Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ

  • کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    تاریخِ انسانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انسانوں کا مختلف ادوار میں مختلف وباؤں،اور ارضی و سماوی آفات سے واسطہ پڑتا رہا ہے…
    قدرت کے ان مظاہر کے سامنے انسان بے بس بھی نظر آیا اور ہزاروں،لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ان بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہو گئے…

    آج کی جدید اور سائنس کی صدی میں بھی ان وباؤں اور آفات کے سامنے انسان اتنا ہی بے بس نظر آتا ہے جتنا پہلے تھا…
    ،حالیہ کرونا وائرس کی مثال ہی لیجیئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ہر طرف ایک ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات…
    انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کا کردار بھی سب سے ممتاز ہے۔

    سابقہ اقوام کے حالات کا ہی جائزہ لیا جائے تو وہ بھی انسان تھے مگر جب انسانیت سے تہی دست ہو گئے اور اللّٰہ تعالٰی اور اس کے بھیجے گئے انبیاء و رسل علیھم السلام کی تعلیمات سے یکسر انکار کر دیا تو ان کے حالات سے آگہی ہمیں قرآن اس انداز میں دیتا ہے کہ ہم نے انہیں کس انداز میں بے بس کر دیا کہ کسی پر تو چنگھاڑ بھیجی،کسی کو غرق کر دیا،کسی پر پتھر برسائے تو کسی کو گھن جیسے کیڑے کے آگے بے بس کر دیا
    ان کے کھانے پینے،اوڑھنے،بچھونے پر مینڈک ڈال دیئے،ٹڈیوں اور لہو کے عذاب سے دوچار اور بے چین و بے قرار ہو گئے…
    کسی پر آسمانی بجلی کی کڑک گری تو کئی زلزلوں سے ہلا دیئے گئے…

    غرض تاریخِ انسانی کی یہ ہلکی سی جھلک قرآن کریم کے آئینے میں ہمیں دکھائی دیتی ہے…
    پھر مختلف وبائی امراض میں انسانوں کی تنبیہہ اور آزمائش جاری رہی جو آج تک جاری ہے…

    تو جب ایسی صورتحال میں ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون جیسی بیماری کو اللّٰہ کا عذاب کہا ہے اور پھر ایسے حالات میں جو نیکو کار اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں تو ان کے لیئے شہید کا لفظ استعمال فرمایا…(صحیح بخاری ،کتاب الطب)۔

    وبائیں جب پھوٹ پڑتی ہیں تو ان کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے چنانچہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے نکلو نہیں اور جہاں پھیلا ہوا ہو وہاں جاؤ نہیں…(صحیح بخاری)۔

    تو ایسے حالات میں متاثرہ لوگوں کا علاج اور آئسولیشن کے اقدامات باقی افراد کی حفاظت کی خاطر کیئے جائیں تو اس پہ تنقید برائے تنقید کی ضرورت نہیں رہتی اور پھر اگر حکومت وقت اس سے بچاؤ کے اقدامات اٹھاتی ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کریں…

    اگر ہماری دعوتیں،پارٹیاں اور خوشی کے مواقع پر لمبی چوڑی رسومات کچھ وقت کے لیئے معطل ہو جاتی ہیں تو قومی مفاد و سلامتی کے لیئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے…
    اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش اگر پندرہ دن، ایک ماہ کے لیئے کر دی گئی ہے تو یہ بھی کوئی سنگین صورتحال نہیں ہے…!!!

    اور وہ لوگ جو کام کے بغیر بھی تنخواہ لے لیں گے ان کے لیئے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہے…
    آرام بھی اور دام بھی…

    ہاں ایسی صورتحال میں وہ طبقہ ضرور پستا ہے جو دیہاڑی دار ہے تو بحیثیت مسلمان قوم کے اہل خیر ایسے لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے ان کے نفسیاتی دباؤ میں کمی لا سکتے ہیں۔
    حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہم شوگر،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیئے احتیاط کرتے ہیں۔

    اگر ہم اس چیز پر عمل نہیں کرتے تو اس کی مشکلات کو بھی خود ہی فیس کرتے ہیں…
    ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل ہی دوا کا اثر دکھاتا ہے۔

    آپ سب جانتے ہیں کہ دوا تب ہی اثر انداز ہوتی ہے جب ڈاکٹر کے مشورے سے لی جائے اور پھر ان چیزوں سے پرہیز اور اجتناب بھی کیا جائے جو دوا کے اثرات میں رکاوٹ بنتی ہیں…
    اسی طرح مختلف میڈیا پلیٹ فارم بھی آگہی کے نام پر قوم میں نفسیاتی دباؤ،خوف اور ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے اُمید افزا انداز میں رائے عامہ ہموار کرتے رہیں۔

    ان تمام ظاہری تدابیر کے ساتھ ساتھ ہمیں توکل اور یقین کو بھی مستحکم کرنے کے ساتھ باطنی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے…
    بدیانتی،ظلم و زیادتی،نا انصافی،دھوکہ دہی،فحاشی و بے حیائی،ملاوٹ،جھوٹ،ناپ تول میں کمی،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخلاقی برائیوں کا سدباب کرنے اور اپنے معاملات درست کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "جب کسی قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے اور اعلانیہ اس کا ارتکاب کیا جانے لگتا ہے تو وہ طاعون اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نہ تھیں…”
    (ابن ماجہ)۔

    آج دنیا نت نئی بیماریوں کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟
    کہ اس نے خالق کائنات کے احکامات اور حدود سے تجاوز شروع کر دیا ہے…!!!
    حلال اور حرام کے رستوں کی پہچان مٹا دی ہے

    تو ایسے اعمال کی وجہ سے یہ انسان پھر بے بس کر دینے والی بلاؤں اور وباؤں کے حصار میں جکڑ لیا جاتا ہے…
    انفرادی اور اجتماعی طور پر کثرت استغفار اور نیکی کی طرف پلٹنے کا جذبہ ایمان پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم پر سے یہ مشکل گھڑیاں ٹل اور کٹ جائیں۔۔۔
    صبح و شام نبوی دعاؤں کا التزام کریں…!!!

    ہمارا رب ہمارے گناہوں سے درگزر فرما کر اپنی رحمت واسعہ سے ان وباؤں سے نجات دے دے کیونکہ قدرت افراد کی کوتاہیوں سے درگزر کر دیتی ہے مگر جب قومیں غلط راہوں کا انتخاب کرتی ہیں تو صفحۂ ہستی سے بھی مٹ جایا کرتی ہیں…!!!

    وباؤں کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں…
    بلاؤں کی زد میں گھِر جاتی اور آفات کے سامنے بے بس ہو جایا کرتی ہیں…

    اللّٰہ ہمیں اپنے عذاب سے وہ جس صورت میں بھی ہو اپنی مہربان پناہوں میں لے لے، اور ہم سے راضی ہو جائے ایسی رضا جس کے بعد ناراضگی نہ ہو اور ہم سے ایسے اعمال حسنہ سرزد ہوں جن کے بعد برائیوں کے سمندر نہ اُبلنے پائیں…آمین__!!!
    کہ قدرت کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف…

    ہمیں اجتماعی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے…
    کہ جس نے یہ جسم و جاں عطا کیئے ہیں اسی کی مرضی کے تابع ہو کر ہم جسمانی و روحانی طور پر برکت،عافیت اور رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں

    یہی اس کا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں__!!!
    اَللّٰھُمَّ احفظنا مِمَّا نخاف وَ نحذر__!!!آمین یا ارحم الراحمین…!!!

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • کورونا وائرس اور ہمارے رویے—از–نعمان علی ہاشم

    کورونا وائرس اور ہمارے رویے—از–نعمان علی ہاشم

    .اگر آپ بھوک سے مرنے والے ہیں اور حلال اشیاء میں سے کچھ بھی دستیاب نہیں. تو آپ اتنی مقدار اور اتنے ٹائم تک کوئی بھی دستیاب حرام کھا سکتے ہیں جس سے آپ کی جان بچ سکے.
    یہ شریعت کا حکم ہے. اور اس پر عمل نہ کرنا خود پر ظلم کے مترادف ہے. ایسی صورتحال میں آپ پر حرام کی پکڑ بالکل نہیں ہے. سو اتنا حرام کھا لیں جتنا آپکی ضرورت ہے.
    .

    آپ کسی ایسی بستی کے باسی ہیں جہاں جابر حکمران ہے. اور وہ آپ سے کفر کے ارتکاب کا مطالبہ کرتا ہے. اور آپ یہ سمجھیں کہ اگر میں حق پر ڈٹا رہا تو مارا جاؤں گا. اور میرے مارے جانے کے بعد شاید یہاں دین کا نام لینے والا کوئی نہ رہے. تو جان کو بچانے کے لیے کفر بکا جا سکتا ہے. اس پر اللہ نے پکڑ نہیں رکھی.
    .

    اگر آپ کسی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں. اور کسی حرام چیز سے ہی اس کا علاج ممکن ہے. اس کے علاوہ کوئی حلال وسیلہ نظر میں نہیں. یا ایفورڈ ایبل نہیں تو آپ علاج کی غرض سے کوئی بھی حرام چیز لے سکتے ہیں. تب تک جب تک آپ مرض سے شفاء نہیں پاتے. یا کوئی حلال دوائی میسر نہیں آ جاتی. اس پر اللہ نے کوئی پکڑ نہیں رکھی.
    .

    مذکورہ بالا تمام باتوں پر امت کے تمام گروہ مسالک اور آئمہ میں اتفاق ہے. یعنی کہ یہ ہر لحاظ سے انڈرسٹوڈ مسئلہ ہے.
    .

    اللہ انسان کی مجبوریوں سے سب سے زیادہ واقف ہے…. اسے اپنے بندے کو سختی میں ڈالنے کا شوق نہیں ہے.. اللہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے.
    .

    قرآن کا فرمان ہے. ایک انسان کی جان بچانا انسانیت کو بچانا ہے.

    حدیث میں آتا ہے کہ ایک مسلمان کی حرمت بیت اللہ سے زیادہ ہے.
    .
    اوپر والی تمام باتوں کو زہن و دل میں نقش کریں اور یہ عہد کریں کہ اپنے حکام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے
    بیماری کا پھیلنا اللہ کی تقدیر سے ہے. اور اس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنا بھی اللہ کی تقدیر ہے.

    اگر کسی ایک انسان کی جان بچانے کے لیے آپکے حکام اجتماع پر پابندی لگا رہے ہیں تو اس سے ہر ممکن پرہیز کریں. اول تو یہی بات احسن ہے. اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو اطمینان رکھیں اس سب کا آپکو گناہ نہیں ہوگا. اگر یہ سب غلط بھی ہوا تو اس کا گناہ حکام کے سر ہوگا یا ان کی کھلے عام حمایت کرنے والوں کے سر.

    اگر کچھ دن تک لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو براہ کرم گھروں میں ٹھہرے رہیں.
    نماز گھر کے اندر ادا کریں. گھر کے کسی ایک فرد کو امام مقرر کرکے جماعت کر لیں.

    یاد رکھیں شدید بارش اور سردی میں رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے گھروں میں نماز ادا کرنے کی رخصت دی ہے. اور موزن کو اضافی الفاظ بھی سکھائے ہیں. "” صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ””
    دیکھ رہا ہوں کل سے کچھ لوگ بیت اللہ میں طواف کی بندش اور گھروں میں نماز ادا کرنے اعلان کو صریحاً کفر کہہ رہے ہیں.

    اگر مجبوراً گھروں میں نماز پڑھنا جائز نہیں تو یہ لوگ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم پر بھی معاذاللہ فتوٰی لگائیں گے؟ . کیونکہ مجبوری میں گھر پر نماز پڑھنے کی دلیل رسول اللہ خود دے کر گئے ہیں.؟
    مزید یہ ہے کہ:

    زخیرہ اندوزی نہ کریں.
    میل ملاقات اور دیگر سرگرمیاں بھی معطل کر دیں.

    اگر بیت اللہ کا طواف رک سکتا ہے. گھر میں نماز ادا ہو سکتی ہے تو باقی تمام معاملات کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے.
    جسم و لباس کی صفائی کا خیال رکھیں.

    گھر میں جراثیم کش سپرے کریں.
    ضروری نقل و حمل بھی اپنے آپ کو ڈھانپ کر کریں.
    اللہ سے استغفار کریں.

    صبح و شام کے اذکار کو لازم پکڑیں.
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

    والسلام
    نعمان علی ہاشم
    #نعمانیات

  • کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    گزشتہ سال چائنہ سے شروع ہونے والا کرونا وائرس دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں 370 کے قریب شہری اس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے چار کامیاب علاج کے بعد اپنے گھر جا چکے ہیں جبکہ دو افراد کے لیے یہ وائرس جان لیوا ثابت ہوا ہے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری کی ذمہ داریاں کیا ہو سکتی ہیں؟ میں پاکستانی شہریوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لینا ہو گا ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شئیر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دشمن کرونا وائرس پر بھی گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کرونا وائرس ذیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ 20 بار ہاتھ دھوئیں اور ہر بار 20 سیکنڈ کا دورانیہ ہو۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں ۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔ یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کر کے ہم اپنے آپ اور خاندان کو کرونا وائرس سے بچا سکتے ہیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے آپ کا یہ عمل آپ کے ذمہ دار ہونے اور پاکستان کو کرونا سے ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس دوران اگر کوئی شخص جس میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبر پر اطلاع دی جائے۔ آخر میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کریں گے اور کرونا وائرس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی گھنائونی چال کو بھی ناکام بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان ذندہ باد

  • بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم

    بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم

    ایک صاحب فنِ مکالمہ پر لیکچر دے رہے تھے اس سلسلے میں انہوں نے یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جب وہ قرآن کی اس آیت پر پہنچے
    وَدَخَلَ مَعَہُ السْجْنَ فَتَیٰنِ
    "اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے۔”
    تو انہوں نے حاضرین کو بغور دیکھا ،پھر ان سے دریافت کیا :
    ,,اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے ؟ ان تینوں میں سے کون پہلے داخل ہوا ؟
    یوسف یا دونوں نوجوان ؟
    ایک پکارا:
    "یوسف علیہ السلام”
    دوسرے نے کہا :
    "نہیں دونوں جوان”
    تیسرا بولا :
    "نہیں ،نہیں، یوسف، یوسف”
    چوتھے نے ذرا ہوشیار بننے کی کوشش کی :
    "وہ اکٹھے داخل ہوئے تھے”
    پھر پانچواں بولا اور ایک شور بپا ہو گیا اصل بات کہیں غائب ہو گئی لیکچرار صاحب یہی چاہتے تھے انھوں نے حاضرین کے چہروں کو غور سے دیکھااور مسکرائے، پھر انہیں خاموش ہو جانے کا اشارہ کیا اور کہنے لگے :
    "آخر مشکل کیا ہے؟ یوسف علیہ السلام پہلے داخل ہوئے ہوں یا دونوں نوجوان ، بات ایک ہی ہے کیا یہ مسئلہ اتنے اختلاف اور بحث و تکرار کا مستحق ہے ؟”
    واقعی بسا اوقات ہم لوگ خواہ مخواہ دوسروں کی باتیں کاٹ کر اعتراض کرتے اور ساری بات کا مزہ کرکرا دیتے ہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کی حقیقت سمجھے بغیر اس پر اعتراض جڑ دیتے ہیں اور صبر یا انتظار کرنے کا تکلف نہیں کرتے
    اللہ تعالی نے سچ فرمایا :
    (وَکَانَ الْاِنْسِانُ عَجُوْلاً )
    "اور انسان جلد باز واقع ہوا ہے”

    بحث و تکرار
    حافظہ قندیل تبسم

  • کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی

    کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی

    کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے آج عالمی میڈیا بھی اسلام کے دیئے ہوئے زیریں اصولوں کی تعریف کررہا ہے، اسلامی اصولوں کو ہی دنیا بھر میں جہاں جہاں کرونا وائرس پھیلا ہے، اپنایا گیا ہے، اسلام نے آج سے 14 سو سال پہلے ایسی وباء پھیلنے کے بارے میں بتایا کہ یہ کسی ایک آدمی سے دوسری آدمی میں منتقل ہوسکتی ہے پھیل سکتی ہے۔

    صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ایک مقام پر آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے ۔تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیرالمومنین میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "کے جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کے وقت وہاں وباءپھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہوں جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کے لئے مت بھاگو”۔

    ایک اور صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے کہ کوڑسے متاثرہ شخص سے اس طرح بھاگو کہ جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو۔ اب آئیے دوسری جانب جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ وباء نہیں پھیلتی کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” لا عدویٰ ولا طیرة” اس لاعدوی کی حقیقت یہ ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان فرمایا اس وقت زمانہ جاہلیت میں لوگ بیماری کو بیماری کی ذات کی وجہ سے متعدد تصور کرتے تھے نہ کہ اللہ تعالی کی قدرت و منشا کی وجہ سے ۔

    مثال کے طور پر ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کو خارش پڑ گئی ہے ۔اور یہ ایک اونٹ ا سے دوسرے اونٹ میں پھیلی ہے ۔اور زمانہ جاہلیت میں ان کا تصور یہ تھا کہ یہ بیماری ایک اونٹ سے دوسرے اونٹ میں بذات خود منتقل ہوئی ہے یعنی اس نے اللہ تعالی کی مشیت و منشا نہیں ہے ۔تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ پہلے کو کس طرح بیماری لگی ہے ۔ یہ جولا عدوی والی حدیث مبارکہ ہے اس ساری حدیث مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ مشیت باری تعالی اور اللہ کی قدرت کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسن کو لگتی ہے ۔

    یہ بیماری بذات خود بدلتی ہے ۔اس میں اللہ تعالی کی کوئی قدرت نہیں ہے ۔ اور یہ اوپر والی تمام احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلام بابا کے پھیلنے کو تسلیم کرتا ہے ۔ آج جو پوری دنیا میں یہ مسئلہ بنا ہوا ہے کرونا وائرس کے متعلق اس کے لئے بھی اختیاطی تدابیر وہی ہے جو میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف والی روایت ذکر کی ہے ۔آج پوری دنیا میں احتیاطی تدابیر وہی استعمال کی جارہی ہیں۔ اہل پاکستان کو بھی چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی وبا کے بچاو کیلئے اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ جذباتی باتوں کے بجائے حکومت کے دئیے گئے لائحہ عمل پر عمل کریں۔

    کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات
    تحریر : عثمان علی

  • اقبال کا مرد مومن۔۔۔ سید عتیق الرحمن  تحریر:  رضی طاہر

    اقبال کا مرد مومن۔۔۔ سید عتیق الرحمن تحریر: رضی طاہر

    دور حاضر میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ ملا کی دوڑ مسجد تک، اس کی مشہوری میں جہاں ہماری سوسائٹی کا منفی رویہ ہے وہیں ہمارے ملاؤں کا منفی کردار بھی شامل ہے، تاریخ دیکھیں تو مساجد کمیونٹی سنٹرز ہوا کرتیں تھیں جہاں صرف صوم وصلوۃ نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوا کرتے تھے

    مگر اب علماء نے دین متین کو اپنے اپنے دائرے میں بند کرکے اپنی دوڑ محدود کرلی ہے، ایسے وقت میں بھی کچھ علمائے کرام ایسے ہیں جن کا کردار مثالی ہے، میں عمومی طور پر بائیوگرافی لکھنے کا ماہر نہیں مگر گزشتہ دنوں ایک نوجوان سے ہونی والی ملاقات نے اس سے متعلق لکھنے پر مجبور کیا، میری مراد گجرات کے نواحی گاؤں بوکن موڑ کے ایک حافظ قرآن اور نوجوان سکالر سید عتیق الرحمن ہیں۔

    انہوں نے گجرات کے نواحی گاؤں بوکن شریف میں 14مارچ 1988میں ایک روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی، آپ کے والد محترم سید زاہد صدیق شاہ بخاری کا شمار دور حاضر کے عظیم مذہبی مدرسین میں ہوتا ہے، 40سال سے وہ اسی علاقے میں فیضان علم کے چشمے بہارہے ہیں۔ جبکہ آپ کے دادا جی حکیم سید محمد سعید بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے وقت کے ایک کامل ولی ہو گزرے ہیں،

    روحانی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے ساتھ ساتھ ان کا سلسلہ ایک اور عظیم روحانی در سے جڑتا ہے، ان کے والد محترم جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کے ارادت مند ہیں، جبکہ سید عتیق الرحمن پیر کرم شاہ کے سجادہ نشین پیر امین الحسنات شاہ کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں،

    یہی وجہ ہے کہ آپ کی دینی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوگیا، جبکہ اپنے ہی گاوں کے ایک سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعدازاں میٹرک اور ایف اے گوجرانوالہ بورڈ سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا، اور گجرات یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔

    یونیورسٹی آف سرگودھا سے آپ نے پہلے اردو میں ماسٹرز کیا، پھر انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی، آپ کی تعلیمی پیاس ختم نہ ہوئی تو قانون کے میدان میں آکودے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، جبکہ ایل ایل ایم جاری ہے۔

    دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سید عتیق الرحمن کی دینی پیاس میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا رہا، اپنے بچپن میں ہی حفظ قرآن مجید کی دولت سے مالامال ہوئے، حفظ میں ان کے استاد قاری محمد لطیف رہے جن کا تذکرہ آج بھی وہ محبت سے کرتے ہیں جبکہ اپنے ہی والد محترم کے جامعہ محمدیہ غوثیہ بوکن شریف سے یہ سعادت حاصل کی، جامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے درس نظامی اور دورہ حدیث مکمل کیا۔

    سید عتیق الرحمن کا یہ22سالہ تعلیمی کیرئیر اپنی مثال آپ ہے، پہلی جماعت سے لے کر ایل ایل ایم تک اور یسرنا قرآن کے پارے سے لے کر دورہ حدیث اور درس نظامی تک آپ دینی و دنیوی تعلیم کے حسین امتزاج میں پلے بڑھے، مستقبل میں پی ایچ ڈی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔اپنے تعلیمی سفر کے دوران اللہ کریم نے انہیں فن خطابت میں بھی ملکہ عطا کررکھی ہے،

    زمانہ طالب علمی میں دو دفعہ پنجاب بھر کے تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، کھیلوں میں فٹ بال سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ گو کہ تعلیمی سفر ابھی جاری ہے مگر عملی میدان میں بھی سید عتیق الرحمن نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنا شروع کردیئے ہیں، بحثیت ایجوکیشنسٹ انہیں اپنے والد محترم نے اپنے ادارے کے وائس پرنسپل کی ذمہ داری دے رکھی ہے، جبکہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے سکول سسٹم ڈائریکشن سکولز کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ ہیں،

    اس ذمہ داری پر ابھی انہیں مختصر عرصہ ہی ہوا ہے مگر انہوں نے اس نیٹ ورک کی جڑیں پاکستان کے کونے کونے میں پھیلائی ہیں اور اسلام آباد اور گجرات کے گردو نواح میں اپنے ذاتی پرائیویٹ سکول بھی چلاتے ہیں،ساتھ ساتھ HATگروپس آف کمپنیز کے ایم ڈی ہیں اور کاروان حسنات و برکات پرائیویٹ لمیٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جس نے انتہائی کم عرصے میں اس میدان میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ اب اس کا شمار ٹاپ500میں ہوتا ہے۔

    گجرات چیمبر آف کامرس نے سید عتیق الرحمن کو Emergingبزنس مین برائے سال2019کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ خطابت کے ساتھ اب کتابت کی طرف بھی رخت سفر باندھ چکے ہیں، ان کی پہلی کتاب منزل اور مقصد چھپنے کیلئے تیار ہے، سید عتیق الرحمن مستقبل قریب میں اسلام کی عالمگیر کی خدمت کا ارادہ رکھتے ہیں،اس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کررکھا ہے،

    بلاشبہ اللہ کریم نے ان پر خصوصی کرم کررکھا ہے جس کی بدولت محض31سال کی عمر میں انہیں تاریخ ساز کامیابیاں ملیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تحریر محض ملاقات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان تمام کامیابیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد تحریر کیا ہے، یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ سید عتیق الرحمن حقیقی طور پر اقبال کے مرد مومن کی تعریف پر پورا اترتے ہیں،

    مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کام کیونکہ عام نہیں ہے، اسلئے ان کا نام بھی عام نہیں رہے گا، کیونکہ جو نوجوان ستاروں میں کمند ڈالنے کا فیصلہ کرلیں اور شکوہ ظلمت شب کے بجائے اندھیروں میں دیپ جلانے کی کوششیں شروع کردیں، وہ عام نہیں رہتے بلکہ خاص ہوجاتے ہیں۔

  • اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ محمد وسیم ریسرچ سکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی

    اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ محمد وسیم ریسرچ سکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی

    اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کے لئے دنیا کا سب سے اچّھا نظام دیا ہے، اِس لئے ہمیں کافروں اور مشرکوں کے تہواروں، رسم و رواج اور مذہبی خوشیوں میں نہ تو شریک ہو کر اُس کا حصّہ بنیں اور نہ ہی کسی بھی طرح سے اُن کے رسم و رواج کا حصّہ بنیں، آپ صلّٰی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ اگر کسی مسلمان نے کسی دوسرے قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ مسلمان اُسی قوم میں سے ہو جاتا ہے

    آج ہولی کا دن ہے، بہت سے مسلمان ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے آج ہولی کھیلیں گے، Secular بننے اور دِکھانے کے لئے ہولی کے تہوار میں مکمّل طور پر شریک ہوں گے، ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ اِس وقت ہم ہندوستانی مسلمان کالا قانون سے انتہائی پریشان ہیں،

    کالے قانون کے خلاف احتجاج کے دوران درجنوں لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں، میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی..؟؟

    یہ بات یاد رکھیں کہ مسلمان سے کُفار و مشرکین اُس وقت خوش ہوں گے جب مسلمان اسلام چھوڑ کر کافر بن جائیں، اِس لئے اللہ کے واسطے کافروں اور مشرکوں کو خوش کرنے کے لئے ہولی اور دوسرے تہواروں میں شریک ہو کر اُن کے تہواروں کا حصّہ نہ بنیں، بلکہ ہم اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے مُثبت کوششیں کریں، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور ہم کوئی بھی ایسا کام ہرگز نہ کریں کہ جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق  تحریر: غنی محمود قصوری

    عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و پاکستان کو لبرل بے دین لوگ بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر ہر بار ان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس سال عالمی یوم خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں چند حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی علمبردار عورتوں نے عورت مارچ کا اعلان کیا ہے جو کہ اس سے قبل بھی ہو چکا ہے اس عورت مارچ کو پہلے پاکستان کی عدالت نے روکا تھا پھر اچانک غیر مشروط طور پر یہ کہتے ہوئے اجازت دے دی گئی کہ ہر کسی کو تنظیم سازی کا حق ہے لہذہ عورتیں مارچ کریں مگر اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں حالانکہ اس سے قبل ہوئے عورت مارچ میں اہلیان پاکستان کیساتھ پوری دنیا نے بھی دیکھا کہ کسطرح عورت مارچ کے نام پر بد تہذیبی بد اخلاقی اور بے شرمی کی گئی ان 3 درجن سے زائد مطلقہ آزاد خیال اور دین سے بے زار عورتوں نے جن میں سے سرفہرست ماروی سرمد نامی تجزیہ کار ہے ،کے زیر سایہ عورت مارچ میں عورتوں نے ایسے گندے بے حیائی پر مبنی پوسٹرز پکڑ رکھے تھے جن پر عورتوں کے مخصوص ایام کی تشریح،عورتوں پر تشدد و تیزاب گردی کی روک تھام،اگر مجھے مارو گے تو مار کھاءو گے،میری شادی نہیں آزادی کی فکر کرو،میں ماں ،بہن ہوں گالی نہیں، ساڈا حق ایتھے رکھ اور میری نسبت میری والدہ سے ہونی چایئے جیسے نعرے درج تھے
    پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا ملک ہے اور آئین پاکستان میں جہاں مردوں کو حقوق دیئے گئے ہیں وہاں عورتوں کو بھی حقوق فراہم کئے گئے ہیں جن کی واضع مثال ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کی نمائندگی بکثرت دیکھی جا سکتی ہے یہی نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی 3 بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک سفارتکاری میں بھی عورتیں ہیں ایک عام گھریلوں خاتون سے لے کر وزیراعظم تک کے حقوق عورتوں کو دیئے گئے ہیں مگر پھر بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان نام نہاد روشن خیال عورتوں کو کیا مسئلہ ہے جو آئے دن اپنے حقوق کا رونا روتی ہیں حالانکہ سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا خیال اسلام نے رکھا ہے
    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی ذیشان نے فرمایا
    اور اگر وہ فرمانبرداری کریں تو ان پر (کسی قسم کی) زیادتی کا تمہیں کوئی حق نہیں
    مذید میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر تشدد روکتے ہوئے فرمایا
    تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔ مسند احمد 7119
    اس حدیث سے ثابت ہوا آقا کریم نے عورتوں پر بے جا تشدد کی ممانعت کی ہے اور ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا ہے یہی نہیں عورت کو حق خلع دیتے ہوئے مذید اس کی شان کو بلند کیا گیا ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کی جعلی علمبردار بھول گئیں کہ اسلام سے قبل لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے پھر میرے نبی رحمت تشریف لائے اور معصوم کلیوں کے محافظ بن گئے جس قدر اسلام نے عورت کے حقوق کا خیال رکھا دنیا میں اتنا خیال کسی مذہب نے نہیں رکھا اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دلوایا اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران جنگ بچوں بوڑھوں کیساتھ عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ایک طرف قبل از اسلام عورت کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا تھا تو دوسری طرف نبی ذیشان نے دوران جنگ بھی عورت کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہم اگر اسلام کا مطالعہ کریں تو مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو حقوق دیئے گئے عورت پر مرد کو حاکم مقرر کیا گیا اور اسی حاکم کے ذمے اسی عورت کی کفالت کا حکم دیا حالانکہ عام دستور یہ ہے جو حاکم ہوتا ہے وہ آرام کرتا ہے اور محکوم محنت مزدوری جبکہ اسلام نے مرد کو حاکم ہوتے ہوئے محنت مزدوری کا حکم دیا جبکہ عورت کو محکوم ہوتے ہوئے بھی شہزادی و ملکہ کا رتبہ دیا آئین پاکستان میں عورت کسی مرد کی طرف سے آنکھ مارنے کی سزا ایک سال قید رکھی گئی ہے 1988 ker.
    دفعہ اے 498 کے تحت جو شحض کسی عورت کو اس کی وراثت سے محروم کرے گا اسے 5 سے 10 سال کی سزا اور 10 لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا مقرر ہے
    دفعہ بی 371 کے تحت کسی بھی عورت کو عصمت فروشی کی غرض سے خریدنا اور کرایے پر لینے کی سزا 25 سال مقرر ہے دفعہ 509 کے تحت کسی بھی عورت پر بہتاب بازی کی سزا ایک سال مقرر کی گئی ہے مگر پھر بھی یہ گندی عورتیں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خودساختہ حقوق کی بات کرتی ہیں دراصل ان کو تنگی آئین پاکستان و اسلام میں عورت کو دیئے گئے تحفظ سے ہیں یہ واہیات عورتیں چاہتی ہیں کہ ان قانین کو ختم کرکے ان کی مرضی کے مطابق ان کو بے لگام کر دیا جائے اور ایک بے لگام گھوڑی کی طرح جہاں دل کرے منہ مارتی پھریں
    پاکستان میں سرکاری سکولوں میں عورتوں کی نا صرف تعلیم مفت ہے بلکہ ان کیلئے مخصوص رقم بھی گورنمنٹ دیتی ہے تاکہ ان کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نا آئے اس کے علاوہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز ایسی ہیں جو غریب اور بے سہارا عورتوں کیلئے رہائش و کھانے کے علاوہ ان کے نکاح تک کا خرچ برداشت کرتے ہیں
    ماروی سرمد جیسی لبرل بے دین عورت یہ بھول گئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ہندو قوم رہتی ہے کہ جس میں عورت کے خاوند کو مرنے کے بعد یا تو اس کے مرنے والے خاوند کیساتھ دفن کر دیا جاتا ہے یا پھر باقی زندگی ایک ہی مخصوص لباس میں رہتے ہوئے دوسرے لوگوں کی باندی بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے اور لوگ اس کے سائے سے بھی ڈرتے ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ ہونے والی عورت کی کفالت اس کے بھائی،سسر،باپ،بیٹے کی ذمہ داری بن جاتی ہے مگر افسوس کہ اس گھٹیا عورت نے آج دن تک ہندوستان میں عورت پر ہوتے ظلم پر آواز بلند نہیں کی جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ مخصوص آزاد عورتیں درحقیقت عورت کے حقوق کی نہیں آزاد معاشرے کے گندے غلیظ حقوق کی پیروی کرتے ہوئے انہیں اجاگر کر رہی ہیں اور یہ عورتیں مملکت پاکستان میں بے حیائی بے شرمی کو دوام دینا چاہتی ہیں جنہیں روکنا حکومت وقت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ معاملہ چند خواتین کا نہیں یہ معاملہ اسلام و پاکستان کی بقاء کا ہے اگر آج ان کو نا روکا گیا تو کل اس،گندے واہیات نعروں کے نتائج انتہائی غلط نکلیں گے

  • عورت مارچ ہو یا پشتون تحفظ موومنٹ ان سے نمٹنے کا آپ کا طریقہ غلط ہے صاحب!!! تحریر: محمد عبداللہ

    کسی بھی نعرے یا مطالبے کا واحد حل جو ہمارے ہاں رائج ہے وہ ہے اس کو بزور قوت یا بزور زبان ریجیکٹ کردو جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نعرہ اور وہ مطالبہ شدت پکڑتا ہے، این جی اوز کی شہ ملتی ہے، بیرونی امداد ملتی ہے، انٹرنیشل میڈیا کوریج دے کر حوصلہ فراہم کرتا ہے اور پھر وہی نعرہ قومی سلامتی اور ملکی بقا سے ٹکراتا ہے یہ چیز بھی یاد رکھیں کہ ہر تحریک اور ہر نعرہ چند حقائق بھی رکھتا ہے جو ہمارے معاشرہ کے ظلم و جبر اور استحصالی نظام ان کو فراہم کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ ان حقیقی اور جائز مطالبات کی آڑ میں لمبی چوڑی ناجائز مطالبات اور نعروں کی فہرست ہوتی ہے جو بالواسطہ یا بالاواسطہ ہمارے مذہب اور ہماری قومی سلامتی سے متصادم ہوتی ہے.
    اگر کسی بھی تحریک کے آغاز ہی میں اس کے جائز مطالبات اور تحفظات کو پورا کردیا جائے تو ان کے سینکڑوں ناجائز مطالبات اپنی موت آپ مرجاتے ہیں. پی ٹی ایم کی مثال ابھی بالکل تازہ اور ہمارے سب کے سامنے کی ہے. نقیب اللہ محسود کے قتل پر انصاف کا مطالبہ بالکل مبنی بر حق مطالبہ تھا جو پورا نہ کیا گیا جس کا نتیجہ تاحال بھگت رہے ہیں. اب یہ عورت مارچ کا ایشو بھی ایسا ہی ہے جتنا ٹرول کریں گے، تنقید کریں گے، سوشل میڈیا پر اس کے اینٹی ٹرینڈز چلائیں گے ان کو اور شہرت ، قوت اور بین الاقوامی توجہ ملتی جائے گی، آسیہ مسیح، ملالہ یوسفزئی اور مختاراں مائی جیسے کتنے ہی ایسے ایشوز اور کیسز ہوتے ہیں جن کو ہم اتنی ہائپ دیتے ہیں کو بین الاقوامی مسئلہ بن جاتا ہے اور پھر معاملہ ہمارے اختیار میں نہیں رہتا.
    عورت مارچ بالکل ویسا ہی مسئلہ ہے ہمارے معاشرے میں عورت کا استحصال جاری و ساری ہے اس میں کردار میڈیا، شوبز، معاشرہ سب ملوث ہیں جنہوں نے عورت کو انسان سے object اور پراڈکٹ بنادیا ہے کوئی بھی چیز بیچنی ہے تو اس کے لیے اس کے کمرشل میں عورت کا ہونا ضروری ہے حتیٰ کے ٹریکٹرز تک کی کمرشلز میں ہم عورت سے اپنے جسم کی نمائش کرواتے ہیں. کالج، یونیورسٹی، آفس، ٹرانسپورٹ ، بازار، پارک اور دیگر پبلک پلیسز پر نظر آنے والی عورت ہمارے نزدیک عورت نہیں ہماری نظروں کی تسکین کا ذریعہ ہوتی ہے.
    ہم تو چھوٹی بچیوں تک کو معاف نہیں کرتے زینب کا کیس سب کے سامنے ہے، ریپ کے کتنے کیسز ہوتے ہیں، کالجز اور یونیورسٹیز میں کس طرح سے عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، تیزاب پھینکنے کے کتنے واقعات ہوتے ہیں.
    یہ سب مکروہ حقائق ہیں جو بنیاد بنتے ہیں اور اس کی بنیاد پر شرپسند عناصر اور این جی اوز اپنا کام کرتی ہیں اور بڑی معذرت کے ساتھ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز ان نعروں کے خلاف نہیں اپنے نظام کے خلاف چلائیے آواز اٹھانی ہے تو اپنے سسٹم کے خلاف اٹھائیے جو مختلف طبقات کا استحصال کرکے ان کی آڑ میں مختلف گمراہ کن تحریکوں کو پنپنے کا موقع دیتا ہے اور ان استحصال زدہ طبقات کی بجائے ان نعروں اور تحریکوں کو تحفظ اور قوت دے کر کھل کھیلنے کا موقع دیتا ہے مثالیں قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں.