Baaghi TV

Category: متفرق

  • میری دھرتی کے محافظ .تحریر: فروا نذیر

    میری دھرتی کے محافظ .تحریر: فروا نذیر

    انسان ایک معاشرتی جانور ہے۔ انسان اور حیوان میں فرق صرف شعور کا ہے۔ انسان نے جب شعور حاصل کیا تو یہ دوسری مخلوقات سے افضل اور نمایاں ہو گیا۔ شعور کا تقاضہ ہے کہ ایک خاص تہذیب اور رہن سہن اختیار کیا جائے۔ جب مختلف تہذیبیں وجود میں آتی ہیں تو مختلف قومیں، ممالک اور معاشرے بنتے ہیں۔ جب معاشرے اور قومیں الگ الگ ہوتی ہیں تو ان کے مفادات بھی علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اور جب مفادات علیحدہ ہوں تو اپنے مفادات اور حدود کا دفاع لازم ہو جاتا ہے۔
    پاکستان ہمارا ملک ہے۔ ہمارا اپنا ایک الگ نظریہ، اپنی جغرافیائی حدود، اپنا ماضی اور اپنی اخلاقی روایات ہیں۔ پاکستان کے بھی اپنے مفادات اور محافظ ہیں۔ پاکستان روزِ اول سے ہی اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ چنانچہ پاکستان کو پہلے دن سے ہی مختلف سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارا سب سے پہلا دشمن ہمارا ہی ہمسایہ بنا۔ پاکستان کی شہہ رگ ہی پاکستان کے حوالے نہیں کی گئی۔ ان سب حالات میں وسائل کی کمی کے باوجود پاکستان کو اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک سے محفوظ رکھنا واقعی جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ کام افواجِ پاکستان کے ذریعے کیا۔ افواجِ پاکستان شروع سے ہی انتہائی کم وسائل کے باوجود احسن طریقے سے پاکستان کا دفاع کرتی آ رہی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان کے حصے میں ایک بھی آرڈیننس فیکٹری نہیں آئی۔ لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان نے ہمت نہیں ہاری اور وجود میں آنے کے ایک سال بعد ہی لڑی جانے والی جنگ میں کشمیر کا ایک بڑا حصہ بھارت سے آزاد کرا لیا۔ اس کے بعد کی جنگوں میں بھی پاکستان نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے۔
    آخر کون ہیں وہ جو دشمن کے توپوں کے سامنے سینہ سپر کرتے ہیں؟ کیا وہ فرشتے ہیں؟ جنات ہیں؟ یا کوئی اور نادیدہ مخلوق؟
    وہ افواجِ پاکستان کے جوان ہیں۔ جو زمین پہ ہوں تو شیر، فضا میں ہوں تو شاہین اور پانی میں ہوں تو شارک بن جاتے ہیں۔ حالت جنگ میں پہلے مورچوں پہ موجود ہوتے ہیں اور دشمن کے گولوں کو اپنے سینے پہ روکتے ہیں۔ لیکن مادرِ وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے۔ جب حالتِ امن ہو تو اکثر اوقات سول اداروں کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی قدرتی آفت آئے یا کہیں ایمرجنسی ہو جائے، ایک ایسا فقرہ ہے جسے سننے کے بعد ہر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کی سانس میں سانس آ جاتی ہے اور وہ ایک فقرہ یہ ہے:-
    "افواجِ پاکستان نے کنٹرول سنبھال لیا”
    بارڈر پہ جنگ ہو یا شہری علاقوں میں زلزلہ، دیہات میں طوفان ہو یا قصبوں کی آگ، ہر جگہ افواجِ پاکستان کے سپوت ہی پہلی صفوں میں ملتے ہیں۔ ہر جگہ قربانی اور دفاعِ وطن کے جذبے سے سرشار یہ جوان دفاعِ وطن میں مگن ہیں۔ کہیں کندھوں پہ رائفل لئے ہوئے مورچوں کی حفاظت کر رہے ہیں تو تو کہیں منفی بیس ڈگری کے درجۂ حرارت میں پاکستان کے تاج سیاچن کی چوٹیوں کے دفاع میں مگن ہیں۔ کہیں فضاؤں اور سمندروں کا سینہ چیرتے ہوئے وطن کے رکھوالے بنے ہوئے ہیں تو کہیں گمنام مجاہد بن کر اس دھرتی ماں کی حفاظت کے کئے گئے وعدے کی تکمیل کے لئے دشمنوں کے دیس میں بھیس بدلے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی بھی گمنامی میں گزرتی ہے اور موت بھی گمنامی میں آتی ہے۔ اس دھرتی ماں کے لئے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے۔
    صلیبی جنگوں کے زمانے میں صلیبیوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کے نت نئے طریقے آزمائے اور ایجاد کئے۔ جن میں ایک یہ بھی تھا کہ افواج اور عوام میں اگر دوری پیدا کر دی جائے تو اس ملک پر آسانی سے قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ یہ سلسلہ اسی وقت سے شروع ہو چکا ہے۔ کبھی کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی کیا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ وطن بیزار لوگ افواجِ پاکستان پر تنقید کرنا ثواب سمجھتے ہیں اور ہماری بھولی بھالی عوام ان پر یقین کر کے مزید آگے پھیلانے میں بھی معاون بن جاتی ہے۔ جیسے پچھلے دنوں سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے بارے میں ایک افواہ اڑائی گئی کہ انہوں نے آسٹریلیا میں کوئی جزیرہ خریدا ہے۔ حالانکہ حقیقتاً دنیا میں کہیں بھی اس جزیرے کا کوئی وجود نہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے جنرل (ر) کیانی ایک دن بھی بیرونِ ملک نہیں گئے، وہ راولپنڈی میں اپنے گھر میں رہتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کس حد تک پراپیگنڈہ ہو رہا ہے۔
    دشمن سالانہ اربوں ڈالر اس انفارمیشن وارفیئر پر خرچ کر رہا ہے۔ تاکہ عوام اور افواج کے درمیان تناؤ قائم کیا جا سکے۔
    لیکن ہم نے اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا اپنے خاندان سے دور تپتے صحراؤں میں دن رات دشمن کی گولیوں کے نشانے پہ کھڑے ہو کر دھرتی ماں کی حفاظت پہ ڈٹے ان جوانوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑنا۔
    ایک طاقت ور فوج ہی ایک مضبوط ملک کی علامت ہے۔
    اللہ پاک پاکستان کو قائم و دائم رکھے۔ آمین
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • افغانستان میں ذلت آمیز شکست ۔ جو کہتے تھے پتھروں کے دور میں دھیکل دیں گے ہوئے ذلیل ورسوا !!!

    افغانستان میں ذلت آمیز شکست ۔ جو کہتے تھے پتھروں کے دور میں دھیکل دیں گے ہوئے ذلیل ورسوا !!!

    افغانستان کے حوالے سے اتنی خبریں ہیں کہ ہر پانچ منٹ بعد خبر پرانی ہو جاتی ہے ۔ ہاں البتہ ایک قدر ان خبروں میں مشترک ہے کہ یہ خبریں اشرف غنی ، مودی اور جوبائیڈن کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

    ۔ اشرف غنی کے گرد تو ویسے ہی گھیرا روز بروز تنگ ہوتا جا رہا ہے ۔ پر اب تو امریکہ کو بھی لالے پڑے ہوئے ہیں کہ پتہ نہیں جب طالبان کابل پر قبضہ کریں گے تو کابل میں اس کے سفارت خانے کا کیا حشر کیا جائے گا ۔ مودی کی بات کی جائے تو بھارت کی تنصیبات اور جنگی آلات سمیٹے اور لپیٹے جا رہے ہیں۔ کہیں ہیلی کاپٹر تو کہیں بھارت کے جنگی جہاز طالبان قبضے میں لے رہے ہیں ۔ اب اس غم میں امریکہ ہو یا بھارت یا پھر ان کی کٹھ پتلی غنی حکومت سب پاکستان کو مودر الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ ہمارے وجہ سے یہ افغانستان میں رسوا ہوگئے ذلیل وخوار ہوگئے ۔

    ۔ ایک لمحے کے لیے چلیں ایسا مان بھی لیں تو پھر بھی امریکہ ، بھارت اور نیٹو ممالک کو ڈوب مرنا چاہیئے کہ پاکستان ہاتھوں دنیا کی سپر پاورز کو شکست ہوگی ۔۔ سی آئی اے ، ایم آئی 6 ، موساد ، را ۔۔۔۔ ان سب ایجنسیوں کو بھی ڈوب مرنا چاہیئے اگر ایسا ہے تو ۔۔ ان تمام ممالک کی فوج کو بھی چوڑیاں پہنچ لینی چاہیئے ۔ اور ان تمام فرسٹ ورلڈ ممالک کی عوام کو اپنی حکومت کو گریبان سے پکڑ لینا چاہیے کہ انھوں نے ہم کو دنیا میں بدنام کروا دیا ۔۔ کہ بیس سالہ جنگ ، 2.3ٹریلین ڈالرز اور دو لاکھ چالیس ہزار ہلاکتوں کے باوجود افغان حکومت بیس دن بھی طالبان کے سامنے نہ کھڑی ہوسکی ۔

    ۔ اور اگر اس سب کے پیچھے پاکستان ہے تو پھر امریکہ سمیت اس کے تمام حواریوں کو کسی صورت سپر پاور رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیئے ۔ جو ایک ملک کی سازش کی وجہ سے ٹریلین ڈالر خرچ کر، بیس سال لگا کر بھی جنگ نہیں جیت سکے ۔ میں آپکو بتاوں کہ یہ سب مغربی میڈیا کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اور اپنی شکست کو مان لینے کی بجائے ۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی ایک مذموم سازش ہے ۔ سچ یہ ہے کہ امریکہ جو ٹریلین ڈالر افغانستان میں لگا کر گیا ہے وہ سب ہوا ہو چکا ہے ۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جو افغان فورسز کو ٹریننگ دی ۔ وہ ایسی ہے کہ وہ صرف سرنڈر کرنا جانتے ہیں ۔ ابھی تک تین لاکھ تو دور کی بات کسی بھی جگہ تین ہزار افغان فوجی بھی طالبان کا سامنا کرتے دیکھائی نہیں دیے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ افغان حکومت اور افغان فوج کرپشن میں نمبرون ہے ۔ جو اسلحہ اور پیسہ ان کو ملتا تھا ۔ وہ افغان فوج تک پہنچتا ہی نہیں تھا ۔ یہ بابر سے باہر ہی بیچ دیا کرتے تھے ۔ اب وہ طالبان کے پاس جاتا تھا کہاں جاتا تھا یہ کام سی آئی اے کا تھا وہ پتہ لگاتی ۔کہ americi tax payerکا پیسہ کہاں غائب ہورہا ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ طالبان جس بھی شہر جا رہے ہیں کوئی مذمت ہوہی نہیں رہی ہے ۔ اشرف غنی حکومت کے گورنر یا تو دوسرے ملکوں میں بھاگ رہے ہیں یا پھر طالبان سے معاہدے کررہے ہیں اور جان بخشی کروا رہے ہیں۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ افغان طالبان نے بڑے شہروں پر قبضہ کیا تو مزاحمت ہی نہ ہوئی اور ان کی مقامی انتظامیہ یہ کہتے ہوئے بری الذمہ ہوتی گئی کہ علاقے کے معززین نے خون ریزی سے بچنے کیلئے فوج ہٹانے کی درخواست کی تھی جو قبول کر لی گئی۔ ۔ پھر افغانستان کے قائم مقام وزیر خزانہ تو ملک سے فرار ہوئے ہی ہیں ۔ یہاں تک وہ احسان فراموش نائب صدر امراللہ صالح جیسے لوگ جو صبح شام پاکستان کے خلاف غلاظت بکتے تھے ۔ اب وہ بھی دم دبا کر کابل سے بھاگ چکے ہیں ۔ اب اطلاعات ہیں کہ وہ تاجکستان سے بیٹھ کر ویڈیو پیغام میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ یعنی جلتے ہوئے جہاز سے جیسے چوہے نکل نکل کر بھاگتے ہیں وہ صورتحال بنی ہوئی ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہر شہر میں طالبان کا استقبال کیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرپٹ افغان حکومت سے لوگ تنگ تھے ۔ افغان صحافی ہیں bilal sarwayانھوں نے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان ہرات کی 207ظفر کارپس میں مہمانوں کی طرح داخل ہوئے ، چائے پی ، قبائلی عمائدین ساتھ تھے ۔ ایک بھی گولی نہیں چلی اور سب نے سرنڈر کر دیا ۔۔ اس صورتحال میں مغرب اور بھارت گھبراہٹ میں اپنے لوگوں کو تو افغانستان سے نکال ہی رہے ہیں ۔ ساتھ ہی مغربی میڈیا اور بھارتی میڈیا بھی بوکھلاہٹ کا شکار دیکھائی دیتا ہے ۔ ایک ایسے انجانے خوف کا شکار دیکھائی دیتا ہے کہ طالبان جب آئیں گے تو پتہ نہیں کیا کریں گے ۔ اب اس ڈر میں وہ مفروضوں پر مبنی ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں کہ لوگوں کو گمراہ کیا جائے ۔ اب دو خبریں ہیں ایک کہ طالبان کی تیز پیش قدمی کے پیش نظر امریکہ نے تین ہزار اہلکار افغانستا ن بھیجنے کا فیصلہ کر لیاہے ۔ ان تمام اہلکاروں کو اگلے24سے 48 گھنٹوں کے دوران کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر تعینات کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی اگر افغانستان میں ایئر پورٹ کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہوئی تو ایک انفینٹری بریگیڈ کویت میں بھی تعینات کیا جائے گا ۔ جبکہ امریکی فوج اور ایئر فورس کا ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ یونٹ قطر میں بھی تعینات کیا جائے گا۔

    ۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آسان الفاظ میں یہ سمجھیں کہ امریکہ اور طالبان کا معاہدہ ختم ۔ مجھے فی الحال اس خبر کی خبریت پر شک ہے ۔ کیونکہ امریکہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ہاں اشرف غنی اور بھارت کو وقتی خوشی اور حوصلہ دینے کے لیے یہ خبر ٹھیک لگتی ہے ۔ یا کیا پتہ امریکہ اشرف غنی کو تسلی دینے کی کوشش کی ہو کہ ڈٹے رہو اور مرتے رہو ۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ اور سیکرٹری آف ڈیفنس نے اشرف غنی سے بات کی ہے کہ وہ مستعفی ہوں تاکہ طالبان کو مذاکرات کے لیے راضی کیا جا سکے ۔

    ۔ تو جس چیز سے میں آغاز کیا تھا کہ گروانڈ پر تو امریکہ ، بھارت ، نیٹو اور تمام اتحادی ممالک افغانستان میں ہار چکے ہیں اور اب صرف ایک بیانیے کی جنگ جاری ہے ۔ اور ان سب کا مودا ایک ہی ہے کہ افغان جنگ ہاری ہے تو پاکستان کی وجہ سے ۔۔۔ یہ سب ایک ڈھکوسلا ہے ۔ فریب ہے ، دھوکہ ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے ۔۔ صورتحال یہ ہے کہ طالبان مزید پانچ صوبائی دارالحکومتوں غزنی، ہرات،قلعہ نو ،لشکر گاہ اور قندھار پر قبضہ کرچکے ہیں ۔ ۔ بغیر مزاحمت پسپائی پر افغان حکومت نے غزنی کے اپنے ہی گورنر محمد داؤد لغمانی کو کابل آتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے ۔ افغانستان کا تیسرا بڑا شہر اور صوبائی دارالحکومت ہرات بھی طالبان کے قبضے میں ہے ۔ طالبان ٹوٹل انیس کے قریب صوبوں پر قبضہ کر چکےہیں ۔

    ۔ حالات یہاں تک بگڑ چکے ہیں کہ صدر اشرف غنی نے دارالحکومت کابل کو بچانے کیلئے خطے کے ممالک اور غیرقانونی مسلح ملیشیا گروپوں سے بھی التجا کر رہے ہیں۔ کہ آؤ اور ہماری مدد کر دو ۔ ۔ اس وقت افغان حکومت ، امریکہ اور بھارت کے لیے ہر چیز الٹ سمت میں جا رہی ہے اور طالبان امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ افغانستان پر قابض ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی روکنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔۔ شمال سے مغرب ہر طرف آپکو طالبان کا ہی جھنڈا دیکھائی دے گا ۔ یہاں تک اسماعیل خان جیسے وار لارڈ بھی طالبان کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور سرنڈر کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ افغان فوج کی پسپائی کے مناظر کو دیکھیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر وہ تحریک نہیں۔وہ جذبہ نہیں۔ جو طالبان کے جذبے کا مقابلہ کر سکے۔ ۔ افغان فوجی مرنا نہیں چاہتے ۔ طالبان کو دیکھتے ہی دوڑیں لگا دیتے ہیں۔ یہ بات ہے بھی بالکل درست ۔ آخر کیوں وہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلی حکومت کیلئے اپنی جان کی قربانی دیں۔

    ۔ عجیب بات ہے کہ صدر اشرف غنی تین لاکھ پچاس ہزار فوجیوں پر مشتمل طاقت کے ہوتے ہوئے پرانے وارلارڈز سے التجائیں کر رہے ہیں کہ میدان میں اتریں اور حکومت کو بچائیں۔ وہ عوام میں بھی جہاں ممکن ہے۔ اسلحہ تقسیم کر رہے ہیں اور تلقین فرما رہے ہیں کہ طالبان کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں۔۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی فوج وہ بھی مغربی طاقتوں کی تربیت یافتہ اور ان کی مسلح کردہ کہاں گئی؟ ۔ مغربی سٹریٹجک منصوبہ سازوں، دفاعی مفکروں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے دانشوروں کو یہ چیزیں اور سوالات اپنی حکومتوں سے پوچھنے چاہیئے ۔ نہ کہ ہم کو موردالزام ٹہرانا چاہیئے ۔۔ ان کو پوچھنا چاہیے کہ بیس سالہ مغربی جنگ نے افغانستان میں کتنے لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا؟

    ۔ چلیں لاکھوں افغانوں کی ہلاکت کی خبروں کی صداقت پرشک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خود امریکی ذرائع چالیس ہزار طالبان کو موت کے گھاٹ اتارنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں عام شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ رات کو دیہاتیوں کے گھروں میں گھس کر حملہ کرنے اور چادر و چاردیواری کی روایتی حرمت کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کو کیا افغان بھول پائیں گے؟ ۔ اور کیا کابل میں متعین امریکہ کے اشاروں پہ ناچنے والوں کو افغانستان میں خون خرابے کا ذمہ دار قرار نہیں دیں گے؟ ۔ میرے خیال سے افغان حکومت کو بات اس وقت سمجھ آ جانی چاہئے تھی جب صدر ٹرمپ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ خود براہ راست طالبان سے مذاکرات کریں گے۔ کابل کی طرف سے سہما سا احتجاج اور درخواستیں کہ دیکھیں ۔۔۔۔ہمارا کیا بنے گا۔ امریکہ کے فیصلے کو تبدیل نہ کر سکے۔

    ۔ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ صدر اشرف غنی کو ملا۔ وہ بھی تو طالبان سے بات چیت کو معنی خیز بنا سکتے تھے۔ پر اقتدار کی خواہش اندھا کردیتی ہے۔ آخری وقت تک لڑنے کی جرأتمندی کے بیکار نعرے گھڑنے سے زمینی طاقت کا توازن تو نہیں بگاڑا جا سکتا۔

    ۔ امن معاہدہ ہو یا طالبان کابل کا گھیرائو کرکے دبائو ڈالیں۔ لکھ لیں اشرف غنی کو امریکہ میں پناہ لینا ہی پڑے گی۔ جیسے ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوج کے حامی جہازوں میں لاد کر امریکہ اور دیگر ملکوں میں لائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کسی دن سنیں گے کہ صدر غنی ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

  • جس کی غیرت نے حضور کے قدموں کو بھی روک دیا, تحریر :خنیس الرحمٰن

    جس کی غیرت نے حضور کے قدموں کو بھی روک دیا, تحریر :خنیس الرحمٰن

    اسلام تیزی کے ساتھ پھیل چکا تھا. میرے نبی ﷺ کو ایک بہادر قوی شخص کی ضرورت تھی. آپ اپنے رب سے دعائیں کیا کرتے کہ یا عمرو بن ہشام دے دے یا عمر ابن خطاب دے دے. اسلام سے خار کھانے والے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کایا ایسی پلٹی کہ دار ارقم میں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کو خوشخبری سنادی کہ آج آپ کی دعا قبول ہوچکی ہے. عمر آچکا ہے اب ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگا. توحید کی آوازیں گونجیں گی.وہی ہوا حالات بدلے عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد حرم جا پہنچے, بیت اللہ میں نماز ادا کی کسی کی جرأت نہ تھی مکہ کے اس جری جوان کا راستہ روک سکے .حضرت صہیب بن سنانؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو اسلام ظاہر ہوگیا ،انہوں نے علانیہ طور پر اسلام کی دعوت دینا شروع کی ۔ہم نے بیت اللہ کا طواف کیااور بیت اللہ میں نماز پڑھی ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں جب سے عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو ہم طاقتور اور مضبوط ہوتے گئے.
    تقویٰ کا معیار ایسا تھا صحابی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ تقویٰ کیا ہے ؟.
    فرماتے ہیں میں جب خطاب کی بکریاں چرایا کرتا تھا راستے میں جو کانٹے پڑے ہوتے اس کاہٹاتا اسی کو تقوی کہتے ہیں ۔ہر محاز پر غزوے میں رسول اللہﷺ کے دائیں بازو بن کررہے. غزوہ بدر میں قیدیوں سے متعلق مسئلہ بنا تو اللہ رب العزت نے بھی سیدنا عمر بھی خطاب کی رائے کو ترجیح دی. اللہ نے سلطنت عطاء کی, بائیس لاکھ مربع میل کے حاکم بنے.سخت گو عمر نرم گوشہ اختیار کرگئے .جب خلیفہ کا تعین کیا جارہا تھا مخالفتیں بڑھنے لگیں ,کئی اصحاب کہنے لگے کہ ابو بکر آپ ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر کرکے جارہے ہیں ,آپ نے ساتھیوں کو تسلی دی, وقت نے دیکھا وہ عمر جو سخت گو تو ان کی طبیعت میں نرمی آگئی. خلافت کے بوجھ نے انہیں اپنے اللہ سے مزید قریب کردیا. قحط آجاتا تو جو رعایا کھاتی وہی کھاتے ,ایک دن خادم پنیر لے آیا اس سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ جب سب مدینے والے کھائیں گے اس وقت میں کھاؤں گا.
    انصاف میں بھی آپ سے اعلیٰ مثال آج تک کوئی نہ قائم کرسکا.مصر کے حاکم عمرو بن عاص کے بیٹے نے غریب آدمی کو نقصان پہنچایا آپ نے عدالت قائم کی بیٹے کو بھی سزا دی اور حاکم مصر کو بھی سزا سنادی .ماتحت کوئی والی اگر اصراف کرتا تو جاکر پوچھ تاچھ کرتے اور اصلاح کرتے. مال غنیمت سے حاصل ہونے والے مال میں ایک دن ہار لایا گیا اٹھا کر قاصد کو واپس کردیا.
    خدا خوفی اتنی تھی کہ کہتے اگر دریا فرات کے کنارے کتا بھی مرجائے تو میں جوابدہ ہوں. ایک دفعہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے پہاڑ پر تشریف لے گئے، ہمراہ ابوبکر ؓ ،عمرؓ اور عثمان ؓ بھی تھے، اُحد کاپہاڑ لرزنے لگا توحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک اُحد پر مارتے ہوئے فرمایا: ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔‘‘اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اللّٰھم ارزقني شھادۃ في سبیلک وموتا في بلد حبیبک‘‘ ۔۔۔ ’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دینا اور موت آئے تو تیرے حبیب( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے شہر میں آئے ۔‘‘
    آخری ایامِ حیات میں آپؓ نے خواب دیکھا کہ ایک سرخ مرغ نے آپؓ کے شکم مبارک میں تین چونچیں ماریں، آپؓ نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیا اور فرمایا کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک روز اپنے معمول کے مطابق بہت سویرے نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے، اس وقت ایک درّہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور سونے والے کو اپنے درّہ سے جگاتے تھے، مسجد میں پہنچ کر نمازیوں کی صفیں درست کرنے کا حکم دیتے، اس کے بعد نماز شروع فرماتے اور نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔ اس روز بھی آپؓ نے ایساہی کیا، نماز ویسے ہی آپؓ نے شروع کی تھی، صرف تکبیر تحریمہ کہنے پائے تھے کہ ایک مجوسی کافر ابو لؤلؤ (فیروز) جو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ایک زہر آلود خنجر لیے ہوئے مسجد کی محراب میں چھپا ہوا بیٹھا تھا، اس نے آپؓ پر تین زخم کاری اس خنجر سے لگائے . وہ شخصیت جس کی غیرت نے حضور نبی اکرم ﷺ کے قدموں کو اس کے محل میں داخل ہونے سے روک دیا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے محل میں چلا گیا.

  • یوم آزادی اور قربانیاں ،تحریر : ارشد محمود

    یوم آزادی اور قربانیاں ،تحریر : ارشد محمود

    آزادی کا لفظ ذہن میں آتے ہی درد کی ٹیسیں بھی اٹھتی ہیں ۔ آزادی اپنے ساتھ ہجرت کے زخم بھی لاتی ہے ۔ آزادی بغیر تکالیف کے ممکن ہے اور نہ ہی اپنے اصل مفہوم میں آزاد ہونا۔ پاکستانی قوم اپنے یوم آزادی کو اس شان و شوکت سے مناتی ہے کہ پوری دنیا میں اس کی دھوم مچی ہوتی ہے ۔ پاکستانیوں کو اپنے اس دن کو منانا بھی اسی شان و شوکت سے چاہیے کہ غلامی سے آزادی تک کا سفر بڑا ہی خوف ناک اور اندوہ ناک بھی تھا ۔ خالی لٹتے لٹاتے ، کٹتے کٹاتے اور اپنوں کے لاشوں کو بغیر کفن دفن آہوں میں دفناتے خونی لکیر کو عبور کرنے کا نام آزادی تھا ۔ غلامی سے آزادی تک کا سفر آخری مغل بادشاہ سے لے کر جنگ آزادی ، تحریک خلافت و دیگر تحاریک سے ہوتا ہوا تقسیم برصغیر پر آکر رک سا گیا ۔ اس جگہ پر مسلمانوں کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ مسلمانوں نے برصغیر پر صدیوں حکومت کی تھی اور انگریز کے بعد وہ محکوم بن کر بھی اپنا ماضی نہیں بھول سکتے تھے ۔ اس وقت ہندوؤں نے انگریزوں کا ساتھ دے کر اپنا آپ مضبوط کیا اور پھر جب ایسٹ انڈیا کمپنی و انگریز نے برصغیر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ہندوؤں نے سرتوڑ کوشش شروع کی کہ وہ پورے برصغیر پر قابض ہوجائیں۔ یوم آزادی کے روز ہمیں اس وقت کی مسلم قیادت کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انھوں نے دنیا جہاں کی دشمنی مول لی ، خزانوں کو ٹھوکر ماری ، قیادتوں کے خواب چھوڑے اور پھر وہ کردکھایا جو کہ ناممکن حد تک مشکل تھا۔

    قیام پاکستان کا خواب جس قدر طویل تھا اسی قدر پرخطر بھی تھا ۔ جب فیصلے کی امید دونوں طرف بندھ گئی تو خوف و ہراس بھی پھیل گیا ۔ وہ لوگ جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ہم ساے تھے ، ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے پیتے ، اٹھتے بیٹھتے اور غمی و خوشی میں شریک ہوتے تھے ۔ دشمن بن گئے ۔ یہ ظاہر کرتا تھا کہ مسلم قیادت نے بروقت اور صحیح فیصلہ کیا ہے ۔ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و تشدد شروع ہوا ۔ حالات بے قابو ہوے تو ہجرت کے فیصلے شروع ہوے ۔ ہندو بلوائیوں نے انسانیت کے نام پر کلنک کا ٹیکا لگا دیا۔ مسلم قافلوں پر حملے کرتے ، جوان بیٹیوں کو چھوڑ کر سب کو شہید کردیتے ۔ وہ جو بچپن میں ایک دوسرے کے گھروں میں کھیلے تھے وہی آج راکھی باندھنے والی مسلم بہن کو ہوس کا نشانہ بناکر اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے نظر آ رہے تھے۔ قیام پاکستان جہاں شہداء کی مرہون منت ہے وہی پر پاک باز مسلم خواتین کی عزت و آبرو کا بھی مقروض ہے ۔

    آج ہم سب پاکستان میں موجود ہیں کسی بھی قسم کا خوف ہے اور نہ ہی کوئی بوجھ ۔ معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ تقسیم برصغیر کے وقت دی جانے والی لاکھوں قربانیاں رائیگاں گئی ہیں۔  اس وقت ہندو مسلم جھگڑے تھے ، ہندو ہوس زدہ درندے بلوائیوں کی شکل میں قافلوں کے قافلے تہہ تیغ کردیتے تھے ۔ آج علاقوں میں ، گلیوں اور چوراہوں میں مسلم ہوس کے مارے لوگ پاکستانی بچیوں اور عورتوں کی عزتوں کے درپے ہیں۔ "پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالہ الا اللہ ” کا نعرہ لگانے والے ملک میں صنف نازک کی حفاظت کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے ۔ قوانین موجود ہیں ، عمل درآمد کون کرواے ؟ آئیے اس بار جشن آزادی کے موقع پر اپنے آپ سے عہد کریں کہ اپنی بساط کے مطابق پاکستان کو اسلامی تعلیمات کے زیر اثر بنانے کی کوشش کریں گے ۔

  • 2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی جوتی

    2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی جوتی

    دبئی میں دنیا کا مہنگا ترین جوتا تیار کیا گیا ہے جس کی مالیت پاس 2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر (3 ارب 86 کروڑپاکستانی روپے) ہے-

    باغی ٹی وی : اس زنانہ جوتے میں سونے کی پتری لگائی گئی ہےجبکہ 100 سے زائد چھوٹے ہیرے بھی اس جوتےجڑے گئے ہیں جبکہ دو بڑے ہیرے بھی لگائے گئے ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے ہیں جن میں 15 کیریٹ کا ڈی پرفیکٹ قیمتی پتھر بھی شامل ہے.

    دنیا کی یہ سب سے مہنگی جوتوں کی جوڑی مشہورِ زمانہ ’’جادا دبئی‘‘ اور ’’پیشن جیولرز‘‘ نے مل کر تیار کی ہے جسے ’’پیشن ڈائمنڈ شوز‘‘ کا برانڈ نیم دیا گیا ہے اس جوتے کو برج خلیفہ کے ہوٹل میں ڈسپلے کیا گیا ہے۔

    جادا دبئی کی شریک بانی، ماریا مجاری کہتی ہیں کہ ایسی ایک جوڑی کی تیاری میں ان کی کمپنی کو 9 مہینے سے بھی زیادہ لگ گئے کیونکہ یہ کام بہت احتیاط اور نفاست کا متقاضی تھا-

    واضح رہے کہ یہ کمپنی اس سے پہلے بھی ہیروں والے مہنگے ترین جوتے تیار کرچکی ہے البتہ، قیمتی سینڈلز کی اس نئی رینج میں انتہائی نایاب اور منفرد ہیرے استعمال کیے گئے ہیں؛ جن کی بناء پر یہ دنیا کی مہنگی ترین سینڈلز بھی بن گئی ہیں۔

  • افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی رو سے امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں حکمرانی کے لئے افغان طالبان اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں شدت آ چکی ہے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر افغانوں کی بڑی تعداد ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکی ہے تاہم اس بار جنگی جھڑپوں سے جان بچا کر دیگر ممالک میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کا رخ ماضی کے برعکس پاکستان کی طرف کم ہے اور وہ براستہ ایران، ترکی جانے کو ترجیح دے رہے ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یورپی ممالک میں خاصی تشویش پائی جا رہی ہے کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد براستہ ایران ترکی پہنچ کر یورپ کے دیگر ممالک میں بھی پھیل جائیگی اور یوں یورپ کو افغان مہاجرین کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں ہر روز 2 ہزار سے زائد افغان مہاجرین ترکی پہنچ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان سے براستہ ایران افغان مہاجرین کا ترکی پہنچنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 2016 میں شروع ہوا واضح رہے کہ افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے افغان مہاجرین کو قریب 3 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔

    افغانستان سے ترکی پہنچنے والے افغان مہاجرین کی مشکلات کے حوالے سے جرمنی کی ایک تحقیقاتی تنظیم "فریڈرچ البرٹ فائونڈیشن” نے بتایا کہ ہزاروں افغان مہاجرین افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے بال بچوں اور خواتین سمیت انتہائی دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہیں، اس سفر کے دوران نہ تو ان کے پاس کھانے پینے کے کچھ ذیادہ اسباب موجود ہوتے ہیں نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کے لئے ضروری سامان ہمراہ ہوتا ہے۔اففانستان سے ترکی تک کا یہ دشوار گزار راستہ دراصل سمگلنگ کرنے والوں کی دریافت ہے۔ ان راستوں سے تجارت کی غرض سے مختلف اشیاء کی غیرقانونی نقل وحمل کی جاتی ہے اور سمگلرز نے اس راستے پر کئی مقامات پر ٹھکانے بھی بنا رکھے ہیں تاہم اس راستے پر حفاظتی انتظامات اب خاصے سخت کر دیئے گئے ہیں اور صرف انہی خاندانوں کو ایران سے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے جن کے پاس افغانی پاسپورٹ اور ایران کا ویزہ موجود ہو۔ ترکی پہنچ کر یورپ میں پناہ لینے کے خواہشمند کچھ افغانی خاندان براستہ پاکستان بھی ایران میں داخل ہوتے ہیں مگر اس راستے پر سفری اخراجات کافی ذیادہ اٹھانے پڑتے ہیں اس لئے امیر افغانی خاندان ہی یہ راستہ اختیار کر پاتے ہیں۔ ترکی جانے والے افغان مہاجرین کی آخری منزل ترکی پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ وہ سمندری راستوں کے ذریعے یونان سے گزر کر یورپ کے دیگر ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاہم افغان مہاجرین کا یہ سفر خطرات سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ ترکی اور یونان کے درمیان سمندر عبور کرنے کے دوران کئی مہاجرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دسمبر 2020 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے مہاجرین کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین آباد ہیں۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ 1979 میں شروع ہوا اور روس کے افغانستان پر حملے کے دوران دس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ 1980 میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور انہیں امداد کی فراہمی کے لئے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کئے تھے۔ 1981 سے 1990 کے دوران پاکستان میں رجسٹرڈ ہونے والے افغان مہاجرین کی تعداد 20 لاکھ تھی جس میں صرف ایک سال یعنی سال 1990 کے دوران 12 لاکھ کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد 32 لاکھ تک جا پہنچی اور ایک محتاط اندازہ لگایا گیا کہ 5 لاکھ افغان مہاجرین بغیر رجسٹریشن کرائے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے پاکستان کے صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 334 مقامات پر مہاجرین کیمپ بنائے گئے۔ 1996 میں جب طالبان نے افغانستان کے علاقوں جلال آباد اور کابل کا کنٹرول حاصل کیا تو 50 ہزار افغان مہاجرین خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے اسی طرح 1999 میں جب طالبان نے مزار شریف کا کنٹرول حاصل کیا تو تب بھی ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے جبکہ سال 2001 میں جب اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو ان دنوں میں بھی لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لی۔

    افغان حکومت کی طرف سے معیشت کی بحالی، نقدی، ضروریات زندگی کی اشیاء اور سفری اخراجات کی ادائیگی پر سال 2002 سے سال 2007 کے درمیان 11 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے تاہم رضاکارانہ طور پر واپسی کا یہ عمل ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ جنگی صورتحال کے پیش نظر اب دوبارہ افغانوں کی بڑی تعداد پاکستان میں داخلے کی خواہشمند ہے تاہم اب ماضی کی طرح بغیر سفری دستاویزات کوئی افغان مہاجر یا افغان مہاجرین کی آڑ میں کوئی شرپسند پاکستان داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ پاک افغان سرحد 2 ہزار 6 سو 40 کلومیٹر کے 90 فیصد حصے پر 13 فٹ بلند خاردار دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ پاک افغان سرحد کی جدید ترین آلات سے نگرانی کرنے کے ساتھ 100 مختلف مقامات پر چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ افغان مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے ساتھ شرپسندوں کی دراندازی کے واقعات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر افغان مہاجرین کو کئی چیلنجز درپیش ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کریں تاکہ دہائیوں پر محیط افغان مہاجرین کی صورت میں انسانی المیہ اور پڑوسی ممالک کو درپیش چیلنجز کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

  • سانپ کے کاٹنے پر شہری نے بھی بدلہ لیتے ہوئے سانپ کو کاٹ لیا

    سانپ کے کاٹنے پر شہری نے بھی بدلہ لیتے ہوئے سانپ کو کاٹ لیا

    بھارتی ریاست بہار میں سانپ کے کاٹنے پر ایک 65 سالہ شخص نے سانپ کو کاٹ لیا یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا اور وہ پیر کی صبح شہری انتقال کر گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع نلندا میں چانڈی تھانے کے تحت مدھوڈے گاؤ ں کے65 سالہ شہری راما ماہٹو اپنے گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ زہریلے سانپ نے اس کے پاؤں پر کاٹ لیا اور قریبی درخت کے پاس چھپ گیا۔

    مقتول کے اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ راما مہتو ، جو شراب کے زیر اثر تھا ، اپنے گھر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ سانپ نے اس کی ٹانگ پر کاٹا جس پر ماہٹو غصے میں آگیا اور بدلہ لینے کے لیے سانپ کو پکڑ کر چبا گیا سانپ کو چباتے ہوئے ، مہاتو کو اس کے چہرے پر 10 سے زیادہ بار کاٹا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق شہری کے گھر والوں نے صورتحال دیکھنے کے بعد اسے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم دیہاتی نے اسپتال جانے سے انکار کر دیا اور گھر کے اندر جا کر سو گیا۔

    اس کے بعد اس نے سانپ کو نکال کر قریبی درخت پر رکھ دیا ہم نے اسے علاج کے لیے ہسپتال جانے کا کہا لیکن اس نے انکار کر دیا اور سو گیا ماہٹونے دعوی کیا کہ یہ بچہ سانپ ہے اور یہ زہریلا نہیں ہوگا تاہم پیر کی صبح وہ مردہ حالت میں پایا گیا-

  • پانی ہزار نعمت  تحریر:  ام سلمیٰ

    پانی ہزار نعمت تحریر: ام سلمیٰ

    اللہ پاک کی نعمتوں میں اہم نعمت پانی جس کی اہمیت کو ہم اس طرح سمجھ لیں کے ہمارے جسم میں کم از کم 55 فیصد جسم ہے۔ دوسری طرف زمین کی سطح 71 فیصد پانی ہے۔ ہمارے ماحولیاتی نظام میں ایک عام مادہ ، کیا ہمیں اسے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے؟
    پانی ایک نایاب اور محدود وسیلہ ہے۔
    یقین کریں یا نہ کریں ، جبکہ ہماری زمین کا 71 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے ، اس پانی کا صرف 3 فیصد حصہ میٹھا پانی ہے۔ اس 3 فیصد میں سے ، صرف 1 فیصد ابھی ہمیں دستیاب ہے ، باقی 2 فیصد گلیشیئرز میں میں بند ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1 فیصد اکیلے ہی انسانوں ، جانوروں اور پودوں کی زندگی سمیت آبادیوں کے پورے دُنیا کو برقرار رکھنا کے موجود ہے۔ جتنی تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے ، اگر ہم اسے محفوظ نہیں کرتے ہیں تو ہمارے پاس اس ایک فیصد دستیاب پانی میں پورا کرنا مشکل ہوگا.

    زندگی کے لیے پانی ضروری ہے۔
    پانی کو بچانے کی وجہ اتنی ہی واضح ہے۔ ہمیں زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے نہ صرف ہمیں برقرار رکھنے کے لیے بلکہ ہمارے رہن سہن کو۔ جو کھانا ہم کھاتے ہیں ، فصلیں ، مویشی ، سب میٹھے پانی پر انحصار کرتے ہیں تاکہ مستقبل کے استعمال کے لیے قابل عمل ہو۔

    پانی ضائع کرنے سے دیگر اشیاء کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔کیوں جب سمندری پانی کو پروسیس کر کے استعمال کیا جائے تو وہ کہیں زیادہ قیمت بڑھ جاتی ہے.
    پانی کم ہونے کی وجہ سے ، کچھ اشیاء جن کو اس کی ضرورت ہو پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، کچھ اشیاء نایاب ہو تی جائیں گی یا ان کی قیمت زیادہ ہو تی جائے گی.

    ہمارے پاس پینے اور نہانے کے علاوہ میٹھے پانی کے بہت سارے استعمال ہیں کپڑے دھونے میں کاشت کاری اور روزمرہ کی اسی طرح کی دیگر سرگرمیاں ہیں جن میں میٹھے پانی کا استمعال ہے.

    ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی پانی ضروری ہے۔
    جیسے کے ہمیں معلوم ہے کے ہمارے نباتات اور حیوانات کو زندہ رہنے کے لیے میٹھے پانی کی ضرورت ہے اگر ہم پانی کا استعمال مناسب کریں گے تو ان کے لیے بھی پانی بچا سکیں گے۔

    ہمیں میٹھے پانی کے استمال پر توجہ رکھنی ہوگی اور اس ضائع ہونے سے محفوظ کرنا ہوگا اور اس میں ناکامی ہماری آگے آنے والی نسلوں کے لیے نقصان دے ہوگی.پانی واضح طور پر ایک اہم ضرورت ہے ۔ جتنا ہم پانی کو بچائیں گے ، زمین اتنی ہی زیادہ آباد ہوگی۔
    پانی کا تحفظ اپنے گھر سے شروع کریں۔ پانی کی کھپت کو کم کرنے کے لیے چھوٹے طریقوں کو اپنانے سے ، ہم اجتماعی طور پر طویل عرصے میں اپنے ماحول اور کمیونٹی پر بڑا اثر پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گے انشاء اللہ.

    @salmabhatti111

  • میرے قائد محمد علی جناح  تحریر: مدثر حسین

    میرے قائد محمد علی جناح تحریر: مدثر حسین

    قائد اعظم محمد علی جناح جس نے ہندوستان کے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک الگ آزاد اور خودمختار ریاست کا تحفہ دیا ویسے تو جدوجہد آزادی تو 1857 میں ہی شروع ہو چکی تھی۔ مگر ہر بار کی طرح اس قوم کو تقسیم کیا جاتا رہا جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔لیکن اس وقت ان کو کوئی ایسی قیادت نہ مل سکی جو متحد کر کے جدوجہد آزادی کا آغاز کرے بالآخر ایک عظیم انسان کی صورت میں ایک لیڈر قائداعظم محمد علی جناح مل گیا۔

    جو ہندوستان کے مسلمانوں کا اور علامہ محمد اقبال کے خواب کی تعبیر مکمل کرنے کے لیے کافی تھا۔ گویا اس خواب کی تعبیر کا وقت آن پہنچا قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی بصیرت کے ذریعے مسلسل جدوجہد کی وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اب کبھی بھی انگریزوں کی غلامی نہیں کر سکتے۔

    اور نہ ہی ہندوستان کے دوسرے مذاہب کے ساتھ مسلمان اکٹھے رہ سکتے ہیں پس یہی وجہ تھی کہ دو قومی نظریہ پیش کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہندو اور مسلمان اب اکٹھے نہیں رہ سکتے اس بات کی نفی کبھی بھی نہیں کی جا سکتی آج ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے۔ کہ اس وقت ایک الگ ریاست کا قیام کتنا ضروری تھا۔

    اس وقت دوراندیش لیڈر یہ جان چکے تھے مسلمانوں کی آزادی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ان کی آنے والی نسلیں محفوظ رہیں گی۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ اس جدوجہد میں شامل پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں کی داستانیں ہم پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں۔ اور جدوجہد آزادی کی داستانیں اتنی درد ناک ہیں کہ پڑھتے پڑھتے آنکھیں آشک بار ہو جاتی ہیں۔

    ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی ایک تاریخ رقم کی اپنی قربانیوں کی ہماری علماء کرام نے جو اپنی جانوں کے نزرانے پیش کیے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ کلمہ حق بلند کرتے کرتے سولی پر چڑ گئے۔

    ان قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد اور خودمختار قوم ہیں اے قائد اعظم محمد علی جناح تیرا اس قوم پر احسان ہے احسان جسے ایک پہچان دی جسے ایک نام دیا پاکستان کا قیام ایک انقلاب تھا۔آو آج ہم ایک عہد کریں دشمن جتنا بھی طاقتور اور چالاک کیوں نہ ہو ہمیں کبھی ہار نہیں ماننی اور کبھی بھی طاقتور کے سامنے اپنا سر نہیں جھکانا نہ گھٹنے ٹیکنے ہیں مقاصد کے حصول کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔

    اس وقت کے مسلمانوں کی قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی جانی و مالی قربانیوں کے نتیجے میں آج ہماری نسلیں آزاد، خودمختار اور محفوظ ہیں اے بابائے قوم محمد علی جناح تیرا نام تاقیامت چمکتا رہے گا آپ کی قبر پر رحمتوں کا نزول ہوں اللہ تعالٰی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں اور اللہ پاک آپ کی مغفرت فرمائیں

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @EngrMuddsairH

  • پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ

    پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ


    آج کل جہاں دشمن ہمارے پیارے ملک پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں وہاں ہمارے گمنام ہیروز اپنے وطن پاکستان کے دفاع کیلئے ہر دم تیار ہیں آج میری گمنام ہیروز کی مراد وه تمام محب وطن پاکستانی ہیں جو بے لوث ہوکر اپنی مدد اپ کے تحت دشمن کی سوشل وار کا مقابلہ کر رہے ہیں اور دشمن کو لاجواب کر رہے ہیں یہ تمام لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنے پیارے وطن کے لیے ہر دم حاضر ہوتے ہیں یہ سوشل میڈیا کی جنگ (وار) لڑنا بہت اہم ہے دشمن ممالک ہمارے ملک کے خلاف عالمی سطح پر جھوٹی خبرے پھیلاتا ہے تاکہ پاکستان سے دوسرے ممالک نفرت کریں اور پاکستان کی عزت و وقار میں فرق آجائے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا الحمداللہ ہماری نوجوان نسل اب میدان میں اگئی ہے اور دشمن کی ہر سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے تیار ہے خاص کر ہمارا ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کے خلاف غلط معلومات سوشل میڈیا پر پھیلا رہا ہے کہ پاکستانی شدت پسند لوگ ہیں پاکستانی امن نہیں چاہتے اور اس طرح کی بہت سی فیک چیزے جو بھارت اپنے میڈیا پر چلا رہا ہے اور پاکستان کے خلاف دنیا کو اکسانے کی کوشش کررہا ہے لیکن اب مجھے فخر ہے کہ نوجوان نسل جن کو میں گمنام ہیروز کا لقب دیتا ہوں یہ بھارت کی سازشوں کو چکنا چوڑ کررہے ہیں اور پاکستان کا حقیقی اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لارہے ہیں کہ پاکستانی امن پسند لوگ ہیں اور ہم امن چاہتے ہیں ہم انتہا پسند نہیں ہیں ہم خطے کے امن پر ہی یقین رکھتے ہیں
    بھارت جتنی مرضی اب پاکستان مخالف جھوٹی کمپين چلوا لے بھارت کو اب منہ کی کھانی پڑے گی کیوں کہ اب پاکستانی یوتھ ان کی چھترول اب سوشل میڈیا وار میں بھی کرے گی اور پاکستان کا نام جو بدنام کرنا چاہے گا اس کو یہ گمنام ہیروز بے نقاب کریں گے اور مودی جو کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے اور کشمیریوں کے حقوق ان سے چھین رہا ہے اور ظلم کی انتہا کر رہا ہے پاکستانی گمنام ہیروز اس پر خاموش نہیں رہے گے مودی اور بھارتی فورسز کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مودی حقیقت میں انتہا پسند ہے اور آج دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے کہ جموں کشمیر میں مودی اور بھارتی فورسز نے کرفیو لگایا ہوا ہے اور کشمیر میں ناانصافی کررہے ہیں کہاں گے انصاف فراہم کرنے والے عالمی ادارے کو انصاف کے دعوے دار ہیں اور کہاں گے ہیومن رائٹس کہاں گے عالمی قوانین کیوں بھارت کے آگے عالمی ادارے خاموش ہیں کیا وجہ ہے ؟؟
    ہمارے گمنام ہیروز نے جس طرح کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھائی اور کشمیر میں ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے رکھا اس پر تمام کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں اب وقت ہے کہ ہم ایک قوم بن کر اپنے دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈا کو اسی طرح بے نقاب کرتے رہے پاکستان کا جھنڈا ہمشہ بلند رہے گا اور ہم ہر دم وطن کے دفاع کیلئے حاضر رہے گے
    آئیں آج عہد کرتے ہیں کہ اپنے پیارے وطن پاکستان کو جب جب ہماری ضرورت پڑے گی اسی جذبہ سے اپنے ملک کی خدمت کرے گے جس طرح سے ہمارے اباؤ اجداد نے اس وطن کو حاصل کرنے میں قربانیاں دی ہیں اور انکی بے پناہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد یہ پیارا وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان ملا اور میری للّه پاک سے دعا ہے کہ ہمیں سب کو اپنے عظیم ملک پاکستان کی خدمت کرنے کیلئے جذبہ عطاء فرما
    پاکستان زندہ باد!
    Twitter Account : ‎@AhsanAliButtPTI