Baaghi TV

سیرتِ رسول ﷺ آج کے انسان کے لیے کامل رہنمائی،تحریر: عائش احمد

آج کے پُرفتن دور میں، جہاں بارش کے قطروں کی طرح فتنوں کا نزول ہو رہا ہے، انسان اگر اپنی باگ ڈور طریقۂ نبوی ﷺ کے ہاتھوں میں نہ دے تو قریب ہے کہ وہ ان فتنوں کی زد میں آ جائے اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:

"ایک زمانہ ایسا آئے گا جب آدمی صبح ایمان کی حالت میں کرے گا اور شام کفر کی حالت میں، یا شام ایمان کی حالت میں کرے گا اور صبح کفر کی حالت میں۔”

(صحیح مسلم، حدیث: 313)

پیارے نبی ﷺ کی سیرتِ مطہرہ ایسی مشعلِ راہ ہے جس کی روشنی میں چلنے والا کوئی بھی مسافر نہ باطل کے اندھیروں میں گم ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کی راہ میں آنے والے نفس و شیطان جیسے رہزن اس کا بیش قیمت سرمایہ، یعنی ایمان، سلب کر سکتے ہیں۔ سیرتِ طیبہ نہ صرف انسان کی اخروی زندگی کو سنوارتی ہے بلکہ اس کی دنیاوی زندگی کے ہر پہلو کو بھی مزین و آراستہ کرتی ہے۔

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ہمارے نبی کریم ﷺ ہی وہ عظیم نبی ہیں جن کی سیرتِ کاملہ قیامت تک کے لیے محفوظ فرما دی گئی۔ جس طرح قرآنِ کریم کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے بذاتِ خود لیا ہے اور وہ قیامت تک باطل کے ناپاک ارادوں سے محفوظ ہے، اس میں کوئی تحریف کرنے کی جرات نہیں کر سکتا اسی طرح احادیثِ مبارکہ اور سنتِ نبوی ﷺ بھی امت کے درمیان محفوظ طریقے سے منتقل ہوتی رہی ہیں۔ یہ بھی حضور اکرم ﷺ کے عظیم معجزات میں سے ایک ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال، عادات، عبادات، معاملات اور زندگی کے ایک ایک گوشے کو نہایت محبت، عقیدت اور احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا۔ پھر تابعین اور تبع تابعین نے اس عظیم امانت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔

اگر امتِ مسلمہ اپنے نبی ﷺ کے طریقوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو تنزل کا شکار ہونے کے بجائے عروج کی منازل طے کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی انسان دارین کی کامیابی چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنتِ نبوی ﷺ کو مضبوطی سے تھام لے۔ یہی وہ مضبوط سہارا ہے جو اسے دنیا و آخرت کی کامیابی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

اس حقیقت کی تاکید ہمارے نبی کریم ﷺ نے خود فرمائی:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ اور یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گی۔‘‘

لہٰذا ہر امتی پر لازم ہے کہ اپنے باوفا نبی ﷺ سے وفا کرے اور آپ ﷺ کی سیرتِ کاملہ کو سیکھنے، سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرے؛ کیوں کہ مسلمان کے لیے اپنی ذات کو جاننا جتنا ضروری ہے، اس سے کہیں زیادہ اپنے نبی ﷺ کو جاننا ضروری ہے اور مسلمان کا اپنی ذات پر بھی اتنا حق نہیں جتنا اس کے نبی کریم ﷺ کا اس پر حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت پر جو احسانات کیے، جس قدر محبت فرمائی اور جس بے مثال وفاداری کا ثبوت دیا اس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ انسان شاید اپنی ذات کے لیے بھی وہ فکر اور وفا نہ کر سکے جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے لیے فرمائی۔

اسی لیے مسلمان پر سب سے زیادہ حق اس کے نبی کریم ﷺ کا ہے؛ کہ وہ آپ ﷺ سے سچی محبت کرے، آپ ﷺ کی اطاعت کرے، آپ ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے اور اپنی پوری زندگی کو سیرتِ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔

More posts