Baaghi TV

Category: متفرق

  • گناہوں پر آٹھ گواہ  تحریر: مدثر حسن

    گناہوں پر آٹھ گواہ تحریر: مدثر حسن

    آپ کو پتہ قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ پیش ہوں گے۔ آٹھ گواہ انسان کے خلاف گواہی دے گئیں اور کہے گئیں کہ اس نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔

    پہلا گواہ: جس جگہ بندے نے گناہ کیا ہو گا،وہ جگہ وہ زمین کا ٹکرا قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔۔!!سورۃ الزلزال آیت نمبر(5،6)

    وہ زمین کا ٹکڑا یہ گواہی دے گا اے اللہ پاک یہ بندہ مجھ پر اکڑ کر چلتا تھا غرور اور تکبر کیساتھ اپنی گردن اونچی کر کے مہرے اوپر چلتا تھا حالانکہ تکبر تو اللہ پاک کی چادر ہے باقی مخلوق میں اگر ذرا برابر بھی تکبر ا گیا تو ارشاد ہے کہ اسکو جنت کی خوشبو تک نصیب نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ انسان زمین کے جس جس حصے پر گناہ کرتا ہے وہی حصہ قیامت والے دن بولے گا کہ الہیٰ اس نے میرے اوپر گناہ کیے ۔ ہر زمین کا حصہ بولے گا گواہی دے گا چاہے آپ نے نیکی کی ہو اس خطے کے اوپر یا برائی۔۔۔

    دوسرا گواہ: وہ دن بھی گواہی دے گا جس دن بندے نے گناہ کیا ہو گا۔(سورۃالبروج آیت نمبر 3)

    اس کے علاوہ انسان کا وہ دن جس دن اس نے برائی کی جس دن اس نے کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی کی کسی یتیم کا حق کھایا انسانیت کی تضحیک کی وہ دن بھی گواہی دے کہ مولا اس نے اس دن گناہ کیے تھے۔ اور اس نے اس دن مقررہ وقت پر اچھائی کی تھی۔۔۔

    تیسرا گواہ: قیامت کے دن ان کی زبان بھی ان کے خلاف گواہی دے گی ۔(سورۃ النور آیت نمبر 24)

    انسان کی اپنی زبان بھی اس دن گواہی دے گی وہ بول پڑے گی کہ آیا کہ یہ ساری زندگی گالیاں بکتا رہا یا نیکی پھیلاتا رہا۔ اگر زبان گواہی دے گی کہ اس نے تیری اور تیرے محبوب کی تعریف کرتا رہا ساری زندگی تو پھر تو جنت نصیب ہو جائے گی اور بخشش بھی ہو جائے اگر اس نے بول دیا کہ یہ تمام عمر گالیاں اور فضول باتیں کرتا رہا تو اس کے لیے پھر عذاب ہوگا۔۔

    چوتھا گواہ: انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے ان کے خلاف ۔(سورۃ یٰسین آیت نمبر 25)

    انسان کا ہر کر اعضا اس دن بول پڑے گا کہ آیا اس نے اچھائی کی جا برائی۔ آج جو انسان چوری کرتا ہے یا ہاتھ سے جو بھی گناہ کرتا ہے وہ ہاتھ اس دن بول پڑی گے اور گواہی دینگے۔ اگر انہیں ہاتھوں کیساتھ آسانیاں بانٹیں ہونگی خدا کی مخلوق میں تو بخشش ہو جائے گی وگرنہ عذاب تو بھگتنا پڑے گا۔۔۔

    پانچواں گواہ: دو فرشتے جو تم پر نگران مقرر ہیں ،لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دے گئیں تمہارے خلاف ۔(سورۃ الانفطار آیت نمبر12)

    اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاندھے کے اوپر دو فرشتوں کی ڈیوٹی مقرر رکھی ہے ایک فرشتہ اچھائی والا ہے دوسرا برائی والا ہے۔ اچھائی والا فرشتہ اچھائی نوٹ کرتا ہے اور برائی والا برائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا میدان حشر لگا ہوگا تو یہ کاندھے پہ بیٹھے دو فرشتے اس دن انسان کا نامہ اعمال جو انہوں نے اسکی زندگی میں لکھا ہوگا پیش کر دینگے۔۔۔ اور سزا و جزا کا فیصلہ اسکی بنیاد پر کیا جائیگا۔۔

    چھٹا گواہ: وہ نامہ اعمال جو فرشتے لکھ رہے ہیں تو زبان بھی گواہی دے گی اور نامہ اعمال بھی دیکھائے جائیں گے قیامت کے دن ۔(سورۃ الکہف :آیت نمبر 49)

    ساتواں گواہ: آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے، اللہ رب العزت آپ ﷺ سے بھی گواہی مانگیں گے اور اس وقت رسول ﷺ بھی گواہی دیں گئیں۔(سورۃ النساء آیت نمبر 41)

    اس دن ہم خود بھی بول پڑینگے کیونکہ اس دن اللہ کی مرضی ہی ہوگی بس وہ حکم دے گا اور ہم بولنا شروع کرینگے اس کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات جو کہ ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دینگے۔ اگر ہم نے عمل انکی زندگی پر کیا ہوگا تو آپ شفاعت بھی فرمائینگے اور اللہ پاک سے بخشش کی دعا بھی کریںگے۔۔

    آٹھواں گواہ: اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں،جو تم گناہ کرتے ہو،ہم قیامت کے دن اس پر گواہ ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اللہ گواہی دے گا اور کہے گا تم نے یہ گناہ کیا ہے ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 61)

    ہمارے گناہوں پر اللہ خود گواہ ہوگا (اللہ اللہ) کیا عالم ہوگا، کبھی سوچا ہے آپ نے کیا جواب دیں گے اس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو

    یا اللہ ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرما آمين

    ‎@MudasirWrittes

  • سندھ لاک ڈاون۔ تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    سندھ لاک ڈاون۔ تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    جب سے کووڈ آیا ہے اس وقت سے مسلسل سندھ گورنمنٹ اپنی من مانی کر رہی ہے۔
    ایک طرف سندھ گورنمنٹ پیپلزپارٹی کا نعرہ ہے روٹی کپڑا اور مکان تو دوسری طرف وہ خود ہی اپنے نعرے کی نفی کرتی نظر آرھی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں کووڈ کے شروع دنوں میں ہی اسمارٹ لاک ڈاون متعارف کروایا تھا، جس کو پوری دنیا میں سراہا گیا۔ اور نہ صرف سراہا گیا بلکہ ساتھ ہی اس کو کئی اور ملکوں نے اپنے اپنے ملک میں نافذ بھی کیا۔
    کووڈ کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت خراب ھوئی اور کئی ملک تو بہت ہی زیادہ قرضدار ھو گئے۔ پر الحمدللہ پاکستان کی معیشت بڑھی وجہ صرف اور صرف اسمارٹ لاک ڈاون تھی۔
    وزیراعظم عمران خان نے شروع سے پالیسی رکھی کے مکمل لاک ڈاون نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان میں غریب دھاڑی دار طبقہ زیادہ ہے اور وزیراعظم کا کہنا تھا کے مکمل لاک ڈاون کی وجہ سے غریب بھوک سے ہی مر جائے گا۔ اس لیے پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاون کیا گیا۔

    https://twitter.com/alwaystalat/status/1422357964241899520?s=19

    لیکن سندھ گورنمنٹ شروع سے ہی پی ٹی آئی گورنمنٹ کے خلاف بضد سندھ میں مکمل لاک ڈاون کرتی رھی۔ جس کی وجہ سے آج کراچی کی عوام تڑپ اٹھی۔ آآل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس کے موقع پر فیضان راوت اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور تقریر کے دوران ہی آبدیدہ ھو گئے۔انکا کہنا تھا کے ھم گاڑی بیچ چکے ھم گھر بیچ چکے اب اور کیا بیچیں بتاو۔کیا اب ھم خود کو بیچ دیں۔روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں سے سوال کرتے ھوئے فیضان صاحب نے پوچھا۔

    اگر ابھی بھٹو زندہ ہوتا یا بینظیر زندہ ہوتی تو کیا وہ یہ سب کرنے دیتی۔۔۔ نہیں نہ کیونکہ پیپلز پارٹی جس کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان تھا وہ اب زندہ نہیں اس لیے سندھ حکومت اپنی من مانی کر رہی ہے۔
    جو غریب رکشہ چلا کے یا ریڑھی لگا کے ہر روز اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتا ہے اس پر کیا گزرتی ہو گی۔
    لیکن ان سب باتوں کے باوجود سندھ حکومت اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔

    @alwaystalat

  • کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    معاشرتی ومعاشی ترقی میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے. میڈیا ہمارے معاشرے کی آواز ہے. اور یہ ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے. میڈیا ابلاغ کا ایک موڈ ہے, اس نے خواتین کو بااختیار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے. اسکے علاوہ کوویڈ 19 کے بارے میں اور کیسوں کی تعداد سے لے کر ویکسین تک ہر تفصیل کے بارے میں ہمیں آگاہ کررہا ہے.

    حالات سے باخبر رہنا کسی بھی انسان کی بنیادی خواہش ہوسکتی ہے. آج میڈیا کی ترقی دیکھ کر جہاں خوشی ہوتی ہے وہیں افسوس بھی ہوتا ہے کیونکہ کچھ میڈیا چینلز نے سب سے پہلے کی دوڑ میں اصل صحافتی اقدار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے. میرے خیال میں میڈیا حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے اچھے کاموں کے اقدامات سے بھی عوام کو آگاہ رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. کیونکہ صحافی برادری معاشرے کا اہم طبقہ ہے. صحافی حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں.

    سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحافی ہر عام و خاص کی آ واز ہیں اور اپنے قلم سے عوامی مسائل کو اجاگر کرکے ان کے مسائل کے حل کے لئے راہ ہموار کرکے ایک بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں اور اسی کردار کی وجہ سے انہیں معاشرے میں ایک منفرد حیثیت حاصل ہے. میڈیا خاص کر ٹیلی ویژن جو معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اسکے لئے مختلف پروگرام نشر کرتا ہے پر مجھے لگتا ہے کسی حد تک معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کررہا ہے کیونکہ میڈیا کا کردار کسی ملک کو سنوارنے یا بگاڑ میں اہم ہوتا ہے.

    مثال کے طور پر گھر میں داخل ہونے کے بعد اکثر لوگ پہلا کام یہ کرتے ہیں ٹی وی آن کرتے ہیں. اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں میڈیا نے ہر انسان کو باخبر بنا دیا ہے کیونکہ عام انسان بے شک وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو ٹی وی پر خبریں سن لیتا ہے.

    ایک چیز کی داد تو بنتی ہے کہ پاکستانی میڈیا نے حساس سیاسی اور باقی معاملات پر نہایت ذمے داری سے رپوٹنگ کی ہے. چاہے وہ طاقت ور طبقے کی کرپشن ہو یا انسانی حقوق کی بحث یا کہیں بے ضابطگیاں ہو یا 27 فروری بھارت کا ڈرامہ. انکو بے نقاب کیا ہے. ان میں سرفہرست نام مبشر لقمان کا آ تا ہے جو بنا کسی خوف کے, بنا کسی لالچ کے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں. ان کا مشہور ٹی وی پروگرام کھرا سچ ہر خاص وعام کا پسندیدہ پروگرام ہے. کئی چہرے اس پروگرام کے ذریعے انھوں نے بے نقاب بھی کئے. اور سچائی پر مبنی حقائق عوام کے سامنے لائے. کئی بار جب وہ سٹوری کرتے ہیں تو ان پر دباؤ بھی آتا ہے کہ ہمارے خلاف رپورٹنگ کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ ،مبشر لقمان کا پروگرام کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ ہے جس میں ہر بات کھری ملتی ہے

    مگر مبشر لقمان کھل کر نہ صرف تنقید کرتے ہیں بلکہ جہاں اچھا ہورہا ہو اسکو اجاگر بھی کرتے ہیں. انھوں نے معاشرے کے بہت سارے جرائم کو بےنقاب بھی کیا ہے. مبشر لقمان ہی ہیں جس نے دلیری سے اس بات کا پہلی دفعہ میڈیا پر انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے مرکزی لیڈر بھارتی شہری ہیں. مبشر لقمان ہی تھے جس نے بھارت کی طرف سے تین پاکستانی شہریوں پر لگنے والے جھوٹے دہشتگردی کے الزام کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے لاہور کی مارکیٹوں میں ایک پروگرام کیا جس کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی تھی. اسی طرح نجم سیٹھی کے ماضی کی جھلک پہلی دفعہ میڈیا پر مبشر لقمان کے پروگرام میں ہی نشر ہوئی تھی.

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا میڈیا مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے اقدامات سے بھی عوام کو باخبر رکھے . ذاتی مفادات کو سائیڈ رکھ کے ملک اور ملک کی سلامتی کے لئے کام کرے تو یقیناً معاشرے میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گئیں.

  • اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہلے بھی ساون کی بارشوں میں بھگتا تھا، یہاں چھوٹے موٹے سیلاب تقریبا ہر سال ہی آتے ہیں۔ لیکن یہ سال تھوڑا مختلف ہے۔ اس سال اسلام آباد کے نشیبی اور ریہہ علاقوں میں نہیں بلکہ سیلابی پانی، شہر کے نئے بننے والے سیکٹرز میں آرہا ہے۔ اوپر سے غصب یہ کہ گزشتہ دس دونوں میں یہ دوسری بار ہوا ہے کہ اسلام آباد کا ایک نجی تعمیراتی سیکٹر ای گیارہ اور فیڈرل گورنمنٹ ھاوسئنگ سوسائٹی اور سی ڈی اے کے زیر انتظام بننے والا سیکٹر ڈی بارہ، میں سیلابی ریلہ آیا ہے۔ جس سے قیمتی جانوں اور لوگوں کے اثاثوں کو شدید پہنچا ہے۔

    مون سون کی بارشوں سے بہتا شہر اقتدار، یقینا بنانے والوں نے ایسا نہیں بنایا ہو گا نہ سوچا ہوگا۔ یہ شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے اکثر بارش کی لپیٹ میں آتا ہے لیکن اس بار شاید انتظامیہ کی غفلت زیادہ ہے ۔

    ای 11 اور ڈی 12 کے علاقوں سے آج سوشل میڈیا کے ذریعے بے شمار ایسی ویڈیوز دیکھنے کو ملیں جو بتا رہی تھی کہ یہ اسلام آباد بہیں بلکہ کوئی بہتا ہوا دریا ہے۔
    سیلاب کا پانی بہہ رہا ہے اور گاڑیوں کو اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے اگر اس شہر کا ایسے ہی رکھا جاتا رہا تو کہیں کوئی نیا دریا یہاں ہی نہ بن جائیں۔ ویسے انگریزی زبان میں شہری علاقوں میں آنے والے ایسے سیلابوں کے لیے” اربن فلڈنگ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

    راولپنڈی کے رہنے والے اس سیلابی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ جبکہ اسلام آباد کے باسیوں کے لیے یہ ایک نئی نئی زحمت ہے۔ اور یقینا اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
    ان کتابی باتوں میں ایک نظر ڈالتے ہیں جو شہر اقتدار میں بڑھنے کے ساتھ ساتھ نظر انداز کی جارہی ہیں۔

    گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ، سیلاب خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ نقصان دہ خطرہ ہے ، جو کہ بارشوں کے ساتھ قدرتی توانائیوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 1950 سے 2010 19 بڑے سیلابوں نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے ۔
    ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ، اس عرصے میں قریب 8،887 اموات کی اطلاع ہے۔ جبکہ حالیہ کچھ برسوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ملک کے بہت سے شہروں میں شہری سیلاب ایک عام واقعہ بن گیا ہے۔ صرف یہ ہیں نہیں کہا جاتا ہے کہ 2010 کے میگا سیلاب نے تقریبا 20 ملین افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اس سیلاب سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ، زراعت اور ماحولیاتی نظام اورزمین کی پیداواری صلاحیت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    2010 کے بعد تقریباً ہر سال سیلاب کا ایک بڑا واقعہ م پیش آیا ، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
    اب شہری سیلابوں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے سب سے بڑے شہری مراکز خصوصا کراچی اور لاہور بار بار شہری سیلاب کا شکار ہو رہےہیں۔ اور اب یہ دائرہ پاکستان کے دارالحکومت تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ان شہری سیلابوں کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان کو موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بہت ذیادہ وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن شاید ہماری حکومتیں اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یا انھیں لوگوں کی جان و مال اور املاک کی فکر نہیں ہے۔

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

    اربن فلڈنگ کے وجوہات میں سب سے موسمیاتی تبدیلی ہے لیکن پاکستان میں فلڈ مینجمنٹ اور دیگر اداروں کی اس معاملے پر نظر پوشی بھی اسے بڑھا رہی ہے۔

    پاکستان میں شہری سیلاب کا سبب بننے والی کچھ کلیدی وجوہات یہ ہیں:
    شہری سیلاب کی صورت میں کم وقت میں پانی کا زیادہ بہاؤ اور بارش شامل ہے۔ اسے سائنس زبان میں ہائیڈرو سسٹم کہا جاتا ہے۔
    بڑے شہروں میں غیر منصوبہ بند مقامات زیادہ تر آبی گزرگاہوں اور قدرتی نکاسی آب کے ارد گرد تعمیر کیے جاتے ہیں جو کہ شہر ی سیلاب کی اہم ترین وجہ ہے۔ یعنی شہری انتظامیہ کو کچی آبادیوں کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے جو بیشتر نالوں کے کنارے پر بنائی جاتی ہیں۔
    کچی آبادیوں کی وجہ سے ، نالوں کو تجاوزات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ قدرتی نکاسی آب کے راستوں کو روکتا ہے۔
    اب تو انتہا وہ کوڑا کرکٹ ہے جو نکاسی آب والے نالوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے ۔
    بلدیہ کا ایک اہم کردار ہے جو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے ۔
    شہر کے اصل نقشے کو نظر انداز کرنا بھی شہری سیلاب میں اضافے کا سبب ہے۔
    آبادی میں اضافہ اور شہروں کا پھیلاؤ بھی دیکھنا ہوگا۔
    ان تمام وجوہات کے بعد اسلام آباد کو دریا بنانے والی انتظامیہ کی بات کرتے ہیں۔
    سی ڈی اے سمیت ہر بڑے ادارے کو جو اسلام آباد کی خوبصورتی کا کریڈٹ لیتے ہیں، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شہر میں بننے والی غیر سرکاری اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں کو کب تک لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے دیا جائے گا۔
    اربن فلڈنگ مینجمنٹ والے لوگوں کو کہاں استعمال کیا جائے گا؟
    غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کو کون دیکھے گا؟ سب سے آخر میں شہریوں کو اربن فلڈنگ کی صورت میں رسک مینجمنٹ کی تربیت کون دے گا؟.
    صرف یہ ہی نہیں عید الاضحی کے دن ہونے والی بارش ایک اشارہ تھی جس کے بعد نالوں کی صفائی انتظامیہ اور میونسپل کی ذمہ داری تھی۔جیسے نہیں دیکھا گیا۔
    اسلام آباد کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر میں ایسی تمام تعمیرات کا خاتمہ ہو جو کہ پانی کی گزر گاہوں پر تعمیر ہوئیں ہیں اور ان تمام افسران کی سرزنش ہو جو اس اہم معاملے میں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور شہر اقتدار کو دریا بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔۔کہیں یہ دریا ہم سب کو اپنے ساتھ بہا کے نا لے جائے۔
    ورنہ شہر دریا بن رہا ہے اور ہماری انتظامیہ آئندہ آنے والے سیلابوں سے بچنے کے لیے لوگوں کو لائف جیکٹ دے ہی رہی ہیں۔ یعنی دریا کے کنارے رہنے والوں کو اب تیراکی سیکھ لینی چاہیے

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے حصے میں ایک ماہ کے لیے آچکی ہے ۔ بھارت جو تقسیم برصغیر کے وقت سے ہی غاصبانہ و جارحانہ رویہ اپناے ہوے ہے اسے اس قدر حساس ادارے کی سربراہی ملنا پاکستان و دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہے ۔ پاکستان اس وقت افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ اور بھارت امن کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے ۔ ذرائع کے مطابق افغان فضائیہ کے زیراستعمال طیارے بھارتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے پائلٹ بھی بھارتی ہی ہوں۔ اور پھر مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی وہ کھیل رہا ہے وہ اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے ۔ سلامتی کونسل کی ہی منظور کردہ قراددیں بھارت نے ردی کی ٹوکری میں پھینک رکھی ہیں ۔ سلامتی کونسل کی سربراہی ملنے کا معاملہ یہ ہے کہ انگریزی حروف تہجی کے لحاظ سے ہر رکن ملک ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالتا ہے ۔ بھارت کی سربراہی کے موقع پر خارجہ پاکستان کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ ’’امید ہے بھارت سلامتی کونسل کی صدارت کی اقدار کی پاسداری اور قواعد کا احترام کرے گا۔ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی ذمہ داری یاد کرائیں گے۔‘‘ دوسری طرف بھارتی مستقل مندوب تیرومورتی نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے لیکن ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مسائل کو حل کرنے ے لیے بات کرنے کو تیار ہے ۔ ہم دنیا کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ، لہذا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم آئین کی دیگر شقوں کی طرح بھارتی پارلیمنٹ کا واحد اختیار ہے ۔ بھارتی مندوب شاید بھول رہے ہیں کہ جس فورم کی صدارت ان کے حصے میں آئی ہے اسی کی قراردادیں کشمیر کے متعلق بڑی واضح الفاظ میں موجود ہیں ۔ پاکستان نے مذکورہ بالا بیان کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سفیر کے بیان کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے ، بھارت حقائق کو مسخ کر کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کو جھٹلا نہیں سکتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ 5 اگست 2019ء کے اقدام کو واپس نہیں لیتا۔ جموں و کشمیر بھارت کا لازمی حصہ نہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں جن میں رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا ہے نافذ العمل ہیں اور اسے صرف سلامتی کونسل ہی منسوخ کر سکتی ہے ۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 91 اور نمبر 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی اوربھارت کا یہ اقدام کالعدم ہے ۔

    اقوام متحدہ کی قراردادوں کا جس طرح سے بھارت نے مذاق اڑایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بدترین کرفیو نافذ کررکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی سے زائد بھارت نے فوج تعینات کررکھی ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقوام کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ گاؤماتا کی حرمت کے نام پر کہیں مسلمانوں کو تختہ دار پر لٹکایا جا رہا ہے تو کہیں مسلمان عورتوں کو سرعام جنسی تشدد کے ساتھ سسکتے ہوے مرنے کو پھینکا جارہا ہے ۔ کہیں عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے تو کہیں کسانوں پر نام نہاد قوانین کا نفاذ کرکے انھیں بغاوت پر ابھارا جارہا ہے ۔ اس سارے ظلم و تشدد کے بعد اگر کوئی بھارتی مسلمان ، عیسائی ، سکھ یا پھر کوئی اور جدوجہد کا آغاز کرتا ہے یا پھر مسلح جتھا بنالیتا ہے تو اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر دہشت گردی کا راگ الاپنا شروع ہوجاتا ہے ۔ ان حالات میں جب بھارت کے اپنے ملک کی حالت خانہ جنگی کی سی ہے تو سلامتی کونسل کی سربراہی دینا "بندر کے ہاتھ ماچس” دینے کے مترادف ہے ۔ لکھ رکھیے کہ بھارت کوشش کرے گا کہ وہ ایک ماہ میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرے ۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پیروں تلے روند کر کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والا صدر کی کرسی پر براجمان ہوچکا ہے

  • ‏خوبصورت تحفے  تحریر : محمد نوید

    ‏خوبصورت تحفے تحریر : محمد نوید

    باعث غربت اور معذوری میرے لئے تعلیم کو جاری رکھنا مشکل تھا تھا میرے پڑھنے کے شوق کو جہاں میری والدہ نے میرا بہت ساتھ دیا وہاں دوستوں نے اور اساتذہ صاحبان نے بھی میری اچھی حوصلہ افزائی کی جب کبھی حالات انگڑائی لینے لگتے میرے حوصلے کبھی پست ہوتے تو کبھی بلند اللہ پاک مجھے اچھے نیک دل لوگوں سے ملواتا گیا یوں میرا پڑھنے کا شوق زندہ رہا میرا پڑھنے کا شوق اس وقت مزید بڑھ جاتا جب کوئی مجھے کتاب یا پین تحفے میں دیتا یوں تو بہت ساری کتابیں مجھے میرے محسنوں نے مجھے تحفے میں دی جس کی وجہ سے کتاب پڑھنے کا شوق ھوا میٹرک مکمل کرنے کے بعد گھر بیٹھ سا گیا
    سکول جانے کے لیے کبھی گدھا گاڑی کا استعمال بھی غلط نہ لگا بس بیٹھ جاتا کہ کسی طرح سکول ٹائم سے پہلے پہنچ جاؤں
    اللہ کے فضل سے میٹرک کر لی لیکن نمبر بہت کم تھے کیوں کے ایک دو دن سکول پیدل جانا پڑجاتا تو اگلے دن تھکاوٹ کی وجہ سے بخار ہو جاتا اسی طرح تعلیم کو جاری رکھے رکھا استاد صاحبان کو بھی میرے جسمانی حالت بارے علم تھا تو انہوں نے بھی شرکت فرما کر مجھے اسمبلی حال میں آنے سے منع کردیا اسمبلی میں کبھی ادھر لڑھکجاتا تو اسمبلی کا نظم و ضبط بگڑ جاتا یوں جو ٹائم اسمبلی میں دینا ہوتا میں استاد صاحب کی کرسی اور جھاڑو پہنچا کرتے گزرتا استاد صاحبان نے مجھے باپ کی طرح شفقت سے نوازا ایک استاد صاحب نے تو میری فیس کا ذمہ اپنے سر لے لیا تو دوسرے استاد نے میری ورزی وغیرہ کے ذمہ لیا اور جوتے تو میں پہن نہیں سکتا تھا
    آج بھی استاد صاحبان اور دوستوں کے احسانات یاد کرکے دل بھر آتا ہے کہ اگر وہ مشکل وقت میں میرا سہارا نہ بنتے تو میں آج کہاں ہوتا؟میری تمام نوجوانوں سے اپیل ہے جن کے پاس وسائل ہیں اور اللہ پاک کی دی ہوئی آسائشیں موجود ہیں اگر آپ کسی وجہ سے خود تعلیمی میدان میں آگے نہ بڑھ سکے تو آپسے اپیل ہے کے اپنے دوستوں اور ان مستحق بھائیوں اور بہنوں کے لئے ہروقت باہیں کھولیں رکھے ان کو کامیاب ہوتا دیکھ یقیناً آپ کو دلی خوشی نصیب ہوگی اور میں اپنے محسنوں کی آنکھوں میں وہ خوشی دیکھ چکا ہوں اگر آج میں کچھ بول لیتا ھوں کچھ لکھ لیتا ھوں تو یہ سب ان تمام کرم فرماؤں کی محبت کی وجہ سے ھے جہنوں نے میری حوصلہ افزائی کی میرے شوق کو زندہ رکھا

    ‎@naveedofficial_

  • افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس تحریرمیں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معاملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔

    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔ افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔

    انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہےماضی میں انڈیا امریکہ کے ساتھ افغانستان میں سرگرم تھا لیکن ایران اور روس کے ساتھ ایسا کوئی اتحاد نہیں تھا۔ لیکن اب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے تہران پہنچنے سے پہلے ایک طالبان کا وفد وہاں موجود تھا۔ جب وہ روس پہنچے تو وہاں بھی طالبان موجود تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا اس وقت ایران اور روس دونوں کے ساتھ افغانستان پر کام کر رہا ہے۔شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی اپنی ٹویٹ میں افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں کہتی ہیں کہ
    افغانستان میں طالبان کے جمتے ہوئے قدم، ان کا پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی گرم جوشی صرف انڈیا کے لیے نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کیونکہ اس ابھرتے ہوئے بنیاد پرست اتحاد کی وجہ سے خطے میں تمام کامیابیاں ضائع ہو جائیں گی۔انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہ چین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔

    کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور
    and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمائیں تحریر: زارا سیٌد

    گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمائیں تحریر: زارا سیٌد

    پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کا حصول وقت کے ساتھ مشکل ھوتا جا رھا ھے متوسط طبقے کے لیے ممکن نہیں کے سب بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی جاۓ ۔ نوجوانوں کو چاھیے کہ ڈگری کے حصول کے ساتھ ساتھ اس طرح کے ہنر سیکھیں جن کی مدد سے آپ آن لائن پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بیروزگاری ایک بہت بڑا مسئلہ خیال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں کئی لوگ ، بذریعہ انٹرنیٹ یا شارٹ کورسز، اور آئی ٹی کے ہنر سیکھ کر پیسے کما رھے ھیں۔

    فری لانسنگ:

    آپ فری لانسنگ کے ذریعے اپنے اخراجات خود اٹھا سکتے ھیں۔ فری لانسنگ کی پہلی شرط کوئی ہنر سیکھنا ہے، جیسے ایس سی او ، ڈیجیٹل مارکٹنگ ، گرافک ڈیزائننگ اور ویب ڈیزائننگ وغیرہ ۔یہ سب آپ گوگل اور یو ٹیوب سے با آسانی سیکھ سکتے ھیں ۔
    آج کل ہر بندے کو اپنی ویب سائٹ اور برانڈنگ چاہیے تاکہ اپنی حریف کمپنی سے بہتر کارکردگی کر سکیں ۔ آپ لوگ اپنی دلچسپی کے مطابق کوئی بھی ہنر سیکھ کر فری لانسنگ کر سکتے ہیں ۔
    آپ لوگ فائیور، اپ ورک اور فری لانسر ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹس پر اپنے ہنر کے مطابق کام اور کلائنٹس ڈھونڈ سکتے ہیں ۔

    آپ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پراجیکٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ شروعات میں آپ کو اپنا پورٹ فولیو بنانا ہوتا ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ آپ کو کام آتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کلائنٹ کو آپ کا کام پسند آئے گا تو وہ ضرور آپ کو کام دے گا ۔

    یوٹیوب:

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے آپ یو ٹیوب کو بھی اپنا کیرئیر بنا سکتے ھیں۔ جس فیلڈ میں اپ کو دلچسپی ھو اسی کے مطابق چینل بنائیں ۔ یوٹیوب چینل بنانے کے لیے آپ کو یوٹیوب سے ھی کافی معلومات مل جائیں گی ۔

    کاروبار:

    اگر آپ پہلے ہی کوئی آف لائن دوکان چلا رہے ہیں تو اسی کو آن لائن لے آئیے، فیس بک اور ٹویٹر ایڈورٹائزمنٹ کے ذریعے گاہک تلاش کیجیے اور اپنے کاروبار کو بڑھائیے ۔ اگر آپ کے پاس بیچنے کے لیے کوئی پراڈکٹ فی الوقت دستیاب نہیں تو اپنے علاقے کی کسی بھی مشہور پراڈکٹ یا سوغات کو آن لائن بیچنا شروع کر دیں اور وقت کے ساتھ اسے بڑھاتے جائیں۔

    آنلائن ٹیوشن:
    دنیا کے سکول، کالجز، یونیورسٹیز میں جتنے بھی سبجیکٹس پڑھے پڑھائے جاتے ہیں وہی سب آن لائن بھی پڑھا کر بہترین انکم حاصل کی جا سکتی ہے ۔ آپ بھی آن لائن فیلڈ میں آئیں ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا ۔

    مختلف ھنر:

    اگر آپ کو سلائی، کڑھائی کا ھنر اتا ھے تو آپ بچوں کے کپڑے سلائ کر کے یا عورتوں کے کپڑے ،چادریں کڑھائی کر کے آن لائن ویب سائٹس مثلاً فیس بک، ٹویٹر، او ایل ایکس وغیرہ پر فروخت کر سکتے ھیں۔

    یاد رکھیں ناجائز طریقوں سے کمائی گئی دولت میں نا ھی برکت ھوتی ھے اور نا عزت ۔ کوشش کریں جائز طریقے سے حلال کمائیں وہ چاھے کم ھو اس میں عزت بھی ھے اور برکت بھی ۔

    ٹویٹر: @Oye_Sunoo

  • رجعت پسندی   تحریر:حُسنِ قدرت

    رجعت پسندی تحریر:حُسنِ قدرت

    زندگی میں ہماری سوچ ہر معاملے کے بارے میں دو قسم کی ہوتی ہے ایک مثبت اور دوسری منفی جبکہ مثبت سوچ کا ایک پہلو "رجعت پسندی” ہے جسے ہم آپٹیمزم کہتے ہیں
    رجعت پسندی کا مطلب ہے اگر آپ بہت زیادہ کوشش کرنے کے باوجود ناکامی کا شکار ہو رہے ہیں تو ہار نہ مانیں اور دوبارہ کوشش کریں اپنا کوشش کرنے کا طرز دیکھیں اور اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو مزید بہتر طریقے سے کوشش کریں اور ایک نئے جذبے کے ساتھ کامیابی کی طرف اپنی جدوجہد جاری رکھیں
    اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اٹل ہے کہ اگر انسان کسی چیز کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ اسے ضرور حاصل کرتا ہے اگر زندگی کے کسی مرحلے میں آپ لوگوں کا ناکامی سے سامنا ہو تو اسکا مطلب ہے کہ ہم سے ہی کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے کیونکہ قانون قدرت ہمیشہ ہے اٹل رہے ہیں
    اکثر لوگوں کو جب انکی کوشش یا خواہش کے مطابق نتیجہ نہیں ملتا تو وہ اپنی غلطی تلاش کرکے اس کا ازالہ کرنے کی جگہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں
    اگر کسی کام کا نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں آتا تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری کوشش رائیگاں گئی ہے کوشش اور محنت کبھی بھی ضائع نہیں جاتی اسکا نتیجہ ضرور نکلتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اسکا شعور نہیں ہوتا
    جیسا کہ ایک انسان کسی کاروبار میں پیسے انوسٹ کرتا ہے اور وہ ڈوب جاتے ہیں تو اگر وہ روتا رہتا ہے دوبارہ کوشش نہیں کرتا تو وہ اسکی ناکامی ہے لیکن اگر وہ انسان اپنے پچھلے کاروبار میں کی گئی غلطیوں سے سیکھتا ہے نوٹ کرتا ہے کہ اسے خسارہ کہاں اور کس وجہ سے ہوا اور کون سی ایسی غلطی تھی جس کی وجہ سے اسکا کاروبار ڈوب گیا تو وہ جب دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرتا ہے پھر ان پوائنٹس کا خیال کرتا ہے کہ یہ غلطی وہ نہیں دہرائے گا اور ہو سکتا ہے کہ اگلی دفعہ اس کا کیا گیا کاروبار بہترین طریقے سے کامیاب ہو اور پہلے سے اسٹیبلش لوگوں سے زیادہ جلدی وہ بہت زیادہ ترقی کرے اور کامیاب بھی ہو
    اگر آپ لوگوں کی محنت اور کوشش کا نتیجہ آپ کی خواہش کے مطابق نہیں ہے تو مایوس ہو کر محنت نہ چھوڑیں کیونکہ محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے یہ بہت بڑی اور کھلی حقیقت ہے ایک سیانے کا قول ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ صرف اس لیے ناکام رہتے ہیں کہ کامیابی کے سرے پہ پہنچ کر محنت چھوڑ دیتے ہیں
    یہ بات ماننا یہاں مشکل ہے کہ ہم مثبت طرز عمل اور رجعت پسندی کو اپناتے ہوئے اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں خاص کر جو ماحول یہاں بنا ہوا ہے سیاسی،سماجی اور معاشی نظام درہم برہم ہوا ہے لیکن اسکی زمہ داری ہم پہ عائد نہیں ہوتی ہمارا کام بس اپنے حصے کا مثبت کام کرنا ہے
    رجعت پسندی کے ذریعے آپ مثبت سوچ کو اس طرح اپنا سکتے ہیں کہ آپ اس وقت تک محنت جاری رکھتے ہیں جب تک بامراد نہیں ہو جاتے
    کیونکہ چیلنج ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں وہ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اس انعام کے قابل ہیں جو ہمارے لیے اللہ تعالٰی نے محفوظ کر رکھا ہے
    کامیابی اور ناکامی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اگر آپ ناکامی کو پاچکے ہیں تو یقیناً بہت جلد کامیابی آپ سے ملے گی
    دنیا کی ہر چھوٹی بڑی شے سے جذباتی تعلق رکھنا اور اسکے نہ ملنے یا کھو جانے پر اداس ہو جانا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ اگر ہم چاہیں تو اپنی محنت کوشش مثبت سوچ (رجعت پسندی) اور دعا سے وہ واپس حاصل کرسکتے ہیں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • میرا کراچی سازشیوں کے نِرغے میں .تحریر: امان الرحمٰن

    میرا کراچی سازشیوں کے نِرغے میں .تحریر: امان الرحمٰن

    کراچی کے مسائل سیاسی بھی ہیں اور شہری بھی۔ سیاسی مسائل تو انتہائی تشویش ناک حالت کے حامل ہیں لیکن شہری مسائل اگر ارباب اقتدار چاہیں اور نیک نیتی سے اقدامات اٹھائیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کراچی پہلے جیسا صاف سُتھرا شہر بن جائے روشنیوں کا شہر بن جائے، جب ٹریفک قوانین پرسختی سے عمل درآمد کرایا جاتا تھا۔ ایسا نہیں کہ کراچی جنت تھا ہاں، جنت نشان ضرور تھا۔ لوگوں میں خرابیاں تو تھیں، مگر اُنہیں دور کرنے کا شعُور و اِرادہ بھی تھا۔ آج کی طرح ٹریفک کا اژدھام نہیں تھا۔ نصف گھنٹے کا سفر ڈیڑھ سے تین گھنٹے میں مکمل نہیں ہوتا تھا۔ شہر میں باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ لوکل ٹرین اور ٹرام بھی چلتی تھی۔ ٹرانسپورٹ مافیا غائب تھی۔ طوفان بدتمیزی کی طرح سڑکوں پر دندناتی منی بسیں، کوچز، چنگچیاں، پریشر ہارن نہ تھے، مسافروں سے بدسلوکی تو حالیہ برسوں کی وجہ ہے جو کراچی کو لاوارث چھوڑ رکھا ہے۔ اگر شہری مسائل حل کر دیئے جائیں تو کراچی پھر عالمی سطح پر اپنا مقام واپس حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں بات آجاتی ہے ریاست کی کہ جو شہر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہو اُسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، عمران خان صاحب کی حکومت کو اب خیبرپختون خواہ، پنجاب، کشمیر، بلوچستان، گلگت میں اکثریت حاصل ہے تو اب سندھ کی طرف توجہ دیں کراچی سمیت سندھ کی مظلوم عوام کو بھی جینے کا اُتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان کے باقی صوبوں کے لوگ حق رکھتے ہیں تو پھر یہ نظر اندازی کس لئے کیا کراچی کو چند سیاست دانوں نے اپنی جاگیر نہیں بنا رکھا۔؟ اگر ریاستی اِدارے اُنہیں اپنا قبلہ درُست کرنے کا کہیں تو بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔

    ریاست اگر چاہے تو کیا نہیں کر سکتی ریاست کیا اِن چند سیاستدانوں کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی۔؟ کیا کراچی اور سندھ کی عوام اِنسان نہیں بھیڑ بکریاں ہیں۔؟ کیا وہ جینے کا حق نہیں رکھتے۔؟ کیا کراچی اور سندھ کی عوام کو صحت کی سہُولیات کی ضرورت نہیں ہے۔۔؟ آج پورے پاکستان میں ہسپتالوں میں سب سے بُری حالت سندھ اور کراچی کے ہسپتالوں کی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔

    کیا اب بھی پیپلزپارٹی کے وہی 70 سال اور 80 سال کی عمر والے اِس ملک کے 65 فیصد نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔۔؟ جو خُود لاکھوں روپے کی تنخواہوں کا بل تو سندھ اسمبلی سے پاس کروالیتے ہیں مگر عوام کا کوئی خیال نہیں جو ہر الیکشن میں اپنی الیکشن کمپیئن تو کروڑوں روپے خرچ کر کے جیت جاتے ہیں مگر عوام کو صرف سانس لینے تک رکھ چھوڑا ہے کیا کراچی سمیت سندھ کی سڑکیں اِن کا مُنہ نہیں چڑاتیں ۔۔۔۔ کیسے چڑاسکتی ہیں یہ بے ضمیر لوگ اب اپنی انتہا کو پہنچ چُکے ہیں اب اِن کو قابو کرنے کا وقت ہے اِنہیں لگام ڈالنے کا وقت ہے۔
    وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے احتساب کا جو نعرہ بلند کیا تھا اب اُسے حقیقی طور اُس پرعملدرآمد کرنے کا وقت ہے، اب کراچی سمیت پورے سندھ کے کئی سالوں سے لہو رستے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے خُدارا ہوش کے ناخُن لیں اِن کرپٹ ٹولیوں سے آزاد کروائیں سندھ کی عوام آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اب کراچی کو گود لے لیں یا کم سے کم کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیں جہاں اگر بارش ہی ہو جائے تو زندگی کسی عزاب سے کم نہیں ہوتی۔

    آج کراچی میں کوئی محلہ ایسا نہیں ہے، جہاں سڑکیں سلامت ہوں، نئی کراچی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد سے کلفٹن تک کے راستوں اور سڑکوں کی حالت بیان کرنا مشکل نہیں یہ پورا ملک جانتا ہے تو کیا حکومت کو علم نہیں ہوگا۔۔؟ کوئی علاقہ کوئی محلہ ایسا نہیں ہے جہاں گٹر نہ ابل رہے ہوں اور ملبہ، کیچڑ اور تعفُن نے شہر کو بدصُورت نہ بنا رکھا ہو۔ بس ہلکی سی بارش ہونے کی دیر ہےیہ خُوب صُورت شہر لاوارث محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور اگر پاک فوج مدد کو آجائے تو یہی سیاستدان پاک فوج پر بہتان لگانے اور اُنگلی اُٹھانے لگتے ہیں کہ یہ کام اِن کا نہیں یہ بارڈر پر جائیں اور بے شرموں کی طرح دُشمنوں کی طرح اُن کی زبان بووزراء اور ذمہ داروں کواس سے کچھ غرض نہیں، کراچی کی عوام روتی رہے، سسکتی رہے۔ ہماری بیوروکریسی آنکھیں بند کئے صرف اپنی غرض جو صرف اُن کی لاکھوں روپے میں تنخواہ ہے بس وہیں تک محدود ہے۔ جہاں ضروریاتِ زندگی کی سہولیات تو ہیں ہی نہیں پھر روزگار کا مسلہ ہے جسے سرکاری ملازمتوں میں بھی تعصب اتنا ہے کے ڈومیسائل کا ایشو بنا دیا جاتا ہے یہ سب کیوں ہے کیا یہ جان بوجھ کر نہیں کیا جا رہا۔۔۔! کیا یہ اقدامات ریاست مخالف نہیں ہیں۔؟ کیا لوگوں کو سندھ حکومت خُود تقسیم کر رہی ہے۔۔؟

    اِس بیرونی ایجنڈے کو سندھ حکومت اپنے ہی سندھ میں بسنے والے بشمول کراچی کے لوگوں میں منافرت پھیلانے کا کام کرتے ہُوئے دشمن ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی ناکام کوشش جاری رکھنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ اِن موجودہ حالات کو سنجیدگی سے لیا جائے یہاں کبھی سندھو دیش تو کبھی جناح پور کا نعرہ بلند کرنا کیا یہ لوگوں کی ذہن سازی نہیں کی جا رہی جب پاکستان ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے وہیں ایسے چُھپے دشمنوں کا صفایا کرنا بھی لازم ہے۔میں نے اللہ کو جان دینی ہے یہ جو کراچی میں ہر روز نیا سیلاب آجاتا ہے اور کراچی کے لوگوں کو اتنا ذلیل و رُسوا کیا جا رہا ہے بلکہ یوں کہیں کے تنگ کیا جا رہا ہے کہ کراچی کی عوام کے خلاف شدید نفرت بھری جا رہی ہے اور کئی ہزار گُنا شدید نفرت پیدا ہو جائے۔ یہ سب ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے اِس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ملک کا سب سے زیادہ کمائی کرنے والا شہر 70 فیصد سے زیادہ ملک کو ٹیکس دینے والا شہرپاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا شہر کراچی اِس طرح بے آبرو ہو؟

    اِس طرح رُسوا ہو؟ اُس کے شہریوں کو اِتنا ذلیل کیا جائے تنگ کیا جائے کے وہ ملک سے بغاوت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔!
    آپ کو یاد ہو گا فاروق ستارہر کچھ دن بعد ایک ہی بات کہا کرتا تھا کے کراچی میں یو این او کی فوجیں بلوا کر انتخابات کروائے جائیں اور بھی کچھ وزراء تھے وہ بھی کہا کرتے تھے اور اب بھی حکومت میں کچھ وزراء شامل ہیں جو یہی بات کہا کرتے تھے۔ یہ باقائدہ ایک پلان بنایا گیا تھا کے 2020 تک کراچی کو پاکستان سے علحدہ کیا جائے گا اور اِس میں کئی غیر ملکی ایجنسیز شامل تھیں اور پیپلز پارٹی ساتھ ملی ہُوئی تھی اور اب بھی یہ ایک ہی ہیں۔ جبکہ پاکستان کی گورنمنٹ کا پلان تھا کے کراچی کو ہانگ کانگ بنانا ہے حکومت نے جو کے اِن ظالموں نے وہ نہیں بننے دیا اور کراچی کے حالات مل کر خراب کرتے رہے۔ یہ سب ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے یہ بات آپ ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیں۔ اب یہ جو سیلاب اب ہر بارشوں کے سیزن میں کراچی میں آتا ہے یہ پانی جو کراچی کی دکانوں میں کارخانوں میں فیکٹریوں میں ہر چیز کو تباہ و برباد کر رہا ہے اور اربوں روپے کی جو تیار اشیاء ہیں جو بکنے والی پراڈکٹس ہیں سب برباد ہو رہی ہیں سب پانی میں ڈوب جاتاہے، لوگوں کی گاڑیاں ڈب جاتی ہیں ، یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے کے لوگوں میں بغاوت پیدا ہو لوگ خُود کو لاوارث سمجھیں۔ اب پھر بارشوں کا سیزن آنے والا ہے مون سُون کی بارشیں سر پر کھڑی ہیں اب تو ہوش کرلیں کراچی اور سندھی کی عوام ہمارے ہی بھائی ہیں ہمارے ہی جسم کا حصہ ہیں اُن کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائیں یہ ریاست کے تھنک ٹیک پر لازم ہے کے اِس طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

    آپ ایک ہزار سال کا کراچی کا ریکارڈ چیک کر لیں کبھی ایسی بارشیں نہیں ہُوئی ں جیسی پچھلے دو تین سال سے ہو رہی ہیں۔ پہلے کراچی میں اگر بارش ہوتی تھی پانی کھڑا ہوتا تھا نکل جاتا تھا مگر اب یہ جنگی حالت ہے یہ باریاں لینے والی پارٹیوں نے بطورِ خاص پچھلے بیس سالوں میں اپنی پلاننگ کہ تحت بڑے بڑے نالے بند کروائے انکروچمنٹ کروا کر مٹی ڈالی نالوں کو تنگ کیا اُوپر مکان بنا لئے غریبوں کو دے دیئے پانی نکلنے کے تمام بڑے راستے بند کر دیئے۔ ریلوے کی ساری ذمینیں بھی ایسے ہی غائب کی گئیں کراچی کی زمین بانٹی گئی، یہ سب ایک پلاننگ کا حصہ تھا اُن دشمن قوتوں کا پلان چل رہا تھا جو کراچی کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتی تھیں یہ سب اُن کا کنٹرول تھا اور یہاں کی حکومتیں اپنا مال بنانے کے لئے ضمیر بیچتے رہے ہیں وطن فروش بنے رہے اِن ملک دُشمنوں نے 20 سال لگائے ہیں بہت ہی معصومیت کے ساتھ یہ کام ہوتا رہا اور کراچی کی عوام بیوقوفوں کی طرح منہ اُٹھا کر اپنے حقوق کی جو ٹرک کی بتی اِن سیاہ ستدانوں نے اِنہیں دکھائی اُس کے پیچھے بھاگتے رہے آج انجام ہمارے سامنے ہے پاکستانیو میرے ہم وطنوں میرے سندھی اور کراچی کے بھائی بہنوں ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اِس ففتھ جنریشن وار کو مزاق مت سمجھو کہنے کو یہ مزاق کی بات لگتی ہے "دیوانے کا خواب لگتا ہے "یہ نا ہو کے پانی ہمارے سر سے اُوپر ہو جائے اور پاؤں کے نیچے سے زمین بھی سرک جائے۔ بات بہت لمبی ہو گئی میں صرف اب حکومت سے کہتا ہوں کے ملک کی خاطر کراچی کو بچانے کی خاطر پاکستان کی سلامتی کی خاطر ایک ہی حل ہے کے کراچی کو جلد سے جلد اپنے اختیار کنٹرول میں لے سندھ حکومت نے پچھلے 74 سالوں میں کچھ نہیں کیا تو اب اُن سے کیسی اُمید بس اب اور نہیں اب کراچی کو جینے دو سندھ کو جینے دو اور یہ صرف یا تو ریاست خُود کر سکتی ہے یا فوج کو کراچی کا مکمل اختیار سونپ دیا جائے ۔
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    پاکستان پائندہ باد
    @A2Khizar