموات نظر آ رہی ہیں، تشویشناک صورتحال ہے اور ہر کوئی خبردار نظر آتا ہے ۔ بہت اچھی بات ہے اس سے کوئی انکار نہیں مگر انسان عقبیٰ کو بھول چکا، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو بھلا چکا ہے۔

    یہ بھول چکا ہے کہ اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔ اس کا حق تو یہ تھا کہ دنیا میں خدا کی نیابت اختیار کرتا اور اللہ کے احکامات کو نافذ کرتا مگر وہ سب بھول کر اپنی ہی دنیا میں مگن ہو گیا۔ جب تک ڈھیل ملی رہی انسان نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ صدیوں سے انسانی رویے میں تبدیلی نہ آ سکی۔ جدید سائنسی تحقیق اور علوم و فنون میں مہارت بھی انسان میں قبل از وقت توبہ کا شعور بیدار کرنے سے قاصر رہی اور آج بھی جب مصیبت گلے پڑ جاتی ہے تو رجوع الی اللہ کی فکر جاگتی ہے۔

    جب انسان اپنی فطرت پر قائم ہے تو قربان جاؤں اس مالک کائنات پر جو ہر بار خطا کاروں سے درگزر کا معاملہ فرماتا ہے۔ قریب ایک ماہ بعد رمضان کی آمد آمد ہے۔ سابقہ تاریخ گواہ ہے کہ رمضان تزکیہ قلوب اور اصلاح نفس کا موقع فراہم کرتا ہے مگر اس بار تو رمضان سے پہلے ہی لوگوں کے دلوں سے زنگ اتر جائے گا۔

    کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس
    محمد نعیم شہزاد

  • جہد مسلسل—–از—–ساجدہ بٹ

    جہد مسلسل—–از—–ساجدہ بٹ

    کُچھ جہد مسلسل سے تھکاوٹ نہیں لازم

    انسان کو تھکا دیتا ہے سوچوں کا سفر بھی

    پوری دنیا میں پھیلتی ہوئی موزی مرض کرونا وائرس نے ہر انسان کو خوف زدہ کر دیا ہے اور امیر و غریب میں فرق محسوس کیے بغیر ہر فرد آج بے بس نظر آرہا ہے۔۔۔
    کیوں کہ ابھی تک اس بیماری کا علاج دریافت نہیں ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا مایوس ہو رہی ہے کہ اگر بیماری لاحق ہو گئی تو ہمارا کیا ہو گا؟؟؟؟؟؟؟

    غیر مسلم تو چلو مانا کہ مایوس ہیں۔۔
    مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اے مسلمان تُو کیوں مایوس ہے؟؟؟

    ایک اللہ واحد لا شریک پے یقین رکھنے والا مایوس کیوں ہوا؟؟.
    کیا ہمیں معلوم نہیں کہ عزت دینے والا۔۔۔
    ذلت دینے والا۔۔۔
    صحت دینے والا۔۔۔
    بیماری دینے والا۔۔۔
    دولت دینے والا۔۔۔
    شہرت دینے والا۔۔۔
    شفاء دینے والا۔۔۔۔

    وہ پاک پروردگار ہے دونوں جہاں کا مالک و مختار ہے اللہ تعالیٰ کے لئے تو کچھ بھی نہ ممکن نہیں۔۔۔
    پھر یہ بیماری کیا میرے رب کریم سے زیادہ بڑی ہے ؟؟؟

    اگر نہیں تو اے مسلمان تُو مایوس نہ ہونا اپنے اللہ تعالیٰ پے کامل یقین رکھنا اپنا ایمان کمزور نا ہونے دینا۔۔۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔

    علاج کرو کیوں کہ جس ذات نے بیماری نازل کی ہے اُس کا علاج بھی اُتارا ہے

    ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا وہ بلاشبہ حق اور سچ ہے اس لیے سب سے پہلے تو اس بات پر یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی اُس کا علاج بھی اُتارا یہ الگ بات ہے کہ اس خوف اور مایوسی میں مبتلا انسان ابھی تک دریافت نہیں کر سکے۔۔۔۔

    لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا کیونکہ مایوسی ہمارے کمزور ایمان کی نشانی ہے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں بیشک یہ بیماری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عذاب ہے کہ شاید یہ انسان اب بھی سمبھل جائے۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے رہیں دعائیں کریں وہی اس بیماری سے شفا عطا کر سکتے ہیں۔۔۔۔
    اور ساتھ ساتھ اپنی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔۔۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔
    صفائی نصف ایمان ہے۔۔۔۔

    ہر لحاظ سے صفائی کا خیال رکھنے کا حکم ہم مسلمانوں کو آج سے چوداں سو سال پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا اگر صحیح سے عمل کرتے تو شاید ہمارا یہ حال نا ہوتا جو آج ہوا ہے۔۔۔
    اس میں ہمیں جسمانی صفائی گھر کی صفائی ستھرائی غرض یہ کہ ہر قسم کی صفائی سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے جہد مسلسل سے کام لینا ہو گا فضول سوچوں سے مایوسیوں سے نکلنا ہو گا اور اللہ تعالی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنا ہو گا بیشک اسی میں ہماری فلاح ہے۔۔۔۔

    پھر ان شاء اللہ ہم اس کرونا وائرس جیسی بیماری سے نجات حاصل کر لیں گے۔۔۔۔
    مگر اس کے لیے ایک ہی بات ۔۔۔۔۔
    اللہ تعالی پر بھروسہ۔۔۔
    مایوسی سے بچنا۔۔۔۔
    اور جہد مسلسل۔۔۔۔۔

    اٹھو مومنو! آج سے عہد کر لو حبیب خدا کی اطاعت کریں گے

    عقیدت پے پہلو بہ پہلو عمل سے حقیقت میں تعمیل سنت کریں گے

    ان شاء اللہ

    جہد مسلسل

    تحریر: ساجدہ بٹ

  • مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!—از—-جویریہ چوہدری

    مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!—از—-جویریہ چوہدری

    تصور کی لہروں پر سفر کرتے کرتے میری سوچوں کا دھارا مجھے دور کہیں بہت دُور کے دور میں لے گیا…
    کورونا وبا کے خدشات،صورت حال اور بدلتی دنیا کے پس منظر میں تدابیر،حفاظتی اقدامات اور بے بسی سبھی سوچوں کے سمندر میں مختلف زاویے بنا رہے تھے…
    قوم میں افواہیں،ہیجانی کیفیت،اور خوف کے سائے…وسائل کی کمی،مشکل صورت حال میں کیا ہو گا وغیرہ…

    یہ سچ ہے کہ جب مصیبت یا بلا و وبا سے سامنا ہوتا ہے تو بسا اوقات وسائل و اسباب بھی کارگر ثابت نہیں ہوتے…
    یہی وجہ ہے کہ ان اسباب اور وسائل کو اختیار کر کے ان کے مؤثر یا غیر مؤثر ہونے کا انجام اس ذات پر ہی چھوڑ دینا چاہیئے جو تمام وباؤں اور بلاؤں کو ٹالنے کی قدرت و اختیار رکھتی ہے…
    ان وائرس کے پھیلنے اور مرض کا محرک بننے کا اذن بھی اسی کی طرف سے ہوتا ہے

    بحثیت مسلمان قوم کے ہمارا یہی ایمان ہے اور ہونا چاہیئے…!!!
    مصیبت کی گھڑیوں میں اسے پکارنے کی بھی ایک اپنی ہی شان اور مزہ ہے…
    اور مذہب پر یقین رکھنے والے اس سے انکار نہیں کر سکتے…!

    قرآن مشرکین کی حالت زار کا نقشہ بھی یوں ہی کھینچتا ہے کہ جب تُند و تیز ہواؤں اور طوفانی لہروں کی زد میں ان کی کشتیاں پھنس جاتی ہیں…
    ملاح بے بس ہو جایا کرتا تھا
    ٹیکنالوجی ساتھ دینے سے انکار کر دیتی تھی…

    معبودانِ باطل کہیں نظر نہیں آتے تھے
    مدد کو نہیں پہنچتے تھے تو وہ اسی اکیلے اللّٰہ کو اخلاص کے ساتھ پکارتے…
    جب کشتی طوفانی لہروں کے بھنور سے نکل کر ساحل کی خشکی پر پہنچتی تو ان کے وہی رنگ ڈھنگ ہو جاتے…

    مشکل حالات گزر جانے کے بعد پرانی روش اختیار کر کے اللّٰہ کے شریک بنانے لگتے…
    تو اللّٰہ تعالٰی نے انسانیت کی رہنمائی کرتے ہوئے قرآن مجید میں اُن کی اس ادا و انداز کو سخت نا پسند فرمایا ہے…!!!

    پرت در پرت واقعات ذہن کے دریچوں پر جھلملانے لگ گئے__
    وہ نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا ناں۔۔۔

    باپ کی شفقت پدری نے جوش مارا اور پکارا کہ اے بیٹے !!!!
    آ جاؤ ہمارے ساتھ اس کشتی پر سوار جاؤ…

    تب بیٹے نے بڑی لا پرواہی سے جواب دیا، نہیں میں موجوں کے مقابل پہاڑ پر پناہ لے لوں گا…
    نوح علیہ السلام نے کتنا دردِ دل سے کہا ہو گا_:

    لا عاصم الیوم الا من رحم ربی_
    اور اس کے اور پہاڑ کے درمیان منہ زور موج حائل ہو گئی تھی…!!!!!

    یادوں کی لہروں کا سفر جاری تھا…میرے ذہن میں یونس علیہ السلام کا واقعہ آیا…
    جب قوم کو اللّٰہ کے عذاب سے ڈرا کر کشتی میں سوار ہو گئے تھے

    کشتی ہچکولے کھانے لگ گئی تو کسی مسافر کی کمی کی تجویز پیش گئی…
    معاملہ قرعہ اندازی تک پہنچا تو حضرت یونس علیہ السلام ہی دریا کی لہروں کے سپرد کیئے جانے والے ٹھہرے__

    لہروں میں جاتے ہی مچھلی نے صحیح سالم نگل لیا…
    اُس مچھلی کے پیٹ کے اندر وقت کے پیغمبر نے کیا کہا تھا_؟

    لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین¤
    تب خالق کائنات نے اپنے پیغمبر کی اس ادا کی کتنی بھاری جزا رکھی تھی کہ:

    "پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو لوگوں کے دوبارہ اٹھائے جانے تک اس(مچھلی) کے پیٹ میں رہتے__!!!”
    اس دعا نے صدیوں تک متوقع سفر کو کس قدر جلدی سے طے کر دیا…؟
    ہاں یہ پکار کتنی اہمیت رکھتی ہے__!!!

    کہ ایمان والوں کو نصیحت کی گئی کہ جب تم حالتِ جنگ میں ہو تو ثابت قدم رہو اور اللّٰہ تعالٰی کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ فلاح و کامرانی تمہارا مقدر ٹھہرے…
    اس پکار کے عمل سے ہی مدد آیا کرتی ہے…

    کائنات کا خالق و مالک ہماری پکار پر ہماری طرف متوجہ ہو کر ہماری فریاد سنتا ہے اور اس سے نکلنے کی راہیں ہموار کرتا ہے…!!!
    تبھی اپنا پیغام پہنچا دیا کہ

    کہہ دو اے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم_!!!
    اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو میرا رب بھی متوجہ نہیں ہوتا__!!!(الفرقان)۔

    ابراہیم علیہ السلام نے کیا کہا تھا؟
    اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے…!!!

    رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دعا کو ہی عبادت کہا…
    پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہر موقع اور وقت کے لیئے کی گئی وسیع المعانی دعائیں ہمارا زادِ سفر ہیں…

    اے قوم__!!!
    انتظامیہ و قوانین نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دی گئی ہدایات اوراحتیاطی تدابیر، اختیار کرنے کے بعد اپنے رب سے رابطہ بھی مضبوط کر لیجیئے…

    اپنے گھروں کے اندر رہتے ہوئے بھی انہیں مسجدوں کی صورت بنا لو__!!!
    توبہ کے سجدوں میں گڑگڑا کر اسے راضی کریں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہوئے آئندہ ان کا اعادہ نہ کرنے کا عہد کریں…

    ہماری حفاظت کی خاطر تدبیر کے لیئے لاک ڈاؤن کی صورت میں اُس سے تعلق کو لاک نہ ہونے دیں اور کسی گھمبیر صورت حال سے بچنے کی دعائیں مانگیں…
    کہ یہ وبا ہم پر سے جلد از جلد چھٹ جائے کہ
    یمحو اللّٰہ ما یشآء و یثبت،و عندہ علم الکتٰب¤[الرعد]۔

    "اللّٰہ جسے چاہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہے ثابت رکھتا ہے،اور اسی کے پاس لوح محفوظ ہے…!!!”

    پس اس کی رحمت کا اتنا سوال کیجیئے کہ وہ ہمارے اوپر سے اس وبا کو مٹا دے…
    لغزشوں کو مغفرت اور بدبختیوں کو سعادتوں میں بدل دے…!!!

    معاشی اور اقتصادی بحران اس قوم کو نہ ڈسنے پائے اور افراتفری کی بجائے احتیاط کی جائے…!!!
    کہ ہم بے بس اور محدود وسائل والے اور لاریب اس کی رحمت و خزانے لا محدود ہیں…!!!

    یہ پکار مصیبت میں بہت بڑی دوا ہے، یہ تمام رکاوٹوں،موسمی تغیرات،فضاؤں اور خلاؤں کا سینہ چیرتی سیدھی عرش والے کے پاس پہنچتی ہے اور وہی تو اس کائنات کا پیدا کرنے والا اور اس میں بستی تمام مخلوقات کا رب ہے…!!!
    ہم حالتِ جنگ میں ہیں،کئی محاذوں پر جنگ اور جنگی حالات میں کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کایا پلٹ دیا کرتا ہے…
    واذکرو اللّٰہ کثیر لَّعلَّکُم تفلحون¤

    اسباب اختیار کر کے ان کے انجام کو مسب الاسباب پر چھوڑ دینا توکل اور یقین کا ہی حصہ ہے،جس سے ہمارے دین نے ہمیں منع نہیں فرمایا ہے بلکہ اس کی تاکید کی ہے…!!!
    احتیاطی تدابیر اپنانے کے بعدبیماریوں سے بچاؤ اللّٰہ تعالٰی کے سپرد کر دینا، اور اپنے ایمان،توحید اور توکل کی مضبوطی کے ساتھ اعمال کی درستگی اور اخلاق و آداب کی اصلاح پر توجہ آج کی اہم ترین ضرورت ہے_!!!

    مومن اسباب اختیار کر کے ان پر تکیہ نہیں کر بیٹھتا بلکہ ان کے مؤثر ہونے کے لیئے ان اسباب کے مالک کی طرف رجوع کرتا ہے کہ اس کے رحم کا ساتھ جسم میں روح کی طرح ضروری ہوتا ہے…
    اے ہمارے رب !!!
    ہم پکارتے ہیں:
    ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مَوْلٰنَا،اَنتَ مَوْلٰنَا،اَنتَ مَوْلٰنَا_واحفظنا مِمِّا نخافُ و نَحذر_!!!
    آمین ثم آمین…!!!

    ==========================🌻🌻🌻

    مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • دلوں کو مسخر کیسے کریں—-از—-حافظہ قندیل تبسم

    دلوں کو مسخر کیسے کریں—-از—-حافظہ قندیل تبسم

    "ہم نرمی ،افہام و تفہیم اور مناسب طرز عمل سے اپنا پسندیدہ ماحول پیدا کر سکتے اور اپنی بات منوا سکتے ہیں۔”

    لوگوں سے اچھے برتاؤ کی ترکیبیں استعمال کرنے کے حوالے سے آپ کی صلاحیت اس وقت دو چند ہو جائیں گی جب آپ کسی سے ایسا عمدہ معاملہ کریں گے کہ اسے احساس ہو وہ آپ کو سب سے زیادہ پیارا ہے۔ آپ کا دوسروں سے سلوک اس درجہ خوبصورت اور ہم آہنگ، انس و محبت اور تکریم سے بھر پور ہو کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں آپ کا ایسا شاندار تعلق ان کے سوا کسی اور سے نہیں۔

    ایسا ہی رویہ اپنے والدین، بیوی بچوں اور اپنے ہم چشموں کے ساتھ رہن سہن میں بھی اختیار کریں۔ جن افراد سے کبھی کبھی واسطہ پڑتا ہے ان کے ساتھ بھی آپ کا طرز عمل مثالی ہونا چاہیے۔

    ان سب لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہونا ممکن ہے کہ آپ انہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ایسا صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ آپ کو ان سے زیادہ پیار کسی اور سے نہیں۔

    ایسے طرز زندگی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۃ ہمارے سامنے ہے جو آدمی آپ کی سیرت کی ورق گردانی کرے گا اسے یہ تسلیم کر لینے میں تامل نہیں ہو گا کہ آپ اعلی اخلاقی روایات کے حامل تھے۔ آپ ہر ملنے والے کی عزت کرتے، اسے اہمیت دیتے، اسے ہم آہنگ ہوتے یا اسے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے اور ہر ایک سے نہایت خندہ روئی اور بشاشت سے پیش آتے۔جس کسی سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوتی تو وہ یہی سمجھتا کہ آپ اسے سب سے بڑھ کر چاہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ بھی آپ کو سب سے زیادہ چاہتا کیونکہ آپ اسے اپنی بے پناہ محبت کا احساس دلا دیتے تھے ۔

    "ہم بھی لوگوں کے ساتھ، وہ چاہے جیسے بھی ہوں اسی محبت سے پیش آئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کے دلوں کو مسخر نہ کر سکیں ۔”

    دلوں کو مسخر کیسے کریں
    حافظہ قندیل تبسم

  • بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار  تحریر: غنی محمود قصوری

    بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال 23 مارچ کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے سرکاری طور پر فوج کی جانب سے پریڈ کی جاتی ہے اور اس دن ہم یوم پاکستان مناتے ہیں مگر اس سال عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے یہ سارا کچھ کیوں ہے اس کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا
    یوں تو دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی بنیاد اسی دن ہی پڑ گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر راجہ داہر کے ظلم کے خلاف حملہ کیا تھا اور پھر اس کے بعد ہر آنے والے مسلمان جرنیل نے ہندو کی ٹھکائی کرکے دو قومی نظرئیے کو تقویت دی
    قیام پاکستان کا منصوبہ 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل کو پہنچا مگر اس پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے کامیاب بنانے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں
    انگریز و ہندو سے تنگ مسلمان نے مسلم لیگ اور اپنے مسلمان قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کیلئے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا
    علامہ علیہ رحمہ نے 1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انہیں مخاطب کرکے لکھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے
    اس پیغام کو جناب محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لئے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور ان کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزرا ممکن نہیں اور ہندو کیساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے اس لئے قیام پاکستان کیلئے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں
    مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22،اور 23 مارچ 1940 کو طے تھا جسے رکوانے کیلئے انگریز انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان اس جلسے کو نا کر سکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا سو 19 مارچ کو جزبہ آزادی سے سرشار مسلمانوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم تھے 21 مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا قائد اعطم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کیساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نا تھی قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظرئیے کو اجاگر کرنا تھا اس لئے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہذہ یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لئے الگ ملک پاکستان بنائینگے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کیساتھ زندگی بسر کر سکیں گے قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق بنگالی،چویدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا
    اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں ،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نا ہوا تھا مسلمانوں نے قائد اعظم زندہ باد،سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائینگے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں انگریز و ہندو کے سامنے سینہ سپر ہو گے اور اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر 14 اگست 1947 کو پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے
    آج ہمیں بھی پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے علامہ محمد اقبال،قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے کارکنان جیسا عزم چاہئیے تاکہ دو قومی نظرئیے اور پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا پر واضح ہو سکے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو