یثرب کی وادی میں شام کی سرمئی دھندلاہٹ پھیل رہی تھی۔ آفتاب کی زرد شعاعیں کھجور کے اونچے درختوں کی چوٹیوں کو لگ کر رخصت ہو رہی تھیں لیکن مسجدِ نبوی کا صحن روحانی روشنی سے منور تھا۔ صحابہ کرامؓ کا حلقہ بنا ہوا تھا، جیسے چاند کے گرد تاروں کا جُھرمُٹ بنا ہو۔
حسان بن ثابتؓ مسجد کے ایک کونے میں کھڑے تھے، ان کے ہاتھ میں قلم نہیں تھا لیکن دل کی پتیوں پر محبت کی سیاہی سے اشعار تحریر ہو رہے تھے۔ انہوں نے نگاہ اٹھا کر منبر پر بیٹھی اس ہستی کو دیکھا جن کے چہرے پر فجر کی سفیدی اور شفق کی سرخی خوب واضح تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک سے نکلتی نور کی کرنوں نے حسانؓ کے وجود کو سحر زدہ کر دیا تھا۔ وہ شاعر تھے، لفظوں کے جادوگر تھے، عرب کے بليغ ترین فصحاء میں شمار ہوتے تھے لیکن آج جب انہوں نے سید الانبیاء کے جمال کو دیکھا، تو ان کی تمام شاعرانہ تعلییات اور مبالغے ہیچ ہو گئے۔
ان کے دل نے گواہی دی کہ دنیا نے حسن کے ہزاروں پیکر دیکھے ہوں گے، لیکن جو پرتوِ جمال اس ہستی میں ہے، وہ چشمِ فلک نے نہ کبھی دیکھا اور نہ آئندہ کبھی دیکھے گی۔ حسانؓ کے لبوں سے بے ساختہ جاری ہوا: وَاَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنٌ…
مسجد کے صحن میں ایک طرف ایک بدوی آکر بیٹھا۔ اس کے لباس پر صحرا کی گرد جمے ہوئے تھی اور چہرے پر سفر کی تھکن اور درشتی کے آثار تھے۔ وہ مدینہ میں اس رحمت للعالمین کی تلاش میں آیا تھا جس کے چرچے صحرائے عرب کی وسعتوں میں گونج رہے تھے۔
بدوی نے دیکھا کہ لوگ اس ہستی کے ارد گرد یوں بچھے جا رہے ہیں جیسے پیاسے شفاف چشمے پر گرتے ہیں۔ لیکن سب سے حیران کن بات وہ مساوات اور بلا کا حسنِ اخلاق تھا جو اس محفل میں جاری تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بولتے تو یوں لگتا جیسے موتی جھڑ رہے ہوں۔ نہ آواز میں کرختگی تھی نہ لہجے میں کوئی غرور تھا اور نہ چہرے پر کسی قسم کی ناگواری کے کوئی اثرات تھے ۔
ایسے میں بدوی نے آگے بڑھ کر اپنی جاہلانہ اور سخت زبان میں کچھ سوالات کیے جو کسی بھی عام انسان کو طیش دلانے کے لیے کافی تھے۔ لیکن رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔ وہ مسکراہٹ جو صحرا کی گرم ہواؤں میں نسیمِ سحر کا جھونکا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی سے اس کی بات سنی، اس کی حاجت پوری کی اور اسے اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلایا۔
حسان بن ثابتؓ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ حسن چہرے کی دلکشی کا نام نہیں، بلکہ حسن تو اخلاق کی اس بلندی کا نام ہے جس میں غصہ، بغض، کینہ، اور خود غرضی کا نام و نشان تک نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ مسعود ہر قسم کے ظاہری اور باطنی عیب سے اس طرح پاک تھا کہ کائنات کا کوئی عیب جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی نقص نہ نکال سکا۔ یوں لگا جیسے خالقِ کائنات نے اپنے اس محبوب کو تمام نقائص سے منزہ کر کے تراشا ہو۔ حسانؓ کی زبان پر اشعار کا دوسرا مصراع خود بخود مچل گیا: خُلِقْتَ مُبَرَّءً مِنْ كُلِّ عَيْبٍ…
رات گہری ہو چکی تھی۔ مدینہ منورہ پر سکون کی چادر تن گئی تھی۔ لیکن مسجدِ نبوی کے ایک حجرے میں ایک بوریے پر وہ ہستی سجدے میں رو رہی تھی جس کے لیے یہ کائنات سجائی گئی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آلسوؤں کی لڑی جاری تھی، قدمِ مبارک پر سوجن تھی، لیکن دل میں اپنے رب کی حمد اور امت کی بخشش کی التجا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل، ہر قدم اور ہر سانس ایسی کامل اور متوازن زندگی کی تصویر تھی جو انسانیت کے لیے معراج کی حیثیت رکھتی ہے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے تو اندھیروں میں اجالا ہو جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخاوت کرتے تو ہواؤں کی طرح بلا تفریق سب کو فیضیاب کرتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معاف کرتے تو بدر کے قیدیوں سے لے کر فتحِ مکہ کے دن اپنے خون کے پیاسوں تک سب کو آغوشِ رحمت میں لے لیتے۔ کوئی انسان، کوئی خیال اور کوئی آرزو اس سے بہتر اور کامل شخص کا تصور ہی نہیں کر سکتی تھی۔
حسانؓ نے مسجد کی خاموشی میں اپنے اشعار کا آخری ٹکڑا مکمل کیا: كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ گویا آپ کو ویسا ہی بنایا گیا جیسا آپ نے خود چاہا۔
خالق نے اپنے محبوب کو وہ صورت، وہ سیرت، وہ رخِ زیبان اور وہ قلبِ مطہر عطا فرمایا تھا جو حسنِ مجسم کی آخری حد تھی۔ حسانؓ نے اپنے قصیدے کے یہ اشعار پڑھے، تو کائنات کی ہر شے نے اس سچائی کی تصدیق کی۔ یثرب کی ہوائیں گواہ تھیں کہ زمین و آسمان نے محمّدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نہ کوئی جمیل دیکھا تھا، اور نہ ہی کوئی کامِل انسان دیکھا تھا۔
حسانؓ کی نعت کے اخری اشعار جب فضاؤں میں تحلیل ہوئے، تو مسجدِ نبوی میں سحر انگیز خاموشی چھا گئی۔ چاند کی چاندنی صحن میں یوں بچھ گئی تھی جیسے ملائکہ نے نور کے فرش بچھا دیے ہوں۔
حسانؓ نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے ایک بار پھر روئے مبارک کی طرف دیکھا۔ ان کا دل پکار اٹھا کہ کائنات کا نقشہ گر اگر حسن کی کوئی آخری، کامل اور بے عیب تصویر بنانا چاہتا تھا، تو وہ محمدِ مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی تھی۔
وہ چہرہ، جس پر غضب کی جگہ ہمیشہ شفق جیسی نرمی چمکتی تھی۔ وہ ہاتھ، جو دینے کے لیے اٹھے تو دنیا کو بے نیاز کر گئے اور اگر اٹھے تو امت کی بخشش کے لیے، وہ قدم، جو زمین پر پڑے تو دھرتی فخر سے جھوم اٹھی؛ اور وہ قلبِ مطہر، جس میں انسانیت کے ہر درد کا مداوا موجود تھا۔
یثرب کی خاموش ہوائیں شاہد تھیں کہ وقت کی طویل تاریخ میں تارے ٹوٹیں گے، سورج گہنائیں گے، سلطنتیں مٹیں گی اور داستاں در داستاں حسن کے چرچے ہوں گے لیکن چشمِ فلک پھر کبھی ایسا حسن نہ دیکھ سکے گی۔ چاند اپنی تمام تر چمک کے باوجود اس رخِ زیبان کے سامنے گہنایا ہوا رہے گا اور دنیا جب بھی حسن، خیر اور کمال کو ڈھونڈے گی، تو اس کی نگاہیں مدینہ منورہ کے اس سبز گنبد کے سائے میں آ کر ٹھہر جائیں گی، جہاں مجسمِ حسن و اخلاق اپنے دو بہترین دوستوں کے ساتھ ابدی آرام فرما رہے ہیں۔
صلی اللہ علیہ وسلم
صلی اللہ علیہ وسلم
حسنِ مطلق کا سایہ،تحریر:دانیال حسن چغتائی
