Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ہماری عداوتیں  اور جادو ٹونا  تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری عداوتیں اور جادو ٹونا تحریر: غنی محمود قصوری

    اس دنیا میں رہتے ہوئے ہمارا واسطہ کئی طرح کے حاسدین و دشمنوں سے پڑتا ہے کچھ تو ہمیں سامنے آکر مارنے پیٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ ہمیں ناجائز مقدمات میں پھنسا کر مالی و ذہنی پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنا حسد بغض و کینہ جادو کے ذریعے نکالتے ہیں ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و کمینے ہوتے ہیں جو اپنا حسد و بغض تو نکالنا چاہتے ہیں مگر خود سامنے بھی نہیں آنا چاہتے ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و ظالم ہوتے ہیں
    ہمارے معاشرے میں جادو ٹونے کا بہت زیادہ رواج چل نکلا ہے کوئی کسی سے مال و دولت کے حسد کی بناء پر جادو ٹونا کرتا ہے تو کوئی خاندانی رشتہ داریوں میں خلل ڈالنے کیلئے
    جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں مگر ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ رزق،دولت،صحت،تندرستی،بیماری،شفاء غرضیکہ سب کچھ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اگر جادو کے اثرات مستقل ہوتے تو یقینا آج اس دنیا پر جادوگروں کا قبضہ ہوتا اور وہ اپنی روزی روٹی کیلئے یوں لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان کی جیبیں صاف نا کرتے اگر جادو ہی سب کچھ ہے تو جادوگر گھر بیٹھے آرام سے دنیا کی ہر نعمت حاصل کرے اور جسے چاہے مار دے اور جس کی چاہے روزی بند کر دے مگر ایسا ہر گز نہیں
    جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جادو ہوا تھا جو کہ لبید بن اعصم نامی یہودی نے کیا تھا اس جادو کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بھول جاتے تھے کہ فلاں کام آپ نے کیا ہے مگر وہ کام آپ نے نہیں کیا ہوتا تھا
    صحیح بخاری حدیث 3175
    مگر پھر اللہ رب العزت کی طرف سے دو فرشتے نازل ہوئے اور آپ پر دم کیا گیا اور آپ کو اللہ نے شفاء عطا فرمائی
    درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ جادو کے اثرات ضرور ہوتے ہیں مگر جادو ہمیشہ نہیں رہتا بلکہ قرآنی آیات اور اذکار مسنونہ کے دم کرنے سے جادو ختم ہو جاتا ہے مگر جادو کرنے کروانے والا لبید بن اعصم یہودی کا پیروکار ہے
    جادو کرنے اور جادو کروانے والے کی اسلام نے خوب نفی کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرانے سے بچو صحیح بخاری 5764 ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائینگے 1 شراب پینے والا 2 قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا 3 جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا مسند احمد جلد 4 صفحہ 399
    جہاں جادو کرنے کی ممانعت ہے وہاں جادو کروانے والے کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگ جنت کے بلکل بھی حقدار نہیں حالانکہ ہمارے معاشرے میں آج جگہ جگہ عاملوں ،بابوں،اور کاہنوں کے اڈے سرعام کھلے ہوئے ہیں اور لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حسد کرکے ایک دوسرے پر جادو ٹونا کروا رہے ہیں اور یوں ان جادوگروں کی روٹی قائم ہے جادو کرنے کروانے والا تو جہنمی ہے ہی مگر انجانے میں ہم بھی کالے جادو کی توڑ کیلئے انہی بابوں،عاملوں اور کاہنوں کا سہارا لے کر اس عظیم جرم میں شریک ہو رہے ہیں واضع رہے کہ نبی ذیشان پر جادو ہوا تو انہیں مسنون اذکار اور آیات کے ذریعے دم کیا گیا تھا ناکہ جادو کا مقابلہ جادو سے کیا گیا تھا ہم سمجھتے ہیں کہ جادو کو جادوگر ہی ختم کر سکتا ہے یہ بات صریحا غلط ہے اور ایسا کرنے سے ہم بھی جادو کروانے والوں میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے ، موسی نے کہا کہ تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ تمہارے پاس آ چکا ہے؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پاتے۔ سورت یونس آیت 77
    جادو چاہے خود کیا جائے یا کروایا جائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے یہ سب عمل بد ہے کیونکہ ابن عباس رصی اللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے علم نجوم کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کر لیا وہ نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادو گر کافر ہے لم اجدہ،رواہ رزین
    فرمان نبوی سے ثابت ہوا کہ جادوگر کافر ہے چاہے کوئی اپنی روزی روٹی کیلئے جادو کرے یا کسی سے حسد و بغض پر جادو کرے کروائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے سب کا شمار جادو کرنے والوں میں ہوگا لہذہ اس لعنت سے توبہ کرکے جادو کی کاٹ کیلئے اذکار مسنونہ و آیات قرآن حکیم سے جادو و سحر کا علاج کیجئے اور اپنی دنیا و آخرت خراب ہونے سے بچائیں
    خصوصی طور پر معوذ تین ،آیت الکرسی اور سورت بقرہ کی آخری دو آیات خود زبانی یاد کیجئے اور پڑھ کر اپنے و سحر زدہ مریض پر دم کریں نہار منہ 7 عجوہ کجھور کھانے سے بھی جادو کا اثر ختم ہوتا ہے
    اللہ تعالی ہمیں قرآن و حدیث پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جادو کا شکار ہونے ،جادو کرنے اور جادوگر کا سہارا لینے سے بچائے رکھے آمین

  • آخر یہ لوگ ہیں کون؟—-از–برہم مروت

    آخر یہ لوگ ہیں کون؟—-از–برہم مروت

    آج کل پوری تندہی سے کوشش ہوتی ہے کہ ایسے موضوع پر کچھ نہ لکھوں کہ جس سے کسی پر طنز کرنے، کسی سے نفرت کے اظہار کا شائبہ ہو یا اس موضوع سے ہٹ کر بات کو کوئی اور رُخ دے کر فضول کا بحث و مباحثہ شروع ہو جائے لیکن طبیعت کچھ ایسی ہے کہ چند ایسے موضوعات یا باتوں پر اگر اپنے احساسات کو بیان نہ کروں تو بڑی تکلیف میں ہوتا ہے اسلئے آج پھر لکھنے بیٹھا ہوں۔

    کچھ عرصے سے دیکھ اور پڑھ رہا ہوں کہ جیسے ہی کوئی ایسی تحریر یا ویڈیو کوئی لگاتا ہے جس میں ہمارے ملک پاکستان کی بھلائی یا خیر کا پہلو اُجاگر ہوا ہوتا ہے تو ایک "مخصوص سوچ” کے نمائندے فوراً سے پیش تر آن ٹپکتے ہیں۔

    سب سے پہلے تو اُس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہوتے جو حاملِ پوسٹ نے نشاندہی کی ہوتی ہے لیکن جب سمجھ جاتے ہیں کہ واقعی یہ بات تو سچ ہے تو پھر نئے ہتھیار استعمال کر کے کہتے ہیں کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ سچ ہے (جیسے بہت بڑا احسان کر رہے ہوں) لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطلب مکھی کی طرح ہاتھ ملتے ہوئے پورے جسم کو چھوڑ کر واپس پھوڑے پر ہی آ بیٹھتے ہیں اور اگر اس کے بعد بھی کوئی ایسوں کو مطمئن بھی کر لیتا ہے تو ایسے اطمینان سے اُن کی اناؤں کو ضرب لگ جاتی ہے جس سے فرسٹریشن کا شکار ہو کر یہی لوگ پھر ہفوات بکنے پر آ جاتے ہیں۔

    یہی لوگ ایک اور کام بڑھے شد و مد کے ساتھ کرتے ہیں کہ ہر اس بات، موضوع یا واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جس میں ان کے اپنے ہی ملک کی بدنامی ہو لیکن ہر ایسا دن یا موقع جس سے ہمارے ملک کی عزت بڑھتی ہے یا بین الاقوامی سطح پر ایک اچھا پیغام جاتا ہے اس میں سے یہ کیڑے نکالتے ہیں، اپنی پسندیدہ جو ان کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو تاریخ سے دلائل لے کر آتے ہیں کیونکہ اس کے علاؤہ تاریخ ان کے نزدیک جھوٹی ہوتی ہے اور قارئین کو تذبذب میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی انا کی اس تسکین کو سچ کا نام دیتے ہیں لیکن اگر کسی نے ان کے اس "سچ” کی تردید میں واقعی سچ لکھ دیا تو وہ مطالعہ پاکستان کا مارا، پالشی، بنیاد پرست اور پتہ نہیں کیا کیا ہو جاتا ہے۔

    ایسی سوچ رکھنے والوں کی ایک نشانی اور بھی ہے آپ اگر بھارت کا پاکستان کے خلاف کسی اقدام بارے کچھ لکھ دیں بیشک اس لکھنے کا سورس بھارت کا اپنا ہی میڈیا یا بین الاقوامی اشاعتی اداریں ہوں تو یہ آناً فاناً اُس کے دفاع میں ٹپک پڑتے ہیں اور ساتھ میں اپنے ہی ملک کو بھی رگید ڈالتے ہیں اور اگر جواب آں غزل میں کسی نے اتنا تک لکھ دیا کہ بھارت کی بات ہو رہی ہے آپ کیوں تکلیف کی زحمت اُٹھا رہے ہیں؟ تو اپنا پُرانا رنڈی رونا شروع کر دیتے ہیں کہ "بس؟ آ گئے ناں غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے یا سچ ہضم نہیں ہوا نا؟”

    آخر ایسی سوچ کے مالک لوگ ہیں کون؟ ان کے ارادے کیا ہیں؟ یہ چاہتے کیا ہیں؟ یہ احساسِ کمتری کے مارے ہیں یا محرومی کے؟ نفسیاتی مریض ہیں یا کسی غلط فہمی کے شکار؟ کچھ تو ہے یہ لوگ صرف اپنے ہی کہے کو "سچ” اور سب سے ذیادہ علم والے مانتے ہیں باقی ان کے نزدیک "جھوٹے” ہیں، لاعلم ہیں تاریخ وہی ہے جو ان کے نزدیک تاریخ ہے نہیں تو مطالعہ پاکستان ہے۔

    اسی سوچ والے لوگ اتنا کچھ کہنے لکھنے اور سُنانے کے باجود رونا روتے ہیں کہ یہاں آزادیِ اظہار رائے پر پابندی ہے، مذہبی شدت پسندی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں لیکن اپنی شدت پسند رویوں کے قائل نہیں ہوتے اور پھر ساتھ میں کہتے اور لکھتے بھی ہیں کہ "ہمارا سچ کسی سے ہضم نہیں ہوتا” اللّٰہ تعالٰی تمہارا یہ سچ تمہیں پر پلٹ دے تاکہ معلوم تو ہو کہ واقعی میں آپ کتنے سچ کے قائل ہیں۔

    اللّٰہ تعالٰی پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھے بیشک وہ قصداً کرتے ہوں یا لاعلمی میں پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر آمین۔

    آخر یہ لوگ ہیں کون
    تحریر:
    برہم مروت

  • ویلینٹائن ڈے اور اسلام    تحریر : انس عبدالباسط

    ویلینٹائن ڈے اور اسلام تحریر : انس عبدالباسط

    ویلینٹائن ڈے دو وجہ سے غلط ہے. ایک تو یہ ہے کہ یہ یوم رومانیت ہے یہ Romance Day ہے. اور رومانیت کا تصور اگر  اسلام میں کہیں موجود ہے تو وہ صرف شوہر اور بیوی کے درمیان موجود ہے اس کے علاوہ اور کسی رشتہ میں رومانیت کا اسلام میں کوئی تصور موجود نہیں ہے. آزاد رومانیت لڑکے لڑکی کا آپس میں ملنا تحفہ تحائف دینا، ان کے درمیان نہ جائز تعلقات کا ہونا اس کا اسلامی تہذیب و تمدن میں دور دور تک کا  بھی کوئی تصور نہیں ہے. ایک تو اس میں یہ کباہت والی بات ہے.
    اور دوسری اس میں کباہت والی بات یہ ہے کہ ویلینٹائن ڈے صرف سماجی رسم نہیں بلکہ یہ ایک مزہبی رسم بھی ہے. اور Catholic Church  کے مطابق اور Arthur’s Dog Church کے مطابق پوری دنیا میں *14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے* . گویا کہ ایک تیر سے دو شکار کیے جاتے ہیں. ایک تو مسلمانوں کو تہذیبی اعتبار سے گمراہ کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جیسے کہ کرسمس (Christmas) کا تہوار ہوتا ہے اسی طرح ہے مسلمان نوجوانوں کو اپنے تہذیبی تہوار میں جزب(Absorb) کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.
    کوئی بھی غیرت مند مسلمان حضرت محمدٌ کی اس حدیث کے اوپر عمل کرتے ہوئے کبھی بھی غیر مسلموں کے کسی بھی تہوار کو قبول نہیں کرسکتا.
    *آپٌ نے فرمایا : جو کسی قوم کی مشاہبت کو اختیار کرتا ہے وہ ان ہی میں سے ہے.* ہمارے مزہب میں جبر نہیں ہے، ظلم نہیں ہے، دباؤ نہیں ہے. ہم عیسائیوں کو ان کے عبادت گھروں میں جانے سے، ان کو اپنے مزہبی تہواروں کو منانے سے نہیں روکتے، ہم ان کو انجیل پڑھنے سے نہیں روکتے، ہم ان کو جبرًا اپنے مزہب میں داخل کرنے کی جستجو نہیں کرتے لیکن ہمارے مزہب کا یہ رویہ بلکل واضع ہے کہ کرسمس (Christmas) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، ہولی(Holli) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، تمہارے تہوار اپنے ہیں ہمارے تہوار اپنے ہیں. کیا تم نے کسی عیسائی کو عیدالاضحیٰ کے دن قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے..؟ کیا آپ نے رمضان المبارک میں کسی یہودی یا ہندو کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ہے..؟؟ کیا آپ نے کسی غیر مسلم کو یوم عرفات کے دن روزہ رکھتے ہقئے دیکھا ہے..؟؟ اگر کوئی غیر مسلم آپ کا تہوار نہیں مناتا اسے پتہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا تہوار ہے اور میں غیر مسلم ہوں. تو مسلمانوں تمہاری عقل کو کیا ہو گیا ہے تم عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کے تہوار کو کیوں مناتے ہو.. کرسمس ان کا تہوار ہے. ہولی ان کا تہوار ہے یہ سارے کہ سارے تہوار ان کے ہیں. ویلینٹائن ڈے ان کا تہوار ہے. ہمارے ان تہواروں سے کوئی تعلق نہیں.تم اتنے لبرل کیوں بنتے ہو کبھی بھی غیر مسلم نے تمہارے تہواروں پر اپنی مہر لگانے کی جستجو نہیں کی تو تم کیوں ان کے تہواروں کو اپنے تہوار بنانے کی کوشش کرتے ہو.آپٌ کا امتی اٹھتا ہے جو اپنے آپ کو آزادی خیالی اور لبرلازم کا علم بردار بن کر میدان عمل میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بھی کرسمس کا کیک کاٹوں کا میں بھی ہولی کا تہوار منائوں کا اور مین بھی ویلنٹائن ڈے جیسے تہواروں کو منائوں گا..مسلمان تجھے کیا ہو گیا ہے ان کے تہوار اپنے ہیں تیرے تہوار اپنے ہیں. ان کی زندگی اپنی ہے تیری اپنے ہے ان کے زندگی گزارنے کے طریقے اپنے ہیں تیرے اپنے ہیں.اسلامی جمہوریہ پاکستان یا کسی بھی اسلامی ریاست میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کو زندہ رہنے کا حق ہے. اسی طرح ان کے تہواروں کو منانے کا حق ان کا ہے، انجیل پڑھنے کا حق ان کو ہے تجھ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تو قرآن کے ہوتے ہوئے انجیل پڑھنا شروع کر دے..

  • "ویلنٹائن ڈے یا یوم فلسطین” تحریر: محمد عبداللہ

    "ویلنٹائن ڈے یا یوم فلسطین” تحریر: محمد عبداللہ

    ویسے تو دنیا بھر کے کمزور اور مقبوضہ مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کوئی ایام مخصوص نہیں ہوتے مگر کیا کریں ہم اپنی ہی شہ رگ کو پنجہ ہنود میں دے کر بھول چکے ہیں اور سال میں چند مخصوص ایام یا پانچ فروری کو یاد کرکے یکجہتی کی محافل و مجالس منعقد کرکے حق ادا کر دیتے ہیں کہ سال بھر کشمیر کا نام لینا اور یکجہتی کشمیر کا اپنے لہو اور پسینے سے اظہار کرنا تو دہشت گردی ٹھہرا اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے پس دیوار زنداں ڈال دیے گئے لہذا آجاکر اک پانچ فروری بچتا ہے جس میں پوری قوم مقبوضہ شہ رگ والوں سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کرتی ہے.
    یہ دن بھی کوئی باقاعدہ آئین پاکستان کی رو سے نہیں ہے بلکہ نوے کی دہائی میں قاضی حسین احمد مرحوم کی ترغیب پر اس وقت کی حکومت نے اس دن کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیا. ایسے ہی پچھلے دو تین برسوں سے امت مسلمہ کی حالت زار پر کڑھنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے 14 فروری کو یوم فلسطین کے نام سے منانا شروع کیا ہوا ہے کہ اس دن وہ قبلہ اول اور وہاں پر پنجہ یہود میں جکڑے اہل ایمان فلسطینیوں کو یاد کرکے ان کی آزادی کی خاطر سوشل میڈیا پر آواز بنتے ہیں. یہ ایک احسن اقدام ہے جو سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے شروع کیا ہے.
    البتہ اس کے لیے جس دن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ دن اہل مغرب کے ہاں پیار و محبت کے اظہار کا دن ہے جس کو لے کر یہاں دیسی بھی بدیسی بنتے ہوئے اس دن کو پیار و محبت کے اظہار کے نام پر ہوس کی آگ بجھاتے نظر آتے ہیں لہذا بالخصوص ان دیسیوں اور کچھ معتدل افراد کو اس خاص دن کو فلسطین کے نام مخصوص کرنا گراں گزرتا ہے حالانکہ بہتے ہوئے خون مسلم کے ساتھ کھڑا ہونے سے زیادہ محبت کا اظہار ہو ہی نہیں سکتا.
    دوسری بات کہ یہ ویلنٹائن کوئی ہمارا اسلامی یا سرکاری تہوار یا ایونٹ تو ہے نہیں جو اس قدر فکر مند ہوں البتہ اگر حکومت پاکستان اور ذمہ داران ادارے اس دن کو فلسطین کے مجبور و مقہور مسلمانوں کے نام کردیتے ہیں تو اس سے فلسطینیوں کو بھی حوصلہ ملے گا اور دوسرا ویلنٹائن کے نام پر ہونے والی حیا باختگی اور ہوس کے کھیل بھی ختم ہونگے اس لیے زیادہ سے زیادہ آواز ملائیے تاکہ ذمہ داران بھی باقاعدہ اس دن کو فلسطین کے نام کردیں.
    وما توفیقی الا باللہ

  • 14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین   تحریر :غنی محمود قصوری

    14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین تحریر :غنی محمود قصوری

    ہر 14 فروری کو دنیا بھر میں کفار کا ایک تہوار ویلنٹائن ڈے جسے Saint Valentine’s Day بھی کہا جاتا ہمارے اس ارض پاک پر بھی منایا جاتا ہے
    اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ بے راہ روی کا شکار جوڑے ایک دوسرے کو پھول دے کر اظہار محبت کرتے ہیں اسی لئے اسے Lover,s Festival بھی کہتے ہیں
    اس دن کے حوالے سے کوئی مستند روایات موجود نہیں کہا جاتا ہے کہ 1700 میں روم میں ایک سینٹ ویلنٹائن نامی راہب تھا جسے ایک (Nun) نن نامی راہبہ سے عشق ہو گیا مسیحیت میں کسی راہب یا راہبہ کا نکاح و جنسی تعلقات سخت ممنوع ہیں مگر عشق و محبت کے مارے راہب سینٹ ویلنٹائن نے نن راہبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جسے راہبہ نے ٹھکرا دیا سو افسانوی کہانی سناتے ہوئے سینٹ ویلنٹائن نے نن سے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ اگر ہم 14 فروری کو جنسی تعلقات قائم کرلیں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا جسے نن نے مان لیا اور یوں دونوں مذہب کے رکھوالے مذہب کی عہد شکنی کرگئے جس کا علم کلیسا کو ہو گیا
    چونکہ یہ واقعہ کلیسا کی روایات کے سخت خلاف تھا اس لئے انہیں فوری قتل کر دیا گیا اور یوں ان دین سے بیزاروں خود ساختہ عاشقوں کی کہانی اس وقت کے جوان بے راہ روی پر مبنی جوڑوں تک پہنچی تو انہوں نے اس پریم کہانی کو زندہ کرنے کیلئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا حالانکہ خود مسیحیت میں بھی اس دن کو برا سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی ہمارے ملک میں اسے بڑے جوش و جذے کیساتھ منایا جاتا ہے مگر میرے آقا علیہ السلام نے کفار کی مشہابت کی سخت مخالفت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔صحیح بخاری 3329
    حدیث کی رو سے کفار کی مشہابت اختیار کرنے والے کا دین اسلام اور جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں
    اب آتے ہیں اس بے ہودہ دن ویلنٹائن ڈے کو یوم یکجہتی فلسطین میں بدلنے پر تاکہ ہمارے مسلمان اس بے ہودہ دن کو بھول کر اپنے قبلہ اول کی آزادی کی خاطر کھڑے ہو سکیں اور جان سکیں کے مسئلہ فلسطین آخر ہے کیا
    لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے
    عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے
    1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلم ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا
    1947 میں عیسائی برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھائے رکھا اور یہودیوں کو فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا اور یوں یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوتے چلے گئے مکار یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے
    اقوام متحدہ میں کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین بھی آج دن تک جو کا تو ہے 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا جسے عربوں نے سخت نامنظور کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم جنگوں میں بدل گئے تھے
    1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا
    کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کرلیا کہ بس مسلمانوں تم محض ایک دن منا لیا کرو اور آہستہ آہستہ فلسطین اپنے قبلہ اول کو بھول جاءو
    بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں

    سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015
    اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور یہی پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ ہو گا ان شاءاللہ اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور ان کا ہر محاذ پر مردانہ وار مقابلہ کیا جا رہا ہے لہذہ ہمارا بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے حق بنتا ہے کہ ہم بھی جاری تحریک آزادی قبلہ اول میں اپنا کردار ادا کریں
    تو میرے عظیم پاکستانی بہن بھائیوں کافر کے ویلنٹائن ڈے کا بائیکاٹ کرکے اپنے قبل اول کی آزادی کی خاطر فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اس 14 فروری کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منائیں

  • قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ

    قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ

    تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو نظر آتا ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی روئے زمین پہ بسنے والی قومیں کسی نہ کسی صورت تفاخر کے مرض میں مبتلا رہی ہیں، کوئی نسل یا قومیت کے فخر تو کوئی رنگ یا زبان کی وجہ سے خود کو دوسروں سے الگ سمجھتے، دین اسلام قومیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن شناخت کے لیے جس کا ذکر رب کریم نے سورہ حجرات میں کیا کہ ” ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو”

    لیکن افسوس کہ ہم نے قومیت کا غلط استعمال کیا اور اس نظریہ فاسد نے قوموں کو تقسیم کرکے نفرتوں میں مبتلا کردیا، پیر اکرم شاہ الازہری لکھتے ہیں کہ "اس شر انگیز نظریہ نے جنگ و جدل کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھا، یہ صرف زمانہ قدیم تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اس کے ہاتھوں انسانیت کی قبا تار تار ہے قوم پرستی، رنگ، نسل اور زبان کے بتوں کی پوجا آج بھی اسی زور سے جاری ہے”

    اگرچہ آج دنیا ایک گلوبل ولیج کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس بت نے سماج کو دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے، سب سے پہلے اس بت کو رسول خدا حضرت محمدؐ نے توڑا اور انسانیت کا درس دیا، حضور اقدسؐ نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا اور مسلمانوں کو ایک ملت بنایا اور اسی نظریہ کی بنیاد پہ ریاست پاکستان کا وجود روئے ارضی پہ قائم ہوا لیکن افسوس کہ جلد ہی ہم نے اپنی اصلیت اپنی اساس کو بھلا کر رنگ، نسل، زبان کے بتوں کی پوجا شروع کردی جس کی وجہ سے ملک و ملّت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا،

    پاکستان کی تاریخ لسانی قوم پرستی سے بھری پڑی ہے کبھی پشتون کے نام سے تو کبھی بلوچ، کبھی سندھی تو کبھی مہاجر اور بنگالی کے نام پہ تحریکوں نے جنم لیا اور تاریخ شاہد ہے کہ جتنا نقصان ملک و ملّت کو نسلی و لسانی نعروں کی وجہ سے پہنچا شاید ہی کسی اور چیز نے پہنچایا ہو، یہ نسلی و لسانی تفریق ہی تھی جس کی وجہ سے سانحہ مشرقی پاکستان جیسا عظیم حادثہ پیش آیا لیکن اس کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا، ہم لسانیت کی لعنت میں اس قدر غرق ہوچکے ہیں تمام تر اخلاقی اقدار بھی کھوچکے ہیں

    یہ حقیقت ہمارے روز مرہ مشاہدے میں ہے کہ ہم قاتلوں اور بدعنوانوں کی حمایت میں بھی اس بنیاد پہ کھڑے ہوجاتے ہیں کہ وہ ہماری زبان یا علاقے یا قبیلے کے ہیں، اس سے بڑھ کر پستی کیا ہوگی کہ لسانی بنیاد پہ ہم مظلوم کے مقابلے میں ظالم اور حق کے مقابلے میں باطل کا ساتھ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، مشرقی پاکستان میں لسانی نعروں کے بعد ایسی نفرت نے جنم لیا کہ بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت ہم سے الگ ہوگیا جس پر اندرا گاندھی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوے کہا جس کا مفہوم یہ ہے کہ "مسلمان ایک قوم ہیں اس نظریہ کو آج ہم نے سمندر میں غرق کردیا ہے”

    اس کے باوجود ہم نے سبق نہ لیا اور اس کے بعد سندھ میں ایک طرف تو سندھو دیش تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو ساتھ ہی اس کے مقابل مہاجر قومی موومنٹ کے نام پر مہاجر تحریک نے شہری سندھ میں پنجے گاڑ لیے جس کے بعد سندھ ایک عرصے تک جلتا رہا، بات حقوق کی کی جاتی رہی لیکن پس پردہ مقاصد کچھ اور ہی نکلے، MQM تیس سال اقتدار میں رہی لیکن آج بھی ان کا رونا وہی ہے کہ مہاجروں کے حقوق جبکہ جئے سندھ کی آڑ میں سندھیوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کے خود کے تو محلات بن گئے

    بچے یورپ و امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں بہت سے وہیں سیٹل ہیں لیکن عام سندھی و عام مہاجر کی حالت "ہنوز روز اول است” کے مصداق ویسی ہی ہے جیسی ان تحریکوں کے قیام کے پہلے روز تھی اور اگر کچھ حاصل رہا تو وہ بےمعنی و بےمقصد کی نفرت کے سوا کچھ نہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں پانچ بار بلوچ نیشنلزم کے نام پر شورش نے جنم لیا بہت سے گھر اجڑ گئے، اول تو بلوچستان تقریباً ہی نظرانداز رہا لیکن اگر حکومت یا افواج پاکستان نے ڈویلپمنٹ کرنی شروع کی تو بلوچ حقوق و ڈویلپمنٹ کے علمبرداروں کو برداشت نہ ہوا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ کوئی منصوبہ بلوچستان میں کامیاب نہ ہو لیکن افواج پاکستان نے قربانیاں دیکر بہت سی مشکلات جھیل کر بلوچستان میں نہ صرف امن قائم کیا بلکہ بہت سے منصوبے بھی کامیابی سے جاری ہیں،

    پاکستان جب قائم ہوا تو ہندوتوا دہشتگردوں اور صہیونیت کے پیروکاروں کو دلی صدمہ ہو لیکن افسوس کہ ان کے علاوہ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی ممبرشپ کے خلاف درخواست بھی جمع کروائی، اس کے علاوہ اوائل میں ہی پشتونستان کے نام پر علیحدگی کی تحریک کو ابھارا اور پاکستان میں خوب دراندازی کی، داود خان کی قیادت میں افغانستان نے نہ صرف کراس بارڈر ٹیررزم کو پروموٹ کیا بلکہ بلوچ و پشتون علیحدگی پسندوں کی کھل کر سرپرستی بھی کی جس کے جواب میں ذوالفقار بھٹو نے افغانستان کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہوے جلد ہی اسے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا

    جسکے بعد سے ایک لمبے عرصے تک اس جانب سے پاکستان میں سکون رہا لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر افغانستان پاکستان مخالف سازشوں کا گڑھ بن کر سامنے آیا اور جب تمام تر سازشوں کو افواج پاکستان نے ناکام بنادیا تو PTM کے نام سے پشتونستان تحریک کے گڑھے مردے میں جان ڈال دی، جس طرح نقیب اللہ محسود کی شہادت کی آڑ میں ڈرامائی انداز میں PTM کو وجود حاصل ہوا اور جس پیمانے پر منظور پشتین کی عالمی و ملک کے مخصوص میڈیا نے تشہیر کی وہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پولیس مقابلے تو پاکستان میں ہزاروں ہوے لیکن کبھی ان میڈیا پرسنز کو کسی پشتون یا غیرپشتون سے اتنی ہمدردی نہیں ہوئی جبکہ شہید نقیب اللہ ہوا لیکن مخصوص میڈیا تشہیر منظور پشتین اور PTM کی کرتا رہا، PTM کا نعرہ ہے

    پشتون حقوق کا لیکن یہ بھی حران کن ہے کہ آخر پشتونوں کے ساتھ ملک میں کونسی ناانصافی ہے شروع سے ہی ملکی اقتدار کے بڑے حصے پر پشتون قابض رہے آج بھی ہیں، بنگلہ دیش سے آنے والے بنگالیوں کو چالیس سے پچاس سال بعد بھی تارکین وطن کہا گیا لیکن بہت سے افغان پاکستان کے شہری بھی بن گئے اور یہاں بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک بھی ہوگئے، خیبرپختونخواہ میں پنجابی بلوچ یا سندھی سیٹل نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود تینوں صوبوں کی مارکیٹوں پر پشتون تاجران غالب ہیں اور کسی نے ان سے نفرت کا اظہار نہیں کیا،

    سرکاری ملازمتیں ہوں یا کوئی بھی اسکیم اس میں بڑا حصہ پشتونوں پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود جھوٹا نعرہ لگایا جارہا ہے کہ پشتونوں کو حقوق حاصل نہیں جوکہ پشتونوں کے ساتھ ہی دھوکہ فریب کیا جارہا ہے کیونکہ ایک بار اگر اس سازش کو زرا بھی کامیابی مل گئی تو اس میں نقصان جتنا محب وطن پشتونوں کا ہوگا اتنا کسی اور کا نہیں ہوگا، افغانستان نہ کل پشتونوں کا ہمدرد تھا نہ آج ہے، کل بھی لر او بر افغان کا نعرہ لگانے والوں نے افغانستان کی سرزمین پر غریب پشتونوں کے ساتھ ظلم کیا آج بھی جاری ہے،

    زرا سوچئے اگر افغانستان میں پشتونوں کو حقوق حاصل ہوتے تو وہ ترک وطن کرکے پاکستان آنے پہ مجبور کیوں ہوتے اور پاکستان و پاکستانیوں کا جگر بھی دیکھیں کہ سالوں سے افغان تارکین وطن کو بھائی سمجھ کر بوجھ برداشت کرتے آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود افغان نیشنلز پاکستان میں مختلف جرائم پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ہزاروں افغان پشتون بن کر پاکستانی شہریت حاصل کرکے پاکستانی پشتونوں کے حق پہ ڈاکہ ڈالے ہوے ہیں بہت سے افغان چند سیاسی مافیاوں کی سرپرستی حاصل کرکے سرکاری ملازمتوں پر براجمان ہیں،

    بہت سی مراعات لے رہے ہیں، بہت سی اسکیموں سے مستفید ہورہے ہیں جس سے متاثر ہونے والے ہمارے پاکستانی پشتون ہیں لیکن اس کے باوجود کبھی کسی طرف سے افغان بھائیوں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا گیا مگر افسوس ہے کہ اس کے باوجود نعرہ لگایا جارہا ہے "لر او بر افغان” جس کی آڑ میں ایک بار پھر پشتونوں کو ایک نئی جنگ میں جھونکنا ہے،

    برطانیہ امریکہ و دیگر یورپی ممالک میں بیٹھے افغان حضرات آج پشتونوں کے زبردستی کے ہمدرد بنے ہوے ہیں کیا کبھی انہوں نے کسی پشتون کی خیر خبر بھی لی ہے اور آج خوامخواہ کے ہمدرد بنے بیٹھے ہیں، اس صورتحال میں ہمیں من حیث القوم ایسی نفرت انگیز سیاست و سازش کا گلا گھونٹ دینا چاہئے تاکہ ملک و ملّت یک جائی، اخوّت و محبت سے ترقی کی شاہراہ پہ قدم مستحکم کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں

  • ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری

    ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے مختلف رنگ و نسل اور قد کاٹھ کے افراد پیدا فرمائے اور اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا
    لقد خلقتنا الانسان فی احسن تقویم ( سورہ التین) ترجمہ _ بلاشبہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے
    ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ جبکہ پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ افراد ذہنی و جسمانی معذور ہیں جن کی فلاح و بہبود کیلئے اور ان افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 1992 سے عالمی برادی کیساتھ پاکستان میں بھی 3 دسمبر کو عالمی یوم معذور افراد منایا جاتا ہے
    یہ افراد ہماری خصوصی محبت کے حقدار ہیں مگر افسوس کے ہم ان کو ان کے حقوق دینے کی بجائے ان پر طنزیہ وار کرتے ہیں اور بعض خود سر جاہل لوگ تو ان افراد سے مار پیٹ بھی کرتے ہیں جوکہ انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے حالانکہ یہ افراد ہمارے لئے نصیحت کا باعث ہیں مثلا اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ان لوگوں کی بدولت ہمیں اپنے ہاتھ کی قدر ہوتی ہے اگر کوئی فرد ٹانگ سے محروم ہے تو ہمیں اللہ رب العزت کی عطاء کردہ اس عظیم نعمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے کتنی بڑی نعمت بنائی ہے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا رویہ جسمانی معذوروں سے زیادہ ذہنی معذور افراد کیساتھ زیادہ ہی غلط ہے یہ وہ افراد ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت ان کی نمازوں بارے بھی سوال نہیں کرینگے جب تک کہ یہ ذہنی معذور ہوش میں نا آ جائیں مگر ہم لوگ ان کو پتھر مارتے ہیں ان کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور ان کی تذلیل کرکے فخر محسوس مرتے ہیں حالانکہ صرف بے ضرر ذہنی معذور افراد کو ہی گھر پر رکھا جاتا ہے جبکہ خطرناک قسم کے ذہنی معذور پاگل افراد کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل رکھا جاتا ہے بلکل اسی طرح زمانہ جاہلیت میں بھی ان ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں رواج تھا کہ جب کوئی بچہ ذہنی و جسمانی معذور پیدا ہوتا تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان افراد میں بھوت پریت قابض ہیں اور ہم آج ان افراد کی تذلیل کرکے اسی زمانہ جاہلیت کی تصویر بنتے ہیں پھر میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جانوروں، انسانوں کے حقوق وضع فرمائے ایسے افراد بارے حدیث ہے
    تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون لحتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے
    (سنن نسائی 5495)
    پاکستان میں ذہنی و جسمانی معذور افراد کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں بحالی معذور افراد ایکٹ 1981 کے تحت معذور افراد کیلئے نوکریوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے اور ان افراد کیلئے صحت کی سہولتوں کیساتھ ان کی بحالی اعضاء کا کام بھی حکومت پر فرض ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت تمام بنیادی سہولیات ان معذور افراد کا حق ہیں مگر افسوس کے ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ان افراد کو ان کی بنیادی سہولیات ملی ہو ورنہ ہسپتالوں ،تھانوں کچہریوں اور عدالتوں میں ان افراد کو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہی دیکھا گیا ہے
    ان افراد کی بحالی کیلئے پاکستان میں کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد سے پیار کرنے کیساتھ ان این جی اوز سے بھی تعاون کریں تاکہ ایسے افراد اپنے بنیادی حقوق حاصل کرکے عزت سے جی سکیں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان افراد کے وظائف مقرر کئے جائیں اور ان افراد کو تنگ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں دینے کا قانون نافذ کیا جائے تاکہ یہ افراد عزت و توقیر سے جی سکیں

  • امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    لڑکپن میں ایک دور دیکھا تھا کہ جب ہر روز،ہفتے یا مہینہ میں کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا۔
    بے کلی اور بے سکونی کی ایک کیفیت ہمہ وقت اعصاب پر طاری رہتی تھی۔۔۔

    بہت دل دوز مناظر اخبارات و ٹی وی سکرین دکھاتے اور دل غم میں ڈوب کر اس چمن کی سلامتی اور مضبوطی کے لیئے دعا گو ہو جاتا تھا۔
    وہی سانحات جو میرے چمن کے ستر ہزار سے زائد نفوس کو نگل گئے__جوان،بچے،بوڑھے،عورتیں اس آگ و خون کی کھیل کی نذر ہو گئے۔۔۔

    وہ جاں گزا لمحات ان کے لیئے یقیناً نہ ختم ہونے والا درد بن گئے،جن کے پیارے ایسی وارداتوں کا نشانہ بنے گئے اور اس حالت میں وطنِ عزیز کے ہر طبقہ نے قربانیاں دی ہیں۔
    لیکن وقت نے ثابت کیا کہملک کے سیکیورٹی اداروں نے تندہی و جانفشانی سے اس عفریت پر قابو پا کر چمن کے شرق و غرب اور شمال و جنوب میں امن کا پھریرا لہرا کر قوم کو امن کی بہار کا تحفہ دیا۔

    وہ خوف و دہشت کا ماحول جو در آیا تھا۔۔۔اس کے بعد قوم نے سکون اور اطمینان کی سانس لی۔
    تجارتی سرگرمیاں بڑھنے لگیں اور پاکستان کو سیاحت کے لیئے بہت موزوں ملک گردانا جا رہا ہے۔۔۔

    گوادر پورٹ اس خطے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کا پیام بننے جا رہی ہے تو ایسے میں بہت سے ملک دشمن عناصر یہ بات ہضم نہیں کر پا رہے اور بلوچستان جو شروع سے اس تخریبی ذہنیت کا نشانہ رہا ہے۔۔۔
    وہاں دو روز قبل ایک مسجد میں معصوم شہریوں کا قتل ایک انتہائی گھناؤنا کھیل ہے۔
    مسجد ہو یا مندر__گرجہ ہو یا معبد۔۔۔تمام پر امن انسانوں کی جان بہت قیمتی ہے۔
    اور پھر ایسے عناصر ایسی جگہوں کو نشانہ بنا کر متنازعہ بحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔

    اس واقعہ میں بھی انتہائی قیمتی جانوں کا زیاں قومی المیہ ہے۔
    ایک بار پھر اس طرح کے واقعات کا سر اٹھانا یقیناً ایسے عناصر کی طرف سے تخریبی انتباہ ہے۔
    وادئ مہران سے بلوچستان۔۔۔اور پنجاب سے کے پی کے تک امن و بہار کا عَلم سدا بلند رہے آمین۔

    ان عزائم کو ملک کے باوقار اداروں نے مل کر پیوندِ خاک کرنا ہے اور شہریوں کو بھی چاہیئے کہ اپنے ارد گرد ایسے مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔
    تاکہ اس چمن میں ہزاروں لوگوں کے خون کی بدولت جو بہار آئی ہے وہ ماند نہ پڑنے پائے اور ملک دشمن عناصر کو کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔
    اور یہ چمن تا قیامت روشنیوں سے منور رہے۔۔۔

    یہاں کسی بے گناہ شخص کا ناحق لہو نہ بہے اور تعمیر و ترقی کا سفر باہم ملکر جاری و ساری رہے۔
    اس چمن میں آئی ہے بہار_
    جانے کتنی قربانیوں کے بعد—
    اس گلشن کو سینچا ہے__
    پیاروں نے اپنے لہو کے ساتھ__
    اس گلشن کی روشنیوں پر__
    آئے گی جو نظرِ سیاہ__
    اُس چشمِ پر فتن کو__
    پھوڑ دیں گے ہم سب
    یکجہتی کےتیر کے ساتھ__!!!
    ان شآ ء اللہ

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

  • برداشت —از— نساء بھٹی

    برداشت —از— نساء بھٹی

    یہ نئے زمانے کا دور ہے یہاں جذبات کا کیا کام؟
    روبوٹ کبھی نفرت و الفت نہیں کرتے۔
    سائنس کے اس ترقی یافتہ دور نے انسانوں کو جتنی جسمانی سہولتیں دیں اس سے کئی زیادہ خراج نت نئی ذہنی, جسمانی, روحانی اور اخلاقی بیماریوں کی صورت میّں ان سے لے رہہی ہے.

    عدم برداشت بھی ان میں سےایک اخلاقی بیماری ہے. افرا تفری اور مشینی انداز نے انسان کو سب آسائشیّں دے کر اس سے سکون اور اطمینان چھین لیا ہے. بچہ ہو یا بڑا. جوان ہو یا بوڑھا جسے دیکھو عجیب بے چینی میں مبتلا ہے. کسی کے پاس تحمل سے کسی کی بات سننے کا وقت نہیں. سن بھی لیں تو بیزاری اور اکتاہٹ سے جواب دینا کہ آئندہ اگلے بندے کی مخاطب کرنے کی جرأت ہی نہ ہو. سڑکوں پہ نکلو تو ہر ایک جلدی میں,کوئی ٹریفک سگنل توڑ رہا ہے کوئی اوور ٹیک کر کے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے,اور کوئی تو اتنا بے صبرا ہوتا ہے کہ بند پھاٹک کو دیکھ کر بھی اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل لے کر منہ اٹھائے ریلو لائن لراس کرنے کے چکر میں جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے.

    یہ سب لوگ اگر برداشت کا مادہ رکھتے ہوئے ٹریفک قوانین کا پاس رکھ کر سفر کریں تو حادثات سے بھی بچیں اور ذہنی اذیت سے بھی. سائنس کی ترقی نے ہر نسل اور ہر طبقے کے اندر عجیب بے چینی سی بھر دی ہے نفسا نفسی نے قوت برداشت اور تحمل کو ایسے غائب کیا جیسے گدھے کر سر سے سینگ. وقت کی کمی, کام کی زیادتی, اور ذہنی الجھنوں نے سب لوگوں کو ذہنی الجھنوں میں ڈال رکھا ہے. اور اسی وجہ سے مورثی بیماریوں کی طرح ہم اپنی آئندہ آنے والی نسل کو بے صبرا پن اور عدم برداشت جیسے اوصاف منتقل کر رہے ہیں..

    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ روحانی اور اخلاقی اوصاف کا مرقع تھے. اور ان کی زندگی ہمارے لئے عملی نمونہ ہے. انہوں نے کفار کے مظالم. طعنے, اور ہر ہر برائی کے بدلے جس صبر, برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا,تب بھی جب کفار ان پر غالب تھے اور تب بھی جب فتح مکہ کے بعد اللہ نے ان کو کافروں پر غالب فرمایا, چاہتے تو ہر ظلم کا جواب دے سکتے تھے مگر ب کو معاف فرما کر رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کی کہ برداشت تو یہ ہی ہے کہ طاقت کے باوجود بدلہ نہ لینا.

    اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اس برداشت کو اپنے مزاج کا حصہ بنائیں.آپ نے لوگوں سے اکثر سنا ہوگا. "ویسے تو ہم بہت متحمل مزاج ہیں,ہم میں بہت برداشت ہے مگر ہم سے فلاں بات برداشت نہیں ہوتی. کسی سے اونچی آواز. کسی سے جھوٹ اور کسی کا پیمانہ برداشت اونچی آواز سے چھلک پڑتا ہے…

    لیکن یہاں ہمیں یہ ہی تو سیکھنا ہے کہ جس چیز سے آپ کی برداشت کا خول چٹخ جائے وہ ہی جگہ ہے جہاں آپ کو برداشت کرنا ہے. غصہ نہیں کرنا.اور اگر آپ اس مقام پر برداشت کر رہے ہیں تو ہی آپ اہل برداشت ہیں ورنہ نہیں…
    قرآن پاک میں سورہ والعصر میں اللہ پاک نے واضح فرما دیا ہے "عصر کے وقت کی قسم انسان خسارےمیں ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے {العصر}
    یقینا صبر کی تاکید وہی کرتے ہیں جو خود صبر کرنے والے ہوتے ہیں صبر ,جو برداشت سے بھی بہت آگے کا درجہ ہے. یقینا آج کل کے دور میں یہ وصف ناپید نہیں تو کم یاب ضرور ہے.

    صبر اور برداشت میں تھوڑا فرق ہے.برداشت کرنے میں ہم چپ کر جاتے ہیں کسی کو جواب نہیں دیتے سہ جاتے ہیں مگر دل کے اندر کہیں چبھن ضرور رکھتے ہیں. زیادتی کرنے والے کے بارے میں تلخی ضرور ہوتی ہے جو ہم کو بے چین رکھتی ہے,زیادتی کرنے والے سے نہ سہی اپنے حمایتیوں سے سہی ہم شکوہ کر جاتے ہیں……… مگر صبر میں ہمارا من شانت ہوجاتا ہے,جب صبر آجاتا ہے تو دل میں پھانس رہتی ہی نہیں,ایک بےنیازی سی وجود کا احاطہ کر لیتی ہے. ہم اللہ کے لئے معاملہ یکسر بھول جاتے ہیں یوں, گویا وہ ہوا ہی نہیں….پھر۔۔۔ پھر ہم شکوہ بھی نہیں کرتے.اور تقدیر کے آگے سر خم کر دیتے ہیں…فیصلہ کرنے والے کے فیصلے کو تسلیم کر لیتے ہیں….

    اور…. ہمارے رب کو ہم سے صبر ہی درکار ہے.. اور اس نے واضح کر دیا ہے کہ ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو صابر نہیں.
    اور ہم ایسے لوگ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم برداشت اور بردباری سے دور ہوتے جا رہے ہیں تو صبر؟؟ اُس کا مقام تو بہت بلند ہے بہت آگے ہے. اور رب کائنات کو مقصود و مطلوب ہے اور شافع کونین کی پوری زندگی عفو درگزر, بردباری, تحمل,برداشت اور صبر کا عملی نمونہ بھی ہے…مگر افسوس ہم نے کچھ سبق نہیں لیا ان کی زندگی سے.

    بقول شاعر!
    تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
    *میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا۔

  • حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام–تحریر:احمر مرتضیٰ

    حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام–تحریر:احمر مرتضیٰ

    جانوروں کے حقوق اور بلکہ حیوانات سے بھی محبت کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے اور ان کے تحفظ کی ڈھیروں “این جی اوز” رکھنے والے مغربی ممالک میں سے ایک آسٹریلیا (جسے حالیہ دنوں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جھلس جانے والے کروڑوں جانوروں پر ٹسوئے بہاتے دیکھا گیا تھا)کے جنوب کے علاقوں میں قحط سالی اور پانی کی کمی کے باعث ایک ملین یعنی دنیا کی سب سے بڑی تعداد میں آزادانہ گھومنے والے جنگلی اونٹوں میں سے دس ہزار اونٹوں کو مارنے کا پانچ روزہ پروگرام شروع کردیا گیا جس کے تحت پہلے ہی دن 1500اونٹوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نشانچیوں نے ٹھکانے لگادیاہے،

    ملاحظہ کجئیے کہ ایک انسانی یا حیوانی جان کے ضیاع پر کلیجہ منہ کو آنے کی ایکٹنگ کرنے والے اور مختلف جانوروں کے تحفظ کے پروگرام دینے والے ان نام نہاد مسیحاوں نے فقط پانی کی سپلائی لائن کو بچانے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں حلال اور معصوم جانوروں کو مارنے کے علاوہ کوئی اور پروگرام کیوں ترتیب نہیں دیا؟

    اور ان کو پانی پینے کی اتنی بڑی سزا دینے کی اجازت کون سا قانون دیتا ہے!

    اور کیا اگر یہی خطرہ ان کے قومی جانور “کینگرو”یا ان کے مقدس جانور “ثور” سے ہوتا تو کیا تب بھی یہی فیصلہ کیا جاتا؟

    کیا قریبی ممالک یا اسلامی ممالک سے بات کرکے کوئی مثبت حل نہیں نکالا جاسکتا تھا،کیونکہ آج کی جدید دنیا میں بقول انہی کے کہ ہر مسئلے کا حل یا متبادل پروگرام دستیاب ہے!

    کیا اگر ثور یا دیگر جانوروں کی فارمنگ اور فارم موجود ہے تو کیا یہ جانور کسی فارم یا محفوظ زون میں نہیں سماسکتے ؟

    الغرض ہزاروں متبادل پروگرامات کی دستیابی کے باوجود قتل عام کی یہ واردات عجلت میں کیا گیا فیصلہ ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا ، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حقوق انسانیت کے نام نہاد ادارے یا ان گنت لاتعداد این جی اوز ابھی تک کے تجربات کے مطابق فقط مغربی ممالک اور ان کے باشندوں کے تحفظ کی ضمانت کےلیے بنائے گئے ہیں۔

    ایسے ہی حلال جانوروں کی بھی ان درندہ صفت تہذیب کے حامل ممالک کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر ایسا کچھ نہیں تو ضروری ہے کہ اس مہم کو روک کر کوئی متبادل حل پیش کیا جائے یا پھر جانوروں کے حقوق کے ادارے اس پر سخت نوٹس لیں یا کم از کم اسلامی ممالک کو اس مسئلے پر حکومت آسٹریلیا سے بات کرنی چاہیے،اور تمام سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بھی اپنی سائٹ پر اس موضوع کو زیر بحث بنائے تاکہ مغربی درندوں کے ہاتھوں اس معصوم جانور کی قتل عام کی واردات کو روکا جاسکے۔

    حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام
    تحریر:احمر مرتضیٰ