Baaghi TV

Category: متفرق

  • زندہ لاشیں  تحریر بشارت حسین

    زندہ لاشیں تحریر بشارت حسین

    پہلی بار یہ لفظ بارہ تیرہ سال کی عمر میں سنا جب میرے پڑوس میں ایک شخص گرا اور اس کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی کافی علاج معالجے کے باوجود بھی جب وہ ٹھیک نہ ہوا تو ایک دن اس کے گھر جانا ہوا جب حال پوچھا تو کہنے لگا زندہ لاش ہوں اب تو بس زندگی جیسے کیسے گزارنی ہے سانس تو چلتی ہے لیکن اپنا بھی پتا نہیں نیچے کا حصہ ناکارہ ہو چکا۔
    مجھے لگا اس کی بات تو کافی حد تک ٹھیک ہے
    لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ وہ شخص تو مجبور تھا محتاج ہو گیا تھا
    درحقیقت وہ زندہ لاش نہیں تھا زندہ لاشوں سے تو ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔
    جہاں ہر گھر،ہر محلے،ہر گلی اور ہر جگہ چلتی پھرتی دوڑتی زندہ لاشیں نظر آتی ہیں۔
    بڑی بڑی گاڑیوں میں کلبوں میں بڑے بڑے ہوٹلوں میں تفریحی مقامات پہ بینکوں میں بسوں میں الغرض ہر شعبہ زندگی میں زندہ لاشوں کا راج ہے۔
    زندہ لاشیں ہی تو ہیں روڈ پہ ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے لوگ مر رہے ہوتے زخمی تڑپ رہا ہوتا ہے بلبلا رہا ہوتا ہے مدد کیلئے پکار رہا ہوتا لیکن کوئی مدد کیلئے نہیں آتا گاڑیاں اپنی ہی سپیڈ میں جا رہی ہوتی ہیں کوئی تماشا دیکھنے فوٹو لینے ذرا سا آہستہ ہو جاتا ہے پھر نکل جاتا ہے۔ بنائی ویڈیو یا تصویر کو سوشل میڈیا کی نظر کیا جاتا ہے لائک کمنٹ آتے ہیں بس اس کا فرض پورا ہو جاتا ہے یہ ہیں زندہ لاشیں جن کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہیں ہوتی ہے کسی کو ہسپتال پہنچا سکیں کسی کی زندگی بچا سکیں۔
    کسی کے جگر کے ٹکڑے کو مرنے سے بچانے کی جسارت کر لیں۔ نہیں کبھی نہیں کیونکہ ان کو کیا ہے وہ انکا بیٹا نہیں بھائی نہیں بیٹی نہیں ان سے کوئی رشتہ نہیں پھر کیوں مدد کریں کیوں اپنا وقت ضائع کریں۔
    جب انسانیت کے مقدس رشتے کو یوں پامال کیا جاتا ہے یوں پس پشت ڈالا جاتا ہے تو پھر میں کہتا ہوں وہ شخص نہیں یہ زندہ لاشیں ہیں جن کو اپنے مفاد کے علاوہ کچھ نظر نہیں اتا۔
    جب کہیں مظلوم پہ ظلم ہو رہا اور مجمع اکٹھا ہو کر اس کا تماشا کر رہا ہو وہاں مظلوم کا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہو تو مجھے وہ سب زندہ لاشیں نظر آتی ہیں وہ سب درد انسانیت سے عاری زندہ لاشیں۔
    ایک غریب آدمی جب اپنی جمع پونجی لیکر دل کو سو دلاسے دے کر ہسپتال آتا ہے تو وہاں معالج کے بجائے ایک لٹیرا ہوتا ہے جسکو اس کے پھٹے کپڑے دیکھ کر بھی حیا نہیں آتی ۔ اپنے کمیشن کی خاطر ایسے عجیب و غریب ٹسٹ لکھ کر دیے جاتے ہیں جن کا اس کی بیماری سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کمیشن کی خاطر خوامخواہ مہنگی دوائیاں لکھ کر تھما دی جاتی ہیں۔
    یہاں ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ یہ درحقیقت زندہ لاشیں ہیں۔
    جب دودھ میں پانی ملانے والے کو دیکھتا ہوں تو سمجھ آتی ہیں زندہ لاشیں تو یہ ہیں جنکو نہ کسی کی صحت کا احساس ہے نہ کسی کی زندگی کا۔ پڑوس میں غریب کے بچے بھوکے سو رہے ہیں اور گھر میں شراب نوشی کی محفل جمی ہے زندہ لاشیں تو یہ ہیں۔
    قوم کے بچے سڑکوں پہ دھکے کھا رہے ہیں اور صاحب اقتدار قوم کا پیسہ لوٹ کر ملک سے بھاگ رہے ہیں اپنے اثاثے بنا رہے ہیں کوئی پرواہ نہیں سڑکوں پہ پھول بچتے ہوئے ان پھولوں کی جن کے والدین نے ان کیلئے کیا کیا سپنے دیکھے ہوتے ہیں پھر انکو زندہ لاشیں نہ لکھوں تو کیا لکھوں؟
    جب راستے پہ عورتوں کو چھیڑا جاتا ہے تو کوئی ان درندوں کو نہیں روکتا یہ سوچ کر شاید کہ یہ انکی کچھ نہیں لگتی حقیقت یہ نہیں حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندر انسان مر چکا ہے۔
    گھروں میں نوکروں سے جانوروں جیسا سلوک، پولیس کا امیروں سے درد مندانہ اور غریبوں سے ظالمانہ سلوک دیکھ کر لگتا ہے کہ انسانیت مر گئی ضمیر مر گئے اب ان زندہ لاشوں سے کسی بھی اچھائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
    کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرنے والا دھوکے سے لوگوں سے پیسہ بٹورنے والا ، زمینوں کی غلط خرید و فروخت کرنے والا ، پانی جیسی نعمت کو بھی غلط طریقے سے فروخت کرنے والا، ذخیرہ اندوزی کرنے والا ان سب کو کیا کہوں جن کے اندر کا انسان یہ کہنے کے بھی قابل نہیں کہ تم غلط کر رہے ہو۔
    معاشرے کا ہر وہ شخص زندہ لاش ہے جس میں احساس نہیں دوسروں کیلئے ہمدردی نہیں محبت نہیں۔ جسکو کسی کی پرواہ نہیں کہ کوئی بھوکا مر رہا ہے یا پیاسا مر رہا ہے کوئی زخمی ہے یا مظلوم ہے۔
    اب اپنے گریبان میں بھی جھانکیں آپ کا صف میں کھڑے ہیں؟
    کہیں آپ بھی زندہ لاش تو نہیں؟

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • رزق حلال عین عبادت ہے   تحریر:شعیب حسن

    رزق حلال عین عبادت ہے تحریر:شعیب حسن

    رزق حلال کے فوائد”رزق حلال عین عبادت ہے”
    رزق حلال کے فوائد
    رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
    اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
    "اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
    (سورۃ النساۂ)
    حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
    کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
    دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
    "اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
    حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
    کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
    اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
    کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے
    رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
    اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
    "اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
    (سورۃ النساۂ)
    حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
    کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
    دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
    "اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
    حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
    کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
    اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
    کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے

  • هیجان  تحریر: سیدہ بشری

    هیجان تحریر: سیدہ بشری

    دو شدید انتہاؤں کے درمیان اعتدال ہے ۔۔اسکے آر پار دونوں اطراف پر موجود سوچ کو ہم نے لبرل یا قدامت پسند میں تقسیم کر دیا معاشرہ جنکو شدت پسند کہتا وجہ ہے ا نکے سخت خیالات چاہے وہ مذہبی ہوں ثقافتی ہوں تہذیبی ہوں یا تمدنی ۔ وہیں ایک دوسرا گروہ ہے جنکو لبرل کہا جاتا ۔ لفظ لبرل کی تعریف تو یہ ہے کے دوسروں کو انکے خیالات احساسات اور انکی روایات کے مطابق آزاد چھوڑ دو ۔۔پر ایسا ہے نہیں لبرل بھی شدت پسندوں کی ضد نہیں بلکہ دوسرے حصے کے شد ت پسند ہیں ۔کیونکہ یہ بھی دوسرے کے خیالات احساسات نظر یات یا جذبات کے احترام کے شدید منکر ۔کیونکہ وہ اس لفظ کی تعریف کے برعکس وہ چاہتے جو انکا عقیدہ سوچ یا نظریہ ہے ۔۔اس دو انتہاؤ ں کی جنگ نے ایک هیجان پیدا کر کے رکھ دیا ۔
    ہر کوئی اپنی حد پر ایک سرحد بنا کر اس پر مسلح پہرہ دے رہا ادھر منشا کے خلاف بات ہوئی ادھر حملہ آور تیار ۔ایک جنگ کا سماں بن چکا جہاں سوچ سمجھ کو تالا لگا کر ضد پر ڈٹ جانے کا نام انکے نظریہ کی حفاظت ہے ۔اگر نظر انداز ہوا تو وہ اعتدل ہوا ۔۔اعتدال ہی وہ واحد حل ہے جو ان دو حدوں کے بین بین سہی راستہ ہے ۔جو سكهاتا ہے کے سنو احترام سے سنو ۔قایل کرو اگر نہیں کر سکتے تو چھوڑ دو ۔پر یہ حق کسی کو نہیں کے کسی کو لٹھ کے زور بازو پر کچھ منوا لو۔کسی کو کسی کی جان لینے کا حق نہیں ۔ہم نے ایک سوچ بنا لی کسی کی داڑھی دیکھی قمیض شلوار پہنا دیکھا اور اس نے کوئی جرم کیا فورا مذھب کو گا لی دو ۔
    یا کوئی جرم ہوا اور جسکے ساتھ ظلم ہوا وہ اگر آزاد ہے تو آزادی کو جرم ۔
    نہ ہی مذھب غلط ہوتا نہ آزادی غلط وہ فرد ہوتا جو جرم کرتا ۔یہ تفریق ہمیں سمجھنا ہو گی ۔
    مذھب کسی پر جبر نہیں کرتا ۔نا جرم کی تبلیغ کرتا ۔پھر دین پر سوال کیوں ؟
    کسی بھی معاشرے میں جب اعتدال کی جگہ انتہا لے لے پھر وہاں اخلاقی تباہی مقدر بن جاتی ہے ۔
    ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھو ۔بردآشت واحد اکائ ہے جو سبکو جوڑ کر رکھتی ہے ۔
    آزادی کی تعریف کو سمجھو اور اسکی حد تجاوز کرنے سے پرہیز کرو ۔جہاں اپنی آزادی سے نکلے سمجھو دوسرے کی حد پر حملہ اور ہوا ۔۔
    جنسی تفریق کا راگ الاپ کر ہم نے مرد عورت کو دو الگ مخلوقا ت بنا دیا ۔برابری کی بات کریں تو تو برابری کی حدوں کی جانکاری لینا لازم ۔تعلیم، انصاف، جائیداد، نوکری، شادی ، کاروبار کی آزادی یہ وہ معاملات ہیں جن پر ایک برابر حق ہے کسی کو حق نہیں کے کوئی ان پر مرضی مسلط کرے ۔پر وہیں ہمارےہاں خاندانی نظام کے تحت سبکے اپنے طور طریقے ہوتے جنکے افراد پاپند ہوتے بلا تفریق جنس ۔اپنی روايات کو اگر مانتے ہو تو ٹھیک اگر غلط لگے تو انکو بدلو ۔۔سڑک پر نکل کر باجا بجا کر کچھ نہیں بدلے گا ۔۔اس سے سوآئے اضطراب کے کچھ نہیں ملے گا۔۔وہ لوگ جو عورت کے نام پر عورت مارچ کا حصہ بنے انہی میں سے ایسے ابلیس بھی نکلے جن نے سر تن سے جدا کر کے بے رحمی سے قتل کیا عورت کو وہ جو خود کو سو آزاد خیال کہتے انہی نے گھروں میں عورتوں پر ظلم ڈھائے ۔پھر کس کا بھروسا ۔یہ آزادی کے نام پر منافقت ہے جو ہم کرتے ۔ہمارے ہاں ظلم ہوتے دیکھ کر سب تماشائ ہوتے اور جب ظلم ہو جاتا پھر دھڑے بازی وہی عورت کارڈ مذھب کارڈ آزادی کارڈ زندہ ہو جاتا ۔ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنتے ۔پھر چار، دس روز بعد نیا قصہ نئی کہانی ۔ان كارڈز سے نکل کر انسان بن کر انسانیت کے لئے سوچو اور اقدام کرو ۔اپنے گھر قبیلے سے سٹارٹ کرو خود تبدیلی نظر آئے گی ۔منبر کو حق کے لئے استعما ل کرو اپنے قلم کو سچ کے لئے اٹھاؤ قانون کا نفاذ اور انصاف کے فروغ کے لئے آواز اٹھاؤ سسٹم بدلنا ہو گا ۔جسکی لاٹھی اسکی بھینس جیسے محاورے کو جسکی بهینس اسکی لاٹھی کرنا ہو گا ۔اگر کوئی آواز اٹھانا بنتی ہے وہ اس عدالتی اور پولیس کے نظام کے لئے ہے سارا گھن چکر ان دو اداروں کی وجہ سے ہے ۔جہاں طاقتور آزاد ہے ہر ظلم کے ساتھ جہاں کمزور کا مقدر دھکے ہیں ۔۔باغی ہونے سے کچھ نہیں ملتا کیونکہ طغیانی سے فصلیں سیراب نہیں ہوتی بلکہ چمن اجڑ جاتے ایسے ہی شدت پسندی سے نسلیں فیض یاپ نہیں ہوتی ۔حد پكڑ نا سیکھو ۔علم اور نمبر کی ووڑ میں تربیت کو سب سے اہم مقام دو ۔اپنی نسلوں کو جنونی اور پاگل ہونے سے بچا و ۔۔https://twitter.com/SyedaBushraSha3?s=08

  • تاریخ کے ابواب  تحریر: نایاب آصف

    تاریخ کے ابواب تحریر: نایاب آصف

    تاریخ کے ابواب کے تابندہ کرنوں کی مانند چمکتے ہوئے صفحات پر نظر پڑی تو میری چشم فلک نے قمر روشن کو حسن مکاں و لا مکاں کی خاطر شق ہوتے دیکھا٫روحانیت کے نیر اعظم کو اپنے قول و فعل سے بنی نوعِ انسان کو منور کرتے دیکھا٫قرآن کو پہاڑوں کی بجائے انسان کے سینے پر اترتے دیکھا٫ دشمنان اسلام کے مظالم کی تاریخ کو عفو و درگزر کی عظیم مثالوں سے مٹتے دیکھا٫عرب کے درندہ صفت انسانوں کو اپنے جذبہ ایمانی سے قیصر و کسریٰ کے محلات کو زیر کرتے دیکھا تو میرے ذہن میں یہ بات جنم لی کہ اس عظیم انسان کی امت کو بھی اتنا ہی عظیم ہونا چاہیے کہ جس کی آفتاب عالم تاب کی مانند شخصیت نے انسانیت کے قلب و جگر کو اپنے نور سے روشن کر دیا۔
    وہ پیر کامل ،دونوں جہانوں کا تاجدار انسانیت کی ہچکولے کھاتے ہوئی کشتی کا بیڑا پار لگانے آیا۔اس دار فانی کا زرہ زرہ اپنی استعداد کے مطابق اس ہستی کے کمال سے فیض یاب ہوا۔یہ وہی ذات تھی کہ جو راتوں کو رو رو کر اپنی امت کو نار جہنم سے آزادی کا پروانہ ملنے کی دعائیں کرتی تھی۔
    ان کی امت کون ہے؟
    ہم امت مسلمہ ہیں۔❤️
    کیا کبھی ہم نے سوچا کہ قیامت کے دن ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے؟ بدقسمتی سے آج ہم تباہی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں۔12 ربیع الاول کے موقع پر صرف چراغاں کرنے اور ذاتِ اقدس کے قصیدے بیان کرنے سے ہم محبت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔آج فرانس میں ہمارے وہ نبی جو اپنی امت کے لئے اشک بار رہتے تھے ان کی توہین کی گئی اور افسوس امت مسلمہ ہمیشہ سے چند مظاہرے کرنے کے بعد خاموش ہو گئی۔ دنیا میں مسلمانوں کی پستی کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے نبی کی پیروی کرنا چھوڑ دی ہے۔ہمیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہو گا کہ ہم واقعی میں اس عظیم ہستی کی امت کہلانے کے لائق ہیں۔ہمیں صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے دنیا پر رعب قائم کرنا ہوگا تا کہ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرنے کی کسی کی ہمت نہ ہو۔ آئیے آج ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اپنے اقوال و افعال کو اپنے نبی کی زندگی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رول ماڈل مانیں گے ان کی ذاتِ مبارکہ کے اعلیٰ نمونے کو سامنے رکھ کر ویسا بننے کی کوشش کریں گے۔ہم اپنے کردار سے ایک دفعہ پھر اس دنیا پر اپنی دھاک بٹھائیں گے کیونکہ ہم اس نبی کی امت ہیں جن کی شان کے قصیدے غیر مسلم بھی پڑھتے ہیں۔
    سر باسورتھ سمتھ کا قول ہے:
    "اس دنیا میں اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے منصفانہ طور پر ایمانداری سے حکومت کی ہے تو وہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے”

  • لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ   تحریر:  ام سلمیٰ

    لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ تحریر: ام سلمیٰ

    بے بس کراچی کے شہری جو کئی دہائیوں سے اپنے مسائل کے حل کے انتظار میں ہے.
    پہلے بھی یہاں ٹریفک کا انتظام اس قابل نہں ہے آبادی کے تناسب سے لوگ با آسانی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر سکیں پھر کورونا کے معاملات اس وقت بھی سندھ میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے لیکن کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کا وہی حال ہے گاڑیاں کھچا کھچ بھری ہوئی کورونا کے لیے بتائی گئے احتیاط تدابیر پر کوئی عمل نہں کر رہا. پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر حضرات بتائی گئی احتیاطی تدابیر نہں آپناتے اور نہ ہی اس پے عمل کرواتے نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کورونا ہے ہی نہں. خدانخوستہ جس حساب سے بسوں میں عوام کا رش نظر آتا ہے یہ ہی ایک بڑی وجہ نہ بن جائے کررونا پھیلانے کی صوبائی گورمنٹ لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس چیز کو مد نظر رکھے کے جن احکامات کا اعلان کیا جا رہا ہے ان پر سختی سے لوگ عمل پیرا ہوں یا ان احکامات کے لاگو ہونے کا بعد کوئی چیک پوائنٹ ضرور ہوں مانیٹر نگ کا اور احکامات کو نہ ماننے والوں کو جرمانہ کیا جائے تاکہ لوگ سختی سے احکامات پر اعمال در آمد کریں.
    لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب تمام ادارے ایک ہی وقت میں بند کر دیے جاتے ہیں تو ٹریفک کا دباؤ بے تحا شا بڑھ جاتا ہے سڑکوں پر اور اس وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ پڑتی ہے اور لوگوں کے لئے سفر کا وقت بڑھاتی ہے ،اس سے بھی ذہنی تناؤ اور دیگر متعلقہ بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے عام لوگ نقل و حمل سے متعلق تشویش کا شکار رہتے ہیں اور ان کی ذہنی بیماریوں میں ہائی بلڈ پریشر اور اضطراب اضافہ ہوتا ہے.

    تب صحت کے ان مسائل کا نتیجہ طبی بلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں کم اور درمیانی آمدنی والے مزدور طبقے کو معاشی عدم استحکام کا زیادہ خطرہ بن جاتا ہے۔

    نقل و حمل کے محدود وسائل کی وجہ سے خواتین خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں مزید انفراسٹرکچر اور سہولیات میں صرف سرمایہ کاری کرکے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل توجہ طلب ہیں صرف بجٹ میں پیسہ مختص کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکے انکو حل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اور موثر اداروں میں ہے۔
    کراچی میں آبادی کے تناسب سے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات انتہائی کم ہیں رجسٹرڈ بسوں اور منی بسوں کی تعداد لگ بھگ 21،800 ہے ، اس لئے ایک بس میں روزانہ 257 مسافر سوار ہوتے ہیں ، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے چونکہ بسیں انفرادی لوگ چلاتے ہیں جو کرایہ کی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں ، چھت کے اوپر بیٹھنے سمیت ، بس اسٹاپ پر مسافروں کے لیے زیادہ دیر انتظار کرنا عام ہے ان کے لیے کوئی قوانین نہں بنائے گئے.

    اس کے علاوہ سرکاری اور نجی بسیں غیر مستحکم اور غیر آرام دہ ہیں۔اور ان بسوں کی بناوٹ کی وجہ سے ان بسوں میں خواتین کو تنگ کرنے کے واقعات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    صوبائی گورنمنٹ بسوں کی وجہ سے کررونا کے پھیلاؤ کو روکنے پر فوری توجہ دے.

    @umesalma_

  • بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر : @nabthedentist

    جوان انسان کہ منہ میں 32 دانت ھوتے جن میں چار عقل ڈارھیں ضروری نھیں سبکو آئیں اس حساب سے کم از کم ایک نارمل انسان کے منہ میں 28 دانت تو آنا لازم ھے
    جسم کے مضبوط ترین حصوں میں سب سے مضبوط ھڈی ھے اور ھڈیوں میں دانت سب سے مضبوط ترین مانے جاتے ظاہر ھے اگر یہ اتنے مضبوط ھیں تو اللہ نے ان سے کوی سخت قسم کا کام بھی لینا ھوگا اور جب یہ سارے یا ایک یا ایک سے زیادہ دانت نکل جاتے تو ان کے نیچے موجود مسوڑھے جو جسم کے کمزور حصوں میں سے ایک ھیں ان کو وہ سخت کام کرنا پڑجاتا جو وہ کر نھین پاتے جس سے مسوڑوں میں انفیکشن زخم ساتھ والے دانتوں میں مسئلے ٹوٹ پھوٹ کیڑا لگنا ٹیڑھا ھوکر اس خالی جگہ میں گرنا اوپر والے دانتوں کا قد نکال لینا یہ سب کچھ ھونا شروع ھوجاتا جسکے نتیجے میں مزید دانتوں کے نکلنے کا خطرہ درد تکلیف کا دائمی ھوجانا تکلیف والے سایئڈ سے کھانا نا کھاکر اس سایئڈ کا ناکارہ ھوجانا شامل ھے وہ ھوسکتا
    اسلئے جب کبھی کسی کا دانت کسی بھی وجہ سے نکل جائے یا نکلوانا پڑ جائے تو وہ ایک ماہ سے لیکر 6 ماہ کے اندر نئے دانت لگوا لے
    نئے دانت کبھی بھی اصل کے متبادل نھیں ھوسکتے مگر وہ کسی بھی طور نا لگوانے سے ھزار گنا بہتر ھے
    آپکا کھانا پینا شروع ھوجاتا زندگی میں سکون آجاتا ساتھ والے دانت یا پھر مسوڑوں کے مسئلے ختم ھوجاتے
    نئے دانت لگوانے میں آپکے پاس درج ذیل آپشن موجود ھیں

    1۔ اتارنے لگانے والے دانت
    Removable Denture

    مشہور زمانہ بتیسی اسی کٹیگری میں آتی یہ ایک دانت سے لیکر پوری بتیسی یعنی 32 دانت تک حسب ضرورت لگوائے جاسکتے یہ باقی آپشن کی نسبت سستے ساتھ والے دانتوں کو نقصان دیئے بغیر لگ جاتے انکا نقصان یہ اتارنے لگانے والے ھوتے خیال کم رکھا جانے کی وجہ سے خراب ھوجاتے منہ میں ایڈجسٹ نسبت مشکل سے ھوتے وقت کیساتھ ڈینٹل کلینک چکر لگتے ھی رھتے جسکے منہ میں کوی دانت نا ھو اسکے لئے یہ آپشن سب سے بہتر ھے

    2۔ فکس دانت کراون یا بیریج
    Crowns and Bridge

    جب کوی دانت کی دیوار ٹوٹ جائے یا اسکا روٹ کینال ٹریٹمنٹ ھوا ھو تو ایسے دانت کو مضبوطی دینے لئے فلنگ کیساتھ اس پر فکس کراون لگایا جاتا ھے جب دانت موجود نا ھو تو ساتھ والے دانتوں کو کٹنگ کرکے انکا ناپ لیکر خالی جگہ میں دانت لگایا جاتا اسکو bridge کہا جاتا ھے
    یہ فکس ھوتے اسلئے یہ اتارنے والوں سے بہتر رھتے یہ ان سے نسبتا زیادہ قیمت کے ھوتے ھیں اسوقت دنیا میں سب سے زیادہ یہی لگائے جاتے

    3.ایمپلانٹ Implant

    فکس برج میں جہاں ایک دانت لگانے لئے ساتھ والے دو دانتوں کی کتنگ کی جاتی وہ ایک لحاظ سے دو دانتوں کا نقصان بھی ھے جو اور 5 سال بعد خراب ھونے کی صلاحیت رکھتے جس سے برج کو اتار کر ساتھ والے مزید دانتوں کو لینا پڑ سکتا ایسے میں فکس دانت لگانے لئے ایک اور آپشن ھے وہ ھے ایمپلانٹ اس میں ساتھ والے دانتوں کو چھیڑا نھیں جاتا جو ایک دانت نکلا اسکی جگہ ایمپلانٹ screw کردیا جاتا اوپر کراون لگایا جاتا یہ سب سے بہترین آپشن ھے مگر کافی مہنگا ھوتا ھے اسلئے پاکستان میں بہت کم لوگ اس جانب راغب ھوتے

    دانت فکس ھوں یا اتارنے لگانے والے لیکن اگر انکی صفائ نا رکھی گئی خیال نا رکھا گیا تو لیبارٹری کے بنے ھوئے یہ دانت بہت جلد خراب ھوجاتے اسلئے اصل دانتوں کی حفاظت سے زیادہ انکی حفاظت ضروری ھے

  • نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان

    نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان

    افغانستان حکومت جو آج کل پاکستان کے خلاف نفرت اور پروپیگنڈے پھیلانے اوربےبنیاد الزامات لگانے میں مصروف رہا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ نفرت کا جواب محبت سے دیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا اور امن کیلئے اپنے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
    چند روز پہلے افغان فوجیوں نے پاکستان سے چترال کے اندو سیکٹر پرپناہ کیلئے 26 جولائی کو درخواست کی تھی کیونکہ وہ اپنے بارڈر پر کنٹرول رکھنے کی طاقت کھو گئے تھے جس پر پاکستان نے ہمدردی دیکھاتے ہوئے ضروری ضابطہ کی کارروائی کے بعد افغان فوجیوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ پاکستان میں پناہ لینے والے فوجیوں میں پانچ افسراوں سمیت 46 افغان فوجی شامل تھے۔ پاکستان نے ان فوجیوں کا استقبال کیا اور ان کی خوب مہمان نوازی کی جبکہ افغانستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے اس بات سے انکار کیا گیا کہ ہمارے فوجیوں نے آج تک کسی بھی ملک میں پناہ لی ہے اور پاکستان میں تو بلکل نہیں۔ اس بات سے یہ بات ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان جو ہمیشہ امن کیلئے کوشا رہتا ہے لیکن افغانستان پاکستان سے نفرت کرنے سے بعض نہیں رہتا۔

    افغان وزیر خارجہ کی بیان کے بعد پاکستان کی طرف سے افغان فوجیوں اور ان کی مہمان نوازی کی ویڈیو اور تصاویر جاری کردی گئے جس نے افغانستان کے بیانیے کو پورے دنیا کے سامنے بےنقاب کردیا اور یہ ثابت کردیا کہ پاکستان امن کیلئے کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا
    پاکستان نے ان پانچ افسروں سمیت 46 افغان فوجی 26 جولائی کو باجوڑ کے راستے افغان حکام کے حوالے کردیے اور صرف یہی نہٰں اس سے پہلے 35 افغان فوجی یکم جولائی کو واپس بھیجے گئے تھے، جنہوں نے پاکستان سے محفوظ راستے کی درخواست کی تھی۔
    اس کے بعد بدھ کے دن پاکستان نے پناہ لینے والے مزید پانچ افغان فوجی افغانستان حکام کے حوالے کردیے جو پاکستان کا افغانستان میں امن کیلئے کوشش کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے پاک افغان بارڈر پر محفوظ راستے کے لیے پناہ حاصل کرنے والے مزید پانچ افغان فوجیوں کو باجوڑ میں نوا پاس کے مقام پر پانچ بج کر 45 منٹ پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

    صرف یہی نہیں اس سے پہلے افغانستان کا پاکستان میں سفیر کی بیٹی کی اغواء کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو اس میں بھی افغانستان کا پاکستان پر بےبنیاد الزامات لگانا اور بغیر کسی تحقیقات کے اپنے سفیر کو واپس بلانا سب اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان پاکستان سے نفرت کی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ افغان حکومت بھارت سے اتنا متاثر ہے کہ جو حکم نئی دہلی سے کابل آتی ہے کابل اس کو اسطرح مانتا ہے جیسے افغان اسمبلی میں کوئی نئا قانون منظور ہوگیا ہو اسلئے پاکستان سے نفرت کی یہی حال ہے۔ بھارت اب تک افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے اب جب افغانستان میں افغان طالبان نے قبضہ کرنا شروع کردیا ہے تو یہ سب لوگ ڈر گئے ہیں کہ پاکستان کو کس طرح نقصان پہنچائیں گے اور کسطرح پاکستان کو اپنے قابو میں رکھیں گے جس کیلئے راء اور این ڈی ایس نے دن رات ایک کردی ہیں۔ اسلئے راء ایسے کام کررہے ہیں جس سے پاکستان بدنام ہوجائے اور افغان امن عمل کو ناکام ہوجائے۔ افغان سفیر کی بیٹی کی اغواء کا قصہ بھی بھارتی ایجنسی راء کا کام تھا۔ تحقیقات کی بعد یہ بات سامنے آئی تھی کی افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی اس سب ڈرامے کا مقصد پاکستان میں افغان امن عمل کیلئے ہونے والے کانفرنس کو روکنا۔

    افغان حکومت بھارت کی ہاتھوں کی کٹھ پتھلی بن چکی ہے جو ہر وہ کام کررہی ہے جو بھارت پاکستان کے خلاف کرنا چاہتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے بھارت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے گری لیسٹ میں رکھنا مودی حکومت کی کامیابی ہے جس کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کو فیٹف کے گری لیسٹ میں رکھا گیا ہے۔ جس سے اگر ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کچھ بھی کرسکتا ہے جس سے پاکستان عالمی دنیا میں بدنام ہوجائے تو دوسرے طرف یہ کہ فیٹف ایک خودمختار ادارہ نہیں ہے۔ پاکستان کو غیر مخفوظ ثابت کرنے کیلئے راء نے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کی اغوا کا ڈرامہ رچایا۔
    کچھ دن پہلے افغانستان کے حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف یہی پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ پاکستانی عوام نے چمن میں افغان طالبان کا سپین بولدک پاک افغان بارڈر قبضہ کرنے کی خوشی میں ریلی نکالی تھی جو ایک بےبنیا اور منگھڑت الزام تھا تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ لوگ پاکستانی نہیں تھے بلکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین تھے جو افغان طالبان سے محبت کرتے ہیں اور طالبان کو سپورٹ کرنے کیلئے کوئٹہ کے علاقے میں ریلی نکالی تھی۔

    @WaliKhan_TK

  • کامیابی اور محنت تحریر : ولید عاشق

    کامیابی اور محنت تحریر : ولید عاشق

    ‏‎‏کامیابی کا راز ہے خود پر یقین جس کی شروعات اللہ پر یقین سے ہوتی ہے۔
    کامیاب ہونے کا طلبگار تو ہر ایک ہے مگر ساٸنس کی ایجادات نے، انسانی زندگی میں بے شمار سہولیات پیدا کر دی ہیں، انسانی ترقی کا راز صرف اور صرف محنت میں ہی ہے۔یہ محنت کا ہی صلہ تھا جس کے ذریعے انسان نے کٸ ایجادات جیسے ریڈیو، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور نٸ ٹیکنالوجی وغیرہ دریافت کیں اس کے برعکس جو قومیں محنت و مشقت نہیں کرتیں وہ پسماندہ رہ جاتی ہیں۔
    کجھ وقت کی محنت ساری زندگی کو پر سکون بنا دیتی ہے اور محنت سے عاری شخص ساری زندگی آرام طلبی کی غرض سے دوسروں کے رحم وکرم پر ہی رہتا ہے اور زندگی بھر ذلت اور رسواٸی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا ہے۔سونا آگ میں جل کر کندن بنتا ہے اور کندن بننے سے پہلے سونے کے حصول کے لیے منوں مٹی کو کھودا جاتا ہے منوں مٹی کی کھوداٸی کے نتیجے میں قلیل مقدار میں سونا حاصل ہوتا ہے کھودی گٸ مٹی کو کٸ مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے تب کہیں سونے کا حصول ممکن ہوتا ہے منوں مٹی کھوداٸی کے باوجود نتاٸج حسبِ توقع نہیں حاصل ہوتے پھر بھی کانکنی کے دوران کسی بھی قسم کی نا امیدی کا شکار ہوۓ بغیر کھوداٸی کے کام کو نہایت انہماک سے انجام دیا جاتا ہے اور سونے جیسی دھات کے حصول کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بات قبلِ توجہ ہے کہ جب ہم سونے جیسی دھات کے لیے منوں مٹی کو بغیر کسی نا امیدی کے کھودتے ہیں تو بھلا اپنی شخصیت جو کہ دنیا کی تمام قیمتی اشیا ٕ سے نایاب اور انمول ہے اس کے حصول کے لیے کس طرح نا امیدی کا شکار ہو سکتے ہیں۔زندگی امید کے ساتھ چلتی ہے جو شخص پر امید رہتا ہے اور کوشش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اندھیرے چھٹ جاتے ہیں اور ہر طرف اجالا ہی اجالا نظر آتا ہے۔مستقبل کو درخشاں کرنے کے لیے حال کے چراغ میں محنت کا تیل ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔انسان قوی ارادوں کے ساتھ دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہاری ہوٸی بازی جیت سکتے ہیں ۔ہم اپنی صلاحيتوں کو بروۓکار لاتے ہوۓ کامیابی کی عظیم مثالیں قاٸم کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں صرف اپنے تساہل کو چھوڑنا پڑے گا۔

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • پانی کی قلت کیا ہے؟ تحریر:بختاورگیلانی

    پانی کی قلت کیا ہے؟ تحریر:بختاورگیلانی

    مقامی سطح پر اور عالمی سطح پر پانی کی قلت کی شدت پر زور دینے کے لئے ، عوام کو اس حیران کن اعدادوشمار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔  پوری دنیا میں ہر براعظم متاثر ہوتا ہے ، نہ صرف وہی خطے جو روایتی طور پر خشک ہیں۔  سال کے کم از کم ایک ماہ تک کم سے کم دو ارب افراد متاثر ہوتے ہیں۔  اور 1 بلین سے زیادہ افراد کو پینے کے صاف پانی یا پینے کے پانی تک رسائی نہیں ہے۔  یہاں ایک توسیع دی جارہی ہے کہ پانی کی قلت کیا ہے اور اس کے بغیر ہونے کا کیا مطلب ہے۔

    موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ضروری وسائل کی کمی ہے
    پانی کی قلت کو پانی کی قلت ، پانی کے تناؤ ، پانی کے بحران کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
    وسائل کی کمی کے علاوہ ، میٹھے پانی تک رسائی حاصل کرنے میں بھی دشواری ہے

    وسائل کی کمی اور پانی تک رسائی کی وجہ سے ، موجودہ وسائل میں مزید خرابی واقع ہوتی ہے

    خشک موسم کی صورتحال کی وجہ سے ، اور  کمی واقع ہوتی ہے

    خاص طور پر ، پانی کی قلت ان علاقوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو موجودہ غیر آباد پانی اس کی طلب سے کہیں کم ہے
    سب صحارا افریقہ جیسی جگہوں پر صاف پانی لوگوں کے لئے عیش و آرام کی طرح بن گیا ہے۔  زیادہ تر لوگ سارا دن اس کی تلاش میں گزارتے ہیں ، جو ان کی صلاحیت کو کچھ دوسری چیزوں میں ہاتھ کرنے کی کوشش کو محدود کردیتا ہے۔  سال 2025 تک ، صورتحال اس وقت مزید خراب ہوسکتی ہے جب دنیا کی دوتہائی آبادی کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ زمین کا تقریبا 70 70٪ حصہ پانی سے ڈوبا ہوا ہے۔  اس پانی کا صرف 2.5-3٪ ہی تازہ ہے۔  باقی پانی نمکین اور سمندر پر مبنی ہے۔  اس 3 فیصد میٹھے پانی میں سے ، اس میں سے دو تہائی گلیشیرز اور اسنوفیلڈز میں پھنس گیا ہے اور ہمارے استعمال کے لئے دستیاب نہیں ہے۔  اس میٹھے پانی کا باقی ایک تہائی حصہ انسانی استعمال اور اس سیارے پر پوری آبادی کو کھانا کھلانے کے لئے دستیاب ہے۔  اس کے نتیجے میں ، میٹھے پانی – پانی ہم پیتے ہیں ، نہانا نایاب ہے اور کرہ ارض کے تمام پانی کا ایک چھوٹا سا حصہ بنا دیتا ہے۔
    اس وقت تک پانی کی قلت کے عالمی مسئلے کو اجاگر کرنے اور اس پر بار بار زور دینے کی ضرورت ہے جب تک کہ ہر کوئی اس سے بخوبی واقف ہو اور ذمہ داری کے ساتھ پانی کی بچت کے لئے اپنا کردار ادا کرے ،

  • ‏والدین ایک خوبصورت رشتہ تحریر: ایمن رافع

    ‏والدین ایک خوبصورت رشتہ تحریر: ایمن رافع

    کہتے ہیں کہ ہر رشتہ اپنی جگہ انمول اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو گزرے وقت کے ساتھ مزید خوبصورت ہوجاتا ہے اسکی اہمیت ہم کو ایسے ہم ایسے بیان کر سکتے کہ انسان کو جب اپنی جگہ لگا ہوا دانت محسوس ہوتا ہے تب وہ اسکی اتنی قدر نہیں کرتا جتنا تب کرتا جب وہ اپنی جگہ چھوڑ جاتا ہے اور اسکی کمی کو وہ بار بار وہاں انگلی لگا کر محسوس کرتا ہے اور تصدیق بھی کہ وہ واقعی جگہ چھوڑ گیا یا ابھی کوئی امید ہے!!

    بلکل اسی طرح کچھ رشتوں کی ایسے ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ ہوتے اور پاس ہوتے تب انکی اہمیت کا اندازہ نہین ہوتا لیکن جب وہ خلا چھوڑ جاتے تو کوئی اور انکی وہ کمی کبھی پوری نہیں کر سکتا۔ ان میں ایک خوبصورت رشتہ والدین کا ہے۔ جب ہم چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں تو ہمارے لیے پریشان ہوتے ہیں انکو فکر ہوتی کہ ہمارے بچے اچھی تربیت کے حامل ہوں۔ لیکن جب بچے بڑے ہوتے ہیں اور ہوش سنبھالتے تو والدین کی بےجا سختی اور پابندی انکو پریشانی لگتی انکو جان کھا جانے جیسی لگتی۔ جن میں اسکول جاو، سپارہ پڑھنے جاو اگر بات مانو گے تو ہی ہر خواہش پوری ہوگی۔
    تب بچوں کو لگتا ہے کہ کوئی کام ہم اپنی مرضی سے کر بھی سکتے یا نہیں۔
    والدین اور بچوں کا تعلق بہت عجیب ہوتا۔ اپنی ہر پسند میں انکی مرضی شامل کرنا،ہر خوشی میں انکو سامنے کھڑے دیکھنا بلکل ایسے ہی جیسے کھیل کے آخری لمحات میں بیٹنگ اور اسی موقع پر انکی پکار۔۔۔

    نالائق ابھی تک مسجد نہیں گئے؟
    اور بچے آگے سے مسجد سامنے ہے چلا جاوگی۔۔

    لیکن جب یہ چلے جاتے ہیں تو انسان کی دنیا کو بلکل ویران کرجاتے، جب بچوں کو انکی پہلی کوئی خوشی ملتی تو سب سے پہلے والدین کا سوچتے کہ انکو بتائیں گے کہ آپکا نالائق بیٹا یا بیٹی بہت کام نکلے مگر جب انکو اپنے پاس نا ہونے کا جھٹکا لگتا ہے کہ”جن کو سچی خوشی ہونی تھی وہی اب ہمارے ساتھ نہیں”

    "ڈھونڈ ان کو اب چراغ رخ زیبا لے کر ”

    اسی وقت ہر خوشی منظر میں دکھ چھوڑ جاتی۔۔۔

    والدین کی ہر وہ بےجا سختی اور پابندی جو ہمیں اس وقت تنگ محسوس ہوتئ ہے اور غصہ دلاتی ہے دراصل وہ ان کا خلوص واخلاص ہوتا ہے جو نا صرف ہمیں نقصان سے بچاتا ہے بلکہ وہ ہمارے مستقبل کے لیئے پریشان ہوتے ہیں۔۔ اور ہم کو یہ بات تب سمجھ نہیں آتی جب اولاد خود اپنے بچوں کے سر پر جوتی لے کر کھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔

    اپنے والدین کا خیال رکھیں ، انکی قدر کریں، اور اپنے مصروف وقت میں سے ان کے لیے وقت نکالیں کیوں کہ ان جیسی عظیم ہستی کا کوئی نعم البدل نہیں۔۔

    ‎@DaughterOfSoil_