Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں—از قلم۔۔۔ مشی حیات

    آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں—از قلم۔۔۔ مشی حیات

    ہم دنیا میں آئے پانی کی طرح شفاف اور روئی کی طرح نرم مزاج دل تھے ہم نے اپنی زندگی کا سلسلہ طے کرنا شروع کیا جو زندگی میرے رب نے ہمیں عطا کی تھی وہ بلکل گناہوں سے پاک صاف تھی لیکن ہم نے دنیا کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کو ایک نیا رنگ دیا رب کی بنائی گئی زندگی سے ناواقف ہو گئے ہم دنیا کی رنگینیوں میں کھو گئے رب تعالی کے فیصلوں کو چھوڑ کر ہم نے اپنی خواہشات کو ترجیح دی میرا رب ہمیں اپنی طرف بلاتا رہا
    حی علی الفلاح

    مگر ہم اپنے کاموں اپنے مال اور تجارت میں کھو بیٹھے اس بات کو بھول بیٹھے کہ ہمارا رب ہماری کامیابی کی بات کر رہا ہے میرے رب نے ہمیں مال۔پیسہ اور تجارت میں کامیابی کی ہی طرف بلایا ہے مگر ہمارا رب ہم سے محبت کرتا ہے ہماری زندگی کی ایک ایک سانس اس کی امانت ہے

    ہم جب اپنے رب کو بھول جائیں اپنے رب کے فرمان اور اسکے رسول کریم کے بتائے گئے اسوہ حسنہ کو بس عموما لینا شروع کر دیں تو رب پھر اپنی مخلوق کو جنجھوڑتا بھی ہے میرا رب کہتا ہے کہ میرے بندے قیامت کے عذاب کو عام سمجھنے لگتے ہیں تو ہم انہیں دنیا میں عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں

    کرونا وائرس جیسی بیماری(عذاب ) نے ہمیں اپنی زندگی کی اہمیت یاد دلائی ہے ہمیں احساس دلایا ہے کہ ہم کیوں دنیا میں آئے؟ہمیں رب نے اپنی فرمانبرداری کے لیے پیدا کیا تھا ہم کفار کے دین کے پیروکار ہو گئے شراب۔جوا۔نشہ۔چوری اور زنا کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا حقوق العباد کو بھول بیٹھے اپنی زندگی میں مگن ہو گئے خود اچھا کھا لیا ہمسائے کی فکر نہیں یتیم بھوکا سوتا رہااور ہم حلال کو حرام میں اڑاتے رہے

    پھر میرے رب نے پوری دنیا کو بند کر دیا اور ثابت کر دیا کہ حکمرانی کا ذات کی ہے مرضی کس ذات کی چل سکتی ہے
    15 تا 30 دن تک دکانیں بند کرنے والوں سے جب رمضان المبارک میں 10 دن کے اعتکاف کا بول دیا جائے تو انکے بچے بھوکے اور کاروبار بند ہونے لگتے ہیں مگر میرے رب نے آج دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے
    ابھی وقت ہے اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے چلیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں کیا بویا اور کیا کاٹا ہے

    اپنے گناہوں کی معافی مانگیں جس مقصد کے لیے دنیا میں آئیں ہیں اس مقصد کو نبھاتے چلیں دنیا کو ترک کر کے دین پر عمل پیرا ہو جائے حرام کو حرام سمجھیں تو اپنے رب کے عذاب سے محفوظ ہو جائیں
    بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب بہت درد ناک ہے

    آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں
    🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
    ✍🏻از قلم۔۔۔
    مشی حیات

  • کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس—از— محمد نعیم شہزاد

    کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس—از— محمد نعیم شہزاد

    لانگ ویک اینڈ کے بعد آج پہلے دن گھر سے باہر نکلنا ہوا۔ گلیاں، بازار سنسان، شاہرائیں ٹریفک سے خالی، شہر میں ہو کا عالم، ایک اور نیا مظاہرہ جو دیکھنے کو ملا وہ چوکوں چوراہوں پر پولیس افسران اور سپاہی اور کہیں فوجی جوان، کسی سمت ٹریفک وارڈنز اور کہیں رینجرز کے جوان۔ ائیر پورٹ روڈ پر "Chippa” کی ایمبولینس اور مستعد ڈرائیور، شہر میں ایمرجنسی اور کرفیو کا سماں پیش کر رہا تھا ۔

    وہ سڑکیں جہاں رش کی وجہ سے میں جانا پسند نہیں کرتا تھا سنسان پڑی تھیں۔ دل مغموم تو ہوا مگر ساتھ ہی مطمئن بھی کہ قوم نے حالات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور حفاظتی اقدامات پر طوحاً و قرحاً عمل شروع کر دیا ہے۔ وبا ہی ایسی پھیلی ہے کہ بچے بڑے سب اس سے محتاط ہو گئے ہیں ۔ ایک ریڑھی بان کو دیکھا جو بچوں سمیت سڑک پر جا رہا تھا اور اس نے ماسک لگا رکھا تھا۔

    اس کی بیوی اور معصوم بیٹی بھی دوپٹے سے اپنا منہ ڈھانپے ہوئے نظر آئیں۔ سٹوڈنٹس سے بات ہوئی تو ان کے والدین پہلے سے آمادہ تھے کہ بچوں کو آن لائن ٹیوشن دے دیں۔ الغرض ہر سمت ایسے مناظر دیکھنے کو ملے کہ یقین ہو گیا ہم ایک منظم قوم ہیں اور کرونا کو شکست دینے کے لیے پر عزم ہیں۔ اسی قومی جذبے کی ضرورت تھی جو بیدار ہو چکا ہے اور یقیناً یہ کرونا فری پاکستان کا آغاز ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان الانسان کان ظلوما جہولا
    خالق کائنات نے اپنے کلام قرآن مجید میں انسان کو ظالم اور بے علم قرار دیا۔ انسان کی کیفیت ایسی ہی ہے کہ وہ قریب کی چیز کا اثر فوراً قبول کرتا ہے اور دور کی چیز کو ایسے بھلا دیتا ہے گویا اس کو مانتا ہی نہیں ۔ آج دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے، اس کی وجہ سے کربناک اموات نظر آ رہی ہیں، تشویشناک صورتحال ہے اور ہر کوئی خبردار نظر آتا ہے ۔ بہت اچھی بات ہے اس سے کوئی انکار نہیں مگر انسان عقبیٰ کو بھول چکا، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو بھلا چکا ہے۔

    یہ بھول چکا ہے کہ اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔ اس کا حق تو یہ تھا کہ دنیا میں خدا کی نیابت اختیار کرتا اور اللہ کے احکامات کو نافذ کرتا مگر وہ سب بھول کر اپنی ہی دنیا میں مگن ہو گیا۔ جب تک ڈھیل ملی رہی انسان نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ صدیوں سے انسانی رویے میں تبدیلی نہ آ سکی۔ جدید سائنسی تحقیق اور علوم و فنون میں مہارت بھی انسان میں قبل از وقت توبہ کا شعور بیدار کرنے سے قاصر رہی اور آج بھی جب مصیبت گلے پڑ جاتی ہے تو رجوع الی اللہ کی فکر جاگتی ہے۔

    جب انسان اپنی فطرت پر قائم ہے تو قربان جاؤں اس مالک کائنات پر جو ہر بار خطا کاروں سے درگزر کا معاملہ فرماتا ہے۔ قریب ایک ماہ بعد رمضان کی آمد آمد ہے۔ سابقہ تاریخ گواہ ہے کہ رمضان تزکیہ قلوب اور اصلاح نفس کا موقع فراہم کرتا ہے مگر اس بار تو رمضان سے پہلے ہی لوگوں کے دلوں سے زنگ اتر جائے گا۔

    کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس
    محمد نعیم شہزاد

  • جہد مسلسل—–از—–ساجدہ بٹ

    جہد مسلسل—–از—–ساجدہ بٹ

    کُچھ جہد مسلسل سے تھکاوٹ نہیں لازم

    انسان کو تھکا دیتا ہے سوچوں کا سفر بھی

    پوری دنیا میں پھیلتی ہوئی موزی مرض کرونا وائرس نے ہر انسان کو خوف زدہ کر دیا ہے اور امیر و غریب میں فرق محسوس کیے بغیر ہر فرد آج بے بس نظر آرہا ہے۔۔۔
    کیوں کہ ابھی تک اس بیماری کا علاج دریافت نہیں ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا مایوس ہو رہی ہے کہ اگر بیماری لاحق ہو گئی تو ہمارا کیا ہو گا؟؟؟؟؟؟؟

    غیر مسلم تو چلو مانا کہ مایوس ہیں۔۔
    مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اے مسلمان تُو کیوں مایوس ہے؟؟؟

    ایک اللہ واحد لا شریک پے یقین رکھنے والا مایوس کیوں ہوا؟؟.
    کیا ہمیں معلوم نہیں کہ عزت دینے والا۔۔۔
    ذلت دینے والا۔۔۔
    صحت دینے والا۔۔۔
    بیماری دینے والا۔۔۔
    دولت دینے والا۔۔۔
    شہرت دینے والا۔۔۔
    شفاء دینے والا۔۔۔۔

    وہ پاک پروردگار ہے دونوں جہاں کا مالک و مختار ہے اللہ تعالیٰ کے لئے تو کچھ بھی نہ ممکن نہیں۔۔۔
    پھر یہ بیماری کیا میرے رب کریم سے زیادہ بڑی ہے ؟؟؟

    اگر نہیں تو اے مسلمان تُو مایوس نہ ہونا اپنے اللہ تعالیٰ پے کامل یقین رکھنا اپنا ایمان کمزور نا ہونے دینا۔۔۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔

    علاج کرو کیوں کہ جس ذات نے بیماری نازل کی ہے اُس کا علاج بھی اُتارا ہے

    ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا وہ بلاشبہ حق اور سچ ہے اس لیے سب سے پہلے تو اس بات پر یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی اُس کا علاج بھی اُتارا یہ الگ بات ہے کہ اس خوف اور مایوسی میں مبتلا انسان ابھی تک دریافت نہیں کر سکے۔۔۔۔

    لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا کیونکہ مایوسی ہمارے کمزور ایمان کی نشانی ہے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں بیشک یہ بیماری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عذاب ہے کہ شاید یہ انسان اب بھی سمبھل جائے۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے رہیں دعائیں کریں وہی اس بیماری سے شفا عطا کر سکتے ہیں۔۔۔۔
    اور ساتھ ساتھ اپنی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔۔۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔
    صفائی نصف ایمان ہے۔۔۔۔

    ہر لحاظ سے صفائی کا خیال رکھنے کا حکم ہم مسلمانوں کو آج سے چوداں سو سال پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا اگر صحیح سے عمل کرتے تو شاید ہمارا یہ حال نا ہوتا جو آج ہوا ہے۔۔۔
    اس میں ہمیں جسمانی صفائی گھر کی صفائی ستھرائی غرض یہ کہ ہر قسم کی صفائی سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے جہد مسلسل سے کام لینا ہو گا فضول سوچوں سے مایوسیوں سے نکلنا ہو گا اور اللہ تعالی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنا ہو گا بیشک اسی میں ہماری فلاح ہے۔۔۔۔

    پھر ان شاء اللہ ہم اس کرونا وائرس جیسی بیماری سے نجات حاصل کر لیں گے۔۔۔۔
    مگر اس کے لیے ایک ہی بات ۔۔۔۔۔
    اللہ تعالی پر بھروسہ۔۔۔
    مایوسی سے بچنا۔۔۔۔
    اور جہد مسلسل۔۔۔۔۔

    اٹھو مومنو! آج سے عہد کر لو حبیب خدا کی اطاعت کریں گے

    عقیدت پے پہلو بہ پہلو عمل سے حقیقت میں تعمیل سنت کریں گے

    ان شاء اللہ

    جہد مسلسل

    تحریر: ساجدہ بٹ

  • مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!—از—-جویریہ چوہدری

    مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!—از—-جویریہ چوہدری

    تصور کی لہروں پر سفر کرتے کرتے میری سوچوں کا دھارا مجھے دور کہیں بہت دُور کے دور میں لے گیا…
    کورونا وبا کے خدشات،صورت حال اور بدلتی دنیا کے پس منظر میں تدابیر،حفاظتی اقدامات اور بے بسی سبھی سوچوں کے سمندر میں مختلف زاویے بنا رہے تھے…
    قوم میں افواہیں،ہیجانی کیفیت،اور خوف کے سائے…وسائل کی کمی،مشکل صورت حال میں کیا ہو گا وغیرہ…

    یہ سچ ہے کہ جب مصیبت یا بلا و وبا سے سامنا ہوتا ہے تو بسا اوقات وسائل و اسباب بھی کارگر ثابت نہیں ہوتے…
    یہی وجہ ہے کہ ان اسباب اور وسائل کو اختیار کر کے ان کے مؤثر یا غیر مؤثر ہونے کا انجام اس ذات پر ہی چھوڑ دینا چاہیئے جو تمام وباؤں اور بلاؤں کو ٹالنے کی قدرت و اختیار رکھتی ہے…
    ان وائرس کے پھیلنے اور مرض کا محرک بننے کا اذن بھی اسی کی طرف سے ہوتا ہے

    بحثیت مسلمان قوم کے ہمارا یہی ایمان ہے اور ہونا چاہیئے…!!!
    مصیبت کی گھڑیوں میں اسے پکارنے کی بھی ایک اپنی ہی شان اور مزہ ہے…
    اور مذہب پر یقین رکھنے والے اس سے انکار نہیں کر سکتے…!

    قرآن مشرکین کی حالت زار کا نقشہ بھی یوں ہی کھینچتا ہے کہ جب تُند و تیز ہواؤں اور طوفانی لہروں کی زد میں ان کی کشتیاں پھنس جاتی ہیں…
    ملاح بے بس ہو جایا کرتا تھا
    ٹیکنالوجی ساتھ دینے سے انکار کر دیتی تھی…

    معبودانِ باطل کہیں نظر نہیں آتے تھے
    مدد کو نہیں پہنچتے تھے تو وہ اسی اکیلے اللّٰہ کو اخلاص کے ساتھ پکارتے…
    جب کشتی طوفانی لہروں کے بھنور سے نکل کر ساحل کی خشکی پر پہنچتی تو ان کے وہی رنگ ڈھنگ ہو جاتے…

    مشکل حالات گزر جانے کے بعد پرانی روش اختیار کر کے اللّٰہ کے شریک بنانے لگتے…
    تو اللّٰہ تعالٰی نے انسانیت کی رہنمائی کرتے ہوئے قرآن مجید میں اُن کی اس ادا و انداز کو سخت نا پسند فرمایا ہے…!!!

    پرت در پرت واقعات ذہن کے دریچوں پر جھلملانے لگ گئے__
    وہ نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا ناں۔۔۔

    باپ کی شفقت پدری نے جوش مارا اور پکارا کہ اے بیٹے !!!!
    آ جاؤ ہمارے ساتھ اس کشتی پر سوار جاؤ…

    تب بیٹے نے بڑی لا پرواہی سے جواب دیا، نہیں میں موجوں کے مقابل پہاڑ پر پناہ لے لوں گا…
    نوح علیہ السلام نے کتنا دردِ دل سے کہا ہو گا_:

    لا عاصم الیوم الا من رحم ربی_
    اور اس کے اور پہاڑ کے درمیان منہ زور موج حائل ہو گئی تھی…!!!!!

    یادوں کی لہروں کا سفر جاری تھا…میرے ذہن میں یونس علیہ السلام کا واقعہ آیا…
    جب قوم کو اللّٰہ کے عذاب سے ڈرا کر کشتی میں سوار ہو گئے تھے

    کشتی ہچکولے کھانے لگ گئی تو کسی مسافر کی کمی کی تجویز پیش گئی…
    معاملہ قرعہ اندازی تک پہنچا تو حضرت یونس علیہ السلام ہی دریا کی لہروں کے سپرد کیئے جانے والے ٹھہرے__

    لہروں میں جاتے ہی مچھلی نے صحیح سالم نگل لیا…
    اُس مچھلی کے پیٹ کے اندر وقت کے پیغمبر نے کیا کہا تھا_؟

    لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین¤
    تب خالق کائنات نے اپنے پیغمبر کی اس ادا کی کتنی بھاری جزا رکھی تھی کہ:

    "پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو لوگوں کے دوبارہ اٹھائے جانے تک اس(مچھلی) کے پیٹ میں رہتے__!!!”
    اس دعا نے صدیوں تک متوقع سفر کو کس قدر جلدی سے طے کر دیا…؟
    ہاں یہ پکار کتنی اہمیت رکھتی ہے__!!!

    کہ ایمان والوں کو نصیحت کی گئی کہ جب تم حالتِ جنگ میں ہو تو ثابت قدم رہو اور اللّٰہ تعالٰی کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ فلاح و کامرانی تمہارا مقدر ٹھہرے…
    اس پکار کے عمل سے ہی مدد آیا کرتی ہے…

    کائنات کا خالق و مالک ہماری پکار پر ہماری طرف متوجہ ہو کر ہماری فریاد سنتا ہے اور اس سے نکلنے کی راہیں ہموار کرتا ہے…!!!
    تبھی اپنا پیغام پہنچا دیا کہ

    کہہ دو اے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم_!!!
    اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو میرا رب بھی متوجہ نہیں ہوتا__!!!(الفرقان)۔

    ابراہیم علیہ السلام نے کیا کہا تھا؟
    اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے…!!!

    رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دعا کو ہی عبادت کہا…
    پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہر موقع اور وقت کے لیئے کی گئی وسیع المعانی دعائیں ہمارا زادِ سفر ہیں…

    اے قوم__!!!
    انتظامیہ و قوانین نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دی گئی ہدایات اوراحتیاطی تدابیر، اختیار کرنے کے بعد اپنے رب سے رابطہ بھی مضبوط کر لیجیئے…

    اپنے گھروں کے اندر رہتے ہوئے بھی انہیں مسجدوں کی صورت بنا لو__!!!
    توبہ کے سجدوں میں گڑگڑا کر اسے راضی کریں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہوئے آئندہ ان کا اعادہ نہ کرنے کا عہد کریں…

    ہماری حفاظت کی خاطر تدبیر کے لیئے لاک ڈاؤن کی صورت میں اُس سے تعلق کو لاک نہ ہونے دیں اور کسی گھمبیر صورت حال سے بچنے کی دعائیں مانگیں…
    کہ یہ وبا ہم پر سے جلد از جلد چھٹ جائے کہ
    یمحو اللّٰہ ما یشآء و یثبت،و عندہ علم الکتٰب¤[الرعد]۔

    "اللّٰہ جسے چاہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہے ثابت رکھتا ہے،اور اسی کے پاس لوح محفوظ ہے…!!!”

    پس اس کی رحمت کا اتنا سوال کیجیئے کہ وہ ہمارے اوپر سے اس وبا کو مٹا دے…
    لغزشوں کو مغفرت اور بدبختیوں کو سعادتوں میں بدل دے…!!!

    معاشی اور اقتصادی بحران اس قوم کو نہ ڈسنے پائے اور افراتفری کی بجائے احتیاط کی جائے…!!!
    کہ ہم بے بس اور محدود وسائل والے اور لاریب اس کی رحمت و خزانے لا محدود ہیں…!!!

    یہ پکار مصیبت میں بہت بڑی دوا ہے، یہ تمام رکاوٹوں،موسمی تغیرات،فضاؤں اور خلاؤں کا سینہ چیرتی سیدھی عرش والے کے پاس پہنچتی ہے اور وہی تو اس کائنات کا پیدا کرنے والا اور اس میں بستی تمام مخلوقات کا رب ہے…!!!
    ہم حالتِ جنگ میں ہیں،کئی محاذوں پر جنگ اور جنگی حالات میں کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کایا پلٹ دیا کرتا ہے…
    واذکرو اللّٰہ کثیر لَّعلَّکُم تفلحون¤

    اسباب اختیار کر کے ان کے انجام کو مسب الاسباب پر چھوڑ دینا توکل اور یقین کا ہی حصہ ہے،جس سے ہمارے دین نے ہمیں منع نہیں فرمایا ہے بلکہ اس کی تاکید کی ہے…!!!
    احتیاطی تدابیر اپنانے کے بعدبیماریوں سے بچاؤ اللّٰہ تعالٰی کے سپرد کر دینا، اور اپنے ایمان،توحید اور توکل کی مضبوطی کے ساتھ اعمال کی درستگی اور اخلاق و آداب کی اصلاح پر توجہ آج کی اہم ترین ضرورت ہے_!!!

    مومن اسباب اختیار کر کے ان پر تکیہ نہیں کر بیٹھتا بلکہ ان کے مؤثر ہونے کے لیئے ان اسباب کے مالک کی طرف رجوع کرتا ہے کہ اس کے رحم کا ساتھ جسم میں روح کی طرح ضروری ہوتا ہے…
    اے ہمارے رب !!!
    ہم پکارتے ہیں:
    ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مَوْلٰنَا،اَنتَ مَوْلٰنَا،اَنتَ مَوْلٰنَا_واحفظنا مِمِّا نخافُ و نَحذر_!!!
    آمین ثم آمین…!!!

    ==========================🌻🌻🌻

    مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • دلوں کو مسخر کیسے کریں—-از—-حافظہ قندیل تبسم

    دلوں کو مسخر کیسے کریں—-از—-حافظہ قندیل تبسم

    "ہم نرمی ،افہام و تفہیم اور مناسب طرز عمل سے اپنا پسندیدہ ماحول پیدا کر سکتے اور اپنی بات منوا سکتے ہیں۔”

    لوگوں سے اچھے برتاؤ کی ترکیبیں استعمال کرنے کے حوالے سے آپ کی صلاحیت اس وقت دو چند ہو جائیں گی جب آپ کسی سے ایسا عمدہ معاملہ کریں گے کہ اسے احساس ہو وہ آپ کو سب سے زیادہ پیارا ہے۔ آپ کا دوسروں سے سلوک اس درجہ خوبصورت اور ہم آہنگ، انس و محبت اور تکریم سے بھر پور ہو کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں آپ کا ایسا شاندار تعلق ان کے سوا کسی اور سے نہیں۔

    ایسا ہی رویہ اپنے والدین، بیوی بچوں اور اپنے ہم چشموں کے ساتھ رہن سہن میں بھی اختیار کریں۔ جن افراد سے کبھی کبھی واسطہ پڑتا ہے ان کے ساتھ بھی آپ کا طرز عمل مثالی ہونا چاہیے۔

    ان سب لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہونا ممکن ہے کہ آپ انہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ایسا صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ آپ کو ان سے زیادہ پیار کسی اور سے نہیں۔

    ایسے طرز زندگی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۃ ہمارے سامنے ہے جو آدمی آپ کی سیرت کی ورق گردانی کرے گا اسے یہ تسلیم کر لینے میں تامل نہیں ہو گا کہ آپ اعلی اخلاقی روایات کے حامل تھے۔ آپ ہر ملنے والے کی عزت کرتے، اسے اہمیت دیتے، اسے ہم آہنگ ہوتے یا اسے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے اور ہر ایک سے نہایت خندہ روئی اور بشاشت سے پیش آتے۔جس کسی سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوتی تو وہ یہی سمجھتا کہ آپ اسے سب سے بڑھ کر چاہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ بھی آپ کو سب سے زیادہ چاہتا کیونکہ آپ اسے اپنی بے پناہ محبت کا احساس دلا دیتے تھے ۔

    "ہم بھی لوگوں کے ساتھ، وہ چاہے جیسے بھی ہوں اسی محبت سے پیش آئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کے دلوں کو مسخر نہ کر سکیں ۔”

    دلوں کو مسخر کیسے کریں
    حافظہ قندیل تبسم

  • بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار  تحریر: غنی محمود قصوری

    بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال 23 مارچ کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے سرکاری طور پر فوج کی جانب سے پریڈ کی جاتی ہے اور اس دن ہم یوم پاکستان مناتے ہیں مگر اس سال عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے یہ سارا کچھ کیوں ہے اس کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا
    یوں تو دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی بنیاد اسی دن ہی پڑ گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر راجہ داہر کے ظلم کے خلاف حملہ کیا تھا اور پھر اس کے بعد ہر آنے والے مسلمان جرنیل نے ہندو کی ٹھکائی کرکے دو قومی نظرئیے کو تقویت دی
    قیام پاکستان کا منصوبہ 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل کو پہنچا مگر اس پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے کامیاب بنانے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں
    انگریز و ہندو سے تنگ مسلمان نے مسلم لیگ اور اپنے مسلمان قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کیلئے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا
    علامہ علیہ رحمہ نے 1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انہیں مخاطب کرکے لکھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے
    اس پیغام کو جناب محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لئے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور ان کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزرا ممکن نہیں اور ہندو کیساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے اس لئے قیام پاکستان کیلئے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں
    مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22،اور 23 مارچ 1940 کو طے تھا جسے رکوانے کیلئے انگریز انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان اس جلسے کو نا کر سکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا سو 19 مارچ کو جزبہ آزادی سے سرشار مسلمانوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم تھے 21 مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا قائد اعطم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کیساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نا تھی قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظرئیے کو اجاگر کرنا تھا اس لئے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہذہ یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لئے الگ ملک پاکستان بنائینگے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کیساتھ زندگی بسر کر سکیں گے قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق بنگالی،چویدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا
    اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں ،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نا ہوا تھا مسلمانوں نے قائد اعظم زندہ باد،سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائینگے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں انگریز و ہندو کے سامنے سینہ سپر ہو گے اور اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر 14 اگست 1947 کو پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے
    آج ہمیں بھی پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے علامہ محمد اقبال،قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے کارکنان جیسا عزم چاہئیے تاکہ دو قومی نظرئیے اور پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا پر واضح ہو سکے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ

  • کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    تاریخِ انسانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انسانوں کا مختلف ادوار میں مختلف وباؤں،اور ارضی و سماوی آفات سے واسطہ پڑتا رہا ہے…
    قدرت کے ان مظاہر کے سامنے انسان بے بس بھی نظر آیا اور ہزاروں،لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ان بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہو گئے…

    آج کی جدید اور سائنس کی صدی میں بھی ان وباؤں اور آفات کے سامنے انسان اتنا ہی بے بس نظر آتا ہے جتنا پہلے تھا…
    ،حالیہ کرونا وائرس کی مثال ہی لیجیئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ہر طرف ایک ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات…
    انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کا کردار بھی سب سے ممتاز ہے۔

    سابقہ اقوام کے حالات کا ہی جائزہ لیا جائے تو وہ بھی انسان تھے مگر جب انسانیت سے تہی دست ہو گئے اور اللّٰہ تعالٰی اور اس کے بھیجے گئے انبیاء و رسل علیھم السلام کی تعلیمات سے یکسر انکار کر دیا تو ان کے حالات سے آگہی ہمیں قرآن اس انداز میں دیتا ہے کہ ہم نے انہیں کس انداز میں بے بس کر دیا کہ کسی پر تو چنگھاڑ بھیجی،کسی کو غرق کر دیا،کسی پر پتھر برسائے تو کسی کو گھن جیسے کیڑے کے آگے بے بس کر دیا
    ان کے کھانے پینے،اوڑھنے،بچھونے پر مینڈک ڈال دیئے،ٹڈیوں اور لہو کے عذاب سے دوچار اور بے چین و بے قرار ہو گئے…
    کسی پر آسمانی بجلی کی کڑک گری تو کئی زلزلوں سے ہلا دیئے گئے…

    غرض تاریخِ انسانی کی یہ ہلکی سی جھلک قرآن کریم کے آئینے میں ہمیں دکھائی دیتی ہے…
    پھر مختلف وبائی امراض میں انسانوں کی تنبیہہ اور آزمائش جاری رہی جو آج تک جاری ہے…

    تو جب ایسی صورتحال میں ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون جیسی بیماری کو اللّٰہ کا عذاب کہا ہے اور پھر ایسے حالات میں جو نیکو کار اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں تو ان کے لیئے شہید کا لفظ استعمال فرمایا…(صحیح بخاری ،کتاب الطب)۔

    وبائیں جب پھوٹ پڑتی ہیں تو ان کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے چنانچہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے نکلو نہیں اور جہاں پھیلا ہوا ہو وہاں جاؤ نہیں…(صحیح بخاری)۔

    تو ایسے حالات میں متاثرہ لوگوں کا علاج اور آئسولیشن کے اقدامات باقی افراد کی حفاظت کی خاطر کیئے جائیں تو اس پہ تنقید برائے تنقید کی ضرورت نہیں رہتی اور پھر اگر حکومت وقت اس سے بچاؤ کے اقدامات اٹھاتی ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کریں…

    اگر ہماری دعوتیں،پارٹیاں اور خوشی کے مواقع پر لمبی چوڑی رسومات کچھ وقت کے لیئے معطل ہو جاتی ہیں تو قومی مفاد و سلامتی کے لیئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے…
    اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش اگر پندرہ دن، ایک ماہ کے لیئے کر دی گئی ہے تو یہ بھی کوئی سنگین صورتحال نہیں ہے…!!!

    اور وہ لوگ جو کام کے بغیر بھی تنخواہ لے لیں گے ان کے لیئے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہے…
    آرام بھی اور دام بھی…

    ہاں ایسی صورتحال میں وہ طبقہ ضرور پستا ہے جو دیہاڑی دار ہے تو بحیثیت مسلمان قوم کے اہل خیر ایسے لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے ان کے نفسیاتی دباؤ میں کمی لا سکتے ہیں۔
    حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہم شوگر،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیئے احتیاط کرتے ہیں۔

    اگر ہم اس چیز پر عمل نہیں کرتے تو اس کی مشکلات کو بھی خود ہی فیس کرتے ہیں…
    ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل ہی دوا کا اثر دکھاتا ہے۔

    آپ سب جانتے ہیں کہ دوا تب ہی اثر انداز ہوتی ہے جب ڈاکٹر کے مشورے سے لی جائے اور پھر ان چیزوں سے پرہیز اور اجتناب بھی کیا جائے جو دوا کے اثرات میں رکاوٹ بنتی ہیں…
    اسی طرح مختلف میڈیا پلیٹ فارم بھی آگہی کے نام پر قوم میں نفسیاتی دباؤ،خوف اور ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے اُمید افزا انداز میں رائے عامہ ہموار کرتے رہیں۔

    ان تمام ظاہری تدابیر کے ساتھ ساتھ ہمیں توکل اور یقین کو بھی مستحکم کرنے کے ساتھ باطنی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے…
    بدیانتی،ظلم و زیادتی،نا انصافی،دھوکہ دہی،فحاشی و بے حیائی،ملاوٹ،جھوٹ،ناپ تول میں کمی،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخلاقی برائیوں کا سدباب کرنے اور اپنے معاملات درست کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "جب کسی قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے اور اعلانیہ اس کا ارتکاب کیا جانے لگتا ہے تو وہ طاعون اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نہ تھیں…”
    (ابن ماجہ)۔

    آج دنیا نت نئی بیماریوں کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟
    کہ اس نے خالق کائنات کے احکامات اور حدود سے تجاوز شروع کر دیا ہے…!!!
    حلال اور حرام کے رستوں کی پہچان مٹا دی ہے

    تو ایسے اعمال کی وجہ سے یہ انسان پھر بے بس کر دینے والی بلاؤں اور وباؤں کے حصار میں جکڑ لیا جاتا ہے…
    انفرادی اور اجتماعی طور پر کثرت استغفار اور نیکی کی طرف پلٹنے کا جذبہ ایمان پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم پر سے یہ مشکل گھڑیاں ٹل اور کٹ جائیں۔۔۔
    صبح و شام نبوی دعاؤں کا التزام کریں…!!!

    ہمارا رب ہمارے گناہوں سے درگزر فرما کر اپنی رحمت واسعہ سے ان وباؤں سے نجات دے دے کیونکہ قدرت افراد کی کوتاہیوں سے درگزر کر دیتی ہے مگر جب قومیں غلط راہوں کا انتخاب کرتی ہیں تو صفحۂ ہستی سے بھی مٹ جایا کرتی ہیں…!!!

    وباؤں کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں…
    بلاؤں کی زد میں گھِر جاتی اور آفات کے سامنے بے بس ہو جایا کرتی ہیں…

    اللّٰہ ہمیں اپنے عذاب سے وہ جس صورت میں بھی ہو اپنی مہربان پناہوں میں لے لے، اور ہم سے راضی ہو جائے ایسی رضا جس کے بعد ناراضگی نہ ہو اور ہم سے ایسے اعمال حسنہ سرزد ہوں جن کے بعد برائیوں کے سمندر نہ اُبلنے پائیں…آمین__!!!
    کہ قدرت کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف…

    ہمیں اجتماعی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے…
    کہ جس نے یہ جسم و جاں عطا کیئے ہیں اسی کی مرضی کے تابع ہو کر ہم جسمانی و روحانی طور پر برکت،عافیت اور رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں

    یہی اس کا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں__!!!
    اَللّٰھُمَّ احفظنا مِمَّا نخاف وَ نحذر__!!!آمین یا ارحم الراحمین…!!!

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • کورونا وائرس اور ہمارے رویے—از–نعمان علی ہاشم

    کورونا وائرس اور ہمارے رویے—از–نعمان علی ہاشم

    .اگر آپ بھوک سے مرنے والے ہیں اور حلال اشیاء میں سے کچھ بھی دستیاب نہیں. تو آپ اتنی مقدار اور اتنے ٹائم تک کوئی بھی دستیاب حرام کھا سکتے ہیں جس سے آپ کی جان بچ سکے.
    یہ شریعت کا حکم ہے. اور اس پر عمل نہ کرنا خود پر ظلم کے مترادف ہے. ایسی صورتحال میں آپ پر حرام کی پکڑ بالکل نہیں ہے. سو اتنا حرام کھا لیں جتنا آپکی ضرورت ہے.
    .

    آپ کسی ایسی بستی کے باسی ہیں جہاں جابر حکمران ہے. اور وہ آپ سے کفر کے ارتکاب کا مطالبہ کرتا ہے. اور آپ یہ سمجھیں کہ اگر میں حق پر ڈٹا رہا تو مارا جاؤں گا. اور میرے مارے جانے کے بعد شاید یہاں دین کا نام لینے والا کوئی نہ رہے. تو جان کو بچانے کے لیے کفر بکا جا سکتا ہے. اس پر اللہ نے پکڑ نہیں رکھی.
    .

    اگر آپ کسی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں. اور کسی حرام چیز سے ہی اس کا علاج ممکن ہے. اس کے علاوہ کوئی حلال وسیلہ نظر میں نہیں. یا ایفورڈ ایبل نہیں تو آپ علاج کی غرض سے کوئی بھی حرام چیز لے سکتے ہیں. تب تک جب تک آپ مرض سے شفاء نہیں پاتے. یا کوئی حلال دوائی میسر نہیں آ جاتی. اس پر اللہ نے کوئی پکڑ نہیں رکھی.
    .

    مذکورہ بالا تمام باتوں پر امت کے تمام گروہ مسالک اور آئمہ میں اتفاق ہے. یعنی کہ یہ ہر لحاظ سے انڈرسٹوڈ مسئلہ ہے.
    .

    اللہ انسان کی مجبوریوں سے سب سے زیادہ واقف ہے…. اسے اپنے بندے کو سختی میں ڈالنے کا شوق نہیں ہے.. اللہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے.
    .

    قرآن کا فرمان ہے. ایک انسان کی جان بچانا انسانیت کو بچانا ہے.

    حدیث میں آتا ہے کہ ایک مسلمان کی حرمت بیت اللہ سے زیادہ ہے.
    .
    اوپر والی تمام باتوں کو زہن و دل میں نقش کریں اور یہ عہد کریں کہ اپنے حکام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے
    بیماری کا پھیلنا اللہ کی تقدیر سے ہے. اور اس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنا بھی اللہ کی تقدیر ہے.

    اگر کسی ایک انسان کی جان بچانے کے لیے آپکے حکام اجتماع پر پابندی لگا رہے ہیں تو اس سے ہر ممکن پرہیز کریں. اول تو یہی بات احسن ہے. اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو اطمینان رکھیں اس سب کا آپکو گناہ نہیں ہوگا. اگر یہ سب غلط بھی ہوا تو اس کا گناہ حکام کے سر ہوگا یا ان کی کھلے عام حمایت کرنے والوں کے سر.

    اگر کچھ دن تک لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو براہ کرم گھروں میں ٹھہرے رہیں.
    نماز گھر کے اندر ادا کریں. گھر کے کسی ایک فرد کو امام مقرر کرکے جماعت کر لیں.

    یاد رکھیں شدید بارش اور سردی میں رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے گھروں میں نماز ادا کرنے کی رخصت دی ہے. اور موزن کو اضافی الفاظ بھی سکھائے ہیں. "” صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ””
    دیکھ رہا ہوں کل سے کچھ لوگ بیت اللہ میں طواف کی بندش اور گھروں میں نماز ادا کرنے اعلان کو صریحاً کفر کہہ رہے ہیں.

    اگر مجبوراً گھروں میں نماز پڑھنا جائز نہیں تو یہ لوگ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم پر بھی معاذاللہ فتوٰی لگائیں گے؟ . کیونکہ مجبوری میں گھر پر نماز پڑھنے کی دلیل رسول اللہ خود دے کر گئے ہیں.؟
    مزید یہ ہے کہ:

    زخیرہ اندوزی نہ کریں.
    میل ملاقات اور دیگر سرگرمیاں بھی معطل کر دیں.

    اگر بیت اللہ کا طواف رک سکتا ہے. گھر میں نماز ادا ہو سکتی ہے تو باقی تمام معاملات کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے.
    جسم و لباس کی صفائی کا خیال رکھیں.

    گھر میں جراثیم کش سپرے کریں.
    ضروری نقل و حمل بھی اپنے آپ کو ڈھانپ کر کریں.
    اللہ سے استغفار کریں.

    صبح و شام کے اذکار کو لازم پکڑیں.
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

    والسلام
    نعمان علی ہاشم
    #نعمانیات

  • کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    گزشتہ سال چائنہ سے شروع ہونے والا کرونا وائرس دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں 370 کے قریب شہری اس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے چار کامیاب علاج کے بعد اپنے گھر جا چکے ہیں جبکہ دو افراد کے لیے یہ وائرس جان لیوا ثابت ہوا ہے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری کی ذمہ داریاں کیا ہو سکتی ہیں؟ میں پاکستانی شہریوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لینا ہو گا ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شئیر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دشمن کرونا وائرس پر بھی گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کرونا وائرس ذیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ 20 بار ہاتھ دھوئیں اور ہر بار 20 سیکنڈ کا دورانیہ ہو۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں ۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔ یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کر کے ہم اپنے آپ اور خاندان کو کرونا وائرس سے بچا سکتے ہیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے آپ کا یہ عمل آپ کے ذمہ دار ہونے اور پاکستان کو کرونا سے ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس دوران اگر کوئی شخص جس میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبر پر اطلاع دی جائے۔ آخر میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کریں گے اور کرونا وائرس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی گھنائونی چال کو بھی ناکام بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان ذندہ باد