Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن عارف

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن عارف

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اور حقوق کا ایک ایسا نظریہ جس کے تحت تمام انسان یکساں طور پر بنیادی انسانی حقوق کے حقدار ہیں۔ اس نظریہ میں وہ تمام اجزاء شامل ہیں جس کے تحت کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسان یکساں طور پر بنیادی ضروریات اور سہولیات سے استفادہ کر سکیں.

    درج بالا تعریف حقوق انسانی کی تعریف ہے. حقوق انسانی کے ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو ان کے حقوق دیے جائیں. رب کائنات کی بنائی ہوئی اس دھرتی پر رہنے والے ہر انسان کو کھانے، پینے، اوڑھنے بچھونے، رہن سہن اور معاشرت کی ضرورت ہوتی ہے. اور بنیادی طور پر اس سب کے لیے قدرت نے اسے آزاد و خودمختار پیدا کیا ہے.

    اگر کسی پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے حق کے لیے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے. اگر کسی کو کھانا نہیں مل پا رہا تو وہ دنیا کے سامنے پلے بورڈ لے کر کھڑا ہو سکتا ہے کہ میرے ان مسائل کی وجہ سے مجھے روٹی نہیں مل رہی. الغرض مرد و خواتین ہر بنیادی اور ضروری انسانی حق کے حقدار ہیں.

    حقوق انسانی کے ادارے حقوق دیتے ہیں…. مگر کن کو؟؟؟ جو یہودی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں…. دنیا کے کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو اس کا حق لے کر دیا جاتا ہے…. اور 10 دسمبر کو ہر سال اس ادارے کی کامیابی کے دعوے کرتے ہوئے دن بھی منایا جاتا ہے…. مگر حق نہیں مل پاتا تو صرف مسلمانوں کو!!!

    کتنے ہی مسلم ممالک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا مگر حقوق انسانی کے عالمی ادارے خاموش تھے خاموش ہیں اور خاموش رہیں گے!!!

    آج بھی حقوق انسانی کا دن منایا جا رہا مگر کشمیر میں آج کرفیو کا بھی 128واں دن ہے!!!

    دنیا حقوق انسانی کا دن منا رہی ہے اور کشمیری ماں آج بھی اپنے بیٹے کے لاشے پر آہ و بکا کرتی نظر آتی ہے!

    دنیا انسانی حقوق کے نعروں سے گلے پاڑ رہی ہے. مگر کشمیری بہن کہیں باپ کی جدائی میں غمگین ہے….. تو کہیں پیلٹ گن سے زخمی اپنے چھوٹے بھائی کی آنکھ دیکھ کر سسکیاں لے رہی ہے!

    دنیا حقوق انسانی کا عالمی دن منا تو رہی ہے مگر بوڑھا باپ آج بھی اپنے زندہ رہنے کو کوس رہا ہے…. کیونکہ یک بعد دیگرے اس کے لغت جگر اس کی آنکھوں کے سامنے شہید کر دیے گئے!

    میڈیا آج یونائڈ نیشنز کے انسانی حقوق کمیشن کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے مگر…. کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم سے زخمی بچے ۔بوڑھے، جوان ہسپتالوں میں کراہ رہے ہیں!!!

    کیسی دنیا ہے یہ ؟ کیسی ہے یہ دھرتی ؟ کیسا یہ عالمی دن ہے؟ کیسے ہیں یہ حقوق ؟ کیسی یہ تنظیمیں ہیں؟ کیسے ہیں وہ ملک جو ان اداروں کو سپورٹ کرتے ہیں؟
    نام انسانیت کا ہے ٹارگٹ مسلمان ہے؟

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ
    عبدالرحمن عارف

  • کیا پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے ؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر معاشرے کے اندر اچھے اور برے افراد پائے جاتے ہیں چند برے افراد کی بدولت اچھے لوگوں کی اچھائی بھی دب کر رہ جاتی ہے بات کرتے ہیں پاکستان میں فحش مواد دیکھے جانے کی تو سب سے پہلے یہ دیکھیں جب بھی رپورٹ جاری ہوتی ہے تب یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس فحش مواد کو دیکھا کتنے اکاءونٹس سے جا رہا ہے اور وہ کل انٹرنیٹ صارفین کا کتنے فیصد ہے
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی اقلیتوں سمیت تقریبا 22 کروڑ ہے جس میں سے 1.85فیصد ہندو اور 1.65 فیصد عیسائی جبکہ قادیانی و سکھ اور لبرلز اس کے علاوہ ہیں پاکستان کی کل آبادی کے 22.2 فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں
    ایک دکاندار کو اپنی آمدن سے غرض ہوتی ہے وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس ایک بندے نے دن میں پانچ بار مجھ سے ایک ہی چیز خریدی ہے بلکہ وہ یہ دیکھے گا کہ یہ چیز دن میں کتنی بار میری دکان سے خریدی گئی ہے وہ جب آگے سے وہی چیز خریدے گا تو یہی بتائے گا کہ فلاں چیز ایک دن میں اتنی بار فروخت ہوتی ہے یہ ہرگز نہیں بتائے گا کہ ایک بندہ دن میں یہ چیز اتنی بار مجھ سے خریدتا ہے
    اگر آپ یوٹیوبر ہیں تو آپ کو اپنے فالوورز سے تو سروکار ہوگا مگر یہ جاننے کی آپ کوشش ہرگز نہیں کرینگے کہ آپ کے ایک فالوور نے کتنی بار آپ کی ایک ہی ویڈیو دیکھی ہے ایک فالوور اگر آپ کی ایک ویڈیو دن میں ہزار بار بھی دیکھے گا تو آپ کے اس ویڈیو کے ہزار ویوورز یعنی دیکھنے والوں میں شمار ہوگا نا کہ یہ ہوگا کہ اس فالوور نے یہ ویڈیو ایک بار ہی دیکھی ہے ایسے ہی ڈارک ویب ہیں آپ ایک دن میں کسی ویب کو سرچ کریں تو اس کے ویوورز بڑھتے جاتے ہیں حتی کہ آپ دن میں ہزاروں مرتبہ اس ایک ویب پر ایک لنک کو اوپن کریں تو جب بھی آپ لنک اوپن کرینگے تو آپ کے ہر بار لنک اوپن کرنے سے ویوورز بڑھتے جائینگے
    مگر یہاں قصور وار ہم بھی ہیں ہم بنا سوچے سمجھے اور بغیر دیکھے ایسے کتنے ہی گندے لنکس اپنے واٹس ایپ گروپوں،فیسبک وال اور ٹویٹر و انسٹاگرام اکاونٹس پر لگا دیتے ہیں جن پر کلک کرتے ہی اس لنک کی ریٹنگ بڑھنے لگتی ہے بھلے آپ اس لنک کو کلک کرتے ہی بنا دیکھے چھوڑ دیں
    پاکستان کے 22.2 فیصد انٹرنیٹ صارفین میں سے بیشتر ان پڑھ ہیں یا پھر کم پڑھے لکھے اس لئے وہ ان چالوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور فوری جاری کردہ فہرست کو آگے شیئر کرتے جاتے ہیں جس سے ہمارے دشمن ممالک کے لوگ اپنا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پاکستان قلعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    یہی تو ان اسلام و پاکستان دشمن لوگوں کی ففٹھ جنریشن وار کی کامیابی ہے کہ بات آپ کے دشمن کی ذہن آپ کا انٹرنیٹ پیکج اور موبائل فون آپ کا اور باتیں عروج پر آپ کے دشمنوں کی تو معزز قارئین کرام آپ خود سوچیں آپ دن میں کتنی مرتبہ فحش مواد یا ڈارک ویبز دیکھتے ہیں ؟ یاں پھر آپ کے حلقہ احباب کے لوگ ایسی سائٹس کتنی بار دیکھتے ہیں ؟ یقینا نہیں
    تو پھر دشمن کی اس پھیلائی ہوئی شازش کو سمجھیں اور بنا تحقیق کے باتیں اور لنکس آگے فارورڈ کرنے سے پرہیز کیجئے

  • جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش…از…انشال راؤ

    عورت کے بغیر انسانی معاشرے کی تکمیل ممکن نہیں، یہ عورت ہی ہے جو بچوں کی پرورش کرتی ہے جو معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کرنے کا زریعہ بنتے ہیں، مودی ہو یا موہن بھاگوت، پنڈت ہو یا سوامی سب ہی عورت کے بطن سے پیدا ہوکر آج اس زمین پر اکڑ کر چل رہے ہیں،

    عورتوں کے حقوق کے لیے پوری دنیا میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں بیحد ڈویلپمنٹ بھی سامنے آئی ہے لیکن افسوس ہے کہ بھارت دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں عورت کو جنسی تسکین کا زریعہ سمجھا جاتا ہے اور ہندوتوا کے ہاتھوں میں جانے کے بعد بھارت میں ریپ کیسز میں کئی سو گناہ اضافہ ہوا ہے،

    بھارتی اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 92 ریپ و گینگ ریپ کے کیسز پولیس میں رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں کیسز یا تو بدنامی سے بچنے کے لیے رپورٹ نہیں ہوتے یا پولیس ان کو رپورٹ نہیں کرتی جیسا کہ کچھ دن پہلے ہی کی بات حیدرآباد کے قریب ایک گاوں میں ایک غبارے و ٹافیاں بیچنے والی دلت عورت کا گینگ ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا گیا جس کی رپورٹ درج کروانے اس کا خاوند پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹتا رہا لیکن اس کے دلت ہونے کی وجہ سے کسی نے ایک نہ سنی،

    بڑھتے ہوے ریپ کیسز کی وجہ سے بھارت کو اب ریپستان کا نام دیا جارہا ہے، ریپ کلچر میں اضافے کی وجہ ہندوتوائی سوچ و رہنما ہیں، جیسا کہ اعلانیہ طور پر BJP سے منسلک ہندوتوا خواتین ونگ رہنما سنیتا سنگھ گاد نے کہا کہ ہندو دس اور بیس کی ٹولیاں بناکر مسلم خواتین کا ریپ کریں، اس کے علاوہ ہندوتوا سوچ و فکر کے مطابق دلت طبقے کو اونچی ذات کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے، جب یہ سوچ فکر پروان چڑھیگی تو یقیناً ریپ کیسز میں اضافہ ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں،

    رواں ماہ حیدرآباد سے ایک وٹنری ڈاکٹر خاتون کو اغوا کرکے ریپ کے بعد زندہ جلادیا گیا جس پر پورے بھارت میں خواتین کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا جسکے بعد حکومت و پولیس کو مجبوراً حرکت میں آنا پڑا اور چار ملزمان کو عدالتی کاروائی کیے بغیر ہی پولیس مقابلہ دکھا کر قتل کردیا گیا لیکن اس کیس میں ایک انتہائی بھیانک پہلو دیکھنے میں آیا،

    سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ نے تقریر کرتے ہوے کہا کہ ریپ کرنے والوں کو Lynch کیا جانا چاہئے اور عوام قانون کو ہاتھ میں لیکر ان کا قتل کرے جبکہ دوسری طرف پولیس کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی چاروں ملزمان کے نام میڈیا تک پہنچ گئے لیکن ہندوتوا میڈیا نے ان چار میں سے ایک مسلمان ملزم کے نام کو لیکر نفرتیں بکھیرنا شروع کردیں جسکے بعد ہندوتوا آرمی کا طوفان سوشل میڈیا پہ اتر آیا اور مسلمانوں کے خلاف مذموم مہم شروع ہوگئی جسکے اثرات بہت منفی آئینگے،

    اس سے پہلے کسی بھی مسلمان پر گائے ذبیحہ یا گائے کے گوشت کا الزام لگا کر قتل کردیا جاتا تھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اور اب ایک بار پھر ہندوتوا آرمی کو ایک بہانہ دیدیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان فرد پر الزام لگا کر اسے قتل کردیں، یہ کوئی انوکھا کیس نہیں ہوا اسی روز ایک 23 سالہ خاتون کو ریپ کیس کی پیشی پر جاتے ہوے ملزمان نے قتل کرکے جلادیا،

    اس کے علاوہ کچھ روز قبل حیدرآباد ہی کے قریب ایک دلت خاتون کو ریپ کے بعد جلادیا گیا اور کچھ عرصہ پہلے ہی BJP رہنما کلدیپ سنگھ سنگار ریپ کرنے کے مرتکب ہوے اور متاثرہ عورت کو عدالت جاتے ہوے کچل دیا گیا لیکن نہ ہندوتوا میڈیا کو تکلیف ہوئی نہ ہی ہندوتوا آرمی کو عورت کی عظمت کا خیال آیا جبکہ وٹنری ڈاکٹر کے کیس میں ایک مسلمان ملزم جس پر ابھی جرم ثابت بھی نہیں ہوا تھا کے نام کو لیکر ہندوتوا میڈیا نفرتوں و اشتعال انگیزی پھیلاتا رہا جبکہ اس میں نامزد دیگر تین ہندو ملزمان کا ذکر تک نہ کیا،

    اب اگر آنے والے دنوں میں کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شخص بالخصوص مسلمان یا پھر کسی دلت کو ریپ کا الزام لگا کر قتل کیا گیا تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، ہندوتوا لیڈرز پر یا ہندوتوائی میڈیا پر؟ جب سے BJP اقتدار میں آئی ہے تو بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ ہوتی جارہی ہے اور بھارتی میڈیا انسانی و عالمی حقوق کے برخلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور ایک مخصوص ایجنڈے پہ عمل پیرا ہے جسکے نتیجے میں پورا خطہ آگ و خون کی لپیٹ میں آجانا ہے، بھارتی میڈیا کے غیرذمیدارانہ کردار کے نتیجے میں پہلے ہی بھارت میں لاکھوں خاندان اجڑ چکے ہیں

    لیکن ہندوتوا میڈیا اسی روش پہ قائم ہے عالمی انسانی حقوق کے ذمہ دار اداروں و طاقتور ممالک کو اب بھارتی رہنماوں و میڈیا کے اس غیرذمیدارانہ کردار پر ٹھوس ایکشن لینا ہوگا ورنہ انسانی روپ میں چھپے یہ بھیڑئیے دنیا کے امن کو تباہ و برباد کردینگے۔
    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش

  • اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

    آج کل ہم اپنی زندگیوں میں کس قدر کھو گئے ہیں کہ کسی دوسرے انسان کا ہمیں خیال ہی نہیں بس خود کے لیے جیتے ہیں۔
    اسی لیے تو معاشرہ آج کل افرا تفری کا شکار ہے ہم بھول بیٹھے ہیں کہ مرنا بھی ہے اور جو مال و دولت اکٹھی کر رہے ہیں یہ سب دُنیا میں رہ جائے گی۔

    ہمیں تو فخر ہونا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری اسلامی تعلیمات کس قدر اعلیٰ ہیں
    آئیے ذرا آج بات کرتے ہیں حسن معاشرت پر۔۔۔۔۔۔۔

    معاشرت ،باہم مل جل کر رہنے کو کہتے ہیں اور حسن معاشرت کا معنی ہے زندگی گزارتے ہوئے ایک دوسرے ساتھ نہایت عمدہ سلوک روا رکھنا۔

    ایک دوسرے کے ساتھ مل کے زندگی گزارتے ہوئے اعلٰی اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔

    ایثار،خدمت،خیر خواہی،نیکی کے کاموں میں تعاون،ایک دوسرے کے لیے حُسنِ ظن رکھنا اور اس طرح کی دیگر اعلیٰ اقدار پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔

    اسلام نے حُسنِ معاشرت کے قیام کے لیے احسان کی روش اختیار کرنے کو بنیاد بنایا ہے
    احسان یہ کہ دوسرے کی ضروریات کا خود احساس کریں اس کی ضرورت کو خود محسوس کریں اور یہ سوچے بغیر کہ اس کی مدد کرنا ہماری زمداری تھی یا نہیں ۔۔۔۔۔
    ہم ہم اس کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

    ٫٫تم لوگوں کی دیکھا دیکھی کام کرنے والے نا بن جاؤ تم لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا کریں گے اور اگر انہوں نے زیادتی کی تو ہم بھی زیادتی کریں گے بلکہ تم زیادتی نہ کرو
    حُسنِ معاشرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ
    معاشرتی زندگی میں الزام تراشی سے بچا جائے۔
    الزام تراشي ایسی چیز ہے جو معاشرتی اور ذہنی سکون کا خاتمے کا سبب بنتی ہے
    ہمارا عام رویہ ہے کہ ہم الزام لگانے میں بڑے بے باک ہو جاتے ہیں اور ہمارے ذہن سے یہ بات بالکل نکل جاتی ہے کہ اس سے کسی کی عزت پر کتنا منفی اثر پڑے گا۔
    پھر یہ اِلزام تراشی اگر جنسی زندگی سے متعلق ہو تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں اسلام نے ہمیں بے اعتدالی سے بچانے کے لئے قذف کی سزا مقرر کی ہے۔
    اس کی حکمت یہ ہے کہ اسلام نہیں چاہتا کہ جنسی زندگی اور بے حیائی کی گُفتگو لوگوں کی محفلوں کا موضوع ہو۔

    اسی طرح حسن معاشرت کے حوالے سے اسلام نے بہت سی ہدایات دی ہیں
    جیسے ایک دوسرے کے ہاں کھانے پینے سے باہم محبت پیدا ہوتی ہے

    *اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔

    لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمعیا او اشتا نا
    ترجمہ:
    تم مل کر کھاؤ یا اکیلے اکیلے کھاؤ اس میں تم تم پر کوئی گناہ نہیں،،

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

    مل کر کھاؤ تنہا نہ کھاؤ برکت مل کر کھانے میں ہے
    لیکن آج کل ہم کُچھ زیادہ ماڈرن ہو گئے صبح ناشتے کے لئے گھر کے افراد ہی اپنی زندگی میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ جدید دور میں باپ الگ ناشتہ کرتا ہے۔
    بچے الگ کرتے ہیں ایسا کیوں ہے؟؟؟؟؟؟؟
    پھر عزیز و اقارب کی دعوت میں بھی ہم تکلف کا شکار ہیں۔
    یا پھر ہم اپنے برابر کے لوگوں کی دعوت کرتے ہیں وہ بھی اپنے سٹیٹس اونچا کرنے کے لیے۔۔
    افسوس کہ ہم ہر کام ہی محض اپنے لیے کرتے ہیں ۔
    اللہ تعالی کی رضا کے لیے ہم کُچھ نہیں کرتے۔

    پھر اسی طرح ہم بزرگوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں؟؟؟
    اپنے گھر کے بزرگوں کو کتنا وقت دیتے ہیں دیگر ہمارے سامنے کتنے عمر رسیدہ بزرگ ہمارے محلے گلی بازار،ہمسائیوں میں ملتے ہیں اُن سے ہمارا رویہ کیسا ہے؟؟؟؟؟
    یقینا۔۔۔۔۔۔۔
    بُرا رویہ
    وہ اس طرح کے ہم اُنھیں وقت نہیں دیتے اُن سے مل بیٹھ کے بات نہیں کرتے انکی سنتے نہیں۔
    بس اپنی سناتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ چار جماعتیں پڑھ کر ہم بڑے سمجھدار اور پتہ نہیں سکولر بن گئے ہمیں کیا ضرورت ان کی نصیحتوں کی۔۔۔۔۔۔
    ایسا بلکل نہیں یقین مانیے جو سکون اطمینان بزرگوں کے سائے میں ہے وہ کہیں نہیں
    نا کسی سینما میں نا کسی فلم اور ڈراما میں اور نا ہی دوستوں کی فضول محافل میں بیٹھنے سے ہے۔

    یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے اپنے یونیورسٹی کے ایک بہت قابل ٹیچر سر مختار صاحب ہیں اُن کی بات یاد آگئی۔
    وہ ہمیں کچھ بھی پڑھاتے تو ساتھ کہا کرتے تھے۔

    بیٹا میں مثال دیتا ہوں مثال سے بات سمجھ آتی ہے،،،
    وہ مثال دیا کرتے تھے اور ہمیں واقعی ہی سمجھ آ جاتی تھی۔
    میں بھی یہاں مختصر سا ایک واقع بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں شاید قارئین کو میری بات بھی سمجھ آجائے
    میں اپنی آپ بیتی کہانی سناتی ہوں۔
    مجھے دراصل بزرگوں سے کہانیاں سننے کا شوق ہے تاریخی واقعات جو ان سے پیش آئے ہوں وہ دلچسپی سے سنتی ہوں۔
    اپنی امی ابو سے کہانیاں سننے کی عادت ابھی بھی ہے۔
    ایک دن ایسا ہوا کہ میں ہمسائیوں کے گھر گئی ویسے ہی فارغ تھی سوچا اُن سے مل آؤں۔
    اُن کے گھر کے افراد میں دو بچے اور اُن کی ماں رہتے ہیں اور شوہر کام کے سلسلے میں گاؤں سے دور رہتے ہیں۔
    اس لیے میں کبھی کبھی چلی جاتی ہوں چونکہ وہ میری ہم عمر ہے تو اچھی گپ شپ ہو جاتی ہے۔
    ایک دن ایسا ہوا کہ میں گئی اُن کے ہاں تو اس بہن کے والدین آئے ہوۓ تھے جو کہ کافی عمر رسیدہ بزرگ تھے۔
    بہن کے والد صاحب تقریباً 80 برس کے تھے اُن کی نظر بھی کمزور اور سماعت بھی کمزور تھی۔
    مجھے چونکہ کہ بزرگوں سے بات چیت کرنے میں کہانیاں سننے میں مزا آتا ہے۔
    تو حسب معمول اُن سے بھی حال احوال پوچھنے لگی۔۔۔۔
    بات چیت کرنے کے بعد محسوس ہوا وہ کافی پریشان ہیں بیٹوں کے تلخ رویے کے وجہ سے اور اُن کا اپنے والدین کو وقت نا دینا۔
    اُنھیں تکلیف دیتا ہے۔
    خیر چلو یہ بات ایک طرف رہی۔
    وہ جتنے دِن یہاں رکے میں روز جاتی اُن سے ملتی کوئی واقع کوئی کہانی کوئی اسلامی بات سُننے کی فرمائش کرتی۔
    یقین مانیے میں الفاظ میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کس قدر دلی سکون ملتا اُن کو خوش دیکھ کے۔
    وہ بڑے شوق سے باتیں سناتے کبھی قرآن کریم میں موجود واقعات سناتے کبھی قیامت کا ذکر ہوتا۔
    کبھی جنگوں کا ذکر کرتے۔
    وہ مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیتے اور خوش ہوتے ۔
    ایک دن گھر کی مصروفیات کی وجہ سے میں اُن کے گھر نا جا سکی۔
    انہوں نے باقاعدہ اپنی بیٹی کو بھیجا کہ

    وہ بیٹی جو روز آتی ہے آج کیوں نہیں آئی اُسے بلا کے لاؤ اُس کی خیریت معلوم کرو وہ ٹھیک تو ہے۔
    پھر اب جب وہ واپس اپنے گھر چلے گئے وہاں جا کر بھی اپنی بیٹی سے میری خیریت معلوم کرتے ہیں ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہیں جی خوش ہوتا ہے سن کے
    بات ذرا مختصر کرتے ہیں کہ۔
    اُن بزرگوں سے بات کر کے محسوس ہوا کہ انہیں کچھ نہیں چاہیئے صرف وقت چاہئے اپنے بچوں کا جو شائد وہ دینا بھول گئے ہیں اور سمجھتے ہیں شاید وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے
    اُن پہ اس طرح کی کیفیت طاری نہیں ہو گی۔
    ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔
    بلکہ ہم سب کو اس طرح کے حالات سے گزرنا پڑے گا اگر ہمیں بھی ہمارے بچوں نے کسی فالتو چیز کی طرح پھینک دیا تو کیا ہو گا ہمارے دل پے کیا گزرے گی۔۔۔۔؟؟؟
    اور اللہ تعالیٰ کا عذاب اُن لوگوں کے لیے کتنا ہے جو والدین کی نافرمانی کرتے ہیں اُنہیں بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔
    یہ ساری کہانی میں نے اس مقصد کیلئے بالکل بھی نہیں سنائی کہ میں نا چیز کُچھ ہوں۔
    محض اس لیے آپ بیتی سنائی کہ بزرگوں کے سائے میں رہنا کس قدر سکون دیتا ہے ہماری پریشانیوں کا حل،ہماری بے چینیوں کا حل بزرگوں کے پاس ہے ۔
    اُن بزرگوں کے لیے نہ صحیح ہمیں اپنے لیے ہی سہی لیکن بزرگوں کی محفل میں ضرور بیٹھنا چائیے۔
    زندگی گزارنے کے بہترین اصول ہمیں سیکھنے کو ملتے ہیں جو شائد بڑی بڑی کتابوں میں بھی ہمیں نہ ملیں۔۔۔
    یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اتنا سا ہے کہ ہم صرف خود کے لیے نہ جیئیں معاشرے کے لئے جئیں دوسروں کے لیے بھی کُچھ کریں۔
    یہ ہی معاشرے کی خوبصورتی ہے اور اسی طرح باہمی میل جول سے معاشرتی حسن پیدا ہوتا ہے اور یہ ہی ہماری اسلامی تعلیمات ہیں۔
    تو پھر کیوں نہ آج ہی سے عہد کریں کہ ہم بھی معاشرے کے عظیم انسان بنیں گے، ہم میں بھی انسانیت جاگ جائے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔

    یہ ہی ذوقِ عبادت کی انتہا

    کہ غم کے ماروں کا احترام کرو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت
    بقلم: ساجدہ بٹ
    (جہد مسلسل)

  • تحریک انصاف کا کرپشن کے بعد مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن –از… فردوس جمال

    تحریک انصاف کا کرپشن کے بعد مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن –از… فردوس جمال

    مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کہنے کو تو سیاسی جماعتیں ہیں لیکن ہر دو کا کرپشن کے علاوہ جرم کی دنیا سے بھی بہت گہرا تعلق رہا ہے.

    پچھلے چالیس سالوں میں ہر دو کی ناک کے نیچے ان کی آشیر باد سے مختلف مافیاز متحرک رہے ہیں پاکستان کے انڈر ورلڈ سے دونوں کے دیرینہ رشتے ہیں.

    تحریک انصاف حکومت نے جہاں ان دو پارٹیوں کی کرپشن کے خلاف احتساب شروع کر رکھا ہے وہی پہلی بار ان مافیاز پر بھی ہاتھ ڈالا جا رہا ہے جن کا ان دو پارٹیوں سے ناجائز تعلق ہے،ملک ریاض اور آصف زرداری کا دوست مشہور ڈان تاجی کھوکھر اس کی تازہ مثالیں ہیں.

    صرف پنجاب میں درجنوں ایسے بدمعاش گروہ ہیں جو قتل و غارت،گینگ وار اور ڈکیتیوں جیسی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان پر مسلم لیگ ن کا دست شفقت رہا ہے.

    ٹیپو ٹرکاں والا،طیفی بٹ،شاہیا ملاں مظفر گروپ شاہد میو گروپ،صفدر ٹینٹاں والا،نوری نت،بھیلا بٹ،زاہد گروپ،عارف بھنڈر گروپ،استو نمبردار گروپ،ملک نثار گروپ،کالو شاہ پوریا گروپ،عارف حویلیاں والا،وغیرہ

    یہ جرم کی دنیا کے وہ نام اور کردار ہیں جن کی گینگ وار میں پچھلے چالیس سال میں 1000 سے زائد افراد موت کے
    منہ میں چلے گئے ہیں.

    انڈر ورلڈ کے ان گروہوں کے پنجاب و سندھ کے مختلف علاقوں میں بقاعدہ اڈے ہیں جہاں مورچے بنے ہیں ان مورچوں پر ہیوی ہتھیاروں کے ساتھ ان کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں،آج تک پولیس وہاں نہیں گئی اس لئے کہ ان گروہوں کو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل تھی.
    تحریر!
    بقلم فردوس جمال!!!

  • مستقبل کے معماروں کو بیماربنانےکا ایجنڈہ–از–انشال راؤ

    تعلیم و تعلم، معلم و طالب کی اہمیت، فضیلت و عظمت جس انداز میں اسلامی تہذیب میں پائی جاتی ہے اس نظیر نہیں ملتی، تعلیم و تربیت اور درس و تدریس اس کا جزولاینفک ہے، پہلا لفظ جو آقا محمدؐ کے قلب مبارک پر نازل فرمایا گیا وہ اقرا ہے یعنی پڑھ، جس سے علم و قلم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر افسوس کہ ہمارے ہاں حصول علم کے اصولوں سے ماورا اقدامات اپنائے جانے کا رواج ہے نہ درس و تدریس کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے نہ ہی اپنی ذمہ داری کا احساس ہے

    اگر ہمارے معاشرے کا سطحی جائزہ لیا جائے تو وائٹ کالر طبقے نے اپنے مفادات کی خاطر علم جیسے عظیم شعبے کو بھی نہ بخشا اور اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھادیا، کسی بھی قوم تربیت و ترقی اسی شعبے سے وابستہ ہے لیکن جو کھیلواڑ پاکستان میں تعلیم و تعلم کیساتھ کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ "طلبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں” لیکن ہمارے وائٹ کالر طبقے کے مفادات کی نذر ہوکر ہم نے طلبہ کو قوم کے مستقبل کے بیمار بنتے دیکھا اور دیکھ رہے ہیں

    اگر کسی چیز نے سب سے زیادہ قوم کے مستقبل کے معماروں کو نقصان پہنچایا تو وہ سیاست و یونینزم Unionism نے پہنچایا، ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں سیاست کا اکھاڑہ بن کر رہ گئی تھیں جہاں سے قوم کے مستقبل کے معمار کم اور سیاسی پارٹیوں کے کارٹون زیادہ نکلنے لگے، طلبہ یونینز کی منفی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوے ریاست کی طرف سے مجبوراً ان پر پابندی کے اقدامات اٹھانے پڑے جس کے بعد سے تعلیمی اداروں میں تعلیمی زندگی بحال ہوتی جارہی ہیں جو زبردستی کے لیڈروں و دانشوروں سے ہضم نہیں ہورہی اور آجکل آسمان سر پہ اٹھایا ہوا ہے کہ طلبہ یونینز کو بحال کرو،

    اس ضمن میں اچانک سے ملک کے کچھ شہروں میں ڈسکو ٹائپ ریلیاں برآمد ہوئیں جو حلیے سے طلبہ تو بالکل نہیں لگ رہے تھے ان کی حرکتوں سے یہ لوگ طلبہ کم ڈسکو زیادہ لگ رہے تھے اور دلچسپ ترین بات یہ کہ کچھ زبردستی کے دانشور، سیاسی و سماجی رہنما بھی انکے ہم آواز نظر آئے، گردان کی جارہی ہے کہ طلبہ یونین بحال کرو بطور دلیل پیش کی جارہی ہے کہ طلبہ یونین نے ملک کو نظریاتی سیاست اور حقیقی قیادت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

    یہاں تک مبالغہ آرائی کی جارہی ہے کہ ملک کو درخشندہ ستارے فراہم کیے جوکہ انتہائی سفید جھوٹ اور تاریخ کی سب سے بڑی ڈھٹائی ہے اگر اس دعوے کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ ملکی صورتحال ہی کافی ہے کہ کوئی ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جس پر قوم فخر کرسکتی ہے، طلبہ یونین کی بحالی کے حامی کم از کم ایک فرد کو پیش کردیں کہ اس سے قوم کو فائدہ پہنچا ہو، قوم کا تو یہ عالم ہے کہ لیڈر کا نام سنتے ہی کانپ اٹھتی ہے،

    طلبہ یونین کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو اس کے بطن سے سوائے نفرتوں، تعصب، شدت پسندی، لسانیت کے کچھ اور حاصل نہ ہوا، سندھ یونیورسٹی ماضی میں طلبہ یونین و طلبہ سیاست کا گڑھ رہی ہے جہاں کا یہ عالم تھا کہ آئے دن بائیکاٹ، بلیک میلنگ، بھاری تصادم، بھتہ خوری، کاپی کلچر، رعایتی پاس کروانا عام تھا، تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد قتل ہوچکے حتیٰ کہ اساتذہ بھی ان یونیوں کے عتاب سے بچے نہ رہے، اس کے علاوہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی مثال لے لیں انجمن طلبہ اسلام کے نام پہ کارٹونوں نے کیا نہیں کیا جب ان کی بلیک میلنگ و داداگیری کو وائس چانسلر قیصر مشتاق نے چیلنج کیا تو ان کی داداگیری کا یہ عالم تھا کہ قیصر مشتاق صاحب پر حملہ کردیا گیا جسے سیکیورٹی گارڈوں نے بمشکل بچایا،

    قائداعظم یونیورسٹی میں بلوچ پشتون، پنجابی سندھی، پنجابی بلوچ لسانیت کے نام پر تصادم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، خیبرپختونخواہ میں وہ کونسا دن تھا جو تعلیمی اداروں میں امن سے گزرتا ہو، کراچی کا ذکر توکسی تعرف کا محتاج نہیں، میں خود طلبہ ونگز ویونینوں کی انتہائی منفی سرگرمیوں کا عینی شاہد ہوں جن میں بھتہ خوری، ریپ کلچر، نپوٹزم، لسانیت، جھگڑے فساد، نفرتیں و تعلیمی تباہی سرفہرست ہیں،

    مختلف یونیورسٹیز میں ہاسٹلوں پہ ان یونینوں کے قبضے اور اس کا منفی استعمال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، ان یونینوں پہ پابندی کے بعد سے یونیورسٹیاں و دیگر تعلیمی ادارے آہستہ آہستہ تعلیمی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہیں تو اچانک سے طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ نوجوان نسل کو تباہ کرنے کا منصوبہ ہی ہوسکتا ہے، تعجب کی بات ہے کہ طلبہ کو یونین کی بحالی سے کوئی دلچسپی نہیں اور پابندی سے کوئی پریشانی نہیں جبکہ پیٹ میں مروڑ صرف چند سیاسی و لسانی جماعتوں کو ہے جن کی وہ واقعی نرسری تھیں وہاں سے ان جماعتوں کو کارکن مل جاتے تھے

    جو ملک و قوم کے لیے سیاسی کارکن کم سیاسی کارٹون زیادہ ثابت ہوتے تھے طلبہ یونین پر پابندی کے باعث ان سیاسی جماعتوں کو کارکن ملنا کم ہوگئے ہیں جو ان کے لیے انتہائی پریشان کن ہے، قائد اعظم نے ڈھاکہ میں نوجوان طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’میرے نوجوان دوستو! میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار بنیں گے تو یہ آپ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی، یاد رکھیے کہ اب ایک انقلابی تبدیلی رونما ہوچکی ہے یہ ہماری اپنی حکومت ہے ہم ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے مالک ہیں لہٰذا ہمیں آزاد اقوام کے افراد کی طرح اپنے معاملات کا انتظام کرنا چاہیے اب ہم کسی بیرونی طاقت کے غلام نہیں ہیں ہم نے غلامی کی بیڑیاں کاٹ ڈالی ہیں‘‘

    بابائے قوم طلبہ کی سیاسی وابستگی کے سخت مخالف تھے اور ہم طلبہ سیاست کے نقصانات کے تجربے سے گزر بھی چکے ہیں بنگلہ دیش اسی طلبہ سیاست کا نتیجہ تھا اس کے علاوہ سندھ میں سندھو دیش علیحدگی تحریک کے لیے تعلیمی ادارے ہی نرسری بنتے آئے ہیں، الذوالفقار بھی طلبہ یونین کے بطن سے ہی اٹھی، اب جیسا کہ ملک کے تعلیمی ادارے منفی سوچ و سرگرمیوں سے پاک ہوتے جارہے ہیں تو سازشی و سماج دشمن عناصر سے یہ بات کیسے برداشت ہوسکتی ہے، اور اب طلبہ کے نام پر ایک نئی سازش کو متعارف کیا جارہا ہے

    لہذا اب ماضی کے تجربات اور حقیقت کے مطابق بجائے طلبہ یونین بحالی کے حکومت و دانشوروں کو طلبہ کے لیے بہتر سہولیات، مواقع اور آسانیاں مہیا کرنی چاہئیں، طلبہ کو سیاست کی نذر کرنے کی بجائے اساتذہ و تعلیمی اداروں میں ایسا نظام متعارف کیا جائے جس سے طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ہو جیسا کہ امام غزالیؒ طلبہ کے اخلاق و کردار کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ "طلبہ کو چاہئے کہ وہ بُرے اخلاق و عادات سے احتراز کریں، تعلقات مختصر رکھیں، گھر سے دور رہیں تاکہ حصول علم کے مواقع زیادہ ملیں، غرور و تکبر سے بچیں، اساتذہ کے ساتھ حاکمانہ برتاؤ نہ کریں، بلکہ اساتذہ کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح ڈال دیں، جس طرح کے مریض اپنے آپ کو ڈاکٹر کے حوالہ کر دیتا ہے” تب ہی ہم دیگر اقوام کی طرح ترقی و خوشحالی کو یقینی بناسکتے ہیں

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: مستقبل کے معماروں کو بیمار بنانے کا ایجنڈہ

  • نکاح اور عہد وفا ! تحریر: غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بنایا اور اس کو اپنے بندوں سے سجایا بندوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے پیغمبر اور رسول بیجھے تاکہ ان کے بتلائے ہوئے طریقے پر چل کر عام انسان زندگی بسر کر سکیں روزی روٹی حاصل کرسکیں اور دیگر امور زندگی گزار سکیں
    یوں تو سارا سال ہی نکاح اور شادیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر نومبر سے جنوری تک ملک پاکستان میں شادیوں کا خاص سیزن ہوتا ہے
    نکاح ایک مقدس فریضہ ہے اور تمام انبیاء کرام کی بھی سنت ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ نکاح میری سنت ہے
    یعنی یہ ایک فرض عین ہے نکاح کیلئے ہم نے طرح طرح کی شرطیں اور رسمیں خود سے بنا ڈالیں ہیں کہ جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس خوشی کے موقع پر دوستوں رشتے داروں کو اکھٹا کیا جاتا ہے لڑکے والے بارات کیساتھ لڑکی کے گھر جاتے ہیں جنہیں کھانا لڑکی والے اپنی خوشی سے کھلاتے ہیں جبکہ لڑکے والے بعد میں ولیمہ پر دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں مگر اس عظیم خوشی اور پاکیزہ عمل پر بھی ہم عہد شکنی کرنے سے باز نہیں آتے اکثر اوقات اس موقع پر ہم کھانے میں اور بارات کے مقرر کردہ وقت میں عہد شکنی کرتے ہیں حالانکہ شادی کارڈ پر لکھواتے ہیں کہ ،پابندی وقت کو ملحوظ خاطر رکھیں مگر اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مترادف ہم بارات کے مقرر کردہ ٹائم پر بارات نہیں لیجاتے جس کی بدولت ساتھ جانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو کھانے میں دیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا تقریبا ایک رواج بن چکا ہے خاص کر ہمارے گاؤں دیہات میں جہاں میرج ہال نہیں ہوتے وہاں ایسا زیادہ ہوتا ہے چونکہ شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اور ایک دن میں ایک میرج ہال کو دو سے تین تک شادیوں کا آرڈر ملا ہوتا ہے تو اسی لئے میرج ہال والے وقت کی پابندی لازمی کرواتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چائیے کہ ایک ایسا عمل کہ جس کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اگر اس کی شروعات میں ہی ہم فضول رسم و رواج کرنے کیساتھ لوگوں کو گھنٹوں بھوکا رکھ کر عہد شکنی کرینگے تو اس نکاح میں برکت کیسے ہوگی کیونکہ صحیح بخاری میں نبی رحمت کی حدیث ہے کہ جس میں تین باتیں پائی جائیں وہ منافق ہے
    1 جب بات کرے تو جھوٹ بولے
    2 وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے
    3 اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں سے خیانت کرے
    تو آپ خود سوچیں جب شادی کارڈ والے سے بات کرکے خود ہم نے نکاح و ولیمہ کا ٹائم مقرر کرکے لکھوایا پھر جب ہم نے ہی ٹائم کی پابندی نا کی تو گویا ہم جھوٹ بولا اور اسی طرح عہد شکنی بھی کی
    جہاں پابندی وقت کی عہد شکنی شادی والے گھر سے شروع ہوتی ہے وہاں شادی میں شرکت کرنے والے بھی لیٹ پہنچ کر اس عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں لہذہ اس مقدس فرض میں فضول رسم و رواج کی عہد شکنی کیجئے اور پابندی وقت کے عہد کو بھی پورا کریں تاکہ ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے سکیں اور زندہ قومیں اپنے اسلاف کی بتائی گئی باتوں سے عہد شکنی نہیں کرتیں

  • ماحولیاتی آلودگی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار۔ پاکستانی تاریخ کا پہلا مقدمہ

    مقدمہ کے حقائق
    نام مقدمہ-شہلا ضیاء بنام واپڈا ( پی ایل ڈی 1994سپریم کورٹ 693)
    سال 1992 میں اسلام آباد کے چار رہائشیوں نےٖ، ایف 6/1 اسلام آباد کے رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا-اس ضمن میں ایک شکایتی خط 15 اگست 1992 کو چیئرمین واپڈا کے نام ارسال کیا گیا جس میں رہائشیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں نصب کی جائیں گی اور برقی مقناطیسی فیلڈ کی موجودگی علاقے کے رہائشیوں خاص طور پر بچوں ، کمزوروں اور دھوبی گھاٹ خاندانوں کے لئے ایک سنگین خطرہ ثابت ھوگی- مزید یہ کہ بجلی کی تنصیبات اور ٹرانسمیشن لائنیوں کا وجود گرین بیلٹ کے لیئے نقصان دہ ھونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مظر صحت ھے-
    شہریوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسی بھی رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر اسلام آباد میں نافذالعمل منصوبہ بندی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ھے جہاں گرین بیلٹس کو ماحولیاتی اور جمالیاتی وجوہات کی بناء پر شہر کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے جولائی 1991 سے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کی بابت مختلف احتجاجی کوششوں کا بھی حوالہ دیا اور واضع کیا کہ اس ضمن میں کوئی قابل اطمینان اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ خط ایل یو سی این کے ڈاکٹر طارق بنوری نے انسانی حقوق کے معاملے کے طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کو قانونی جائزہ لینے کے لئے بھیجا جس میں دو سوالات اٹھائے گئے –
    اول یہ کہ کیا کسی سرکاری ایجنسی کو یہ حق حاصل ھے کہ وہ اپنے اقدامات سے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالے ؟ اور
    دوم یہ کہ کیا حلقہ بندی کے قوانین میں شہریوں کودیئے گئے حقوق شہریوں کی رضامندی کے بغیر واپس لیے جا سکتے یا ان قوانین میں ردوبدل کیا جاسکتا ھے ؟
    اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں شہریوں کی زندگی اور صحت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا جاسکتا تھا جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیا گیا- جواب دہندگان نے موقف اختیار کیا کہ ریکارڈ کے مطابق گرڈ اسٹیشن کی مجوزہ جگہ کو گرین ایریا کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے- جواب دہندگان نے مزید استفسار کیا کہ مجوزہ جگہ قریب واقع مکانات سے تقریبا چھ سے دس فٹ کی ڈپریشن میں ہےاور علاقے میں رہائش گاہوں سے کم از کم 40 فٹ دور شروع ہوتی ہے لہذا گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے رہائشیوں کے لیئے قدرتی منا ظر متاثر نہ ھوں گے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اخذ کرنا بلکل بےبنیاد ھے کہ ٹرانسمیشن لائینوں اور گرڈ اسٹیشن سے 132 K.V. کی ہائی ولٹیج پیداوار کسی طرح بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جواب دھندگان نے استفسار کیا کہ اسی طرح کے 132 کے وی گرڈ اسٹیشن گنجان آباد علاقے راولپنڈی ، لاہور ، ملتان اور فیصل آباد میں قائم کیے گئے ہیں ، لیکن صحت کی خرابی کی بابت کوئی اطلاع موصول نہیں ھوئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان گرڈ اسٹیشنوں میں کام کرنے والے اور گرڈ اسٹیشنوں کے احاطے میں رہائش پذیر لوگوں سے ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ یہ کہ تنصیبات کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید کہا گیا کہ انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگیوں پر 5000 کے وی سے زیادہ وولٹیج کی اضافی ہائی وولٹیج لائنوں کے برقی مقناطیسی اثرات ترقی یافتہ ممالک میں زیرِ مطالعہ ہیں ، لیکن اس طرح کے مطالعے کے نتائج کی اطلاعات متنازعہ ہیں۔
    مقدمہ کا فیصلہ
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاءفریقین مقدمہ کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اُنھیں الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ یا کسی بھی گرڈ اسٹیشن ، فیکٹری ، بجلی گھر یا دیگر ایسی تنصیبات و تعمیرات سے پیدا ہونے والے خطروں سے بچایا جائے۔
    آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کو ذیر غور لائے جہاں شہریوں کی ایک کثیر تعداد کی زندگی و صحت کے متاثر ہونے کا احتمال ہو ۔ مذید یہ کہ کیس میں اُٹھائے جانے والے مسئلے میں شہریوں کی فلاح و بہبود شامل ہے کیونکہ ملک بھر میں "ہائی ٹینشن لائینوں” کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہ کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ طرزِ زندگی ، صنعت و تجارت اور روزمرہ معاملات زندگی میں توانائی کا کردار لازم وملزوم ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کا انحصار ذیادہ توانائی کی پیدوار و تقسیم پر منحصر ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشی ترقی اور خوشحالی کے مابین توازن برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیئے ایک پائیدار ترقی کی پالیسی اپنائی جائے۔ کوئی بھی ایسی پالیسی بنانے کے لیئے واپڈا کو اپنے گرڈاسٹیشن سے متعلقہ منصوبہ بندی و طریقہ کار کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور امریکہ کی طرز پر ایسے طریقوں کو اپنانا چاہیے جن کے ذریعے تناﺅ کی اعلیٰ تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ واپڈا کو حکم دیا گیا کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب کے لیئے سائنسی نقطہ نظر اپنانا چاہیے اور سائنسی و تکنیکی معاونین کی مدد لینی چاہے۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے فریقین کی باہمی رضا مندی سے NESPAK کو بطور کمشنر مقرر کیا تا کہ وہ سائینسی وتکنیکی بنیادوں پر گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب سے متعلق واپڈا کے منصوبے کی جانچ پڑتال کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی تمام ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کی پیداور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں توانائی کی پیدا وار کی ضرورت باقی ممالک کی نسبت زیادہ ہے ۔ لیکن معاشی ترقی کی جستجو میں ایسے اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے جو انسانی زندگی کے لیئے مہلک ہوں اورماحول کو آلودہ اور تباہ کردیں۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضع کیا کہ واپڈا نے وزارت پانی و بجلی کی مشاورت سے بجلی کی تقسیم کے لیئے گرڈاسٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہےلیکن اس منصوبے کو تشکیل دینے کے دوران نہ ہی شہریوں کو سماعت کا کوئی موقع دیا گیا اور نہ ہی علاقے کے رہائشیوں کا موقف سنا گیا ہے۔ واپڈا نے یہ منصوبہ یکطرفہ طور پر تیار کیا ہےجبکہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے شہریوں اور علاقے کے رہائیشیوں کی زندگی و صحت متاثر ہونے کا شدید احتمال ہے۔ سپریم کورٹ نے بتایا کہ امریکہ میں ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے پبلک سروس کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے اور عوامی رائے واعتراضات کو سننے کے بعد ایسے منصوبوں کی منظوری دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں کوئی بھی ایسا طریقہ کار نہیں اختیار کیاگیا ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں بہت سے گرڈ اسٹیشنوں و بجلی کی ترسیل کے لیئے لائینوں کی تنصیب کی ضرورت ہے لہذا حکومت پاکستان کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر پہنچانے جانے والے سائینسدانوں و دیگر ممبران پر مشتمل ایک اتھارٹی یا کمیشن تشکیل دے جو کسی بھی گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق منصوبے کی منظوری دے اور پہلے سے قائم شدہ گرڈ اسٹیشنوں اور بجلی کی ترسیل کی لائینوں کا انسانی زندگی و ماحول پر اثرات کا مطالعہ کرے۔ اگر حکومتِ پاکستان وقت پر ایسے اقدامات اُٹھائے تو مستقبل میں بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
    واپڈا نے بحث کے دوران یہ اعتراض اُٹھایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو آرٹیکل 184 کے تحت یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ کسی بھی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کوئی بھی فیصلہ دے کیونکہ گرڈ اسٹیشن سے متعلق منصوبہ باقائدہ مطالعہ کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اور گرڈ اسٹیشن و ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کے انسانی صحت و زندگی پر اثرات کو پرکھا گیا ہے اور یہ کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے واپڈا کے اعتراض کو رد کرتے ہوئے یہ تجزیہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت کسی بھی فرد کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ماسوائے اس کے کہ قانون اس کی اجازت دے۔ لفظ زندگی انسانی وجود کے تمام حقائق کا احاطہ کرتا ہے۔ لفظ زندگی کی تعریف آئین پاکستان میں نہیں دی گئی لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس کی تعریف کو پودوں یا جانوروں کی زندگی یا انسانی زندگی کا پیدائش سے موت تک کےعمل تک محدود کر دیا جائے۔ زندگی میں ایسی تمام تر آسائشیں و سہولیات شامل ہیں جن سے ایک آزاد ملک میں بسنےوالا شہری باعزت طریقے سے قانونی و اآئینی طور پر لطف اندوز ہو سکے۔
    مضمون نگار سیدہ صائمہ شبیر سینئر ریسرچ آفیسر سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں
    syeda_saima@yahoo.com

  • بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    شادی فقط معاہدہ یا وقتی تعلق نہیں ہوتا کہ بنا سوچے سمجھے اور اس کے جملہ مضمرات پر غور وفکر کیے بغیر فیصلہ کردیا جائے لیکن یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کرتے ہوئے بچوں کی پسند و ناپسند کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، ذات برادریوں، رشتہ داری کو قائم رکھنے، زمین و جائداد اور مال و دولت کے لالچ کے لیے بچوں کے رشتے کر دیے جاتے ہیں. اس میں زیادہ ایشو بیٹیوں کے ساتھ بنتا ہے کہ وہ بےچاری والدین کو فیصلے کو چیلنج کرنا تو درکنار اس پر بات بھی کریں تو بےحیا اور نافرمان کے لقب مل جاتے. لاڈ پیار سے پالی بیٹیوں کو جب بچپن اور لڑکپن میں کھلی آزادی دی جاتی ہے لیکن جب بات آتی ہے اس کی ساری زندگی گزارنے کی تو وہی جاہلیت والی سوچ اپنائی جاتی اور فیصلہ ٹھونسا جاتا جس کو بیٹیاں اپنی باپ کی چادر اور پگڑی کو داغ سے بچانے کے لیے چاروناچار قبول تو کرلیتی ہیں مگر اندر ہی اندر ختم ہوتی رہتی ہیں اور جو تھوڑی خود سر ہوں اور والدین کے لاڈ و پیار اور دی گئی آزادی کو برتنا جانتی ہوں وہ پھر چور دروازوں کو ڈھونڈتی ہیں اور وہ دروازے پھر گناہوں کی وادیوں میں کھلتے ہیں. بعینہ لڑکوں کے ساتھ بھی یہ ایشو ہوتا کہ والدین ذات برادری، جائداد اور رشتہ داری کے چکر میں ان کا رشتہ کردیتے ہیں جس پر لڑکے راضی نہیں ہوتے اگر وہ اس رشتے سے انکار کریں تو ان کو جائداد سے عاق کیے جانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس پر وہ بھی چاروناچار والدین کا فیصلہ مان تو لیتے مگر گھر سے زیادہ توجہ باہر رہتی ہے جوکہ گھروں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے اور پھر جس پھوپھی اور ماسی کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنے کے رشتہ کیا گیا تھا اسی کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور پھر ہمارے ہاں ایک نہیں دو دو تین تین گھر اجڑتے ہیں کہ وٹہ سٹہ کا سسٹم جو رائج ہوتا ہے.

    یہ صرف ہماری ذاتی ضدیں اور رسم و رواج ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسلام مرد و عورت دونوں کو اپنی پسند اور ناپسند کا حق دیتا ہے مرد کو تو اس حد تک آزادی دی کہ اس کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی بھی شرط نہیں ہے جبکہ عورت پر نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی شرط تو ہے لیکن ولی کو بیٹی یا بہن پر زبردستی کی اجازت ہرگز نہیں ہے اس پر عورت کو حق دیا جاتا ہے اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق جیون ساتھی کو چننے کا اس پر ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی مثالیں بھی ملتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس اسٹیج پر آکر نوجوان باغی ہوکر یا تو خفیہ گناہ کے راستے ڈھونڈتے ہیں یا پھر کورٹ میرج کی صورت نکاح کو ترجیح دیتے جس کو ہمارے علماء حضرات متنازع قرار دیتے ہیں.
    بہرحال یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور بڑا حساس موضوع اور ایشو ہے جو گھروں، خاندانوں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے اس میں زیادہ کردار ہمارے علماء اور والدین کا بنتا ہے کہ وہ اس کی اصلاح کریں سب سے پہلے بچوں کی تربیت اس نہج کی ہونی چاہیے کہ حلال اور حرام کی تمیز اور ان کو اختیار یا رجیکٹ کرنا آتا ہو پھر بچوں کی مستقبل کی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے ان کی رائے ضرور لیں کیوں زندگی انہوں نے گزارنی ہے …

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "زندگی تین دہائیاں قبل، جدت یا کچھ اور” تحریر: محمد حمزہ حیدر

    آج ارادہ کیا کہ تین دہائیوں پہلے کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو بیٹھا لکھنے ورنہ پہلے سستی رہی ہے ایسے کاموں میں.
    تو جی بات کچھ یوں ہے کہ "جدت” لفظ بڑا ظالم و تکلیف دہ ہے. جدت ہمارے نظریات اور روایات کا قاتل ہے. اسی جدت کے پیچھے لگ کر ہم اپنا آپ کھو چکے.
    تین دہائیوں قبل جب انسان صحیح معنوں میں انسان تھا تو زندگی بڑی پر مسرت اور شیریں ہوا کرتی تھی. لوگ ملنسار، اعلیٰ اخلاق و روایات کے مالک تھے. ہمدردی اور نیک سیرتی کی مثال آج انکی نسبت ناپید ہے. ان جیسا اخلاص، ان جیسی شفقت اور ان جیسا احساس آج شاید ہی کسی کو دکھے وگرنہ یہ ناپید ہے. لوگ چاہے شہری تھے یا دیہاتی لیکن وہ ایک مکمل اور بہترین زندگی گزارتے تھے ایکدوسرے کے دکھ سکھ اور شادی یا وفات کے وقت ان کے سانجھی ہوتے گویا انہی کے گھر کے باسی ہوں. اسی طرح رہنے کو اپنے لیے ترقی اور خوشحالی گردانتے تھے. ان میں کوئی لالچ اور ہوس نہ تھی. الغرض ایک بہترین معاشرت کی تصویر تھے.
    وقت پر لگا کر اڑا اور تیزی سے اڑتا چلا گیا، چونکہ وقت نے تو سفر کرتے رہنے ہے اور رکنا صرف اس مالک کے حکم سے ہے، لوگوں میں بدلاؤ آنا شروع ہوگیا لوگوں نے اپنا اقدار بدل لیا اور رہن سہن میں بدلاؤ آیا، لوگ سٹیٹس کی دوڑ میں شامل ہوگئے. پرانے لوگوں کے طریقوں کو تنگ نظری اور گھٹن زدہ قرار دیا. ان سے ہر ممکن کوشش کر کے جان چھڑانے لگے. ایکدوسرے سے ملنا ملانا تو دور دیکھنے کا وقت ختم ہوگیا. زندگی کے طور اطوار یکسر بدل گئے. حالات بدلے تو لوگ بدلے لوگ بدلے تو تہذیب بدلی یوں پورا معاشرہ بدل گیا.
    گزشتہ تین دہائیوں کو دیکھیں تو آج کا یہ دور مادیت پرستی اور خود پسندی کا دور لگتا ہے جہاں ہر شخص گویا میراتھن ریس میں ہو اور اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا کر ایک پرسکون روح و جسم کی بجائے ایک مشین کی مانند ہو جائے اور ایک ایسی دوڑ جس کا کوئی دوسرا سرا نہیں اس میں شامل ہو. یہ جانتے ہوئے کہ کچھ باقی نہیں بعد میں یہ کچھ میرا نہیں رہنا.
    گزشتہ دور کو جتنا پڑھا اور سنا تو اس کو ایک انمول اور مکمل پرسکون معاشرہ پایا. اب جب بھی کبھی اس پر سوچتا ہوں تو بس یہی سوچتا ہوں کہ آج میں اور اُس وقت میں صرف تین دہائیوں کا ہی تو فرق اور وقفہ ہے.
    ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
      احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات