Baaghi TV

سیرتِ النبی ﷺ ، انسانیت کے لیے کامل نمونہ،تحریر: مبراء عبدالقیوم

دنیا کی تاریخ میں بے شمار عظیم شخصیات گزری ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے میدان میں کارنامے انجام دیے مگر تاریخِ انسانیت میں ایک ایسی ہستی بھی جلوہ گر ہوئی، جس کی زندگی کا ہر لمحہ انسانیت کے لیے روشنی، ہر قول ہدایت اور ہر عمل ہمارے لیے نمونہ بن گیا۔ وہ عظیم ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
یعنی ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔
سیرتِ النبی ﷺ محض ولادت، ہجرت، غزوات اور وصال کے واقعات کا نام نہیں ہے۔ سیرت دراصل ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک انسان اپنے رب سے تعلق کیسے مضبوط کرے، والدین کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے، گھر والوں سے کیسے پیش آئے، دوستوں اور پڑوسیوں کے حقوق کیسے ادا کرے، دشمن کے ساتھ بھی انصاف کیسے کرے اور مشکل حالات میں صبر و استقامت کا دامن کیسے تھامے رکھے۔
بعثتِ نبوی ﷺ اور ایک بدلتی ہوئی دنیا
رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب معاشرہ جہالت، قبائلی تعصب، ظلم، شراب نوشی، جوا، بت پرستی اور کمزوروں کے استحصال جیسی برائیوں میں مبتلا تھا۔ طاقتور کمزور کو دبا دیتا، عورت کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا اور بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے جیسے سنگ دلانہ اعمال بھی کرتے تھے۔
ایسے تاریک ماحول میں نبی کریم ﷺ نے توحید کا پیغام بلند کیا۔ آپ ﷺ نے انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلایا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، فضیلت کا اصل معیار تقویٰ ہے۔
آپ ﷺ نے معاشرے کے ان لوگوں کو عزت دی جنہیں لوگ حقیر سمجھتے تھے۔ غلاموں، یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی۔ عورت کو عزت اور وراثت کا حق دیا۔ یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور انسانیت کو یہ سبق دیا کہ کسی کی کمزوری اس کے استحصال کا جواز نہیں بن سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا سب سے روشن پہلو آپ ﷺ کا حسنِ اخلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں آپ ﷺ کے اخلاق کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
یعنی بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔
آپ ﷺ نے کبھی بدلہ لینے کو اپنی عظمت نہیں سمجھا بلکہ معاف کر دینا پسند فرمایا۔ آپ ﷺ کی گفتگو میں نرمی، رویے میں شفقت اور معاملات میں سچائی تھی۔ آپ ﷺ کسی کی دل آزاری نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ مسکراتے ہوئے ملتے اور لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کرتے۔
آج ہم ایک معمولی اختلاف پر رشتے توڑ لیتے ہیں، ایک تلخ جملے پر برسوں ناراض رہتے ہیں اور معافی مانگنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اگر ہم سیرتِ النبی ﷺ کو حقیقتاً سمجھ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ عظمت دوسروں کو شکست دینے میں نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو کرنے میں ہے۔
نبوت سے پہلے ہی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو صادق اور امین کے نام سے جانتے تھے۔ آپ ﷺ کے بدترین مخالفین بھی آپ ﷺ کی امانت داری سے واقف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ اپنی قیمتی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھتے تھے۔

یہ سیرت کا ایک اہم سبق ہے کہ مسلمان کی پہچان صرف اس کی عبادت نہیں بلکہ اس کا کردار بھی ہے۔ نماز ہمیں اللہ سے جوڑتی ہے، مگر سچائی، امانت اور حسنِ سلوک ہمیں انسانوں کے دلوں سے جوڑتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اسی کردار کی ہے۔ اگر تاجر اپنے کاروبار میں دیانت داری اختیار کرے، استاد اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھائے، طالب علم نقل سے بچے، ملازم اپنے کام میں خیانت نہ کرے اور ہر شخص اپنے قول و فعل میں سچا ہو تو معاشرہ خود بخود سنورنے لگے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی مشکلات سے خالی نہیں تھی۔ آپ ﷺ کو جھٹلایا گیا، آپ ﷺ پر ظلم کیا گیا، راستوں میں کانٹے بچھائے گئے، آپ ﷺ کے ساتھیوں کو اذیتیں دی گئیں اور آپ ﷺ کو اپنا محبوب شہر مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔
طائف کا واقعہ سیرتِ نبوی ﷺ میں صبر کی ایک عظیم مثال ہے۔ وہاں آپ ﷺ کو شدید تکلیف پہنچائی گئی، مگر آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے ان کی ہدایت کی امید رکھی۔
یہ کیسا دل تھا جو تکلیف دینے والوں کے لیے بھی خیر چاہتا تھا!
ہم معمولی آزمائشوں پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ کسی کی بات دل کے خلاف ہو جائے تو شکوہ شروع کر دیتے ہیں۔ مگر سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات انسان کو توڑنے نہیں بلکہ اسے اللہ کے قریب کرنے آتی ہیں، بشرطیکہ انسان صبر اور یقین کے ساتھ ان کا مقابلہ کرے۔

فتحِ مکہ — طاقت کے باوجود معافی
رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ایک عظیم ترین واقعہ فتحِ مکہ ہے۔ وہی مکہ جہاں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کو برسوں تک ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک دن آپ ﷺ فاتح کی حیثیت سے اسی شہر میں داخل ہوئے۔
آپ ﷺ کے پاس طاقت تھی، اختیار تھا اور اپنے مخالفین سے بدلہ لینے کا موقع بھی تھا، لیکن رحمتِ عالم ﷺ نے انتقام کے بجائے معافی کو اختیار فرمایا۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی فاتح وہ نہیں جو دوسروں کو شکست دے، بلکہ حقیقی فاتح وہ ہے جو فتح کے وقت اپنے نفس کو شکست دے دے۔
آج اگر ہم اپنے گھروں، رشتوں اور معاشرے میں صرف اسی ایک اصول کو اپنا لیں کہ جہاں ممکن ہو معاف کر دینا ہے، تو کتنے ہی ٹوٹے ہوئے رشتے دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔
بچوں سے محبت اور شفقت
رسول اللہ ﷺ بچوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ بچوں کو سلام کرتے، انہیں محبت دیتے اور ان کے جذبات کا خیال رکھتے۔ آپ ﷺ نے بچوں کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ ان کی تربیت کو اہمیت دی۔
آج ہم بچوں سے صرف فرمانبرداری چاہتے ہیں، مگر کبھی یہ سوچنے کی کوشش نہیں کرتے کہ وہ ہم سے محبت، وقت اور توجہ بھی چاہتے ہیں۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ تربیت صرف ڈانٹنے کا نام نہیں بلکہ محبت، شفقت اور اچھے نمونے کے ذریعے شخصیت سازی کا نام ہے۔
اگر والدین اپنے بچوں کے لیے سیرتِ رسول ﷺ کو عملی نمونہ بنا لیں تو ہماری آنے والی نسل زیادہ بااخلاق، ذمہ دار اور انسان دوست بن سکتی ہے۔
اسلام سے پہلے عورت کو بہت سے معاشروں میں وہ عزت حاصل نہیں تھی جس کی وہ مستحق تھی۔ نبی کریم ﷺ نے عورت کے مقام کو واضح کیا اور اس کے حقوق کی حفاظت فرمائی۔
آپ ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ حسنِ معاشرت کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ بیٹیوں کے ساتھ محبت کی اور عورت کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تعلیم دی۔
آج عورت کے حقوق کے نام پر بہت سی بحثیں ہوتی ہیں، مگر سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ عورت کی حقیقی عزت صرف نعروں میں نہیں بلکہ اس کے احترام، تحفظ، تعلیم اور حقوق کی ادائیگی میں ہے۔
پڑوسیوں اور معاشرے کے حقوق
رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کے حقوق پر بہت زور دیا۔ اسلام نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ صرف اپنے لیے جینا ہے بلکہ دوسروں کے دکھ کو بھی محسوس کرنا ہے۔
ایک اچھا مسلمان وہ ہے جس سے دوسرے انسان محفوظ رہیں۔ ہماری عبادت اس وقت خوبصورت بن جاتی ہے جب ہمارے اخلاق بھی خوبصورت ہوں۔
آج ہم اپنے پڑوسی کے گھر میں ہونے والی پریشانی سے بے خبر رہتے ہیں، مگر سیرت ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے۔ اگر ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کی ضروریات محسوس کرنا شروع کر دیں تو معاشرے میں خود غرضی کم اور انسانیت زیادہ ہو سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے تعلق سب سے بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ ﷺ نماز کا اہتمام فرماتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے، دعا کرتے اور ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ رکھتے۔
یہی تعلق آپ ﷺ کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتا تھا۔
ہمیں بھی اپنی زندگی میں دنیاوی مصروفیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ کیونکہ انسان دنیا کی ہر چیز حاصل کر کے بھی اندر سے خالی رہ سکتا ہے، مگر جس دل میں اللہ کی محبت ہو، وہ مشکلات میں بھی امید کا چراغ روشن رکھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لیے بے حد فکر مند رہتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کا مقصد انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی تک پہنچانا بنایا۔
آپ ﷺ کی یہ محبت ہمیں ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ اگر ہم واقعی آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے، نفرتیں کم کرنی چاہئیں، جھوٹ، دھوکا، حسد اور بدگمانی سے بچنا چاہیے۔
محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے درود پڑھنے کا نام نہیں؛ یہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنے کردار میں اتارنے کا نام بھی ہے۔
آج دنیا نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کر لی ہے۔ ہمارے ہاتھ میں پوری دنیا سمٹ آئی ہے۔ ہم چند لمحوں میں ایک دوسرے تک پیغام پہنچا سکتے ہیں، مگر افسوس کہ دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے رابطے آسان کیے لیکن برداشت کم کر دی۔ ہم اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے لگے ہیں۔ ایک معمولی بات پر کسی کی کردار کشی کر دیتے ہیں، افواہ پھیلا دیتے ہیں اور دوسروں کے جذبات کو مجروح کر دیتے ہیں۔
ایسے دور میں سیرتِ النبی ﷺ ہمارے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
اگر ہم آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنائیں تو ہماری گفتگو میں شائستگی آ سکتی ہے۔ اگر آپ ﷺ کی رحمت کو اپنائیں تو ہمارے دلوں میں نفرت کم ہو سکتی ہے۔ اگر آپ ﷺ کی امانت داری کو اپنائیں تو معاشرے سے بہت سی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ ﷺ کے صبر کو اپنائیں تو مشکلات ہمیں شکست نہیں دے سکتیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم سیرتِ النبی ﷺ کو صرف ربیع الاول یا کسی خاص موقع تک محدود نہ کریں۔ سیرت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہونی چاہیے۔
ہم اپنے گھروں سے اس کا آغاز کر سکتے ہیں۔ والدین بچوں کے سامنے اچھے اخلاق کا عملی نمونہ بنیں۔ استاد اپنے شاگردوں سے شفقت کرے۔ بچے اپنے والدین کا احترام کریں۔ ہمسائے ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ کاروبار میں دیانت داری اختیار کی جائے اور اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔
ہمیں خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
اگر آج رسولِ اکرم ﷺ ہماری زندگیوں کو دیکھ رہے ہوتے تو کیا ہمارے اخلاق، ہمارے معاملات اور ہمارے رویے آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہوتے؟
یہ سوال شاید ہمارے دلوں کو بدلنے کے لیے کافی ہو۔
سیرتِ النبی ﷺ ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی کا اندازہ الفاظ سے نہیں لگایا جا سکتا۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔ آپ ﷺ رحمت ہیں، معلم ہیں، رہبر ہیں، بہترین شوہر ہیں، بہترین والد ہیں، بہترین قائد ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول ہیں۔
ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں ایسی ہستی کی امت ہونے کا شرف حاصل ہوا جس نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کا راستہ دکھایا۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ کیونکہ سیرت کی اصل خوبصورتی کتاب کے صفحات میں نہیں، انسان کے کردار میں نظر آتی ہے۔
آئیے آج عہد کریں کہ ہم محبتِ رسول ﷺ کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھیں گے۔ ہم اپنے اخلاق کو سنواریں گے، سچ بولیں گے، امانت کی حفاظت کریں گے، دوسروں کو معاف کریں گے، کمزوروں کا سہارا بنیں گے، والدین کا احترام کریں گے اور اپنی زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔
کیونکہ ہماری کامیابی صرف اس میں نہیں کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ ہم محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں؛
اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارا کردار دنیا کو بتائے کہ ہم محمد ﷺ کے امتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ سے منور فرمائے، ہمیں سیرتِ طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور قیامت کے دن ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

More posts