Baaghi TV

Category: متفرق

  • یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے   تحریر  : راجہ حشام صادق

    یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے تحریر : راجہ حشام صادق

    ایک فرق تو ہر انسان کو نظر آ رہا ہے کہ ماضی کا پاکستان اور آج کا پاکستان ماضی کے دور سے بہت بہتر ہے اب ہماری قوم کے اندر جو شعور آ رہا ہے ایسا ماضی میں نہ تھا۔ اب ہر پاکستانی کو اس کے حقوق کا پتہ چل چکا ہے۔

    آج کے اس سوشل میڈیا کے دور میں کوئی ظالم کسی پر ظلم یا کسی مظلوم کو دبا نہیں سکتا یہی تبدیلی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کے پاکستان میں عوام میں اتنا شعور تو آیا کہ وہ ظالموں اور جابر لوگوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ کوئی آٹھ سال پہلے پشاور جانے کا اتفاق ہوا دل میں ایک ڈر سا تھا۔ دل اور ذہن میں ایک خوف تھا کہ آئے روز جس شہر کے اندر دھماکے ہوتے ہیں۔ نہ جانے کس مقام پر زندگی تمام ہو جائے سانسیں ساتھ چھوڑ جائے ایسے ماحول میں کون کس پر یقین کرئے سامنے سے آنے والے شخص پر بھروسہ کیسے کرئے کہ وہ پاس آ کر کہیں بارود ہی نہ بن جائے اور اپنے ساتھ کئی معصوم جانوں کو اڑا کر نہ لے جائے۔

    اللہ پاک کا شکر ہے کہ وقت گزرا حالات بدلے قوم کے ذہنوں سے دہشتگردی کا خوف ختم ہوتا گیا افواج پاکستان کی قربانیوں سے اس ملک میں امن لوٹا۔
    اور آج اللہ پاک کے فضل و کرم سے الحمداللہ یہ ملک پاکستان تیرا اور میرا پاکستان محفوظ ہے ماضی کی تمام جمہوری حکومتوں نے اس ملک پاکستان کے اندر دہشتگردی کروائی ملک دشمنوں کے ہاتھوں ہمارے حکمران بکتے رہے ملک میں افرا تفری اور قتل و غارت کی قیمت وصول کرتے تھے۔ایسے سیاستدانوں کے ساتھ نفرت کی وجہ بھی یہی تھی۔ اور شاید میری طرح آپ نے بھی ان ماضی کی پارٹیوں کو چھوڑ کر ایک ایسی جماعت ہا تحریک کے سربراہ کا ساتھ دیا جس کی حب الوطنی پر آج بھی کسی کو کوئی شک نہیں جس لیڈر نے انصاف کا نعرہ بلند کیا بائیس سال جدوجہد کی اور اقتدار میں آیا ایسے لیڈر کا ساتھ میرے اور ملک کے لاکھوں نوجوانوں نے بغیر کسی مفاد کے دیا بغیر کسی عہدے یا ذاتی فائدے کے دن رات محنت کی ان ہی نوجوانوں کے ووٹ اور بہادری کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ وطن ایک دلیر ایماندار اور مضبوط جمہوری حکومت کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔

    ہزاروں نوجوانوں نے اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے قربانیاں دیں
    یہ اس ملک کے نوجوانوں کا ہی حوصلہ تھا کہ کبھی آنسو گیس کا سامنا کیا تو کبھی لاٹھی چارج کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنا کر ڈرایا گیا
    سینے پر گولیاں کھائیں تعلقات ختم کیئے لیکن اس ملک کی بہتری کے لئے ڈٹے رہے۔ آج بھی اس ملک کا نوجوان اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑا ہے۔

    آج کا نوجوان جس نے اس پیارے وطن کا سوچا جس کے اندر آج بھی لڑنے کا جذبہ موجودہ ہے جو آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی یہ محنت اور جدوجہد کا پھل آنے والی نسلیں کھائیں گی۔ مشکل کی اس گھڑی میں جو نوجوان اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں مورخ ان کو محب وطن پاکستانی لکھے گا تاریخ میں ان بہادروں کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا ۔یاد رکھیں ظالم اور جابر حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے والوں کو تاریخ ہمیشہ بہادر کے نام سے پڑھے اور لکھے گی ۔

    ان شاء اللہ ملک پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رہنا ہے۔ وطن کی حفاظت کے لئے قربانیاں دینے والے وطن کے بیٹوں کو سلام ان کی جرات کو سلام جنہوں نے اس وطن کی سرحدوں پر لڑ کر قربانی دیں یا اس سسٹم کے خلاف کھڑے ہوئے جو ماضی کے حکمرانوں نے بنا رکھا تھا پانچ سال تیرے پانچ سال میرے
    میڈیا پے تم مجھے برا بھلا کہو میں تمہیں کہوں گا پر شام کا کھانا ایک سات ہو گا یہ جمہوریت تھی۔

    نوجوانوں اور اس وطن کے دلیر بیٹوں کے ہوتے ہوئے کوئی اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا
    تو نوجوانوں یہ جنگ ابھی جاری ہے بس تم نے کھبرانا نہیں ہے ابھی مشکل وقت ہے جو کھڑا رہے گا تاریخ میں امر ہو جائے گا
    یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے یہ سبز ہلالی پرچم یونہی صدا بلند رہے۔ ان شاء اللہ

    اللہ پاک آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • واٹس ایپ  اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن

    واٹس ایپ اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن

    محترم پاکستانیو دُشمن اپنا ہر حربہ استعمال کر رہا ہے اور جدید دور میں جدید ہتھیاروں سے پاکستان کہ خلاف ہر محاذ پر متحرک ہےاور یہ وہ ہتھیار نہیں کہ بندوق ، ٹینک یا ہوائی جہاز لیکر ہم پر حملہ آور ہے، ہم اب ففتھ جنریشن وارجیسی جنگ کے نرغے میں ہیں لیکن ایسے میں ہمیں انفارمیشن وار کا استعمال کر تے ہوے ہمیں ففتھ جنریشن وار کو اچھے سے لڑنے کی پوزیشن بنانا ہے۔
    دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اِس دور میں انفارمیشن وار کو بھرپور انداز میں سوشل میڈیا پرمتحرک ہے۔ اور ایسے میں پاکستانی سوشل میڈیا کے بے شُمار پاکستانی بھی دُشمن کے سامنے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہُوے دشمن کو جواب دے رہے ہیں لیکن پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ زیادہ ایکٹو ٹویٹر اور فیسبک پر جواب دے رہے ہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کے واٹس ایپ پر ہم اُتنا ایکٹیو نہیں ہیں اور نہ ہی حکومت اِس طرف توجہ دیتی دکھائی دے رہی ہے ۔

    دُشمن واٹس ایپ پر فرقہ وارانہ لٹریچر پھیلا رہا ہے اور مختلف واٹس ایپ گروپوں میں سُنیوں کو شیعہ کے خلاف جھوٹ پر مبنی اور شیعہ کہ خلاف جُھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور ہمارے بہت سے وہ پاکستانی اِس جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستانیوں کے دمیان تفرقہ ڈالنے کیلئے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں جو بنا تحقیق کےایسا جھوٹا مواد آگے شیئر کرتے ہیں اور اِسی طرح دشمن کا پھیلایا جھوٹا پروپیگنڈہ واٹس ایپ پر بہت جلد بہت سارے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے کیسے۔۔؟

    وہ اِس طرح کے واٹس ایپ ہر بچے کے موبائل میں انسٹال ہے اور چھوٹے بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور بحیثت مسلمان ہمارے بچے جلد طیش میں آجاتے ہیں اور اِس لٹریچر کو جلدی جلدی اپنے دوستوں کو کزن وغیرہ کو سینڈ کرتے ہیں اور وہ لٹریچر جلد ہی سینکڑوں ہزاروں پاکستانی بچوں تک پہنچ جاتا ہے لیکن بڑے بھی کم نہیں ہیں وہ بھی یا تو جزبات میں یا کم علمی کی وجہ سے بنا تحقیق کیئے آگے شیئر کر دیتے ہیں تو لہٰذا ہمیں اِس چیز پر خاص طور پر بہت ذیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اورایسے مواد کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔

    ہمیں چاہئے کے اپنے بچوں اور بڑے دوستوں کو اپنے عزیز و اقارب کو اِس مسلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے بلکہ یہ ذہن نشین کر لیں کہ اِسے روکنا بھی ہے کیوں کے نبیﷺ نے فرمایا ہے کے جب تم تک کوئی ایسی بات پہنچے تو پہلے تحقیق ضرور کر لیا کرو کے کیا یہ بات سچ ہے۔؟ اور جب تسلی کرلو تو تب وہ بات آگے پہنچاؤ۔ لیکن یہاں ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے جیسے ہی کچھ رسیو ہوتا ہے پڑھتے ساتھ آگے شیئر کر دیتے ہیں اور جس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ہم انجانے میں گناہ بھی کر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے ایمان کیلئے بھی خطرہ ہے اور مُعاشرے کے بگاڑ کیلئے بھی۔ کیوں نہ ہم خود سے آج ایک عہد کریں کہ ہم نے اب ایک ذمہ دار شخص بن کر اپنے ملک اور مُعاشرے میں بہتری لانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے اور ہر اُس بری بات کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے اور ہر اچھے اور مثبت تحریر کو چاہے وہ پوسٹ کی شکل میں ہو یا کسی تحریر میں میں اچھائی کو عام کروں گا اور بُری اور ایسی کسی بات کام کا حصہ دار نہیں بنوں گا ، یقین کیجئے یہی بگاڑ جو ہمارے معاشرے میں ایک عام اور معمولی حصیت اختیار کر چُکا ہے یہ ختم ہوجائے گا جیسے قطرہ قطرہ پانی سے دریا بن جاتا ہے ایسے ہی ہم قطرہ قطرہ کر کے اپنے اِرد گرد پھیلتی برائی اور دشمن قوتوں کے منفی پروپیگنڈے کا ناکام بنادیں گے اِن شاء اللہ ۔

    ہمیں ایک ذمہ دار مسلمان اور پاکستانی بن کر اِسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہُوے اپنانا ہے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔
    پاکستان کی آرمی پاکستان کے بارڈرز کی حفاظت کر رہی ہے اور ہم سولین پاکستانیوں کو اپنے اندر کہ حالات سنبھالنا ہے ایسے ہی اپنے ارد گرد میں دُشمن کو جواب دینا ہے جو ہمار اندر گُھسا بیٹھا ہے اور ہم نے اُسے حکمت سے اپنے جزبات کو قابو رکھتے ہُوے تگڑا جواب دینا ہے اِن شاء اللہ
    پاک افواج زندہ آباد
    پاکستان پائندہ آباد

  • کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیے؟(4) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیے؟(4) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر ھینڈل : @nabthedentist

    بطور ڈینٹل سرجن کلینک پر جب ھم کسی مریض کو دانتوں کی صفائی کا مشورہ دیں تو سب سے پہلی بات جو سننے کو ملتی وہ یہ کہ دانتوں کی صفائی سے تو دانت خراب ھوجاتے میں نے سنا کسی نے صفائی کروای تو اسکے دانت ھلنا شروع ھوگئے کوی کہتا پڑوسی نے کروائ اسکے دانتوں میں ٹھنڈا گرم آگیا تو آئے آج اس پر تفصیلی بات کرتے کہ

    کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیئے؟
    اور اگر کروانی چاھیئے تو کب اور کیوں کروانی چاھیئے؟
    کیا دانتوں کی صفائی کا کوی نقصان ھے؟
    کیا صفائی کے بغیر بھی کوی حل ھے؟
    صفائی اور رگڑائی میں فرق کیسے سمجھنا چاھیئے؟
    کیا صفائی سے دانت سفید ھوجاتے؟
    تو ایک ایک کرکے ان سب پر مختصرا بات کرتے
    تو اس سب کا جواب کچھ یوں ھے کہ جی بلکل اگر آپ کے دانتوں کو صفائ کی ضرورت ھے اور آپکا ڈینٹل سرجن یہ سمجھتا ھے کہ دانتوں کی صفائی کروائے بغیر مسئلے کا حل نھیں ھوگا تو دانتوں کی صفائی لازمی فی الفور کروایئں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ پائ جانے والی بیماری مسوڑوں کا انفیکشن یعنی Gingivitis ھے جسکی وجہ سے مسوڑوں سے خون آنا اور پھر اسکے بعد دانتوں پر Plaque اور پھر Calculus کا لگ جانا جوکہ پتھر نما ھوتے یعنی Periodontis کی بیماری لاحق ھوجاتی یہ نا صرف مسوڑھے خراب کرتی ان سے خون نکلنے کا باعث بنتی بلکہ آگے چل کر دانتوں کا ھلنا اور نکلنے تک نوبت آجاتی جسم کے دوسرے حصے پر اسکے مضر اثرات الگ دل کے مسئلے معدے کی خرابی خون کی کمی ھیپاٹائٹس کو خراب کرنے اور کئ موذی مرض کا باعث بنتی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ جس مسئلے کو ھم سب سے کم تر سمجھتے وہ کتنے بھیانک رنگ روپ اختیار کرسکتا اسلئے اگر آپ کے دانتوں میں مسوڑوں میں مسئلہ ھو تو فوری ڈینٹل سرجن سے رجوع کریں اگر وہ دوائ اور oral hygiene کو برقرار رکھنے لئے ماؤتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ دینا ھی کافی سمجھے تو ٹھیک نھیں تو لازمی صفائی کروایئں

    اب آتے ھیں کیا صفائی سے دانتوں کو کوی نقصان ھوتا اسکو جاننے لئے ھم کو سمجھنا ھوگا کہ اگر گھر گندا ھو تو اسکو صاف کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری ھوتا نھیں صاف کرینگے تو بیماریاں پھینلنگی ایسے ھی منہ بھی ایک گھر ھے اسکی صفائ میں کوی کمی رہ جائے یا کسی بیماری وجہ سے وہاں مسئلے آجائیں تو اسکی صفائ بھی اتنی ھی ضروری اب جب صفائ ھوتی تو اس سے دانتوں کے درمیان جو پتھر نما گندگی ھوتی جس نے مسوڑوں کو زخمی بھی کیا ھوتا اور نیچے بھی دکھیلا ھوتا انکو صاف کیا جاتا تو ظاہر سی بات وقتی طور پر جگہ خالی معلوم ھوتی جس سے کئ لوگوں کو گمان ھوتا کہ Spaceبن گئی حالانکہ ایسا نھیں اور اگر واقعتا ایسا ھو بھی جائے تو یہ اس سے لاکھ گنا بہتر کہ منہ میں آپ بیماریوں کے ڈھیر لئے پھریں دوسرا کہ دانتوں میں ٹھنڈا گرم آجاتا ایسا وقتی طور پر کبھی کبھی ھوتا جب ھم الٹرا سانک مشین سے صفائ کرتے تو گرم مشین ناڑوں کو sensitize کردیتے ماوتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال اس مسئلے کو ایک آدھ ھفتے میں ٹھیک کردیتا یہ نارمل ھے اسکا آنا کوی معنی رکھتا لیکن اصل ایشو تب ھوتا جب مریض کسی جعلی ڈاکٹر کے ہاتھ لگتا اور وہ صفائی کے نام پر سب دانتوں کی رگڑائی کردیتا جس سے دانتوں کی اوپر کی سطح اتر جاتی مریض خوش ھوتا کہ میرے دانت سفید ھوگئے مگر وہ بیچارا ساری زندگی لئے sensitivity لیکر چلا گیا ھوتا ھے یاد رکھیں دانتوں کی صفائی صرف گندگی ھٹاتی مسوڑوں کو مضبوط کرتی دانتوں کو مسوڑوں کو صحت کو بچاتی لیکن دانتوں کو سفید یا کوی نیا رنگ نھیں دیتی جو مریض کے دانتوں کا اصل رنگ ھے وھی اسکو ملتا دانتوں کی صفائی شوگر کے مریض اور دوسری بیماریوں سے جڑے لوگوں کو ھر 6 ماہ بعد کرانی چاھیئے اور جو صحت مند لوگ ھیں انکو صفائی کے بعد ھر 6 ماہ بعد چیک اپ کرایئں ضرورت پڑی تو ٹھیک نھیں تو ضرورت پر ھی کروانی چاھیئے
    یاد رکھیں صفائی نصف ایمان ھے

  • انسانی دانتوں والی مچھلی کے انٹرنیٹ پر چرچے

    انسانی دانتوں والی مچھلی کے انٹرنیٹ پر چرچے

    امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایسی مچھلی پکڑی گئی ہے جس کے دانت حیران کن طور انسانی دانتوں جیسے دکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایک شخص نے مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال پھینکا کے اس دوران اس کے ہاتھ انسانی دانتوں والی مچھلی بھی آ گئی مذکورہ شخص نے مچھلی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔

    رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے مچھلی کو دیکھ کر کافی حیرت کا اظہار کیا گیا ہےمچھلی کی شناخت بطور شیپس ہیڈ فش ہوئی ہے مچھلی کا منہ بھیڑ جیسا نظر آتا ہے جب کہ یہ اپنا شکار پکڑنے کے لیے تہہ در تہہ موجود دانتوں کا استعمال کرتی ہے مچھلی کا نام بھیڑ کے منہ کی طرح دکھائی دینے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    رپورٹ کے مطابق عجیب الخلقت مچھلی پکڑنے والے مارٹن نامی شخص نے بتایا کہ وہ شیپس ہیڈ فش ہی پکڑنے آئے تھے جب ان کا سامنا انسانی دانتوں والی مچھلی سے ہوا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ مچھلی کو پکڑنے کا عمل کافی دلچسپ رہا جب کہ اس کا ذائقہ بھی کافی منفرد اور لذیذ تھا۔

  • ہوائی فائرنگ پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا

    ہوائی فائرنگ پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا

    بھارتی ریاست اترپردیش میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں چچا کے زخمی ہونے پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں دلہے والوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دلہن کے چچا زخمی ہو گئے فائرنگ سے چچا کے زخمی ہونے پر 22 سالہ دلہن ارم نے شہزاد نامی دلہے کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا۔

    دلہن نے کہا کہ میں اس شخص سے شادی کیسے کر سکتی ہوں جس کے مہمانوں کی فائرنگ سے میرے چچا زخمی ہو گئے باراتیوں کا میرے خاندان کے ساتھ برتاؤ ٹھیک نہیں تھا اور جب میں ان کے ساتھ جاؤں گی تو یہ میرے ساتھ نہ جانے کیسا رویہ اختیار کریں گے۔

    دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    رپورٹس کے مطابق دلہن ارم کے شادی سے انکار کے بعد اس کے گھر والوں نے دلہا کی گاڑی توڑنے کے بعد دلہے کے رشتے داروں کی پٹائی کی اور انہیں کچھ دیر کے لیے یرغمال بھی بنالیا تھا بعدازاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورت حال پر قابو پایا اور واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ تقریب کی ویڈیو کی مدد سے فائرنگ کرنے والوں کی شناخت کی جائے گی تاہم دلہا شہزاد اور اس کے بھائی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اگر لائسنس یافتہ اسلحے سے فائرنگ کی گئی ہے تو اسلحہ لائسنس کی منسوخی کی رپورٹ بھیجی جائے گی دلہن کے چچا کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

  • ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    گزرتے وقت کے ساتھ ماد روطن میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خواہ وہ چوری ڈکیتی ہو، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی یا پھر لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں فروخت کرنے کا مکروہ دھندہ۔ جنسی زیادتی کے علاوہ منشیات فروشی سے نوجوان نسل کو اس منحوس لت میں مبتلا کروا کر ان کی وڈیوزکے ذریعے قابل اعتراض بنا کر انہیں بلیک میل بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جو نہ صرف گھناؤنہ اقدام ہے بلکہ خوفناک بھی ہے۔ اس لحاظ سے تمام صوبے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ حکومت کا اپنا کردار ہے جو عوام کو سہولیات پہنچانے کی بجائے اپنی پوری توجہ اپوزیشن پر الزام تراشی پر ہی رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ دوسری طرف تمام اپوزیشن جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ سب کے سب اپنا ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کاقیمتی وقت برباد کر کے عوام کو در بدر کرا رہی ہیں۔ ملک نہ ہوا بلکہ جنجال پورہ بن چکا ہے۔ آخر حکومت اور حکمراں کب سنجیدہ ہوں گے اوراپنی مظلوم عوام کو تحفظ فراہم کرائیں گے۔ تین برسوں سے یہی تماشاجاری ہے۔ شہری اس صورت حال سے بہت پریشان اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پالیسی میکر بھی اس اہم باریکیوں کی جانب توجہ دیں جن پر بار بار ایک پیج پر ہونے کا واویلہ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے اس کے اقتدار کے تین برس کم نہیں ہوتے۔ کرنے والوں کے لیے پندرہ دن بھی بہت ہوتے ہیں مگر اس کے لیے قوت ارادی کا فعال ہونا ضروری ہے۔ تحریک انصاف اب اپنے انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ قوم کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ عوام کو مایوس نہ کیا جائے۔!! ٭

  • مزاحیہ فنکار؟  یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    مزاحیہ فنکار؟ یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    80ء کی دہائی میں جب سوویت یونین افغانستان میں میں اپنے پیر جمانے کے لئے داخل ہوئی تو اس وقت افغانستان میں موجود ایک مخصوص طبقے نے ان روسیوں کا بھرپورساتھ دیا۔ روس نے بھی ان ضمیر فروشوں کو اپنے عزائم کے لیے خوب استعمال کیا۔ یہ طبقہ بنیادی طور پر کیمونیسٹ تھا جنہیں آجکل سرخے کا نام سے جانا جاتا ہے۔

    بنیادی طور پر سرخہ جس کا مقصد ہی غلامی ہے انکی ذہنیت مادرپدر آزادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ لبرلزم کے نام پر مذہبی اور ثقافتی ورثے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ پہلے یہ روسیوں کے ساتھ تھے اور اب بھارت کے مہرے بنے ہوئے ہیں۔ انکی حیثیت کسی استعمال شدہ ٹشویپرز کے جیسی ہے۔ یہ پہلے استعمال ہوتے ہیں جیتے جی اور پھر انکی لاشیں بھی اسی دشمن کے ایجنڈے کو سرو کرتیں ہیں جسکے انہیں معاوضے تک نہیں ملتے۔۔۔ حالیہ دنوں میں اسکی ایک مثال بھی ملی۔ شوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جسکے ساتھ یہ تحریر درج کی جا رہی تھی

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/ManzoorPashteen/status/1420063152620941323

    ٹویٹ کے ساتھ پوسٹ ہونے والی یہ تصویر غالباً چھے سال پرانی ہے اور یہ ٹویٹ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان میں پشتون قوم کو تحفظ کے نام پر چونا لگانے والا منظور پشتیں ہے جس نے نقیب اللہ محسود مومنٹ کو ہائی جیک کر کے اپنے ناپاک ملک دشمن عزائم کو پورا کیا اور خوب پیسے کمائے۔

    یاد رہے کہ جسے بار بار پاک افغان سرخہ گروپ "مزاح نگار” کہہ رہا ہے وہ درحقیقت ہتھیاروں کا شوقین ایک بچہ باز شخص تھا۔ اپنی پچاس سالہ زندگی میں کمال محنت سے جرائم کی دنیا میں بھی اس نے خوب نام کمایا تھا۔ بچوں سے جنسی تعلق استوار کرنے کا شوقین یہ شخص دکھنے میں ہی پرانی بالی ووڈ فلموں کا شکتی کپور لگتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر اس شخص کی جدید اسلحے کے ساتھ لی گئی تصاویر گردش کر رہی ہیں جو اسکے کردار کا بخوبی اندازہ لگانے کیلئے کافی ہیں۔۔ یہ اور بات ہے کہ بھارتی چینلز اور این۔ڈی۔ایس کے کابلی بھیڑ اسے مزاح نگار ثابت کرنے پر تُلّے ہوئے ہیں۔۔۔

    یہ شخص جسے آج سے پہلے شاہد ہی آپ نے کبھی دیکھا ہو کو راء اور این۔ڈی۔ایس سوشل میڈیا پر "مشہورِ زمانہ” بتاتے پھر رہے ہیں۔ یہ اتنا ہی مشہورِ زمانہ ہے کہ اسے مشہور کہنے والوں کے قریبی رشتےدار تک اسکے نام سے ناواقف ہیں۔ ویسے قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ موصوف نذر محمد الیاس خاشا زوان کے نام سے پکارے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی پارلیمان میں براجمان انہی سرخوں کے ساتھی احباب بھی اسی لائن کو ٹریس کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔۔ محسن داوڑ نامی رکن قومی اسمبلی کے الفاظ میں:

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/mjdawar/status/1420080452984000514

    گویا کہ یہ بھی وہی سکرپٹ کاپی پیسٹ کر رہے ہیں جو کابل سے انہیں وٹس ایپ کیا گیا تھا۔۔۔ آج سے پہلے ہم نے کبھی محسن داوڑ کے منہ سے اس شخص کے بارے میں کچھ نہ سنا تھا لیکن اچانک محسن داوڑ کی جانب سے اس نام نہاد مزاح نگار کی شان میں قصیدے اور افغان طالبان کے امن مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔۔

    اگر آپ اس کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ وہ برائی ہے جو قندھار میں طالبان کے ہاتھوں مار دی گئی ہے اور ہمارے کچھ جاہل لوگ ، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں ، اس پر آنسو بہا رہے ہیں۔

    پہلے ، یہ ایک ازبکی تھا ، پھر وہ اس پوسٹ کی کمانڈ کررہا تھا ، عملی طور پر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہا تھا۔ یہ ہمارے عظیم آقا کی توہین کرتا صاف نظر آ رہا تھا۔۔ یہی وجہ ہے کہ آدھی سے زیادہ افغان قوم اس مسخرے کو ناپسند کرتی تھی۔ ایک وڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا تھا کہ یہ ٹی۔ٹی۔پی کے دہشتگرد کمانڈروں جیسی شخصیت کا مالک شخص تھا۔

    میرا موقف نہایت صاف اور واضح ہے۔ سوال اس شخص کی معصومیت یا بے گناہی کا نہیں بلکہ اس پروپیگنڈے کا ہے جو اسکو اچھا بنانے کے لیے مسلسل کیا جا رہا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا کرنے کے پیچھے ہمارے رکن قومی اسمبلی جناب محسن داوڑ اور دیگر سرخوں کے پاس کیا وجوہات ہیں؟

    @MrWaheedgul

  • ایف آئ آر اور قانونی پہلو !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ایف آئ آر اور قانونی پہلو !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ہمارے معاشرے میں جہاں نفسا نفسی کا دور ہے وہیں ہر بندہ جلد بازی کے چکر میں رہتا ہے ،کوئ امیر ہونا چاہتا ہے تو وہ بجائے محنت کرنے کے سوچتا ہے کہ میں بس کسی طریقے سے جلدی امیر ہوجاوں پھر وہ یقینن جلدی امیر ہونے کے چکر میں غلط کاموں میں پڑجاتا ہے جس سے اسے شائد کچھ وقتی فائدہ ہو لیکن آخرکار ایسی جگہ پھنستا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئ راستہ نہیں بچتا ،اسی طرح ہمارے ملک میں لوگ انصاف کے حصول کے لئے بھی بہت جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بس میں عدالت پہنچوں تو جج صاحب میرے حق میں فیصلہ دیئے بیٹھے ہوں
    اسی جلد بازی کے چکر میں اور جن سے دشمنی ہوتی ہے ان کو ذیادہ سے ذیادہ نقصان پہنچانے کے ارادے سے وہ سب سے پہلی غلطی FIRدرج کرواتے وقت کر بیٹھتا ہے
    ایف آئ آر کا یہ اصول ہے جتنی سوچ سمجھ کر اور اصل حقائق ،اور فوری طور پر درج کروائ جائے ،جن ١/٢ لوگوں نے آپ کو نقصان پہنچایا صرف ان کے نام اور بلکل سچے حقائق درج کروانے چاہئیں ،ہمارا جھگڑا کسی ایک بندے سے ہوتا ہے ایف آئ آر میں اس کے مامے،چاچے،تایا،دوستوں ،رشتیداروں سب کے نام دیتے ہیں تاکہ ان کو ذیادہ سے ذیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے حالانکہ معاملہ عدالت جانے کے بعد کافی حد تک اس کے الٹ ہوجاتا ہے
    ایک بات رکھیں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے
    آپ ایف آئ آر میں جتنی من گھڑت کہانیاں لکھیں گے اتنا ہی آپ کا نقصان ہے
    پہلے تو کسی بھی معاملے پر تمام اصل حقائق اور آپ سے جو ذیادتی ہوئ وہ لفظ بہ لفظ درج کروائیں
    کئ بار ایسا ہوتا ہے آپ کے سامنے والی پارٹی بڑی اثر رسوخ والی ہے تو پولیس آپ کی ایف آئ آر درج نہیں کرتی یا ٹال مٹول سے کام لیتی ہے تو آپ فوری طور عدالت جاسکتے ہیں اور عدالت حکم جاری کرے گی کہ ان کی ایف آئ آر درج کی جائے
    ایف آئ آر کے بعد اگر جرم قابل ضمانت ہیں تو کئ لوگ فوری اپنی ضمانت کروالیتے ہیں ،ضمانت کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ملزمان عدالت سے بری ہوگئے
    اس موقع پر آپ نے ہمت نہیں ہارنی ہوتی اور نا ہی مایوس ہونا ہے بلکہ صبر سے کام لیں اپنے موقف پر جو کہ سچائ پر مبنی ہو پر ڈٹے رہیں تو یقینن آپ کو انصاف ضرور مل کر رہے گا
    کوشش کریں ایف آئ آر درج کرواتے وقت کسی وکیل کو اپنے ساتھ لے جائیں یا درخواست اس سے لکھوالیں تاکہ وہ تمام قانونی پہلووں سے آپ کی بہتر طریقے سے مدد کرسکے ،کیونکہ
    کئ بار کیس کمزور کرنے کے لئے پولیس ایف آئ آر کو کافی کمزور بنادیتی ہے جس کا بھی نقصان یقینن آپ کو ہی بھگتنا پڑتا ہے
    پھر کورٹ میں سارا معاملہ پولیس انویسٹیگیشن /پراسیکیوشن ،گواہاں اور ثبوتوں کی بنیاد پر چلتا ہے
    اور ظاہر سی بات ہے عدالتوں میں ہزاروں کیسز ہوتے ہیں اس لئے ہر کیس چند دنوں میں حل ہونا بہت مشکل ہوتا ہے اس کے لئے حکومت کو عدالتوں /ججز کی تعداد میں یقینن اضافہ کرنے کی ضرورت ہے
    جلد بازی سے ہرگز کام لینے کی کوشش نا کریں
    اگر آپ کا کیس جائز ہے سچ پر مبنی ہے تو تھوڑی دیر ہی سہی انصاف آپ کو ضرور ملے گا

  • مقصدِ حَیات تحریر:افشین

    ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے جسکو پورا کرنے کے لیے وہ دن رات کوشاں رہتا ہے اس دنیا میں کوئی بھی انسان بغیر مقصد کے نہیں بھیجا گیا. بس ضروری یہ ہے کہ ہمیں اپنے مقصدِ حیات کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے چھوٹے بچے کو پڑھائی کا شوق اور کچھ بننے کی اُمَنگ مثلاً ڈاکٹر،انجینیئر اور بہت سے شعبے ہیں جو وہ چاہے بن جائے پر اپنے مقصدِ حیات کو پانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہےکچھ لوگ اپنے مقصدِ حیات سے لا علم رہتے ہیں اور بے مقصد زندگی گزار کے چلے جاتے ہیں کچھ لوگوں کا مقصد دوسروں کو خُوشیاں دینا اور دوسروں کے لیے جینا ہوتا ہے ایسے لوگ ہی حقیقی زندگی کے ہیرو ہوتے ہیں ایسی بہت سے مثالیں پاکستان کی تاریخ اور دورِحاضر میں موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اور مال ومتاع دوسروں کی امداد میں وقف کردی ایسی شخصیات کا نام ہمیشہ سب کے لیے قابل احترام رہتا ہے اور کتابوں کے اوراق میں نمایاں مثال کے طور پہ لکھا جاتا ہے اور ہماری آنے والی نسلیں اس سے متاثر ہو کے ان جیسا بننے کی خواہش کرتی ہیں.
    جس شعبے میں ہماری دلچسپی ہو اس شعبے میں جانے کے لیے ہم کوشاں رہتے ہیں پر اچھا انسان بننے میں اگر اتنی محنت کریں تو دین و دنیا میں سرخرو رہیں.
    اپنے مقصدِ حیات کو سب سے پہلے جاننے پھر پانے کی کوشش کریں بغیر مقصد کے جینا کوئی جینا نہیں جیسے ارطغرل غازی نے اپنے جینے کا ایک مقصد بنایا اور اس کے لیے کتنی قربانیاں دیں ایسے بہت سے نیک اور بہادر لوگ ہمیشہ کی حیات پا گئے کیونکہ انہوں نے خود سے زیادہ دوسروں کا سوچا خودغرضی کی زندگی آپکو سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں دیتی سر اٹھا کے جئیں جیسے قابل محترم ایدھی صاحب نے اپنی ساری زندگی دوسروں کی خدمت میں وقف کی اور جاتے بھی انکے چہرے پہ مُسکراہٹ تھی اور اپنی انکھوں سے کسی کی اندھیری زندگی میں روشنیاں بکھیر گئے ایسی مثال قابل رشک ہے ایسی قابل محترم شخصیات قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں ایسی شخصیات سے ہی تو قومیں آباد ہے اگر دوسروں کا سوچنے والے ناں رہیں تو خود غرض لوگ تو ایک دوسرے کو نوچ کھائیں. آپ سب کی زندگی کا بھی ایک مقصد ہے اور جب تک سانس رواں رہے مقصد کی تکمیل کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے تاکہ زندگی میں اتنا اطمینان رہے کہ ہم کچھ تو کیا ہے. ایک لڑکی کی جب شادی ہو جاتی ہے وہ سمجھتی ہے بس مقصد ختم ہوگیا مگر شادی کے بعد گھر کو جنت بنانا اور بچوں کی اچھی تربیت کر کے قوم کو اچھے بیٹے دینا ان کو یہ سیکھانا کہ دوسروں کے لیے جینا اور سب کو خوشیاں دینے والے بننا یہ بھی ایک مقصد ہی ہوتا ہے کسی کو بھی اللّه پاک بے مقصد نہیں بھیجا !ایک لاچار انسان یا معذور انسان جب اس دنیا میں رونقیں دیکھتا ہے سب کو کچھ نا کچھ کرتے دیکھتا ہے اس کے دل میں بھی ایک خواہش اُبھرتی ہے کہ میں بھی ایسے کام کروں اکثر خود کو بے مقصد سمجھ لیتے ہیں جیسے کہ میں خود اسکی مثال ہوں مجھے بھی لگا میں اس دنیا میں ویسے آگئ کوئی مقصد نہیں کچھ کر نہیں سکتی پر اللہ پاک بھیجا ہے ضرور مرنے سے پہلے ایسا کچھ کر جاوں گی کہ دنیا کی نظر میں نا سہی اللّه کے آگے سرخرو ہوجاوں گی انشااللّه
    کہنا یہ چاہتی ہوں اپنی زندگی کا مقصد بنائیں خوشیاں بکھیریں !! ناں کہ خوشیاں چھیننے والے بنیں اور ہمت نہ ہاریں اللّه پاک آپکو سب دیا طاقت دی مکمل انسان بنایا آپ دوسروں کا سہارا بنیں انکی آدھوری سے زندگی میں دیے کی مانند اُجالا کریں ۔ تاکہ آپ سب بھی عظیم شخصیات کی طرح مقصد حیات پا لیں !!

    "شمع کی مانند بنیں چاروں اطراف روشنی بکھیر کے خود پگھل جاتی ہے ”

  • پاکستان اور اووسیز پاکستانی  تحریر:سکندر ذوالقرنین

    پاکستان اور اووسیز پاکستانی تحریر:سکندر ذوالقرنین

    پاکستان اور سمندر پار پاکستانی کا تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں چند مہینوں سے پاکستان سے ہماری محبت کچھ لوگوں نے اپنے پیمانوں سے ناپنا شروع کر دی
    تھی ہماری محبت لازوال ہے

    جس کا ثبوت

    پچھلے چند مہینوں سے دے رہے ہیں ہیں ہماری صبح بھی پاکستان کے لیے دعا سے شروع ہوتی ہے پچھلے دس مہینوں سے دو ارب ڈالر بھیج رہے ہیں یہ پاکستان سے محبت نہیں تو اور کیا ہے کیونکہ اووسیز پاکستانیوں کو عمران خان پر اعتماد ہے اور اللہّ کرے عمران خان ہماری توقعات پر پورا اتریں

    یہاں ہر کوئی کروڑ پتی نہیں ہے زیادہ لوگ یہاں مزدوری کرتے ہیں اور اپنی فیملی سے دور ہیں ان کی صبح شام بھی پاکستان ہی ہیں

    یورپ آنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا سمجھنا چاہتا ہے یورپ والے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر آتے ہیں ان کا یہ سفر پاکستان سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد ایران

    اور ترکی کا یہ سفر انتہائی خطرناک ہوتا ہے یہاں دوران سفر کوئی کسی کا نہیں ہوتا سوائے اللہ کے کسی کو بھوک پیاس کی فکر نہیں ہوتی ہے بس منزل پرپہنچنے کا جنون ہوتا ہے

    دوران سفر کئی روز تک بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے اور سر پر چھت آسمان اور بستر زمین ہوتی ہیں میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے یہ بھی کوئی نہیں پتہ کہ کسی وقت کہیں سے بھی گولیاں سکتی ہے ترکی آنے پر بھی بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے

    ترکی آنے پر کہیں دنوں کا انتظار کیا جاتا ہے ہے کہ کوئی بڑا شپ آئے گا اور یہاں سے آگے لے جائے گا

    یونان پہنچنے کی امید ہوتی ہے اگر وہ خیر سے کوئی پہنچ جائے تو وہاں کی پولیس سیاسی پناہ گاہوں میں ڈال دیتے ہیں اور روٹی کے لئے لمبی لائنیں اور بہت ہی گندا سسٹم پایا جاتا ہے اگر کوئی کام مل جائیں تو اس کے مقدر اچھے

    اٹلی فرانس اور جرمنی میں آتے آتے بہت وقت لگ جاتا ہے اور کبھی کبھی تو کہیں یہاں پہنچ نہیں سکتے ۔ مطلب کے راستے میں ہی فوت ہو جاتے ہیں اور اپنے پچھلے خاندان کو ساری عمر کا رونا بھی دے جاتے ہیں
    دو ہزار پندرہ میں بہت آسانی ہوئی تھی کہتے ہیں ایک ماہ سے کم وقت میں بھی لوگ یہاں پہنچے ہیں

    اٹلی فرانس جرمنی پہنچ جانے پر بھی اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لیتی

    یہاں آ کر ایک نیا امتحان شروع ہوتا ہے ہے اور وہ ہی اپنے آپ کو لیگل کرنا

    اپنے آپ کو لیگل کروانے کے لیے کسی کے تو دو تین سال لگتے ہیں اور کئ کو تو دس سال تک کا عرصہ لگتاہے

    پچھلے چند مہینوں سے ہم پاکستانی سیاست میں بہت بحث رہے ہیں کہ ایک صاحب نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں پاکستانی سیاست کا کیا پتا حالانکہ موجودہ دور میں ان کے اپنے لیڈر بھی اوورسیز کی حیثیت سے لندن میں موجود ہیں پتہ نہیں انکو کیا خوف ہے

    ہمارے چند مطالبات ہیں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ضرور ملنا چاہیے ہمارے ایک موبائل فون پر ٹیکس کے بغیر لانے کی اجازت ہونی چاہیے کرونا سے پروازوں کا مسئلہ بہت چل رہا ہے اس کو فوری حل کرنا چاہیے
    وہاں پاکستان میں موجود اووسیز پاکستانیوں کے لیے ویکسین کا مسئلہ بہت زیادہ دیکھا جا رہا ہے اس کا بھی حل فوری طور پر کرنا چاہیے

    روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی سہولت بہت فائدہ مند ہے لیکن اکثر وہاں پیسے لیتے ہوئے بہت مسئلہ رہتا ہے جیسا کہ ایک دوست سعودی عرب میں رہتا ہے اس کی فیملی رقم لینے گئی تو کبھی ایک بینک والے دوسرے بینک اور دوسرے
    والے اسے واپس اسی بینک میں چکر لگواتے رہے
    ‏@sikander037
    #sikander