مقدمہ کے حقائق
نام مقدمہ-شہلا ضیاء بنام واپڈا ( پی ایل ڈی 1994سپریم کورٹ 693)
سال 1992 میں اسلام آباد کے چار رہائشیوں نےٖ، ایف 6/1 اسلام آباد کے رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا-اس ضمن میں ایک شکایتی خط 15 اگست 1992 کو چیئرمین واپڈا کے نام ارسال کیا گیا جس میں رہائشیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں نصب کی جائیں گی اور برقی مقناطیسی فیلڈ کی موجودگی علاقے کے رہائشیوں خاص طور پر بچوں ، کمزوروں اور دھوبی گھاٹ خاندانوں کے لئے ایک سنگین خطرہ ثابت ھوگی- مزید یہ کہ بجلی کی تنصیبات اور ٹرانسمیشن لائنیوں کا وجود گرین بیلٹ کے لیئے نقصان دہ ھونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مظر صحت ھے-
شہریوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسی بھی رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر اسلام آباد میں نافذالعمل منصوبہ بندی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ھے جہاں گرین بیلٹس کو ماحولیاتی اور جمالیاتی وجوہات کی بناء پر شہر کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے جولائی 1991 سے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کی بابت مختلف احتجاجی کوششوں کا بھی حوالہ دیا اور واضع کیا کہ اس ضمن میں کوئی قابل اطمینان اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ خط ایل یو سی این کے ڈاکٹر طارق بنوری نے انسانی حقوق کے معاملے کے طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کو قانونی جائزہ لینے کے لئے بھیجا جس میں دو سوالات اٹھائے گئے –
اول یہ کہ کیا کسی سرکاری ایجنسی کو یہ حق حاصل ھے کہ وہ اپنے اقدامات سے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالے ؟ اور
دوم یہ کہ کیا حلقہ بندی کے قوانین میں شہریوں کودیئے گئے حقوق شہریوں کی رضامندی کے بغیر واپس لیے جا سکتے یا ان قوانین میں ردوبدل کیا جاسکتا ھے ؟
اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں شہریوں کی زندگی اور صحت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا جاسکتا تھا جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیا گیا- جواب دہندگان نے موقف اختیار کیا کہ ریکارڈ کے مطابق گرڈ اسٹیشن کی مجوزہ جگہ کو گرین ایریا کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے- جواب دہندگان نے مزید استفسار کیا کہ مجوزہ جگہ قریب واقع مکانات سے تقریبا چھ سے دس فٹ کی ڈپریشن میں ہےاور علاقے میں رہائش گاہوں سے کم از کم 40 فٹ دور شروع ہوتی ہے لہذا گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے رہائشیوں کے لیئے قدرتی منا ظر متاثر نہ ھوں گے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اخذ کرنا بلکل بےبنیاد ھے کہ ٹرانسمیشن لائینوں اور گرڈ اسٹیشن سے 132 K.V. کی ہائی ولٹیج پیداوار کسی طرح بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جواب دھندگان نے استفسار کیا کہ اسی طرح کے 132 کے وی گرڈ اسٹیشن گنجان آباد علاقے راولپنڈی ، لاہور ، ملتان اور فیصل آباد میں قائم کیے گئے ہیں ، لیکن صحت کی خرابی کی بابت کوئی اطلاع موصول نہیں ھوئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان گرڈ اسٹیشنوں میں کام کرنے والے اور گرڈ اسٹیشنوں کے احاطے میں رہائش پذیر لوگوں سے ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ یہ کہ تنصیبات کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید کہا گیا کہ انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگیوں پر 5000 کے وی سے زیادہ وولٹیج کی اضافی ہائی وولٹیج لائنوں کے برقی مقناطیسی اثرات ترقی یافتہ ممالک میں زیرِ مطالعہ ہیں ، لیکن اس طرح کے مطالعے کے نتائج کی اطلاعات متنازعہ ہیں۔
مقدمہ کا فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاءفریقین مقدمہ کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اُنھیں الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ یا کسی بھی گرڈ اسٹیشن ، فیکٹری ، بجلی گھر یا دیگر ایسی تنصیبات و تعمیرات سے پیدا ہونے والے خطروں سے بچایا جائے۔
آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کو ذیر غور لائے جہاں شہریوں کی ایک کثیر تعداد کی زندگی و صحت کے متاثر ہونے کا احتمال ہو ۔ مذید یہ کہ کیس میں اُٹھائے جانے والے مسئلے میں شہریوں کی فلاح و بہبود شامل ہے کیونکہ ملک بھر میں "ہائی ٹینشن لائینوں” کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہ کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ طرزِ زندگی ، صنعت و تجارت اور روزمرہ معاملات زندگی میں توانائی کا کردار لازم وملزوم ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کا انحصار ذیادہ توانائی کی پیدوار و تقسیم پر منحصر ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشی ترقی اور خوشحالی کے مابین توازن برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیئے ایک پائیدار ترقی کی پالیسی اپنائی جائے۔ کوئی بھی ایسی پالیسی بنانے کے لیئے واپڈا کو اپنے گرڈاسٹیشن سے متعلقہ منصوبہ بندی و طریقہ کار کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور امریکہ کی طرز پر ایسے طریقوں کو اپنانا چاہیے جن کے ذریعے تناﺅ کی اعلیٰ تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ واپڈا کو حکم دیا گیا کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب کے لیئے سائنسی نقطہ نظر اپنانا چاہیے اور سائنسی و تکنیکی معاونین کی مدد لینی چاہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے فریقین کی باہمی رضا مندی سے NESPAK کو بطور کمشنر مقرر کیا تا کہ وہ سائینسی وتکنیکی بنیادوں پر گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب سے متعلق واپڈا کے منصوبے کی جانچ پڑتال کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی تمام ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کی پیداور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں توانائی کی پیدا وار کی ضرورت باقی ممالک کی نسبت زیادہ ہے ۔ لیکن معاشی ترقی کی جستجو میں ایسے اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے جو انسانی زندگی کے لیئے مہلک ہوں اورماحول کو آلودہ اور تباہ کردیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضع کیا کہ واپڈا نے وزارت پانی و بجلی کی مشاورت سے بجلی کی تقسیم کے لیئے گرڈاسٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہےلیکن اس منصوبے کو تشکیل دینے کے دوران نہ ہی شہریوں کو سماعت کا کوئی موقع دیا گیا اور نہ ہی علاقے کے رہائشیوں کا موقف سنا گیا ہے۔ واپڈا نے یہ منصوبہ یکطرفہ طور پر تیار کیا ہےجبکہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے شہریوں اور علاقے کے رہائیشیوں کی زندگی و صحت متاثر ہونے کا شدید احتمال ہے۔ سپریم کورٹ نے بتایا کہ امریکہ میں ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے پبلک سروس کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے اور عوامی رائے واعتراضات کو سننے کے بعد ایسے منصوبوں کی منظوری دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں کوئی بھی ایسا طریقہ کار نہیں اختیار کیاگیا ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں بہت سے گرڈ اسٹیشنوں و بجلی کی ترسیل کے لیئے لائینوں کی تنصیب کی ضرورت ہے لہذا حکومت پاکستان کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر پہنچانے جانے والے سائینسدانوں و دیگر ممبران پر مشتمل ایک اتھارٹی یا کمیشن تشکیل دے جو کسی بھی گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق منصوبے کی منظوری دے اور پہلے سے قائم شدہ گرڈ اسٹیشنوں اور بجلی کی ترسیل کی لائینوں کا انسانی زندگی و ماحول پر اثرات کا مطالعہ کرے۔ اگر حکومتِ پاکستان وقت پر ایسے اقدامات اُٹھائے تو مستقبل میں بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
واپڈا نے بحث کے دوران یہ اعتراض اُٹھایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو آرٹیکل 184 کے تحت یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ کسی بھی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کوئی بھی فیصلہ دے کیونکہ گرڈ اسٹیشن سے متعلق منصوبہ باقائدہ مطالعہ کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اور گرڈ اسٹیشن و ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کے انسانی صحت و زندگی پر اثرات کو پرکھا گیا ہے اور یہ کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے واپڈا کے اعتراض کو رد کرتے ہوئے یہ تجزیہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت کسی بھی فرد کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ماسوائے اس کے کہ قانون اس کی اجازت دے۔ لفظ زندگی انسانی وجود کے تمام حقائق کا احاطہ کرتا ہے۔ لفظ زندگی کی تعریف آئین پاکستان میں نہیں دی گئی لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس کی تعریف کو پودوں یا جانوروں کی زندگی یا انسانی زندگی کا پیدائش سے موت تک کےعمل تک محدود کر دیا جائے۔ زندگی میں ایسی تمام تر آسائشیں و سہولیات شامل ہیں جن سے ایک آزاد ملک میں بسنےوالا شہری باعزت طریقے سے قانونی و اآئینی طور پر لطف اندوز ہو سکے۔
مضمون نگار سیدہ صائمہ شبیر سینئر ریسرچ آفیسر سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں
syeda_saima@yahoo.com
Category: معاشرہ و ثقافت
ماحولیاتی آلودگی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار۔ پاکستانی تاریخ کا پہلا مقدمہ

بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ
شادی فقط معاہدہ یا وقتی تعلق نہیں ہوتا کہ بنا سوچے سمجھے اور اس کے جملہ مضمرات پر غور وفکر کیے بغیر فیصلہ کردیا جائے لیکن یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کرتے ہوئے بچوں کی پسند و ناپسند کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، ذات برادریوں، رشتہ داری کو قائم رکھنے، زمین و جائداد اور مال و دولت کے لالچ کے لیے بچوں کے رشتے کر دیے جاتے ہیں. اس میں زیادہ ایشو بیٹیوں کے ساتھ بنتا ہے کہ وہ بےچاری والدین کو فیصلے کو چیلنج کرنا تو درکنار اس پر بات بھی کریں تو بےحیا اور نافرمان کے لقب مل جاتے. لاڈ پیار سے پالی بیٹیوں کو جب بچپن اور لڑکپن میں کھلی آزادی دی جاتی ہے لیکن جب بات آتی ہے اس کی ساری زندگی گزارنے کی تو وہی جاہلیت والی سوچ اپنائی جاتی اور فیصلہ ٹھونسا جاتا جس کو بیٹیاں اپنی باپ کی چادر اور پگڑی کو داغ سے بچانے کے لیے چاروناچار قبول تو کرلیتی ہیں مگر اندر ہی اندر ختم ہوتی رہتی ہیں اور جو تھوڑی خود سر ہوں اور والدین کے لاڈ و پیار اور دی گئی آزادی کو برتنا جانتی ہوں وہ پھر چور دروازوں کو ڈھونڈتی ہیں اور وہ دروازے پھر گناہوں کی وادیوں میں کھلتے ہیں. بعینہ لڑکوں کے ساتھ بھی یہ ایشو ہوتا کہ والدین ذات برادری، جائداد اور رشتہ داری کے چکر میں ان کا رشتہ کردیتے ہیں جس پر لڑکے راضی نہیں ہوتے اگر وہ اس رشتے سے انکار کریں تو ان کو جائداد سے عاق کیے جانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس پر وہ بھی چاروناچار والدین کا فیصلہ مان تو لیتے مگر گھر سے زیادہ توجہ باہر رہتی ہے جوکہ گھروں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے اور پھر جس پھوپھی اور ماسی کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنے کے رشتہ کیا گیا تھا اسی کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور پھر ہمارے ہاں ایک نہیں دو دو تین تین گھر اجڑتے ہیں کہ وٹہ سٹہ کا سسٹم جو رائج ہوتا ہے.
یہ صرف ہماری ذاتی ضدیں اور رسم و رواج ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسلام مرد و عورت دونوں کو اپنی پسند اور ناپسند کا حق دیتا ہے مرد کو تو اس حد تک آزادی دی کہ اس کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی بھی شرط نہیں ہے جبکہ عورت پر نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی شرط تو ہے لیکن ولی کو بیٹی یا بہن پر زبردستی کی اجازت ہرگز نہیں ہے اس پر عورت کو حق دیا جاتا ہے اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق جیون ساتھی کو چننے کا اس پر ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی مثالیں بھی ملتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس اسٹیج پر آکر نوجوان باغی ہوکر یا تو خفیہ گناہ کے راستے ڈھونڈتے ہیں یا پھر کورٹ میرج کی صورت نکاح کو ترجیح دیتے جس کو ہمارے علماء حضرات متنازع قرار دیتے ہیں.
بہرحال یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور بڑا حساس موضوع اور ایشو ہے جو گھروں، خاندانوں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے اس میں زیادہ کردار ہمارے علماء اور والدین کا بنتا ہے کہ وہ اس کی اصلاح کریں سب سے پہلے بچوں کی تربیت اس نہج کی ہونی چاہیے کہ حلال اور حرام کی تمیز اور ان کو اختیار یا رجیکٹ کرنا آتا ہو پھر بچوں کی مستقبل کی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے ان کی رائے ضرور لیں کیوں زندگی انہوں نے گزارنی ہے …
Muhammad Abdullah "زندگی تین دہائیاں قبل، جدت یا کچھ اور” تحریر: محمد حمزہ حیدر
آج ارادہ کیا کہ تین دہائیوں پہلے کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو بیٹھا لکھنے ورنہ پہلے سستی رہی ہے ایسے کاموں میں.
تو جی بات کچھ یوں ہے کہ "جدت” لفظ بڑا ظالم و تکلیف دہ ہے. جدت ہمارے نظریات اور روایات کا قاتل ہے. اسی جدت کے پیچھے لگ کر ہم اپنا آپ کھو چکے.
تین دہائیوں قبل جب انسان صحیح معنوں میں انسان تھا تو زندگی بڑی پر مسرت اور شیریں ہوا کرتی تھی. لوگ ملنسار، اعلیٰ اخلاق و روایات کے مالک تھے. ہمدردی اور نیک سیرتی کی مثال آج انکی نسبت ناپید ہے. ان جیسا اخلاص، ان جیسی شفقت اور ان جیسا احساس آج شاید ہی کسی کو دکھے وگرنہ یہ ناپید ہے. لوگ چاہے شہری تھے یا دیہاتی لیکن وہ ایک مکمل اور بہترین زندگی گزارتے تھے ایکدوسرے کے دکھ سکھ اور شادی یا وفات کے وقت ان کے سانجھی ہوتے گویا انہی کے گھر کے باسی ہوں. اسی طرح رہنے کو اپنے لیے ترقی اور خوشحالی گردانتے تھے. ان میں کوئی لالچ اور ہوس نہ تھی. الغرض ایک بہترین معاشرت کی تصویر تھے.
وقت پر لگا کر اڑا اور تیزی سے اڑتا چلا گیا، چونکہ وقت نے تو سفر کرتے رہنے ہے اور رکنا صرف اس مالک کے حکم سے ہے، لوگوں میں بدلاؤ آنا شروع ہوگیا لوگوں نے اپنا اقدار بدل لیا اور رہن سہن میں بدلاؤ آیا، لوگ سٹیٹس کی دوڑ میں شامل ہوگئے. پرانے لوگوں کے طریقوں کو تنگ نظری اور گھٹن زدہ قرار دیا. ان سے ہر ممکن کوشش کر کے جان چھڑانے لگے. ایکدوسرے سے ملنا ملانا تو دور دیکھنے کا وقت ختم ہوگیا. زندگی کے طور اطوار یکسر بدل گئے. حالات بدلے تو لوگ بدلے لوگ بدلے تو تہذیب بدلی یوں پورا معاشرہ بدل گیا.
گزشتہ تین دہائیوں کو دیکھیں تو آج کا یہ دور مادیت پرستی اور خود پسندی کا دور لگتا ہے جہاں ہر شخص گویا میراتھن ریس میں ہو اور اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا کر ایک پرسکون روح و جسم کی بجائے ایک مشین کی مانند ہو جائے اور ایک ایسی دوڑ جس کا کوئی دوسرا سرا نہیں اس میں شامل ہو. یہ جانتے ہوئے کہ کچھ باقی نہیں بعد میں یہ کچھ میرا نہیں رہنا.
گزشتہ دور کو جتنا پڑھا اور سنا تو اس کو ایک انمول اور مکمل پرسکون معاشرہ پایا. اب جب بھی کبھی اس پر سوچتا ہوں تو بس یہی سوچتا ہوں کہ آج میں اور اُس وقت میں صرف تین دہائیوں کا ہی تو فرق اور وقفہ ہے.
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتدور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات…از…, بنت طاہر قریشی
دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات
علماءکرام امت مسلمہ کے لئے اللہ رب العزت کا نہایت ہی عظیم انعام ہیں۔
ہر دور میں یہی رجال عظیم تھے جنہوں نے امت مسلمہ کی راہنمائی اور انکو راہ راست پر رکھنے کا مقدس فریضہ انجام دیا اور اب اس دور پر فتن اور پرآشوب میں بھی تمام مخالفتوں، تمام دشنام طرازیوں اور باطل فرقوں کی مسلسل سازشوں کے باوجود بھی اپنے اس مقدس فریضے کی انجام دہی میں صرف رضائے الہی کے خاطر ہمہ تن مشغول ہیں۔
حضورﷺ کے بعد دین کی ترویج اور دین اسلام کے تمام احکامات کو اصل حالت میں برقرار رکھنے اور اس امانت کو ہم تک بالکل صحیح صحیح پہنچانے کا سبب بھی یہی علمائے کرام ہیں۔
تصور تو کیجئے ۔۔۔!
اگر ہمارے علمائے کرام بھی بنی اسرائیل کے اکثر علماءکی طرح دولت کے لالچ میں گرفتار ہوجاتے اور اللہ رب العزت کے صریح احکامات میں اپنی من پسند تحریفات کرتے تو کیا آج ہمارے پاس اتنا کامل اور مکمل دین ہوتا؟ یقینا آپکا جواب “نہیں”ہوگا اور ہونا بھی چاہئیے۔
امت محمدیہ ﷺ پر اس امت کے علماء حق کا احسان عظیم ہے کہ انہوں نے اپنی گردنیں تو کٹادیں، قیدوبند کی صعوبتیں تو برداشت کرلیں مگر دین اسلام کے کسی صریح حکم میں کوئی تبدیلی یا تحریف نہ ہونے دی۔
امام احمد بن حنبل ؒ کی مثال لیجئے “عقیدہ خلق قرآن” جیسے کتنے بڑے اور عظیم فتنے کے سامنے تن تنہا سینہ سپر ہوگئے، اذیت ناک قید کاٹی، سرعام کوڑے لگائے جاتے، کمر سے خون کے فوارے جاری ہوجاتے، مگر حق سے ایک انچ سرکنے پر آمادہ نہ ہوئے آپکی اسی لازوال قربانی کی وجہ سے امت مسلمہ ایک عظیم فتنے سے محفوظ ہوئی۔
زیادہ دور نہ جائیں، وطن عزیز کے علمائے کرام کی ہی مثال لیجئے، تخم برطانیہ کے ناجائز خودکاشت پودے ” قادیانیوں”نے وطن عزیز میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنی چاہی، بڑی ہی مکاری اور چالاکی سے خود کو مسلمان ثابت کرنا چاہا مگر علمائے کرام نے انکے مذموم اور ناپاک عزائم کو کامیاب نا ہونے دیا، ملک گیر تحریکیں چلائی گئیں، قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو پارلیمنٹ میں ہونے والے مناظرے میں عبرتناک شکست دی اور بالآخر کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد قادیانیوں کو نا صرف غیر مسلم قرار دلوایا بلکہ پاکستان میں انکی تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگاکر انکی اہم عہدوں اور اداروں میں تعیناتی ختم کردی گئی۔
اگر اس وقت علماء کرام یہ عظیم کام سرانجام نہ دیتے تو میں حلفیہ کہتی ہوں کہ میرا پاکستان آج ان ناپاک قادیانیوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہوتا۔
تو میرے عزیزو! علماء کی قدر کیجیے، ان کو طنزو تشنیع کا نشانہ نہ بنائیے، اپنے دل سے علماء کرام کا بغض ختم کیجئے۔
اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے:
“جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی اور بازاروں کی عمارتوں کو بلند اور غالب کرنے لگے گی تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان پر چار قسم کے عذاب مسلط فرمادیں گے۔
①قحط سالی ہوگی
②حاکم وقت کی طرف سے مظالم ہوں گے۔
③حکام خیانت کرنے لگیں گے۔
④دشمنوں کے پےدرپے حملے ہوں گے (حاکم) “
غور کیجئے ان میں کونسا ایسا عذاب ہے جو آج امت مسلمہ پر مسلط نہیں ہے؟
لیکن اسکے باوجود ہم اُن افعال پر تائب نہیں ہورہے، جو ان عذابات کا موجب ہیں۔
ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے:
“جس نے کسی عالم کو ایذاء دی اس نے اللہ کے نبیﷺ کو ایذاء دی”
اسلئے خدارا!
علماء سے نفرت و عداوت ختم کیجئے، ان سے عقیدت و محبت کا تعلق استوار کیجئے، یہ محبت اور تعلق دنیا میں تو سود مند ہوگا ہی، ان شاءاللہ آخرت میں بھی “ألمرء مع أحب”کے مصداق علماء کرام کی ہم نشینی کے شرف عظیم کے حصول کا باعث بن جائے گا۔
از قلم:
عائشہ طاہرریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید
ریڑھ کی ہڈی
باد سحر کے ٹھنڈے جھونکے اس کے دل میں مرجھائے سکون کے گلوں کو تازہ دم کرنے کی سعی میں تھے۔۔۔
مگر حیدر کے دل پہ چھائی بے چینی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔
"کیا! میری بات اثر کرے گی یا وہ ویسا ہی رہے گا۔۔۔اگر وہ نہ سمجھا تو” پریشانی و اداسی نے اس کے وجود پہ مکمل طور پہ قبضہ جما لیا تھا۔۔
چند دن پہلے سوچ کے جو پنچھی خیالات کی شاخوں پہ اٹکھیلیاں کررہے تھے اب سہمے بیٹھے تھے۔۔۔
"خیال” اسے اپنے ساتھ پھر اسی جگہ لے گیا جہاں سے بے چینی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔
صفوان سے حیدر کی ملاقات کل یونیورسٹی سے واپس آتے ہوئے بس میں ہوئی تھی۔۔
حیدر کے ساتھ بیٹھتے ہی اس نے ایسے سلام کیا جیسے وہ بہت عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔۔۔
حیدر نے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے ایک سرسری سی نظر اس کے چہرے پہ ڈالی جہاں اطمینان کے بادل سایہ فگن تھے وہ اپنی توجہ ہٹانا چاہتا تھا پر نظریں اس کے چہرے پہ رک گئیں۔۔
صفوان بیگ جھولی میں رکھ کہ اب موبائل پہ مشغول ہوگیا تھا۔۔۔
اس کی انگلیاں بڑی تیزی سے موبائل کی پیڈ پہ رقص کناں تھیں اور چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ پھیل رہی تھی۔۔۔
"کیا کرتے ہیں آپ!” صفوان نے ایک نظر حیدر پہ ڈالتے ہوئے پوچھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"میں ماسٹرز کررہا ہوں” واااہ پھر تو ہم دونوں کی ایک ہی منزل ہے صفوان نے کہا اور پھر موبائل کی طرف متوجہ ہوگیاا۔۔۔
کافی دیر دیکھنے کے بعد حیدر نے حیرت سے اسے پوچھا "کیا لکھ رہے ہیں آپ؟”
"میں تحریر لکھ رہا ہوں” صفوان نے جواب دیا۔۔
اچھا تو آپ ماشاءاللہ لکھاری ہیں۔۔
جی میں سوشل میڈیا کی دنیا کا ایک اچھا لکھاری ہوں۔۔
"واااااہ کیا ہم آپ کی تحریر سے مستفید ہوسکتے ہیں”۔
"جی کیوں نہیں! صفوان نے اپنا موبائل حیدر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
"آپ واقعی ہی اچھے قلمکار ہیں اور خوب لکھتے ہیں پر مجھے آپکی یہ تحریر پسند نہیں آئی” حیدر نے کچھ دیر پڑھنے کے بعد کہا۔۔
صفوان کے چہرے سے اطمینان اچانک سے غائب ہوگیا۔۔
اچھا تو اپ کو اس میں کیا کمی لگی۔
"چلیں بتائیں تو میری تحریر کی کون سی بات آپکو پسند نہیں آئی”۔۔
صفوان نے بڑے تحمل سے پوچھا۔۔
بھائی اصل میں بات یہ ہے کہ جو ہمارے محافظ ہیں ہمیں ان کا پشت بان بننا چاہیے نا کہ کسی کی باتوں میں آکہ ان کی پشت میں چھرا گھوپنا چاہیے۔۔
حیدر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
"میں آپ کی بات سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں”۔۔
آپ کی تحریر میں بجائے دشمن عناصر کو نشانہ بنانے کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔۔
صفوان نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تو پھر اس میں کوئی جھوٹ تو نہیں ہے اور تخلیق کار سچ ہی لکھتا ہے اور اسے لکھنے میں بالکل نہیں گھبراتا۔۔
تو آپ سچ لکھیں نا لوگوں کی باتوں میں آ کہ اپنے قلم و قرطاس کو بے مقصد نہ بنائیں۔۔
حیدر کی باتوں سے اس کے ماتھے پہ سلوٹیں ابھر آئی تھیں” تو آپ کہنا کیا چاہتے ہیں”
"گرمیوں کی تپتی دوپہر اور سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں سرحد پہ کھڑا محافظ ہمہ تن ہماری حفاظت پہ مامور ہے اور ہم انہی کے ہی دشمن بنے ہوئے ہیں آپ ایک اچھے تخلیق کار ہیں اور تب تک ہی اچھے ہیں جب آپ اچھائی اور بُرائی کی تمیز کرتے ہوئے لکھیں گے”
حیدر کی باتیں اس کے دل میں کچھ روشنی پھیلا رہی تھی۔۔
"آپ اپنے قلم کا سہی استعمال کریں”
حیدر نے چہرے پہ مسکان سجائے اسے بڑے پیار سے کہا۔۔
صفوان ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی اس نے فون کان کے ساتھ لگایا اور حیدر کو کچھ اشارہ کرنے لگا حیدر نے اسے اپنا موبائل تھمایا جس پہ اس نے نمبر لکھا اور حیدر کو واپس پکڑا دیا۔۔۔
صفوان اب اترنے کی تیاری کر رہا تھا شاید اس کا سٹاپ آگیا تھا حیدر کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔۔
حیدر کی نظریں اسی کے پیچھے تھی اور دیکھتے دیکھتے وہ منظر سے غائب ہوگیا۔۔
حیدر نے موبائل پہ لکھا ہوا نمبر سیو کیا اور اسے میسج کردیا "آپ کے جواب کا انتظار رہے گا”۔۔
گھر پہنچنے کے بعد بھی وہ اس کے رپلائی کا انتظار کرتا رہا پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔۔
وہ اب بھی صبح سے صحن میں بیٹھے بے چینی کا شکار تھا کہ اچانک موبائل کی ٹیون بجی اس نے جیسے ہی دیکھا ساری کی ساری بے چینی کافور ہوگئی اس کے خیالات کے سہمے پنچھی پھر سے اٹکھیلیاں کرنے لگے۔۔۔۔
اسے پڑھ کہ خوشی ہوئی کہ ایک قلمکار کی اصلاح ہوئی۔۔
"میں ریڑھ کی ہڈی بنوں گا نہ کہ کسی کے ہاتھوں کا کھلونا”ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید
آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد
آج کا انسان
آج جب زندگی تیز ہو چکی ہے اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت نہیں رہا تو مجھے اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے
ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتبچپن میں صرف فیکٹری کی مشینوں اور آلات کا تصور تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر یہ بات عیاں ہوئی کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز جیساکہ موبائل فون کا تعلق بھی ایسے ہی آلات سے ہے جو انسان کو ایک دوسرے سے دور لے جا رہے ہیں آج اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو ہم محض چند لمحات کے لیے ظاہری طور پر سوگوار نظر آتے ہیں اور بعد میں پھر وہی زندگی کے اشغال میں مصروف، ایسا کیوں ہے؟
اگر ہم کسی کے جنازے میں جاتے ہیں تو وہ بھی صرف اظہار تعزیت کے لیے لئے نہ کہ خوشنودی رب کے لیے؟ آج ہم لوگ ایک دوسرے سے دور کیوں ہو رہے ہیں ؟ حالانکہ اسلامی معاشرہ تو وہ ہے کہ جس کے متعلق اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے
آج ہم اس شعر کا مصداق کیوں نہیں ہیں ؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم دین محمدی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم کیوں نہیں قرآن و حدیث پر عمل کرتے؟ تو اس کا جواب ہے ٹیکنالوجی پر وقت کا ضیاں!
جی ہاں بہت سے لوگ میری اس بات کو پر توجہ نہیں دیں گے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم موبائل فون ٹیلی ویژن کمپیوٹر اور اس طرح کی دیگر چیزوں میں اتنا مصروف ہو چکے ہیں کہ ہمارے پاس ماں باپ بہن بھائی اور دوست جیسے عظیم رشتوں کے لیے کوئی وقت بچا ہی نہیں آج اگر دوستی کی بات کی جائے تو لوگ اپنے مفادات کی خاطر دوسروں کو دھوکا دینے میں مصروف ہیںمیں خود لپٹ گیا تھا جسے دوست جان کر
وہ سانپ کی طرح مجھے ڈستا چلا گیااب یہ بات بھی نہیں کی ان چیزوں کا استعمال سرے سے ہی غلط ہے لیکن
Excess of everything is bad.
یعنی ایک حد تک ان کا استعمال درست ہے مگر جب ہم اس حد کو پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی تلافی بہت مشکل ہوتی ہے اور بعض اوقات ناممکن ہمیں اس بات کا ادراق یونا چاہئیے
قارئین کرام ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوان نسل کو یہ بات سمجھائیں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس ناسور سے بچاسکیں۔انداز بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری باتآج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

"افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری
ہماری ہاں فوج مخالف لوگوں کی طرف سے فوج پر ایک جملہ ،چوکیدار بہت کسا جاتا ہے جب کسی کو کوئی دلیل نا ملے تو فوری جملہ داغتا ہے کہ جی فوج تو چوکیدار ہے فوج کا کیا کام ملکی معاملات اور سیاست میں سب سے پہلے تو میں ان لوگوں کو بتاءونگا گا کہ چوکیدار کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وی اپنی آمدن سے بلکل کم دی جاتی ہے جیسا کہ آجکل ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر 15000 سے 30000 ہزار روپیہ چوکیدار کو دیا جاتا ہے جبکہ آپ کی آمدن اور بچت لاکھوں روپیہ ہوتی ہے مگر حیرت ہے فوج کو چوکیدار کہنے والوں پر کہ ایک طرف تو اسے چوکیدار کہہ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری جانب اسی چوکیدار کی شکایت بھی کرتے ہیں کہ 80 فیصد ہماری فوج یعنی چوکیدار کھا رہا ہے اب بھلا کوئی ذی ہوش شحض خیسے مان سکتا ہے کہ کوئی ہو بھی چوکیدار اور آپ کی آمدن کا 80 فیصد بطور تنخواہ بھی لے رہا ہو یقینا یہ بہت کم عقلی والی بات ہے جوکہ ہماری تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بطور افواہ پھلائی گئی ہے آپ اس سال بجٹ کا ریکارڈ چیک کر لیں تو آنکھیں کھل جائینگی کہ فوج کتنے فیصد لے رہی ہے
حالانکہ بجٹ میں ہر ادارے اور صوبے کو ملنے والی رقم کا حساب ہوتا ہے مگر پھر بھی لوگ بجٹ کی جمع تفریق نہیں کرتے بلکہ رٹی رٹائی باتیں ازبر کرتے چلے جاتے ہیں یقینا اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ حد درجہ جھوٹے ہیں جن کی اپنی بات میں بھی وزن نہیں جو 80 فیصد کا بہتان لگا کر چوکیدار کا لقب دے رہے ہیں اور ان کی بجٹ کی جمع تفریق سے ثابت ہوا کہ وہ جھوٹے ہیں اور جھوٹے لوگ کسی کو چوکیدار کہیں یاں کچھ اور ان کی بات مانی نہیں جا سکتی
یقینا فوج بھی دوسرے اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے اور اس کے اندر بھی انسان ہی ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے میں کوئی مقدس گائے نہیں مانتا فوج کو مگر دنیا جانتی ہے فوج اور سول اداروں کی سزاءوں کو جب کوئی سول ادارے کا اہلکار غلطی کرتے پکڑا جاتا ہے اسے معطل کر دیا جاتا ہے مگر فوج میں ایسا نہیں غلطی ثابت ہونے پر کورٹ مارشل کر دیا جاتا ہے پینشن جی پی فنڈ ختم ہونے کیساتھ پوری زندگی کورٹ مارشل شد فوجی کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور جب تک کورٹ مارشل مکمل نا ہو جیل سے چھٹی نہیں ملتی جبکہ سول اداروں کے لوگ ضمانت اور قبل از ضمانت کروا لیتے ہیں
اس کے علاوہ مذید کہتے ہیں کہ جی فوج کرتی کیا ہے مفت کی تنخواہ لیتی ہے تو ان سے میرے چند سوال ہیں کہ 1948 میں آزاد کشمیر کو ہندو کے چنگل سے اپنے غیور قبائلیوں کیساتھ مل کر کس نے آزاد کروایا تھا فوج نے یاں کسی سیاستدان نے ؟
1965 کی پاک بھارت جنگ میں دشمن کو ناکو چنے کس نے چبوائے اور ملک کا دفاع کس نے کیا تھا فوج نے یاں کسی غیرت مند سیاستدان نے ؟
1967 اور پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سارے عرب ملک عملی طور پر اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے تھے اور پوری دنیا اسرائیل کو سپر پاور تسلیم کرنے کے قریب تھی تب اس وقت پاکستانی ائیر فورس نے تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا پاک ائیر فورس کے جوانوں نے اپنی جانیں تو دے دیں مگر اسرائیل کا ایٹمی پاور پلانٹ تباہ کرکے تمام عرب ملکوں کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروایا تو اس وقت کونسا غیرت مند سیاستدان پاکستان سے جنگی جہاز اڑا کے تل ابیب کو تباہ کرنے گیا تھا؟
1971 میں انڈیا کیساتھ مل کر اقتدار کی خاطر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کیلئے مسلح فورس،مکتی باہنی کس نے بنائی تھی اور باوجود اسلحہ کی کمی کی بدولت لڑائی کس نے کی تھی ہندوستانی فوج سے اور پھر دشمن کی قید کس نے کاٹی تھی کیا کوئی سیاستدان انڈین جیلوں میں قید رہا ؟
1980 کی دہائی میں جب سپر پاوری کی طاقت کے نشے میں چور روس افغانیوں پر چڑھ دوڑا تو اس وقت افغانیوں کو کونسے سیاستدان نے ٹریننگ دی کے تم ہمارے مسلمان بھائی ہو اپنا دفاع کرو ؟
1999 میں کارگل پر قبضہ کرکے انڈیا کی طرف سے کشمیر جانے والا راستہ پاک فوج نے بند کر دیا جس کے پیش نظر مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج بھوکوں مرنے کے قریب تھی جس کا اقرار خود سابق آرمی چیف ٹی وی پر کر چکا بھلا اس وقت یونائیٹڈ نیشن کے تلوے چاٹنے کوئی فوجی گیا تھا کہ سیاستدان ؟ دنیا جانتی ہے اس وقت کا حکمران یونائیٹڈ نیشن کے حکم کی پیروی نا کرتا تو آج کشمیر بھی آزاد ہوتا بلکہ پاک فوج کے ہزاروں سپاہی اور افسران شہید نا ہوتے بھلا ان قربانیوں میں کونسا سیاستدان جس نے کارگل جا کر گولیاں چلائیں؟
2001 میں جب امریکہ نے پتھر ئکے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت افغانستان کی سرحد پر فوج کے علاوہ کونسے سیاستدان نے پہرہ دیا ؟
2008 میں بمبئی حملے ہوئے انڈیا نے الزام پاکستان پر لگایا مگر وہ اس الزام کو ثابت نا کر سکا مگر ہمارا ہی ایک سیاستدان اٹھا اور شور شروع کر دیا کہ بمبئی حملے آئی ایس آئی اور ایک مذہبی جماعت نے کروائے جس کی پاداش میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں شامل کر دیا اور آج تک ہم اس کا خمیازہ ہمیں آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے لہذہ سوچئے پھر بولئے ،چوکیدار نہیں محافظ"مسیحاؤں کی غنڈہ گردی اور حکومت کی بے بسی” تحریر: محمد عبداللہ
جی یہ قوم کے مسیحا ہیں جو گزشتہ ایک مہینے سے قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہیں. ہر دوسرے روز سرکاری اسپتالوں کا عملہ بشمول نرسز، خاکروب سڑکیں بلاک کرکے جبکہ ڈاکٹرز آرام سے پرائیویٹ کلینکس میں بیٹھے پیسے چھاپ رہے ہوتے ہیں.ایم ٹی آئی ایکٹ کی نامنظوری اور دیگر چند مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کے نام پر سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز اور یہاں تک کہ ایمرجنسی تک کو بند کرکے خود پرائیویٹ کلینکس میں جا بیٹھتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کا عملہ سڑکوں پر آبیٹھتا ہے. ایک طرف تو ان اسپتالوں میں دور دراز سے آئے ہوئے ہزاروں غریب افراد جو پرائیویٹ علاج افورڈ نہیں کرسکتے وہ بے چارے رل رہے ہوتے ہیں، ڈاکٹرز اور عملے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں جبکہ قوم کے یہ مسیحا فرعون کے لہجے میں رعونت بھری نگاہ ڈال کر گاڑی میں جا بیٹھتے ہیں.
پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ
ابھی کچھ دن قبل ہی ساہیوال سے ہمارے دوست کہ جن کے والد صاحب لاہور جناح اسپتال میں ایمرجنسی میں وارڈ میں تھے مگر کوئی ڈاکٹر ان کو پوچھنے تک نہ آیا اور وہ ایمرجنسی وارڈ ہی میں اپنی جان ہار گئے. یہ ایک کہانی نہیں ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں کبھی اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھے لوگ کبھی اپنی اونچی مسندوں سے نیچے اتریں اور آکر دیکھیں کہ کیسے ان کی رعایا صحت و انصاف کے لیے اسپتالوں اور کچہریوں میں رل رہی ہے اور باقی ماندہ سڑکیں بند ہونے اور قوم کے ان مسیحاؤں کی بدمعاشی سے سڑکوں پر لمبی لائنوں میں کھڑی ہے. دور دراز سے محنت مزدوری اور دیگر ضروریات کے لیے لاہور آنے والے اور شہر کے اندر ہی سے کام کاج کے سلسلے میں سفر کرنے والے لوگ جب روزانہ کی بنیاد پر یوں سڑکوں پر ہی خوار ہوتے رہیں گے تو خاک کاروبار ہوگا اور ملکی معیشت چلے گی.عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
جس غریب کی ان احتجاجوں کی وجہ سے دیہاڑی نہ لگ سکے اس کا چولہا کیسے جلے گا؟ کیا قوم کے ان مسیحاؤں کو یہ احساس ہے کہ ان کی آئے دن ہڑتالیں کتنے گھروں کے چولہے بجھا دیتی ہیں اور کتنے مجبور اور بے کس باپوں کو بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے خودکشیوں پر مجبور کردیتی ہیں. کیا ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان کی گورنس میں کیسے یہ مٹھی بھر طبقہ پورے معاشرے اور قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہے؟
کیوں یہ ہر دوسرے دن سڑکوں پر آن موجود ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی بندش سے غربت کی چکی میں پستے مریضوں کے لیے سامان مرگ کررہے ہیں. قوم ان مسیحاؤں کی غنڈہ گردی پر حکمرانوں سے سراپا سوال ہیں کہ ان ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہے؟کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
محمد عبداللہ کے دیگر مضامین پڑھیے اور انکے بارے میں جانیے
Muhammad Abdullah 
صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری
ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.
ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی
ہیش ٹیگ می ٹو کیمپنگ کا ۔آج یو ٹیوب میں می ٹو کے بانی ترانا برکی کا انٹرویو دیکھ رہا تھا ۔انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں بتادی کہ یہ ایک مہم ہے جو دنیا بھر میں چل رہا ہے ۔جسکو میں نے 2006میں می ٹو کے نام سے شروع کیا تھا دراصل می ٹو عورتوں پر بے جا زیادتی اور خصوصا جنسی زیادتی کے بارے میں ہے ۔جسکا ریزلٹ اب میں دیکھ پا رہا ہوں۔لیکن ہاں اب اس میں تھوڑی سی تبدیلی آئ ہے پہلے ہیش ٹیگ نہیں تھا اب ہیش ٹیگ لگا کر اس کو اور سنسنی خیز بنا دیا گیا ہے ۔
ترانا کہ رہی ہیں میں نے اس کیمپنگ کی شروعات اس لئے کی تاکے عورتیں اپنے اوپر ہوئے جنسی زیادتی کو بیان کرے اس زیادتی کے شکار چاہے وہ کبھی بھی ہوئ ہوں یا ابھی ابھی حالیہ کچھ مہنہ سال پہلے اپنے اپنے واقعات کو ہیش ٹیگ می ٹو کرکے شیر کریں ۔اس سے نہ صرف بیداری آئے گی بلکہ آنے والی نسل کو بھی فائدہ ہوگا ۔
ترانا دراصل ایک امریکی شوشل ورکر ہی نہیں بلکہ ایک تانیثت کے علمبردار بھی ہیں ۔ظاہر ہے ایسے معروف عورت کی باتوں میں لبیک کہنا کوئ بڑی بات نہیں لیکن مزے کی بات یہ ہیکہ دوہزار چھ سے یہ کیمپنگ چل رہی تھی تب می ٹو کے نام سے تھا اور اب ہیش ٹیگ می ٹو کے نام سے ہے۔اس وقت تو کسی نے خاطر خواہ اپنے اوپر ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات کو شیر نہیں کیا ۔اور اب جبکہ بارہ سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گز گیا ہے تو سبکو اپنی اپنی پرانی باتیں یاد آرہی ہیں ۔بلکہ کچھ لوگوں نے تو اپنے بچپن کی باتوں کو کچھ نے اپنے شروعاتی جوانی کے دنوں کی باتوں کو بھی بغیر ہچکچائے کہ ڈالا ہے ۔
دیکھئے دراصل ہیش ٹیگ کیمپنگ میں ٹویسٹ اسوقت آیا جب پچھلے سال نومبر دوہزار سترہ میں ہالی ووڈ کے مشہور و معروف فلم شاز شخصیت ہاروی وائنسٹن پر جنسی زیادتی کے الزام لگے ۔ان پر الزام لگانے والی بھی کوئ اور نہں ہالی ووڈ کے ہی مشہور و معروف اداکارہ الیسا میلانے ہی ہیں۔انہوں نے وائنسٹن پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ آگ پوری طرح ہالی ووڈ کو اپنے چپٹ میں لے لیا ۔ الیسا کے ٹوئٹ کے بعد کچھ ہی گھنٹہ میں دو لاکھ لوگوں نے ہیش ٹیگ می ٹو کو ری ٹوئٹ کیا اور شام تک پانچ لاکھ مرتبہ لوگونے اس بات کو اپنی ٹوئٹ میں دہرا دیا۔ چوبیس گھنٹہ تک لگ بھگ 4.7ملین لوگوں نے اس مہم کا ساتھ دیا ۔بلکہ حقیقی بات یہ ہیکہ یو ایس کے پینتالیس فیصد لوگوں نے اس ہیش ٹیگ می ٹو کا استعمال کیا وہ بھی صرف شروعات کے چوبیس گھنٹوں میں ۔الیسا کے بعد ہالی ووڈ سے وائنسٹن پر الزامات کے بوچھار لگنے لگے اس لسٹ میں لویتھ مالیٹرو ،کارا ڈیو لین ،این جیلینا جولی ،لیا سیڈ لاس روزانہ ارکوئن اور میرا جیسی نامور اداکاروں نے جنسی زیادتی کی شکایت کر دی ۔
اس بھنڈا پھوڑ کے بعد بہت سارے لوگوں نے اپنی اپنی پوسٹ گوائیں بہتوں کو اپنی پوزیشن سے معطل ہونا پڑا کتنے لوگ اپنی اپنی عزت کا مٹی پلید کئے اور کتنوں کا بنے بنائے ستارہ دوبارہ گردش کرنے لگا ۔اسی زمانے میں یہ الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی لگا یہی وجہ ہیکہ انکو ایک پریس انٹر ویو میں یہ بات کہنی پڑی کہ بہت سارے لوگ اس ہیش ٹیگ می ٹو مہم کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنا رہے ہیں بہت سارے لوگ اس مہم سے ناجائز پیسہ کمانا چاہ رہی ہیں۔الغرض موٹے طور پر انہونے کہا ہیش ٹیگ می ٹو مہم ہمارے ملک کے لئے مہلک ہے۔
ابھی تک یہ سب باتیں یوروپین ممالک پر ہی چل رہی تھی ۔اور مذکورہ واقعات بھی پچھمی ممالک میں ہی ہوئے تھے ۔مگر بات وہیں ختم نہیں ہوئ ۔ترانا اپنے مہم میں لگاتار محنت کرتی رہی اور اب انہوں نے شوشل میڈیا پر اپنی مہم کو بہت تیز کردیا ۔ایک رکاڈ جسکو راینن نے شائع کیا ہے۔عورتیں جو جنسی زیادتی کے خلاف 1998 تک اپنا رپورٹ لکھوائ تھیں ان سب کی تعداد ۔17,7000,000 ہے ۔یاد رہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب عورتیں اپنی جنسی زیادتی کی بات کو کسی کو بولنا ہی نہیں چاہتی تھیں ۔اسی رپورٹ میں یہ بھی دیکھایا گیا ہیکہ پچاس فیصد عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی انکے گھر میں یا گھر کے اس پاس ہی ہوتے ہیں ۔اور 82فیصد سیکسول گالیاں برداشت کرنے والی عورتیں ہی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
خیر اسی زمانے میں اپنے ہندوستان کے کچھ بالی ووڈ اداکارئیں بھی ادھر مغربی ممالک میں اپنی زندگی گم نامی کے ساتھ گزار رہی تھیں ان میں ایک نام جمشید پور جھارکھنڈ کے معروف کوئن اور 2004 کے مس انڈیا اوراسی سال کے مس ورلڈ تنوشری دتا کا بھی ہے ۔انکو ہیش ٹیگ می ٹو بہت اچھا لگا ۔اور کود پڑی اس میدان کار زار میں ۔چا ہے اسکا جو بھی مقصد رہا ہو آنا فانا ہندوستان آئ اور بالی ووڈ کے لوگوں کو جگانا شروع کی ۔سب سے پہلے اپنی واقعہ ہیش ٹیگ می ٹو کے ساتھ شروع کی اور بر سر عام کہ ڈالا کہ میرے ساتھ دس سال پہلے نانا پاٹیکر نے جنسی زیادتی کی تھی جسکو اسوقت بھی میں نے اٹھایا تھا لیکن لوگوں نے اس پر دھیان نہیں دیا تھا۔اب اچھا موقع ہے مجھے انصاف ملنا چاہئے ۔
اب کیا تھا لگ گئ آگ اور ایک دم سے سونامی کی طرح آگ کی لہر چلنے لگی۔کچھ ہی دنوں بعد ایشوریہ ،کاجول ،عامر خان امیتابھ بچن سرکار کے طرف سے اسمرتی ایرانی وغیرہ نے سہمے سہمے اداکارہ تنوشری دتا کا سپورٹ کیا ۔اب اس آگ میں ویکاس بہل،آلوک ناتھ اور کیلاش کھیر سبھاش گھئ ساجد خان وغیرہ کو بھی جلا ڈالا ۔پھر کیا تھا جیسے ہی ان لوگوں کے دامن میں آگ کا چھیٹا پڑا یہ لوگ بڑ بڑھانے لگے ۔اور الٹی سیدھی دلائل دینے لگے ۔
رکئے ابھی کہانی ختم نہیں ہوئ ہے ابھی کہانی اور ٹوئسٹ باقی بلکہ اب تو آگ کا گولا اور افان مارنے لگا ہے۔اب باری آئ ہندوستانی جرنلسٹوں کی جرنلسٹوں نے سب سے زیادہ جس شخص پر آگ لگائ وہ ہے ایم جے اکبر اکبر صاحب پہلے پرومیننٹ جرنلسٹ تھے اب بہت بڑے سیاست داں ہیں اس کے علاوہ بھی کچھ چند لوگوں پر آگ لگی ہے مگر وہ لوگ بڑے چالو ہیں پانی ساتھ میں رکھتے ہیں آگ لگنے سے پہلے ہی بجھانے کا مادہ خوب جانتے ہیں ۔
اور ہاں یہ بات الگ ہے کہ ابھی تک کسی پر کوئ خاطر خواہ کاروائ بھی نہیں ہوئ ہے سوائے ہلکا پھلکا نانا پاٹیکر کے۔اور کاروائ شاید نہ بھی ہو کیونکہ پچھلے کئ سال پہلے امیت شاہ بھی ایک لڑکی کے جاسوسی میں بری طرح پھسے تھے اسوقت بہت ہنگامہ بھی ہوا تھا اسلئے بعید نہیں کے ہیش ٹیگ می ٹو کرکے وہ لڑکی بھی اپنی اسٹوری لکھ دے ۔اور پھر سے دوہزار انیس کا بنے بنایا ماحول مکدر ہوجائے ۔اور پرانا قضیہ ایک بار پھر سامنے آجائے اسلئے سرکار اس بات کو زیادہ طول دینا نہیں چائے گی ۔
ہم لوگ جانتے ہیں فلم انڈسٹری اور جرنلزم دو ایسی انڈسٹری ہے جہاں سیکس کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے یہاں تو ہر چیز کی آزادی ہے کھلی چھوٹ ہے زنا نام کی کوئ چیز یہاں ہے ہی نہیں ۔سیکس کرنا بوس وکنار کرنا حتی کہ ایک دوسرے کے بیویوں کا تبادلہ کرنا بھی یہاں آزاد خیالی اور مہذب مانا جاتا ہے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تو یہ لوگ معیوب ہی نہیں سمجھتے پھر یہ ہیش ٹیگ می ٹو کا جلوہ آخر سب کے سر چڑھ کر کیوں بول رہا ہے ۔میرے سمجھ سے پرے ہے ۔کہیں ایسا تو نہیں کے رافیل کے سیاہ دھبا کو چھپانے کے لئے سرکار ہیش ٹیگ کو زیادہ طول دے رہاہے ۔
پھر یہی سمجھ لیا جائے کہ صدر صاحب ڈولنڈ ٹرمپ جی کی بات صحیح ہےکہ یہ سب نیم فیم اور پیسہ کے لئے کیا جارہا ہے بات قابل غور ضرور ہے۔ دوسری اور آخری بات ہم ہندوستانی کب تک نقل کرینگے کب تک مغرب کو ہی اپنا مائ باپ سمجھیں گے ۔ارے یار ان لوگوں نے ہیش ٹیگ می ٹو شروع کیا ہے دوہزار چھ سے ان کے یہاں چل رہا ہے ۔ان لوگون نے اپنے سوسائٹی اور سماج کے حساب سے می ٹو کو ایجاد کیا ہے ہم کیوں اسکو ڈھوتے پھریں ۔ لیکن حقیقی بات یہ ہے کہ ہم اسی مغربی آزادی کو ہی تو نسوانی آزادی کا ٹیگ دے رکھے ہیں اب ہمیں انکی چیز کو تو فالو کرنا ہی پڑیگا ۔ ایک بات یاد رکھیں ہم آج بھی غلام ہیں غلام لیکن ہم جسمانی غلام نہیں بلکہ ہم ذہنی غلام ہیں ۔اور صاحب آدمی جسمانی غلامی سے تو آزاد ہوجاتا ہے مگر ذہنی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتا
ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی






