Baaghi TV

Category: متفرق

  • سڑک کے بیچوں بیچ سینکڑوں بندر آپس میں گتھم گتھا ، ویڈیو وائرل

    سڑک کے بیچوں بیچ سینکڑوں بندر آپس میں گتھم گتھا ، ویڈیو وائرل

    تھائی لینڈ میں کورونا کے باعث خوراک کی قلت ہے جس کے حصول کیلئے بندروں کے دو گروہ بیچ سڑک ایک دوسرے سے لڑ پڑے ۔

    باغی ٹی وی : العربیہ اردو کے مطابق دارالحکومت بنکاک سے تقریبا 100 کلو میٹر کے فاصلے پر بندروں کے دو گروہ خوراک کے حصول کیلئے گتھم گتھا ہو گئے


    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بندروں کا ایک گروہ سڑک کنارے خوراک کے حصول کیلئے پہلے سے موجود تھا جبکہ دوسرے گروہ نے اس پر دھاوا بول دیا ۔

    دوسری جانب برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کی رپورٹ کے مطابق خوراک کے حصول کے لیے بندروں کے دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کو خوب مارا پیٹا یہ سارا منظر ایک مصروف شاہراہ پر دیکھا گیا۔ بندر سڑک پر چلنے والی گاڑیوں سے بے نیاز ہو کرایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ بندروں کی لڑائی کے دوران لوگوں کو اپنی گاڑیاں روکنا پڑیں۔

    ڈیلی میل کے مطابق یہ بندر پھل اور خوراک کے حصول کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔ کرونا وبا کی وجہ سے تھائی لینڈ میں بندر بھی غذائی قلت کا سامنا کررہےہیں جبکہ بندر بھی اس مسئلے کا شکار ہیں ۔

    جس کے نتیجے میں ان کےدرمیان خوراک کے حصول کے لیے لڑائیاں ہونے لگی ہیں۔ بنکاک کے قریب خوراک کے حصول کے لیے بندروں کی لڑائی چار منٹ تک جاری رہی-

  • سال کے 365 دن میں سے 300 دن سونے والا شخص

    سال کے 365 دن میں سے 300 دن سونے والا شخص

    بھارتی ریاست راجستھان کے 42 سالہ پُرکھا رام سال کے 365 دن میں سے تقریباً 300 دن سوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پُرکھا رام کو ایسی انوکھی بیماری ہے جو ایک ارب لوگوں میں سے صرف ایک ہوتی ہے، یعنی اس وقت زیادہ سے زیادہ بھی ہوئے تو دنیا میں پُرکھا رام جیسے صرف 7 لوگ ہوں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پُرکھا رام کو 23 سال پہلے اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی جب وہ سونے کے لیے لیٹتے ہیں تو 20 سے 25 دن مسلسل سوتے رہتے ہیں اس دوران اُنہیں جگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

    اس مرض کی علامات میں شدید سر درد اور تھکان شامل ہیں یہ بنیادی طور پر ایک نفسیاتی بیماری ہے لیکن کچھ کیسز میں یہ دماغ میں رسولی ہونے یا چوٹ لگنے سے بھی ہو جاتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پُرکھا رام اور اُن کے گھر والے اس اُمید میں جی رہے ہیں کہ اس بیماری کا علاج دریافت ہوجائے اور اُن کی زندگی معمول پر آسکے۔

    جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا علاج تبھی ممکن ہے جب اس کی بنیادی وجہ معلوم ہو سکے۔

  • ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری
    ٹویٹر : @nabthedentist

    پچھلے کالم میں بچوں کے دودھ کے اور پکے دانت آنے اور ان سے جڑی بیماریوں پر سرسری بات کی تھی آج اس کالم میں بچوں کے دانتوں سے جڑے سب سے بڑے مسئلے یعنی ٹیڑھے دانتوں کو ڈسکس کیا جایئگا
    بچوں میں ٹیڑھے دانتوں کے آنے کی کئ وجوہات ھوسکتی ھیں جن میں کچھ پر والدین بے بس اور کچھ کو ٹھیک رکھنا والدین کے بس میں ھوتا ھے کافی ساری وجوہات میں سے کچھ یہاں رکھے دیتا ھوں
    1۔بچوں کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے یا انکی فیملیز میں کسی کے دانت ٹیڑھے ھونا
    2۔بچوں کا فیڈر یا انگوٹھا منہ میں زیادہ رکھنا اور اس سے تالو کو آگے کی طرف مستقل کھینچتے رھنا
    3۔جبڑے کا چھوٹا ھونا
    4۔نئے پکے دانتوں کا سائز نارمل سے زیادہ بڑا ھونا
    5۔یا دونوں چھوٹا جبڑا بڑے دانتوں کا ھونا
    6۔بچپن میں دودھ کے دانت کسی وجہ سے جلدی نکلوالینا

    الغرض متفرق وجوہات سے دانتوں کا ٹیرھا پن آجاتا اب دانت ٹیڑھے بھی کئ اقسام میں کئ اشکال میں ھوتے جب تک انکو جان نھیں لیتے بطور ڈینٹل سرجن انکا علاج کرنا اور بچے کی فیملیز کو سمجھانا انتہائ مشکل ھوجاتا
    1۔دانتوں کا باھر کی طرف نکلنا
    2۔دانتوں کا ٹھیک ھونا مگر جبڑے کی ھڈی کا باھر کی طرف ھونا
    3۔یا دونوں دانت بھی اور جبڑے کی ھڈی کا باھر ھونا
    4۔دانتوں کا اندر ھونا یا جبڑے کا کافی اندر ھونا یا دونوں کا ھی اندر ھونا
    5۔دانت ٹیڑھے آگے پیچھے اپنی جگہ پر ھی آنا
    6۔دانتوں کی ایک ھی جگہ crowding یعنی رش ڈال دینا
    ٹیڑھے دانتوں کا علاج جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا 11 سال کی عمر یا پھر اسوقت جب canine منہ میں نکلتے اسوقت کیا جاسکتا اس سے پہلے اگر دانتوں کو کسی حد تک ٹھیک رکھنا یا اپنی جگہ پر رکھنا چاہتے تو removable appliance لگا سکتے ٹیڑھے دانت عمر کے کسی حصے میں لگا سکتے میرے پاس کلینک میں 60 سال کے لوگ بھی آکر دانت سیدھے خرواکر جاچکے ٹیڑھے دانتوں کے علاج کے اسوقت کئ قسم کے علاج موجود ھیں
    1۔ کنزرویٹو آرتھوڈونٹک ٹریٹمنٹ یعنی Braces
    یہ علاج سب سے کامیاب 100 فیصد رزلٹ اور دیر پا ھے اس میں دانتوں پر سٹین لیس سٹیل بریکٹس اور تار لگائی جاتی اور قریبا سال دو سال یا کئ کیسز میں 4 -5 سال تک یہ تار لگائی جاتی ھے پہلے مہینے تین سے چار بار ڈینٹل کلینک پھر ھر ماہ ایک یا دو بار آنا پڑھتا ھے
    2۔کلر لیس آلائنر
    یہ طریقہ کار زیادہ تر پروفیشنل لوگوں میں لگائے جاتے جو دانت سیدھے ھوتا کسی کو دکھانا نھیں چاہتے کیونکہ یہ کلر لیس ھوتے تو لوگوں کی نظروں میں نھیں آتے انکا رزلٹ بھی سو فیصد ھوتا مگر یہ علاج کافی مہنگا اور رزلٹ کافی دیر سے حاصل ھوتا ھے

    ٹریٹمنٹ کے دوران ایک ڈینٹل سرجن لئے جو سب سے مشکل کام ھوتا وہ مریض کو اور اسکی فیملی کو یہ باور کرانا ھوتا کہ ان دانتوں کیلئے سپیس بنانی ھے اور اسکے لئے کم از کم 4 دانت دو اوپر والے اور دو نیچے والے نکالنے ھونگے
    اور ایکبار جب ٹریٹمنٹ ھوجائے تو سب سے اہم مرحلہ دانتوں کو اپنی جگہ قائم اور برقرار رکھنا ھے اسکے لئے ریٹینر لگائے جاتے جو مریض کو کم از کم تین ماہ سے ایک سال تک لگانے پڑتے
    کئ کیسز جن میں جبڑا شامل ھو وہ ان ٹریٹمنٹس سے ٹھیک نھیں ھوپاتا ایسے میں سرجریز کی ضرورت بھی پڑجاتی

  • اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ والد کے خلاف شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

    اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ والد کے خلاف شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

    چین میں 14 سالہ بچہ موبائل فون واپس لینے پر اپنے والد کے خلاف تھانے پہنچ گیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے صوبے انشوئی میں 14 سالہ بچہ والد کے خلاف تھانے پہنچ گیا اور شکایت درج کرائی کے والد بچوں سے مشقت لینے کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سے گھر کے کام کرواتے ہیں۔

    تھانے میں موجود افسر کو جب بات سمجھ نہیں آئی تو وہ بچے کو لے کر اس کے گھر پہنچ گئے اور بچے کے والد سے بات کی تو معلوم ہوا کہ بچہ ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہتا ہے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتا نہ ہی اپنی پڑھائی پر توجہ دیتا ہے۔

    پولیس اہلکار نے والد کو بچے پر زیادہ سختی کرنے سے منع کیا اور کہا کہ کچھ دیر کے لیے بچے سے موبائل لینے کا خیال خاصا بہتر ہے۔

    رپورٹ کے مطابق لوگوں نے اس لڑکے کو نافرمان قرار دیتے ہوئے اس کے والدین پر اعتراض کیا ہے کہ انہیں بچے کے بگڑنے سے پہلے ہی اسے سمجھانا چاہیے تھا لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر بچے نے بدتمیزی کی اور تھانے میں اپنے ہی والد کے خلاف شکایت کردی، تو اس میں بھی والدین کی اپنی لاپرواہی کا دخل ہے۔

  • صوبہ بلوچستان میں صاف پانی کے مسائل . تحریر: حمیداللہ شاہین

    صوبہ بلوچستان میں صاف پانی کے مسائل . تحریر: حمیداللہ شاہین

    کسی بھی انسان اور حیوان کے زندہ رہنے کے لئے پانی کی اہمیت کو نظراندازنہیں کیا جاسکتا، اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پانی ہماری زندگی کے لئے بہت اہم ہے اوراس کے بغیر کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ پانی زمین پر بہت زیادہ مقدارمیں ہے، دنیا 30٪ زمین اور 70٪ پانی سے محیط ہے۔ پھر بھی میٹھا پانی 3٪ کی بہت کم مقدارمیں ہے۔ انسانی استعمال کے لئے دستیاب میٹھے پانی کی مقدار صرف 0.01٪ ہے ، باقی پانی گلیشیراوربرف میں پابند ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایک ارب بیس کروڑ افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ میٹھے پانی کا معیاراورمقدار دونوں کم ہیں۔ مزید یہ کہ آبی آلودگی پانی سے متعلق سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ ہے۔ یہ ایک وسیع مسئلہ ہے جو ہماری صحت کو خراب کررہا ہے۔ غیرمحفوظ پانی ہر سال دنیا بھر میں ہزاروں افراد کی جان لیتا ہے۔ آبی وسائل غیرمستحکم طریقے سے استعمال ہورہے ہیں اور یہ بھی آلودہ ہورہے ہیں۔ پانی کی آلودگی اس وقت ہوتی ہے جب نقصان دہ مادے، اکثرکیمیائی مادے آبی ذخائرکو آلودہ کرتے ہیں اوراسے انسانوں اورماحولیات کے لئے زہریلا دیتے ہیں۔

    اس تناظرمیں بلوچستان کو بھی پانی سے وابستہ بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ صوبے کے بیشتر مقامات پر معیار کی خرابی کی وجہ سے لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس میں دھول کے ذرات، خطرناک آلودگی اور مائکروجنزم کی موجودگی کی وجہ سے پانی سے وابستہ بیماریوں کا خدشہ ہوتا ہے۔ انسانی سرگرمی بنیادی طور پر سطح اور زمینی آلودگی دونوں کے لئے ذمہ دار ہے۔

    صوبے میں پانی کی آلودگی کے سب سے اہم وسائل یہ ہیں:
    ناقص سیوریج نظام ، زہریلے کیمیکلز اور صنعتوں اور اسپتالوں سے آبی گندوں کو ضائع کرنا، ٹھوس فضلہ کی ناقص تلفی، ناقص صفائی اور انتظام ، زراعت اور سطح کا بہاو، بعض اوقات بار بار سیلاب آتا ہے۔ فضلہ گندگی نہ صرف سطحی پانی بلکہ زمینی پانی کے معیار پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ ، یہ مادے زیرزمین پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور اسے غیر محفوظ اور انسانی استعمال کے لئے نا مناسب بنا دیتے ہیں۔

    مزید برآں ، صوبے میں زیادہ تر عوامی پانی ہینڈ پمپ اور پائپڈ نیٹ ورک کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔ متعدد عوامل جیسے کراس کنکشن ، ٹوٹی پھوٹی یا لیک پائپ، خراب شدہ نظام، پانی کی ناجائز فراہمی کی وجہ سے، تقسیم کے نظام میں پانی آلودہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ مقرر کردہ پانی کے معیار کے پیرامیٹرز کی خلاف ورزی اکثر کی جاتی ہے اورشہری علاقوں میں پینے کے پانی کی تقسیم ڈبلیو ایچ او کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔ پینے کے پانی میں مختلف آلودگی پھیلانے والوں میں، مائکروبیل آلودگی صوبے میں صحت عامہ کے لئے سب سے سنگین خطرہ ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے اکٹھا کرکے متعدد قسم کی تحقیق کی گئی ہے۔ جس نے پینے کے پانی میں ضرورت سے زیادہ مائکروبیل آلودگی ظاہر کی ہے جس کی اجازت NEQS کی طرف سے مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے۔

    پورے صوبے میں پانی سے متعلق یہ پریشانی ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے ، اور صوبے کے رہائشیوں کو صحت کے سنگین مسائل درپیش ہیں خصوصا غریب افراد کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال اس کی موت ہوجاتی ہے اور پانی کے خراب معیار کے سبب ہزاروں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ آلودہ پانی کے ساتھ رابطے میں آنے پر اسہال ، ٹائیفائیڈ ، ہیپاٹائٹس، معدے کی بیماریوں، پھیپھڑوں کی بیماریوں، گلے کی بیماریوں، پولیو امیلائٹس، آنتوں کے کیڑے اورجلد میں انفیکشن ہونے کے سب سے عام مسائل ہیں۔

    کچھ علاقوں میں، کلورینیشن (ٹریٹمنٹ پلانٹس اورصفائی ستھرائی کے نظاموں میں پینے کے پانی کو صاف کرنے کے لئے ایک مشہور طریقہ)، ابلتے ہوئے پانی، فلٹریشن کا استعمال پانی کی جراثیم کشی کے لئے ہوتا ہے۔ تاہم یہ کافی نہیں ہے اور صرف شہری علاقوں تک ہی محدود ہے کیونکہ لوگوں نے پانی کی صفائی کے لئے یہ عمل بہت کم کیا ہے۔ بدقسمتی سے عوام میں شعور کی کمی کی وجہ سے لوگ گھریلو پانی کے علاج معالجے جیسے کلورینیشن، شمسی ڈس انفیکشن، ابلتے اور گھریلو چھوٹے سائز کے فلٹرزپرعمل نہیں کرتے ہیں۔

    اگرچہ قومی پینے کے پانی کی پالیسی (NDWP) 2009 اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ (PEPA) 1997 کو متعارف کرایا گیا ہے، لیکن ان کا نفاذ قریب صفر ہے۔ پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایکٹ کے سیکشن نمبر11 میں ، یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی طرح کے نالے یا کوڑے کو خارج نہیں کرے گا یا اس مقدار میں جو NEQS کی سطح سے بالاتر ہے۔ تاہم ماحولیاتی قوانین کا کمزور نفاذ پانی کے بڑھتے ہوئے آلودگی کے لئے ذمہ دار ہے۔ مزید برآں بیداری کا فقدان، ناقص نگرانی، انتظام، ناکافی بجٹ مختص، علاج کی کمی، فلٹریشن اورڈس انفیکشن کے طریقوں، ذمہ دار حکام کے مابین ہم آہنگی کا فقدان بلوچستان اور مجموعی طور پر پاکستان میں ماحولیاتی قوانین اور ضوابط کے نفاذ میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔

    لہذا پینے کا پانی رنگ، گندگی، بدبو اور جرثوموں سے پاک ہونا چاہئے۔ یہ جمالیاتی لحاظ سے خوشگوار اور پینے کے لئے محفوظ ہونا چاہئے۔ پینے کے پانی کی تقسیم کے نظام کے علاج اور بحالی کے لئے پینے کے پانی کے معیار کے معیار کو مستقل طور پر قائم کیا جانا چاہئے۔ واٹر اینڈ سیینیٹیشن ایجنسی (واسا) کو نجی اداروں کی مدد سے آبی وسائل کے تحفظ اور آلودگی کو اس کے ماخذ سے کنٹرول کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنا چاہئے۔ حکومت پانی کے علاج کے لئے پینے کے صاف پانی کے علاج کے پلانٹ لگائے۔ زہریلے پیتھوجینز کو مارنے کے لئے قانون اورقواعد و ضوابط کے مطابق پانی کی تقسیم کے نظام اورکلورینیشن کی مناسب دیکھ بھال کی جانی چاہئے۔

    حکومت ماحولیاتی قوانین اور ضوابط کو نافذ کرکے سخت کارروائی کرے۔ نیز اگر کسی کو بھی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا ہے تو کسی کو بھاری جرمانے اور قید کی سزا دی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ اس چھلکے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لئے فعال شرکت کی ضرورت ہے۔ فضلہ کی مناسب تلفی ، گند نکاسی کا مناسب نظام، گندے پانی کا علاج، کم سے کم زرعی اور سطح کا بہاو، مناسب صفائی اور انتظام وغیرہ کی ضرورت ہے۔ ماحولیات کو آلودگی سے پاک بنانے کے لئے سرکاری شعبے کے ساتھ مقامی لوگوں کے تعاون اور شرکت کی ضرورت ہے۔

    پانی زندگی ہے۔ اور ہمیں آبی ذخیروں کو آلودہ کرکے اپنی زندگی کو نہیں مارنا چاہئے بلکہ ہمیں پانی کی حفاظت کرکے اپنے آنے والے نسلوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔

    @iHUSB

  • نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق . تحریر: نوید شیخ

    نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ایک ایک کرکے اس سفاک قاتل ظاہر جعفر کے اردگرد کے لوگ اب سامنے آرہے ہیں اور جو انکشافات ہورہے ہیں ۔ اس کے مطابق کوئی شک نہیں ہے کہ ظاہر جعفر ایک وحشی ، بے غیرت اور ظالم انسان ہے ۔

    ۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ ظاہر جعفر کے قریبی دوست اس کے اس مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ظاہر جعفر نے اپنے بھائی حمزہ پر بھی ایک بار گلف اسٹک سے حملہ آور ہو چکا ہے ۔ پھر یہ شخص اپنی ماں پر بھی تشدد کر چکا ہے ۔ برطانیہ میں بھی ایک لڑکی پر تشدد کر چکا ہے جس کے نتیجے میں یہ برطانیہ سے نکالا گیا ۔ ۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ شراب نوشی کی لت میں مبتلا ہے ۔ اور یہ شخص اتنی شراب نوشی کرتا تھا کہ ہوش کھو بیٹھتا تھا ۔ ۔ اس شخص کی شخصیت ایسی تھی کہ یہ گندے لوگوں میں رہا کرتا تھا ۔ اس کے دوست بھی اسی قماش کے تھے ۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نور مقدم کی دوست ہیں زہرا ۔۔۔ کو بھی سفاک قاتل گندے میسج کرتا تھا ۔

    ۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو مختلف لوگ اپنے وی لاگز اور صحافی ٹویٹ کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مجھے کسی نیت پر شک نہیں ہے ۔ مگر میرا ماننا یہ ہے کہ یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ وہ پاگل ہے ۔ تو ان تمام صحافیوں کو میں یہ کہوں گا کہ جانے انجانے میں ان سے غلطی ہو رہی ہے ۔ ان کو سمجھنا چاہیئے کہ ظاہر جعفر کے دوست اور ماں باپ جو اب بہت صاف ستھرے اور معصوم بن رہے ہیں یہ جان بوجھ کر ایسی چیزیں سامنے لارہے ہیں کہ ظاہر جعفر کو جب عدالت میں کیس چلے تو ریلیف ملے ۔ حالانکہ یہ open and shutکیس ہے کہ ایک معصوم بچی تشدد ہوتا ہے وہ بے دردی سے قتل کر دی جاتی ہے ۔ اور موقع واردات سے مجرم ، قاتل پکڑا جاتا ہے ۔ ساتھ ہی آلہ قتل بھی برآمد ہوجاتا ہیں ۔ پھر بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ پولیس کس چیز کا انتظار کررہی ہے ۔ اور یہ ہی بات نور مقدم کے دوست اور باقی لوگوں کے ذہن میں بھی ہے ۔ کہ اگرچہ پولیس نے ملزمان کو گرفتار تو کر لیا لیکن وہ اسے سزا دینے میں تاخیر کر رہے ہیں۔۔ اس روز روز کے ریمانڈ سے کیا ہو گا؟ جب تمام شواہد موجود ہیں تو اس کے خلاف مقدمہ چلائیں تاکہ اسے جلد سے جلد سزا ہو۔۔ یہ بھی اہم چیز ہے کہ پولیس نے ابھی تک دہشتگردی کا مقدمہ اس گھناونے شخص کے خلاف درج نہیں کیا ہے ۔ حالانکہ معاشرے میں جو اس سے دہشت کی فضا قائم ہوئی ہے ۔ یہ ہونا چاہیے تھا ۔

    ۔ پھر یہ چیز بھی اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ جب ظاہر جعفر کو پولیس عدالت لے کر جا رہی تھی تو پولیس والا کہہ رہا تھا کہ بڑا معصوم بچہ ہے ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پولیس کو اس کے خاندان نے کوئی چمک تو نہیں دیکھا دی ہے جو پولیس والے اس سفاک قاتل معصوم بچہ کہہ رہے ہیں ۔ ساتھ ہی جب یہ عدالت میں لایا گیا تو یہ بالکل ٹھیک اور نارمل دیکھائی دیا ۔ کیا پولیس کسی قاتل کے ساتھ ایسا رویہ رکھتی ہے ۔ آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں یہاں تو چھوٹے چھوٹے کیسوں میں پولیس ملزم کی کھال اتار کر رکھ دیتی ہے ۔ تو پھر اس کیس میں کیوں اتنا رحم اور اچھے الفاظ کا چناؤ پولیس کو یاد آرہا ہے ۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن عطا الرحمان ہی بہتر بتا سکتے ہیں ۔ کیا کہیں اس کیس کو جان بوجھ کر تو نہیں آہستہ آہستہ آگے بڑھایا جا رہے کہ فائدہ ظاہر جعفر کو ملے سکے ۔ اور لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو بھول جائیں ۔

    ۔ ابھی اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ظاہر جعفر کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ وڈیو میں شادی کی ایک تقریب میں ملزم باری باری لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ پولیس اس ویڈیو کے ذریعے ملزم کے دوستوں کے اس گروپ سے سے رابطے کی کوشش کرے گی۔ جس سے ملزم کے 27 سالہ نور مقدم کا سفاکانہ انداز میں سر تن سے جدا کرنے کا پس منظر سامنے آ سکے گا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ پولیس تو گونگوں سے بھی چیزیں اگلوا لیتی ہے ۔ مجرم ان کے ہاتھ میں اس سے انوسٹی گیشن نہیں کی جا رہی ہے ۔ بلکہ چیزوں کو گول گول گھمایا جا رہا ہے ۔

    ۔ پھر پولیس نے ملزم کا بیرون ممالک انگلینڈ اور امریکہ سے بھی کرمینل ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے متعلقہ اداروں سے رابطے کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ اچھی چیز ہے ۔ پر کیا آپ کو نہیں معلوم کہ یہ تفصیلات آنے میں کتنے دن لگیں گے۔ حالانکہ نور مقدم کے وکیل آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ نور کے خاندان پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ معاملات کو کورٹ سے باہر
    settle کرلیا جائے ۔ یعنی دیت اور قصاص کے تحت ۔ تو ہماری پولیس کو ذرا اپنے ہاتھ پاؤں تیزی سے چلانے چاہیں ۔ اور اس سفاک قاتل ظاہر جعفر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے ۔ اوراس قاتل سے بالکل وہ ہی سلوک کرنا چاہیئے جس کا یہ حق دار ہے ۔ یہ نہیں کہ یہ امیر ، انگریزی بولتا ہے تو ہم اس کو معصوم بچہ کہیں ۔ یہ سفاک قاتل ہے جس نے ساری واردات پوری پلاننگ سے کی ہے ۔ کیونکہ 19 جولائی کو اسکا ٹکٹ تھا امریکہ جانے کا اور یہ ایئر پورٹ گیا بھی وہاں سے یہ واپس آیا اور اگلے دن نور کا قتل کر دیا ۔ ملزم کے گھر سے اس کا پاسپورٹ اور بیرون ملک جانے کے لیے لیا جانے والا ٹکٹ بھی بازیاب ہوا ہے۔

    ۔ دوسری جانب ملزم ظاہر جعفر کے والد نے گرفتاری کے بعد کہا ہے کہ وہ نور کے والد کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور وہ ان سے درخواست کریں گے۔ کہ یہ ایک بہت ہی گھناؤنا جرم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ انصاف ہو۔

    ۔ بڑی اچھی بات کی ہے مگر یہ ان کو اب کیوں یاد آئی ہے ۔ دراصل ابا جی اب پکڑے گئے ہیں تو بول رہے ہیں ہمیں پتہ نہیں تھا ماں باپ کو ان کا بیٹا کس قسم کا ، کس قماش کا اور کس کردار کا حامل ہے ۔ حالانکہ اس واقعہ کے دوران بھی گھر کے ملازم باربار کال کرکے بتا رہے تھے ۔ کہ ان کا بیٹا کیا کر رہا ہے ۔ کاش ان معصوم والدین کو اس وقت خیال آیا ہوتا اور یہ اپنے ملازمین کو حکم دیتے کہ بیٹے کو پکڑ کر ذبردستی کسی کمرے میں بند کردیتے ۔ قابو کر لیتے ۔ لڑکی کو کسی طرح گھر سے باہر نکل دیتے ۔ بھاگا دیتے ۔
    ظاہرجعفر اس گھر میں اکیلا تھا اور ملازم چار تھے اور ظاہر کوئی عثمان مرزا جیسا بہت موٹا تازہ بھی نہیں ۔ چار ملازم باآسانی اس کو قابو کر سکتے تھے ۔

    ۔ دوسرا میرا یہ پوائنٹ ہے کہ ظاہر جعفر کی ماں کو جب پتہ چل گیا تھا تو اس نے پولیس کو بلانے کی بجائے کسی اور کو کیوں بلایا ۔ اگر ظاہر جعفر کی ماں نے ہی بروقت پولیس کو اطلاع دی ہوتی اس معصوم بچی کی جان بچ سکتی تھی ۔ کیونکہ اگر ظاہر جعفر کی نشوں کی لت اور باقی تمام ہسٹری کو صحیح مان بھی لیا جائے۔ تو پھر تو یہ چیز ذہن میں آتی ہے کہ ماں باپ کو بالکل معلوم تھا کہ ان کا بیٹا کس حد تک گر سکتا ہے اور کیا کر سکتا ہے ۔ اس لیے میری نظر میں ظاہر جعفر کی ماں باپ بھی کم مجرم نہیں ہیں جو انھوں نے انتظار کیا کہ ایک معصوم پھول کو کچل دیا جائے ۔ ۔ کیونکہ نور دو دن سے ظاہر جعفر کے حس بے بجا میں تھی ۔ اس نے بھاگنے کی بھی کوشش کی ۔ یہ بات بھی ملازموں نے ماں باپ کو بتائی ۔ پھر ان ماں باپ کے دل میں رحم نہیں آیا کہ ان کا بیٹا کسی کی بیٹی کے ساتھ کیا ظلم اور زیادتی کر رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ دیکھیں جب نور مقدم اور ظاہر جعفر کے مشترکہ دوست نور کو بچانے کے لیے ظاہر جعفر کے گھر پہنچے تو نوکروں نے ان کو گھر میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ ۔ اس کیس میں اگر ملازمین ہی پولیس کو بروقت اطلاع دے دیتے تو قتل روکا جا سکتا تھا۔

    ۔ یہ سب اب بڑے معصوم بن رہے ہیں چاہے ظاہر جعفر کے ماں باپ ہوں ، ملازمین ہوں یا ظاہر کے دوست ۔ پر سچ یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے پولیس کو نہیں بتایا کہ اندر کیا ہو رہا ہے ۔ دیکھا جائے تو ہمسایوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پھر پولیس پہنچی ۔ یعنی نہ ملازمین ، نہ ظاہر جعفر کے ماں باپ ، نہ ہی اس کے دوست حالانکہ ماں باپ اور ملازمین کو پل پل کا پتہ تھا کہ اندر کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ ظاہر جعفر کے ماں باپ ، ملازمین ، دوست اب سب اپنے آپ کو بہت پاک صاف اور جو معصوم ثابت کر رہے ہیں ۔ میری نظر میں یہ بھی اس گھناونے واردات کاحصہ ہیں کیونکہ یہ چپ رہے ۔ دیکھتے رہے ۔ سنتے رہے ۔ اور قتل ہونے دیا ۔

  • ہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، اور دنیا و آخرت میں ہمارا مُقام .تحریر: امان الرحمٰن

    ہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، اور دنیا و آخرت میں ہمارا مُقام .تحریر: امان الرحمٰن

    ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے ہر پلیٹ فارم پہ ڈٹ کر دشمن کے ہر طرح کہ پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا ہے اور آخر دم تک کرتے رہیں گے
    میرے پیارے ہم وطن ساتھیو ہمیں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بیشک آج ہمارا کوئی نام نہیں، پہچان نہیں لیکن تاریخ آپ کو ہی یاد رکھے گی، آپ کو اپنے بھی یاد رکھیں گے اور آپ کو دشمن بھی یاد رکھے گا. ہمیشہ آپ کو ہی یاد رکھا جائے گا. دشمن کے اربوں نہیں کھربوں ڈالر خاک میں ملانے والو پاک وطن کے عظیم مجاہدو آپ کو تاریخ ضرور بالضرور یاد رکھے گی. اور جب جب

    جب گمنام سپاہیوں کا ذکر ہوگا جب دشمن کی پراکسی وارز کا ذکر ہوگا، جب فوج کی پشت پہ قوم کے کھڑے ہونے کی بات کی جائے گی. جب آپ کا دشمن کہے گا کہ ہم پاک فوج کا مورال نہیں گرا پائے، جب کہا جائے گا کہ دشمن نے کھربوں ڈالر لگا دئیے مگر پاکستان کو توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے. جو خود بھی لڑتے رہے اور اپنی قوم کو بھی تربیت دیتے رہے، جب جب دشمن نے چُھپ کر پاکستان کے خلاف کوئی جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تب تب پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نےدن دیکھا نہ رات اور دشمن کا دندان شکن جواب دیا اورہر بار سُرخرو ہُوے.

    جب کہا جائے گا کہ موساد، را، این ڈی ایس، سی آئی اے، ایم آئی سکس اور ایسی سینکڑوں خفیہ ایجنسیوں کے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہزاروں آئی ٹی سیلز پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد بھی شکست اُن کا مُقدر بنی تو اُنہیں شکست دینے والے یہی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تھے جو دُشمن کے طاقتور میڈیا سیلز کو چند سو کے انٹرنیٹ پیکجز اور ٹُوٹے پُھوٹے موبائل رکھنے والے چند لوگوں نے شکست دی. جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے اِن کے سامنے اپنی شِکست اور بے بسی کا اعتراف کیا.

    تاریخ سنہری حروف میں لکھے گی کہ جب سوشل میڈیا کے وار سے دنیا کے کئی ممالک کئی طاقتیں ڈھیر ہوئیں وہیں پاکستان میں کچھ ایسے بھی سر پھرے تھے جو سارا دن فارغ، ویلے اور اللہ جانے کیا کیا طعنے سن کر خاموشی سے دشمنوں کو ناکام کرتے ہوئے پاکستان کو خانہ جنگی سے بچا گئے. ایک طرف سیاسی منافرت تو دوسری طرف مذہبی تفرقے، صوبائی تعصب، قومیت پرستی، غرض جہاں دُشمن نے داؤ کھیلا یہ ففتھ جنریشن وارئیرز وہاں وہاں موجود رہے.

    تاریخ یار رکھے گی آپ کو آپ کی نسلیں یاد رکھیں گی آپ کو، کیا ہوا جو ہم گُمنام ہیں، کیا ہُوا جو ہمیں سرکاری ہستیوں کی ملاقاتیں نہیں ملیں، کیا ہُوا کہ ہمیں پہچان نہیں ملی خُدا کی قسم آج پاکستان دُشمن کی چالوں سے جیسے نِکل رہا ہے یہی آپ کا کام آپ کی پہنچان ہے. اِس کا بدلہ اِس کا نام اِس کی پہچان دنیا میں نہیں مگر اِن شاءاللہ اِن شاءاللہ مجھے میرے ربّ کی رحمت سے اُمید ہے کہ وہ ذات ہمیں آخرت میں اِس کا بہترین بدلہ اور ایک بہترین پہچان دے گا جب اِن شاءاللہ تحریکِ پاکستان کے شہیدوں، غازیوں، گُمنام سپاہیوں کے سامنے ہم سر اُٹھا کر آئیں گے، لہٰذا ہمیشہ پاکستان کہ مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے رہیں جُھوٹے پروپیگنڈے سے نہ تو گھبرانا ہے نہ ہی خوفزدہ ہونا ہے یہ ہائبرڈ وار فیئر جہاں انسان کی سوچ پر ضرب لگاتی ہے وہیں ہمارے عصاب بھی شل ہو جاتے ہیں تو اپنے عصاب پر یقین کے ساتھ جم کر جُھوٹ کا مقابلہ اپنے سچ سے کرنا ہے اور سچ کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی، ہاں یہ ضرور ہے کہ جُھوٹ وقتی اثر رکھتا ہے مگر جب جُھوٹ کے خلاف ہم سچ نہیں بولیں گے سچ نہیں لکھیں گے تو دُشمن کے جُھوٹ کو تقویت ملے گی مگر یہ وقتی ہی رہے گی، ہمیں سچ لکھنا ہے اور سچ نے ہی غالب آنا ہے اِن شاء اللہ.

    میں سلام پیش کرتا ہوں سوشل میڈیا پہ اسلام اور وطن عزیز کا دفاع کرنے والے تمام ففتھ جنریشن وارئیرز کو، چاہے وہ لکھاری ہوں، کاپی پیسٹرز ہوں، گرافکس ڈیزائنرز ہوں، ہیکرز ہوں یا رپورٹرز آپ سب اِس پاک وطن کا فخر ہیں اِس لیے یہ بحث چھوڑ کر ہمیں اپنے کام پہ توجہ دینی چاہیے اللہ پاک ہم تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو اور ہمارے سرحدوں پر موجود مُحافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین ثُم آمین
    جزاک اللہ خیرا” کثیرا
    پاکستان پائندہ باد
    @A2Khizar

  • پاک افغان تعلقات .  تحریر: ارم چوھدری

    پاک افغان تعلقات . تحریر: ارم چوھدری

    جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایسے ہی ہے جیسے تیز نوکیلی تلواروں کی چھاؤں میں بیٹھا معصوم ہرن کا سہما ہوا
    بچہ ایک طرف افغانستان کی جانب سےڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے عمل میں روز ہمارے فوجی جوانوں کی شہادتیں اور دوسری طرف بھارت کا جنگی جنون ہمہ وقت پاکستان کو حالت جنگ میں رکھتا بات اگر افغانستان کی کی جائے توپاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیا کے دو اہم ہمسایہ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک تاریخی لحاظ سے جغرافی،لسانی اور نسلیتی بلکہ مذہبی وابستگی بھی رکھتے ہیں دیکھا جائے تو
    افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہت عرصے سے کچھ زیادہ ٹھیک نہیں چل رہے.

    اسکی سب سے بڑی دو وجوہات ہیں پہلی یہ کہ کابل یہ دعوٰی کرتا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور وہ علاقے جہاں پشتون آباد ہیں بشمول خیبر پختونخوا،قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کا ایک بہت بڑا حصہ وہ افغانستان کا حصہ ہے
    اور اس دماغی فتور کے لئے افغانستان نے کئی تحریکیں بھی چلائیں جس میں PTM سر فہرست ہے لیکن پاکستان اور بلوچستان کی غیور عوام نے نہ صرف اس تعصب زدہ تحریک کو بلکہ اس کے چلانے والوں کو بھی مسترد کردیا.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کی بحالی کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ پاکستان اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس کے لیے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی کوششیں نا قابل فراموش ہیں
    افغانستان میں امن کے لئے طالبان کے ساتھ اتحادی حکومت لازمی ہے اور یہ بات انڈیا کو کھٹکتی ہے کیوں کہ انڈیا کبھی نہیں چاہتا کہ خطے میں امن و امان قائم ہو اور اسکی غنڈا گردی بند ہو جائے اس ضمن میں وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے جس سے امن تباہ ہو
    اور ماحول کشیدگی کی طرف جائے.

    ایسے میں جب امریکہ کی تاریخی ہار ہوئی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے امریکہ نے دو دہائیوں تک با حثیت سپر پاور افغانستان میں جنگ کر کے دیکھ لیا بالآخر ہار اسکا مقدر ٹھہری موجودہ افغان صدر اشرف غنی جو امریکہ کی زبان بولتا اور اس کے اشاروں پر چلتا ہے اس کے لیے اپنا اقتدار قائم رکھنا مشکل ہو گیا کیونکہ طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ماسوائے چند علاقوں کے اور بہت جلد طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے افغان عوام طالبان کا ساتھ دے رہی ہے کیوں کہ وہ محکوم قوم کے طور پر رہنا پسند نہیں کرتے. اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے عمران خان نے آج سے پندرہ سال پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں حکومت اور امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذکرات بہت ضروری ہیں.

    میرے خیال سے پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسیاں اس وقت تک تبدیل نہیں ہوں گی، جب تک پاکستان کو یہ گارنٹی نہ مل جائے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی
    اور اس کے لیے سب اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں انڈیا کی دخل اندازی بند ہو.

    حالیہ دنوں میں انڈیا نے اپنے سفارت خانے سے عملہ واپس لانے کے لئے فضائیہ کے جہازوں میں عملہ کی بجائے بھاری مقدار میں بارود بھر کے بھیجا اور اس کی یہ مکروہ سازش بے نقاب ہو گئی طالبان نے ویڈیو جاری کی اور ساری دنیا کے سامنے انڈیا کی حقیقت واضح ہو گئی انڈیا در حقیقت امریکہ کے کہنے پر اشرف غنی کی دم توڑتی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی یہ کوشش کامیاب کرنے میں اشرف غنی نے افغان امن کانفرنس کو ملتوی کر دیا جس میں طالبان کے وفد کی قیادت بھی مدعو تھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے.

    گزشتہ 15سالوں میں پاکستان میں دہشتگردی سے 70 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے اور کسی بھی ملک نے پرائی جنگ میں اتنی زیادہ قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان نے ہمسایہ ہونے کے ناطے دی ہیں اسی زمر میں پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آیندہ بھی کرتا رہے گا پاکستان ہمیشہ امن چاہتا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا انشاء اللہ اُمید ہے افغانستان میں اتحادی حکومت کا قیام اور خطے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے لیکن کوئی بھی بات قبل از وقت ہے آنے والے دنوں میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور افغان طالبان کس حد تک اپنی پالیسیز میں نرمی پیدا کر کے عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

    @IrumWarraich4

  • پردیس کی زندگی .  تحریر: فوزیہ چوہدری

    پردیس کی زندگی . تحریر: فوزیہ چوہدری

    پردیس میں اجڑے ہوئے پھرتے ہیں بیچارے کہتے تھے وہاں امیروں میں رہیں گے بات اگر کی جائے تو پردیس کی تو کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پردیس میں رہنے والے لوگ بڑی عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے پردیس کی زندگی جتنی دردناک ہے یہ کوئی پردیس میں رہنے والا ہی محسوس کر سکتا ہے کہ وہ کس طرح سے رہتے ہیں وہاں میری تو سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ اگر میں پردیس میں ہوتی تو کیسے زندہ رہ پاتی اپنوں کے بنا رونا آ تا ہے جب یہ سوچتی ہوں کہ وہ لڑکے جو پاکستان اپنے گھر میں اتنے نازوں سے پلے ہوتے ہیں کہ شائد کبھی پانی کا گلاس بھی خود نہیں لیتے ہوں گے تو پردیس میں وہ بیچارے کبھی تو بنا چائے پانی پیے اور ناشتہ کئے گھر سے نکل جاتے ہوں گے کام کے لیے کہ کہیں دیر سے جانے پر نوکری نہ چلی جائے اور پھر لنچ ٹائم میں ساتھ لایا ہوا باسی کھانا وہ بھی بنا گرم کئے ایک گھنٹے کے بریک ٹائم میں انہوں نے کھانا بھی کھانا ہے نماز بھی پڑھنی ہو آ رام بھی کرنا ہوتا ہے پھر ڈیوٹی سے واپس آ کر خود ہی اپنے لئے کھانا بنانا اور زہن میں یہ خیال ضرور آ تا ہو گا کہ اگر میں گھر ہوتا تو ماں کو آ واز دیتا گھر آتے ہی اور بہن پانی کا گلاس لاتی اور کھانا لاتی۔

    پردیس میں رہنے والے اگربیمار ہوجائیں تو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا انہیں خود ہی سب کرنا پڑتا ہے رابطہ اگر ماں سے ہو بھائی سے ہو بہن سے ہو اور وہ حال پوچھیں تو ایسا محسوس کرواتے ہیں جیسے پرسکون جنت میں رہ رہیں ہیں کوئی پریشانی نہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ پردیس میں رہنے والے اپنوں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں یہاں تک کے وہ اپنے گھر والوں کی روٹی پوری کرنے کے اپنی ایک وقت کی روٹی تک قربان کر دیتے ہیں۔ پردیس میں رہنے والوں کو اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ باہر جا کر اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو بھول گیا ہے تو ایسی پریشانی سے بھری ہوئی زندگی میں وہ خود کو بھول جاتے ہیں تو کسی دوسرے کو کیسے یاد کریں گے۔ پردیس سے واپسی پر انکو کیا ملتا ہے بگڑی ہوئی اولاد، بوڑھی بیوی اور یہ بات کہ آ پ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟ سیونگز کچھ بھی نہیں.

    میرا سلام ہے ہر اس پردیس میں رہنے والے کو جو اپنی فیملی کو اچھی زندگی دینے کے لئے ان سے ہی دور ہو کہ بیٹھا ہے

    @iam_FoziaCh

  • انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    پاکستان کی براعظم افریقہ کی جانب معاشی سفارت کاری

    پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم کلیدی حصے کے طور پر براعظم افریقہ کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے لئے "انگیج افریقہ ” پالیسی کا تصور کیا ہے ” وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

    قیام پاکستان سے ہی پاکستان نوآبادیاتی نظام اور امپیریلزم کے خلاف افریقی ممالک جیساکہ مراکش, زیمبیا, اریٹیریا کی جدوجہد کی موثر آواز رہا. براعظم افریقہ کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات ایک اہم سنگ میل ہے. نومبر 2019 سے جنوری 2020 تک پاکستان بحریہ کی جہازوں پی این ایس اصلت اور مومن نے 8 افریقی ممالک مراکش, کینیا, تنزانیہ, گھانا, نائجیریا, جنوبی افریقہ اور سچلیز کی بندرگاہوں کا کامیاب دورہ کیا. اور اسی عرصہ میں سوڈان اور جبوتی کا بھی کامیاب دورہ کیا گیا. ان دوروں میں پاکستانی عوام کی جانب سے افریقی ممالک کی عوام کے لیے خوراک, فری میڈیکل کیمپوں کے ذریعے علاج کی سہولت اور تکنیکی امداد فراہم کی گئ.
    پاکستان افریقی ممالک کی ترقی کے لئے پرعزم ہے.30 جنوری 2020 کو پاکستان کی جانب سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں دو روزہ پاکستان – افریقہ ٹریڈ کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں 100 پاکستانی کمپنیوں سمیت 20 افریقی ممالک سینیگال, مصر, مراکش کے 200 وفود نے شرکت کی. حکومت کی کوشش سے پاک-افریقہ تجارتی حجم 2019 میں باوجود کورونا وباء کے 4.6 ارب ڈالر کو چھو گیا جو 2013-2016 کے درمیان 3 ارب ڈالر رہا تھا.افریقی ممالک جیسا کہ نائجیریا کے نوجوانوں کو پاکستان کی اعلی علمی درسگاہوں تک رسائی پاکستان کی تعلیم کے فروغ کے لئے عالمی کوششوں کو تقویت ملتی ہے. اس کے علاوہ پاکستان مصر, سوڈان اور نائجیریا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فوجی میدان تک وسعت دے رہا ہے. لیبیا میں دیر پا قیام امن کی خاطر پاکستان کی کوششیں موثر اور یقینی ہے. ایگنج افریقہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے. برسوں سے براعظم افریقہ کے ممالک داخلی اور خارجی انتشار کا شکار ہیں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن مشن کی صورت میں امن کے قیام کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں.

    بغیرمعاشی اورسیاسی تعاون کے فروغ کے تعلقات قائم تو رہ سکتے ہیں لیکن موثر اور تعمیری نہیں ہو سکتے.

    @DanialFarooqi27