Baaghi TV

Category: متفرق

  • ڈاک، سندیسا، پوسٹ ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ڈاک، سندیسا، پوسٹ ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ماضی میں ہم نے ایک گانا سنا تھا جو جاوید اختر نے لکھا تھا جس کے الفاظ تھے
    ؎ سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں
    جوچٹھی آتی ہے، وہ پوچھے جاتی ہے
    سندیسا اصل میں سنسکرت کے لفظ سندیش سے ہے جو کہ پراکرت میں آکر سندیس ہوگیااور اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اس سے مرادپیغام، خبر اور اطلاع ہے۔چٹھی جو کہ سنسکرت زبان کے”چتر”اور”اکا“ سے ماخوذ ہے۔چٹ،پرچی،خط، مراسلہ،رقعہ،پتر،مکتوب،سندکارگزاری،اجازت نامہ، پاس، پرمٹ اور لیبل جیسے الفاظ چٹھی کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔کسی دور میں جب کسی کے گھر چٹھی آتی تھی تو غمی اور خوشی کے ملے جلے جذبات دیکھنے کو ملتے تھے اور جب تک وہ چٹھی پڑھا ئی نہیں جاتی تھی سکون نصیب نہیں ہوتا تھا۔ ایسے میں اکثر وبیشتر چٹھی رساں ہی چٹھی کو پڑھنے کا فریضہ سرانجام بھی دیا کرتا تھا کہ اس دور میں پورے گاؤں میں یا تو امام مسجد پڑھ سکتا تھا یا پھر اسکول کا استاد۔چٹھی سے ہی چٹھی بہی لفظ بنا جس سے مراد خطوط کی آمد وروانگی درج کرنے والا رجسٹر ہوتا ہے، چٹھی چپاتی یا پتر بھی ہے جس سے مرادلکھت پڑھت ہوتا ہے،چٹھی سند بھی لفظ تھا جس سے مرادصداقت نامہ یا انگریزی لفظ سرٹیفیکیٹ ہے اور چٹھی کا کھیل بھی ہے جس کا مطلب قرعہ اندازی اور لاٹری سمجھ لیجیے۔ایک کہاوت بھی ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہے ”چٹھی نہ پروانہ مار کھائیں ملک بیگانہ (حکومت کی بدانتظامی سے بدمعاش خواہ مخواہ لوگوں کو لوٹتے پھرتے ہیں)۔اس کہاوت کو اپنی حکومت پر نہ رکھ چھوڑئیے گا کیوں کہ اپنا ملک تو سفید ہاتھی ہے جس کو ماسواے معدودے لوگوں کے اکثرنے شروعات سے ہی لوٹنا شروع کردیا تھا اور لوٹ بھی وہی رہے ہیں جنھوں نے قوانین پر عمل درآمد کروانا تھا۔چھوٹے موٹے راہ زن تو اپنی راہ ہی کھوٹی کررہے ہیں کیوں کہ چند پیسوں کی خاطر وہ دنیا کے بھی مجرم بن رہے ہیں اورآخرت کے بھی۔ملکی خزانے لوٹنے والے تو عیش وعشرت سے زندگی گزار رہے ہیں اور ہزاروں لوٹنے والا پولیس کے ہاتھوں سرراہ مبینہ مقابلے میں مارا جارہا ہے۔ملکی خزانوں کو لوٹنے والوں کا معاملہ روزآخرت پر رکھتے ہیں۔آپ اظہر نیر کا شعر ملاحظہ کیجیے
    ؎تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئی
    جو شخص تھا ٹرین کے نیچے کٹا ہوا
    ڈاک خانہ ہماری زبان میں اس طرح سے آیا ہے کہ آج بھی اسے سنا، پڑھا اور سمجھا جاسکتا ہے اگرچہ اس کے متبادل پوسٹ آفس لفظ زیادہ مستعمل ہے۔لفظ ”ڈاک“ پراکرت کے لفظ ”ڈک“ سے نکلا ہے جس کے مترادف الفاظ سلسلہ،برید،تسلسل،تواتر،پوسٹ،چوکی اور متلی وغیرہ ہیں۔ڈاک کا مطلب خط وغیرہ موصول اور روانہ کرنے کا نظام ہے۔چٹھیوں کے تھیلے کو بھی ڈاک کہا جاتا ہے۔جابجا سواری کا نظام مراد گھوڑوں یا پالکی کی چوکی جو سڑک پر مسافروں وغیرہ کولے جانے کے لیے کی جاے۔ویسے لفظ ڈاک سے مراد بندرگاہ کا ایک حصہ بھی ہے جہاں جہاز آکر ٹھہرتے ہیں۔
    ؎کیا لکھوں حال تباہ اپنا کہ سودا وہ جو لوگ
    چاہتے تھے یہ دن ان کے یاں سے واں تک ڈاک ہے
    ڈاک سے بواپسی ڈاک بھی بنایا گیا جس سے مراد خط ملتے ہی یاپہلی ڈاک سے ہے۔ محکمہ ڈاک، محصول ڈاک،ڈاک ایڈیشن،،ڈاک بجلی(ٹیلی گراف)،ڈاک بہنگی، ڈاک پالکی، ڈاک پرچی اور ڈاک چوکی وغیرہ جیسے الفاظ اسی ڈاک سے جوڑ کر بناے گئے ہیں۔ پراکرت کے اسی لفظ ڈاک کے ساتھ فارسی کا خانہ لگاکر ڈاک خانہ بنایاگیا جو کہ یہاں پر ظرفیت کا معنی دیتا ہے جیسے باورچی خانہ، شراب خانہ ویسے ایک لفظ ڈاک گھر بھی موجود ہے جوکہ پراکرت کے دو لفظوں ”ڈاک“ اور ”گھر“ کو ملا کربنایا گیا ہے۔شیخ محمد عبداللہ کی سوانح عمری ”آتش چنار“کے صفحہ نمبر 391پر لکھا ہوا ہے ”پاکستان کے قیام پر سری نگر کے ڈاک خانہ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا“۔اب آئیے لفظ پوسٹ آفس کی طرف جو کہ دو لفظوں پوسٹ اورآفس سے مل کر بنا ہے۔لفظ Post کا مطلب کھمبا، ستون،کھونٹا،عہدہ، اسامی،تقرراورڈاک کا نظام وغیرہ ہے۔پوسٹ آفس کو عربی میں مکتب البرید،ترکی میں Postane اور فارسی میں ادارہ پست کہتے ہیں۔میری معلومات کے مطابق پوسٹ آفس کا لفظ پہلی بار اردو میں معرکہ چکبست و شرر میں ملتا ہے۔اسی سے پھر ڈاکیا پوسٹ مین بن گیا۔ لفظ پوسٹ لاطینی زبان میں بطور سابقہ اور بہ معنی پیچھے یا مابعد کے بھی مستعمل ہے جیسے پوسٹ گریجوایٹ اور اب اگر پوسٹ مارٹم پر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ مرنے کے بعد نعش کے طبی معائنہ یا تجزیہ کرنے کو پوسٹ مارٹم کہتے ہیں۔مارٹم بھی لاطینی زبان سے ہی انگریزی میں آیاہے۔پوسٹ باکس،پوسٹ بواے،پوسٹ بیگ،پوسٹ پارسل،پوسٹ کارڈ اورپوسٹ ماسٹرجیسی ان گنت اصطلاحات اب ہمارے ہاں موجود ہیں۔اردو زبان کی یہی خوبی ہے جو اسے بین الاقوامی زبانوں کے درمیان لاکھڑا کرتی ہے کہ یہ زبان مختلف زبانوں کے لفظوں کو اس قدر خوب صورتی سے اپنے اندر سموتی ہے کہ وہ لفظ اس کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے۔

  • آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان

    آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان

    کسی بھی معاشرے کو سدھانے کیلئے مختلف قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد معاشرے میں موجود جرائم کو روکنا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوتا ہے۔ یہ قوانین ہمارے منتخب ارکان اسمبلی پارلیمنٹ میں بیٹھ بناتے ہیں۔ جب کوئی بھی قانون متفقہ طور پر یا اکثریت رائے سے منظور ہو جاتا ہے تو اس کی پاسداری ملک میں رہنے والے تمام افراد پر لازم ہو جاتی ہے ۔ قانون کی عمل داری یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست کی رٹ کو بحال رکھنے کیلئے دنیا بھر میں ایک منعظم نظام رائج ہے۔ اس نظام میں مختلف سکیورٹی اور سو لین ادارے کام کرتے ہیں۔ ان تمام اداروں میں ایک ادارہ پولیس کا بھی ہے۔
    پولیس ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے وہ عزت و احترام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ پولیس رشوت کے نام پر غنڈہ گردی ہے۔ اب یہاں سوال بنتا ہے کہ رشوت کے نام پر کرپشن تو ہر ادارے میں ہو رہی ہے لیکن پھر پولیس ہی ذیادہ بدنام کیوں؟
    آپ سیاستدانوں کو دیکھ لیں کتنی کرپشن کر رہے ہیں۔ آپ ججز کی مثالیں دیکھ لیں۔ آپ اعلی بیوروکریسی کو دیکھ لیں۔ کرپشن اور رشوت خوری تو ہر جگہ کسی نا کسی شکل میں موجود ہے لیکن ان تمام کے جرائم کو لے کر سارے ادارے کو بدنام تو نہیں کیا جاتا جبکہ پولیس میں چند گنتی کے لوگوں کی وجہ سے ساری پولیس فورس کو ہی کیوں مشکوک نظر وں سے دیکھا جاتا ہے؟
    پولیس پر عوام کا عدم اعتمام کسی ایک صوبہ یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں ۔ یہ سارے ملک میں ایک جیسا ہے۔اس کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آئی شاہد سیاستدانوں کا پولیس جیسے پروفیشنل ادارے پر اثررسوخ ہو سکتا ہے یا پھر میرٹ کی بجائے سفارشی کلچر بھی اسکی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
    اگر چاروں صوبوں کی پولیس کو ہم الگ الگ درجہ بندی یا کارکردگی کی بنیاد پر پرکھیں تو اس حساب سے پختون خواہ کی پولیس نے پہلے کی نسبت عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساخت کافی حد تک بحال کی ہے۔ اس کا سارا کریٹ مرحوم IGKPKناصر دورانی اور سابقہ وزیر اعلی پختون خواہ پرویز خٹک صاحب کو جاتا ہے ۔ پختون خواہ پولیس اس وقت چاروں صوبوں کی پولیس کیلئے رول ماڈل ہے۔ گو کہ ابھی بھی وہ معیار نہیں جس کو ہم جدید تقاضوں سے لیس کہہ سکیں بہرحال رشوت خوری اور غنڈا گردی کے اعتبار سے کافی بہتری آئی ہے۔
    اگر ہم پنجاب پولیس کو دیکھیں اس میں کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پنجاب پولیس کوسابقہ حکمرانوں نے مخالفین کے منہ بند کروانے اور مخالفین کو ماورائے عدالت قتل کروانے کیلئے بہت استعمال کیا۔ ان اقدام نے پنجاب پولیس کو بطور ادارہ بہت نقصان پہنچایا۔آپ 2014 ماڈل ٹاؤن واقعہ ہی دیکھ لیں۔جس طرح حاملہ خواتین کو گولیاں ماری گئی دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس واقعہ کو مکمل سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسے واقعات اداروں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
    اس وقت پنجاب حکومت کو پنجاب پولیس میں بہتری کاچیلنج درپیش ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے منشور میں عدل وانصاف اور اداروں کو سیاسی اثرورسوخ سے آذا کرنا تھا۔ پنجاب پولیس رشوت خوری ۔غنڈا گردی۔ ماورائے عدالت قتل اور سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے بہت بدنام ہو چکی۔یہ اقدام شاہد %10فیصد لوگ کرتے ہوں گے لیکن انکی وجہ سے ساری پنجاب پولیس کو لوگ مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بزدار حکومت اگر اس چیلنج سے نکل گئی تو تاریخ ان کو سنہرے حروف میں یاد رکھے گی۔ آئی جی پنجاب پولیس کی بہتری کیلئے دن رات محنت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کافی حد تک بہتری نظر آ بھی رہی ہے۔ جس کی مثال حالیہ دنوں میں مینار پاکستان کا واقعہ ہو یا رکشہ میں بیٹھی مسافر خواتین سے بدسلوکی پنحاب پولیس نے چند گھنٹوں میں انتہائی مہارت اور پروفیشنل طریقہ سے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جس پر وہ شاباش کی مستحق ہے۔
    اگر سندھ پولیس کو دیکھا جائے تو ایک ہی بات ذہین میں آتی ہے بھتہ اورسیاسی غلام اور رشوت خور۔ میرا کئی بار کراچی آنا جانا ہوا۔ یقین کریں وہاں پہنج کر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہوں۔ آپ راؤ انوار کا کیس دیکھ لیں کیسے بے دردی سے اس نے نقیبﷲ مصود کو قتل کیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق 2011سے 2018کے بھیچ راؤ انوار نے تقریبا 444لوگوں کا encounterکیا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں اس بندے کی وجہ سے سندھ پولیس کتنی بدنام ہوئی ہے۔
    سندھ پولیس سیاسی اثر رسوخ کے زیر اعتاب سمجھی جاتی ہے۔ میرٹ کا فقدان اور سیاسی قیادت کی شہانہ طرز حکمرانی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ سندھ پولیس کو معیاری پولیس نابننے دینے کی ایک بڑی وجہ کرپشن ہے۔ سندھ میں پولیس جیسے ادارے کو جان بوجھ کر مفلوج رکھا جا رہا ہے۔ یہاں سندھ پولیس کی بجائے سیاسی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا۔ جب تک سندھ حکومت پولیس کو ٹھیک نہیں ہونے دے گی یہ ممکن ہی نہیں کوئی اعلی افسر اسے ٹھیک کر سکے۔
    اسلام آباد پولیس اس وقت دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے۔ بعض لوگ انکے معیار پر بھی انگلیاں اٹھاتے نظر آتے ہیں لیکن کیپٹل پولیس عالمی معیار اور دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے اور اسکی ایک اہم وجہ پولیس فورس میں میرٹ اور پڑھے لکھے جوانوں کی شمولیت ہے۔ چند عرصہ پہلے حکومت نے اسلام آباد پولیس کی یونیفارم میں خفیہ کیمرے لگانے کا کہا تھا ۔ اگر یہی معیار سارے پاکستان میں رکھا جائے تو انشاءاﷲ ہماری ساری پولیس بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر میرٹ پر بھرتیاں اور پڑھے لکھے لوگوں کو پولیس فورس میں لایا جائے۔ جدید تقاضوں کو دیکھتے ہوئے انکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اعلی معیار کی ٹرینگ دی جائے۔ پرانے تھانہ کچہری کلچر کو بلکل ختم کیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق FIRسے لے کر کیس کے میرٹ تک ٹریس ایبل بنایا جائے تو کوئی شک نہیں ہماری پولیسنگ کا معیار عالمی معیار جیسا بن جائے۔ اس سارے پراسس میں حکومت وقت کا بہت اہم رول ہے۔
    یہاں ان شہداء کو سلام پیش نا کرنا بھی ذیادتی ہو گی جنہوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ا ﷲ تعالی انکی مغفرت فرمائے اور ان سب کے اہل خانہ کو صبرو جمیل عطا فرمائے۔ آمین
    آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر پولیس اور عوام کے بھیچ فاصلے کم کرنے ہیں تو پولیس کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔ دوستانہ ماحول میں عوام سے بات کرنی پڑے گی۔ عوام کو احساس دلانا ہو گا کہ پولیس ان کی محافظ ہے دشمن نہیں۔ پولیس کا اولین کام بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ عوام کو بھی اپنے محافظوں کی عزت کرنی چاہئے۔ ان کے لئے بھی میڈیا کوریج اور سرکاری سطح پر انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہر سال ایک دن پولیس کے نام سے قومی سطح پر منایا جائے۔ سکولوں کالجوں میں پولیس بارے بچوں کو بتایا جائے۔ شہداء کی فیملیز کو آنر کیا جائے۔ ان کو بھی معاشرے میں اسی عزت و احترام سے ملا جائے جیسا باقی اداروں کیلئے ہم رکھتے ہیں۔ کیونکہ آخر پولیس بھی تو اپنی ہی ہے۔
    شہد تم سے یہ کہہ رہے ہیں____لہو ہمارا بھلا نا دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشوں___لہو ہمارا بھلا نا دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے___خدا کے ہاں سرخروں ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نباہ چلے ہیں________تم عہد اپنا بھلا نا دینا
    @saif__says

  • دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

    دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

    ڈھاکہ: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دنیا کی سب سے چھوٹی گائے چل بسی۔

    باغی ٹی وی :مختلف نیوز پورٹل ، سوشل میڈیا پوسٹس اور ساور میں لائیو سٹاک آفس نے کہا ہے کہ رانی ، جسے اس کے مالکان نے دنیا کی سب سے چھوٹی گائے ہونے کا دعویٰ کیا ہے ، ڈھاکا کے ساور صوبے میں فوت ہو گئی ہے۔

    صوبہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ لائیو سٹاک آفیسر عبدالمطلب نے اس کی موت کی خبر کی تصدیق کی کہا کہ "مویشی دو دن پہلے بیمار پڑا اور اسے ڈیڑھ بجے کے قریب لائیو سٹاک آفس لے جایا گیا اسے علاج دیا گیا لیکن بچایا نہیں جا سکا۔ بعد میں شکور ایگرو فارم کے اہلکارگائے کو واپس لے گئے-”

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گائے رانی کا پیٹ کافی زیادہ سوج گیا تھا جس کے بعد اسے علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز اس کی جان نہیں بچا سکے اور وہ محض چند گھنٹوں میں ہی دنیا سے رخصت ہوگئی ڈاکٹرز نے بتایا کہ گائے کے پیٹ پر سوجن زیادہ کھانے اور گیس جمع ہوجانے کے باعث ہوئی۔

    واضح رہے کہ عید الضحیٰ سے قبل دنیا کی سب سے چھوٹی گائے ’میڈیا اسٹار‘ بن گئی تھی جسے دیکھنے روزانہ ہزاروں لوگ فارم کا رخ کر رہے تھےگائے کی عمر تقریباً دو سال تھی اور اس کا قد 20 انچ تھا جو اپنی معصومیت اور سب سے چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

    گائے کے مالک کا کہنا تھا کہ اس گائے کا نام انہوں نے رانی رکھا گائے کے مالک کا دعویٰ تھا کہ اپنی عمر کے اعتبار سے رانی دنیا کی بونی ترین گائے تھی جس کا وزن ‏‏26 کلو تھا۔

  • دنیا میں زمین کا وہ مقام جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ کی گئی

    دنیا میں زمین کا وہ مقام جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ کی گئی

    دنیا میں زمین کا ایک ایسا مقام بھی موجود ہے جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ ی گئی گرین لینڈ کی سطح سمندر سے 2 میل بلند چوٹی پر موجود وسیع و عریض پٹی پر بارش نے ماہرین کو حیران کر دیا

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جسے ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں زمین کے ایسے مقام پر جہاں 1950 سے جب سے بارش کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے آج تک بارش ریکارڈ نہیں ہوئی تھی وہاں آسمان سے پانی برسنے نے سائنسدانوں کو حیران اور پریشان کر دیا۔

    امریکہ میں طوفانی بارشیں، 22 افراد ہلاک متعدد لاپتہ

    اس 3 ہزار 2سو 16 میٹر بلند چوٹی پر عموماً درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہوتا ہے مگر حال ہی میں وہاں گرم ہوا کے نتیجے میں شدید بارش ہوئی اور 7 ارب ٹن پانی برفانی پٹی پر برس گیا۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    یو ایس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے موسمیاتی اسٹیشن نے 14 اگست کو اس مقام پر بارش کو برستے دیکھا مگر ان کے پاس جانچ پڑتال کے لیے پیمانہ ہی نہیں تھا کیونکہ یہاں کبھی بارش نہیں ہوئی گرین لینڈ کے اس مقام پر 3 دن تک درجہ حرارت اوسط سے 18 سینٹی گریڈ زیادہ رہا جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں برف پگھلتے دیکھا گیا۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    ماہرین کے مطابق گرین لینڈ میں جولائی میں بھی بڑے پیمانے پر برف پگھلی تھی اور 2021 گزشتہ صدی کا چوتھا سال بن گیا جب اس طرح بڑے پیمانے پر برف پگھلی اس سے قبل 1995، 2012 اور 2019 میں ایسا ہوا تھا۔

  • افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغان سیاسی وفد کا پاکستان دورہ ،تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغان سیاسی وفد کا پاکستان دورہ ،تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان میں20 سال بعد ایک بار پھر طالبان کے قبضے نے افغان شہریوں اور عالمی برادری کے ذہنوں میں نئے سوالات جنم رہے ہیں کہ کیا طالبان پہلے کی طرح سخت پابندیاں عائد کریں گے یا اس دفعہ حکمت عملی تبدیل کرے گئے افغان طالبان کی جانب سے افغان عوام اور عالمی برادری سےجووعدےکیےگئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ انہیں کس طرح پورا کرتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کافاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں فوج بھیجنا ملک کی تاریخ کا سب سے ‏غلط فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کو نہیں پتہ صدر کا منصب کتنا اہم ہے جلد بازی میں انخلا کا فیصلہ اور ‏بداتنظامی امریکا کیلئے باعث شرم ہے اتنے سالوں میں امریکا کی اتنی بے عزت نہیں ہوئی ‏جتنی اب ہورہی ہے۔ٹرمپ نے اشرف غنی کو بدمعاش قرار دیا اور کہا کہ شروع سے اشرف غنی پر بھروسہ نہیں تھا اور ‏نہ ہی وہ پسند تھے البتہ طالبان سربراہ سے ہمیشہ اچھی بات ہوئی۔ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اسلامک امارات تما م ممالک سےاچھےتعلقات چاہتی ہے تمام ممالک سےاچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتے ہیں کسی بھی ملک کیساتھ تجارت معطل نہیں ت کر رہے کسی بھی ملک کیساتھ تجارت معطل رکھنے کی افواہیں بھی بےبنیاد قرار دی ہیں ۔ امریکی صدرجوبائیڈن کہنا ہے کہ ہم 31 اگست تک افغانستان سےمکمل انخلا کرنا چاہتے ہیں ہم نےاسامہ کو مارا،افغانستان میں القاعدہ کوختم کیا ہمارے پاس دہشت گردی سےلڑنےکی صلاحیت رکھتے ہیں ہمیں انتہائی سنگین خطرات سےنمٹنےپرتوجہ دیناہوگی طالبان ایک وجودی بحران سے گزررہے ہیں طالبان جائزحکومت کےطور پر خودکو تسلیم کرانا چاہتے ہیں مجھےنہیں لگتا کہ طالبان تبدیل ہوئے ہیں طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا جس سےعالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔

    افغانستان میں بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظرافغان سیاسی وفد کا کل پاکستان کا دورہ کیا جس میں افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی بھی شامل ہیں۔ افغان سیاسی وفد میں محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم، احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، عبدالطیف پیدرام اور خالد نور شامل تھےافغان سیاسی وفد کی وزیراعظم عمران خان ،آرمی چیف ،ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی ملاقات ہوئی افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان تشریف لائیں اسپیکر افغان اولسی جرگہ رحمان رحمانی کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کو ختم کردیا گیا جو افسوسناک ہے اور ہمارے دورے کا مقصد مفاہمت ،خون ریزی کا خاتمہ کرنا ہے اس ملاقاتوں میں تمام ایشوز پر بات چیت کی گئی اب آئندہ مرحلہ افغانستان میں حکومت سازی ہے اور تمام فریقین کو حکومت میں شامل کرنےسے ہی کامیابی ملے گی ہم افغان عوام کی آزادی اظہاررائے،قانون کے نفاذ پریقین رکھتے ہیں۔

    اولسی جرگہ میر رحمان رحمانی کا یہ بھی کہنا تھا اگر طالبان ناکام ہوگئے تو پھر 1996 والی صورت حال ہوگی اورحکومت ایسی ہونی چاہیے جوافغان عوام کیلئے قابل قبول ہو۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • تاریخِ  افغانستان ۔۔ماضی کے جھروکوں  کی رسہ کشی۔۔تحریر: کرن خان

    تاریخِ افغانستان ۔۔ماضی کے جھروکوں کی رسہ کشی۔۔تحریر: کرن خان

    علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ،
    افغان باقی، کہسار باقی
    الحکم اللّٰہ، الملک اللّٰہ!!
    ہم سب آج کل افغانستان پر بہت سے تجزیے، کہانیاں اور خبریں دیکھ رہے ہیں، افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے چرچے اب ہر گزرتے دن کے ساتھ معمول کے معاملات لگ رہے ہیں، بیس سالہ پرانے طالبان اب جدید معاشرے کے ماڈرن گُڈ لکنگ بوائز جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
    طالبان، کٹھ پتلی افغان حکومتین جن کے سربراہان جو پاؤں جلنے پر دم دبا کر بھاگ نکلے، ایک فریق امریکہ اور اتحادی، مزید برآں خطے کے باقی ممالک کی شوروغل بھری آوازوں میں کیا کسی نے افغان قوم کی بہادری وجرات کو بھی ایک نظر دیکھا کہ خطہ ایسی دلیر قوم سے بھرا پڑا ہے کہ یہاں ماضی میں جتنے بھی حکمران آئے، اگر وہ افغان عوام سے مخلص نہیں تھے تو ان کی کرسی زیادہ دیر نہیں چلی، کٹھ پتلی حکمرانوں کی کرسیاں گرانے کی افغان عوام کی ایک تاریخ ہے، آئیے آج دیکھتے ہیں کہ ماضی میں کس کس نے افغانستان پر حکمرانی کی اور پھر کس طرح اپنی کرسی سے ہاتھ دھوئے۔

    بیسویں صدی سے شروع ہوتے ہوئے سب سے پہلے بات کرتے ہیں بادشاہ ظاہر شاہ کی۔
    ظاہر شاہ تاریخِ أفغانستان میں اس خطے پر سب سے زیادہ عرصہ حکمرانی کرنے والاے حکمران کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں جب یہ روم گئے ہوئے تھے اس دوران ان کے کزن داؤد خان نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا دیا۔انہیں 2002 تک جلاوطنی میں رہنا پڑا۔ ان کا چالیس سالہ دورِ حکومت پوری أفغان تاریخ کا سب سے پرامن عرصہ جانا جاتا ہے۔طویل علالت کے بعد ظاہر شاہ نے 2007 میں 92 سال کی عمر میں وفات پائی۔

    داؤد خان۔۔
    ظاہر شاہ کے دورِحکومت میں دو مرتبہ وزیرِاعظم رہنے والے داؤد خان 1973 میں ظاہر شاہ کی حکومت گرانے کے بعد پہلے صدر بنے۔
    1978 میں سویت یونین کے بننے کے بعد افغان خطے میں آنے والے انقلابِ ثور کے بعد داؤد خان کو اپنے خاندان کے بیشتر افراد سمیت ظالمانہ حملے میں اس وقت کی انقلابی جماعت پی ڈی پی اے کے افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ انقلابِ ثور کی تنظیم میں شامل تین افراد نور محمد ترکئی ، حفیظ اللہ امین اور ببرک کمال کا کردار کلیدی تھا۔
    داؤد خان اور خاندان کی باقیات 2008 میں ایک اجتماعی قبر سے ملے تھے جنہیں بعد میں کابل میں دفنا دیا گیا تھا۔

    نور محمد ترکئی۔۔
    انقلابِ ثور کے تین مرکزی کرداروں میں سے ایک نور محمد ترکئی تھے۔ یہ بمشکل ایک سال کا عرصہ ہی صدارت کے عہدے پر رہ سکے۔ اس ایک سالہ دورِ حکومت میں نور محمد نے قتل و غارت کی ندیاں بہا دیں تھیں۔ انقلابِ چور کی مخالفت کرنے والے ہر افغان کو کونے کونے سے ڈھونڈ کر بدلے لینے میں نور محمد نے کوئی کسر نہیں اٹھائی تھی۔
    حیران کن بات یہ ہے کہ انقلاب کے ساتھی اور داؤد خان کے تختے کو الٹانے والے حفیظ اللہ نے ہی ستمبر 1979 میں تختہ الٹا اور 8 اکتوبر 1979 کو قتل کر دیا۔

    حفیظ اللہ امین۔۔

    ان کا انجام نور محمد ترکئی سے بھی بد تر نکلا۔سویت یونین کو شک تھا کہ حفیظ اللہ کے تانے بانے امریکی ایجنسی سی آئی اے سے ملتے ہیں، دسمبر 1979 میں مشہورِ زمانہ آپریشن سویت 333 میں انکو مار دیا گیا۔

    ببرک کرمال۔۔

    ببرک کرمال جو انقلابِ ثور کے تیسرے کردار تھے، انہوں نے جب قیادت سنبھالی تو انکا عرصہِ حکومت 7 سالہ تھا۔یہ سویت یونین کی کٹھ پتلی کے طور پر جانے جاتے تھے۔
    1980 کی دہائی میں جب افغان مجاہدین نے پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب کے تعاون سے سویت یونین سے لڑنا شروع کیا تو ببرک کرمال پر سویت پریشر بڑھنا شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں انکو استعفیٰ دینا پڑا اور 1996 میں کینسر سے وفات پائی۔

    نجیب اللہ ۔۔
    روسی جاسوس ایجنسی کے تربیت یافتہ نجیب اللہ نے ببرک کرمال کی جگہ جب حکومت سنبھالی تو یہ اس وقت کے اشرف غنی ثابت ہوئے، جب مجاہدین باقی سارا افغانستان اپنے نام کرتے جا رہے تھے تو نجیب نے کابل کو سنبھالنے میں بہت مزاحمت کی، آخر کار اپنے ہی دوست جنرل دوستم نے جب مجاہدین سے ہاتھ ملایا تو نجیب سے روسیوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا، بالآخر نجیب کو 1992 میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پناہ لینا پڑی۔ بہت مزاحمت کے بعد نجیب نے طالبان کے کہنے پر استعفیٰ دیا اور بھارت بھاگنے کی کوشش میں ناکام ہوئے۔ 1996 میں طالبان نے انہیں اور ان کے بھائی کو اقوامِ متحدہ کی عمارت سے گھسیٹ کر نکالا اور پھانسی پر لٹکا دیااور کئی دنوں تک کابل کے مرکز میں لٹکے رہے۔
    ملا عمر نے اس وقت نجیب کے بارے میں کہا تھا کہ، "ہم نے اسے اس لئے مارا کیونکہ یہ ہمارے لوگوں کا قاتل تھا”

    برہان الدین ربانی۔۔۔
    1992 میں سویت یونین کے انخلا کے بعد یہ ایک سال تک افغانستان کے صدر رہے، ان کے دورِ حکومت میں کابل سمیت افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں طالبان بطور حکمران ابھر کر آئے، ستمبر 2011 میں برہان الدین ربانی کو ایک طالبان خود کش حملہ آور نے پگڑی میں بم رکھ کر ان کی رہائش گاہ پر مار دیا تھا۔

    ملا عمر۔۔۔
    90 کی دہائی اور برہان الدین کے خانہ جنگی کے دور کے بعد طالبان کے دور میں ملا عمر افغانستان کے حکمران بنے، انکی حکومت کو پاکستان نے تسلیم کیا جبکہ امریکہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔11/9 کے بعد اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوا۔ انکے مرنے کے دو سال بعد دنیا کو انکے مرنے کا پتہ چلا تھا۔

    حامد کرزئی۔۔۔
    2001 سے 2014 تک امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی تھے۔ جو اب بھی کابل میں طالبان کے ساتھ موجود ہیں جبکہ اشرف غنی سینکڑوں ملین ڈالروں سمیت ملک سے بھاگ چکے ہیں۔

    اشرف غنی۔۔
    اشرف غنی کو اب کون نہیں جانتا۔۔ حامد کرزئی کے بعد ڈالروں سمیت ملک سے بھاگنے والے اشرف غنی کو افغان تاریخ میں اب صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    اگر گزشتہ 50 سالہ تاریخ کو ہی دیکھ لیا جائے تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ افغانستان کی مٹی ہی ایسی ہے کہ یہاں سے روسی بھی رسوا ہوئے اور امریکہ بھی بے سرو سامان نکلا، حالانکہ جو کوئی بھی حکمران عوام کی امنگوں سے نہیں آیا تو افغان عوام نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خطے میں امن و سلامتی کی فضا ہوگی اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا ایک امن کا گہوارا بنے گی۔ آمین!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    @Kirankhan9654

  • افغان حکومت کا قیام اور تشکیل ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغان حکومت کا قیام اور تشکیل ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان میں مضبوط اسلامی قومی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہو چکا ہے افغان طالبان کی موجودہ حکمت عملی ماضی سے مختلف ہے طالبان کے نائب امیر اور قطر میں سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر المعروف ملا برادرکو سونپی جا رہی ہے۔ ملا عبدالغنی برادر کو ملا برادر” کے نام سے جانا جاتا ہے جو 1994 میں افغانستان میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین بھی رہے ملا عبدالغنی برادر 1968 میں افغانستان کے صوبے ارزوگان میں پیدا ہوئے ان کا تعلق افغانستان کے انتہائی بااثر پوپلزئی قبیلے سے ہے، وہ کئی سال افغان صوبے قندھار میں مقیم رہے اور طالبان دور میں ہرات کے گورنر رہنے کے علاوہ طالبان فوج کے سربراہ بھی رہے چکے ہیں ۔ 2001 میں ملا عبدالغنی برادر نائب وزیر دفاع بھی رہے

    فروری 2010 میں پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی میں ملا برادر کو پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور افغان حکومت سے امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اُنہیں 2018 میں رہا کر دیا گیا۔ 2020 میں ملا عبدالغنی برادر نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد ہی افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اگر طالبان کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو سربراہ امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ سابق چیف جسٹس طالبان اور 2016 سے طالبان کے سربراہ بھی ہیں اور سیاسی ، مذہبی عسکری امور پر حتمی فیصلے کے مجاز ہیں نائب ملا محمد یقیوب بانی طالبان ملا عمر کے صاحبزادے ہیں اور ملٹری آپریشنل کمانڈر ہیں نائب امیر سراج حقانی سربراہ حقانی نیٹ ورک ہیں اس کے علاوہ سنئیر جج ملا عبدالحکیم نگران طالبان عدالتی نظام اور دوحہ مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرتے ہیں لیڈر شپ کونسل یعنی رہبری شوری طالبان اعلی ترین مشاورتی فیصلہ ساز اتھارٹی 26 اراکین پر مشتمل ہے۔

    طالبان کو اپنی حکومت کے قیام سے جلد ہی افغانستان میں موجود تجربہ کار غیر ملکی عسکریت پسندوں کی حمایت میسر آئی۔ اس حمایت نے طالبان کو عسکری محاذ اور ملک پر اپنا قبضہ جمانے میں بھرپور مدد فراہم کی۔طالبان کے افغانستان کے کنٹرول کے بعد تمام امریکی سفارتی اہلکاروں کو کابل سے نکال لیا گیا ہے دوسری طرف یہ ترجمان وائٹ ہاوس کا کہنا تھا کہ طالبان نے شہریوں کو بحفاطت ائیر پورٹ جانے کی اجازت دی امید کرتے ہیں طالبان اپنے وعدوں کو پورا کرے گئے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے افغانستان میں طالبان کی فتح قرار دیا اور تسلیم بھی کر لیا۔ دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم نے طالبان کی حکومت نہ مانے کا اعلان کیا ہے ان کا موقف یہ تھا کہ منتخب افغان حکومت کو طاقت کے زور پر ہٹایا گیا برطانوی وزیرخارجہ نے افغان حکومت کے قیام کی امید ظاہر کی ہے

    پاکستان سےزیادہ افغانستان میں امن کا خواہشمند کوئی ملک ‏نہیں، موجودہ صورتحال میں افغان رہنماؤں پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان نے طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف اور دہشتگردی کے لیے ‏استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔پاکستان افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے پاکستان افغانستان میں دیر پا امن کے لئے بھرپور اقدامات کرنے کے لئے تیار ہیں افغان وفد نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران پاک فوج کی قربانیوں اور کامیابیوں کو سہراہا اور ساتھ ہی پاک فوج کی افغانستان کی سماجی واقتصادی ترقی اور امن کے لئے کوششوں کو قابل قدر قرار دیا۔

    email saima.arynews@gmail.com

  • امریکہ نے کیا غلطیاں کیں ؟؟ طالبان اچھے کیوں ہیں ؟؟ طعنے دینے والوں کو صاف جواب

    امریکہ نے کیا غلطیاں کیں ؟؟ طالبان اچھے کیوں ہیں ؟؟ طعنے دینے والوں کو صاف جواب

    ۔ اچھا ایک چیز جو میں کمنٹس میں ، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پرمسلسل دیکھ رہا ہوں کہ لوگ بہت طعنے دے رہے ہیں کہ شاید ہم طالبان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ مشورے دے رہے ہیں کہ اتنے اچھے آپکو طالبان اور ان کا نظام لگتا ہے تو افغانستان چلے جائیں تو ۔ میں آپکو بتاوں ہو کیا رہا ہے ۔

    ۔ ہم بھی اور بھی کئی لوگ کئی دنوں سے کہہ رہے تھے کہ یہ نظر آرہا ہے کہ طالبان نے افغانستان پر غلبہ حاصل کرکے وہاں حکومت بنا لینی ہے تو ہم نے رپورٹ تو کرنا ہے جو دیکھائی دے رہا ہے ۔ کوئی اور فورس آتی ہے اور وہ طالبان کو ہٹاتی ہے تو ہم وہ بھی رپورٹ کریں گے ۔ تو اس چیز کو ذہن میں رکھیں ۔ اب اچھی چیزیں سامنے آرہی ہیں تو اچھا ہی رپورٹ کریں گے ۔ جب بری آئیں گی تو بڑا بھی رپورٹ کریں گے ۔۔ دوسرا جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم بڑے خوش ہیں طالبان سے اور وہ اتنے ہی اچھے ہیں تو آپ وہاں چلے جائیں تو اس کی مثال کچھ یوں ہے ۔ کہ ہم تو فن لینڈ سے بھی بڑے خوش ہیں ۔ ہم تو ناروے سے بھی بہت خوش ہیں ۔ بڑے اچھے ملک ہیں ۔ بڑے خوبصورت ملک ہیں ۔ انسانی حقوق کا ان ملکوں میں بہت خیال رکھا جاتا ہے ۔ لیکن ہم وہاں نہیں جاتے ۔ تومیری نظر میں یہ بیکار کی باتیں ہیں ۔ جو لوگوں کو خوشی ہورہی ہے ۔ جو memesبن رہی ہیں ۔ لطیفے چل رہے ہیں ۔ پرانے آڈیو اور ویڈیو کلپس اس حوالے سے وائرل ہورہے ہیں وہ لوگوں کو یہ خوشی نہیں کہ طالبان جیت گئے ہیں ۔ طالبان نے معرکہ سر کر لیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ ہار گیا ہے ۔ اس کے بڑے بول زمین بوس ہونے پر لوگ خوش ہیں ۔ وہ جو امریکہ کہتا تھا کہ either you are with us or against usاس پر خوش ہورہے ہیں کہ امریکہ زلیل ورسوا ہوکریہاں سے نکالا ہے ۔

    ۔ اسی لیے اب تو جوبائیڈن بھی کہہ رہا ہے ۔ کہ افغانستان کو درست طور پر سپرپاورز کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں جو کچھ ہم نے گزشتہ 20 سالوں میں دیکھا، اس سے ثابت ہو گیا کہ وہاں فوجی طاقت سے کوئی تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے۔ یعنی اب امریکہ مان گیا ہے کہ اس کی پالیسی غلط تھی ۔ بش نے غلط حملہ کیا افغانستان پر ۔ ۔ تو آج سے چالیس سال پہلے جو rambo
    کی فلم آئی تھی ۔ اس میں اس نے کہا تھا اس وقت ان کو سن لینا تھا ۔ کہ افغانستان سپر پاور کا قبرستان ہے ۔ اب وہ جو سارے لوگ اعتراض کر رہے تھے اور تنقید کررہے تھے وہ جا کرجوبائیڈن کو برا بھلا کہیں ۔ ۔ اس چیز پر بات کریں نہ یہ کہ امریکی کتنے موقع پرست ہیں کہ اپنی تمام ہار کی ذمہ داری جوبائیڈن نے افغان فوج پر ڈال دی ہے ۔ کہ مجھ کو افغان لیڈر شپ کہہ رہی تھی کہ ہم لڑیں گے یہ کریں وہ کریں گے ۔ مگر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ تو ہمارا کیا قصور ۔ ۔ تو امریکہ ، اسکے حمایتوں اور امریکی انتظامیہ کو ذرا آئینہ دیکھا دوں کہ یہ جو مغرب کا رونا دھونا ہے کہ بندوق کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کرناجائز ہے۔تو جب افغانستان پر حملہ ہوا ، عراق پر حملہ ہوا ، لیبیا پر حملہ ہوا وہاں امریکہ نے کیسے تبدیلی لانے کی کوشش کی ۔ ۔ بندوق کی زور پر ۔۔ تو یہ لاجک اپنی موت آپ مر جاتی ہے ۔ اور عراق یا لیبیا میں کون سے weapons of mass destruction مل گئے ۔ ساتھ ہی ایران نے کتنے ممالک پر حملہ کر دیا ہے جو پابندیاں لگائی گئیں ۔ جبکہ دیکھا جائے تو امریکہ نے ہی کیا دو دفعہ نیو کلیئرحملے ۔

    ۔ اب آپ خود سوچیں کہ آپ کی پالیسی جو ہے وہ کتنی دیر پا اور دوراندیش ہے ۔ اب یہ امریکہ اور مغرب نے سوچنا ہے ۔ ہم تو ویسے ہی third world country ہیں ۔ ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔ کیوبا ، ویتنام ، عراق ، ایران ، لیبیا ، شام ہر جگہ امریکہ کو مار پڑی ہے ۔ تو رہنے دو نہ یار ۔ امریکہ نے ہمیشہ صرف تباہی کی ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو چکی ہے ۔ اب اس کے اخلاقی جواز یا غیر اخلاقی جواز کی بحث اپنی اہمیت کھو چکی ہے ۔ کچھ لوگ اسے آج مان لیں گے اور کچھ کل ۔ ۔ جیسا کہ چین اور روس نے طالبان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا اعلان کردیا ہے تو ایران کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی شکست سے امن کا راستہ ہموارہوگیا ہے ۔ یہاں تک کہ ترکی نے کابل ائیرپورٹ کی سکیورٹی سنبھالنے کا منصوبہ ترک کر دیا۔ یعنی وہ بھی اب پیچھے ہٹ گیا ہے ۔ امریکہ بھی green signal دے چکا ہے کہ وہ بھی طالبان کی حکومت کو مان لے گا اگر طالبان اسکو کچھ تسلیاں کروادیں ۔

    ۔ اچھا یہ اب حقیقت ہے کہ طالبان کے جیتنے میں اور طالبان کی گورننس میں زمین آسمان کا فرق ہوگا ۔ اس بار آپ دیکھیں تو طالبان بہت کوشش کر رہے ہیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ پہلے والے طالبان نہیں ہیں ۔ اس سلسلے میں بہت سے ایسے اقدامات بھی کرتے دیکھائی دے رہے ہیں جیسے عورتوں کے متعلق ، دیگر فرقوں کے حوالے سے ، داڑھی کے حوالے ۔۔۔ ۔ چلیں دو چیزوں کا فرق آپکو بتاتا ہوں کہ کابل ایئرپورٹ کا انتظام وانصرام امریکہ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے ۔ وہاں آپ دیکھ لیں کیا ۔ قیامت کا منظر برپا ہے ۔ کہ بیچارے وہ افغانی جو ان کی غلامی کرتے رہے جو ان کو سپورٹ کرتے رہے وہ جہازوں سے نیچے گر رہے ہیں۔ ان کو امریکی وہاں پر گولیاں مار رہے ہیں ۔ پر دوسری جانب وہ اپنے پالتو کتوں تک کو جہازوں کی سیٹوں پر بیٹھا کر لے جا رہے ہیں ۔ اور یہ کوئی مفروضہ یا سنی سنائی خبر نہیں ہے مستند افغان میڈیا رپورٹ کر رہا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب کابل کی سڑکوں پر سکون ہے۔ کاروبار ، سکول سب کچھ کھلا ہے ۔ محرم کے حوالے سے شعیہ کمیونٹی کو اجازت ہے کہ وہ جلوس نکالے ۔ ۔ طالبان رہنما مختلف ہسپتالوں کا دورہ کر رہے ہیں ڈاکٹرز کو کام جاری رکھنے اور تحفظ کی یقین دہانی کروارہے ہیں ۔ تاجر برداری سے مل رہے ہیں ان کو بھی تسلی دے رہے ہیں کہ آپ افغانستان چھوڑ کر نہ جائیں۔ ۔ ایک دن پہلے لوٹ مار کے حوالے سے خبر آتی ہے اگلے ہی روز وہ مسلح افراد گرفتار ہو جاتے ہیں جو طالبان کے نام پر لوٹ مار کر رہے تھے۔ ۔ یہاں تک کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کہہ رہے ہیں کہ طالبان سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔۔ تو طالبان کافی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے سے متعلق ہر پراپیگنڈہ کا اثر زائل کریں اور دنیا کو بتائیں کہ اب وہ نوے کی دہائی والے نہیں ۔ یہ بھی بدل چکے ہیں ۔ ۔ پر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ان کی مرکزی سوچ بدل جائے گی ۔ مرکزی سوچ تو وہ ہی ہے ان کی ۔ کہ طالبان افغانستان کو بنائیں گے تو وہ ہی اسلامی امارات ۔ جس کے لیے وہ کئی دہائیوں سے جدوجہد کررہے ہیں ۔ ۔ میری نظر میں مغربی میڈیا یا ممالک اس وجہ سے خوف زدہ ہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں ایک نفراسٹکچر بنا دیا ہوا ہے ۔ جیسے سٹرکیں ، پل ، ایئر پورٹس وغیرہ ۔ افغانستان کے خزانے میں بھی کوئی چار بلین ڈالرز ہیں ۔ اور اب افغانستان پر ایک آنے کا قرضہ نہیں ۔ تو اگر وہ پانچ سات بلین ڈالرز قرضہ بھی لے لیتے ہیں اور وہ چار بلین اپنا بھی لگاتے ہیں تو حقیقت میں تو افغانستان ایک لش پش جگہ بن جائے گی ۔ ۔ ایسا ہوجاتا ہے تو افغانستان طالبان کی قیادت میں ایک ماڈل مسلم ریاست بن جائے گی ۔ دراصل یہ چیز مغرب کو خوف زدہ کرتی ہے ۔ کیونکہ یوں ہو گیا تو ہر مسلمان کہے گا کہ ریاست ایسی ہونی چاہیے کیونکہ انکا system of justice عام آدمی کو apeal کرتا ہے ۔ کیونکہ عام آدمی کو آپ جتنا مرضی قانون سمجھا لیں ۔ پڑھا لیں ۔ وہ کہتا ہے کہ یار مجھے چالیس سال ہوگئے ہیں ۔ میرے بزرگ بھی فوت ہوگئے ہیں لیکن ہماری زمین کا مقدمہ وہیں ہے ۔ تو اس کو نہیں سمجھ آتی یہ بات ۔

    ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ والا سسٹم خراب ہے اور طالبان والا اچھا ہے ۔ یا طالبان کا خراب ہے اور یہ والا سسٹم اچھا ہے ۔ ۔ بات کی جائے تو یہ درست ہے طاقت کا توازن اس وقت طالبان کے حق میں ہے۔ لیکن صرف طاقت کے بل بوتے پر طالبان، افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکتے، کیونکہ خود امریکہ اور نیٹو ممالک اس حکمت عملی میں ناکام ہو چکے ہیں۔۔ بیس سال پہلے اور آج کے طالبان میں فرق یہ ہے کہ اس بار وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ بیس سال پہلے وہ جنگ و جدال کو ہی ہر مسئلے کا حل سمجھتے تھے۔۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان کے طالبان نے خانہ جنگی سے گریز اور اپنے رقیبوں ، دشمنوں کو عام معافی دینے کا جو اقدام اٹھایا ہے۔ وہ ایسا اقدام ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ساری دنیا، طالبان کی اس دریا دلی اور ”نئی بصیرت“ پر حیران ہے۔ خدا کرے یہ سلسلہ یوں ہی آگے بڑھے اور افغانستان کے نئے حکمران افغان عوام کے خیر خواہ ہی ثابت ہوں ۔

  • افغان طالبان فاتح، جنگ بندی کا اعلان ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغان طالبان فاتح، جنگ بندی کا اعلان ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم ترین ملک ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے ، مشترکہ اعتقاد اور باہمی دلچسپی پاکستان کے افغانستان کی طرف رکاوٹ بننےکے بنیادی عوامل ہیں۔ یہ جنوب اور وسطی ایشیا پر مشتمل مجموعی سڑکوں پر محل وقوع ہے جو پاکستان کے لئے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    تاہم ، افغانستان کے اندرونی اور بیرونی مفادات کی بنا پر عدم تعاون کا رویہ خاص طور پر سرد جنگ کے نتیجے میں افغانستان کی ترقی کا رخ موڑ گیا۔ افغانستان پر طالبان کی حکمرانی کے چار سالوں کے بعد ، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کبھی بھی مستثنیٰ نہیں تھے

    جس کی گہری جڑیں تاریخی روابط ، روایتی وابستگی ، معاشرتی تفاوت کی مماثلت ، مشترکہ مذہبی شناخت ، نسلی ثقافتی غلامی اور اسٹریٹجک شراکت داری سبھی تقسیم ہند سے قبل کے برصغیر کے زمانے کی ہیں۔ اس کے باوجود ، تقسیم کے بعد کی علاقائی حرکات اور برطانوی راج اور افغانستان کے مابین امور کی میراث میں ، دونوں کے مابین دوطرفہ تعلقات ہیں ، جس میں اتار چڑھاؤ نمایاں ہے۔ پھر بھی لوگوں سے لوگوں کی سطح پر وابستگی اور گرمجوشی اگر عام نہیں تو عام طور پر خوشگوار رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد ، امریکہ کی سربراہی میں بین الاقوامی اتحاد نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس نے طالبان کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور تب سے ہی افغانستان کا سیاسی چہرہ اوورٹ جبر اور خفیہ سازشوں کے ذریعے سنبھال لیا گیا۔

    15 اگست کو افغان طالبان نے 22 صوبوں پر کنڑول حاصل کرنے کے بعد کابل کا گھیراو کیا طالبان نے زیر قبضہ صوبوں میں محکمہ انٹیلی جنس ، گورنر کا دفاتر، پولیس ہیڈ کواٹرز اور مقامی جیلوں پر کنٹرول حاصل کیا ساتھ ہی واشنگٹن نے امریکی سفارت خانے کو تمام اہم اور حساس دستاویزات کو تلف کردینے کا حکم بھی دیا اور سٹاف کو بحفاظت نکالنے کے لئے اپنے فوجی ائیر پورٹ پر تعینات بھی کئے۔پینٹا گون کے سیکرٹری اطلاعات جان کربی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال بہت خراب ہے ہم طالبان کی تیز رفتار پیس قدمی سے پریشان ہیں۔

    امن اقتدار کی منتقلی کے معاہدے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اپنی ٹیم اور اہلخانہ کے ساتھ ہمراہ ملک سے فرار ہو ئےطالبان کی کابل شہر میں انٹری ہوتے ہی افراتفری پھیل گئی طالبان قیادت نے لوٹ مار روکنے کے لئے اور امن وا مان قائم کرنے کےلئے اپنے کمانڈرز اور جنگجووں کو تعینات کر دیا۔20 سال بعد قبضہ کرنے کے ساتھ ہی افغانستان میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا ترجمان سہیل شاہین نے بیان میں کہا طالبان کو ہدایت دی گئی کہ بغیر اجازت گھروں میں داخل نا ہوا جائے کسی کی جان ، مال اور عزت کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ افغانستان میں 16 اگست کی صبح صدرارتی محل میں سورت النصر کی تلاوت اور دورد شریف کا ورد بھی کیا گیا ساتھ ہی افغان طالبان نے سرکاری ٹی وی پر نشریات میں شہریوں سے پر امن رہنے کو کہا کابل ائیر پورٹ سے تمام پروازیں منسوخ کر دی ۔

    ائیر پورٹ پر موجود عینی شاہدین کے مطابق کابل ائیر پورٹ میں ہزاروں کی تعداد میں افراد موجود تھے جو کابل چھوڑنے کی وجہ سے جہازوں میں سوار ہونے کی کوشش کرتے رہے اور تین نوجوان ایک G17 طیارے کے پہیوں یا سامان رکھنے والے خانے میں چمٹ گئے جس کی وجہ سے ان کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔روس چین ایران نے طالبان حکومت کا خیر مقدم کیا اور دوستانہ تعلقات کا اعلان کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستا ن پر افغانستان کی صورتحال کا اثرا کیا ہو گا اپنا بارڈر سکیور کرنے کا ہوم ورک مکمل کر چکا ہے ٹی ٹی پی یا تو ختم ہوجائے گی ضم ہو جائے گی آنے والے دن پاکستان کے لیے بہتری زیادہ اور خطرات کم ہیں اشرف غنی کے ملک سے فرار اور طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی ‏صورتحال پر پاکستان نے پالیسی بیان جاری کیا طالبان لیڈر شپ کو کامیابی مل چکی ہے پاکستان اب کیا اقدامات کرے گا۔

    امریکہ کا افغانستان سے چلا جانا پورے خطے پاکستان روس چین کے لیے ایک امید اور خوشخبری اعلان ہے بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتا رہا کس طرح بھارت افغانستان میں امن کو نقصان پہنچاتا رہا .

    طالبان کے کنڑول کے بعد کابل کی صورتحال اب کنٹرول ہو رہی ہے اب امریکہ کی فوجی شکست اور اس کے انخلاء کو افغانستان میں زندگی ، سلامتی اور پائیدار امن کی بحالی کا موقع بننا چاہیے افغانستان میں استحکام کی بحالی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور ایران چاہتا ہے پڑوسی اور برادر ملک کی وجہ سے افغانستان میں تمام گروہ قومی معاہدہ تشکیل دیں۔ طالبان 2001 کے بعد سے اب تک اپنی سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں یہ وہ طالبان ہیں یہ جارحانہ انداز میں پیش قدمی کرنے اور ملک کو واپس لینے کی صلاصیت رکھتے ہیں امریکہ نے جدید ترین فوجی سازوسامان ، 3لاکھ مضبوط افواج اور ایک فضائی قوت پر اربوں ڈالر خرچ کِیے جو کہ طالبان کے پاس نہیں تھے لیکن پھر فتح ان کی ہوئی ۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    ایک طرف جہاں امریکا نے اتحادی افواج سمیت 31 اگست تک مکمل طور پر افغانستان چھوڑ جانے کا اعلان کیا ہے تو وہیں امریکا نے عراق سے بھی سال 2021 کے آخر تک اپنی افواج نکال کر عراق میں جنگی مشن ختم کرکے آئندہ صرف عراقی افواج کی تربیت،مشورہ سازی اور داعش کے خلاف درکار ضروری مدد فراہم کرنے تک محدود رہنے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی حکومت کا بھی دعوی ہے کہ عراقی افواج میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کر سکیں اس لئے عراق میں قیام امن کے لئے اب امریکی افواج کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم امریکا چاہے تو عراقی افواج کو انسداد دہشتگردی کی تربیت اور مشاورت میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ امریکا اور عراق اپریل 2021 میں امریکی فوج کے مشن کو تبدیل کرنے پر متفق ہوئے تھے اور تب یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکا اپنی افواج عراق سے نکال لے گا تاہم بعض وجوہات کی بناء پر اس وقت امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ درحقیقت عراق میں تعینات امریکی افواج کے مشن کی نوعیت تبدیل کی گئی ہے اور کوئی امریکی فوجی واپس نہیں بلایا جا رہا کیونکہ امریکا خطے میں اپنی موجودگی ناگزیر سمجھتا ہے اور اس مقصد کے لئے امریکا نے تمام خلیجی ممالک میں اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ امریکا میں بعض لوگ امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کے حامی تو ضرور ہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ امریکا کے ہاتھ سے عراق نکل جائے شاید اسی لئے امریکہ اپنے کچھ فوجی عراق میں موجود رکھنا چاہ رہا ہے تاہم یہ تعداد ابھی واضح نہیں۔

    بظاہر عراق میں امریکی فوجیوں اور ماہرین کے موجود رہنے کا مطلب یہی ہے کہ عراق میں امریکی مداخلت برقرار رہے گی۔ امریکی صدر جوبائیڈن سمجھتے ہیں کہ امریکا کو اب مشرق وسطی سے اپنی افواج نکال کر چین اور روس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنے پر ذیادہ توجہ دینی چاہئے تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ افغانستان کی طرح عراق سے بھی امریکا اپنی افواج نکالنے پر مجبور ہوا ہے نہ کہ امریکا کو اپنے فوجی مشن میں کامیابی ملی ہے۔ سال 2003 میں عراق میں 1 لاکھ 60 ہزار امریکی اور ان کے اتحادی فوجی موجود تھے مگر اب یہ تعداد صرف 25 سو رہ گئی ہے جبکہ کچھ سپیشل فورسز بھی عراق میں موجود ہیں جو داعش کا مقابلہ کرنے میں مقامی افواج کی مدد کرتے ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی خاصی متنازعہ بن چکی ہے بالخصوص جنوری 2020 میں جب ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو عراقی ملیشیاء کے لیڈر ابو مہندی سمیت بغداد میں مارا گیا تو عراقی عوام نے امریکا کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ عراقی پارلیمںنٹ میں بھی قرارداد پاس کی گئی جس میں امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ سال 2003 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ذخیرہ کرنے اور عراق میں بین الاقوامی دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہونے کے الزامات لگاتے ہوئے امریکی فوج کے اتحادیوں سمیت عراق پر حملہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے یوں تو امریکی صدر جارج بش نے عراق کو امن کا گہوارہ بنانے کے بلند و بانگ دعوے کئے تھے مگر عراق پر امریکی یلغار کے بعد کشیدگی اور بدامنی میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا اور خانہ جنگی برپا ہو گئی

    عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے حق میں امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سول سوسائٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے جبکہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے بھی عراق سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا یوں سال 2011 میں امریکی فوج عراق سے چلی گئی تاہم داعش کی طرف سے عراق کے کچھ شہروں پر قبضے کے بعد عراقی حکومت نے دوبارہ امریکا سے مدد طلب کی تو سال 2014 میں دوبارہ عراق میں امریکی فوج پہنچ گئی اسی تناظر میں اب بھی بعض حلقوں کا ماننا ہے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد عراق میں مختلف گروہوں کے مابین اقتدار کے لئے پانے جانے والے اختلافات خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں اور یہ صورتحال امریکی افواج کے عراق میں مزید قیام کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی امریکا اپنی افواج کے عراق سے انخلاء اور سالوں پر محیط عراق میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہے یا پھر داعش سمیت دیگر شرپسند قوتوں کو جواز بنا کر خلیجی ممالک میں اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنے کے لئے امریکی اور اتحادی افواج کی عراق سمیت دیگر خلیجی ممالک میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے نیا گیم پلان سامنے لایا جائے گا۔
    @MustansarPK