Baaghi TV

Category: متفرق

  • پرانے  اور  نئے  طالبان  میں  کیا  فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    دشمن انتہائی گندی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ اور پاکستان پر گھٹیا اٹیک کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کیا سوچ رہا ہے اور پاکستان کے لیے طالبان کو کنٹرول کرنا کتنا آسان اور کتنا مشکل ہے جبکہ پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر کیا دنیا جس طرح شور مچا رہی ہے کیا واقعی پاکستان افغانستان میں تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر ہے تو کیسے۔۔
    امریکہ نے نعرہ لگایا کہ اس کی افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں پیچیدہ مسائل پر دھیان نہیں دے پا رہا جو اسے دینا چاہیے۔ اور بہانہ بناتے ہوئے امریکہ باہر نکل گیا لیکن اس کے جھٹکے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بڑی شدت سے محسوس ہونے لگے ہیں۔
    جہاں یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ طالبان اقتدار پر دوبارہ دعوی کرنے کے لیے تیار ہیں وہیں بائیڈن یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ افغانستان کا پروسی اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ کا افغان جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی رہا ہے لیکن امریکہ پاکستان پر یہ سوچتے ہوئے اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے طالبان اور القائدہ سے تعلقات ہیں۔ جب اسامہ بن لادن کے خلاف اآپریشن کیا گیا تو بائیڈن اس وقت اوبامہ کے نائب صدر تھے اور اس اآپریشن کو سکرین پر مانیٹر کرتے رہے۔ لیکن اس اآپریشن کے بارے میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا کیونکہ خدشہ تھا کہ اطلاع پہلے ہی لیک ہو جائے گی۔ کیونکہ پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ طالبان اور ایسے عناصر کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ ان کے زریعے پاکستان افغان حکومت کو کمزور کرے جو پاکستان کے نمبر ون دشمن بھارت کی نمبر ون اتحادی ہے۔ جبکہ پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اور وقت تھا جب پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا تھا۔ لیکن اب یہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ پاکستان ا س سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لاکھوں لوگ یہاں پر پناہ لے چکے ہیں جس کی وجہ سے اس کی سرحدیں دہشت گردی کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ تشدد پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے پاکستان کی طرف بھی دہشت گرد عناصر سر اٹھاتے ہیں۔

    امریکہ کی افغانستان میں جنگ میں اگر ایک لاکھ دس ہزار افغانی شہید ہوئے ہیں تو پاکستان نے چھیاسی ہزار لوگوں کی قربانی دی ہے۔ پاکستان کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے دشمنوں کو افغانستان میں کھلے عام ہم پر حملہ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے،ابھی تک بائیڈن کی عمران خان سے کوششوں کے باوجود فون پر بات نہ کرنا یہ ظاہر کرتی ہے کہ بائیڈن پاکستان پر ابھی بھی اڈے حاصل کرنے کے لیے پریشر ڈالنا چاہتے ہیں جس کا پاکستان نے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی اور برطانیہ، سعودی عرب، عرب امارات کی مدد سے پاکستان اور بھارت کی صلح کی بات کی گئی جس میں ماضی کی تلخیوں کو دفنانے کی بھی بات ہو چکی ہے۔ کیونکہ عالمی طاقتوں کو پتا ہے کہ ان دونوں کی دوستی کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ۔طالبان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اس کے ہمسایہ ممالک اور بڑی طاقتوں کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طالبان کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کر کے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے تاکہ افغانستان میں بھارت کے اثرو رسوخ کو چیلنج کیا جا سکے۔ جہاں چین پاکستان کے قریب آرہا ہے وہیں چین بھارت سے دور جا رہا ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے تو یقینا بائیڈن بھی اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ امریکہ نے یہ کہتے ہوئے افغانستان سے ٹرن لے لیا ہے کہ اسے ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ٹرن اسی وقت درست ثابت ہوتے ہیں جب کسی کو پتا ہو کہ کہاں ٹرن لینا ہے۔ امریکہ ایک غلط ٹرن لے چکا ہے۔ جسے امریکی ، افغانی، روسی سب ہی غلط قرار دے رہے ہیں۔ اور اب اس غلطی کا الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان میں دشمن نے گندا کھیل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کبھی افغانی سفیر کی بیٹی پر تشدد کا ڈرامہ کروایا جا رہا ہے۔
    کبھی ائر فورس پر الزام لگایا جا رہا ہے تو کبھی اشرف غنی پاکستان سے دس ہزار جنگجو جانے کی باتیں کر رہا ہے۔ شکست کو حقائق سے تسلیم کرنے کی بجائے ایک جھوٹ کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔افغانستان ایک سرد ماحول والا ملک ہے۔ جہاں اکثر صوبوں میں سردیوں میں برف باری اور ٹمپریچر مائنس ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اور ملک کے بیشتر حصے برف سے ڈھکے رہتے ہیں جو نقل و حرکت اور روزمرہ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتا ہےبحثیت انسان جس کی وجہ سے زندگی کے دوسرے معمولات کی طرح ، مجاہدین کی سرگرمیاں بھی ہر سال اس سیزن کے دوران سست روی کا شکار ہوتی ہیں۔لیکن گزشتہ چند سال میں جو غیر معمولی واقعات ہوئے اس میں طالبان نے پورے سال کابل کی کٹ پتلی حکومت کو ناچ نچوایا۔ اشرف غنی کو ہر جگہ کہتے پھر رہے ہیں کہ تین ماہ میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے وہ سردیوں کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ امریکہ بھی نکلنے کے باوجود ستمبر کی تاریخ اس لیے دے کر بیٹھا ہے کہ اس کے آفیشلی نکلنے اور سردیاں آنے میں وقفہ بہت کم رہ جائے۔اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اور کبھی بھی پاکستان کے خلاف دراندازی سے باز نہیں آتا اب نئے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ اور اب تمام مختلف محکموں اور ترجمانوں نے مبالغہ آرائی شروع کردی ہے اور ان ساری غیر متوقع ترقی اور پیشرفت کے بارے میں جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔۔

    نائب افغان صدرامراللہ صالح جیسے لوگ جو پاکستان میں روس کے خلاف جہاد کی ٹریننگ لے چکے ہیں اور اس کے بعد نہ صرف طالبان کے خلاف جنگ لڑ چکے ہیں بلکے افغان خوفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ اشرف غنی نے وہی پرانے ناکام لوگوں کو اب کام کرنے کی بجائے پروپیگنڈے کی تدبیر کے طور پر مقرر کیا ہے یہ ناکام عہدے دار بے مثال جھوٹ ، جعلسازی اور پروپیگنڈے کا چکر شروع کر چکے ہیں تاکہ دنیا اور اپنے معصوم شہریوں کو گمراہ کر سکیں اور اب ان طالبان کو ختم کرنے کے دعوی کر رہے ہیں جنہیں بیس سال تک 48 ممالک کی افواج کے ہاتھوں شکست نہیں دی جاسکی۔ لیکن یہ بات اشرف غنی کو جان لینی چاہیے کہ جھوٹ ، مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ طالبان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کے پیچھے چھپا جا سکتا۔اسلامک امارات وسائل پر پابند باغی گروپ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جہادی انتظامیہ کی صورتحال ایسی ہے کہ آپریشنوں ، چھاپوں اور بم دھماکوں کے ذریعہ اس کو ختم کیا جا سکےاور اس کا جنگی مشن روک دیا جائے طالبان افغان سوسائٹی کا حصہ ہیں، امریکہ سمیت پوری دنیا ان سے معاہدے اور مذاکرات کر رہی ہے، وہ اپنے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں۔یہ افغان قوم کی وسیع بغاوت ہے جس کی جڑیں اور بنیادیں گہری ہیں۔
    اگر طالبان کو فتح کرنا اتنا آسان ہوتا تو پورے نیٹو ممالک جو اپنی کتابوں میں موجود تمام بہترین حکمت عملیاں جن میں ملٹری آپریشنز سمیت کارپٹ بمبنگ بھی شامل تھی افغانستان مین ازما چکے ہیں ۔لیکن ختم ہونے کے بجائے ، اس جہادی تحریک نے صرف مضبوط اور مزید علاقوں میں توسیع کی۔بے شک ملا عمر کے صف اول کے ساتھی دارالعلوم اکوڑہ خٹک یا جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی کے فارغ التحصیل تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے گوتم بدھ کے مجسموں کو اڑا دیا، انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو پر ماننٹ لائن ماننے کے سمجھوتے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا سے گیس پائپ لائن سے انکار کیا اور پھر پاکستان کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی چھوڑنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ جبکہ موجودہ طالبان وہ طالبان نہیں ہیں، وہ اپنے بزرگوں کی طرح تصویر گھنچنے کے خلاف نہیں ہیں، نہ ہی وہ پاکستان کے مدرسوں کے تعلیم یافتہ ہیں، انہوں نے بیس سال جنگ میں رگڑا کھایا ہے اور ان کی تربیت میدان جنگ میں ہوئی ہے۔ انہوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دی ہے۔ یہ سفارت کے آ داب بھی جانتے ہیں اور جنگ کی سٹریٹیجی بھی۔پہلی نسل کی قیادت سو فیصد پشتون اور وہ بھی جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری نسل میں آپ کو پشتونوں کے ساتھ ساتھ ازبک، تاجک، ہزارہ حتی کہ بلوچ نژاد طالبان کمانڈر بھی مل جائیں گے۔طالبان کی موجودہ نسل ان تمام علاقوں پر تقریبا قبضہ کر چکی ہے جہاں ان کے بزرگ کابل پر قبضہ کرنے کے باوجود کنٹرول نہیں کر پائے تھے۔ یہ نسل سینٹرل ایشیا اور ایران سے متصل صوبوں پر قبضہ مکمل کرنے کے قریب ہے۔ پہلی نسل اگر پاکستان کے مشوروں کی محتاج تھی تو آج کی طالبان نسل قطر، ایران، ترک، روس، چین اور سینٹرل ایشیا میں مزاکرات کر رہی ہے۔

    طالبان کی پرانی نسل کے مقابلے میں موجودہ نسل نہ صرف اپنے آپ کو پوری دنیا سے منوانا چاہتی ہے بلکہ اسے یہ بھی پتا ہے کہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اور افغانستان کا ستر فیصد بجٹ بیرونی طاقتوں کا محتاج ہے۔ طالبان امریکہ کو تعمیر کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دے چکا ہے۔ طالبان کی اس نسل کو پتا ہے کہ قبضہ کرنا اآسان اور پھر اسے جاری رکھنا مشکل ہے۔تو پوری دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی بہت سی باتیں پرانے طالبان نے ماننے سے انکار کر دی تھی تو نئے طالبان تو بڑے کاریگر ہیں انہیں اپنی بات پر لانا اور وہ بھی امریکہ اور اشرف غنی کے لیے کتنا مشکل ہے جن سے وہ بیس سال سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے منہ پر کہتے ہیں کہ ہم نے عصر تک روزہ رکھ لیا ہے اب ہمیں مغرب سے پہلے روزہ توڑنے کا مت کہو۔۔ وہ افغانستان کے معاملات اپنی سوچ کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔اس لیے اشرف غنی میرے تمھیں ایک نصحیت ہے کہ اپنے اقتدار کی بجائے اپنے ملک اور لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں سوچو۔ سچ بولو اور زمینی حقائق کو تسلیم کرو۔ ورنہ تمھارا انجام بہت بھیانک ہو گا۔

  • بغداد کی بربادی اور ہم  تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    بغداد کی بربادی اور ہم تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    تاریخ بتاتی ہے کہ ابوجعفر بن المنصور نے سن 762 میں بغداد کی بنیاد رکھی اور پھر چند ہی دھاہیوں میں اس شہر نے اتنی ترقی پائی کہ برصغیر سے لے کر افریقہ تک کے صاحب ہنر و علم بغداد دیکھنے کے لیے بے چین ہو گۓ
    اور بغداد بھی ایسے صاحب علم کے لیے بے چین رہتا اور باکمال شخصیات کی کتابوں کو ہیرے جواہرات سے تولا جاتا
    بغداد میں عظیم الشان مساجد اور مدارس تعمیر کیے گۓ۔
    اس شہر نے باکمال شخصیات سے محبت کا شرف حاصل کیا جن میں فارسی کے عظیم شاعر شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ
    عظیم کیمیا دان جابر بن حیان
    الجبرا کے عظیم بانی الخوارزمی
    فلسفے اور حکمت کے دو عظیم نام الکندی اور الرازی
    مشہور مفکر الغزالی، عربی کے مشہور شاعر ابو نواس، تاریخ دان طبری اور کئی عالمِ دین اسی شہر کے باسی تھے
    لیکن اس شہر کی بربادی کا سبب بھی مسلمانوں کے آپس کے باہمی اختلاف ، تفرقہ بازی اور زاتی مفادات تھے
    کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان نے بغداد کا پچاس دن مسلسل محاصرہ کیے رکھا اس وقت بغداد کے پاس دنیا کے مضبوط ترین قلعے تھے لیکن دل اور ایمان کی ناپختگی نے ان قلعوں کی مضبوطی کو پاش پاش کر دیا۔
    تاریخ خلافت عباسیہ کے خاتمے کی تاریخ کچھ اس طرح رقم کرتی ہے ہلاکوخان نے محاصرے کی ابتداء 29 جنوری 1258   کو کی اور محاصرہ کا اختتام 10 فروری 1258 کو ہوا
    اس وقت خلافت عباسیہ کے سربراہ مستعصم باللہ انتہائی کمزور انسان تھا جب وزراء کے مشورے کے ساتھ وہ ہلاکو خان سے مزاکرات کے لیے گیا تو اپنے ساتھ اپنی اولاد، وزیر بھی ساتھ لے کر گیا
    خلیفہ کے سوا سب کو قتل کر دیا گیا اور منگولوں کی فوج نے شہر میں داخل ہو کر سامنے آنے والے ہر شخص کو تہہ تیغ کر دیا ایک ہی دن میں ہزاروں افراد شہید ہو گۓ ۔ خلیفہ کو قتل نہ کرنے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ منگولوں کے عقیدے کے مطابق بادشاہ کا خون بہانا بد شگونی سمجھا جاتا تھا سو ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم باللہ کو باندھ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑاۓ تاکہ خون نہ بہے۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کی بربادی کی اہم وجہ مراکش اور ایران کا خلافتِ عباسیہ کا ساتھ نہ دینا تھا
    الغرض بغداد کو ایسے تباہی کیا گیا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی
    لیکن اس بربادی میں مسلمانوں کا اپنا حصہ زیادہ تھا علم و فن سے منہ موڑ لیا گیا بادشاہ عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گۓ جس سے معاشرے کی ترقی پر جمود طاری ہو گیا اور عوام نے لاپرواہی اختیار کر لی
    کیا آج ہم بھی اسی ڈگر پر نہیں چل رہۓ؟
    کیا ہمارے وزراء مشیران عیاشیوں کے بے پناہ دلدادہ نہیں ہو گۓ اور
    کیا ہم (عوام) بھی لاپروا نہیں ہو گۓ
    اور کیا ہماری بربادی کا وقت بھی قریب نہیں آ گیا (خدانخواستہ)
    کیا ہمیں اپنے حکمرانوں کو راست پر لانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرنے چاہیں اور کرپٹ عناصر کی بیخ کنی کے لیے اقدامات کرنے سے چشم پوشی اختیار کر لینی چاہیے
    سوچئیے گا
    اور مناسب سمجھیں تو آنکھیں کھلی رکھ کر شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کریں
    #حبیب_خان

  • ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات  تحریر: زبیر احمد

    ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات تحریر: زبیر احمد

    عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اب بہت بگڑ چکی ہے جس کی بہتری کے لئے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں نوشتہ دیوار ہیں جس سے دنیا کا کوئی ملک انکار نہیں کرسکتا۔ آج 2021 میں فضاء میں کاربن کی شدت تقریبا 419 پارٹس فی ملین پہ جاچکی ہے یہ شدت تاریخ میں 300-350 سے زیادہ نہیں تھی مہذب دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں جس کا حوالہ دیا جاسکے کہ اتنی شدید مقدار میں کاربن فضاء میں موجود رہی ہو۔ آج کی دنیا اس حوالے سے حد سے زیادہ مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ کوئی ایسا حل نہیں کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کو واپس بہتری کی طرف موڑ سکیں لیکن ہنگامی اقدامات کے ذریعے مزید تباہی سے بچا جاسکتا ہے اس وقت زمین کا درجہ حرارت ایک سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ اگر ہم آسان الفاظ میں سمجھنا چاہیں تو حالیہ کچھ عرصہ میں امریکا، آسٹریلیا اور ترکی کے جنگلات میں لگنے والی آگ، بحراوقیانوس اور چین میں آنے والے سیلاب اور پچھلے سال پاکستان بھارت میں ٹڈیوں کا حملہ انہیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے ثبوت ہیں اور اس کے نقصانات ہم دیکھ رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ایک جیسا متاثر ہورہے ہیں لیکن یہ مسئلہ ممالک کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی سے انسانی زندگی متاثر ہورہی ہے لوگ آج بھی اس کے نقصانات اٹھا رہے ہیں اور زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ان ممالک نے معاشی استحکام کے لئے صنعتی ترقی جاری رکھنے کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اس وقت دنیا ایک ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے اس سے نمٹنے کے لئے تمام ممالک چاہے ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا پڑے گی۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں سے ایک ہے، 1994 سے پاکستان میں کاربن کا اخراج 123 فیصد تک بڑھا ہے اور گرین گیسوں کے اخراج میں ہر سال مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اقدامات نہ کئے تو 2030 تک زندگی گزارنے کے لئے ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ پاکستان کو گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کے پروگراموں پہ توجہ دینے کے ساتھ ان پہ عملدرآمد کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حکومت ایسے اقدامات اٹھا رہی کہ 2030 تک گرین گیسوں کے اخراج میں 20فیصد تک کمی لائی جائے۔ ملک میں 25فیصد تک جنگلات میں اضافے سے 40فیصد تک کاربن کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
    پاکستان کے سماجی و معاشی حالات پر مجموعی طور پہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات دیکھتے ہوئے عوامی سطح پہ آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم سب نے ملکر ماحولیاتی تبدیلی کے ماحول اور معیشت پہ اثرات کو سمجھنا ہے اسی طرح پاکستان ان مشکل ماحولیاتی حالات پر قابو پا سکتا ہے اور پائیدار مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

    (Twitter: @KharnalZ)

  • بطخ جس کے 800 گرام پروں کی قیمت  8 لاکھ روپے

    بطخ جس کے 800 گرام پروں کی قیمت 8 لاکھ روپے

    یورپ کے ملک آئس لینڈ میں ایک ایسی بطخ بھی پائی جاتی ہے جس کے 800 گرام پروں کی قیمت 5 ہزار ڈالر سے بھی زائد ہے جو پاکستان تقریبا 8 لاکھ روپے بنتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ہر سال موسمِ گرما میں 400 کے قریب افراد آئس لینڈ سے متصل ایک جزیرے ’برائدروو‘ کی خاک چھانتے ہوئے وہاں ایلڈر پولر بطخ کے گھونسلوں اور اطراف میں ان پروں کو تلاش کرتےہیں۔ پھر ان ریشوں کو کئی مراحل سے صاف کرکے، لحاف اور تکیے بنائے جاتےہیں۔

    ایلڈر پولر بطخ کے پروں سے بنائے گئے تین تکیوں کی قیمت ڈھائی ہزار ڈالر یعنی 4 لاکھ روپے اور ایک لحاف کی قیمت 8 ہزار ڈالر یعنی 13 لاکھ روپے سے زائد ہوتی ہے۔

    قدرت نے بطخ کے سینے سے نیچے یہ پر عطا کئے ہیں جو روئی کے گالوں کی طرح نرم ہوتے ہیں لیکن قدرتی طور پر کوئی بھی ریشہ سردی روکنے میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔ اسی بنا پر بطخ اپنے گھونسلے میں اسے بچھاتی ہے تاکہ اس کے بچے سردی میں جمنے سے محفوظ رہ سکیں۔ پروں کے اس گچھے کو آئیڈرڈاؤن کا نام دیا گیا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ہزار برس سے اس کی تلاش اور فروخت جاری ہے اور ایک کلوگرام خام پرہی ہزاروں ڈالر میں فروخت ہوجاتےہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں چار ٹن کے قریب پر فروخت کئے جاتےہیں اور 75 فیصد برآمدات آئس لینڈ سے کی جاتی ہے۔

    انڈے دینے اور سینے کے موسم میں ان پرندوں کے گھونسلوں کو بالکل نہیں چھیڑا جاتا ہے بلکہ گھونسلے خالی ہوتے ہی ان کی اطراف جمع ہونے والے پروں کے ریشے احتیاط سے جمع کئے جاتے ہیں۔

    تاہم اسے ہرطرح سے معیاری بنایا جاتا ہے اور اگر آپ دو انگلیوں کے درمیان 40 سے 50 گرام پر اٹھاتے ہیں اور ان کا کوئی ریشہ نیچے نہیں گرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بہت معیاری پرہیں جو ایکسپورٹ معیار کے ہیں۔

    آئیڈرڈاؤن مادہ بطخ سے خارج ہوتا ہے اور 50 سے 60 گھونسلوں سے ہی ایک کلوگرام پرحاصل ہوتے ہیں۔ انہیں خاص طور پر صاف کیا جاتا ہے اور مشین میں دباکر ان کو ایک باقاعدہ شکل دی جاتی ہے۔ کسان ہر گھونسلے کو تلاش کرتے ہیں اور احتیاط سے پروں کو جمع کرتے ہیں۔ ایک گھونسلے سے 15 سے 20 گرام پر ہی مل پاتے ہیں۔

    تاہم خام پروں میں 80 فیصد مقدار، کوڑا کرکٹ، بڑے پروں، گھاس پھوس اور ڈنٹھل کی ہوتی ہے جنہیں صاف کرنا ضرورتی ہوتا ہے۔ اس کے بعد آئیڈرڈاؤن کو 120 درجہ سینٹی گریڈ پر گرم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کئی مشینوں سے مزید صفائی کی جاتی ہےاس طرح دنیا کا مہنگے ترین پروں کا انتخاب عمل میں آتا ہے-

  • پھیپھڑوں  کے کینسر کا عالمی دن  تحریر:  ندرت حامد

    پھیپھڑوں کے کینسر کا عالمی دن تحریر: ندرت حامد

    دنیا میں جتنی بھی کینسر کی اقسام پائی جاتی ہیں ان میں پھیپھڑوں کا کینسر ‘ کینسر کی دوسری قسم ہے جو کہ بہت عام ہے ۔پھیپھڑوں کا کینسر مرد و خواتین میں یکساں پایا جاتا ہے اور اموات کی وجہ بنتا ہے ۔ یکم اگست کو ہر سال پھیپھڑوں کے کینسر کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس میں پھیپھڑوں کی حفاظت کے بارے میں آگاہی اور شعور اجاگر کیا جاتا ہے اس دن معاشرے میں لوگوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتے ہیں ۔تمباکو سگریٹ اور دیگر نشہ آور ادویات جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر کو جنم دیتی ہیں ان کے نقصانات کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ پھیپھڑوں میں خلیوں کی ابنارمل گروتھ کا کو کینسر کہا جاتا ہے ۔ اور دنیا میں بہت زیادہ اموات پھیپھڑوں سے کینسر کی وجہ سے ہوتی ہیں۔بعض اوقات خون کے ذریعے یہ کینسر جسم کے دوسرے حصوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے ۔کینسر کوئی براہ راست نہیں لیکن بہت سے ایسے عوامل ہیں جو کہ وجہ بنتے ہیں جس میں تمباکو نوشی سب سے زیادہ عام ہے ۔ تمباکو کے دھویں میں 70 فیصد کارسنجن ہوتے ہیں جو کہ کینسر کی وجہ بنتے ہیں ۔ اگر خاندان میں کسی کو کینسر ہے جیسے ماں باپ بہن بھائی تو اگلی نسل میں کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔
    پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا شخص اس بیماری کا تجزیہ نہیں کر سکتے یہاں تک کہ کینسر آخری مراحل تک پہنچ جاتا ہے ۔یا شدت اختیار کر جاتا ہے ۔ مسلسل کھانسی اور وہ جو طویل عرصے تک رہتی ہے۔ کھانسی سے خون کا آنا سانس میں کمی ۔ سینے کمر یا کندھوں میں درد جو کہ کھانسنے ہنسنے یا سانس لینے کی وجہ سے ہوتا ہے کینسر کی علامات میں سے ہے ۔ مختلف کیسز میں علامات مختلف ہو سکتی ہیں ۔پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی مراحل میں نشاندہی اور بروقت علاج فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ خود کو اور اپنے پیاروں کو پھیپھڑوں کے کینسر سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے ۔
    اس کا مکمل علاج دریافت ہونے تک اس کے عالمی دن کے موقع پر لوگوں میں آگاہی پیدا کریں ۔ اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں ۔
    @N_Hkhan

  • کرونا پر قابو پانے کے لئے احتیاط اور ویکسینیشن ضروری تحریر:  محمد حماد

    کرونا پر قابو پانے کے لئے احتیاط اور ویکسینیشن ضروری تحریر: محمد حماد

    ملک میں کرونا ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے اور یومیہ کیسز کی شرح 7 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ کراچی سمیت بڑے شہروں میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ماہرین اسے کرونا کی چوتھی لہر قرار دے رہے ہیں۔ کرونا کا ڈیلٹا ویرئنٹ بھی پاکستان میں پہنچ چکا ہے اور خدشہ اس بات کا ہے کہ اگر صورتحال کو جلد قابو نہ کیا گیا تو خدانخواستہ پاکستان میں بھی بھارت جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    اب سے چند ہفتوں قبل نیچے جاتے کیسز کے اچانک بڑھنے کی وجہ عوام کی غیر سنجیدگی اور بے احتیاطی بھی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کی شرح انتہائی کم ہے۔ ماسک کا استعمال جو کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ایک بہترین عمل ہے اس پر عملدرآمد بھی انتہائی کم نظر آتا ہے۔ مارکیٹوں میں بے تحاشا رش سے نہ صرف سماجی فاصلہ برقرار نہیں رہتا بلکہ دکانداروں اور خریداروں کا ماسک کا استعمال نہ کرنا کرونا کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت اور ادارے ایس او پیز پر عمل کرانے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔

    کرونا کے خلاف ویکسینیشن کا عمل بھی ملک بھر میں جاری ہے۔ حکومت کے سخت اقدامات اور پابندیوں کی وارننگ کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے ویکسینیشن سینٹرز کا رخ کیا ہے جس کے سبب وہاں شدید رش دیکھنے میں آرہا ہے۔ کراچی میں ایکسپو سینٹر میں قائم ویکسینیشن سینٹر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جہاں عوام کی بڑی تعداد بغیر ایس او پیز اور سماجی فاصلے کے لمبی قطاروں میں کھڑی نظر آتی ہے۔ اسے اداروں کی نااہلی کہیں یا منصوبہ بندی کا فقدان لیکن اندیشہ یہی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کے لئے بنائے گئے یہ ویکسینیشن سینٹرز حکومتی نااہلی کے سبب کرونا کے پھیلاؤ کا باعث نہ بن جائیں۔

    بلاشبہ احتیاط اور ویکسینیشن ہی کرونا کا پھیلاؤ روکنے کا واحد ذریعہ ہیں لیکن بڑھتے ہوئے کیسز اور اسپتالوں پر آنے والے دباو کے بائث حکومت لاک ڈاون جیسے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اگر عوام چاہتی ہے کہ وہ اپنے کاروبار جاری رکھ سکے تو انھیں حکومت کی جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اپنے اور اپنے ادارے کے تمام افراد کی ویکسینیشن مکمل کرائیں۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو اس وبا سے محفوظ رکھیں تو اس کا واحد حل ویکسینیشن اور احتیاط ہے۔ ہمیں بطور قوم سنجیدگی اور اتحاد سے نا صرف اس وبا کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اسے شکست بھی دینی ہے انشاء اللہ۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer,Find out more about his work on  Twitter  account 

     


  • ‏زرائع کامیابی  تحریر: آنوشہ امتیاز

    ‏زرائع کامیابی تحریر: آنوشہ امتیاز

    ‏زرائع کامیابی۔۔
    اس دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو ہر چیز کے روشن پہلو دیکھتے ہیں اور ہر کام کو اس یقین کے ساتھ شروع کرتے ہیں، کہ ہم اس میں ضرور کامیاب ہوں گے، وہ مشکلات اور عارضی رکاوٹوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور بالآخر ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں، کیونکہ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیشہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔۔۔
    دوسری قسم کمزور دل لوگوں پہ مشتمل ہے، یہ کام کرنے سے پہلے کئی ماہ سوچتے ہیں کہ کیا ہم کامیاب ہو سکیں گے، ناکامی کا خطرہ ان کے دل سے نہیں نکلتا اور خیالی مشکلات کے بھوت ان پر سوار رہتے ہیں، بلآخر اپنی کمزوریوں کی بدولت ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، ناکامی کا تجربہ ان کے پیشِ نظر رہتا ہے اور وہ فکر میں گھرے رہتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا قانون ایسے لوگوں کے ساتھ رعایت نہیں کرتا اور کامیابی ان کے شامل حال نہیں ہوتی ۔۔۔
    کامیابی کی ضروری شرائط کو تین جامع الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے ، "کامیابی، دیانتداری، عزم بالجزم "۔۔
    کامل یک سوئی یعنی ایک مقصد پر تمام قوتوں کا اجتماع،
    صحیح قوت فیصلہ، دنیا اور اہل دنیا کے متعلق مکمل معلومات،
    کام کے ساتھ زوق و شوق،
    اللّہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور خیالات کی پاکیزگی،
    ایمانداری، محنت اور استقلال،
    الفاظ کم کام زیادہ ،
    محنت، توکل اور اللّٰہ پر بھروسہ،
    کامیابی کی منزل پر پہنچنا دشوار نہیں، بشرطیکہ صحیح راستہ چنا جائے، جو شخص مناسب حالات اور بہتر مواقع کا منتظر رہتا ہے وہ اپنی قبر آپ کھودتا ہے، کیونکہ دنیا میں جتنے بھی بڑے آدمی گزرے ہیں وہ باوجود مخالفت کے کامیاب ہوئے ہیں یا یہ کہنا چاہیے کہ ہر کامیاب انسان زمانے کے مخالف سمت جا کر ہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔۔۔
    گویا کامیابی کا واحد راستہ ہی ناکامی ہے،
    اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لئیے ضروری ہے کہ انسان مواقع سے فایدہ اٹھانے کے لیے تیار رہے، جو لوگ آج کے کام کو کل پہ چھوڑ دیتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ آج ہم نے کیا کر لیا جو کل کر لیں گے ، کامیابی کے محل کو حاصل کرنے کے لیے انسان اس کا دروازہ خود بناتا ہے، اور کام یا مقصد جتنا اچھا اور بڑا ہو گا اتنی ہی دقتیں اٹھانا پڑیں گی۔۔
    درحقیقت مشکل کاموں کو سرانجام دینے میں ہی لطف ہے ، ورنہ ہر شخص آسان کام پہ ہی ہاتھ ڈالتا، وہ فتوحات جو آسانی سے حاصل ہو جائیں، کم قیمت ہو جاتی ہیں، اور قابلِ قدر فتوحات وہ ہیں جو انتھک محنت کا نتیجہ ہوں، کمزور انسان مواقع کے انتظار میں رہتے ہیں جبکہ عقلمند انسان اپنے مواقع خود پیدا کرتا ہے۔۔
    کامیابی کے چند اقوال درج ذیل ہیں۔۔
    "عمدہ اور صاف و شفاف چشموں کی تلاش نہ کرو، اپنا ڈول جہاں سے بھر سکتے ہو بھر لو”۔۔
    "جفا کشی کے سمندر کی تہہ کامیابی کے موتیوں سے بھری پڑی ہے”۔
    "اپنی تمام طاقتوں کو جمع کر کے ایک مرکز پہ لگاؤ”۔۔
    "کامیابی کا زینہ ناکامی کے ڈنڈے سے تیار ہوتا ہے”۔ ۔
    "انسان دنیا کے سمندر میں تنکے کی طرح بہہ جانے کے لئے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس لئیے بھیجا گیا ہے کہ ملاح کی طرح موجوں کا مقابلہ کرتا ہوا آوروں کو پار اتارنے کی کوشش کرے”۔۔
    "دنیا میں وہی پست ہیں، جن کے حوصلے پست ہیں” ۔۔
    نپولین سے اس کے سپہ سالار نے کہا کہ کوہ ایلپس پہ چڑھنا ناممکن ہے، نپولین نے کہا ناممکن کا لفظ پست لوگوں کی لغات میں پایا جاتا ہے چنانچہ اس کی عالی ہمت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، ایک دفعہ راجہ رنجیت سنگھ جب دریائے اٹک پہ پہنچا تو آگے دریا پار کرنے کا سامان نہیں تھا، اس نے گھوڑا دریا میں ڈال دیا کسی نے کہا جناب یہ معمولی دریا نہیں یہ اٹک ہے، رنجیت سنگھ نے فوراً کہا،
    "جس کے دل میں اٹک اس کے لئے اٹک” چونکہ عالی ہمت تھا اس لئے پار ہو گیا،اور کامیاب ہوا،
    ان سب باتوں سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ انسان کو بلند ہمت ہونا چاہیئے، محنت اور جستجو کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور صبرو استقلال کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اللّٰہ سبحانہ وتعالی ہم سب کو زندگی کے ہر موڑ پہ کامیابیاں عطا فرمائے،
    آمین یارب العالمین…

  • ترکی میں لگی خوفناک  آگ، حادثاتی یا تخریب کاری  تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

    ترکی میں لگی خوفناک آگ، حادثاتی یا تخریب کاری تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

    ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہزاروں سال پرانی تاریخ قدرتی حوادث سے بھری پڑی ہے، جہاں ایک طرف تو زلزلوں نے شہر کے شہر تباہ کردیے وہاں آگ نے بھی ایسے بہت سے شہر صفحہ ہستی سے جلا کر راکھ کردیے

    ترکی کا وسیع رقبہ جنگلوں اور پہاڑوں پر مبنی ہے، محکمہ جنگلات محکمہ پانی و زراعت سے بھی بڑا ہے ہر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لئے باقاعدہ راستہ بنایا جاتا ہے تقریباً ہر سال گرمیوں میں ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا ایک معمول کا عمل ہے، سخت گرمی میں سورج کی دھکتی شعاوُں سے ایسا ممکن ہے کیونکہ زیادہ تر درخت چیڑ کے ہیں جو بڑی جلدی آگ پکڑ لیتے ہیں۔ کچھ واقعات میں ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتلوں نے بھی میگنیفائر کا کام کیا، مگر سب سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات پکنک منانے والوں کی باربی کیو کی آگ یا پھر چلتی گاڑی سے سگریٹ پھینکنے سے ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی لاپروائی سے منٹوں میں سینکڑوں ایکڑ جنگل جل کر راکھ ہوجاتا ہے اور آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے یا دن لگ جاتے ہیں کیونکہ مسلسل سمندر سے زمینی علاقوں اور زمینی علاقوں سے سمندر کی طرف چلنے والی تیز ہوائیں بھی آگ کو پھیلانے میں مدد دیتی ہیں۔

    ترکی ہر سال اس آگ سے نپٹنے کے لئے پانی لانے والے نئے جہاز، ہیلی کاپٹر یا جنگل اور پہاڑی راستوں پر اسانی سے چلنے والی گاڑیاں خریدتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان مشکل حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے آگ بجھانے والے آلات کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھی کرتا رہتا ہے

    آگ لگانے کے تخریبی واقعات بھی عام ہیں اور یہ زیادہ تر مشہور سیاحتی مقامات کے قریبی ان جنگلات میں ہوتے ہیں، جہاں محکمہ ماحولیات نے ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد رہائشی منصوبے یا ہوٹلز وغیرہ کی تعمیر کی اجازت مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر موئلہ صوبے کے سب سے مشہور سیاحتی مرکز بودروم شہر کے اس ہوٹل تک بھی آگ پہنچ گئی ہے جو اس جگہ تعمیر کیا گیا تھا جہاں جنگل میں کچھ سال پہلے آگ لگی یا جان بوجھ کر لگائی گئی تھی مگر بعد میں نئے درخت لگانے کی بجائے ہوٹل کی تعمیر کی اجازت مل گئی تھی۔

    موجودہ آگ کو ترک ماہرین اور تجزیہ نگار ماحولیاتی دہشتگردی کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ شرپسندوں کی طرف سے جنگلوں میں آگ لگانے کے اتنے وسیع اور منظم طریقے سے تخریب کاری پہلی دفعہ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں صرف چار دن میں (اٹھائیس سے اکتیس جولائی تک) 26 صوبوں کے 98 سے زائد مقامات پر اچانک آگ کا بھڑک اٹھنا بھی اس بات کا ثبوت ہے اور پولیس کے ہوائی ڈرونز نے بھی مختلف جگہوں پر شرپسندوں کو آگ لگاتے کیمرے کی آنکھ سے پکڑا ہے اور اس بار یہ آگ صرف سیاحتی مراکز ہی نہیں بلکہ دور دراز کے شہری علاقوں کے قریبی جنگلات میں بھی لگائی گئی ہے جس کے نتیجے میں بوقت تحریر 4 قیمتی انسانی جانوں کے نقصان علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مویشی اور جنگلی جانور تلف ہوچکے ہیں، املاک کے نقصانات کا اندازہ لگانا ابھی تقریبا ناممکن ہے۔ آگ بجھانے کے لیے 45 ہیلی کاپٹر، 6 عدد پانی لے جانے والے ہوائی جہاز، 1080عدد فائیربرگیڈ کی گاڑیاں، 2270 عدد ابتدائی مداخلت والی جییپیں، 10,550 آگ بجھانے کے ماہرین 280 عدد پانی کے ٹینکروں کی مدد سے کوشاں ہیں، ترک صدر جناب رجب طیب ایردوآن کی طرف سے پانچ صوبوں (انطالیہ، میرسن، عثمانیہ، موئلہ اور عادانا) کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر ایمرجنسی لگا دی گئی ہے

    دو تین سال پہلے جب یونان کے مختلف علاقوں میں آگ لگی تھی تو ترکی نے ہمسایہ ملک کی بھر پور مدد کی تھی آگ بجھانے میں مگر آج حالات یہ ہیں کہ ترکی کے اپنے آگ بجھانے کے وسائل ناکافی ہوچکے ہیں، آزربایجان اور یوکرین نے اپنے ہوور جہاز مدد کے لیے بھیجے ہیں . پاکستان نے بھی ترک بھائیوں کی ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے

    امید اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ترکی کو اس مشکل وقت اور سخت امتحان سے جلد نکالے۔ مالی اور جانی نقصان پر صبر عطا کرے۔ آمین

    @Tarvelogue

  • پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری

    پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری


    دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات پیدا ہو رہے ہیں جسکے روکنے اور سدباب کرنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ شجر کاری کی جائے. کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ٹوٹل آبادی کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے. جبکہ ہمارے پاکستان میں یہ 4 سے 5 فیصد ہے. بڑھتی ہوئی گرمی کو روکنے کیلئے بھی شجر کاری نہایت اہم ہے. اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا پروجیکٹ بلین ٹری سونامی بھی کافی زبردست رہا. جسے عالمی طور پر بھی سراہا گیا. ماحولیاتی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ایک مزہبی تنظیم دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس عطار قادری صاحب نے بھی پودے لگانا کا ذہن دیا. تو انکے ایک ذیلی ادارے عالمی تنظیم فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRF نے بھی ایک اگست کو پاکستان بھر میں 26 لاکھ پودے لگانے کا اعلان کیا ہے. جن کا نعرہ یہ ہے کہ پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے. پودے تو ہر کوئی لگا دیتا ہے لیکن اکثریت بعد میں اس کا دیہان نہیں رکھتی جسکے بنا پر وہ ضائع ہو جاتا ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کا ایک وسیع نیٹ ورک پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں موجود ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن اتنی کوشش کر رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے ہر علاقے کے لحاظ سے بتا رہی ہے کہ کس علاقے میں کونسی قسم کا پودا موزوں رہے گا. پودا لگانا ثواب کا کام اور صدقہ جاریہ بھی ہے. جیسا کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہو رہا ہے.
    ہما پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نے ارشاد فرمایا :
    "درخت لگانا ایک ایسی نیکی ہے. جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے جبکہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے” .
    تو ہمیں چاہیے کہ آئیں اور ایک اگست کو فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کے تحت ہونے والی شجرکاری میں ان کا ساتھ دیں جس سے ہمیں نیکیوں کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا اور ہمارے پیارے وطن پاکستان کو سر سبز و شاداب، خوبصورت اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک کریں.

  • کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    ” حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ، محترم جناب کمشنر صاحب کا کتا گم گیا ہے جس صاحب کو ملے وہ کمشنر آفس پہنچا دے ۔ اگر ہماری کارروائی کے دوران وہ کتا کسی سے برآمد ہوا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاے گی” یہ اعلان کل گوجرانوالہ کی سماعتوں سے ہوتا ہوا سوشل میڈیا پر پہنچا اور پھر ٹویٹر پر #کمشنرکاکتا گم گیا ہیش ٹیگ کے ساتھ چند ایک ٹویٹس نظر آئیں ۔ جانوروں سے محبت کرنا اچھی بات ہے اور پالتو جانوروں سے محبت تو کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے ۔ ابھی چند دن قبل عید قرباں پر چند ایک مناظر نظروں سے گزرے تھے جن میں قربانی کے جانوروں کو پالنے والے یا پھر انھیں خرید کر قربان کرنے والے رو رہے تھے ، مضطرب تھے لیکن زبان پر شکر کے کلمات تھے ۔ خیر یہ تو ایک الگ معاملہ ہے ۔ اصل بات پر واپس آتا ہوں ۔ کمشنر انگریزی باقیات میں سے وہ چیز ہے جو ابھی بھی اپنے آپ کو ضلع کا مالک کل سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ خدا ترس ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اہل ضلع پرسکون رہتے ہیں وہ درویش صفت لوگوں کو تنگ کرنا گوارا نہیں کرتے اور مجرموں اور قانون شکنوں کے خلاف زمین تنگ کیے رکھتے ہیں ۔

    اب ہمیں یہ تو بات معلوم نہیں کہ کمشنر صاحب نے اعلانات کروانے کا خرچہ بذمہ سرکار کیا ہے یا پھر اپنی جیب سے ادا کیا ہے ۔ یہاں تو سرکاری مال کو اس طرح سے خرچ کیا جاتا ہے جیسے وہ حرام کا مال ہو۔ سرکاری گاڑیوں میں سبزی لانے ، بچوں کو سکول چھوڑنے ، ماسی و پھوپھی کو لانے، سسرال کے کام کرنے اور گھر کا دیگر سودا سلف لانے کا کام بھی کیا جاتا ہے اور سرکاری ڈرائیور کو نجی ڈرائیور سمجھ کر خاتون خانہ کی چاکری پر لگا دیا جاتا ہے ۔ سرکاری مالیوں کو گھر کے لان کی صفائی ستھرائی کے لیے بلایا جاتا ہے ۔ خیر یہ تو ضمنی باتیں آگئی ہیں ۔ جناب کمشنر کے کتے کی بات ہورہی تھی ۔ گوجرانوالہ میں روز کسی نہ کسی تھانے میں کسی کی گم شدگی کی درخواست آتی ہوگی ۔ روز کوئی نہ کوئی لاش سرراہ ملتی ہوگی جسے سردخانے پہنچا دیا جاتا ہوگا کہ ورثا کے ملنے تک محفوظ رہ سکے ۔ کمشنر گوجرانوالہ نے اس طرح کے معاملات میں کتنے اعلانات کروانے کا تردد کیا ہوگا ۔انسان کو تو درخواست نمبر سے زیادہ وقعت ہی نہ ملی کیوں کہ دل میں درد ہو تو صاحب بہادر رات کی نیند سے محروم ہو جائیں ۔ رات کمشنر صاحب امید واثق ہے کہ کتے کے نہ ملنے کی وجہ سے نیند سے محروم ہوں گے ۔ اس سے پہلے کسی غریب ، اجڈ ، گنوار ، جاہل ، لاچار و معذور کی فریاد پر شاید ہی اس طرح سے مضطرب ہوے ہوں کہ سرکاری سرپرستی میں سرکاری اہلکاروں کو کتا ڈھونڈنے پر لگا دیا ۔ کمشنر صاحب کو ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے کیوں کہ ہم ٹھہرے عام شہری جن کی اوقات کمشنر کے کتے سے بھی کم ہے ۔