Baaghi TV

ماہ ربیع الاول کی فضیلت اور خصوصیت ،تحریر : حافظ ملک جمشید

ربیع الاول کا مبارک مہینہ اپنے نام سے ہی جانا اور پہچانا جاتا ہے ربیع عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بہار کے ہیں سو ربیع الاول سے مراد ہوا بہار کی پہلی فصل۔

اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بھی بڑا ہی معزز اور بہت خصوصیت کا حامل یہ مہینہ ہے۔ اسلامی کیلینڈ کے مطابق یہ سال کا تیسرا مہینہ ہے اور یہ وہ خاص اور عظیم مہینہ ہے کہ جس مہینے میں عالم دنیا میں اس عظیم محسن انسانیت کی ولادت باسعادت ہوئی کہ جن کی خاطر اللہ تعالی نے یہ کل کائنات بنائی اور سجائی اور اسی کی آمد اور کلمہ توحید کی دعوت کی تیاریوں میں ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیائے کرام اس دنیا فانی میں تشریف فرما ہوئے۔ یہ وہ عظیم مہینہ تھا کہ جب حضرت آمنہ رضی اللہ کے گھر اللہ تعالی نے چاند کا ٹکڑا اتارا کہ جس کے چہرے کی قسمیں ، جس کے بالوں کی قسمیں ، جس کے حسن کی قسمیں اور جس کے امن والے شہر کی قسمیں اللہ تعالی نے اپنی عظیم کتاب قرآن مجید میں اٹھائیں۔ وہ مبارک ہستی مکہ کی جانی مانی شخصیت حضرت عبد المطلب کے لاڈلے پوتے اور حضرت عبد اللہ کے لخت جگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔آپ کی ولادت باسعادت 12 ربیع الاول 571 عیسویں کو ہوئی ۔ اور یہ سب سے خاص دن تھا کہ جس نے ربیع الاول کو ایک خاص مقام بخشا اور یہ مہینہ باقی تمام گیارہ مہینوم سے افضل ہو گیا ۔ گویا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری اللہ پاک کا عظیم تحفہ تھا اس بھٹکی انسانیت کے لیے کہ جو دین کے نام سے بہت دور جا چکے تھے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے دین کی تعلیمات کو بھوک چکے تھے اور بیت اللہ جیسی عظیم جگہ کو بھی اپنے بتوں سے بھرا ہوا تھا اور اسی کی عبادت میں لگے ہوئے تھے۔ اور ایک خدا کی عبادت کو چھوڑ کر سینکڑوں بتوں کی پوجا میں لگے ہوئے تھے۔

ایسے خاص موقع پر اللہ تعالی نے ربیع الاول کے مبارک مہینے میں اس امت کو خاص تحفہ عطا کیا کہ جس کے لیے انبیائے کرام نے بھی دعائیں مانگیں اور یہ تحفہ اس امت کو نصیب ہوا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے لوگوں کے درمیان ایک لمبی زندگی گزاری اور ایک خاص زمانہ گزرنے کے بعد اس وقت کے قریب جا پہنچے جس مقصد کے لیے آپ کی آمد ہوئی ۔ اور نبوت جیسے عظیم منصب سے رب تعالی نے سرفراز کیا اور آپ کی زندگی ایک نئے دور میں شامل ہوئی جہاں اپنے بھی بیگانے بنتے گئے اور پیار والے نفرتوں میں بدلتے گئے مگر آپ نے ہمت نہ ہاری اور اسلام کے پرچم کو لیے دس سال تک مکہ کی سر زمین پر وگوں کے ذہنوں کو مائل کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔ مگر بہت ہی کم لوگ اسلام لائے اور ظلم و ستم کے پہاڑ مزید بڑھتے گے ایسے میں اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا حکم نازل ہوا ۔

ربیع الاول کی دوسری خاص فضیلت کی بات کی جائے تو وہ یہ ہے کہ مکی زندگی کے دشوار زمانے کے بعد جب اللہ کے حکم سے مدینہ ہجرت کا پروانہ ملا تو یہ بھی ماہ ربیع الاول میں ہوا گویا کہ ایک بہار تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی صورت میں مکہ اور مسلمانوں کو نصیب ہوئی تو دوسری دکھوں کے اس تنگ اور منافقانہ لوگوں کے درمیان سے یک دم ایک نئی بہار کی امید جاگی اور یہ بہار مدینہ ہجرت کی صورت میں تھی کہ جہاں جا کر ایک نئی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنے کا موقع ملے گا اور دین اسلام کو کھل کر بیان کرنے اور اس کی تبلیغ کا زمانہ آئے گا اور یہ بہار بھی بہت ہی خاص تھی کہ جس کے بعد سے اسلام نے ایسا تیز سفر شروع کیا اور تلوار کے ذریعے سے دین کو پوری دنیا میں پھیلاتے پھیلاتے فتح مکہ اور حجہ الوداع سے ہوتے ہوئے اتنا آگے جا چکا کہ جو اب تک رکنے کا نام نہیں لے رہا اور قیامت تک یہ محنت اور تبلیغ جاری رہے گی جو بہار کے پیارے موسم یعنی ربیع الاول میں شروع ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ ربیع الاول کا جیسے پیارا نام ہے تو ویسے ہی اس کی خاص فضیلت و خصوصیت بھی ہے۔

تیسری خاص بات اس ماہ کی مناسبت سے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس دنیا فانی سے پردہ فرما جانا اور اس دین کامل کو مکمل طور پر صحابہ کرام کے ذریعے بحثیت امت محمدی ہمارے حوالے کرنا اور اس کو قیامت تک کے لیے زندگی کا نصب العین بنانا لازمی ہے۔ یہ ماہ ہمیں درس دیتا ہے اسلام پر چلنے اور اسلام کی قربانیوں کو یاد رکھ کر اس کے مطابق اپنی زندگی بنانا ہے۔ یہ ماہ ہمیں نبی پاک کی سیرت کو زندگی کا حصہ بنانے اس کے مطابق زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے ۔اس ماہ میں ہم نبی پاک کی سیرت پر تقریبات سجاتے ہیں اور میلاد کی محفلیں مناتے ہیں مگر ان سب کے باوجود جو لازمی بات ہے وہ یہی کہ نبی پاک کی ولادت کی خوشیاں منانے کے ساتھ نبی پاک کی سیرت کو مکمل طور پر زندگی کا حصہ بنائیں تا کہ ربیع الاول کی نسبتیں ہماری زندگی کا حصہ بن جائیں۔

More posts