Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم

    بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم

    ایک صاحب فنِ مکالمہ پر لیکچر دے رہے تھے اس سلسلے میں انہوں نے یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جب وہ قرآن کی اس آیت پر پہنچے
    وَدَخَلَ مَعَہُ السْجْنَ فَتَیٰنِ
    "اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے۔”
    تو انہوں نے حاضرین کو بغور دیکھا ،پھر ان سے دریافت کیا :
    ,,اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے ؟ ان تینوں میں سے کون پہلے داخل ہوا ؟
    یوسف یا دونوں نوجوان ؟
    ایک پکارا:
    "یوسف علیہ السلام”
    دوسرے نے کہا :
    "نہیں دونوں جوان”
    تیسرا بولا :
    "نہیں ،نہیں، یوسف، یوسف”
    چوتھے نے ذرا ہوشیار بننے کی کوشش کی :
    "وہ اکٹھے داخل ہوئے تھے”
    پھر پانچواں بولا اور ایک شور بپا ہو گیا اصل بات کہیں غائب ہو گئی لیکچرار صاحب یہی چاہتے تھے انھوں نے حاضرین کے چہروں کو غور سے دیکھااور مسکرائے، پھر انہیں خاموش ہو جانے کا اشارہ کیا اور کہنے لگے :
    "آخر مشکل کیا ہے؟ یوسف علیہ السلام پہلے داخل ہوئے ہوں یا دونوں نوجوان ، بات ایک ہی ہے کیا یہ مسئلہ اتنے اختلاف اور بحث و تکرار کا مستحق ہے ؟”
    واقعی بسا اوقات ہم لوگ خواہ مخواہ دوسروں کی باتیں کاٹ کر اعتراض کرتے اور ساری بات کا مزہ کرکرا دیتے ہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کی حقیقت سمجھے بغیر اس پر اعتراض جڑ دیتے ہیں اور صبر یا انتظار کرنے کا تکلف نہیں کرتے
    اللہ تعالی نے سچ فرمایا :
    (وَکَانَ الْاِنْسِانُ عَجُوْلاً )
    "اور انسان جلد باز واقع ہوا ہے”

    بحث و تکرار
    حافظہ قندیل تبسم

  • کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی

    کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی

    کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے آج عالمی میڈیا بھی اسلام کے دیئے ہوئے زیریں اصولوں کی تعریف کررہا ہے، اسلامی اصولوں کو ہی دنیا بھر میں جہاں جہاں کرونا وائرس پھیلا ہے، اپنایا گیا ہے، اسلام نے آج سے 14 سو سال پہلے ایسی وباء پھیلنے کے بارے میں بتایا کہ یہ کسی ایک آدمی سے دوسری آدمی میں منتقل ہوسکتی ہے پھیل سکتی ہے۔

    صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ایک مقام پر آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے ۔تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیرالمومنین میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "کے جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کے وقت وہاں وباءپھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہوں جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کے لئے مت بھاگو”۔

    ایک اور صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے کہ کوڑسے متاثرہ شخص سے اس طرح بھاگو کہ جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو۔ اب آئیے دوسری جانب جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ وباء نہیں پھیلتی کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” لا عدویٰ ولا طیرة” اس لاعدوی کی حقیقت یہ ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان فرمایا اس وقت زمانہ جاہلیت میں لوگ بیماری کو بیماری کی ذات کی وجہ سے متعدد تصور کرتے تھے نہ کہ اللہ تعالی کی قدرت و منشا کی وجہ سے ۔

    مثال کے طور پر ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کو خارش پڑ گئی ہے ۔اور یہ ایک اونٹ ا سے دوسرے اونٹ میں پھیلی ہے ۔اور زمانہ جاہلیت میں ان کا تصور یہ تھا کہ یہ بیماری ایک اونٹ سے دوسرے اونٹ میں بذات خود منتقل ہوئی ہے یعنی اس نے اللہ تعالی کی مشیت و منشا نہیں ہے ۔تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ پہلے کو کس طرح بیماری لگی ہے ۔ یہ جولا عدوی والی حدیث مبارکہ ہے اس ساری حدیث مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ مشیت باری تعالی اور اللہ کی قدرت کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسن کو لگتی ہے ۔

    یہ بیماری بذات خود بدلتی ہے ۔اس میں اللہ تعالی کی کوئی قدرت نہیں ہے ۔ اور یہ اوپر والی تمام احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلام بابا کے پھیلنے کو تسلیم کرتا ہے ۔ آج جو پوری دنیا میں یہ مسئلہ بنا ہوا ہے کرونا وائرس کے متعلق اس کے لئے بھی اختیاطی تدابیر وہی ہے جو میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف والی روایت ذکر کی ہے ۔آج پوری دنیا میں احتیاطی تدابیر وہی استعمال کی جارہی ہیں۔ اہل پاکستان کو بھی چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی وبا کے بچاو کیلئے اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ جذباتی باتوں کے بجائے حکومت کے دئیے گئے لائحہ عمل پر عمل کریں۔

    کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات
    تحریر : عثمان علی

  • اقبال کا مرد مومن۔۔۔ سید عتیق الرحمن  تحریر:  رضی طاہر

    اقبال کا مرد مومن۔۔۔ سید عتیق الرحمن تحریر: رضی طاہر

    دور حاضر میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ ملا کی دوڑ مسجد تک، اس کی مشہوری میں جہاں ہماری سوسائٹی کا منفی رویہ ہے وہیں ہمارے ملاؤں کا منفی کردار بھی شامل ہے، تاریخ دیکھیں تو مساجد کمیونٹی سنٹرز ہوا کرتیں تھیں جہاں صرف صوم وصلوۃ نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوا کرتے تھے

    مگر اب علماء نے دین متین کو اپنے اپنے دائرے میں بند کرکے اپنی دوڑ محدود کرلی ہے، ایسے وقت میں بھی کچھ علمائے کرام ایسے ہیں جن کا کردار مثالی ہے، میں عمومی طور پر بائیوگرافی لکھنے کا ماہر نہیں مگر گزشتہ دنوں ایک نوجوان سے ہونی والی ملاقات نے اس سے متعلق لکھنے پر مجبور کیا، میری مراد گجرات کے نواحی گاؤں بوکن موڑ کے ایک حافظ قرآن اور نوجوان سکالر سید عتیق الرحمن ہیں۔

    انہوں نے گجرات کے نواحی گاؤں بوکن شریف میں 14مارچ 1988میں ایک روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی، آپ کے والد محترم سید زاہد صدیق شاہ بخاری کا شمار دور حاضر کے عظیم مذہبی مدرسین میں ہوتا ہے، 40سال سے وہ اسی علاقے میں فیضان علم کے چشمے بہارہے ہیں۔ جبکہ آپ کے دادا جی حکیم سید محمد سعید بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے وقت کے ایک کامل ولی ہو گزرے ہیں،

    روحانی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے ساتھ ساتھ ان کا سلسلہ ایک اور عظیم روحانی در سے جڑتا ہے، ان کے والد محترم جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کے ارادت مند ہیں، جبکہ سید عتیق الرحمن پیر کرم شاہ کے سجادہ نشین پیر امین الحسنات شاہ کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں،

    یہی وجہ ہے کہ آپ کی دینی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوگیا، جبکہ اپنے ہی گاوں کے ایک سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعدازاں میٹرک اور ایف اے گوجرانوالہ بورڈ سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا، اور گجرات یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔

    یونیورسٹی آف سرگودھا سے آپ نے پہلے اردو میں ماسٹرز کیا، پھر انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی، آپ کی تعلیمی پیاس ختم نہ ہوئی تو قانون کے میدان میں آکودے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، جبکہ ایل ایل ایم جاری ہے۔

    دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سید عتیق الرحمن کی دینی پیاس میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا رہا، اپنے بچپن میں ہی حفظ قرآن مجید کی دولت سے مالامال ہوئے، حفظ میں ان کے استاد قاری محمد لطیف رہے جن کا تذکرہ آج بھی وہ محبت سے کرتے ہیں جبکہ اپنے ہی والد محترم کے جامعہ محمدیہ غوثیہ بوکن شریف سے یہ سعادت حاصل کی، جامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے درس نظامی اور دورہ حدیث مکمل کیا۔

    سید عتیق الرحمن کا یہ22سالہ تعلیمی کیرئیر اپنی مثال آپ ہے، پہلی جماعت سے لے کر ایل ایل ایم تک اور یسرنا قرآن کے پارے سے لے کر دورہ حدیث اور درس نظامی تک آپ دینی و دنیوی تعلیم کے حسین امتزاج میں پلے بڑھے، مستقبل میں پی ایچ ڈی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔اپنے تعلیمی سفر کے دوران اللہ کریم نے انہیں فن خطابت میں بھی ملکہ عطا کررکھی ہے،

    زمانہ طالب علمی میں دو دفعہ پنجاب بھر کے تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، کھیلوں میں فٹ بال سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ گو کہ تعلیمی سفر ابھی جاری ہے مگر عملی میدان میں بھی سید عتیق الرحمن نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنا شروع کردیئے ہیں، بحثیت ایجوکیشنسٹ انہیں اپنے والد محترم نے اپنے ادارے کے وائس پرنسپل کی ذمہ داری دے رکھی ہے، جبکہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے سکول سسٹم ڈائریکشن سکولز کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ ہیں،

    اس ذمہ داری پر ابھی انہیں مختصر عرصہ ہی ہوا ہے مگر انہوں نے اس نیٹ ورک کی جڑیں پاکستان کے کونے کونے میں پھیلائی ہیں اور اسلام آباد اور گجرات کے گردو نواح میں اپنے ذاتی پرائیویٹ سکول بھی چلاتے ہیں،ساتھ ساتھ HATگروپس آف کمپنیز کے ایم ڈی ہیں اور کاروان حسنات و برکات پرائیویٹ لمیٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جس نے انتہائی کم عرصے میں اس میدان میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ اب اس کا شمار ٹاپ500میں ہوتا ہے۔

    گجرات چیمبر آف کامرس نے سید عتیق الرحمن کو Emergingبزنس مین برائے سال2019کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ خطابت کے ساتھ اب کتابت کی طرف بھی رخت سفر باندھ چکے ہیں، ان کی پہلی کتاب منزل اور مقصد چھپنے کیلئے تیار ہے، سید عتیق الرحمن مستقبل قریب میں اسلام کی عالمگیر کی خدمت کا ارادہ رکھتے ہیں،اس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کررکھا ہے،

    بلاشبہ اللہ کریم نے ان پر خصوصی کرم کررکھا ہے جس کی بدولت محض31سال کی عمر میں انہیں تاریخ ساز کامیابیاں ملیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تحریر محض ملاقات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان تمام کامیابیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد تحریر کیا ہے، یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ سید عتیق الرحمن حقیقی طور پر اقبال کے مرد مومن کی تعریف پر پورا اترتے ہیں،

    مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کام کیونکہ عام نہیں ہے، اسلئے ان کا نام بھی عام نہیں رہے گا، کیونکہ جو نوجوان ستاروں میں کمند ڈالنے کا فیصلہ کرلیں اور شکوہ ظلمت شب کے بجائے اندھیروں میں دیپ جلانے کی کوششیں شروع کردیں، وہ عام نہیں رہتے بلکہ خاص ہوجاتے ہیں۔

  • اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ محمد وسیم ریسرچ سکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی

    اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ محمد وسیم ریسرچ سکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی

    اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کے لئے دنیا کا سب سے اچّھا نظام دیا ہے، اِس لئے ہمیں کافروں اور مشرکوں کے تہواروں، رسم و رواج اور مذہبی خوشیوں میں نہ تو شریک ہو کر اُس کا حصّہ بنیں اور نہ ہی کسی بھی طرح سے اُن کے رسم و رواج کا حصّہ بنیں، آپ صلّٰی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ اگر کسی مسلمان نے کسی دوسرے قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ مسلمان اُسی قوم میں سے ہو جاتا ہے

    آج ہولی کا دن ہے، بہت سے مسلمان ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے آج ہولی کھیلیں گے، Secular بننے اور دِکھانے کے لئے ہولی کے تہوار میں مکمّل طور پر شریک ہوں گے، ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ اِس وقت ہم ہندوستانی مسلمان کالا قانون سے انتہائی پریشان ہیں،

    کالے قانون کے خلاف احتجاج کے دوران درجنوں لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں، میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی..؟؟

    یہ بات یاد رکھیں کہ مسلمان سے کُفار و مشرکین اُس وقت خوش ہوں گے جب مسلمان اسلام چھوڑ کر کافر بن جائیں، اِس لئے اللہ کے واسطے کافروں اور مشرکوں کو خوش کرنے کے لئے ہولی اور دوسرے تہواروں میں شریک ہو کر اُن کے تہواروں کا حصّہ نہ بنیں، بلکہ ہم اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے مُثبت کوششیں کریں، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور ہم کوئی بھی ایسا کام ہرگز نہ کریں کہ جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق  تحریر: غنی محمود قصوری

    عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و پاکستان کو لبرل بے دین لوگ بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر ہر بار ان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس سال عالمی یوم خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں چند حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی علمبردار عورتوں نے عورت مارچ کا اعلان کیا ہے جو کہ اس سے قبل بھی ہو چکا ہے اس عورت مارچ کو پہلے پاکستان کی عدالت نے روکا تھا پھر اچانک غیر مشروط طور پر یہ کہتے ہوئے اجازت دے دی گئی کہ ہر کسی کو تنظیم سازی کا حق ہے لہذہ عورتیں مارچ کریں مگر اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں حالانکہ اس سے قبل ہوئے عورت مارچ میں اہلیان پاکستان کیساتھ پوری دنیا نے بھی دیکھا کہ کسطرح عورت مارچ کے نام پر بد تہذیبی بد اخلاقی اور بے شرمی کی گئی ان 3 درجن سے زائد مطلقہ آزاد خیال اور دین سے بے زار عورتوں نے جن میں سے سرفہرست ماروی سرمد نامی تجزیہ کار ہے ،کے زیر سایہ عورت مارچ میں عورتوں نے ایسے گندے بے حیائی پر مبنی پوسٹرز پکڑ رکھے تھے جن پر عورتوں کے مخصوص ایام کی تشریح،عورتوں پر تشدد و تیزاب گردی کی روک تھام،اگر مجھے مارو گے تو مار کھاءو گے،میری شادی نہیں آزادی کی فکر کرو،میں ماں ،بہن ہوں گالی نہیں، ساڈا حق ایتھے رکھ اور میری نسبت میری والدہ سے ہونی چایئے جیسے نعرے درج تھے
    پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا ملک ہے اور آئین پاکستان میں جہاں مردوں کو حقوق دیئے گئے ہیں وہاں عورتوں کو بھی حقوق فراہم کئے گئے ہیں جن کی واضع مثال ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کی نمائندگی بکثرت دیکھی جا سکتی ہے یہی نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی 3 بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک سفارتکاری میں بھی عورتیں ہیں ایک عام گھریلوں خاتون سے لے کر وزیراعظم تک کے حقوق عورتوں کو دیئے گئے ہیں مگر پھر بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان نام نہاد روشن خیال عورتوں کو کیا مسئلہ ہے جو آئے دن اپنے حقوق کا رونا روتی ہیں حالانکہ سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا خیال اسلام نے رکھا ہے
    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی ذیشان نے فرمایا
    اور اگر وہ فرمانبرداری کریں تو ان پر (کسی قسم کی) زیادتی کا تمہیں کوئی حق نہیں
    مذید میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر تشدد روکتے ہوئے فرمایا
    تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔ مسند احمد 7119
    اس حدیث سے ثابت ہوا آقا کریم نے عورتوں پر بے جا تشدد کی ممانعت کی ہے اور ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا ہے یہی نہیں عورت کو حق خلع دیتے ہوئے مذید اس کی شان کو بلند کیا گیا ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کی جعلی علمبردار بھول گئیں کہ اسلام سے قبل لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے پھر میرے نبی رحمت تشریف لائے اور معصوم کلیوں کے محافظ بن گئے جس قدر اسلام نے عورت کے حقوق کا خیال رکھا دنیا میں اتنا خیال کسی مذہب نے نہیں رکھا اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دلوایا اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران جنگ بچوں بوڑھوں کیساتھ عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ایک طرف قبل از اسلام عورت کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا تھا تو دوسری طرف نبی ذیشان نے دوران جنگ بھی عورت کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہم اگر اسلام کا مطالعہ کریں تو مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو حقوق دیئے گئے عورت پر مرد کو حاکم مقرر کیا گیا اور اسی حاکم کے ذمے اسی عورت کی کفالت کا حکم دیا حالانکہ عام دستور یہ ہے جو حاکم ہوتا ہے وہ آرام کرتا ہے اور محکوم محنت مزدوری جبکہ اسلام نے مرد کو حاکم ہوتے ہوئے محنت مزدوری کا حکم دیا جبکہ عورت کو محکوم ہوتے ہوئے بھی شہزادی و ملکہ کا رتبہ دیا آئین پاکستان میں عورت کسی مرد کی طرف سے آنکھ مارنے کی سزا ایک سال قید رکھی گئی ہے 1988 ker.
    دفعہ اے 498 کے تحت جو شحض کسی عورت کو اس کی وراثت سے محروم کرے گا اسے 5 سے 10 سال کی سزا اور 10 لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا مقرر ہے
    دفعہ بی 371 کے تحت کسی بھی عورت کو عصمت فروشی کی غرض سے خریدنا اور کرایے پر لینے کی سزا 25 سال مقرر ہے دفعہ 509 کے تحت کسی بھی عورت پر بہتاب بازی کی سزا ایک سال مقرر کی گئی ہے مگر پھر بھی یہ گندی عورتیں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خودساختہ حقوق کی بات کرتی ہیں دراصل ان کو تنگی آئین پاکستان و اسلام میں عورت کو دیئے گئے تحفظ سے ہیں یہ واہیات عورتیں چاہتی ہیں کہ ان قانین کو ختم کرکے ان کی مرضی کے مطابق ان کو بے لگام کر دیا جائے اور ایک بے لگام گھوڑی کی طرح جہاں دل کرے منہ مارتی پھریں
    پاکستان میں سرکاری سکولوں میں عورتوں کی نا صرف تعلیم مفت ہے بلکہ ان کیلئے مخصوص رقم بھی گورنمنٹ دیتی ہے تاکہ ان کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نا آئے اس کے علاوہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز ایسی ہیں جو غریب اور بے سہارا عورتوں کیلئے رہائش و کھانے کے علاوہ ان کے نکاح تک کا خرچ برداشت کرتے ہیں
    ماروی سرمد جیسی لبرل بے دین عورت یہ بھول گئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ہندو قوم رہتی ہے کہ جس میں عورت کے خاوند کو مرنے کے بعد یا تو اس کے مرنے والے خاوند کیساتھ دفن کر دیا جاتا ہے یا پھر باقی زندگی ایک ہی مخصوص لباس میں رہتے ہوئے دوسرے لوگوں کی باندی بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے اور لوگ اس کے سائے سے بھی ڈرتے ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ ہونے والی عورت کی کفالت اس کے بھائی،سسر،باپ،بیٹے کی ذمہ داری بن جاتی ہے مگر افسوس کہ اس گھٹیا عورت نے آج دن تک ہندوستان میں عورت پر ہوتے ظلم پر آواز بلند نہیں کی جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ مخصوص آزاد عورتیں درحقیقت عورت کے حقوق کی نہیں آزاد معاشرے کے گندے غلیظ حقوق کی پیروی کرتے ہوئے انہیں اجاگر کر رہی ہیں اور یہ عورتیں مملکت پاکستان میں بے حیائی بے شرمی کو دوام دینا چاہتی ہیں جنہیں روکنا حکومت وقت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ معاملہ چند خواتین کا نہیں یہ معاملہ اسلام و پاکستان کی بقاء کا ہے اگر آج ان کو نا روکا گیا تو کل اس،گندے واہیات نعروں کے نتائج انتہائی غلط نکلیں گے

  • عورت مارچ ہو یا پشتون تحفظ موومنٹ ان سے نمٹنے کا آپ کا طریقہ غلط ہے صاحب!!! تحریر: محمد عبداللہ

    کسی بھی نعرے یا مطالبے کا واحد حل جو ہمارے ہاں رائج ہے وہ ہے اس کو بزور قوت یا بزور زبان ریجیکٹ کردو جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نعرہ اور وہ مطالبہ شدت پکڑتا ہے، این جی اوز کی شہ ملتی ہے، بیرونی امداد ملتی ہے، انٹرنیشل میڈیا کوریج دے کر حوصلہ فراہم کرتا ہے اور پھر وہی نعرہ قومی سلامتی اور ملکی بقا سے ٹکراتا ہے یہ چیز بھی یاد رکھیں کہ ہر تحریک اور ہر نعرہ چند حقائق بھی رکھتا ہے جو ہمارے معاشرہ کے ظلم و جبر اور استحصالی نظام ان کو فراہم کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ ان حقیقی اور جائز مطالبات کی آڑ میں لمبی چوڑی ناجائز مطالبات اور نعروں کی فہرست ہوتی ہے جو بالواسطہ یا بالاواسطہ ہمارے مذہب اور ہماری قومی سلامتی سے متصادم ہوتی ہے.
    اگر کسی بھی تحریک کے آغاز ہی میں اس کے جائز مطالبات اور تحفظات کو پورا کردیا جائے تو ان کے سینکڑوں ناجائز مطالبات اپنی موت آپ مرجاتے ہیں. پی ٹی ایم کی مثال ابھی بالکل تازہ اور ہمارے سب کے سامنے کی ہے. نقیب اللہ محسود کے قتل پر انصاف کا مطالبہ بالکل مبنی بر حق مطالبہ تھا جو پورا نہ کیا گیا جس کا نتیجہ تاحال بھگت رہے ہیں. اب یہ عورت مارچ کا ایشو بھی ایسا ہی ہے جتنا ٹرول کریں گے، تنقید کریں گے، سوشل میڈیا پر اس کے اینٹی ٹرینڈز چلائیں گے ان کو اور شہرت ، قوت اور بین الاقوامی توجہ ملتی جائے گی، آسیہ مسیح، ملالہ یوسفزئی اور مختاراں مائی جیسے کتنے ہی ایسے ایشوز اور کیسز ہوتے ہیں جن کو ہم اتنی ہائپ دیتے ہیں کو بین الاقوامی مسئلہ بن جاتا ہے اور پھر معاملہ ہمارے اختیار میں نہیں رہتا.
    عورت مارچ بالکل ویسا ہی مسئلہ ہے ہمارے معاشرے میں عورت کا استحصال جاری و ساری ہے اس میں کردار میڈیا، شوبز، معاشرہ سب ملوث ہیں جنہوں نے عورت کو انسان سے object اور پراڈکٹ بنادیا ہے کوئی بھی چیز بیچنی ہے تو اس کے لیے اس کے کمرشل میں عورت کا ہونا ضروری ہے حتیٰ کے ٹریکٹرز تک کی کمرشلز میں ہم عورت سے اپنے جسم کی نمائش کرواتے ہیں. کالج، یونیورسٹی، آفس، ٹرانسپورٹ ، بازار، پارک اور دیگر پبلک پلیسز پر نظر آنے والی عورت ہمارے نزدیک عورت نہیں ہماری نظروں کی تسکین کا ذریعہ ہوتی ہے.
    ہم تو چھوٹی بچیوں تک کو معاف نہیں کرتے زینب کا کیس سب کے سامنے ہے، ریپ کے کتنے کیسز ہوتے ہیں، کالجز اور یونیورسٹیز میں کس طرح سے عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، تیزاب پھینکنے کے کتنے واقعات ہوتے ہیں.
    یہ سب مکروہ حقائق ہیں جو بنیاد بنتے ہیں اور اس کی بنیاد پر شرپسند عناصر اور این جی اوز اپنا کام کرتی ہیں اور بڑی معذرت کے ساتھ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز ان نعروں کے خلاف نہیں اپنے نظام کے خلاف چلائیے آواز اٹھانی ہے تو اپنے سسٹم کے خلاف اٹھائیے جو مختلف طبقات کا استحصال کرکے ان کی آڑ میں مختلف گمراہ کن تحریکوں کو پنپنے کا موقع دیتا ہے اور ان استحصال زدہ طبقات کی بجائے ان نعروں اور تحریکوں کو تحفظ اور قوت دے کر کھل کھیلنے کا موقع دیتا ہے مثالیں قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں.

  • ہماری عداوتیں  اور جادو ٹونا  تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری عداوتیں اور جادو ٹونا تحریر: غنی محمود قصوری

    اس دنیا میں رہتے ہوئے ہمارا واسطہ کئی طرح کے حاسدین و دشمنوں سے پڑتا ہے کچھ تو ہمیں سامنے آکر مارنے پیٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ ہمیں ناجائز مقدمات میں پھنسا کر مالی و ذہنی پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنا حسد بغض و کینہ جادو کے ذریعے نکالتے ہیں ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و کمینے ہوتے ہیں جو اپنا حسد و بغض تو نکالنا چاہتے ہیں مگر خود سامنے بھی نہیں آنا چاہتے ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و ظالم ہوتے ہیں
    ہمارے معاشرے میں جادو ٹونے کا بہت زیادہ رواج چل نکلا ہے کوئی کسی سے مال و دولت کے حسد کی بناء پر جادو ٹونا کرتا ہے تو کوئی خاندانی رشتہ داریوں میں خلل ڈالنے کیلئے
    جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں مگر ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ رزق،دولت،صحت،تندرستی،بیماری،شفاء غرضیکہ سب کچھ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اگر جادو کے اثرات مستقل ہوتے تو یقینا آج اس دنیا پر جادوگروں کا قبضہ ہوتا اور وہ اپنی روزی روٹی کیلئے یوں لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان کی جیبیں صاف نا کرتے اگر جادو ہی سب کچھ ہے تو جادوگر گھر بیٹھے آرام سے دنیا کی ہر نعمت حاصل کرے اور جسے چاہے مار دے اور جس کی چاہے روزی بند کر دے مگر ایسا ہر گز نہیں
    جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جادو ہوا تھا جو کہ لبید بن اعصم نامی یہودی نے کیا تھا اس جادو کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بھول جاتے تھے کہ فلاں کام آپ نے کیا ہے مگر وہ کام آپ نے نہیں کیا ہوتا تھا
    صحیح بخاری حدیث 3175
    مگر پھر اللہ رب العزت کی طرف سے دو فرشتے نازل ہوئے اور آپ پر دم کیا گیا اور آپ کو اللہ نے شفاء عطا فرمائی
    درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ جادو کے اثرات ضرور ہوتے ہیں مگر جادو ہمیشہ نہیں رہتا بلکہ قرآنی آیات اور اذکار مسنونہ کے دم کرنے سے جادو ختم ہو جاتا ہے مگر جادو کرنے کروانے والا لبید بن اعصم یہودی کا پیروکار ہے
    جادو کرنے اور جادو کروانے والے کی اسلام نے خوب نفی کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرانے سے بچو صحیح بخاری 5764 ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائینگے 1 شراب پینے والا 2 قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا 3 جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا مسند احمد جلد 4 صفحہ 399
    جہاں جادو کرنے کی ممانعت ہے وہاں جادو کروانے والے کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگ جنت کے بلکل بھی حقدار نہیں حالانکہ ہمارے معاشرے میں آج جگہ جگہ عاملوں ،بابوں،اور کاہنوں کے اڈے سرعام کھلے ہوئے ہیں اور لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حسد کرکے ایک دوسرے پر جادو ٹونا کروا رہے ہیں اور یوں ان جادوگروں کی روٹی قائم ہے جادو کرنے کروانے والا تو جہنمی ہے ہی مگر انجانے میں ہم بھی کالے جادو کی توڑ کیلئے انہی بابوں،عاملوں اور کاہنوں کا سہارا لے کر اس عظیم جرم میں شریک ہو رہے ہیں واضع رہے کہ نبی ذیشان پر جادو ہوا تو انہیں مسنون اذکار اور آیات کے ذریعے دم کیا گیا تھا ناکہ جادو کا مقابلہ جادو سے کیا گیا تھا ہم سمجھتے ہیں کہ جادو کو جادوگر ہی ختم کر سکتا ہے یہ بات صریحا غلط ہے اور ایسا کرنے سے ہم بھی جادو کروانے والوں میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے ، موسی نے کہا کہ تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ تمہارے پاس آ چکا ہے؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پاتے۔ سورت یونس آیت 77
    جادو چاہے خود کیا جائے یا کروایا جائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے یہ سب عمل بد ہے کیونکہ ابن عباس رصی اللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے علم نجوم کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کر لیا وہ نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادو گر کافر ہے لم اجدہ،رواہ رزین
    فرمان نبوی سے ثابت ہوا کہ جادوگر کافر ہے چاہے کوئی اپنی روزی روٹی کیلئے جادو کرے یا کسی سے حسد و بغض پر جادو کرے کروائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے سب کا شمار جادو کرنے والوں میں ہوگا لہذہ اس لعنت سے توبہ کرکے جادو کی کاٹ کیلئے اذکار مسنونہ و آیات قرآن حکیم سے جادو و سحر کا علاج کیجئے اور اپنی دنیا و آخرت خراب ہونے سے بچائیں
    خصوصی طور پر معوذ تین ،آیت الکرسی اور سورت بقرہ کی آخری دو آیات خود زبانی یاد کیجئے اور پڑھ کر اپنے و سحر زدہ مریض پر دم کریں نہار منہ 7 عجوہ کجھور کھانے سے بھی جادو کا اثر ختم ہوتا ہے
    اللہ تعالی ہمیں قرآن و حدیث پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جادو کا شکار ہونے ،جادو کرنے اور جادوگر کا سہارا لینے سے بچائے رکھے آمین

  • آخر یہ لوگ ہیں کون؟—-از–برہم مروت

    آخر یہ لوگ ہیں کون؟—-از–برہم مروت

    آج کل پوری تندہی سے کوشش ہوتی ہے کہ ایسے موضوع پر کچھ نہ لکھوں کہ جس سے کسی پر طنز کرنے، کسی سے نفرت کے اظہار کا شائبہ ہو یا اس موضوع سے ہٹ کر بات کو کوئی اور رُخ دے کر فضول کا بحث و مباحثہ شروع ہو جائے لیکن طبیعت کچھ ایسی ہے کہ چند ایسے موضوعات یا باتوں پر اگر اپنے احساسات کو بیان نہ کروں تو بڑی تکلیف میں ہوتا ہے اسلئے آج پھر لکھنے بیٹھا ہوں۔

    کچھ عرصے سے دیکھ اور پڑھ رہا ہوں کہ جیسے ہی کوئی ایسی تحریر یا ویڈیو کوئی لگاتا ہے جس میں ہمارے ملک پاکستان کی بھلائی یا خیر کا پہلو اُجاگر ہوا ہوتا ہے تو ایک "مخصوص سوچ” کے نمائندے فوراً سے پیش تر آن ٹپکتے ہیں۔

    سب سے پہلے تو اُس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہوتے جو حاملِ پوسٹ نے نشاندہی کی ہوتی ہے لیکن جب سمجھ جاتے ہیں کہ واقعی یہ بات تو سچ ہے تو پھر نئے ہتھیار استعمال کر کے کہتے ہیں کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ سچ ہے (جیسے بہت بڑا احسان کر رہے ہوں) لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطلب مکھی کی طرح ہاتھ ملتے ہوئے پورے جسم کو چھوڑ کر واپس پھوڑے پر ہی آ بیٹھتے ہیں اور اگر اس کے بعد بھی کوئی ایسوں کو مطمئن بھی کر لیتا ہے تو ایسے اطمینان سے اُن کی اناؤں کو ضرب لگ جاتی ہے جس سے فرسٹریشن کا شکار ہو کر یہی لوگ پھر ہفوات بکنے پر آ جاتے ہیں۔

    یہی لوگ ایک اور کام بڑھے شد و مد کے ساتھ کرتے ہیں کہ ہر اس بات، موضوع یا واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جس میں ان کے اپنے ہی ملک کی بدنامی ہو لیکن ہر ایسا دن یا موقع جس سے ہمارے ملک کی عزت بڑھتی ہے یا بین الاقوامی سطح پر ایک اچھا پیغام جاتا ہے اس میں سے یہ کیڑے نکالتے ہیں، اپنی پسندیدہ جو ان کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو تاریخ سے دلائل لے کر آتے ہیں کیونکہ اس کے علاؤہ تاریخ ان کے نزدیک جھوٹی ہوتی ہے اور قارئین کو تذبذب میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی انا کی اس تسکین کو سچ کا نام دیتے ہیں لیکن اگر کسی نے ان کے اس "سچ” کی تردید میں واقعی سچ لکھ دیا تو وہ مطالعہ پاکستان کا مارا، پالشی، بنیاد پرست اور پتہ نہیں کیا کیا ہو جاتا ہے۔

    ایسی سوچ رکھنے والوں کی ایک نشانی اور بھی ہے آپ اگر بھارت کا پاکستان کے خلاف کسی اقدام بارے کچھ لکھ دیں بیشک اس لکھنے کا سورس بھارت کا اپنا ہی میڈیا یا بین الاقوامی اشاعتی اداریں ہوں تو یہ آناً فاناً اُس کے دفاع میں ٹپک پڑتے ہیں اور ساتھ میں اپنے ہی ملک کو بھی رگید ڈالتے ہیں اور اگر جواب آں غزل میں کسی نے اتنا تک لکھ دیا کہ بھارت کی بات ہو رہی ہے آپ کیوں تکلیف کی زحمت اُٹھا رہے ہیں؟ تو اپنا پُرانا رنڈی رونا شروع کر دیتے ہیں کہ "بس؟ آ گئے ناں غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے یا سچ ہضم نہیں ہوا نا؟”

    آخر ایسی سوچ کے مالک لوگ ہیں کون؟ ان کے ارادے کیا ہیں؟ یہ چاہتے کیا ہیں؟ یہ احساسِ کمتری کے مارے ہیں یا محرومی کے؟ نفسیاتی مریض ہیں یا کسی غلط فہمی کے شکار؟ کچھ تو ہے یہ لوگ صرف اپنے ہی کہے کو "سچ” اور سب سے ذیادہ علم والے مانتے ہیں باقی ان کے نزدیک "جھوٹے” ہیں، لاعلم ہیں تاریخ وہی ہے جو ان کے نزدیک تاریخ ہے نہیں تو مطالعہ پاکستان ہے۔

    اسی سوچ والے لوگ اتنا کچھ کہنے لکھنے اور سُنانے کے باجود رونا روتے ہیں کہ یہاں آزادیِ اظہار رائے پر پابندی ہے، مذہبی شدت پسندی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں لیکن اپنی شدت پسند رویوں کے قائل نہیں ہوتے اور پھر ساتھ میں کہتے اور لکھتے بھی ہیں کہ "ہمارا سچ کسی سے ہضم نہیں ہوتا” اللّٰہ تعالٰی تمہارا یہ سچ تمہیں پر پلٹ دے تاکہ معلوم تو ہو کہ واقعی میں آپ کتنے سچ کے قائل ہیں۔

    اللّٰہ تعالٰی پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھے بیشک وہ قصداً کرتے ہوں یا لاعلمی میں پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر آمین۔

    آخر یہ لوگ ہیں کون
    تحریر:
    برہم مروت

  • ویلینٹائن ڈے اور اسلام    تحریر : انس عبدالباسط

    ویلینٹائن ڈے اور اسلام تحریر : انس عبدالباسط

    ویلینٹائن ڈے دو وجہ سے غلط ہے. ایک تو یہ ہے کہ یہ یوم رومانیت ہے یہ Romance Day ہے. اور رومانیت کا تصور اگر  اسلام میں کہیں موجود ہے تو وہ صرف شوہر اور بیوی کے درمیان موجود ہے اس کے علاوہ اور کسی رشتہ میں رومانیت کا اسلام میں کوئی تصور موجود نہیں ہے. آزاد رومانیت لڑکے لڑکی کا آپس میں ملنا تحفہ تحائف دینا، ان کے درمیان نہ جائز تعلقات کا ہونا اس کا اسلامی تہذیب و تمدن میں دور دور تک کا  بھی کوئی تصور نہیں ہے. ایک تو اس میں یہ کباہت والی بات ہے.
    اور دوسری اس میں کباہت والی بات یہ ہے کہ ویلینٹائن ڈے صرف سماجی رسم نہیں بلکہ یہ ایک مزہبی رسم بھی ہے. اور Catholic Church  کے مطابق اور Arthur’s Dog Church کے مطابق پوری دنیا میں *14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے* . گویا کہ ایک تیر سے دو شکار کیے جاتے ہیں. ایک تو مسلمانوں کو تہذیبی اعتبار سے گمراہ کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جیسے کہ کرسمس (Christmas) کا تہوار ہوتا ہے اسی طرح ہے مسلمان نوجوانوں کو اپنے تہذیبی تہوار میں جزب(Absorb) کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.
    کوئی بھی غیرت مند مسلمان حضرت محمدٌ کی اس حدیث کے اوپر عمل کرتے ہوئے کبھی بھی غیر مسلموں کے کسی بھی تہوار کو قبول نہیں کرسکتا.
    *آپٌ نے فرمایا : جو کسی قوم کی مشاہبت کو اختیار کرتا ہے وہ ان ہی میں سے ہے.* ہمارے مزہب میں جبر نہیں ہے، ظلم نہیں ہے، دباؤ نہیں ہے. ہم عیسائیوں کو ان کے عبادت گھروں میں جانے سے، ان کو اپنے مزہبی تہواروں کو منانے سے نہیں روکتے، ہم ان کو انجیل پڑھنے سے نہیں روکتے، ہم ان کو جبرًا اپنے مزہب میں داخل کرنے کی جستجو نہیں کرتے لیکن ہمارے مزہب کا یہ رویہ بلکل واضع ہے کہ کرسمس (Christmas) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، ہولی(Holli) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، تمہارے تہوار اپنے ہیں ہمارے تہوار اپنے ہیں. کیا تم نے کسی عیسائی کو عیدالاضحیٰ کے دن قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے..؟ کیا آپ نے رمضان المبارک میں کسی یہودی یا ہندو کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ہے..؟؟ کیا آپ نے کسی غیر مسلم کو یوم عرفات کے دن روزہ رکھتے ہقئے دیکھا ہے..؟؟ اگر کوئی غیر مسلم آپ کا تہوار نہیں مناتا اسے پتہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا تہوار ہے اور میں غیر مسلم ہوں. تو مسلمانوں تمہاری عقل کو کیا ہو گیا ہے تم عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کے تہوار کو کیوں مناتے ہو.. کرسمس ان کا تہوار ہے. ہولی ان کا تہوار ہے یہ سارے کہ سارے تہوار ان کے ہیں. ویلینٹائن ڈے ان کا تہوار ہے. ہمارے ان تہواروں سے کوئی تعلق نہیں.تم اتنے لبرل کیوں بنتے ہو کبھی بھی غیر مسلم نے تمہارے تہواروں پر اپنی مہر لگانے کی جستجو نہیں کی تو تم کیوں ان کے تہواروں کو اپنے تہوار بنانے کی کوشش کرتے ہو.آپٌ کا امتی اٹھتا ہے جو اپنے آپ کو آزادی خیالی اور لبرلازم کا علم بردار بن کر میدان عمل میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بھی کرسمس کا کیک کاٹوں کا میں بھی ہولی کا تہوار منائوں کا اور مین بھی ویلنٹائن ڈے جیسے تہواروں کو منائوں گا..مسلمان تجھے کیا ہو گیا ہے ان کے تہوار اپنے ہیں تیرے تہوار اپنے ہیں. ان کی زندگی اپنی ہے تیری اپنے ہے ان کے زندگی گزارنے کے طریقے اپنے ہیں تیرے اپنے ہیں.اسلامی جمہوریہ پاکستان یا کسی بھی اسلامی ریاست میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کو زندہ رہنے کا حق ہے. اسی طرح ان کے تہواروں کو منانے کا حق ان کا ہے، انجیل پڑھنے کا حق ان کو ہے تجھ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تو قرآن کے ہوتے ہوئے انجیل پڑھنا شروع کر دے..

  • "ویلنٹائن ڈے یا یوم فلسطین” تحریر: محمد عبداللہ

    "ویلنٹائن ڈے یا یوم فلسطین” تحریر: محمد عبداللہ

    ویسے تو دنیا بھر کے کمزور اور مقبوضہ مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کوئی ایام مخصوص نہیں ہوتے مگر کیا کریں ہم اپنی ہی شہ رگ کو پنجہ ہنود میں دے کر بھول چکے ہیں اور سال میں چند مخصوص ایام یا پانچ فروری کو یاد کرکے یکجہتی کی محافل و مجالس منعقد کرکے حق ادا کر دیتے ہیں کہ سال بھر کشمیر کا نام لینا اور یکجہتی کشمیر کا اپنے لہو اور پسینے سے اظہار کرنا تو دہشت گردی ٹھہرا اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے پس دیوار زنداں ڈال دیے گئے لہذا آجاکر اک پانچ فروری بچتا ہے جس میں پوری قوم مقبوضہ شہ رگ والوں سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کرتی ہے.
    یہ دن بھی کوئی باقاعدہ آئین پاکستان کی رو سے نہیں ہے بلکہ نوے کی دہائی میں قاضی حسین احمد مرحوم کی ترغیب پر اس وقت کی حکومت نے اس دن کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیا. ایسے ہی پچھلے دو تین برسوں سے امت مسلمہ کی حالت زار پر کڑھنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے 14 فروری کو یوم فلسطین کے نام سے منانا شروع کیا ہوا ہے کہ اس دن وہ قبلہ اول اور وہاں پر پنجہ یہود میں جکڑے اہل ایمان فلسطینیوں کو یاد کرکے ان کی آزادی کی خاطر سوشل میڈیا پر آواز بنتے ہیں. یہ ایک احسن اقدام ہے جو سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے شروع کیا ہے.
    البتہ اس کے لیے جس دن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ دن اہل مغرب کے ہاں پیار و محبت کے اظہار کا دن ہے جس کو لے کر یہاں دیسی بھی بدیسی بنتے ہوئے اس دن کو پیار و محبت کے اظہار کے نام پر ہوس کی آگ بجھاتے نظر آتے ہیں لہذا بالخصوص ان دیسیوں اور کچھ معتدل افراد کو اس خاص دن کو فلسطین کے نام مخصوص کرنا گراں گزرتا ہے حالانکہ بہتے ہوئے خون مسلم کے ساتھ کھڑا ہونے سے زیادہ محبت کا اظہار ہو ہی نہیں سکتا.
    دوسری بات کہ یہ ویلنٹائن کوئی ہمارا اسلامی یا سرکاری تہوار یا ایونٹ تو ہے نہیں جو اس قدر فکر مند ہوں البتہ اگر حکومت پاکستان اور ذمہ داران ادارے اس دن کو فلسطین کے مجبور و مقہور مسلمانوں کے نام کردیتے ہیں تو اس سے فلسطینیوں کو بھی حوصلہ ملے گا اور دوسرا ویلنٹائن کے نام پر ہونے والی حیا باختگی اور ہوس کے کھیل بھی ختم ہونگے اس لیے زیادہ سے زیادہ آواز ملائیے تاکہ ذمہ داران بھی باقاعدہ اس دن کو فلسطین کے نام کردیں.
    وما توفیقی الا باللہ