Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • 14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین   تحریر :غنی محمود قصوری

    14 فروی ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین تحریر :غنی محمود قصوری

    ہر 14 فروری کو دنیا بھر میں کفار کا ایک تہوار ویلنٹائن ڈے جسے Saint Valentine’s Day بھی کہا جاتا ہمارے اس ارض پاک پر بھی منایا جاتا ہے
    اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ بے راہ روی کا شکار جوڑے ایک دوسرے کو پھول دے کر اظہار محبت کرتے ہیں اسی لئے اسے Lover,s Festival بھی کہتے ہیں
    اس دن کے حوالے سے کوئی مستند روایات موجود نہیں کہا جاتا ہے کہ 1700 میں روم میں ایک سینٹ ویلنٹائن نامی راہب تھا جسے ایک (Nun) نن نامی راہبہ سے عشق ہو گیا مسیحیت میں کسی راہب یا راہبہ کا نکاح و جنسی تعلقات سخت ممنوع ہیں مگر عشق و محبت کے مارے راہب سینٹ ویلنٹائن نے نن راہبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جسے راہبہ نے ٹھکرا دیا سو افسانوی کہانی سناتے ہوئے سینٹ ویلنٹائن نے نن سے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ اگر ہم 14 فروری کو جنسی تعلقات قائم کرلیں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا جسے نن نے مان لیا اور یوں دونوں مذہب کے رکھوالے مذہب کی عہد شکنی کرگئے جس کا علم کلیسا کو ہو گیا
    چونکہ یہ واقعہ کلیسا کی روایات کے سخت خلاف تھا اس لئے انہیں فوری قتل کر دیا گیا اور یوں ان دین سے بیزاروں خود ساختہ عاشقوں کی کہانی اس وقت کے جوان بے راہ روی پر مبنی جوڑوں تک پہنچی تو انہوں نے اس پریم کہانی کو زندہ کرنے کیلئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا حالانکہ خود مسیحیت میں بھی اس دن کو برا سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی ہمارے ملک میں اسے بڑے جوش و جذے کیساتھ منایا جاتا ہے مگر میرے آقا علیہ السلام نے کفار کی مشہابت کی سخت مخالفت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔صحیح بخاری 3329
    حدیث کی رو سے کفار کی مشہابت اختیار کرنے والے کا دین اسلام اور جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں
    اب آتے ہیں اس بے ہودہ دن ویلنٹائن ڈے کو یوم یکجہتی فلسطین میں بدلنے پر تاکہ ہمارے مسلمان اس بے ہودہ دن کو بھول کر اپنے قبلہ اول کی آزادی کی خاطر کھڑے ہو سکیں اور جان سکیں کے مسئلہ فلسطین آخر ہے کیا
    لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے
    عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے
    1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلم ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا
    1947 میں عیسائی برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھائے رکھا اور یہودیوں کو فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا اور یوں یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوتے چلے گئے مکار یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے
    اقوام متحدہ میں کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین بھی آج دن تک جو کا تو ہے 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا جسے عربوں نے سخت نامنظور کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم جنگوں میں بدل گئے تھے
    1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا
    کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کرلیا کہ بس مسلمانوں تم محض ایک دن منا لیا کرو اور آہستہ آہستہ فلسطین اپنے قبلہ اول کو بھول جاءو
    بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں

    سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015
    اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور یہی پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ ہو گا ان شاءاللہ اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور ان کا ہر محاذ پر مردانہ وار مقابلہ کیا جا رہا ہے لہذہ ہمارا بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے حق بنتا ہے کہ ہم بھی جاری تحریک آزادی قبلہ اول میں اپنا کردار ادا کریں
    تو میرے عظیم پاکستانی بہن بھائیوں کافر کے ویلنٹائن ڈے کا بائیکاٹ کرکے اپنے قبل اول کی آزادی کی خاطر فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اس 14 فروری کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منائیں

  • قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ

    قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ

    تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو نظر آتا ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی روئے زمین پہ بسنے والی قومیں کسی نہ کسی صورت تفاخر کے مرض میں مبتلا رہی ہیں، کوئی نسل یا قومیت کے فخر تو کوئی رنگ یا زبان کی وجہ سے خود کو دوسروں سے الگ سمجھتے، دین اسلام قومیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن شناخت کے لیے جس کا ذکر رب کریم نے سورہ حجرات میں کیا کہ ” ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو”

    لیکن افسوس کہ ہم نے قومیت کا غلط استعمال کیا اور اس نظریہ فاسد نے قوموں کو تقسیم کرکے نفرتوں میں مبتلا کردیا، پیر اکرم شاہ الازہری لکھتے ہیں کہ "اس شر انگیز نظریہ نے جنگ و جدل کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھا، یہ صرف زمانہ قدیم تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اس کے ہاتھوں انسانیت کی قبا تار تار ہے قوم پرستی، رنگ، نسل اور زبان کے بتوں کی پوجا آج بھی اسی زور سے جاری ہے”

    اگرچہ آج دنیا ایک گلوبل ولیج کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس بت نے سماج کو دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے، سب سے پہلے اس بت کو رسول خدا حضرت محمدؐ نے توڑا اور انسانیت کا درس دیا، حضور اقدسؐ نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا اور مسلمانوں کو ایک ملت بنایا اور اسی نظریہ کی بنیاد پہ ریاست پاکستان کا وجود روئے ارضی پہ قائم ہوا لیکن افسوس کہ جلد ہی ہم نے اپنی اصلیت اپنی اساس کو بھلا کر رنگ، نسل، زبان کے بتوں کی پوجا شروع کردی جس کی وجہ سے ملک و ملّت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا،

    پاکستان کی تاریخ لسانی قوم پرستی سے بھری پڑی ہے کبھی پشتون کے نام سے تو کبھی بلوچ، کبھی سندھی تو کبھی مہاجر اور بنگالی کے نام پہ تحریکوں نے جنم لیا اور تاریخ شاہد ہے کہ جتنا نقصان ملک و ملّت کو نسلی و لسانی نعروں کی وجہ سے پہنچا شاید ہی کسی اور چیز نے پہنچایا ہو، یہ نسلی و لسانی تفریق ہی تھی جس کی وجہ سے سانحہ مشرقی پاکستان جیسا عظیم حادثہ پیش آیا لیکن اس کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا، ہم لسانیت کی لعنت میں اس قدر غرق ہوچکے ہیں تمام تر اخلاقی اقدار بھی کھوچکے ہیں

    یہ حقیقت ہمارے روز مرہ مشاہدے میں ہے کہ ہم قاتلوں اور بدعنوانوں کی حمایت میں بھی اس بنیاد پہ کھڑے ہوجاتے ہیں کہ وہ ہماری زبان یا علاقے یا قبیلے کے ہیں، اس سے بڑھ کر پستی کیا ہوگی کہ لسانی بنیاد پہ ہم مظلوم کے مقابلے میں ظالم اور حق کے مقابلے میں باطل کا ساتھ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، مشرقی پاکستان میں لسانی نعروں کے بعد ایسی نفرت نے جنم لیا کہ بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت ہم سے الگ ہوگیا جس پر اندرا گاندھی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوے کہا جس کا مفہوم یہ ہے کہ "مسلمان ایک قوم ہیں اس نظریہ کو آج ہم نے سمندر میں غرق کردیا ہے”

    اس کے باوجود ہم نے سبق نہ لیا اور اس کے بعد سندھ میں ایک طرف تو سندھو دیش تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو ساتھ ہی اس کے مقابل مہاجر قومی موومنٹ کے نام پر مہاجر تحریک نے شہری سندھ میں پنجے گاڑ لیے جس کے بعد سندھ ایک عرصے تک جلتا رہا، بات حقوق کی کی جاتی رہی لیکن پس پردہ مقاصد کچھ اور ہی نکلے، MQM تیس سال اقتدار میں رہی لیکن آج بھی ان کا رونا وہی ہے کہ مہاجروں کے حقوق جبکہ جئے سندھ کی آڑ میں سندھیوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کے خود کے تو محلات بن گئے

    بچے یورپ و امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں بہت سے وہیں سیٹل ہیں لیکن عام سندھی و عام مہاجر کی حالت "ہنوز روز اول است” کے مصداق ویسی ہی ہے جیسی ان تحریکوں کے قیام کے پہلے روز تھی اور اگر کچھ حاصل رہا تو وہ بےمعنی و بےمقصد کی نفرت کے سوا کچھ نہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں پانچ بار بلوچ نیشنلزم کے نام پر شورش نے جنم لیا بہت سے گھر اجڑ گئے، اول تو بلوچستان تقریباً ہی نظرانداز رہا لیکن اگر حکومت یا افواج پاکستان نے ڈویلپمنٹ کرنی شروع کی تو بلوچ حقوق و ڈویلپمنٹ کے علمبرداروں کو برداشت نہ ہوا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ کوئی منصوبہ بلوچستان میں کامیاب نہ ہو لیکن افواج پاکستان نے قربانیاں دیکر بہت سی مشکلات جھیل کر بلوچستان میں نہ صرف امن قائم کیا بلکہ بہت سے منصوبے بھی کامیابی سے جاری ہیں،

    پاکستان جب قائم ہوا تو ہندوتوا دہشتگردوں اور صہیونیت کے پیروکاروں کو دلی صدمہ ہو لیکن افسوس کہ ان کے علاوہ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی ممبرشپ کے خلاف درخواست بھی جمع کروائی، اس کے علاوہ اوائل میں ہی پشتونستان کے نام پر علیحدگی کی تحریک کو ابھارا اور پاکستان میں خوب دراندازی کی، داود خان کی قیادت میں افغانستان نے نہ صرف کراس بارڈر ٹیررزم کو پروموٹ کیا بلکہ بلوچ و پشتون علیحدگی پسندوں کی کھل کر سرپرستی بھی کی جس کے جواب میں ذوالفقار بھٹو نے افغانستان کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہوے جلد ہی اسے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا

    جسکے بعد سے ایک لمبے عرصے تک اس جانب سے پاکستان میں سکون رہا لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر افغانستان پاکستان مخالف سازشوں کا گڑھ بن کر سامنے آیا اور جب تمام تر سازشوں کو افواج پاکستان نے ناکام بنادیا تو PTM کے نام سے پشتونستان تحریک کے گڑھے مردے میں جان ڈال دی، جس طرح نقیب اللہ محسود کی شہادت کی آڑ میں ڈرامائی انداز میں PTM کو وجود حاصل ہوا اور جس پیمانے پر منظور پشتین کی عالمی و ملک کے مخصوص میڈیا نے تشہیر کی وہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پولیس مقابلے تو پاکستان میں ہزاروں ہوے لیکن کبھی ان میڈیا پرسنز کو کسی پشتون یا غیرپشتون سے اتنی ہمدردی نہیں ہوئی جبکہ شہید نقیب اللہ ہوا لیکن مخصوص میڈیا تشہیر منظور پشتین اور PTM کی کرتا رہا، PTM کا نعرہ ہے

    پشتون حقوق کا لیکن یہ بھی حران کن ہے کہ آخر پشتونوں کے ساتھ ملک میں کونسی ناانصافی ہے شروع سے ہی ملکی اقتدار کے بڑے حصے پر پشتون قابض رہے آج بھی ہیں، بنگلہ دیش سے آنے والے بنگالیوں کو چالیس سے پچاس سال بعد بھی تارکین وطن کہا گیا لیکن بہت سے افغان پاکستان کے شہری بھی بن گئے اور یہاں بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک بھی ہوگئے، خیبرپختونخواہ میں پنجابی بلوچ یا سندھی سیٹل نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود تینوں صوبوں کی مارکیٹوں پر پشتون تاجران غالب ہیں اور کسی نے ان سے نفرت کا اظہار نہیں کیا،

    سرکاری ملازمتیں ہوں یا کوئی بھی اسکیم اس میں بڑا حصہ پشتونوں پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود جھوٹا نعرہ لگایا جارہا ہے کہ پشتونوں کو حقوق حاصل نہیں جوکہ پشتونوں کے ساتھ ہی دھوکہ فریب کیا جارہا ہے کیونکہ ایک بار اگر اس سازش کو زرا بھی کامیابی مل گئی تو اس میں نقصان جتنا محب وطن پشتونوں کا ہوگا اتنا کسی اور کا نہیں ہوگا، افغانستان نہ کل پشتونوں کا ہمدرد تھا نہ آج ہے، کل بھی لر او بر افغان کا نعرہ لگانے والوں نے افغانستان کی سرزمین پر غریب پشتونوں کے ساتھ ظلم کیا آج بھی جاری ہے،

    زرا سوچئے اگر افغانستان میں پشتونوں کو حقوق حاصل ہوتے تو وہ ترک وطن کرکے پاکستان آنے پہ مجبور کیوں ہوتے اور پاکستان و پاکستانیوں کا جگر بھی دیکھیں کہ سالوں سے افغان تارکین وطن کو بھائی سمجھ کر بوجھ برداشت کرتے آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود افغان نیشنلز پاکستان میں مختلف جرائم پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ہزاروں افغان پشتون بن کر پاکستانی شہریت حاصل کرکے پاکستانی پشتونوں کے حق پہ ڈاکہ ڈالے ہوے ہیں بہت سے افغان چند سیاسی مافیاوں کی سرپرستی حاصل کرکے سرکاری ملازمتوں پر براجمان ہیں،

    بہت سی مراعات لے رہے ہیں، بہت سی اسکیموں سے مستفید ہورہے ہیں جس سے متاثر ہونے والے ہمارے پاکستانی پشتون ہیں لیکن اس کے باوجود کبھی کسی طرف سے افغان بھائیوں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا گیا مگر افسوس ہے کہ اس کے باوجود نعرہ لگایا جارہا ہے "لر او بر افغان” جس کی آڑ میں ایک بار پھر پشتونوں کو ایک نئی جنگ میں جھونکنا ہے،

    برطانیہ امریکہ و دیگر یورپی ممالک میں بیٹھے افغان حضرات آج پشتونوں کے زبردستی کے ہمدرد بنے ہوے ہیں کیا کبھی انہوں نے کسی پشتون کی خیر خبر بھی لی ہے اور آج خوامخواہ کے ہمدرد بنے بیٹھے ہیں، اس صورتحال میں ہمیں من حیث القوم ایسی نفرت انگیز سیاست و سازش کا گلا گھونٹ دینا چاہئے تاکہ ملک و ملّت یک جائی، اخوّت و محبت سے ترقی کی شاہراہ پہ قدم مستحکم کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں

  • ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری

    ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے مختلف رنگ و نسل اور قد کاٹھ کے افراد پیدا فرمائے اور اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا
    لقد خلقتنا الانسان فی احسن تقویم ( سورہ التین) ترجمہ _ بلاشبہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے
    ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ جبکہ پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ افراد ذہنی و جسمانی معذور ہیں جن کی فلاح و بہبود کیلئے اور ان افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 1992 سے عالمی برادی کیساتھ پاکستان میں بھی 3 دسمبر کو عالمی یوم معذور افراد منایا جاتا ہے
    یہ افراد ہماری خصوصی محبت کے حقدار ہیں مگر افسوس کے ہم ان کو ان کے حقوق دینے کی بجائے ان پر طنزیہ وار کرتے ہیں اور بعض خود سر جاہل لوگ تو ان افراد سے مار پیٹ بھی کرتے ہیں جوکہ انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے حالانکہ یہ افراد ہمارے لئے نصیحت کا باعث ہیں مثلا اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ان لوگوں کی بدولت ہمیں اپنے ہاتھ کی قدر ہوتی ہے اگر کوئی فرد ٹانگ سے محروم ہے تو ہمیں اللہ رب العزت کی عطاء کردہ اس عظیم نعمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے کتنی بڑی نعمت بنائی ہے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا رویہ جسمانی معذوروں سے زیادہ ذہنی معذور افراد کیساتھ زیادہ ہی غلط ہے یہ وہ افراد ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت ان کی نمازوں بارے بھی سوال نہیں کرینگے جب تک کہ یہ ذہنی معذور ہوش میں نا آ جائیں مگر ہم لوگ ان کو پتھر مارتے ہیں ان کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور ان کی تذلیل کرکے فخر محسوس مرتے ہیں حالانکہ صرف بے ضرر ذہنی معذور افراد کو ہی گھر پر رکھا جاتا ہے جبکہ خطرناک قسم کے ذہنی معذور پاگل افراد کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل رکھا جاتا ہے بلکل اسی طرح زمانہ جاہلیت میں بھی ان ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں رواج تھا کہ جب کوئی بچہ ذہنی و جسمانی معذور پیدا ہوتا تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان افراد میں بھوت پریت قابض ہیں اور ہم آج ان افراد کی تذلیل کرکے اسی زمانہ جاہلیت کی تصویر بنتے ہیں پھر میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جانوروں، انسانوں کے حقوق وضع فرمائے ایسے افراد بارے حدیث ہے
    تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون لحتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے
    (سنن نسائی 5495)
    پاکستان میں ذہنی و جسمانی معذور افراد کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں بحالی معذور افراد ایکٹ 1981 کے تحت معذور افراد کیلئے نوکریوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے اور ان افراد کیلئے صحت کی سہولتوں کیساتھ ان کی بحالی اعضاء کا کام بھی حکومت پر فرض ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت تمام بنیادی سہولیات ان معذور افراد کا حق ہیں مگر افسوس کے ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ان افراد کو ان کی بنیادی سہولیات ملی ہو ورنہ ہسپتالوں ،تھانوں کچہریوں اور عدالتوں میں ان افراد کو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہی دیکھا گیا ہے
    ان افراد کی بحالی کیلئے پاکستان میں کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد سے پیار کرنے کیساتھ ان این جی اوز سے بھی تعاون کریں تاکہ ایسے افراد اپنے بنیادی حقوق حاصل کرکے عزت سے جی سکیں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان افراد کے وظائف مقرر کئے جائیں اور ان افراد کو تنگ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں دینے کا قانون نافذ کیا جائے تاکہ یہ افراد عزت و توقیر سے جی سکیں

  • امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    لڑکپن میں ایک دور دیکھا تھا کہ جب ہر روز،ہفتے یا مہینہ میں کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا۔
    بے کلی اور بے سکونی کی ایک کیفیت ہمہ وقت اعصاب پر طاری رہتی تھی۔۔۔

    بہت دل دوز مناظر اخبارات و ٹی وی سکرین دکھاتے اور دل غم میں ڈوب کر اس چمن کی سلامتی اور مضبوطی کے لیئے دعا گو ہو جاتا تھا۔
    وہی سانحات جو میرے چمن کے ستر ہزار سے زائد نفوس کو نگل گئے__جوان،بچے،بوڑھے،عورتیں اس آگ و خون کی کھیل کی نذر ہو گئے۔۔۔

    وہ جاں گزا لمحات ان کے لیئے یقیناً نہ ختم ہونے والا درد بن گئے،جن کے پیارے ایسی وارداتوں کا نشانہ بنے گئے اور اس حالت میں وطنِ عزیز کے ہر طبقہ نے قربانیاں دی ہیں۔
    لیکن وقت نے ثابت کیا کہملک کے سیکیورٹی اداروں نے تندہی و جانفشانی سے اس عفریت پر قابو پا کر چمن کے شرق و غرب اور شمال و جنوب میں امن کا پھریرا لہرا کر قوم کو امن کی بہار کا تحفہ دیا۔

    وہ خوف و دہشت کا ماحول جو در آیا تھا۔۔۔اس کے بعد قوم نے سکون اور اطمینان کی سانس لی۔
    تجارتی سرگرمیاں بڑھنے لگیں اور پاکستان کو سیاحت کے لیئے بہت موزوں ملک گردانا جا رہا ہے۔۔۔

    گوادر پورٹ اس خطے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کا پیام بننے جا رہی ہے تو ایسے میں بہت سے ملک دشمن عناصر یہ بات ہضم نہیں کر پا رہے اور بلوچستان جو شروع سے اس تخریبی ذہنیت کا نشانہ رہا ہے۔۔۔
    وہاں دو روز قبل ایک مسجد میں معصوم شہریوں کا قتل ایک انتہائی گھناؤنا کھیل ہے۔
    مسجد ہو یا مندر__گرجہ ہو یا معبد۔۔۔تمام پر امن انسانوں کی جان بہت قیمتی ہے۔
    اور پھر ایسے عناصر ایسی جگہوں کو نشانہ بنا کر متنازعہ بحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔

    اس واقعہ میں بھی انتہائی قیمتی جانوں کا زیاں قومی المیہ ہے۔
    ایک بار پھر اس طرح کے واقعات کا سر اٹھانا یقیناً ایسے عناصر کی طرف سے تخریبی انتباہ ہے۔
    وادئ مہران سے بلوچستان۔۔۔اور پنجاب سے کے پی کے تک امن و بہار کا عَلم سدا بلند رہے آمین۔

    ان عزائم کو ملک کے باوقار اداروں نے مل کر پیوندِ خاک کرنا ہے اور شہریوں کو بھی چاہیئے کہ اپنے ارد گرد ایسے مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔
    تاکہ اس چمن میں ہزاروں لوگوں کے خون کی بدولت جو بہار آئی ہے وہ ماند نہ پڑنے پائے اور ملک دشمن عناصر کو کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔
    اور یہ چمن تا قیامت روشنیوں سے منور رہے۔۔۔

    یہاں کسی بے گناہ شخص کا ناحق لہو نہ بہے اور تعمیر و ترقی کا سفر باہم ملکر جاری و ساری رہے۔
    اس چمن میں آئی ہے بہار_
    جانے کتنی قربانیوں کے بعد—
    اس گلشن کو سینچا ہے__
    پیاروں نے اپنے لہو کے ساتھ__
    اس گلشن کی روشنیوں پر__
    آئے گی جو نظرِ سیاہ__
    اُس چشمِ پر فتن کو__
    پھوڑ دیں گے ہم سب
    یکجہتی کےتیر کے ساتھ__!!!
    ان شآ ء اللہ

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

  • برداشت —از— نساء بھٹی

    برداشت —از— نساء بھٹی

    یہ نئے زمانے کا دور ہے یہاں جذبات کا کیا کام؟
    روبوٹ کبھی نفرت و الفت نہیں کرتے۔
    سائنس کے اس ترقی یافتہ دور نے انسانوں کو جتنی جسمانی سہولتیں دیں اس سے کئی زیادہ خراج نت نئی ذہنی, جسمانی, روحانی اور اخلاقی بیماریوں کی صورت میّں ان سے لے رہہی ہے.

    عدم برداشت بھی ان میں سےایک اخلاقی بیماری ہے. افرا تفری اور مشینی انداز نے انسان کو سب آسائشیّں دے کر اس سے سکون اور اطمینان چھین لیا ہے. بچہ ہو یا بڑا. جوان ہو یا بوڑھا جسے دیکھو عجیب بے چینی میں مبتلا ہے. کسی کے پاس تحمل سے کسی کی بات سننے کا وقت نہیں. سن بھی لیں تو بیزاری اور اکتاہٹ سے جواب دینا کہ آئندہ اگلے بندے کی مخاطب کرنے کی جرأت ہی نہ ہو. سڑکوں پہ نکلو تو ہر ایک جلدی میں,کوئی ٹریفک سگنل توڑ رہا ہے کوئی اوور ٹیک کر کے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے,اور کوئی تو اتنا بے صبرا ہوتا ہے کہ بند پھاٹک کو دیکھ کر بھی اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل لے کر منہ اٹھائے ریلو لائن لراس کرنے کے چکر میں جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے.

    یہ سب لوگ اگر برداشت کا مادہ رکھتے ہوئے ٹریفک قوانین کا پاس رکھ کر سفر کریں تو حادثات سے بھی بچیں اور ذہنی اذیت سے بھی. سائنس کی ترقی نے ہر نسل اور ہر طبقے کے اندر عجیب بے چینی سی بھر دی ہے نفسا نفسی نے قوت برداشت اور تحمل کو ایسے غائب کیا جیسے گدھے کر سر سے سینگ. وقت کی کمی, کام کی زیادتی, اور ذہنی الجھنوں نے سب لوگوں کو ذہنی الجھنوں میں ڈال رکھا ہے. اور اسی وجہ سے مورثی بیماریوں کی طرح ہم اپنی آئندہ آنے والی نسل کو بے صبرا پن اور عدم برداشت جیسے اوصاف منتقل کر رہے ہیں..

    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ روحانی اور اخلاقی اوصاف کا مرقع تھے. اور ان کی زندگی ہمارے لئے عملی نمونہ ہے. انہوں نے کفار کے مظالم. طعنے, اور ہر ہر برائی کے بدلے جس صبر, برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا,تب بھی جب کفار ان پر غالب تھے اور تب بھی جب فتح مکہ کے بعد اللہ نے ان کو کافروں پر غالب فرمایا, چاہتے تو ہر ظلم کا جواب دے سکتے تھے مگر ب کو معاف فرما کر رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کی کہ برداشت تو یہ ہی ہے کہ طاقت کے باوجود بدلہ نہ لینا.

    اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اس برداشت کو اپنے مزاج کا حصہ بنائیں.آپ نے لوگوں سے اکثر سنا ہوگا. "ویسے تو ہم بہت متحمل مزاج ہیں,ہم میں بہت برداشت ہے مگر ہم سے فلاں بات برداشت نہیں ہوتی. کسی سے اونچی آواز. کسی سے جھوٹ اور کسی کا پیمانہ برداشت اونچی آواز سے چھلک پڑتا ہے…

    لیکن یہاں ہمیں یہ ہی تو سیکھنا ہے کہ جس چیز سے آپ کی برداشت کا خول چٹخ جائے وہ ہی جگہ ہے جہاں آپ کو برداشت کرنا ہے. غصہ نہیں کرنا.اور اگر آپ اس مقام پر برداشت کر رہے ہیں تو ہی آپ اہل برداشت ہیں ورنہ نہیں…
    قرآن پاک میں سورہ والعصر میں اللہ پاک نے واضح فرما دیا ہے "عصر کے وقت کی قسم انسان خسارےمیں ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے {العصر}
    یقینا صبر کی تاکید وہی کرتے ہیں جو خود صبر کرنے والے ہوتے ہیں صبر ,جو برداشت سے بھی بہت آگے کا درجہ ہے. یقینا آج کل کے دور میں یہ وصف ناپید نہیں تو کم یاب ضرور ہے.

    صبر اور برداشت میں تھوڑا فرق ہے.برداشت کرنے میں ہم چپ کر جاتے ہیں کسی کو جواب نہیں دیتے سہ جاتے ہیں مگر دل کے اندر کہیں چبھن ضرور رکھتے ہیں. زیادتی کرنے والے کے بارے میں تلخی ضرور ہوتی ہے جو ہم کو بے چین رکھتی ہے,زیادتی کرنے والے سے نہ سہی اپنے حمایتیوں سے سہی ہم شکوہ کر جاتے ہیں……… مگر صبر میں ہمارا من شانت ہوجاتا ہے,جب صبر آجاتا ہے تو دل میں پھانس رہتی ہی نہیں,ایک بےنیازی سی وجود کا احاطہ کر لیتی ہے. ہم اللہ کے لئے معاملہ یکسر بھول جاتے ہیں یوں, گویا وہ ہوا ہی نہیں….پھر۔۔۔ پھر ہم شکوہ بھی نہیں کرتے.اور تقدیر کے آگے سر خم کر دیتے ہیں…فیصلہ کرنے والے کے فیصلے کو تسلیم کر لیتے ہیں….

    اور…. ہمارے رب کو ہم سے صبر ہی درکار ہے.. اور اس نے واضح کر دیا ہے کہ ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو صابر نہیں.
    اور ہم ایسے لوگ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم برداشت اور بردباری سے دور ہوتے جا رہے ہیں تو صبر؟؟ اُس کا مقام تو بہت بلند ہے بہت آگے ہے. اور رب کائنات کو مقصود و مطلوب ہے اور شافع کونین کی پوری زندگی عفو درگزر, بردباری, تحمل,برداشت اور صبر کا عملی نمونہ بھی ہے…مگر افسوس ہم نے کچھ سبق نہیں لیا ان کی زندگی سے.

    بقول شاعر!
    تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
    *میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا۔

  • حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام–تحریر:احمر مرتضیٰ

    حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام–تحریر:احمر مرتضیٰ

    جانوروں کے حقوق اور بلکہ حیوانات سے بھی محبت کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے اور ان کے تحفظ کی ڈھیروں “این جی اوز” رکھنے والے مغربی ممالک میں سے ایک آسٹریلیا (جسے حالیہ دنوں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جھلس جانے والے کروڑوں جانوروں پر ٹسوئے بہاتے دیکھا گیا تھا)کے جنوب کے علاقوں میں قحط سالی اور پانی کی کمی کے باعث ایک ملین یعنی دنیا کی سب سے بڑی تعداد میں آزادانہ گھومنے والے جنگلی اونٹوں میں سے دس ہزار اونٹوں کو مارنے کا پانچ روزہ پروگرام شروع کردیا گیا جس کے تحت پہلے ہی دن 1500اونٹوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نشانچیوں نے ٹھکانے لگادیاہے،

    ملاحظہ کجئیے کہ ایک انسانی یا حیوانی جان کے ضیاع پر کلیجہ منہ کو آنے کی ایکٹنگ کرنے والے اور مختلف جانوروں کے تحفظ کے پروگرام دینے والے ان نام نہاد مسیحاوں نے فقط پانی کی سپلائی لائن کو بچانے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں حلال اور معصوم جانوروں کو مارنے کے علاوہ کوئی اور پروگرام کیوں ترتیب نہیں دیا؟

    اور ان کو پانی پینے کی اتنی بڑی سزا دینے کی اجازت کون سا قانون دیتا ہے!

    اور کیا اگر یہی خطرہ ان کے قومی جانور “کینگرو”یا ان کے مقدس جانور “ثور” سے ہوتا تو کیا تب بھی یہی فیصلہ کیا جاتا؟

    کیا قریبی ممالک یا اسلامی ممالک سے بات کرکے کوئی مثبت حل نہیں نکالا جاسکتا تھا،کیونکہ آج کی جدید دنیا میں بقول انہی کے کہ ہر مسئلے کا حل یا متبادل پروگرام دستیاب ہے!

    کیا اگر ثور یا دیگر جانوروں کی فارمنگ اور فارم موجود ہے تو کیا یہ جانور کسی فارم یا محفوظ زون میں نہیں سماسکتے ؟

    الغرض ہزاروں متبادل پروگرامات کی دستیابی کے باوجود قتل عام کی یہ واردات عجلت میں کیا گیا فیصلہ ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا ، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حقوق انسانیت کے نام نہاد ادارے یا ان گنت لاتعداد این جی اوز ابھی تک کے تجربات کے مطابق فقط مغربی ممالک اور ان کے باشندوں کے تحفظ کی ضمانت کےلیے بنائے گئے ہیں۔

    ایسے ہی حلال جانوروں کی بھی ان درندہ صفت تہذیب کے حامل ممالک کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر ایسا کچھ نہیں تو ضروری ہے کہ اس مہم کو روک کر کوئی متبادل حل پیش کیا جائے یا پھر جانوروں کے حقوق کے ادارے اس پر سخت نوٹس لیں یا کم از کم اسلامی ممالک کو اس مسئلے پر حکومت آسٹریلیا سے بات کرنی چاہیے،اور تمام سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بھی اپنی سائٹ پر اس موضوع کو زیر بحث بنائے تاکہ مغربی درندوں کے ہاتھوں اس معصوم جانور کی قتل عام کی واردات کو روکا جاسکے۔

    حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام
    تحریر:احمر مرتضیٰ

  • کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن…از … انشال راؤ

    کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن…از … انشال راؤ

    اگر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی دودھ کا رنگ کالا قرار دے دے اور اگر تمام لوگ دودھ کے رنگ کو کالا سمجھنا شروع کردیں تو دودھ کا رنگ کالا نہیں ہوجائیگا ہمیشہ سفید ہی رہنا ہے بالکل اسی طرح عدالت کے جانبدارانہ فیصلے میں ملک و ملت کے لیے تین تین جنگیں لڑنے والا، اللہ کے گھر (خانہ کعبہ) کا دفاع کرنے والا، ملک و ملت کو ترقی کی راہ پہ لے جانے والا محض اس بنا پہ غدار نہیں ہوسکتا کہ اس نے چند مفاد پرست سیاستدانوں کے مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دی تھی،

    خصوصی عدالت جتنا چاہے زور لگالے کاغذوں کے کاغذ کالے کردے، دلائل کے انبار لگالے مگر حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتی، سمجھ سے بالاتر ہے کہ عدالت کی طرف سے سپہ سالار پاکستان کے لیے غدار کا لفظ استعمال کیا گیا جس پر سب سے زیادہ شادیانے بھارت میں بجائے جارہے ہیں، ہندوتوا اینکرز چیخ رہے ہیں، ہندوتوا اخبارات چنگھاڑ رہے ہیں کہ دیکھو ہم نے کردکھایا وہ ایجنڈہ جو 1999 میں بھارتی ایجنسی را لیکر چلی اب پاکستانی ججز و وکلا کے ہاتھوں پورا ہورہا ہے جیسا کہ سابق بھارتی جنرل وی پی سنگھ نے اپنی کتاب "بھارت کے عسکری تنازعات اور سفارتکاری” میں بھارتی اہداف کا اظہار کیا کہ پاک آرمی کو بدنام کرنا، مورال ڈاون کرنا، دنیا میں تنہا کرنا اہم ترین ہدف رکھا،

    یہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان کو ہر سطح پہ نشانہ بنایا جاتا آرہا ہے ایک طرف تو عالمی سطح پہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ عسکریت پسندی کے پیچھے پاک فوج ہے جبکہ دوسری طرف عوام کے ذہنوں میں فوج مخالف سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں اگرچہ دشمنان ملک و ملت کامیاب تو نہیں ہوپائے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے ملک و ملت کو جو نقصان پہنچایا گیا اس کا ازالہ ممکن نہیں،

    بات ہورہی ہے کہ غدار کون؟ سب سے پہلے تو یہ تعین کیا جائے کہ غداری کسے کہا جانا چاہئے اور حب الوطنی کا پیمانہ کیا ہے؟ اس کا جواب انتہائی سادہ سا ہے کسی انسائیکلوپیڈیا یا کسی اور چیز کی مدد کی ضرورت نہیں، دنیائے تاریخ سے ثابت ہے کہ کوئی بھی دانستہ فیصلہ یا پالیسی یا راز لیک کرنا یا ملی حساس معلومات دشمنوں کو فراہم کرنا یا دانستہ دشمن کو فائدہ پہنچانا یا ایسا کام دانستہ طور پر کرنا جو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف ہو یا ملک و قوم کے لیے نقصاندہ ہو غداری کے زمرے میں آتا ہے

    بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک و ملت کی فکر، مادر وطن کے لیے قربانی دینا، دشمن کی سازشوں کے آڑے آجانا، ملک و ملت کے لیے ہمہ وقت خود کو پیش کرنا حب الوطنی ہے اب اگر اس بنیاد پہ موازنہ کرتے ہیں کہ کون کیا ہے اس بات سے کون ہے جو واقف نہیں کہ بھارت و دیگر دشمن قوتیں پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے براہ راست جنگ نہیں کرسکتے لہٰذا پاکستان کو معاشی، معاشرتی اور سفارتی سطح پہ کمزور کرنے کے لیے داخلی و خارجی سطح پہ پاکستان کے خلاف محاذ گرم کردیا گیا

    جس میں سب سے زیادہ ٹارگٹ پاک آرمی رہی اور یہ راز کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پاکستان و پاک فوج کو عالمی سطح پہ بدنام کرنے میں بیرونی عناصر سے زیادہ اندرونی لوگ سرگرم ہیں جن میں کچھ سیاستدان، کچھ میڈیا پرسنز، کچھ کالے کوٹ والے اور کچھ نام نہاد سماجی کارکن سرفہرست ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان میر جعفر و میر صادقوں نے پہنچایا اتنا نریندر مودی، بن گوریان یا نیتن یاہو نے بھی نہیں پہنچایا تھا اس ضمن میں اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ
    بوئے گل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
    کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غمازِ چمن

    کہ اپنے ہی غدار ہوتے ہیں جو مادر وطن کے راز بیرونی دشمن کی خوشنودی کے لیے دے دیتے ہیں اسی کے مصداق ڈان لیکس ہو یا خواجہ آصف کی امریکہ میں ایشیائی سوسائٹی کے سیمینار میں کی گئی تقریر، نوازشریف کے ممبئی حملوں کے حوالے سے دئیے گئے بیانات ہوں یا انٹرویو، بلاول کے وار ہوں یا کسی اور کے پروپیگنڈے جن کا سہارا لیکر دشمن قوتیں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا جواز بنانے کی کوششیں کرتی ہیں اور اس سوچے سمجھے منصوبے کا اصل ہدف نشانہ پاک آرمی ہی ہے

    اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاک آرمی انکل امریکہ کے ڈو مور کا جواب نومور سے دیتی ہے جس بنا پر عالمی قوتیں کسی بھی قیمت پر پاک فوج کی حیثیت پولیس کے مترادف کرنا چاہتی ہیں جسکے لیے ایک بار پھر آزمایا ہوا کارتوس چھوڑا گیا ہے جیسے 2007 میں عدلیہ بحالی کی آڑ میں کالے کوٹ کو استعمال کیا گیا بالکل اسی طرح ایک بار پھر وہی کالا کوٹ استعمال کیا جارہا ہے یاد رہے کہ 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک امریکی پالیسی برائے Regime Change in Pakistan یعنی پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے بطور آلے کے استعمال ہوئی،

    امریکہ کی یہ پالیسی کامیاب رہی کہ مشرف کے بعد پاکستان میں جو دہشتگردی کا بازار گرم ہوا وہ رب العزت کسی اور قوم کو نہ دکھائے، اس کے علاوہ لاقانونیت، کرپشن و لوٹ مار کے ریکارڈ توڑ دئیے گئے اور قرضوں کے انبار لگادئیے گئے جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ اٹھوانا اور جغرافیائی تقسیم تھا لیکن پاک فوج نے اسے دوسرے دور میں ناکام بنادیا تو اب ایک بار پھر اسی اقتدار کی تبدیلی والی پالیسی کے تحت پاکستان میں افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کچھ میڈیا پرسنز اس سازش کا حصہ ہیں،

    زرا سوچئے کہ مشرف ان کے نزدیک ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے غدار جبکہ اربوں کھربوں لوٹنے والے، راز دینے والے، مختلف بیانات و انٹرویوز سے پاکستان کو بدنام کرنے والے محب وطن ہیں، زرا سوچئے مشرف تو ایمرجنسی لگا کر غدار ٹھہرا لیکن سیاستدان لاکھوں نااہل افراد کو میرٹ کی دھجیاں اڑا کر بھرتی کرکے آئین پاکستان کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے، من پسند ٹھیکے دیکر اور کچھ صحافیوں کو مالا مال کرکے محب وطن، حال ہی میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنایا گیا اور اب مشرف کو غدار لکھا گیا

    اس عدالتی فیصلے کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے موصوف جج صاحبان طاقت کے نشے میں شراب کو حلال قرار دیکر سوچنے لگیں کہ شراب جائز ہوگئی، جس طرح شراب کو ساری دنیا حلال سمجھنے لگے تو حلال نہیں ہوجاتی اسی طرح امریکی اخبار سے Bitches Of The Riches کا خطاب پانے والی عدلیہ کی طرف سے کرپٹ مافیا کو بری و ڈھیل دینے سے وہ پاک صاف نہیں ہوجائینگے خیر قصہ مختصر کہ ایک بار پھر کالے لباس والی سرکاریں کسی خفیہ طاقت کے اشاروں پر ایکٹیو ہوگئی ہیں جوکہ افواج پاکستان کو ٹارگٹ بناکر کبھی پورہ نہ ہونے والے خواب یعنی کہ فوج کو پولیس کی طرح بنانے کی سازش کا حصہ ہیں۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن

  • اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے  ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے
    کہ آئین شکنی کی سزا سنگین غداری قرار
    دیکر اس پر سزائے موت سے کوئی فوجی ڈر جائے گا ،تو وہ عقل کا انا ہے
    کیونکہ فوجی موت سے نہیں ڈرتا ،حقیقت میں فوج میں بھرتی ہونے والا

    ہر مرد و زن یہ سوچ کر داخل ہوتا ہے کہ پہلی ترجیح موت ہے
    بارڈر پر کھڑآ سپاہی کسی انجان گولی کا نشانہ بن سکتا ہے

    جہاز میں اڑنے والا پائلٹ ہزاروں پرزوں میں سے کسی ایک پرزے کی وجہ
    سے جان سے جا سکتا ہے ،سمندر کی تہہ میں لیٹی سب میرین پانی کے دباؤ
    سے پھٹ سکتی ہے اور درجنوں کی جان لے سکتی ہے ،کوئی فریگيٹ
    کسی چٹان سے ٹکر کر پاش پاش ہو سکتا ہے اور محافظ وہیل کا نوالہ بن
    سکتے ہیں

    کمیشن لیا ،اعزازی تلوار لی ،پہلی ہی پوسٹنگ آرمڈ ڈویژن میں ہوتی ہے
    چند مہینوں بعد جنگ میں جاتا ہے جلتے ٹینک سے لوگوں کو اور بمبوں
    کو نکالتا ہے ،

    پھر تیسرے دن شیل لگنے سے زحمی ہوتا ہے کماد کے کھیت
    میں دو دن اکیلا پڑآ رہتا ہے ،ایک سپاہی اٹھا کر لاتا ہے ،پھر 71 کی جنگ
    لڑتا ہے ،کمانڈو کورس کرتا ہے ،

    انتہائي حساس اور خطرناک مشن مکمل
    کرتا ہے ،خانہ کعبہ کو خارجیوں سے پاک کرتا ہےگولیوں کی بوچھاڑ میں زںدہ بچ جاتا ہے ،عمدہ کارکردگي پر میجر جنرل بنتا ہے،مری میں ہوتا ہے جی ایچ کیو طلب کیا جاتا ہے ہیلی کاپٹر بھیجا جاتا ہے ،گآڑی لیکر نکل پڑتا ہے ،لانے والا ہیلی کاپٹر واپسی پر کریش ہو جاتا ہے دو پائلٹ شہید ہو جاتے ہیں لفٹننٹ جنرل بنتا ہے ،

    منگلہ کا کور کمانڈر بنتا ہے جی ایچ کیو طلب کیا جاتا ہے ،جیب لیکر پنڈی کی طرف چلتا ہے ،لانے والا ہیلی کاپٹر دوسرا کریش ہو جاتا ہے دو پائلٹ شہید ہو جاتے ہیں ،کور کمانڈر کانفرنس ہوتی ہے ملک میں صدر اور وزیراعظم کا جھگڑا چل رہا ہوتا ہے ،میٹنگ میں کہتا ہے ہمیں وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہیئۓ ،یہ بات نواز شریف کو پتہ چلتی ہے وہ آرمی چيف بنا دیتا ہے ،جب نواز شریف کو پتہ چلتا

    ہے یہ تو پکا محب وطن ہے درباری نہیں تو اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے کارگل ہوتا ہے انڈیا کی چیخيں نکال دیتا ہے ،انڈیا اور کلنگٹن کہتے ہیں اسکو ہٹاؤ ،سری لنکا جاتا ہے واپسی وزیراعظم براہ راست حکم دیتا ہے جہاز کو مت لینڈ کرنے دو
    اور ایک انجینئر کو جو درباری ہوتا ہے ضیا الدین بٹ کو آرمی چيف بنا دیتا ہے

    فوج مارشل لاء لگآ دیتی ہے ،پنڈي میں خود کش حملہ ہوتا ہے ایک پولیس انسپکٹر
    کی لاش اڑ کر مشرف کی فرنٹ شیشے پر آ لگتی ہے لیکن بچ جاتا ہے ،دوسرا حملہ جھنڈا چیچي کے مقام پر ہوتا ہے جیمر کی وجہ سے بم لیٹ پھٹتا ہے اور اتنا طاقتور بم کے پل کے کنکریٹ کے ٹکڑے مشرف کی گآڑی کو آ لگتے ہیں پھر بچ جاتا ہے ،

    پھر کراچي میں دو کنٹینرز میں ہزار ہزار کلوگرام بارودی مواد بھر کر
    سڑک کے دونوں طرف کھڑے کے دیئے جاتے ہیں ،ان کے درمیان سے گزر جاتا
    ہے انکی ریموٹ کنٹرول ریسیور کی تاریں خود بخود کھل ہوئی پائی جاتی ہیں

    پھر بچ جاتا ہے ،طلال بگثی نے ایک کروڑ سر کی قیمت رکھی طلال نہیں رہا
    عبد الرشید نہیں رہا ،بیت اللہ ،حکیم اللہ نہیں رہے ،ہر دشمن بم سے پھٹا کئي تو ایسے مرے کہ بیوی اور بیٹوں کو دو سال بعد پتہ چلا کہ اماں بیوہ ہے دو سال سے

    اللہ نے ہر قدم پر حفاظت کی ،ذاتی کردار کیا ہے اللہ کو معلوم ہے ،لیکن ایک بات
    یہ صابر حسین قسم کھا کر کہتا ہے ،اس نے ہمیشہ ملک کا بھلا کیا ،بھلا سوچا
    ایک دس روپئے کی کرپشن کا الزام نہیں
    اور حب الوطن کا سب سے بڑا ثبوت انڈیا اور امریکا آج خوش ہیں

    فوجی موت سے نہیں ڈرتے ،اور نہ کوئي جنرل اس وجہ سے رک جائۓ گآ کہ سزا موت ہے اور نہ مشرف کو سزائے موت ہوگي ،یہ خام خيالی اور اصل غداروں
    کی خوش فہمی تو ہو سکتی ہے حقیقت نہیں

    انگریز نے جو پودا 1925 میں لگآیا تھا ،جب کوئی مسلمان ملک یا راہنما قابو نہیں آتا تو 1925 والے پالتو ان پر چھوڑ دیتا ہے وہ پھر مسلمانوں کو قتل کرکے اسکو
    جہاد کہتے ہیں ،بارش کے بعد پتنگوں کی طرح آج پھر نکلے ہیں
    تانے بانے دیکھو ،پوسٹیں دیکھو ،وڈے انسانیت کے ہمدرد دیکھو

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

  • آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    اسکول کی گھنٹی جیسے ہی بجی، تمام بچے اسمبلی ہال میں آکر کھڑے ہوگئے۔ دعا کے بعد تمام بچوں نے بہ آوازِ بلند قومی ترانہ پڑھا اور پھر اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ابھی کلاسز میں پڑھائی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ اچانک پورا اسکول فائرنگ سے گونج اٹھا،

    16 دسمبر 2014 کا دن پوری قوم کےلیے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جسے قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے اسکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور بچوں کو چن چن کر قتل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے اسکول پہنچنے تک دہشت گرد خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کچھ ہی دیر میں ان ظالموں نے 132 معصوم جانوں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا۔

    واقعے کے بعد ہر طرف خون اور معصوم بچوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور اگر پیچھے کچھ بچا تھا تو صرف شہید بچوں کے والدین کی آہیں اور سسکیاں تھیں۔ اسکول کے در و دیوار دہشت اور ہولناکی کی دردناک کہانی بیان کررہے تھے، دہشت گردوں نے اسکول میں درندگی کی ایسی مثال قائم کی کہ انسانیت بھی شرما جائے۔

    سلام ان معصوم شہدا کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان شہدا کے لواحقین کو جن کے بچے صبح اسکول تو گئے لیکن واپس گھروں کو نہ آئے۔ سلام ان بہادر اساتذہ کو جنہوں نے بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان قربان کردی، بالخصوص پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کو جنہوں نے فرض شناسی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان قربان کردی لیکن دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ میں دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ہر آنکھ اشک بار تھی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا اس ساںحے کی بربریت کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھی۔ واقعے میں شہید بچوں اور افراد کے لواحقین کے صبر اور عظمت کو سلام۔ لیکن جو اس حملے زخمی ہوئے تھے، ان کے ذہنوں پر اس دردناک سانحے کے انمٹ نقوش آج تک موجود ہیں۔

    اے پی ایس سکول کے ننھے طالبعلموں کوجس طرح چن چن کرشہید کیا گیا یہی توانداز فرعون کا تھا وہ بھی بچوں کادشمن تھا ، انسانیت کے ان ننھے ،پیارے اور والدین کی آنکھوں کے تاروں کو اس طرح مسل دیتاتھا جس طرح آرمی پبلک سکول میں ننھے منھے بچوں‌ کو چن چن کرماراگیا،فرعون بچوں کوتیل کے کڑاہے میں پھینک بھون دیتا تھا وہ اے پی ایس میں گھسنے والے فرعون کے وارث بھی تو ویسے ہی بھون رہے تھے

    اے پی ایس میں بچ جانے والے بچوں میں‌ سے کچھ کا یہ کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد ساتھی طلباکوکھینچ کے سامنے لاتے اورفرعون کی طرح بھون دیتے وہ تیل کے کڑاہے میں بھونتا تھا یہ گولیوں سے بھون رہے تھے

    ویسے بھی افغانیوں کے بارےمیں مورخین کاکہنا ہےکہ اسی اسرائیلی نسل سے چلے آرہے ہیں‌،مورخین کے مطابق فرعون نسلاُ اسرائیلی تھا مگرمگربعد میں مختلف قبائل میں‌ بٹ جانے کی وجہ سے قبیلے کے نام سے مشہورہوگیا

    مورخین لکھتے ہیں‌ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو روکنے کے لیے ہزار ہا بچوں کا قتل عام بھی ان کی بدنامی کا اہم محرک تھا۔ قدرت نے موسیٰ کو فرعون کے گھر میں پروان چڑھا کراس کی تمام آہنی تدبیریں الٹ دیں۔بالکل ویسے ہی اللہ کے فضل سے پاک فوج نے دشمن کی تمام سازشوں کو بری طرح نہ صرف ناکام بنایا بلکہ دشمنان پاکستان کی تمام تدبیریں الٹ گئیں‌ ،

    جس طرح فرعون کوبچوں‌کے قتل کے بعد شکست ہوئی اوروہ آج تک دنیا اس کی شکل دیکھ کراس کے مظالم کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں‌ آج بھی ویسے ہی بنی اسرائیل کی نسل سے تعلق رکھنے والے ان افغانی دہشت گردوں کے انجام کو دیکھ کراس قوم کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ، اب میں بتاتا ہوں کہ جوفرعون کی سنت اے پی ایس میں دہرائی گئی اس سے پہلے یہ سنت کس کس دور میں دہرائی گئی

    ہزاروں سال کے بعد آج کا انسان فرعون کے غیرانسانی طرزعمل اور بچہ کشی کی پالیسی پر دہنگ رہ جاتا ہے۔ مگرمعصوم بچوں کے قتل عام میں فرعون تنہا نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون، ان سے قبل اور آج تک دنیا ایسے فرعونوں سے بھری پڑی ہے جو طاقت کے نشے میں اقتدارکے دوام کے لیے موسیٰ کی پیدائش کو روکنے کی خاطرغلطاں و پیچاں رہے ہیں۔

    فرعون مصر کی راہ پر چلتے ہوئے بچوں کو قتل کرنے والے بادشاہوں میں یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر ‘اِدی امین دادا’ نے سنہ 1971ء تا 1979ء میں اپنے ہی عوام کو اس بے رحمی سے قتل کرایا کہ محض نو سال کے عرصے میں 80 ہزار بچوں سمیت پانچ لاکھ افراد کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ یوگنڈا کا کوئی محلہ، قصبہ اور شہرایسا نہیں بچا جہاں پر امین دادا کے اجرتی قاتلوں نے کم سن بچوں کو سنگینوں میں نہ پرویا ہو۔ خواتین کی کھلے عام عصمت ریزی کے واقعات سن کر انسانی تہذیب کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔

    بچوں کے قتل عام میں بدنام زمانہ بادشاہوں میں "Attila the Hun” کا نام بھی سر فہرست ہے۔ آٹیلا ‘ہیونک ایمپائر'[موجودہ یورپی ممالک پر مشتمل تھی] کا 19 سال تک بادشاہ مطلق بنا رہا۔ اس نے یہ طے کر رکھا تھا کہ اس کی سلطنت میں اولاد نرینہ کم سے کم ہو تاکہ اس کی حکومت کو اندر سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔ پڑوسیوں کو زیر کرنے کے عادی اس بادشاہ نے اپنے فوجیوں کو آس پاس کی ریاستوں میں بھی بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ دریائے دینوب کے آر پار اس کے فوجی اچانک حملے کرتے اور پوری پوری بستیوں کو نیست ونابود کر دیتے۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کو انعام اکرام سے نوازا جاتا۔

    منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان کی انسانیت دشمنی ایک ضرب المثل تھی۔ فتوحات کے شوق میں اس کی فوج جہاں جہاں سے گذرتی انسان، حیوان حتیٰ کہ درختوں اور فصلوں کو بھی تہس نہس کرتی چلی جاتی۔ تاتاریوں کی وحشت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ہم مذہبوں کو بھی معاف نہیں کرتے تھے۔ چنگیز خان کے دور حکومت میں لاکھوں بچوں کو قتل کیا گیا۔

    بیسویں صدی کے سفاک بادشاہوں اور انسانوں کا خون پینے والوں میں ایک نام کمبوڈیا کے وزیراعظم پول پاٹ کا ہے۔ پول پاٹ شکل و صورت کے اعتبار سے گلہری نما انسان تھا مگر معصوم لوگوں کے خون کا اس قدر پیاسا کہ اس کے حکم پر لاکھوں لوگ نہایت بے رحمی سے قتل کیے گیے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کی مائوں سے چھین کر آگ کے الائو میں پھینک دیا جاتا۔ کئی کئی بچوں کو اوپر تلے رکھ کر رسیوں سے باندھنے کے بعد پہاڑوں سے گہری کھائیوں میں پھینک دیا جاتا۔ بچوں کو بھوکا رکھ کرانہیں سسک سسک مرنے پرمجبور کیا جاتا۔ ان سے جبری مشقت کی لی جاتی ۔ بھوکے پیاسے بچے جب نڈھال ہو کر گر پڑتے تو اُنہیں اٹھا کر بادشاہ کے کتوں کے آگے ڈالا جاتا۔ یہ کتےان معصوموں کو بھنببوڑ کر انسانیت کا ماتم کرتے۔

    بچوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے والوں میں روس کے ‘آئیون چہارم’، جرمنی کے اڈولف ایکمن، ایڈوولف ہٹلر، بیلجیم کے لیوپول دوم اور سوویت یونین کے جوزف اسٹالن کے نام بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں فراعنہ کی کوئی کمی نہیں۔ ایک فرعون وقت منظم ریاست کی شکل میں دنیا کے نقشے پرموجود ہے۔ اس فرعون کے ہاتھوں سنہ 1948ء سے آج تک فلسطینی قوم کی کئی نسلیں تہہ تیغ کی جا چکی ہیں۔ فلسطین میں قیام اسرائیل کے بعد سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں کسی فلسطینی بچے کوشہید، زخمی یا گرفتار نہ کیا گیا ہو۔ فلسطین میں باربار مسلط کی گئی جنگوں میں بچوں کو آسان شکار کے طورپر نشانہ بنایا جاتا۔

    2014ء کے وسط میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ میں شہید ہونے والے 22 سو شہریوں میں سے 560 بچے تھے۔ سنہ 1967ء کے بعد 80 ہزار فلسطینی بچوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک 12 ہزار فلسطینی نونہال گرفتار کیے گئے اور 4000 ہزار سے زائد شہید کیے جا چکے ہیں۔ فلسطین میں اکتوبر کے اوائل سے جاری تحریک کے دوران صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینیوں کی عمریں 18 سال یا اس سے بھی کم ہیں۔

    بچوں کے قتل عام میں فرعون بدنام ہوا مگر وہ قصہ پارینہ ہوگیا۔ انسانی شعور کی پختگی کے اس دور میں بھی فلسطین میں صہیونیوں کےہاتھوں ‘اندھیر نگری چوپٹ راج’ ہے۔ جیلوں میں ڈالے گئے بچوں پرڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم فرعونی مظالم سے کسی بھی شکل میں کم نہیں ہیں۔ بچوں کو گولیاں مارنے اور انہیں زخمی کرنے کے بعد سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کسی امدادی کارکن کو مرغ بسمل بنے زخمی کی مدد کی اجازت نہیں دی جاتی۔ صہیونی درندے تڑپتے فلسطینیوں کو جام شہادت نوش کرنے کے عمل سے محظوظ ہوتے ہیں۔

    دنیا پھر بھی فلسطینیوں کو ہی دہشت گرد قرار دیتی اور صہیونی گماشتوں کو دنیا کے امن پسند، جمہوریت کے علمبردار اور مظلوم قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ فرعون کے ایجنٹ بنی اسرائیل کے ہاں کسی بھی بچے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالتے تھے مگر فرعون وقت کا طریقہ واردات کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ آٹھ سے دس سال کے بچوں کو پکڑنے کے بعد کال کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اعتراف جرم کرانے کے لیے ان کے ہاتھوں کے ناخن کھینچے جاتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ الٹا لٹکا کر کوڑوں سے مارا جاتا ہے۔ تشدد کے آحری حربے استعمال کرکے بچوں کو شہید یا تاحیات اپاہج اور معذور کر دیا جاتا ہے۔ مظالم کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ فرعونیت بھی ان کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے۔

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….