Baaghi TV

جذعِ حنّانہ ، وہ کھجور کا تنا جو رسول اللہ ﷺ کی جدائی میں رو پڑا،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

مسجدِ نبوی ﷺ کا ایک ایسا واقعہ جو چودہ صدیوں بعد بھی دل کو چھو لیتا ہے


دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، تزویراتی بازداریت اور دفاعی جدیدکاری میں خصوصی دلچسپی
ممبر، ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ

قرآن و حدیث کے بنیادی دینی علوم (درسِ دینیہ) مدرسہ عثمان بن عفان سے حاصل کیے، جو وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے منسلک ہے

مدینہ منورہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں آباد ایک ایسی مقدس یاد ہے جس کا تعلق براہِ راست رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زندگی سے ہے۔ اس شہر کی گلیاں، مسجدِ نبوی ﷺ کے ستون اور اس کی فضا صدیوں سے ان واقعات کی یاد اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں جن کے گواہ صحابۂ کرامؓ تھے۔

انہی واقعات میں ایک ایسا واقعہ بھی ہے جسے پڑھتے اور سنتے ہوئے آج بھی انسان حیرت اور عقیدت کے احساس میں ڈوب جاتا ہے۔

یہ واقعہ جذعِ حنّانہ کا ہے — وہ کھجور کا تنا جو رسول اللہ ﷺ کی جدائی میں رو پڑا تھا۔
یہ محض ایک مشہور روایت یا عوامی قصہ نہیں۔ اس واقعے کی اصل صحیح احادیث میں موجود ہے، خصوصاً صحیح بخاری میں اس کا ذکر متعدد روایات کے ذریعے ملتا ہے۔

منبر سے پہلے کا زمانہ
مسجدِ نبوی ﷺ کے ابتدائی دور میں رسول اللہ ﷺ جمعہ کا خطبہ ایک کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے۔

اس وقت مسجدِ نبوی ﷺ آج کی طرح وسیع و عالیشان نہیں تھی۔ تعمیر انتہائی سادہ تھی۔ صحابۂ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھتے اور آپ ﷺ سے قرآن، دین اور زندگی کے مختلف معاملات کی تعلیم حاصل کرتے۔
رسول اللہ ﷺ جب خطبہ دیتے تو آپ ﷺ اسی کھجور کے تنے کے قریب کھڑے ہوتے۔

وہ تنا بظاہر ایک عام درخت کا حصہ تھا، لیکن تاریخ نے اسے ایک غیر معمولی واقعے کا گواہ بنا دیا۔
اس نے رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے قرآن کی تلاوت سنی، اللہ تعالیٰ کا ذکر سنا اور آپ ﷺ کے خطبات سنے۔

وقت گزرتا گیا اور صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک منبر تیار کیا تاکہ آپ ﷺ بلند جگہ پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمائیں اور مسجد میں موجود تمام لوگ زیادہ آسانی سے آپ ﷺ کو دیکھ اور سن سکیں۔

منبر تیار ہوگیا۔
رسول اللہ ﷺ اس پر تشریف لے گئے۔
لیکن اسی لمحے مسجدِ نبوی ﷺ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے سن کر صحابۂ کرامؓ حیران رہ گئے۔

اچانک رونے کی آواز

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے تو کھجور کے اس تنے سے ایک آواز بلند ہوئی۔

صحابۂ کرامؓ نے اس آواز کو حمل سے بھری ہوئی اونٹنی کے رونے یا کراہنے سے تشبیہ دی۔
یہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے وہاں موجود لوگوں نے اپنی سماعت سے محسوس کیا۔

رسول اللہ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس تنے کے پاس گئے۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس پر اپنا دستِ مبارک رکھا، جس کے بعد وہ خاموش ہوگیا۔
(صحیح بخاری، حدیث 918)

ایک دوسری روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہما مزید بیان کرتے ہیں کہ وہ تنا بچے کی طرح رویا۔

رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگیا۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے رونے کی وجہ بیان فرمائی:
“یہ اس ذکر کی وجہ سے رو رہا تھا جو یہ میرے پاس سنا کرتا تھا۔”
یہ روایت بھی صحیح بخاری میں موجود ہے۔
صحیح بخاری، حدیث 3584

رسول اللہ ﷺ کی شفقت
اس واقعے کا سب سے حیرت انگیز پہلو صرف کھجور کے تنے کا رونا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کا اس کے ساتھ برتاؤ بھی ہے۔

آپ ﷺ نے اس آواز کو نظر انداز نہیں کیا۔
آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے، اس تنے کے قریب گئے اور اسے تسلی دی۔
روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگیا۔
ایک بے جان کھجور کے تنے کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ صحابۂ کرامؓ کے لیے ایک غیر معمولی نشانی تھا۔
اسی لیے یہ واقعہ بعد کی نسلوں تک منتقل ہوا اور کتبِ حدیث میں محفوظ رہا۔

جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلے اس کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔

جب منبر تیار ہوا تو وہ تنا رسول اللہ ﷺ کی جدائی میں رویا، یہاں تک کہ آپ ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اسے تھام لیا۔
(جامع ترمذی، حدیث 505)

جذعِ حنّانہ نام کیسے پڑا؟
عربی زبان میں جذع درخت کے تنے کو کہتے ہیں، جبکہ حنّانہ میں حنین، تڑپ، اشتیاق اور جدائی کی کیفیت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے یہ تنا تاریخ میں جذعِ حنّانہ کے نام سے مشہور ہوا۔
یہ نام خود اس واقعے کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔
ایک ایسا تنا جو رسول اللہ ﷺ کی قربت میں رہتے ہوئے آپ ﷺ کے خطبات اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا گواہ تھا، جب آپ ﷺ نے اس جگہ کھڑے ہونا چھوڑ دیا تو اس سے ایسی آواز نکلی جسے صحابہؓ نے رونے سے تعبیر کیا۔

قیامت تک رونے کی روایت

جذعِ حنّانہ کے بارے میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اس تنے کو تسلی نہ دیتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔

یہ جملہ اس واقعے کے ساتھ عام طور پر بیان کیا جاتا ہے اور بعض روایات و علمی کتب میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔
تاہم صحیح احادیث کے الفاظ کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔ صحیح بخاری کی مضبوط روایات میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ تنا رویا، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے، اسے تسلی دی یا گلے لگایا اور وہ خاموش ہوگیا۔

اس لیے “قیامت تک رونے” والی بات کو صحیح بخاری کے براہِ راست الفاظ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اصل واقعہ اپنی جگہ نہایت عظیم ہے، کیونکہ اس کا بنیادی حصہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
ایک واقعہ، جو صدیوں سے زندہ ہے
اس واقعے کو پیش آئے چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
اس دوران دنیا بدل گئی۔
سلطنتیں قائم ہوئیں اور ختم ہوگئیں۔
نسلیں آئیں اور رخصت ہوگئیں۔
مگر مسجدِ نبوی ﷺ سے وابستہ یہ واقعہ آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
آج جب کوئی مسلمان مدینہ منورہ پہنچتا ہے اور مسجدِ نبوی ﷺ میں حاضری دیتا ہے تو وہ صرف ایک تاریخی عمارت میں داخل نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن میں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کے وہ مناظر بھی زندہ ہوجاتے ہیں جو احادیث اور سیرت کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔
انہی مناظر میں ایک منظر وہ بھی ہے:
رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہیں۔
صحابۂ کرامؓ سامنے موجود ہیں۔
اور مسجد کے ایک حصے سے اچانک ایک کھجور کے تنے کے رونے کی آواز آتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لاتے ہیں۔
اس تنے کے پاس جاتے ہیں۔
اسے اپنے دستِ مبارک سے چھوتے ہیں، اور ایک روایت کے مطابق اسے اپنے ساتھ لپٹا لیتے ہیں۔
پھر وہ آواز خاموش ہوجاتی ہے۔
یہی جذعِ حنّانہ کی داستان ہے۔

ایک سادہ سا کھجور کا تنا، جو رسول اللہ ﷺ کے خطبات کا گواہ تھا، تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک غیر معمولی واقعے کی علامت بن گیا۔
یہ واقعہ ہمیں چودہ صدیوں کے فاصلے سے اس دور کی ایک جھلک دکھاتا ہے جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہؓ کے درمیان مسجدِ نبوی ﷺ میں تشریف فرما تھے۔
اور شاید یہی اس واقعے کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے کہ ایک معمولی سا کھجور کا تنا بھی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے ایک ایسے لمحے کا حصہ بن گیا جسے امت نے نسل در نسل محفوظ رکھا۔
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بے شمار درود و سلام نازل فرمائے۔
اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على سيدنا محمد ﷺ۔

More posts