Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے  ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے
    کہ آئین شکنی کی سزا سنگین غداری قرار
    دیکر اس پر سزائے موت سے کوئی فوجی ڈر جائے گا ،تو وہ عقل کا انا ہے
    کیونکہ فوجی موت سے نہیں ڈرتا ،حقیقت میں فوج میں بھرتی ہونے والا

    ہر مرد و زن یہ سوچ کر داخل ہوتا ہے کہ پہلی ترجیح موت ہے
    بارڈر پر کھڑآ سپاہی کسی انجان گولی کا نشانہ بن سکتا ہے

    جہاز میں اڑنے والا پائلٹ ہزاروں پرزوں میں سے کسی ایک پرزے کی وجہ
    سے جان سے جا سکتا ہے ،سمندر کی تہہ میں لیٹی سب میرین پانی کے دباؤ
    سے پھٹ سکتی ہے اور درجنوں کی جان لے سکتی ہے ،کوئی فریگيٹ
    کسی چٹان سے ٹکر کر پاش پاش ہو سکتا ہے اور محافظ وہیل کا نوالہ بن
    سکتے ہیں

    کمیشن لیا ،اعزازی تلوار لی ،پہلی ہی پوسٹنگ آرمڈ ڈویژن میں ہوتی ہے
    چند مہینوں بعد جنگ میں جاتا ہے جلتے ٹینک سے لوگوں کو اور بمبوں
    کو نکالتا ہے ،

    پھر تیسرے دن شیل لگنے سے زحمی ہوتا ہے کماد کے کھیت
    میں دو دن اکیلا پڑآ رہتا ہے ،ایک سپاہی اٹھا کر لاتا ہے ،پھر 71 کی جنگ
    لڑتا ہے ،کمانڈو کورس کرتا ہے ،

    انتہائي حساس اور خطرناک مشن مکمل
    کرتا ہے ،خانہ کعبہ کو خارجیوں سے پاک کرتا ہےگولیوں کی بوچھاڑ میں زںدہ بچ جاتا ہے ،عمدہ کارکردگي پر میجر جنرل بنتا ہے،مری میں ہوتا ہے جی ایچ کیو طلب کیا جاتا ہے ہیلی کاپٹر بھیجا جاتا ہے ،گآڑی لیکر نکل پڑتا ہے ،لانے والا ہیلی کاپٹر واپسی پر کریش ہو جاتا ہے دو پائلٹ شہید ہو جاتے ہیں لفٹننٹ جنرل بنتا ہے ،

    منگلہ کا کور کمانڈر بنتا ہے جی ایچ کیو طلب کیا جاتا ہے ،جیب لیکر پنڈی کی طرف چلتا ہے ،لانے والا ہیلی کاپٹر دوسرا کریش ہو جاتا ہے دو پائلٹ شہید ہو جاتے ہیں ،کور کمانڈر کانفرنس ہوتی ہے ملک میں صدر اور وزیراعظم کا جھگڑا چل رہا ہوتا ہے ،میٹنگ میں کہتا ہے ہمیں وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہیئۓ ،یہ بات نواز شریف کو پتہ چلتی ہے وہ آرمی چيف بنا دیتا ہے ،جب نواز شریف کو پتہ چلتا

    ہے یہ تو پکا محب وطن ہے درباری نہیں تو اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے کارگل ہوتا ہے انڈیا کی چیخيں نکال دیتا ہے ،انڈیا اور کلنگٹن کہتے ہیں اسکو ہٹاؤ ،سری لنکا جاتا ہے واپسی وزیراعظم براہ راست حکم دیتا ہے جہاز کو مت لینڈ کرنے دو
    اور ایک انجینئر کو جو درباری ہوتا ہے ضیا الدین بٹ کو آرمی چيف بنا دیتا ہے

    فوج مارشل لاء لگآ دیتی ہے ،پنڈي میں خود کش حملہ ہوتا ہے ایک پولیس انسپکٹر
    کی لاش اڑ کر مشرف کی فرنٹ شیشے پر آ لگتی ہے لیکن بچ جاتا ہے ،دوسرا حملہ جھنڈا چیچي کے مقام پر ہوتا ہے جیمر کی وجہ سے بم لیٹ پھٹتا ہے اور اتنا طاقتور بم کے پل کے کنکریٹ کے ٹکڑے مشرف کی گآڑی کو آ لگتے ہیں پھر بچ جاتا ہے ،

    پھر کراچي میں دو کنٹینرز میں ہزار ہزار کلوگرام بارودی مواد بھر کر
    سڑک کے دونوں طرف کھڑے کے دیئے جاتے ہیں ،ان کے درمیان سے گزر جاتا
    ہے انکی ریموٹ کنٹرول ریسیور کی تاریں خود بخود کھل ہوئی پائی جاتی ہیں

    پھر بچ جاتا ہے ،طلال بگثی نے ایک کروڑ سر کی قیمت رکھی طلال نہیں رہا
    عبد الرشید نہیں رہا ،بیت اللہ ،حکیم اللہ نہیں رہے ،ہر دشمن بم سے پھٹا کئي تو ایسے مرے کہ بیوی اور بیٹوں کو دو سال بعد پتہ چلا کہ اماں بیوہ ہے دو سال سے

    اللہ نے ہر قدم پر حفاظت کی ،ذاتی کردار کیا ہے اللہ کو معلوم ہے ،لیکن ایک بات
    یہ صابر حسین قسم کھا کر کہتا ہے ،اس نے ہمیشہ ملک کا بھلا کیا ،بھلا سوچا
    ایک دس روپئے کی کرپشن کا الزام نہیں
    اور حب الوطن کا سب سے بڑا ثبوت انڈیا اور امریکا آج خوش ہیں

    فوجی موت سے نہیں ڈرتے ،اور نہ کوئي جنرل اس وجہ سے رک جائۓ گآ کہ سزا موت ہے اور نہ مشرف کو سزائے موت ہوگي ،یہ خام خيالی اور اصل غداروں
    کی خوش فہمی تو ہو سکتی ہے حقیقت نہیں

    انگریز نے جو پودا 1925 میں لگآیا تھا ،جب کوئی مسلمان ملک یا راہنما قابو نہیں آتا تو 1925 والے پالتو ان پر چھوڑ دیتا ہے وہ پھر مسلمانوں کو قتل کرکے اسکو
    جہاد کہتے ہیں ،بارش کے بعد پتنگوں کی طرح آج پھر نکلے ہیں
    تانے بانے دیکھو ،پوسٹیں دیکھو ،وڈے انسانیت کے ہمدرد دیکھو

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

  • آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    اسکول کی گھنٹی جیسے ہی بجی، تمام بچے اسمبلی ہال میں آکر کھڑے ہوگئے۔ دعا کے بعد تمام بچوں نے بہ آوازِ بلند قومی ترانہ پڑھا اور پھر اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ابھی کلاسز میں پڑھائی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ اچانک پورا اسکول فائرنگ سے گونج اٹھا،

    16 دسمبر 2014 کا دن پوری قوم کےلیے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جسے قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے اسکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور بچوں کو چن چن کر قتل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے اسکول پہنچنے تک دہشت گرد خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کچھ ہی دیر میں ان ظالموں نے 132 معصوم جانوں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا۔

    واقعے کے بعد ہر طرف خون اور معصوم بچوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور اگر پیچھے کچھ بچا تھا تو صرف شہید بچوں کے والدین کی آہیں اور سسکیاں تھیں۔ اسکول کے در و دیوار دہشت اور ہولناکی کی دردناک کہانی بیان کررہے تھے، دہشت گردوں نے اسکول میں درندگی کی ایسی مثال قائم کی کہ انسانیت بھی شرما جائے۔

    سلام ان معصوم شہدا کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان شہدا کے لواحقین کو جن کے بچے صبح اسکول تو گئے لیکن واپس گھروں کو نہ آئے۔ سلام ان بہادر اساتذہ کو جنہوں نے بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان قربان کردی، بالخصوص پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کو جنہوں نے فرض شناسی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان قربان کردی لیکن دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ میں دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ہر آنکھ اشک بار تھی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا اس ساںحے کی بربریت کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھی۔ واقعے میں شہید بچوں اور افراد کے لواحقین کے صبر اور عظمت کو سلام۔ لیکن جو اس حملے زخمی ہوئے تھے، ان کے ذہنوں پر اس دردناک سانحے کے انمٹ نقوش آج تک موجود ہیں۔

    اے پی ایس سکول کے ننھے طالبعلموں کوجس طرح چن چن کرشہید کیا گیا یہی توانداز فرعون کا تھا وہ بھی بچوں کادشمن تھا ، انسانیت کے ان ننھے ،پیارے اور والدین کی آنکھوں کے تاروں کو اس طرح مسل دیتاتھا جس طرح آرمی پبلک سکول میں ننھے منھے بچوں‌ کو چن چن کرماراگیا،فرعون بچوں کوتیل کے کڑاہے میں پھینک بھون دیتا تھا وہ اے پی ایس میں گھسنے والے فرعون کے وارث بھی تو ویسے ہی بھون رہے تھے

    اے پی ایس میں بچ جانے والے بچوں میں‌ سے کچھ کا یہ کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد ساتھی طلباکوکھینچ کے سامنے لاتے اورفرعون کی طرح بھون دیتے وہ تیل کے کڑاہے میں بھونتا تھا یہ گولیوں سے بھون رہے تھے

    ویسے بھی افغانیوں کے بارےمیں مورخین کاکہنا ہےکہ اسی اسرائیلی نسل سے چلے آرہے ہیں‌،مورخین کے مطابق فرعون نسلاُ اسرائیلی تھا مگرمگربعد میں مختلف قبائل میں‌ بٹ جانے کی وجہ سے قبیلے کے نام سے مشہورہوگیا

    مورخین لکھتے ہیں‌ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو روکنے کے لیے ہزار ہا بچوں کا قتل عام بھی ان کی بدنامی کا اہم محرک تھا۔ قدرت نے موسیٰ کو فرعون کے گھر میں پروان چڑھا کراس کی تمام آہنی تدبیریں الٹ دیں۔بالکل ویسے ہی اللہ کے فضل سے پاک فوج نے دشمن کی تمام سازشوں کو بری طرح نہ صرف ناکام بنایا بلکہ دشمنان پاکستان کی تمام تدبیریں الٹ گئیں‌ ،

    جس طرح فرعون کوبچوں‌کے قتل کے بعد شکست ہوئی اوروہ آج تک دنیا اس کی شکل دیکھ کراس کے مظالم کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں‌ آج بھی ویسے ہی بنی اسرائیل کی نسل سے تعلق رکھنے والے ان افغانی دہشت گردوں کے انجام کو دیکھ کراس قوم کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ، اب میں بتاتا ہوں کہ جوفرعون کی سنت اے پی ایس میں دہرائی گئی اس سے پہلے یہ سنت کس کس دور میں دہرائی گئی

    ہزاروں سال کے بعد آج کا انسان فرعون کے غیرانسانی طرزعمل اور بچہ کشی کی پالیسی پر دہنگ رہ جاتا ہے۔ مگرمعصوم بچوں کے قتل عام میں فرعون تنہا نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون، ان سے قبل اور آج تک دنیا ایسے فرعونوں سے بھری پڑی ہے جو طاقت کے نشے میں اقتدارکے دوام کے لیے موسیٰ کی پیدائش کو روکنے کی خاطرغلطاں و پیچاں رہے ہیں۔

    فرعون مصر کی راہ پر چلتے ہوئے بچوں کو قتل کرنے والے بادشاہوں میں یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر ‘اِدی امین دادا’ نے سنہ 1971ء تا 1979ء میں اپنے ہی عوام کو اس بے رحمی سے قتل کرایا کہ محض نو سال کے عرصے میں 80 ہزار بچوں سمیت پانچ لاکھ افراد کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ یوگنڈا کا کوئی محلہ، قصبہ اور شہرایسا نہیں بچا جہاں پر امین دادا کے اجرتی قاتلوں نے کم سن بچوں کو سنگینوں میں نہ پرویا ہو۔ خواتین کی کھلے عام عصمت ریزی کے واقعات سن کر انسانی تہذیب کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔

    بچوں کے قتل عام میں بدنام زمانہ بادشاہوں میں "Attila the Hun” کا نام بھی سر فہرست ہے۔ آٹیلا ‘ہیونک ایمپائر'[موجودہ یورپی ممالک پر مشتمل تھی] کا 19 سال تک بادشاہ مطلق بنا رہا۔ اس نے یہ طے کر رکھا تھا کہ اس کی سلطنت میں اولاد نرینہ کم سے کم ہو تاکہ اس کی حکومت کو اندر سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔ پڑوسیوں کو زیر کرنے کے عادی اس بادشاہ نے اپنے فوجیوں کو آس پاس کی ریاستوں میں بھی بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ دریائے دینوب کے آر پار اس کے فوجی اچانک حملے کرتے اور پوری پوری بستیوں کو نیست ونابود کر دیتے۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کو انعام اکرام سے نوازا جاتا۔

    منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان کی انسانیت دشمنی ایک ضرب المثل تھی۔ فتوحات کے شوق میں اس کی فوج جہاں جہاں سے گذرتی انسان، حیوان حتیٰ کہ درختوں اور فصلوں کو بھی تہس نہس کرتی چلی جاتی۔ تاتاریوں کی وحشت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ہم مذہبوں کو بھی معاف نہیں کرتے تھے۔ چنگیز خان کے دور حکومت میں لاکھوں بچوں کو قتل کیا گیا۔

    بیسویں صدی کے سفاک بادشاہوں اور انسانوں کا خون پینے والوں میں ایک نام کمبوڈیا کے وزیراعظم پول پاٹ کا ہے۔ پول پاٹ شکل و صورت کے اعتبار سے گلہری نما انسان تھا مگر معصوم لوگوں کے خون کا اس قدر پیاسا کہ اس کے حکم پر لاکھوں لوگ نہایت بے رحمی سے قتل کیے گیے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کی مائوں سے چھین کر آگ کے الائو میں پھینک دیا جاتا۔ کئی کئی بچوں کو اوپر تلے رکھ کر رسیوں سے باندھنے کے بعد پہاڑوں سے گہری کھائیوں میں پھینک دیا جاتا۔ بچوں کو بھوکا رکھ کرانہیں سسک سسک مرنے پرمجبور کیا جاتا۔ ان سے جبری مشقت کی لی جاتی ۔ بھوکے پیاسے بچے جب نڈھال ہو کر گر پڑتے تو اُنہیں اٹھا کر بادشاہ کے کتوں کے آگے ڈالا جاتا۔ یہ کتےان معصوموں کو بھنببوڑ کر انسانیت کا ماتم کرتے۔

    بچوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے والوں میں روس کے ‘آئیون چہارم’، جرمنی کے اڈولف ایکمن، ایڈوولف ہٹلر، بیلجیم کے لیوپول دوم اور سوویت یونین کے جوزف اسٹالن کے نام بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں فراعنہ کی کوئی کمی نہیں۔ ایک فرعون وقت منظم ریاست کی شکل میں دنیا کے نقشے پرموجود ہے۔ اس فرعون کے ہاتھوں سنہ 1948ء سے آج تک فلسطینی قوم کی کئی نسلیں تہہ تیغ کی جا چکی ہیں۔ فلسطین میں قیام اسرائیل کے بعد سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں کسی فلسطینی بچے کوشہید، زخمی یا گرفتار نہ کیا گیا ہو۔ فلسطین میں باربار مسلط کی گئی جنگوں میں بچوں کو آسان شکار کے طورپر نشانہ بنایا جاتا۔

    2014ء کے وسط میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ میں شہید ہونے والے 22 سو شہریوں میں سے 560 بچے تھے۔ سنہ 1967ء کے بعد 80 ہزار فلسطینی بچوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک 12 ہزار فلسطینی نونہال گرفتار کیے گئے اور 4000 ہزار سے زائد شہید کیے جا چکے ہیں۔ فلسطین میں اکتوبر کے اوائل سے جاری تحریک کے دوران صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینیوں کی عمریں 18 سال یا اس سے بھی کم ہیں۔

    بچوں کے قتل عام میں فرعون بدنام ہوا مگر وہ قصہ پارینہ ہوگیا۔ انسانی شعور کی پختگی کے اس دور میں بھی فلسطین میں صہیونیوں کےہاتھوں ‘اندھیر نگری چوپٹ راج’ ہے۔ جیلوں میں ڈالے گئے بچوں پرڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم فرعونی مظالم سے کسی بھی شکل میں کم نہیں ہیں۔ بچوں کو گولیاں مارنے اور انہیں زخمی کرنے کے بعد سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کسی امدادی کارکن کو مرغ بسمل بنے زخمی کی مدد کی اجازت نہیں دی جاتی۔ صہیونی درندے تڑپتے فلسطینیوں کو جام شہادت نوش کرنے کے عمل سے محظوظ ہوتے ہیں۔

    دنیا پھر بھی فلسطینیوں کو ہی دہشت گرد قرار دیتی اور صہیونی گماشتوں کو دنیا کے امن پسند، جمہوریت کے علمبردار اور مظلوم قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ فرعون کے ایجنٹ بنی اسرائیل کے ہاں کسی بھی بچے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالتے تھے مگر فرعون وقت کا طریقہ واردات کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ آٹھ سے دس سال کے بچوں کو پکڑنے کے بعد کال کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اعتراف جرم کرانے کے لیے ان کے ہاتھوں کے ناخن کھینچے جاتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ الٹا لٹکا کر کوڑوں سے مارا جاتا ہے۔ تشدد کے آحری حربے استعمال کرکے بچوں کو شہید یا تاحیات اپاہج اور معذور کر دیا جاتا ہے۔ مظالم کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ فرعونیت بھی ان کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے۔

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….

  • ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن عارف

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن عارف

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اور حقوق کا ایک ایسا نظریہ جس کے تحت تمام انسان یکساں طور پر بنیادی انسانی حقوق کے حقدار ہیں۔ اس نظریہ میں وہ تمام اجزاء شامل ہیں جس کے تحت کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسان یکساں طور پر بنیادی ضروریات اور سہولیات سے استفادہ کر سکیں.

    درج بالا تعریف حقوق انسانی کی تعریف ہے. حقوق انسانی کے ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو ان کے حقوق دیے جائیں. رب کائنات کی بنائی ہوئی اس دھرتی پر رہنے والے ہر انسان کو کھانے، پینے، اوڑھنے بچھونے، رہن سہن اور معاشرت کی ضرورت ہوتی ہے. اور بنیادی طور پر اس سب کے لیے قدرت نے اسے آزاد و خودمختار پیدا کیا ہے.

    اگر کسی پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے حق کے لیے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے. اگر کسی کو کھانا نہیں مل پا رہا تو وہ دنیا کے سامنے پلے بورڈ لے کر کھڑا ہو سکتا ہے کہ میرے ان مسائل کی وجہ سے مجھے روٹی نہیں مل رہی. الغرض مرد و خواتین ہر بنیادی اور ضروری انسانی حق کے حقدار ہیں.

    حقوق انسانی کے ادارے حقوق دیتے ہیں…. مگر کن کو؟؟؟ جو یہودی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں…. دنیا کے کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو اس کا حق لے کر دیا جاتا ہے…. اور 10 دسمبر کو ہر سال اس ادارے کی کامیابی کے دعوے کرتے ہوئے دن بھی منایا جاتا ہے…. مگر حق نہیں مل پاتا تو صرف مسلمانوں کو!!!

    کتنے ہی مسلم ممالک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا مگر حقوق انسانی کے عالمی ادارے خاموش تھے خاموش ہیں اور خاموش رہیں گے!!!

    آج بھی حقوق انسانی کا دن منایا جا رہا مگر کشمیر میں آج کرفیو کا بھی 128واں دن ہے!!!

    دنیا حقوق انسانی کا دن منا رہی ہے اور کشمیری ماں آج بھی اپنے بیٹے کے لاشے پر آہ و بکا کرتی نظر آتی ہے!

    دنیا انسانی حقوق کے نعروں سے گلے پاڑ رہی ہے. مگر کشمیری بہن کہیں باپ کی جدائی میں غمگین ہے….. تو کہیں پیلٹ گن سے زخمی اپنے چھوٹے بھائی کی آنکھ دیکھ کر سسکیاں لے رہی ہے!

    دنیا حقوق انسانی کا عالمی دن منا تو رہی ہے مگر بوڑھا باپ آج بھی اپنے زندہ رہنے کو کوس رہا ہے…. کیونکہ یک بعد دیگرے اس کے لغت جگر اس کی آنکھوں کے سامنے شہید کر دیے گئے!

    میڈیا آج یونائڈ نیشنز کے انسانی حقوق کمیشن کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے مگر…. کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم سے زخمی بچے ۔بوڑھے، جوان ہسپتالوں میں کراہ رہے ہیں!!!

    کیسی دنیا ہے یہ ؟ کیسی ہے یہ دھرتی ؟ کیسا یہ عالمی دن ہے؟ کیسے ہیں یہ حقوق ؟ کیسی یہ تنظیمیں ہیں؟ کیسے ہیں وہ ملک جو ان اداروں کو سپورٹ کرتے ہیں؟
    نام انسانیت کا ہے ٹارگٹ مسلمان ہے؟

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ
    عبدالرحمن عارف

  • کیا پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے ؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر معاشرے کے اندر اچھے اور برے افراد پائے جاتے ہیں چند برے افراد کی بدولت اچھے لوگوں کی اچھائی بھی دب کر رہ جاتی ہے بات کرتے ہیں پاکستان میں فحش مواد دیکھے جانے کی تو سب سے پہلے یہ دیکھیں جب بھی رپورٹ جاری ہوتی ہے تب یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس فحش مواد کو دیکھا کتنے اکاءونٹس سے جا رہا ہے اور وہ کل انٹرنیٹ صارفین کا کتنے فیصد ہے
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی اقلیتوں سمیت تقریبا 22 کروڑ ہے جس میں سے 1.85فیصد ہندو اور 1.65 فیصد عیسائی جبکہ قادیانی و سکھ اور لبرلز اس کے علاوہ ہیں پاکستان کی کل آبادی کے 22.2 فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں
    ایک دکاندار کو اپنی آمدن سے غرض ہوتی ہے وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس ایک بندے نے دن میں پانچ بار مجھ سے ایک ہی چیز خریدی ہے بلکہ وہ یہ دیکھے گا کہ یہ چیز دن میں کتنی بار میری دکان سے خریدی گئی ہے وہ جب آگے سے وہی چیز خریدے گا تو یہی بتائے گا کہ فلاں چیز ایک دن میں اتنی بار فروخت ہوتی ہے یہ ہرگز نہیں بتائے گا کہ ایک بندہ دن میں یہ چیز اتنی بار مجھ سے خریدتا ہے
    اگر آپ یوٹیوبر ہیں تو آپ کو اپنے فالوورز سے تو سروکار ہوگا مگر یہ جاننے کی آپ کوشش ہرگز نہیں کرینگے کہ آپ کے ایک فالوور نے کتنی بار آپ کی ایک ہی ویڈیو دیکھی ہے ایک فالوور اگر آپ کی ایک ویڈیو دن میں ہزار بار بھی دیکھے گا تو آپ کے اس ویڈیو کے ہزار ویوورز یعنی دیکھنے والوں میں شمار ہوگا نا کہ یہ ہوگا کہ اس فالوور نے یہ ویڈیو ایک بار ہی دیکھی ہے ایسے ہی ڈارک ویب ہیں آپ ایک دن میں کسی ویب کو سرچ کریں تو اس کے ویوورز بڑھتے جاتے ہیں حتی کہ آپ دن میں ہزاروں مرتبہ اس ایک ویب پر ایک لنک کو اوپن کریں تو جب بھی آپ لنک اوپن کرینگے تو آپ کے ہر بار لنک اوپن کرنے سے ویوورز بڑھتے جائینگے
    مگر یہاں قصور وار ہم بھی ہیں ہم بنا سوچے سمجھے اور بغیر دیکھے ایسے کتنے ہی گندے لنکس اپنے واٹس ایپ گروپوں،فیسبک وال اور ٹویٹر و انسٹاگرام اکاونٹس پر لگا دیتے ہیں جن پر کلک کرتے ہی اس لنک کی ریٹنگ بڑھنے لگتی ہے بھلے آپ اس لنک کو کلک کرتے ہی بنا دیکھے چھوڑ دیں
    پاکستان کے 22.2 فیصد انٹرنیٹ صارفین میں سے بیشتر ان پڑھ ہیں یا پھر کم پڑھے لکھے اس لئے وہ ان چالوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور فوری جاری کردہ فہرست کو آگے شیئر کرتے جاتے ہیں جس سے ہمارے دشمن ممالک کے لوگ اپنا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پاکستان قلعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    یہی تو ان اسلام و پاکستان دشمن لوگوں کی ففٹھ جنریشن وار کی کامیابی ہے کہ بات آپ کے دشمن کی ذہن آپ کا انٹرنیٹ پیکج اور موبائل فون آپ کا اور باتیں عروج پر آپ کے دشمنوں کی تو معزز قارئین کرام آپ خود سوچیں آپ دن میں کتنی مرتبہ فحش مواد یا ڈارک ویبز دیکھتے ہیں ؟ یاں پھر آپ کے حلقہ احباب کے لوگ ایسی سائٹس کتنی بار دیکھتے ہیں ؟ یقینا نہیں
    تو پھر دشمن کی اس پھیلائی ہوئی شازش کو سمجھیں اور بنا تحقیق کے باتیں اور لنکس آگے فارورڈ کرنے سے پرہیز کیجئے

  • جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش…از…انشال راؤ

    عورت کے بغیر انسانی معاشرے کی تکمیل ممکن نہیں، یہ عورت ہی ہے جو بچوں کی پرورش کرتی ہے جو معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کرنے کا زریعہ بنتے ہیں، مودی ہو یا موہن بھاگوت، پنڈت ہو یا سوامی سب ہی عورت کے بطن سے پیدا ہوکر آج اس زمین پر اکڑ کر چل رہے ہیں،

    عورتوں کے حقوق کے لیے پوری دنیا میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں بیحد ڈویلپمنٹ بھی سامنے آئی ہے لیکن افسوس ہے کہ بھارت دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں عورت کو جنسی تسکین کا زریعہ سمجھا جاتا ہے اور ہندوتوا کے ہاتھوں میں جانے کے بعد بھارت میں ریپ کیسز میں کئی سو گناہ اضافہ ہوا ہے،

    بھارتی اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 92 ریپ و گینگ ریپ کے کیسز پولیس میں رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں کیسز یا تو بدنامی سے بچنے کے لیے رپورٹ نہیں ہوتے یا پولیس ان کو رپورٹ نہیں کرتی جیسا کہ کچھ دن پہلے ہی کی بات حیدرآباد کے قریب ایک گاوں میں ایک غبارے و ٹافیاں بیچنے والی دلت عورت کا گینگ ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا گیا جس کی رپورٹ درج کروانے اس کا خاوند پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹتا رہا لیکن اس کے دلت ہونے کی وجہ سے کسی نے ایک نہ سنی،

    بڑھتے ہوے ریپ کیسز کی وجہ سے بھارت کو اب ریپستان کا نام دیا جارہا ہے، ریپ کلچر میں اضافے کی وجہ ہندوتوائی سوچ و رہنما ہیں، جیسا کہ اعلانیہ طور پر BJP سے منسلک ہندوتوا خواتین ونگ رہنما سنیتا سنگھ گاد نے کہا کہ ہندو دس اور بیس کی ٹولیاں بناکر مسلم خواتین کا ریپ کریں، اس کے علاوہ ہندوتوا سوچ و فکر کے مطابق دلت طبقے کو اونچی ذات کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے، جب یہ سوچ فکر پروان چڑھیگی تو یقیناً ریپ کیسز میں اضافہ ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں،

    رواں ماہ حیدرآباد سے ایک وٹنری ڈاکٹر خاتون کو اغوا کرکے ریپ کے بعد زندہ جلادیا گیا جس پر پورے بھارت میں خواتین کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا جسکے بعد حکومت و پولیس کو مجبوراً حرکت میں آنا پڑا اور چار ملزمان کو عدالتی کاروائی کیے بغیر ہی پولیس مقابلہ دکھا کر قتل کردیا گیا لیکن اس کیس میں ایک انتہائی بھیانک پہلو دیکھنے میں آیا،

    سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ نے تقریر کرتے ہوے کہا کہ ریپ کرنے والوں کو Lynch کیا جانا چاہئے اور عوام قانون کو ہاتھ میں لیکر ان کا قتل کرے جبکہ دوسری طرف پولیس کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی چاروں ملزمان کے نام میڈیا تک پہنچ گئے لیکن ہندوتوا میڈیا نے ان چار میں سے ایک مسلمان ملزم کے نام کو لیکر نفرتیں بکھیرنا شروع کردیں جسکے بعد ہندوتوا آرمی کا طوفان سوشل میڈیا پہ اتر آیا اور مسلمانوں کے خلاف مذموم مہم شروع ہوگئی جسکے اثرات بہت منفی آئینگے،

    اس سے پہلے کسی بھی مسلمان پر گائے ذبیحہ یا گائے کے گوشت کا الزام لگا کر قتل کردیا جاتا تھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اور اب ایک بار پھر ہندوتوا آرمی کو ایک بہانہ دیدیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان فرد پر الزام لگا کر اسے قتل کردیں، یہ کوئی انوکھا کیس نہیں ہوا اسی روز ایک 23 سالہ خاتون کو ریپ کیس کی پیشی پر جاتے ہوے ملزمان نے قتل کرکے جلادیا،

    اس کے علاوہ کچھ روز قبل حیدرآباد ہی کے قریب ایک دلت خاتون کو ریپ کے بعد جلادیا گیا اور کچھ عرصہ پہلے ہی BJP رہنما کلدیپ سنگھ سنگار ریپ کرنے کے مرتکب ہوے اور متاثرہ عورت کو عدالت جاتے ہوے کچل دیا گیا لیکن نہ ہندوتوا میڈیا کو تکلیف ہوئی نہ ہی ہندوتوا آرمی کو عورت کی عظمت کا خیال آیا جبکہ وٹنری ڈاکٹر کے کیس میں ایک مسلمان ملزم جس پر ابھی جرم ثابت بھی نہیں ہوا تھا کے نام کو لیکر ہندوتوا میڈیا نفرتوں و اشتعال انگیزی پھیلاتا رہا جبکہ اس میں نامزد دیگر تین ہندو ملزمان کا ذکر تک نہ کیا،

    اب اگر آنے والے دنوں میں کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شخص بالخصوص مسلمان یا پھر کسی دلت کو ریپ کا الزام لگا کر قتل کیا گیا تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، ہندوتوا لیڈرز پر یا ہندوتوائی میڈیا پر؟ جب سے BJP اقتدار میں آئی ہے تو بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ ہوتی جارہی ہے اور بھارتی میڈیا انسانی و عالمی حقوق کے برخلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور ایک مخصوص ایجنڈے پہ عمل پیرا ہے جسکے نتیجے میں پورا خطہ آگ و خون کی لپیٹ میں آجانا ہے، بھارتی میڈیا کے غیرذمیدارانہ کردار کے نتیجے میں پہلے ہی بھارت میں لاکھوں خاندان اجڑ چکے ہیں

    لیکن ہندوتوا میڈیا اسی روش پہ قائم ہے عالمی انسانی حقوق کے ذمہ دار اداروں و طاقتور ممالک کو اب بھارتی رہنماوں و میڈیا کے اس غیرذمیدارانہ کردار پر ٹھوس ایکشن لینا ہوگا ورنہ انسانی روپ میں چھپے یہ بھیڑئیے دنیا کے امن کو تباہ و برباد کردینگے۔
    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش

  • اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

    آج کل ہم اپنی زندگیوں میں کس قدر کھو گئے ہیں کہ کسی دوسرے انسان کا ہمیں خیال ہی نہیں بس خود کے لیے جیتے ہیں۔
    اسی لیے تو معاشرہ آج کل افرا تفری کا شکار ہے ہم بھول بیٹھے ہیں کہ مرنا بھی ہے اور جو مال و دولت اکٹھی کر رہے ہیں یہ سب دُنیا میں رہ جائے گی۔

    ہمیں تو فخر ہونا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری اسلامی تعلیمات کس قدر اعلیٰ ہیں
    آئیے ذرا آج بات کرتے ہیں حسن معاشرت پر۔۔۔۔۔۔۔

    معاشرت ،باہم مل جل کر رہنے کو کہتے ہیں اور حسن معاشرت کا معنی ہے زندگی گزارتے ہوئے ایک دوسرے ساتھ نہایت عمدہ سلوک روا رکھنا۔

    ایک دوسرے کے ساتھ مل کے زندگی گزارتے ہوئے اعلٰی اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔

    ایثار،خدمت،خیر خواہی،نیکی کے کاموں میں تعاون،ایک دوسرے کے لیے حُسنِ ظن رکھنا اور اس طرح کی دیگر اعلیٰ اقدار پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔

    اسلام نے حُسنِ معاشرت کے قیام کے لیے احسان کی روش اختیار کرنے کو بنیاد بنایا ہے
    احسان یہ کہ دوسرے کی ضروریات کا خود احساس کریں اس کی ضرورت کو خود محسوس کریں اور یہ سوچے بغیر کہ اس کی مدد کرنا ہماری زمداری تھی یا نہیں ۔۔۔۔۔
    ہم ہم اس کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

    ٫٫تم لوگوں کی دیکھا دیکھی کام کرنے والے نا بن جاؤ تم لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا کریں گے اور اگر انہوں نے زیادتی کی تو ہم بھی زیادتی کریں گے بلکہ تم زیادتی نہ کرو
    حُسنِ معاشرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ
    معاشرتی زندگی میں الزام تراشی سے بچا جائے۔
    الزام تراشي ایسی چیز ہے جو معاشرتی اور ذہنی سکون کا خاتمے کا سبب بنتی ہے
    ہمارا عام رویہ ہے کہ ہم الزام لگانے میں بڑے بے باک ہو جاتے ہیں اور ہمارے ذہن سے یہ بات بالکل نکل جاتی ہے کہ اس سے کسی کی عزت پر کتنا منفی اثر پڑے گا۔
    پھر یہ اِلزام تراشی اگر جنسی زندگی سے متعلق ہو تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں اسلام نے ہمیں بے اعتدالی سے بچانے کے لئے قذف کی سزا مقرر کی ہے۔
    اس کی حکمت یہ ہے کہ اسلام نہیں چاہتا کہ جنسی زندگی اور بے حیائی کی گُفتگو لوگوں کی محفلوں کا موضوع ہو۔

    اسی طرح حسن معاشرت کے حوالے سے اسلام نے بہت سی ہدایات دی ہیں
    جیسے ایک دوسرے کے ہاں کھانے پینے سے باہم محبت پیدا ہوتی ہے

    *اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔

    لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمعیا او اشتا نا
    ترجمہ:
    تم مل کر کھاؤ یا اکیلے اکیلے کھاؤ اس میں تم تم پر کوئی گناہ نہیں،،

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

    مل کر کھاؤ تنہا نہ کھاؤ برکت مل کر کھانے میں ہے
    لیکن آج کل ہم کُچھ زیادہ ماڈرن ہو گئے صبح ناشتے کے لئے گھر کے افراد ہی اپنی زندگی میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ جدید دور میں باپ الگ ناشتہ کرتا ہے۔
    بچے الگ کرتے ہیں ایسا کیوں ہے؟؟؟؟؟؟؟
    پھر عزیز و اقارب کی دعوت میں بھی ہم تکلف کا شکار ہیں۔
    یا پھر ہم اپنے برابر کے لوگوں کی دعوت کرتے ہیں وہ بھی اپنے سٹیٹس اونچا کرنے کے لیے۔۔
    افسوس کہ ہم ہر کام ہی محض اپنے لیے کرتے ہیں ۔
    اللہ تعالی کی رضا کے لیے ہم کُچھ نہیں کرتے۔

    پھر اسی طرح ہم بزرگوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں؟؟؟
    اپنے گھر کے بزرگوں کو کتنا وقت دیتے ہیں دیگر ہمارے سامنے کتنے عمر رسیدہ بزرگ ہمارے محلے گلی بازار،ہمسائیوں میں ملتے ہیں اُن سے ہمارا رویہ کیسا ہے؟؟؟؟؟
    یقینا۔۔۔۔۔۔۔
    بُرا رویہ
    وہ اس طرح کے ہم اُنھیں وقت نہیں دیتے اُن سے مل بیٹھ کے بات نہیں کرتے انکی سنتے نہیں۔
    بس اپنی سناتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ چار جماعتیں پڑھ کر ہم بڑے سمجھدار اور پتہ نہیں سکولر بن گئے ہمیں کیا ضرورت ان کی نصیحتوں کی۔۔۔۔۔۔
    ایسا بلکل نہیں یقین مانیے جو سکون اطمینان بزرگوں کے سائے میں ہے وہ کہیں نہیں
    نا کسی سینما میں نا کسی فلم اور ڈراما میں اور نا ہی دوستوں کی فضول محافل میں بیٹھنے سے ہے۔

    یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے اپنے یونیورسٹی کے ایک بہت قابل ٹیچر سر مختار صاحب ہیں اُن کی بات یاد آگئی۔
    وہ ہمیں کچھ بھی پڑھاتے تو ساتھ کہا کرتے تھے۔

    بیٹا میں مثال دیتا ہوں مثال سے بات سمجھ آتی ہے،،،
    وہ مثال دیا کرتے تھے اور ہمیں واقعی ہی سمجھ آ جاتی تھی۔
    میں بھی یہاں مختصر سا ایک واقع بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں شاید قارئین کو میری بات بھی سمجھ آجائے
    میں اپنی آپ بیتی کہانی سناتی ہوں۔
    مجھے دراصل بزرگوں سے کہانیاں سننے کا شوق ہے تاریخی واقعات جو ان سے پیش آئے ہوں وہ دلچسپی سے سنتی ہوں۔
    اپنی امی ابو سے کہانیاں سننے کی عادت ابھی بھی ہے۔
    ایک دن ایسا ہوا کہ میں ہمسائیوں کے گھر گئی ویسے ہی فارغ تھی سوچا اُن سے مل آؤں۔
    اُن کے گھر کے افراد میں دو بچے اور اُن کی ماں رہتے ہیں اور شوہر کام کے سلسلے میں گاؤں سے دور رہتے ہیں۔
    اس لیے میں کبھی کبھی چلی جاتی ہوں چونکہ وہ میری ہم عمر ہے تو اچھی گپ شپ ہو جاتی ہے۔
    ایک دن ایسا ہوا کہ میں گئی اُن کے ہاں تو اس بہن کے والدین آئے ہوۓ تھے جو کہ کافی عمر رسیدہ بزرگ تھے۔
    بہن کے والد صاحب تقریباً 80 برس کے تھے اُن کی نظر بھی کمزور اور سماعت بھی کمزور تھی۔
    مجھے چونکہ کہ بزرگوں سے بات چیت کرنے میں کہانیاں سننے میں مزا آتا ہے۔
    تو حسب معمول اُن سے بھی حال احوال پوچھنے لگی۔۔۔۔
    بات چیت کرنے کے بعد محسوس ہوا وہ کافی پریشان ہیں بیٹوں کے تلخ رویے کے وجہ سے اور اُن کا اپنے والدین کو وقت نا دینا۔
    اُنھیں تکلیف دیتا ہے۔
    خیر چلو یہ بات ایک طرف رہی۔
    وہ جتنے دِن یہاں رکے میں روز جاتی اُن سے ملتی کوئی واقع کوئی کہانی کوئی اسلامی بات سُننے کی فرمائش کرتی۔
    یقین مانیے میں الفاظ میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کس قدر دلی سکون ملتا اُن کو خوش دیکھ کے۔
    وہ بڑے شوق سے باتیں سناتے کبھی قرآن کریم میں موجود واقعات سناتے کبھی قیامت کا ذکر ہوتا۔
    کبھی جنگوں کا ذکر کرتے۔
    وہ مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیتے اور خوش ہوتے ۔
    ایک دن گھر کی مصروفیات کی وجہ سے میں اُن کے گھر نا جا سکی۔
    انہوں نے باقاعدہ اپنی بیٹی کو بھیجا کہ

    وہ بیٹی جو روز آتی ہے آج کیوں نہیں آئی اُسے بلا کے لاؤ اُس کی خیریت معلوم کرو وہ ٹھیک تو ہے۔
    پھر اب جب وہ واپس اپنے گھر چلے گئے وہاں جا کر بھی اپنی بیٹی سے میری خیریت معلوم کرتے ہیں ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہیں جی خوش ہوتا ہے سن کے
    بات ذرا مختصر کرتے ہیں کہ۔
    اُن بزرگوں سے بات کر کے محسوس ہوا کہ انہیں کچھ نہیں چاہیئے صرف وقت چاہئے اپنے بچوں کا جو شائد وہ دینا بھول گئے ہیں اور سمجھتے ہیں شاید وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے
    اُن پہ اس طرح کی کیفیت طاری نہیں ہو گی۔
    ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔
    بلکہ ہم سب کو اس طرح کے حالات سے گزرنا پڑے گا اگر ہمیں بھی ہمارے بچوں نے کسی فالتو چیز کی طرح پھینک دیا تو کیا ہو گا ہمارے دل پے کیا گزرے گی۔۔۔۔؟؟؟
    اور اللہ تعالیٰ کا عذاب اُن لوگوں کے لیے کتنا ہے جو والدین کی نافرمانی کرتے ہیں اُنہیں بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔
    یہ ساری کہانی میں نے اس مقصد کیلئے بالکل بھی نہیں سنائی کہ میں نا چیز کُچھ ہوں۔
    محض اس لیے آپ بیتی سنائی کہ بزرگوں کے سائے میں رہنا کس قدر سکون دیتا ہے ہماری پریشانیوں کا حل،ہماری بے چینیوں کا حل بزرگوں کے پاس ہے ۔
    اُن بزرگوں کے لیے نہ صحیح ہمیں اپنے لیے ہی سہی لیکن بزرگوں کی محفل میں ضرور بیٹھنا چائیے۔
    زندگی گزارنے کے بہترین اصول ہمیں سیکھنے کو ملتے ہیں جو شائد بڑی بڑی کتابوں میں بھی ہمیں نہ ملیں۔۔۔
    یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اتنا سا ہے کہ ہم صرف خود کے لیے نہ جیئیں معاشرے کے لئے جئیں دوسروں کے لیے بھی کُچھ کریں۔
    یہ ہی معاشرے کی خوبصورتی ہے اور اسی طرح باہمی میل جول سے معاشرتی حسن پیدا ہوتا ہے اور یہ ہی ہماری اسلامی تعلیمات ہیں۔
    تو پھر کیوں نہ آج ہی سے عہد کریں کہ ہم بھی معاشرے کے عظیم انسان بنیں گے، ہم میں بھی انسانیت جاگ جائے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔

    یہ ہی ذوقِ عبادت کی انتہا

    کہ غم کے ماروں کا احترام کرو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت
    بقلم: ساجدہ بٹ
    (جہد مسلسل)

  • تحریک انصاف کا کرپشن کے بعد مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن –از… فردوس جمال

    تحریک انصاف کا کرپشن کے بعد مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن –از… فردوس جمال

    مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کہنے کو تو سیاسی جماعتیں ہیں لیکن ہر دو کا کرپشن کے علاوہ جرم کی دنیا سے بھی بہت گہرا تعلق رہا ہے.

    پچھلے چالیس سالوں میں ہر دو کی ناک کے نیچے ان کی آشیر باد سے مختلف مافیاز متحرک رہے ہیں پاکستان کے انڈر ورلڈ سے دونوں کے دیرینہ رشتے ہیں.

    تحریک انصاف حکومت نے جہاں ان دو پارٹیوں کی کرپشن کے خلاف احتساب شروع کر رکھا ہے وہی پہلی بار ان مافیاز پر بھی ہاتھ ڈالا جا رہا ہے جن کا ان دو پارٹیوں سے ناجائز تعلق ہے،ملک ریاض اور آصف زرداری کا دوست مشہور ڈان تاجی کھوکھر اس کی تازہ مثالیں ہیں.

    صرف پنجاب میں درجنوں ایسے بدمعاش گروہ ہیں جو قتل و غارت،گینگ وار اور ڈکیتیوں جیسی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان پر مسلم لیگ ن کا دست شفقت رہا ہے.

    ٹیپو ٹرکاں والا،طیفی بٹ،شاہیا ملاں مظفر گروپ شاہد میو گروپ،صفدر ٹینٹاں والا،نوری نت،بھیلا بٹ،زاہد گروپ،عارف بھنڈر گروپ،استو نمبردار گروپ،ملک نثار گروپ،کالو شاہ پوریا گروپ،عارف حویلیاں والا،وغیرہ

    یہ جرم کی دنیا کے وہ نام اور کردار ہیں جن کی گینگ وار میں پچھلے چالیس سال میں 1000 سے زائد افراد موت کے
    منہ میں چلے گئے ہیں.

    انڈر ورلڈ کے ان گروہوں کے پنجاب و سندھ کے مختلف علاقوں میں بقاعدہ اڈے ہیں جہاں مورچے بنے ہیں ان مورچوں پر ہیوی ہتھیاروں کے ساتھ ان کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں،آج تک پولیس وہاں نہیں گئی اس لئے کہ ان گروہوں کو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل تھی.
    تحریر!
    بقلم فردوس جمال!!!

  • مستقبل کے معماروں کو بیماربنانےکا ایجنڈہ–از–انشال راؤ

    تعلیم و تعلم، معلم و طالب کی اہمیت، فضیلت و عظمت جس انداز میں اسلامی تہذیب میں پائی جاتی ہے اس نظیر نہیں ملتی، تعلیم و تربیت اور درس و تدریس اس کا جزولاینفک ہے، پہلا لفظ جو آقا محمدؐ کے قلب مبارک پر نازل فرمایا گیا وہ اقرا ہے یعنی پڑھ، جس سے علم و قلم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر افسوس کہ ہمارے ہاں حصول علم کے اصولوں سے ماورا اقدامات اپنائے جانے کا رواج ہے نہ درس و تدریس کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے نہ ہی اپنی ذمہ داری کا احساس ہے

    اگر ہمارے معاشرے کا سطحی جائزہ لیا جائے تو وائٹ کالر طبقے نے اپنے مفادات کی خاطر علم جیسے عظیم شعبے کو بھی نہ بخشا اور اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھادیا، کسی بھی قوم تربیت و ترقی اسی شعبے سے وابستہ ہے لیکن جو کھیلواڑ پاکستان میں تعلیم و تعلم کیساتھ کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ "طلبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں” لیکن ہمارے وائٹ کالر طبقے کے مفادات کی نذر ہوکر ہم نے طلبہ کو قوم کے مستقبل کے بیمار بنتے دیکھا اور دیکھ رہے ہیں

    اگر کسی چیز نے سب سے زیادہ قوم کے مستقبل کے معماروں کو نقصان پہنچایا تو وہ سیاست و یونینزم Unionism نے پہنچایا، ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں سیاست کا اکھاڑہ بن کر رہ گئی تھیں جہاں سے قوم کے مستقبل کے معمار کم اور سیاسی پارٹیوں کے کارٹون زیادہ نکلنے لگے، طلبہ یونینز کی منفی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوے ریاست کی طرف سے مجبوراً ان پر پابندی کے اقدامات اٹھانے پڑے جس کے بعد سے تعلیمی اداروں میں تعلیمی زندگی بحال ہوتی جارہی ہیں جو زبردستی کے لیڈروں و دانشوروں سے ہضم نہیں ہورہی اور آجکل آسمان سر پہ اٹھایا ہوا ہے کہ طلبہ یونینز کو بحال کرو،

    اس ضمن میں اچانک سے ملک کے کچھ شہروں میں ڈسکو ٹائپ ریلیاں برآمد ہوئیں جو حلیے سے طلبہ تو بالکل نہیں لگ رہے تھے ان کی حرکتوں سے یہ لوگ طلبہ کم ڈسکو زیادہ لگ رہے تھے اور دلچسپ ترین بات یہ کہ کچھ زبردستی کے دانشور، سیاسی و سماجی رہنما بھی انکے ہم آواز نظر آئے، گردان کی جارہی ہے کہ طلبہ یونین بحال کرو بطور دلیل پیش کی جارہی ہے کہ طلبہ یونین نے ملک کو نظریاتی سیاست اور حقیقی قیادت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

    یہاں تک مبالغہ آرائی کی جارہی ہے کہ ملک کو درخشندہ ستارے فراہم کیے جوکہ انتہائی سفید جھوٹ اور تاریخ کی سب سے بڑی ڈھٹائی ہے اگر اس دعوے کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ ملکی صورتحال ہی کافی ہے کہ کوئی ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جس پر قوم فخر کرسکتی ہے، طلبہ یونین کی بحالی کے حامی کم از کم ایک فرد کو پیش کردیں کہ اس سے قوم کو فائدہ پہنچا ہو، قوم کا تو یہ عالم ہے کہ لیڈر کا نام سنتے ہی کانپ اٹھتی ہے،

    طلبہ یونین کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو اس کے بطن سے سوائے نفرتوں، تعصب، شدت پسندی، لسانیت کے کچھ اور حاصل نہ ہوا، سندھ یونیورسٹی ماضی میں طلبہ یونین و طلبہ سیاست کا گڑھ رہی ہے جہاں کا یہ عالم تھا کہ آئے دن بائیکاٹ، بلیک میلنگ، بھاری تصادم، بھتہ خوری، کاپی کلچر، رعایتی پاس کروانا عام تھا، تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد قتل ہوچکے حتیٰ کہ اساتذہ بھی ان یونیوں کے عتاب سے بچے نہ رہے، اس کے علاوہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی مثال لے لیں انجمن طلبہ اسلام کے نام پہ کارٹونوں نے کیا نہیں کیا جب ان کی بلیک میلنگ و داداگیری کو وائس چانسلر قیصر مشتاق نے چیلنج کیا تو ان کی داداگیری کا یہ عالم تھا کہ قیصر مشتاق صاحب پر حملہ کردیا گیا جسے سیکیورٹی گارڈوں نے بمشکل بچایا،

    قائداعظم یونیورسٹی میں بلوچ پشتون، پنجابی سندھی، پنجابی بلوچ لسانیت کے نام پر تصادم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، خیبرپختونخواہ میں وہ کونسا دن تھا جو تعلیمی اداروں میں امن سے گزرتا ہو، کراچی کا ذکر توکسی تعرف کا محتاج نہیں، میں خود طلبہ ونگز ویونینوں کی انتہائی منفی سرگرمیوں کا عینی شاہد ہوں جن میں بھتہ خوری، ریپ کلچر، نپوٹزم، لسانیت، جھگڑے فساد، نفرتیں و تعلیمی تباہی سرفہرست ہیں،

    مختلف یونیورسٹیز میں ہاسٹلوں پہ ان یونینوں کے قبضے اور اس کا منفی استعمال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، ان یونینوں پہ پابندی کے بعد سے یونیورسٹیاں و دیگر تعلیمی ادارے آہستہ آہستہ تعلیمی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہیں تو اچانک سے طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ نوجوان نسل کو تباہ کرنے کا منصوبہ ہی ہوسکتا ہے، تعجب کی بات ہے کہ طلبہ کو یونین کی بحالی سے کوئی دلچسپی نہیں اور پابندی سے کوئی پریشانی نہیں جبکہ پیٹ میں مروڑ صرف چند سیاسی و لسانی جماعتوں کو ہے جن کی وہ واقعی نرسری تھیں وہاں سے ان جماعتوں کو کارکن مل جاتے تھے

    جو ملک و قوم کے لیے سیاسی کارکن کم سیاسی کارٹون زیادہ ثابت ہوتے تھے طلبہ یونین پر پابندی کے باعث ان سیاسی جماعتوں کو کارکن ملنا کم ہوگئے ہیں جو ان کے لیے انتہائی پریشان کن ہے، قائد اعظم نے ڈھاکہ میں نوجوان طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’میرے نوجوان دوستو! میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار بنیں گے تو یہ آپ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی، یاد رکھیے کہ اب ایک انقلابی تبدیلی رونما ہوچکی ہے یہ ہماری اپنی حکومت ہے ہم ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے مالک ہیں لہٰذا ہمیں آزاد اقوام کے افراد کی طرح اپنے معاملات کا انتظام کرنا چاہیے اب ہم کسی بیرونی طاقت کے غلام نہیں ہیں ہم نے غلامی کی بیڑیاں کاٹ ڈالی ہیں‘‘

    بابائے قوم طلبہ کی سیاسی وابستگی کے سخت مخالف تھے اور ہم طلبہ سیاست کے نقصانات کے تجربے سے گزر بھی چکے ہیں بنگلہ دیش اسی طلبہ سیاست کا نتیجہ تھا اس کے علاوہ سندھ میں سندھو دیش علیحدگی تحریک کے لیے تعلیمی ادارے ہی نرسری بنتے آئے ہیں، الذوالفقار بھی طلبہ یونین کے بطن سے ہی اٹھی، اب جیسا کہ ملک کے تعلیمی ادارے منفی سوچ و سرگرمیوں سے پاک ہوتے جارہے ہیں تو سازشی و سماج دشمن عناصر سے یہ بات کیسے برداشت ہوسکتی ہے، اور اب طلبہ کے نام پر ایک نئی سازش کو متعارف کیا جارہا ہے

    لہذا اب ماضی کے تجربات اور حقیقت کے مطابق بجائے طلبہ یونین بحالی کے حکومت و دانشوروں کو طلبہ کے لیے بہتر سہولیات، مواقع اور آسانیاں مہیا کرنی چاہئیں، طلبہ کو سیاست کی نذر کرنے کی بجائے اساتذہ و تعلیمی اداروں میں ایسا نظام متعارف کیا جائے جس سے طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ہو جیسا کہ امام غزالیؒ طلبہ کے اخلاق و کردار کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ "طلبہ کو چاہئے کہ وہ بُرے اخلاق و عادات سے احتراز کریں، تعلقات مختصر رکھیں، گھر سے دور رہیں تاکہ حصول علم کے مواقع زیادہ ملیں، غرور و تکبر سے بچیں، اساتذہ کے ساتھ حاکمانہ برتاؤ نہ کریں، بلکہ اساتذہ کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح ڈال دیں، جس طرح کے مریض اپنے آپ کو ڈاکٹر کے حوالہ کر دیتا ہے” تب ہی ہم دیگر اقوام کی طرح ترقی و خوشحالی کو یقینی بناسکتے ہیں

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: مستقبل کے معماروں کو بیمار بنانے کا ایجنڈہ

  • نکاح اور عہد وفا ! تحریر: غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بنایا اور اس کو اپنے بندوں سے سجایا بندوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے پیغمبر اور رسول بیجھے تاکہ ان کے بتلائے ہوئے طریقے پر چل کر عام انسان زندگی بسر کر سکیں روزی روٹی حاصل کرسکیں اور دیگر امور زندگی گزار سکیں
    یوں تو سارا سال ہی نکاح اور شادیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر نومبر سے جنوری تک ملک پاکستان میں شادیوں کا خاص سیزن ہوتا ہے
    نکاح ایک مقدس فریضہ ہے اور تمام انبیاء کرام کی بھی سنت ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ نکاح میری سنت ہے
    یعنی یہ ایک فرض عین ہے نکاح کیلئے ہم نے طرح طرح کی شرطیں اور رسمیں خود سے بنا ڈالیں ہیں کہ جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس خوشی کے موقع پر دوستوں رشتے داروں کو اکھٹا کیا جاتا ہے لڑکے والے بارات کیساتھ لڑکی کے گھر جاتے ہیں جنہیں کھانا لڑکی والے اپنی خوشی سے کھلاتے ہیں جبکہ لڑکے والے بعد میں ولیمہ پر دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں مگر اس عظیم خوشی اور پاکیزہ عمل پر بھی ہم عہد شکنی کرنے سے باز نہیں آتے اکثر اوقات اس موقع پر ہم کھانے میں اور بارات کے مقرر کردہ وقت میں عہد شکنی کرتے ہیں حالانکہ شادی کارڈ پر لکھواتے ہیں کہ ،پابندی وقت کو ملحوظ خاطر رکھیں مگر اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مترادف ہم بارات کے مقرر کردہ ٹائم پر بارات نہیں لیجاتے جس کی بدولت ساتھ جانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو کھانے میں دیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا تقریبا ایک رواج بن چکا ہے خاص کر ہمارے گاؤں دیہات میں جہاں میرج ہال نہیں ہوتے وہاں ایسا زیادہ ہوتا ہے چونکہ شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اور ایک دن میں ایک میرج ہال کو دو سے تین تک شادیوں کا آرڈر ملا ہوتا ہے تو اسی لئے میرج ہال والے وقت کی پابندی لازمی کرواتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چائیے کہ ایک ایسا عمل کہ جس کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اگر اس کی شروعات میں ہی ہم فضول رسم و رواج کرنے کیساتھ لوگوں کو گھنٹوں بھوکا رکھ کر عہد شکنی کرینگے تو اس نکاح میں برکت کیسے ہوگی کیونکہ صحیح بخاری میں نبی رحمت کی حدیث ہے کہ جس میں تین باتیں پائی جائیں وہ منافق ہے
    1 جب بات کرے تو جھوٹ بولے
    2 وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے
    3 اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں سے خیانت کرے
    تو آپ خود سوچیں جب شادی کارڈ والے سے بات کرکے خود ہم نے نکاح و ولیمہ کا ٹائم مقرر کرکے لکھوایا پھر جب ہم نے ہی ٹائم کی پابندی نا کی تو گویا ہم جھوٹ بولا اور اسی طرح عہد شکنی بھی کی
    جہاں پابندی وقت کی عہد شکنی شادی والے گھر سے شروع ہوتی ہے وہاں شادی میں شرکت کرنے والے بھی لیٹ پہنچ کر اس عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں لہذہ اس مقدس فرض میں فضول رسم و رواج کی عہد شکنی کیجئے اور پابندی وقت کے عہد کو بھی پورا کریں تاکہ ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے سکیں اور زندہ قومیں اپنے اسلاف کی بتائی گئی باتوں سے عہد شکنی نہیں کرتیں