ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.
Category: معاشرہ و ثقافت
-

صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری
-

ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی
ہیش ٹیگ می ٹو کیمپنگ کا ۔آج یو ٹیوب میں می ٹو کے بانی ترانا برکی کا انٹرویو دیکھ رہا تھا ۔انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں بتادی کہ یہ ایک مہم ہے جو دنیا بھر میں چل رہا ہے ۔جسکو میں نے 2006میں می ٹو کے نام سے شروع کیا تھا دراصل می ٹو عورتوں پر بے جا زیادتی اور خصوصا جنسی زیادتی کے بارے میں ہے ۔جسکا ریزلٹ اب میں دیکھ پا رہا ہوں۔لیکن ہاں اب اس میں تھوڑی سی تبدیلی آئ ہے پہلے ہیش ٹیگ نہیں تھا اب ہیش ٹیگ لگا کر اس کو اور سنسنی خیز بنا دیا گیا ہے ۔
ترانا کہ رہی ہیں میں نے اس کیمپنگ کی شروعات اس لئے کی تاکے عورتیں اپنے اوپر ہوئے جنسی زیادتی کو بیان کرے اس زیادتی کے شکار چاہے وہ کبھی بھی ہوئ ہوں یا ابھی ابھی حالیہ کچھ مہنہ سال پہلے اپنے اپنے واقعات کو ہیش ٹیگ می ٹو کرکے شیر کریں ۔اس سے نہ صرف بیداری آئے گی بلکہ آنے والی نسل کو بھی فائدہ ہوگا ۔
ترانا دراصل ایک امریکی شوشل ورکر ہی نہیں بلکہ ایک تانیثت کے علمبردار بھی ہیں ۔ظاہر ہے ایسے معروف عورت کی باتوں میں لبیک کہنا کوئ بڑی بات نہیں لیکن مزے کی بات یہ ہیکہ دوہزار چھ سے یہ کیمپنگ چل رہی تھی تب می ٹو کے نام سے تھا اور اب ہیش ٹیگ می ٹو کے نام سے ہے۔اس وقت تو کسی نے خاطر خواہ اپنے اوپر ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات کو شیر نہیں کیا ۔اور اب جبکہ بارہ سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گز گیا ہے تو سبکو اپنی اپنی پرانی باتیں یاد آرہی ہیں ۔بلکہ کچھ لوگوں نے تو اپنے بچپن کی باتوں کو کچھ نے اپنے شروعاتی جوانی کے دنوں کی باتوں کو بھی بغیر ہچکچائے کہ ڈالا ہے ۔
دیکھئے دراصل ہیش ٹیگ کیمپنگ میں ٹویسٹ اسوقت آیا جب پچھلے سال نومبر دوہزار سترہ میں ہالی ووڈ کے مشہور و معروف فلم شاز شخصیت ہاروی وائنسٹن پر جنسی زیادتی کے الزام لگے ۔ان پر الزام لگانے والی بھی کوئ اور نہں ہالی ووڈ کے ہی مشہور و معروف اداکارہ الیسا میلانے ہی ہیں۔انہوں نے وائنسٹن پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ آگ پوری طرح ہالی ووڈ کو اپنے چپٹ میں لے لیا ۔ الیسا کے ٹوئٹ کے بعد کچھ ہی گھنٹہ میں دو لاکھ لوگوں نے ہیش ٹیگ می ٹو کو ری ٹوئٹ کیا اور شام تک پانچ لاکھ مرتبہ لوگونے اس بات کو اپنی ٹوئٹ میں دہرا دیا۔ چوبیس گھنٹہ تک لگ بھگ 4.7ملین لوگوں نے اس مہم کا ساتھ دیا ۔بلکہ حقیقی بات یہ ہیکہ یو ایس کے پینتالیس فیصد لوگوں نے اس ہیش ٹیگ می ٹو کا استعمال کیا وہ بھی صرف شروعات کے چوبیس گھنٹوں میں ۔الیسا کے بعد ہالی ووڈ سے وائنسٹن پر الزامات کے بوچھار لگنے لگے اس لسٹ میں لویتھ مالیٹرو ،کارا ڈیو لین ،این جیلینا جولی ،لیا سیڈ لاس روزانہ ارکوئن اور میرا جیسی نامور اداکاروں نے جنسی زیادتی کی شکایت کر دی ۔
اس بھنڈا پھوڑ کے بعد بہت سارے لوگوں نے اپنی اپنی پوسٹ گوائیں بہتوں کو اپنی پوزیشن سے معطل ہونا پڑا کتنے لوگ اپنی اپنی عزت کا مٹی پلید کئے اور کتنوں کا بنے بنائے ستارہ دوبارہ گردش کرنے لگا ۔اسی زمانے میں یہ الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی لگا یہی وجہ ہیکہ انکو ایک پریس انٹر ویو میں یہ بات کہنی پڑی کہ بہت سارے لوگ اس ہیش ٹیگ می ٹو مہم کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنا رہے ہیں بہت سارے لوگ اس مہم سے ناجائز پیسہ کمانا چاہ رہی ہیں۔الغرض موٹے طور پر انہونے کہا ہیش ٹیگ می ٹو مہم ہمارے ملک کے لئے مہلک ہے۔
ابھی تک یہ سب باتیں یوروپین ممالک پر ہی چل رہی تھی ۔اور مذکورہ واقعات بھی پچھمی ممالک میں ہی ہوئے تھے ۔مگر بات وہیں ختم نہیں ہوئ ۔ترانا اپنے مہم میں لگاتار محنت کرتی رہی اور اب انہوں نے شوشل میڈیا پر اپنی مہم کو بہت تیز کردیا ۔ایک رکاڈ جسکو راینن نے شائع کیا ہے۔عورتیں جو جنسی زیادتی کے خلاف 1998 تک اپنا رپورٹ لکھوائ تھیں ان سب کی تعداد ۔17,7000,000 ہے ۔یاد رہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب عورتیں اپنی جنسی زیادتی کی بات کو کسی کو بولنا ہی نہیں چاہتی تھیں ۔اسی رپورٹ میں یہ بھی دیکھایا گیا ہیکہ پچاس فیصد عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی انکے گھر میں یا گھر کے اس پاس ہی ہوتے ہیں ۔اور 82فیصد سیکسول گالیاں برداشت کرنے والی عورتیں ہی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
خیر اسی زمانے میں اپنے ہندوستان کے کچھ بالی ووڈ اداکارئیں بھی ادھر مغربی ممالک میں اپنی زندگی گم نامی کے ساتھ گزار رہی تھیں ان میں ایک نام جمشید پور جھارکھنڈ کے معروف کوئن اور 2004 کے مس انڈیا اوراسی سال کے مس ورلڈ تنوشری دتا کا بھی ہے ۔انکو ہیش ٹیگ می ٹو بہت اچھا لگا ۔اور کود پڑی اس میدان کار زار میں ۔چا ہے اسکا جو بھی مقصد رہا ہو آنا فانا ہندوستان آئ اور بالی ووڈ کے لوگوں کو جگانا شروع کی ۔سب سے پہلے اپنی واقعہ ہیش ٹیگ می ٹو کے ساتھ شروع کی اور بر سر عام کہ ڈالا کہ میرے ساتھ دس سال پہلے نانا پاٹیکر نے جنسی زیادتی کی تھی جسکو اسوقت بھی میں نے اٹھایا تھا لیکن لوگوں نے اس پر دھیان نہیں دیا تھا۔اب اچھا موقع ہے مجھے انصاف ملنا چاہئے ۔
اب کیا تھا لگ گئ آگ اور ایک دم سے سونامی کی طرح آگ کی لہر چلنے لگی۔کچھ ہی دنوں بعد ایشوریہ ،کاجول ،عامر خان امیتابھ بچن سرکار کے طرف سے اسمرتی ایرانی وغیرہ نے سہمے سہمے اداکارہ تنوشری دتا کا سپورٹ کیا ۔اب اس آگ میں ویکاس بہل،آلوک ناتھ اور کیلاش کھیر سبھاش گھئ ساجد خان وغیرہ کو بھی جلا ڈالا ۔پھر کیا تھا جیسے ہی ان لوگوں کے دامن میں آگ کا چھیٹا پڑا یہ لوگ بڑ بڑھانے لگے ۔اور الٹی سیدھی دلائل دینے لگے ۔
رکئے ابھی کہانی ختم نہیں ہوئ ہے ابھی کہانی اور ٹوئسٹ باقی بلکہ اب تو آگ کا گولا اور افان مارنے لگا ہے۔اب باری آئ ہندوستانی جرنلسٹوں کی جرنلسٹوں نے سب سے زیادہ جس شخص پر آگ لگائ وہ ہے ایم جے اکبر اکبر صاحب پہلے پرومیننٹ جرنلسٹ تھے اب بہت بڑے سیاست داں ہیں اس کے علاوہ بھی کچھ چند لوگوں پر آگ لگی ہے مگر وہ لوگ بڑے چالو ہیں پانی ساتھ میں رکھتے ہیں آگ لگنے سے پہلے ہی بجھانے کا مادہ خوب جانتے ہیں ۔
اور ہاں یہ بات الگ ہے کہ ابھی تک کسی پر کوئ خاطر خواہ کاروائ بھی نہیں ہوئ ہے سوائے ہلکا پھلکا نانا پاٹیکر کے۔اور کاروائ شاید نہ بھی ہو کیونکہ پچھلے کئ سال پہلے امیت شاہ بھی ایک لڑکی کے جاسوسی میں بری طرح پھسے تھے اسوقت بہت ہنگامہ بھی ہوا تھا اسلئے بعید نہیں کے ہیش ٹیگ می ٹو کرکے وہ لڑکی بھی اپنی اسٹوری لکھ دے ۔اور پھر سے دوہزار انیس کا بنے بنایا ماحول مکدر ہوجائے ۔اور پرانا قضیہ ایک بار پھر سامنے آجائے اسلئے سرکار اس بات کو زیادہ طول دینا نہیں چائے گی ۔
ہم لوگ جانتے ہیں فلم انڈسٹری اور جرنلزم دو ایسی انڈسٹری ہے جہاں سیکس کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے یہاں تو ہر چیز کی آزادی ہے کھلی چھوٹ ہے زنا نام کی کوئ چیز یہاں ہے ہی نہیں ۔سیکس کرنا بوس وکنار کرنا حتی کہ ایک دوسرے کے بیویوں کا تبادلہ کرنا بھی یہاں آزاد خیالی اور مہذب مانا جاتا ہے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تو یہ لوگ معیوب ہی نہیں سمجھتے پھر یہ ہیش ٹیگ می ٹو کا جلوہ آخر سب کے سر چڑھ کر کیوں بول رہا ہے ۔میرے سمجھ سے پرے ہے ۔کہیں ایسا تو نہیں کے رافیل کے سیاہ دھبا کو چھپانے کے لئے سرکار ہیش ٹیگ کو زیادہ طول دے رہاہے ۔
پھر یہی سمجھ لیا جائے کہ صدر صاحب ڈولنڈ ٹرمپ جی کی بات صحیح ہےکہ یہ سب نیم فیم اور پیسہ کے لئے کیا جارہا ہے بات قابل غور ضرور ہے۔ دوسری اور آخری بات ہم ہندوستانی کب تک نقل کرینگے کب تک مغرب کو ہی اپنا مائ باپ سمجھیں گے ۔ارے یار ان لوگوں نے ہیش ٹیگ می ٹو شروع کیا ہے دوہزار چھ سے ان کے یہاں چل رہا ہے ۔ان لوگون نے اپنے سوسائٹی اور سماج کے حساب سے می ٹو کو ایجاد کیا ہے ہم کیوں اسکو ڈھوتے پھریں ۔ لیکن حقیقی بات یہ ہے کہ ہم اسی مغربی آزادی کو ہی تو نسوانی آزادی کا ٹیگ دے رکھے ہیں اب ہمیں انکی چیز کو تو فالو کرنا ہی پڑیگا ۔ ایک بات یاد رکھیں ہم آج بھی غلام ہیں غلام لیکن ہم جسمانی غلام نہیں بلکہ ہم ذہنی غلام ہیں ۔اور صاحب آدمی جسمانی غلامی سے تو آزاد ہوجاتا ہے مگر ذہنی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتا
ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی

-

خود کشی ایک خوفناک المیہ—-از– جویریہ چوہدری
زندگی ایک ایسی گراں قدر اور انمول نعمت ہے کہ ہماری کامیابی کا دارومدار اس نعمت سے وابستہ ہے کہ ہم اس زندگی میں کیا کیا خوش رنگ اعمال کی کشیدہ کاری کر گئے۔۔۔؟؟
زندگی ہر انسان کو پیاری ہوتی ہے ایک کانٹا چبھنا انسان پسند نہیں کرتا تو آخر کیا وجہ ہے کہ اس انتہائی قیمتی زندگی کو انسان اپنے ہاتھوں سے ختم کر ڈالے۔۔۔۔؟؟؟
یہ ایک خوفناک المیہ ہے جو بتدریج ہمارے معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور ہر روز ہمارے اخبارات کی خبریں صبح صبح ہی دل افسردہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔۔۔۔
اس بات کا پتہ چلانا بہت ضروری ہے کہ انسان اپنی جان کا دشمن کیوں بن جاتا ہے؟
یہ عمل تشدد،عدم برداشت اور ضمیر مردہ ہو جانے کا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔۔۔
اور اسے ہی خود کشی کہا جاتا ہے۔۔۔۔
یعنی اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ۔۔۔
چاہے وہ گلے میں پھندا ڈال کر ہو۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔زہر کا پیالہ پی کر۔۔۔
آگ سے خود کو جلا لینا ہو یا پانی میں کود جانا۔۔۔۔
اپنے ہی پسٹل یا ہتھیار کو خود پر تان لینا ہو یا کسی بلند عمارت سے زندگی کے خاتمہ کے لیئے چھلانگ لگا دینا ہو۔۔۔۔
یہ تمام پہلو انتہائی تکلیف دہ ہیں اور کسی بھی معاشرے میں افسردگی کی بڑھتی شرح کا واضح بڑھتا گراف بھی۔۔۔۔
غیر مسلم ممالک میں خود کشی کا رجحان بہت زیادہ ہے اور وہ اس زندگی کے خاتمہ کو دکھ سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔۔۔۔لیکن اسلام ایک انسانیت پرور دین ہے۔۔۔۔سلامتی وسکون کا دین ہے۔۔۔۔محبت و اخوت کا دین ہے۔۔۔
جو ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف سمجھتا ہے۔۔۔
اور ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دے وہ اپنے ماننے والوں کو اپنی ہی جان سے کھیلنے کی تعلیم کیسے دے سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
"ولا تقتلو انفسکم۔۔۔۔(النسآ :29)
مفسرین کے نزدیک اس آیت میں تین مطالبے ہیں۔۔۔
خود کشی کا ارتکاب نہ کرنا۔۔۔
معصیت کا ارتکاب کر کے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالنا۔۔۔
کسی مسلمان کی جان نہ لینا۔۔۔
کہ یہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔۔۔۔
مگر افسوس کہ آج ہم نے اپنی روح افزا تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر فلمی سین آزمانے کو اپنی زندگی کا حاصل بنا لیا ہے۔۔۔
پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص اپنا گلا گھونٹ کر مارے وہ دوزخ میں بھی ایسا ہی کرتا رہے گا اور جو خود کو کسی ہتھیار سے مار ڈالے،وہ دوزخ میں بھی خود کو ایسے ہی مارتا رہے گا۔”
(صحیح بخاری)۔
یعنی ہمارا دین خود کشی کو ایک حرام فعل کہہ کر اپنے دامن کو اس کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا حکم دیتا ہے۔۔۔ !!!!
یعنی کتنے گھاٹے کا سودا ہے کہ محض چند منفی جذبات کا شکار ہو کر انسان خود کو ابدی خسارے میں مبتلا کر دے؟؟؟
کسی ایک خواہش کے پورا نہ ہونے پر زندگی کے انمول ہیرے کو ریزہ ریزہ کر ڈالے۔۔۔؟آج ہمارے اندر خود کشی بڑھنے کی وجوہات کون سی ہیں ؟
ہم ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے چلیں کہ
جب انسان اللّٰہ کی رحمت سے مایوس ہو جاتا ہے۔۔۔
تو وہ ایسی حرکت کا ارتکاب کرتا ہے۔۔۔جبکہ وہ اپنی رحمت سے نا امید ہو جانے والوں کو خسارہ پانے والے کہتا ہے اور فرماتا ہے
لا تقنطو من رحمۃ اللہ۔۔۔۔(الزمر)۔
انسان جب قضا و قدر کے بارے میں بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو وہ اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔۔۔۔
حالانکہ اس کا نظام مبنی بر انصاف ہے اور جو شخص جس قابل ہے اسے اس کی نعمتیں مل رہی ہیں۔۔۔۔
مال و دولت کی کمی پر بھی کئی انسان دل برداشتہ ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔۔۔
جبکہ ہمارا دین مشکلات کو صبر سے برداشت کرنے اور عسر کے بعد یسر کی دلنشین اور امید بھری تعلیم دیتا ہے۔۔۔۔
یہ دنیا کا سرکل ہے جو چلتا رہتا ہے۔۔۔۔کبھی خوشحالی،کبھی تنگدستی لیکن اس سلسلے میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لینا انتہائی منفی سوچ اور خود کو شدید نا امیدی کی کیفیت میں چھوڑ دینا ہے۔۔۔۔
کیونکہ انسان کسی نفسیاتی دباؤ اور خواہش نفسانی کے تحت ہی خود کشی کرتا ہے۔
غیر اللہ سے تعلق جوڑنا بھی انسان کو مایوسی میں مبتلا اور خود کشی پر آمادہ کرتا ہے۔۔۔۔
اسی طرح جعلی عاملوں کی من گھڑت باتوں پر یقین کر لینا اور خود کو بس بد قسمت ہی تصور کرتے رہنا۔۔۔ !!!!
حقوق العباد کی پامالی بھی انسان کو منفی دباؤ میں دھکیل دیتی ہے اور وہ تنگ دل ہو جاتا ہے۔
معاشرتی و سماجی رویوں کی نا ہمواری بھی انسانوں کو مایوس کرتی ہے۔۔۔اور وہ اپنے سے روا رکھے جانے والے سلوک سے ہار کر خود کشی کر لیتے ہیں۔
چھوٹے چھوٹے مسائل کو ذہن پر سوار کر لینا۔۔۔
کبھی عشق میں ناکامی اور کبھی امتحان میں ناکامی پر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنا۔۔۔
کبھی شوہر کی ڈانٹ پر بیوی اور کبھی بیوی کی ناراضگی پر شوہر کا اپنی زندگی کا خاتمہ۔
والدین کی تنبیہہ پر اولاد کی خود کشیاں اور سسکتی اولاد کے والدین کی خود کشیاں۔۔۔۔
یہ سب معاشرتی المیے ہیں۔۔۔
دنیا کے سبھی مذاہب کی تعلیم میں خود کشی کی ممانعت ہے مگر سب مذاہب کے پیروکار اس سے نجات بھی نہیں پا رہے تو کوئی وجہ تو ہے جسے ہم اپنی زندگیوں سے خارج کر دیتے ہیں۔۔۔؟
سب سے پہلے والدین کو چاہیئے کہ گھر کے ماحول میں ایسی تربیت اور انداز شامل کریں کہ جس سے بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب نہ ہونے پائیں۔۔۔
ان کی جائز اور شرعی حقوق کا دفاع کیا جائے اور مقدور بھر مسائل کو اپنی ذمہ داری میں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔۔۔
ان کی پریشانیوں کو سمجھا اور سنا جائے۔۔۔۔ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے۔
کیونکہ آجکل ٹین ایجرز میں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔۔
منفی خیالات اور رویوں کا خاتمہ۔۔۔وہ چاہے گھر ہوں یا ادارے،
میڈیا ہو یا ایوان۔۔۔۔
مثبت سوچ اور اندازِ فکر کو فروغ دینے والی سرگرمیوں کا اجراء۔منفی خیالات اور اسباق پر مشتمل چیزوں کی تشہیر کی ممانعت ہو۔
خود کشی کے رجحان کو کم کرنے کے لیئے معاشی نا ہمواریوں کے خاتمے کے اقدامات کیئے جائیں۔
صاحب حیثیت افراد اپنے ارد گرد کے مستحقین پر نظر اور خیال رکھیں۔۔۔۔اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر بھی سوچیں اور دیکھیں۔۔۔تاکہ معاشرہ میں مثبت رویوں کو فروغ ملے۔۔۔۔ہمدردی و غمگساری کے جذبات پیدا کیئے جائیں۔
اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے۔
تعلیمی اداروں میں میں نوجوانوں کے زہن صاف کیئے جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ خود کشی مسائل کا حل نہیں بلکہ دائمی عذاب ہے۔۔۔۔ایسی سوچ اور سرگرمیوں پر قابو پایا جائے جو تعلیمی اداروں میں بھی خود کشی کی وجہ بنتی ہیں۔۔۔اور اسے سب جانتے ہیں۔۔۔۔
خواتین کے لیئے ہر جگہ عزت و احترام والے جذبات کی تعلیم و تربیت کو عام کیا جائے۔۔۔ !!!مضبوط عزائم اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کا جذبہ بیدار کیا جائے۔۔۔
راستے کی مشکلات کو کاٹنے اور ان پر قابو پانے کے گُر اور متبادل راستوں کی طرف راہ نمائی کی جائے۔۔۔۔تاکہ سوسائٹی سے مایوسی،ناشکری اور پست ہمتی کا تدارک کیا جا سکے اور جسمانی و روحانی طور پر ایک مضبوط قوم تیار ہو،
اور خوب صورت زندگیوں کا زیاں نہ ہو۔۔۔۔ !!!آمین۔خود کشی ایک خوفناک المیہ
بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

-

کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟— از جویریہ چوہدری
قارئین!
ایک بندہ مومن کے لیئے اللّٰہ تعالی نے ہر تکلیف،پریشانی اور بیماری پر اجر رکھا ہے یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چبھے تو اس پر بھی اجر ہے۔
مگر یہ کیسی بیماری ہے کہ انسان اپنے آپ کو کھپا دے،گھلا دے مگر اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
کون سی ہے وہ بیماری؟
جی وہ بیماری ہے حسد کی۔۔۔!!!!
حسد کی بیماری ایک ایسی قدیم بیماری ہے جو جسم کو تیزاب کی طرح راکھ کر دیتی ہے،ڈیپریشن کا مریض بنا دیتی ہے،روگ لگا دیتی اور حسنات چھین لیتی ہے،پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی
سکون معدوم،
خوشیاں مفقود کردیتی ہے۔۔۔
حاسد ہمیشہ محسود سے زوالِ نعمت کا متمنی رہتا ہے اور پھر بے سکونی،عدم برداشت،رنج وکدورت،بے مقصد زندگی معمول بن جاتے ہیں۔
کوئی فلاں کے پاس بیٹھا کیوں؟
فلاں سے بولا کیوں؟
فلاں کے ہاں کیوں گیا وغیرہ۔۔۔
اور یوں حسد کرنے والا سب سے پہلے خود کو ہی مار دیتا ہے۔۔۔ !
ڈاکٹر کارل مانینگز ایک نفسیاتی معالج کا کہنا ہے کہ:
"ڈاکٹر مانینگز تمہیں اضطراب سے بچنے کے قواعد نہیں بتائے گا بلکہ ایک وحشت ناک رپورٹ دے گا کہ کیسے ہم اپنے جسموں اور عقلوں کو قلق و اضطراب،حسد،خوف اور تحقیر جیسی آفتوں سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
حاسد کی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ وہ رب کے انصاف پر شک کرتا ہے،وہ خود کو عبث تھکاتا ہے،خون جلا کر،نیند اُڑا کر خود کو تباہ کرتا ہے،
گھر ہو یا دفتر،
سکول ہوں یا ہسپتال،
جامعات ہوں یا مدارس،4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی
حسد سے بندہ تب ہی محفوظ رہ سکتا ہے جب وہ "جیسا اور جسطرح "ہر حال میں الحمدللہ کی کیفیت کو اپنا لیتا ہے۔۔۔
اپنی صورت،لباس،گھر،روزگار،آسائشات کو من و عن تسلیم کر لینے پر آمادہ ہو،
اللّٰہ کی تقسیم پر راضی اور مطمئن ہو۔
کسی کے گھر،گاڑی،یا سہولیات پر نظر ہی نہ ہو۔۔۔۔
کہ یہ دنیا بہت عارضی اور ناپائدار ہے۔۔۔تو غم کیسا؟
یہاں بہت کچھ ادھورا رہ جاتا،اگر یہ سمٹ کر ایک انسان کے پاس بھی آ جائے تو بالآخر فنا ہی اس کا مقدر ہے۔
یوں سوچئے کہ بس میرے پاس جو کچھ بھی ہے،اللّٰہ نے مجھے جس قابل سمجھا اور دیا بس پرفیکٹ ہے۔۔۔ !!!
مجھے دنیا والوں سے کچھ نہیں لینا اور کچھ نہیں سوچنا۔۔۔۔
ذرا دیکھیئے!
صحابہ کرام کا دور بلاشبہ دنیا کا بہترین دور تھا اور قیامت تک کے لیئے ویسا دور دوبارہ نہیں لوٹنا،مگر ان کی زندگی کیسی تھی؟
آسانی،
سادگی،،
عدم تکلف،،،
بابرکت علم تھا اور عمل کی دولت تھی۔۔۔
متاع دنیا کم سے کم اور نتیجتاً راحت و سعادت اور اطمینان کی دولت تھی۔صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں
انقلاب محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں علم وحی اور ہدایت ربانی کا عَلم جن لوگوں نے اٹھایا وہ فقیر ومحتاج تھے اور دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے رئیس اور ثروت مند مگر رضوان کن کو ملی؟
یہ حسد حق پرست فقیروں سے بھی ہوتا رہا ہے
یہ دنیوی اسباب اللّٰہ کے ہاں مچھر کے پر جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے،
چنانچہ ان چیزوں کی چاہ میں خود کو حسد میں دھکیلنے کی بجائے اپنی زندگی میں نظم و ضبط کی عادت ڈالیئے۔
ولیم جیمس کہتا ہے:
"ہم انسان ان چیزوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہوتیں،اور جو پاس ہوں ان کی قدر نہیں کرتے۔۔۔؟
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔(رواہ النسائی)
کبھی فرمایا:”لوگوں میں افضل وہ ہے جس کے دل میں بغض و حسد نہ ہو۔(ابن ماجہ)
تو سوچئے کہ اگر ہمیں حسد کا مرض لاحق ہو گیا تو پھر ایمان کی خیر منانی چاہیئے اور اگر ایمان کامل ہے تو پھر حسد کا جذبہ کبھی نہیں ابھرے گا،
کسی کا دکھ ہمارا دکھ،
کسی کی خوشی ہماری خوشی ہو گی۔۔۔
آئیے عہد کریں کہ اس تکلیف میں خود کو کیوں تڑپائیں جو ممنوع ہے،
اپنی زندگی میں جینے کا ہنر سیکھیں،
محبت،خوشبو اور پھولوں کی سوداگری کریں،
کانٹوں اور اذیتوں سے دامن چھڑا لیں اپنے حصے کا سفر طے کرتے جائیں کہ یہی سکونِ زندگی ہے۔۔۔ !اللّٰہ ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کا کوئی اجر ہی نہیں۔۔۔۔ !!!کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

-

"سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر
ہر انسان کی زندگی کے اندر کچھ ایسے موڑ آتے ہیں جب اس لگنے لگتا ہے کہ وہ ہار گیا ہے، وہ اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا. وہ ٹھکرا دیا گیا ہے، کائنات نے اسے ٹھکرا دیا ہے، اللہ نے اسے ٹھکرا دیا ہے (معاذاللہ). لوگوں میں اس کی مقبولیت نہیں رہی اور اس کی اونچی آواز سے سماعت چھین لی گئی ہے، اس کی بات سنتا کوئی نہیں. لوگ اس کو پسند نہیں کرتے، اس کی شان میں قصیدے پڑھنے والے اب اس کے پاس نہیں بیٹھتے. ہر طرف مایوس ہی مایوسی ہے، اندھیر ہی اندھیرا ہے. بات تو کسی حد تک درست ہے، اکثریت لوگ یہاں آ کر ہار قبول کر لیتے اور زندگی کی اس مشکل دوڑ سے باہر نکل جاتے ہیں.
لیکن!!!
یہ اندھیرے یہ مایوسیاں، ان کا وجود صرف اور صرف ہمارے دل و دماغ میں ہوتا ہے. چیزوں کی حقیقت ضرور ہوتی ہے مگر جس حد تک ہم سوچ رہے ہوتے ہیں ویسا بالکل نہیں ہوتا. ہم اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں یہ بھی ہماری سوچ ہی کی طاقت ہوتی ہے. ان مایوس سوچوں کی واحد وجہ ہماری سوچ، ہمارے مقصد، ہماری شخصیت اور ہمارے زاویہ نظر کا چھوٹا ہونا ہے. زندگی ایک طویل اور اعصاب شکن جنگ کا نام ہے اور چھوٹی بڑی ناکامیاں اس سفر کی خوبصورتی اور اس جنگ کی معراج ہیں، تاج ہیں.
لیکن
اگر آپ کا مقصد یہ شان و شوکت، یہ تعریفوں کے پل، یہ ڈگریوں کی دوڑ اور شہرت کی بھوک تھا تو اچھے سے سمجھ لیجیے آپ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں، جو کچھ آپ کے ساتھ ہو گیا ہے وہی ہونا تھا. کیونکہ یہ چیزیں عارضی ہیں، یہ چیزیں کھوکھلی ہیں اور چِھن جانے والی ہیں. لہٰذا، زندگی کی یہ طویل المدت اور اعصاب شکن جنگ لڑنے کے لیے، اپنے اعصاب کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی سوچ میں وسعت پیدا کریں، اپنے زاویہ نگاہ کو بڑا کریں. اپنے اندر کے اک خوبصورت فرد کو ایک قد آور شخصیت بنانے کے لیے اپنی کھوکھلی بنیادوں کو توکل، محاسبہ، عزم، دوام، استقلال، مستقل مزاجی، مردم شناسی، علم، تدبر، تفکر اور تعلق باللہ کے ساتھ بھریں. وگرنہ، زندگی کی یہ جنگ بہت مشکل ہے، گھپ اندھیرا اور بے گھڑے ہیں. ہمارا کام اس سفر میں، اس رستے ہر چلتے رہنا ہے، راستے کھولنا، خوبصورت وادیاں دکھانا اور بالآخر منزل تک پہنچانا اللہ کا کام ہے. کامیابیوں کی اس وادی میں ڈر جانے والوں، بغیر حکمت عملی ترتیب دیے بس چل پڑنے والوں اور رب کی مدد اترنے کا یقین نہ رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں.
لہذا..!
اپنے آپ کو مایوسیوں کے اس جکڑ لینے والے چنگل سے چھڑوانے کے لیے اور اس اندھیرے میں روشنی کے حصول کے لیے اپنے آپ کو چھوٹی سوچ سے آزاد کریں، لوگوں کی باتوں اور ان عبادتوں سے نکلیں، اگر ہمارے دل میں رشتہ داروں، دوستوں، ہمسایوں سے مقابلہ، حسد، بغض اور غرور کے جراثیم بھرے ہوئے ہیں تو پھر میرے بھائی اس اندھیرے میں آپ کو روشنی نہیں مل سکتی.

-

حضرت ناقد سے تخیلاتی ملاقات کا احوال !!! تحریر : نعمان علی ہاشم
ناقد
اس نے میرے بالکل درست شعر کا وزن بگاڑ کر بولا کہ اگر یوں لکھتے تو ٹھیک تھا.
میں نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے سوچا شاید کے یہ عروض کا ماہر ہو، بمشکل سوال کیا کہ جناب آپ اس کی بحر کے بارے میں بتا سکتے ہیں.
موصوف فوراً بولے. بحر کا مجھے کچھ پتا نہیں. میں تو ناقد ہوں. اور کیڑے نکالنا میرا کام ہے. قریب تھا کہ اگر وہ قریب ہوتے تو اپنے کمزور ہاتھوں کو جنبش دے کہ ان کے گال کو گلاب کر دیتا. مگر بھلا ہو اس واٹس ایپ کا…
میرے لیے ناقد کی یہ تعریف بالکل نئی تھی. دوستوں ویسے تو ناقد کہتے ہی تنقید کرنے والے کو ہیں. مگر تنقید سے ہماری اکثر مراد یہی ہوتی ہے کہ نقائص کو واضح کرنا. مگر یہ کیا کہ ہر بات پر تنقید…. ایک دن یونہی دل چاہا کہ تخیل میں ایسے ہی ایک ناقد سے گپ شپ کروں.
اور وہی مکالمہ آپکے سامنے پیش کیے دیتا ہوں
.
میں: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.
ناقد: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ.
میں: جناب آپ کیسے ہیں؟؟
ناقد: بس جی گزر رہی ہے گزار رہے ہیں. حالات مندے ہیں. اخراجات زیادہ ہیں. ہلکا پھلکا گھٹنوں میں درد رہتا ہے. بیوی ناراض ہے، بچے وقت نہیں دیتے. حکومت کسی اقدام میں سنجیدہ نہیں، غریب کی تو کوئی زندگی نہیں.
.
اتنے میں ہی کھانے کا وقت ہوا.. موصوف نے طرح طرح کے بازاری کھانے آڈر دیے. جو مزکورہ بالا تمام اعتراضات کا بذات خود رد تھے.
میں نے استفسار کیا کہ جناب: مالی حالات مندے، اخراجات زیادہ، یورک ایسڈ بڑھا ہوا، بیوی ناراض، غریب بے حال، اور یہ کھانا….. ارے جناب میں ناقد ہوں. اگر میں سب اچھا کی گردان رٹ لوں گا تو معاملات کیسے سیدھے ہونگے. آخر غریب کا بھی تو کسی نے سوچنا ہے.
میں چکرا کر: مگر یہ کھانا آپکی صحت اور جیب کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے؟
آو جی چپ کرو ناقد میں ہوں. سدھارنے کا کام حکومتوں کا ہے. آپ کھانا شروع کریں اور اگلا سوال کریں.
.
میں: آپ کب سے ناقد ہیں؟؟
ناقد: میرا خیال ہے ہر انسان پیدائشی طور پر ناقد ہوتا ہے. شکم مادر میں میرے ہاتھ پیر آزاد تھے مگر میری ناف سے بندھی ایک زنجیر نے مجھے قید کر رکھا تھا. میں نے علم بغاوت بلند کیا. میرے بس میں ہوتا تو اس زنجیر کو اپنےہاتھ سے توڑتا اور اس غلامی سے نجات حاصل کرتا. مگر میرے پاس صرف ایک ہی آپشن تھا تنقید، سو میں نے مزاحمتی عمل جاری رکھا اور کچھ عرصہ بعد اس زنجیر سے رہائی پائی. مگر اب دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ میں آزاد ہونے کے بعد کسی کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا. جو کہ میری فطری غیرت کو گوارہ نہ تھا. مگر میرے بس میں کیا تھا. میں نے پھر اپنا ازلی حق تنقید استعمال کیا. اور رونا شروع کر دیا، آپ سمجھ رہے ہیں نا کہ میں جو کہہ رہا ہوں،؟
ناقد کی باتوں میں غرق تھا جب اس نے ہاتھ کا اشارہ دے کر مجھے ہلایا، اور کہا کہ آپ کھانا نہیں کھا رہے، میں نے نوالہ توڑا اور کہا کہ یعنی آپ نے اپنا مدعا سمجھا دیا. کہ آپ پیدائشی طور پر ناقد ہیں.
جی جی بالکل ناقد نے جواب دیا…
میں نے اگلا سوال اس لیے جلدی پوچھ لیا کہ مزید مثالیں سننے کی سکت نہیں تھی.
میں: تنقید کیوں ضروری ہے؟
ناقد: آپ نے میرا پچھلا جواب پورا نہیں ہونے دیا. دیکھیں اب اس کا جواب بھی اسی میں دیے دیتا ہوں. یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ یہ سوچے کہ اس کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے. اب جب مجھے ختنے کروانے لے کر گئے تو پہلی دفعہ یہ سوال تب پیش آیا. آپ ہی بتائیں تب میں سوال پوچھنے کا مجاز نہیں تھا کہ کیا میرا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے؟ . محفوظ ہاتھوں کی تلاش میں ہر ہاتھ پر تنقید کی جائے گی تاکہ سب سے محفوظ ہاتھوں تک پہنچا جا سکے..
میں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا. اور دل میں سوچا یہ موصوف نائی یا سرجن کے بجائے درزی یا موچی سے ختنے کروانے چلیں جائیں گے. کیونکہ ان کا اعتراض انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کام کے ماہر ہوتے ہیں. گوکہ خود اس کام سے مکمل نابلد ہی کیوں نا ہوں.
خیر اسی سوچ میں اگلا سوال داغا
میں: پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ناقد: دیکھو عزیز یہاں سب کچھ غلط ہو رہا ہے. تعلیم صحت، انصاف، تمام نظام خراب ہیں. داخلہ و خارجہ امور کا بیڑہ غرق ہے. معیشت زوال کا شکار ہے، ڈالر آسمان کو ہاتھ لگانے کی کوشش میں ہے. اللہ غارت کرے ہمارے حکمرانوں کو انہیں مثال کی سنگینی کا ہی علم نہیں. یہ بس تقریریں کرتے ہیں، یہ سب امریکہ کے غلام ہیں. کیسی آزادی کاہے کی آزادی، فوج یہاں جمہوریت چلنے نہیں دیتی، جمہوریت یہاں ڈلیور نہیں کرتی، پولیس کرپشن کی ماری ہے. فوج ڈالروں پر پلتی ہے. 80٪ بجٹ فوج کو چلا جاتا ہے. گندگی ہی گندگی ہے. کوڑا اٹھانے والا کوئی نہیں. خالص چیز نہیں ملتی، ملاوٹ ہی ملاوٹ ہے. عورتیں بے حجاب ہیں، مرد بے رقاب ہیں..
وہ ایک تلاطم میں بولے جا رہے تھے کہ میں نے زبردستی روک کر سوال پوچھا
میں : جناب ان سب کا حل کیا ہے؟
ناقد: حل میں نے نہیں دینا حکومت نے دینا ہے. میں ناقد ہوں میرا کام تنقید کرنا ہے. اچھے سے اچھے کام میں بھی کیڑے نکالنا ہے. تاکہ حکومتیں اپنی اصلاح کر سکیں.
میرے ذہن میں ملاقات کا ابتدائی منظر چل رہا تھا. اور جان چکا تھا موصوف کا مسئلہ کیا ہے. سو میں نے اگلا سوال کر لیا.
میں: کیا یہ بات اچھی نہیں کہ ہم ناقد کے بجائے مصلح بن جائیں. تنقید کے بجائے اصلاح کرنا شروع کر دیں؟
ناقد: وہ کیسے جناب یہ کیسے ممکن ہے. یہ کام حکومتوں کے ہیں، ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ ہمیں کون کرنے دے گا؟ آپ ہی بتا دیں؟
.
میں: دیکھیں اللہ نے انسان کو ناقد نہیں بنایا تنقید صرف وہاں کی جاتی ہے جہاں اس کے علاوہ کچھ نہ ہو سکتا ہو. ہر مسئلے کا حل تنقید نہیں. کچھ ہماری زمہ داریاں بھی ہیں. آپ سے ہی شروع کرتے ہیں. آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں اپنا ڈائٹ پلان لیں. آپکی صحت بھی ٹھیک ہوگی اور جیب بھی زیر عتاب نہیں آیا کرے گی. جب میں پیسے اور جوڑوں میں دم ہوگا تو آپ کیسی کے محتاج نہیں ہونگے. ورزش کو اپنا معمول بنائیں گے تو طبیعت کی خشکی ختم ہوگی. یہ سب کو عوامل ہیں جن کے لیے حکومت کی کسی پالیسی کی ضرورت نہیں. سرکار کوئی اقدامات بھی نہ کرے پھر بھی آپ یہ سب کر سکتے ہیں.
موبائل سے سندھ کے ایک ماڈل ویلیج کی ویڈیو دکھائی اور بتایا کہ یہاں سندھ میں انسانیت پس رہی، علاج، تعلیم، انصاف ہر شے ناپید ہے. مگر اس گاؤں کو دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے گا کہ آپ غلط سوچتے ہیں تنقید کسی مسئلے کا حل نہیں.، دیکھیں گلیاں صاف ہیں.، سکول، مدرسہ، مسجد بہترین ہے. پر امن لوگ ہیں. بیماریاں کم ہیں. یہاں بھی سندھ کے انہی وڈیروں کی حکومت ہے. مگر وہ خوشحال ہیں. وجہ جانتے ہیں؟ وجہ بس یہی ہے کہ انھوں نے تنقید کو اپنا بنیادی حق سمجھ پر اس پر اکتفا نہیں کیا. چند دوستوں نے مل کر انیشیٹو لیا. اور سکون سے زندگی بسر کر رہے ہیں. یہ ہے تنقید اور اصلاح کا فرق.
مزید یہ عرض کر دوں کہ تنقید کوئی فرض چیز نہیں. اصلاح ہم پر لازم ہے. اپنے معاملات کی اپنے گرد و پیش کے معاملات کی. یونہی معاشروں میں امن و سکون، صحت و سلامتی آتی ہے. صرف تنقید سے کچھ نہیں ہوتا.
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور بات کرتا کھانا ختم ہو چکا ہے. اور ہم نے سلام کیا اور اپنی راہ لے لی.
والسلام

نعمان علی ہاشم -

ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟؟؟ تحریر: فہیم شاکر
ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟
کیا فکرِ فردا سے رہائی ذہنی سکون کا باعث ہے یا مالی آسودگی؟
کیا دنیا میں ٹھاٹھ باٹھ سکون کی علامت ہے یا کوئی ایسی چیز جو اس کی زندگی کو مسکراہٹ سے ہمکنار کر دے
اللہ تعالی کارساز ہے وہ انسان کے کاموں کے لیے خود انسان سے زیادہ متفکر رہتا ہے. انسان جب خود اپنے کاموں، مرادوں اور تمناوں کے لیے بے چینی و بے قراری کی روش اختیار کرتا ہے تو اس سے وہ ذہنی سکون چھن جاتا ہے جو زندگی کی مسکراہٹ کا باعث ہوتا ہے. اور فکرِ فردا سے رہائی اس کے لیے خواب بن جاتی ہے
انسان کو چاہیے کہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اور اس میں کوتاہی نہ کرے اگر وہ عطا کردہ نعمتوں پر صبر بھی کر لے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو گی
انسان بنیادی طور پر ناشکرا ثابت ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جو چیز مل جائے اس کی قدر نہیں کرتا اور جو تمنا پوری نہ ہو اس پر شکوے شکایات ہر وقت نوکِ زباں پر رکھتا ہے
اور اگر ایسے انسان سے عطا کردہ نعمتوں میں سے کچھ یا ساری واپس لے لی جائیں تو اس کا چیخنا دیدنی ہوتا ہے
حالانکہ اس نے عطا ہوئی نعمتوں کا شکر تو ک ھی ادا کیا نہیں تھا
نجانے کیوں انسان خوب سے خوب تر کی تلاش میں کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے
قدرت انسان کو برابر اشارات دیتی رہتی ہے لیکن انسان نعمتوں کی تکفیر میں ایسا پڑتا ہے کہ قدرت کے اشارات کو سمجھتا ہی نہیں اور ذہنی سکون تباہ کر بیٹھتا ہے
اللہ سے بہتر کون حکیم و علیم ہے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ عطا کردہ نعمتوں سے کسی کو واپس لے کر اس سے بہتر عطا کرنا چاہتا ہو لیکن اس پر یہ انسان ایسا دلگرفتہ ہوتا ہے کہ اللہ جیسے خالق و مالک کی شکایات اپنے ہی جیسے انسانوں سے کرنے لگتا ہے
شاید یہی وجہ ہے کہ وہ فکرِ فردا سے رہائی کے لیے ترستا رہتا ہے
غم ہمیشہ ماضی سے منسلک ہوتا ہے اور اور خدشے کے تعلق مستقبل سے ہوتا ہے
کیونکہ جو وقت ابھی آیا نہیں اس پر غم کرنا بنتا نہیں لہذا غم کا تعلق ماضی سے ہے
لیکن ماضی کے غم کو لے کر ہم مستقبل سنوار نہیں سکتے اس کے لیے ضروری ہے کہ بندہ ماضی سے صرف سبق حاصل کرتے ہوئے اسے یکسر فراموش کر دے اور مستقبل کی فکر کرے لیکن یہ فکر اسے ہلاک نہ کر ڈالے فکر کا مطلب جہاں ایک طرف بہتر پلاننگ کرنا ہے وہیں دوسری طرف اللہ سے بہتر امید لگانا اور اسی پر یقین رکھنا بھی ہے کہ اس کی مرضی ومنشاء کے بغیر مستقل بہتر نہیں ہو سکتا
ماضی کے غم اور مستق ل کی بے جا فکر سے ہم حال سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے
ننکانہ کے ایک مقامی سکول کے ذمہ دار سے ایک ملاقات میں طلبہ کی پڑھائی کا ذکر چلا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے سکول کے طلبہ دوپہر 2 بجے چھٹی کے بعد گھر چلے جاتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں پھر جس نے اکیڈمی وغیرہ جانا ہوتا ہے وہ چلا جاتا ہے لیکن ہمارے اور ایک دوسرے سکول کے جماعت نہم کے طلبہ کے نمبر ایک آدھ نمبر کے فرق سے 505 میں سے 500 ہی آئے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے طلبہ نے پڑھائی بھی کی اور زندگی سے لطف اندوز بھی ہوئے اور نمبر 500 پائے لیکن مذکورہ سکول کے طلبہ نے سارا دن اور رات کو بھی پڑھائی کر کے اتنے ہی نمبرز حاصل کیے تو گویا اس ادارے کے طلبہ بھی طریقہ بدل کر پڑھائی کرنے سے زیادہ نمبر لے سکتے ہیں اور زندگی سے لطف بھی، لیکن ایسا ہو نہیں رہا
یہاں سمجھ یہ آتا ہے کہ مستقبل کی فکر میں وہ طلبہ اپنے آج کو تباہ کر رہے ہیں، یہی حال انسان کا بحیثیت انسان بھی ہے
زندگی مسکرائے گی یا تلملائے گی اس کا انحصار انسان کے رویے پر ہے
ذہنی سکون مل جائے گا یا ذہنی کرب جان لے لے گا اس کا انحصار انسان کی سوچ و عمل پر ہے
یقین جانیے کہ صبر و شکر سے ہی ذہنی سکون نصیب ہوتا ہے اور زندگی کِھلکھلا اُٹھتی ہے
تو آئیے! اگر ہم فکرِ فردا سے رہائی کے طلب گار ہیں اور ذہنی سکون کے خواہشمند تو اللہ کے کام اللہ پر چھوڑ دیں کہ وہ ہمارے بھلے کے کام ہی کرے گا اور ہم ہر حال میں صبر و شکر سے کام لیتے رہیں
وما توفیقی الا باللہ

-

"دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند
حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔
قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔
اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین
-

پلاسٹک بیگز سے چھٹکارہ کس صورت ممکن ہے!!! تحریر: نعمان علی ہاشم
قارئین کرام ہم نے جس دور میں ہوش سنبھالا وہ دور کپڑے کے تھیلوں کا آخری دور تھا. کانچ کی پراڈکٹ پلاسٹک میں تبدیل ہو رہی تھیں. مٹی اور چینی کے برتنوں کی جگہ میلامائن کے برتن لے رہے تھے. ابتدائی زمانے میں ہم نے اسے نعمت جانا، برتنوں کے وزن سے جان چھوٹی، کپڑے کے تھیلے کی جگہ شاپر آیا. مجھے یاد ہے جب نئے نئے گوجرانوالہ شفٹ ہوئے تو شاپر میں دودھ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی. کیونکہ ہمارا عقیدہ بن چکا تھا کہ دودھ ڈول میں لایا جاتا اور پتیلی میں اوبالا جاتا ہے. دہی جمانے کے لیے مٹی کی چاٹی یا سلور کی گاگر ہوتی تھی. دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کے کنڈوں کی جگہ سٹیل نے لے لی.. فریج کی بہتات ہوئی تو مٹی کے گھڑے گئے اور پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی یخ کیا جانے لگا. دیکھتے ہی دیکھتے پانچ سات سالوں میں ایک پوری ثقافت کو لپیٹ کر ہم نے جدت سے لعنت خاص اٹھا کر منہ پر مل لی..
.
ماضی کے ایک واقعے کو یاد کروا کر بات آگے چلاتے ہیں.. ماضی میں پہلے تمباکو اور چائے کو عام کیا گیا. اور جب لوگ عادی ہونے لگے تو ان کے مضمرات سامنے آنے لگے.
.
پلاسٹک پراڈکٹس کے چند سالہ استعمال کے بعد جب لوگوں میں یہ چیز سرایت کر گئی تو اس کے مضمرات عوام کے سامنے لائے جانے لگے. میڈیا کی آزادی کے بعد ہمیں اسی کے توسط سے معلوم ہوا کہ یہ پراڈکٹس ہماری صحت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہیں. مگر زہر رگوں سرایت کر چکا تھا. اب ہم اس سے جان چھڑوانے سے رہے. اور ظاہری سے بات ہے کہ جب انسان رنج میں راحت محسوس کرنے لگے تو اسے خوشی کی حاجت ہی کیا؟
یہ تو ہو گئی تمہید. اب چلیے زرا مدعے پر.. ہم پچھلے پانچ سال سے اکثر و بیشتر جگہ اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ اس پلاسٹک کو ختم ہونا چاہیے، یہ زندگی نگل رہا ہے. اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں. ماضی میں بھی حال کی طرح کوششیں ہوتی رہیں مگر کچھ عرصہ بعد یہ شور ختم ہوتا اور پلاسٹک ہماری زندگیوں میں زندگیاں تباہ کرنے کے لیے چلتا رہا.
خیر حالیہ چند دنوں کے اقدامات دیکھ کر میں نے مناسب سمجھا کہ آپ لوگوں کو اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کر دوں.
یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر شریعت بھی نافذ کریں گے تو نقصان آپکا ہی ہوگا. اس کے لیے لازم ہے قوم کی اخلاقی و اسلامی تربیت، جمہور کا صالح ہونا، گرد و پیش کے سازشی عناصر کے مقابل ڈٹ جانے کی قوت ہونا. جس طرح سب سے افضل کام آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کر سکتے اسی طرح چھوٹے سے چھوٹا کام بھی گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا.
خیر بات یہ ہے کہ
انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشنز کے مطابق عصر حاضر میں 35 فیصد بیماریوں کی وجہ یہ پلاسٹک ہے. کمال یہ ہے کہ اسی پلاسٹک کے مضمرات میں کینسر جیسی بیماری بھی ہے. ہیپاٹائٹس اور جلدی امراض کی طویل لسٹ، اس سے زیادہ حیران کن بات یہ کہ اس پلاسٹک نے پچھلے بیس سالوں میں 18 فیصد آبی مخلوق کو سرے سے ختم کر دیا.
اور صرف پاکستان کی بات کریں تو دریائے راوی میں آبی مخلوق کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے. مچھلیاں تو ایک طرف اب تو مینڈک بھی اس شاپر کی موت مر رہے ہیں. یہاں نالوں اور شہروں کا گندہ پانی پھینک کر پلاسٹک کئی فٹ موٹی تہہ بنا دی گئی ہے جو اگلے دو سو سال تک بھی مٹی میں نہیں ملے گی. یعنی اگلے تو سو سال کے لیے زندگی ناپید..
.
ان برتوں میں ٹھنڈا گرم کرنے کی بیماریاں، ان میں صفائی کے بعد بھی جراثیم کی افزائش، اور تو اور اگر ان برتنوں کو ابالا جائے تو اندر سے مزید جراثیم زندہ ہو کر انسانی صحت کا نقصان کرتے ہیں.
اس پلاسٹک کے عمل دخل کی بات کی جائے تو بچے کے منہ میں لگی چوسنی سے لے کر، 80 سالہ بابے کی چارپائی تک پلاسٹک کی بنی ہے.
اب سوال یہ ہے کہ اس سے جان کیسے چھڑائی جائے؟
ایک بات ذہن میں رکھیں اب اس پلاسٹک سے جان چھڑوانا ناممکنات میں سے ہے. البتہ اس کا استعمال 80 فیصد تک روکا جا سکتا ہے. اور یہ ہماری نسلوں کی بقا کے لیے کافی ہوگا.
سب سے پہلی بات آگاہی، لوگوں کو جہاں پلاسٹک کے مضمرات بتانے کی ضرورت ہے وہیں کپڑے، شیشے اور مٹی کی فضیلت پر بھی لیکچرز دینے کی ضرورت ہے.
.
جس چیز کو رائج کرنا ہے اسے فیشن بنا دیں. شوبز، میڈیا کھلاڑی سب مل کر اس کو پروموٹ کریں.
.
دوسرا اہم کام یہ کریں کہ پلاسٹک بنانے والی فیکٹریوں کو کپڑے یا ایسے میٹیریل کے بیگ بنانے کے لیے فنڈز جاری کریں جو ماحول اور انسان دوست ہوں. تاکہ وہ ہنسی خوشی قوم کے لیے یہ خدمات سرانجام دیں
.
شہروں کے کوڑے کی ریفائنگ پر کام کریں. تمام پلاسٹک پگلا کر ایسی پراڈکٹس بنائیں جو دوبارہ مارکیٹ میں چلتی رہیں اور وہ چیزیں زمین یا پانی کی نذر نہ ہوں.
.
شاپر کا ریٹ بڑھا دیں، اور اسے کباڑ میں خریدنے اور بیچنے کی تجویز دیں. یوں پلاسٹک میٹیریل گلیوں نالیوں میں نہیں جائے گا. گھر کی خواتین ان بیگز کو سنبھال کر رکھیں. جس طرح لوہا، لیلن، سوکھی روٹیاں اور ہیل والی جوتیاں خراب ہو جانے کے بعد بھی سنبھالی جاتی ہیں. اور کباڑیے کو بیچ کر پیسے کمائے جاتے ہیں. اسی طرح استعمال شدہ پلاسٹک شاپر بھی بیچے اور خریدے جائیں
.
جب آپ یہ تمام اقدامات کر لیں گے تو پھر پلاسٹک بیچنے والوں کی باری آئے گی. اب یہاں پر بھی بتا دوں کہ اگر آپ مافیاز کو پکڑ نہیں سکتے تو آپ محض بوتل اور شاپر پر بھی یہی لکھ سکیں گے.. "خبردار..! پلاسٹک کا استعمال کینسر کا باعث ہے”
جس طرح آپ سگریٹ پر ٹیکس لگا کر عام آدمی کے لیے اسے مشکل کر کے سمجھ رہے ہیں کہ تمباکو نوشی ختم ہو جائے گی اسی طرح شاپر کا معاملہ ہو گا. جس طرح سگریٹ جن کو لگ چکا ہے، ان کے لیے انتباہ، اور ٹیکس کوئی مسئلہ نہیں بلکہ آپ دن بہ دن تباکو بیچنے والوں کی کمائی میں اضافہ کر رہے ہیں. اسی طرح شاپر کے معاملے میں ہوگا. لوگ جس آسائش کے پیچھے چل پڑے ہیں، وہ چار پانچ روپے زیادہ خرچنے کو ترجیح دیں گے.
.
یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ آجکل مارکیٹ میں مختلف اقسام کے بیگز آ رہے ہیں، جنہیں ماحول دوست ثابت کر کے مارکیٹنگ کی جا رہی ہے. مگر یہ بیگز کسی صورت بھی پلاسٹک بیگز جتنے فنگشنل نہیں. پلاسٹک بیگ میں آپ بہت سے اقسام کا میٹیریل ڈال سکتے ہیں. جبکہ ان بیگز میں مخصوص طرح کا میٹیریل ڈل سکتا ہے.
یعنی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنی فنگشنلیٹی کے اعتبار سے بھی پلاسٹک بیگ کا کوئی ثانی نہیں.
.
عوام کو بھی چاہیے کہ ہر ممکن کوشش کرے کہ جہاں تک اس پلاسٹک بیگ سے بچ سکتی ہے بچے. جو پراڈکٹس کسی دوسری چیز میں لائی جا سکتی ہیں، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں میں اسی چیز کو شاپر میں لانے سے پرہیز کریں. دودھ، دہی سالن جیسی پراڈکٹس کے لیے برتن. اور خشک پراڈکٹس کے لیے کپڑے کے تھیلے استعمال کریں. آپ سیدھی راہ پر ہونگے تو ملک بھی سیدھی راہ پر ہوگا. ٹھیک ہے پالیسیاں سرکار نے بنانی ہیں. مگر آپ کو اپنی جانب سے اقدامات کرنے پر کوئی روک نہیں. آپ خود باز آئیں اور اپنے جاننے والوں کو پلاسٹک سے پرہیز کا مشورہ دیں. اگر ہم بحیثیت قوم کسی نیک مقصد کے لیے خود کو پیش کر دیں تو یہ مافیاز خود بخود بھاگ جائیں گے. جنہوں نے ملک پاکستان کے سسٹم کو ہائی جیک کیا ہوا.

-

میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند
میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔
سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔
میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔
کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔
اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔
نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔
اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین