Baaghi TV

Category: متفرق

  • خطے میں امن کیلئے پاکستان  کی کوششیں . تحریر: محمد اختر

    خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششیں . تحریر: محمد اختر

    اس بات سے ہر کوئی آشنا ہے کہ بھارت ا فغان سر زمین استعمال کر کے پاکستا ن کے خلاف ہائبرڈ جنگ میں ملوث ہے۔افغانستان میں بیس برس بیٹھ کر بھارت نے پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی کوششیں کیں۔کبھی داعش کے دہشت گردوں کی مالی مدد کر کے انہیں پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے بھیجا گیا تو کبھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان قائم کر کے اس میں دنیا بھر سے انتہا پسندوں کو اکھٹا کر کے ان کی مالی معاونت کی جاتی اور انہیں پاکستان میں بد امنی پھیلانے کا ہدف دیا جاتا تھا۔جب پاکستان نے تحریک طالبان کو کا لعدم قرار دیا، تو بھارت نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا کہ انہیں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں پناہ دی۔اب بھی چھ سے سات ہزار کے قریب دہشت گرد جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے، وہ بھارتی خفیہ ایجنسی (را) کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔پاکستان نے عالمی برادری کو دہشت گردوں کو (را) کی فندنگ کے ثبوت فراہم کئے لیکن عالمی برادری نے بھی اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی۔چندہفتے قبل لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے پیچھے بھی (را) موجود تھی۔شواہد کے باوجود عالمی برادری نے بھارت کی مذمت تک نہیں کی۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے چند دنوں میں ملک کے طول و عرض پر قبضہ کر لیا ہے۔ حتی کہ پاکستان،چین،ایران ازبکستان اور روس کے ساتھ ملنے والی افغان سرحدوں پر بھی طالبان نے اپنی رٹ قائم کر دی ہے۔ جس کے بعد بھارت نے بندر کی طرح بھاگ دوڑ شروع کر دی ہے۔کبھی ایک ملک کے پاوًں پڑتا ہے، تو کبھی دوسرے ملک کے تلوے چاٹتا ہے کیونکہ بھار ت کو نہ صرف افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے بلکہ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لیے اسے جو سہولت میسر تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہے۔پاک افغان سرحد کے قریب بھارت کے ایکسو پچاس کے قریب قونصل خانے تھے، اس نے جہاں دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی تھی۔لیکن افغان طالبان کے کنٹرول کے بعد نہ صرف بھارتی سازشیں دم توڑ گئی ہیں بلکہ اس کے پروردہ دہشت گرد بھی اب دم دبا کر بھاگ رہیں ہیں۔بھارت ایک طرف تو افغان طالبان کے ساتھ رابطے استوار کرنے کے لئے تگ ودو کر رہا ہے۔دوسری طرف بھارتی سفیر جے شنکر نے روس اور ایران کے ہنگامی دورے کر کے جلال آباد اور قندھار کے قونصلیٹ کی تالہ بندی پر اظہار تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدد طلب کی ہے۔اس کے علاوہ جب بھارت اپنے سفارتی عملے کو یہاں سے نکالنے کے لئے آیاتو جہازوں میں اسلحہ لاکر افغان حکومت کو دیا۔جس کا مقصد افغانستان میں امن وامان کو تہہ وبالا کرنا تھا۔گزشتہ ہفتہ بھارت میں غنی حکومت کے سفیر فرید مامونزائی نے کہا ہے؛کہ افغان انٹرا مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں طالبان پر بمباری کے لئے بھارتی فضائیہ کی ضرورت پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ؛ بھارتی فضائیہ کی مدد سے طالبان کو شکست دینا ہوگی۔باقی ملکوں کی طرح بھارت بھی اگر خطے میں امن کا خواہاں ہوتا تو وہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دیتا۔ماضی کی غلطیوں کی تلافی لیتا لیکن ہندوستان حقیقت میں
    امن کا حامی نہیں۔

    وہ اب بھی فاتح کے بجائے شکست خورہ عناصر کو تھپکی دینے سے باز نہیں آ رہا۔بھارت کی کوشش ہے کہ وہ ایران شمالی اتحاد ہزارہ تاجک اور ازبک سمیت دیگر قبائل سے ہاتھ ملا کر افغانستان میں فرقہ ورانہ بنیاد پر قتل و غارت شروع کروائے۔ اس صورت میں بھارت کے ساتھ ہزار کے قریب دہشت گردوں اور باقی مفادات کا تحفظ ہوسکتا ہے۔بصورت دیگر امریکا کی طرح بھارت کو بھی بوریا بسترہ گول کر کے وہاں سے کوچ کرنا ہوگا۔طالبان نے گزشتہ ہفتے سپین بولدک کا کنٹرول سنبھالا تو افغان انٹیلیجنس ایجنسی کے دفتر سے تین ارب روپے کی پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی۔اس رقم کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں تخریبی کارو ائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو بطور معاوضہ ادا کی جانی تھی۔کیونکہ ماضی میں دہشت گردوں کو ہمیشہ یہی سے پیسہ بھیجا جاتا تھا۔پاک افغان بارڈر پر غنی حکومت کے لئے سب سے بڑا دھچکا ہے کیونکہ یہاں سے یومیہ نوسو سے ہزار مال بردار ٹرک اور ٹینکر گزرتے تھے جبکہ ساٹھ سے ستر ہزار افراد کی امدورفت بھی ہو تی تھی۔اس کے علاوہ نیٹو فورسز کی بڑے پیمانے پر سپلائی بھی یہاں سے ہوتی تھی۔اس بارڈر پر طالبان کے قبضے سے کابل حکومت کی معاشی تدفین کا بھی آغا ز ہو چکا ہے۔یہاں سے اب روزانہ کی بنیاد پر طالبان ریونیو حاصل کریں گے بلکہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بھی قائم کریں گے۔ پاکستان مستقبل قریب میں افغانستان کے لیے ایک امن کانفرس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔امید ہے کہ اس کے اچھے نتائج بر آمد ہونگے۔افغان طالبان تمام ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے میں کوشاں ہیں۔برطانیہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر طالبان نے افغانستان میں حکومت بنائی تو ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔برطانوی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ؛عالمی برادری کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ لہذا اشرف غنی بھی طالبان سے مل کر ملکی استحکام کے لئے کام کریں تاکہ خطے میں امن کی فضا قائم ہو سکے۔

    @MAkhter_

  • پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا . تحریر : محمّد جاوید

    پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا . تحریر : محمّد جاوید

    پاکستان کا اٹم بم اس وقت دنیا اکثر ممالک کو کھٹک رہا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے اس وقت تمام مسلم ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جو کسی کے بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے۔ اٹم بم بنانا کوئی آسان کام نہیں پاکستان کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بہت سارے نشیب وفراز دیکھنے کو ملے پھر جاکر پاکستان اٹمی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

    یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا ہر طریقے سے پاکستان کے اوپر پریشر ڈالنے کی کوشش کی گئی کبھی معاشی پابندیوں کی صورت میں تو کبھی سیاسی دباؤ ڈال کر مگر پاکستان نے کبھی ہمت نہیں ہارا البتہ تاخیر ضرور ہوئی مگر اخیر کار 28 مئی 1998 کو پانچ دھماکے کرکے دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا۔ اور پاکستان دنیا کے ان چند ممالک کے صف میں شامل ہوا جن کے پاس اٹمی قوت ہے ۔ پاکستان کو اس مقام پہ پہنچنے کے لئے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا آج میں اپنے کالم میں روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا کیونکہ اس ناقدری قوم میں بہت ساروں کو معلوم ہی نہیں کہ اٹمی طاقت حاصل کرنے میں کتنی محنت لگی تھی۔
    پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا عندیہ دیا اور سنہ 1953 میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ پہ دستخط کیا کہ امریکہ صنعتی اور پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال اور ری ایکٹر کی تعمیر میں پاکستان کی مدد کرے گا۔

    اس کے بعد پاکستان نے اٹامک انرجی کمیشن کا بنیاد رکھا۔ اب پاکستان کے سامنے یورینیم کو حاصل کرنا تھا۔ 1963میں باقاعدہ طور پر کمیشن بنا کر یورينيم کی تلاش شروع کی پس قدرت بھی پاکستان پہ مہربان ہوئی اور پاکستان نے اخیر کار ڈیرہ غازی خان کے مقام پہ یورینیم کے ذخائر دریافت کیے اور پھر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اس کو نکالنا شروع کیا۔ 

    بھارت کے اٹمی پروگرام کا علم پاکستانی اداروں کو 1965 میں ہی ہوا تھا پھر پاکستان نے اپنی بقا کے لئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش تیز کر دی۔پھر جب پاکستان نے انڈین مداخلت اور "ادھر ہم ادھر تم” والے نعرہ کی وجہ سے 1971 میں جب مشرقی حصہ کھو دیا تب اداروں کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ اگر بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو ہر صورت اٹم بم بنانا ہوگا چاغی کے پہاڑں کے دامن میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ سائنسدانوں کے گروپ نے یہ نعرہ بلند کیا تھا۔”گھاس کھائیں گے، ایٹم بم بنائیں گے”
    بعد میں اس نعرے کو کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ منسلق کیا گیا۔ پھر بھٹو نے بھی گھاس کھائنگے والا نعرے کا ساتھ دے دیا اور اس طرح تیزی سے پاکستان نے کوشش شروع کی۔

    پاکستان نے اپنا پہلا نیو کلیر ريكٹر کینیڈا کی مدد سے 1972 میں لگایا تھا ۔ 1974 میں کسی پریشر کی وجہ سے کینڈا نے مدد کرنے سے انکار کیا اور 1974 میں ہی انڈیا نے ايٹمی تجربہ کیا تو پاکستان کے لے اب ایٹمی طاقت حاصل کرنا ناگزیر ہوگیا تھا ۔ پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ذمداری سونپی گئی پھر ہوا یوں سنہ 1979 امریکہ نے پاکستان کی امداد معطل کر دی اور موقف اپنایا کہ اب پاکستان کا ايٹمی پروگرام پرامن نہیں رہا۔

    پھر جب روس نے افغانستان کے اوپر حملہ کیا تو امریکہ کو پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی اور پاکستان کی امداد کو پھر سے بحال کیا اور ساری پابندیاں ہٹا دی پھر سویت یونین کو شکست ملی اور امریکہ سپر پاور بنا تو ایک بار پھر پاکستان کے اوپر پابندیاں لگا دی۔ پاکستان نے ان پابندیوں کے باوجود ايٹمی پروگرام جاری رکھا اور جب
    بھارت نے سنہ 1996 میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے والے پرتھوی میزائل کا تجربہ کیا۔ پھر 1998 کو جب بھارت نے یکے بعد ديگر دو دھماکے کئے پہلا 11 میں اور دوسرا 13مئی کو تب انڈیا کا لہجہ تبدیل ہوگیا اور پاکستان کو دھمکانا شروع کیا تب پاکستان کے اندر سے تمام حلقوں کی جانب سے آوازیں انی شروع ہوئی کہ بھارت کو جواب دینا چاے۔

    اس وقت پاکستان نازک صورتحال سے گزر رہا تھا پاکستان کے اوپر بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس وقت کی وزیر اعظم نواز شریف دھماکے کرنے کے حق میں نہیں تھے مگر فوجی قیادت نے ٹھان لی تھی کہ بھارت کو ہر صورت جواب دینا ہے اب یہ جواب ناگزیر ہوچکا ہے۔
    تب چاغی کے پہاڑوں کو دھماکے کے لیے چنا گیا اور اخیر کار 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایک ساتھ سات دھماکے کر کے دنیا کو یہ بتا دیا کہ اب پاکستان ایک ايٹمی پاور بن گیا ہے اور پاکستان کا دفاع اب بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے اب کوئی پاکستان کو میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور اسطرح پاکستان نہ صرف ساتویں بڑی ایٹمی قوت بنا بلکہ پہلا اسلامی ملک بھی بن گیا جیس کے پاس ايٹمی پاور ہے۔
    ہر سال پاکستان میں 28 مئی کو "یوم تکبیر” کے طور پر منایا جاتا ہے۔
    اور اسی طرح 1953 سے شروع ہونے والی یہ اٹم بم کی داستان بلا اخیر 28 مئی 1998 کو کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔
    ہمیں ان تمام لوگوں پہ فخر ہے جن کی انتھک محنت کی وجہ سے آج ہم دشمن اور دنیا کے سامنے اپنا سر فخر سے اٹھاتے ہیں ۔
    پاکستان زندہ آباد♥

    @I_MJawed

  • امریکہ افغانستان جنگ . تحریر : علیہ ملک

    امریکہ افغانستان جنگ . تحریر : علیہ ملک

    افغانستان سے امریکی فوج کے خلاء کے بعد طالبان کی پیش قدمی تیز ترہوگئی طالبان کے کمانڈر کے مطابق افغانستان کے 85فیصد حصے میں طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اسی پیش قدمی کو جاری رکھتے ہوئے افغان طالبان نے افغان فورسسز سے دو ماہ کیلئے مشروط جنگ بندی کی آفر بھی کردی اور اس میں سب سے پہلی شرط چھ سو سے زائد طالبان کی رہائی اور دوسری اہم شرط طالبان کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکالنا شامل ہے۔

    افغان فورسسز اور افغان حکومت اس وقت صوبائی عمارتوں تک محدود ہو کے رہ گئی ہے۔ ایک ایجنسی کی خبر کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ کو روک دیں ترکی کے صدر کے اس بیان کو پاکستان کی عوام نے اچھا نہیں جانا کیونکہ پاکستان میں اکثریتی عوام اسلامی نظام کا نفاظ چاہتی ہے یہ سمجھتی ہے کہ افغان طالبان کی جنگ نفاظ اسلام کی جنگ ہے۔
    اس جنگ میں امریکہ کا کودنا اور پھر کم و پیش بیس سال کے لگ بگ افغانستان میں طالبان سے جنگ جاری رکھنا اور پھر شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی فوج واپس لے جانا عالم اسلام بالخصوص افغان طالبان اس کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن امریکہ کا ایک یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ہماری جنگ کا مقصد طالبان کو شکست دینا نہیں تھا بلکہ ہمارے اپنے کچھ مقاصد تھے جو حاصل کر لئے گئے ہیں
    اس لئے امریکی فوج کی واپسی ہوئی۔ اب امریکہ کے اس بیان میں کتنی صداقت ہے اور کیا واقعی وہ ایک مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے جنگ کر رہا تھا ؟ یہ جاننے کیلئے مناسب وقت کا انتظار باقی ہے۔

    @KHT_786

  • باغی ٹی وی . تحریر : محمد طلحہ

    باغی ٹی وی مستند، غیر جانبدار، عوامی حلقوں میں مقبول ایک محبِ وطن چینل ہے، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ملک کے حق میں جو بھی آواز اٹھی ہے، اسکوہرموقع پرسراہا ہے. ویسے تو بیسوں چینل ملک میں اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں، ملک کا نام روشن کررہے ہیں، ملک کے وسیع ترمفاد میں بہت سے چینل پاکستان کے لیے اچھا کام کررہے ہیں، پاکستان کا مثبت پہلواُجاگرکرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے مسائل کے ادارک کے لیے حتی الامکان کوشش کررہے ہیں، لیکن جس قدراورجس طرح باغی ٹی وی پاکستانیوں کے لیے آواز بنا ہوا ہے پاکستانیت کو پرموٹ کررہا ہے، پاکستان کا مثبت چہرا دنیا کے سامنے اجاگرکررہا ہے اسکی مثال آپ ہے.

    اس مشکل وقت میں جب ٹوئٹرکی طرف سے ویری فائیڈ کا آپشن آن کیا گیا ہے، اسکے لیے آپکا کسی بھی نشریاتی یا پھر صفحاتی ادارے کے ساتھ منسلک ہونا لازمی قراردیا گیا ہے، اس کے لیے لوگ جوق درباغی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہوتے جارہے ہیں، لوگ غول کی طرح باغی ٹی وی سے اپنی تحریریں شائع کروارہے ہیں، اس کے لیے باغی وی کا کرداراہم ہے.

    مؤرخ اگرتاریخ دہرائے گا یا پھراپنے قیمتی صفحات میں تاریخ کے چند صحافتی پہلواجاگرکرے گا تو یقیناً باغی ٹی وی کا اس میں نام سرفہرست آئے گا، باغی ٹی وی نے عام آدمی کی آوازکومؤثراندازمیں اجاگرکرکے اس عام انسان کا قد بڑھایا ہے. جس طرح تحریریں لکھنے کا جزبہ مانند پڑتا جارہا تھا لوگ سیل فون میں مصروف ہوگئے تھے، نِت نئے کارنامے انجام دے رہے تھے، ایسے میں باغی ٹی وی نے حقیقی طورپرلوگوں میں تحریریں لکھنے کا جزبہ پیدا کیا ہے، لوگ ایک سے بڑھ کرایک تحریرکواپنے اندازمیں اپنے الفاظ میں پرو کر پڑھنے والوں کو محوکررہے ہیں.

    یقیناً اس میں باغی ٹی وی کا کرداراہم ہے، لکھنے کے جذبے کو مانند پڑنے سے بچانے کے لیے باغی ٹی وی جس طرح کام کررہا ہے لوگوں کے درمیان شوق پیدا کررہا ہے وہ یقیناً قابلِ تحسین اورقابلِ ستائش ہے، عام آدمی کو خوشی ہے کہ کوئی تو مستند چینل ہے جو ہماری آواز ہمارے الفاظوں کو تحریروں میں سمو کر لوگوں تک پہنچا رہا ہے.

    میں ذاتی طورپراس خیال سے ہم آہنگ ہوں کہ لوگ دن بدن آئے روز نئی سے نئی تحریریں باغی ٹی وی پرشائع کروارہے ہیں تاکہ انکی آواز مؤثراندازمیں لوگوں تک پہنچ پائے، میں ذاتی طورپرکچھ عرصہ ایک صفحاتی ادارے میں کالم لکھتا رہا ہوں میرا چونکہ تعلق زیادہ ترلکھنے سے ہے، بغدادیّ کا خیالی سے اقتباس کے نام سے میں کئ تحریروں کو لکھ چکا ہوں، مٔجھے جب اپنے جذبے کی جانچ پڑتال کرنا پڑی تومجھے اپنا جذبہ لکھنے کے حوالے سے مانند پڑتا ہوا نظرآرہا تھا، ایسے میں باغی ٹی وی کی طرف سے دلچسپی دیکھتے ہوئے مٔجھے بھی لکھنا پڑا تاکہ میں اپنے لکھنے کے جذبے کو تروتازہ رکھ سکوں.

    آخر میں میری باغی ٹی وی کے لیے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگرچہ باغی ٹی وی ایک اصول پسند ادارہ ہے ہرادارے کے اصول و ضوابط ہوتے ہیں، أنکے اصول و ضوابط اور قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تحریریں لکھیں تاکہ آپکی لکھی ہوئی ہربات میں وزن ہو، عوام پڑھے تودلچسپی ظاہرہو، ایسا نہ ہو کہ آپکی تحریرکو شرفِ قبولیت میسرنہ ہو، عوام ورق کو آگے پلٹیں اورچلے جائیں.

    وہ شعر ہے ابنِ جہان کا کہ
    ‏‎اگرتحریر کو شرفِ قبولیت نہیں
    بخشنی تو بتا دیں ہم أردو سرائے
    سے کٔوچ کر جائیں

    @Talha0fficial1

  • اوورسیسز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ . تحریر : عثمان چوہدری

    اوورسیسز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ . تحریر : عثمان چوہدری

    اورسیز پاکستانی ہر مشکل گھڑی پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہيں اس کی تازہ مٽال گزشتہ تين سالوں جب ملک کو انتہائی معاشی چلنجز کا سامنا تھا تو اورسیز پاکستانیوں نے وزيراعظم عمران خان کی کال پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ چاہے ریکارڈ ترسیلات زر ہو ، روشن ڈیجٹل اکاونٹ اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ہو اورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی انوسٹمنٹ کر کے ملک کو ڈیفلٹ ہونے سے بچایا، گزشتہ تین سالوں میں ملکی معیشت کو جیسے اورسیز پاکستانیوں نے سہارہ دیا ہے اسکی ماضی میں مثال نہی ملتی ،
    حکومت اور سٹیٹ بینک کے اورسیز کارکنوں کی سہولت کے لئے شروع کیے گئے مختلف اقدامات کی وجہ سے کوڈ 19 وبائی امراض میں درپیش چیلنجوں کے باوجود مثبت نتائج آنا شروع ہو گے ہیں۰

    سٹیٹ بنک اوف پاکستان کے مطابق اس سال 2020-2021 میں پاکستان کو تاریخ کی ریکارڈ ترسیلات زر 29.4 ارب ڈالر وصول ہوی ہیں ۰
    اورسیز پاکستانیوں نے سال 2019-2020 میں ریکارڈ 23.13 بلین ڈالر کی ترسیلات زر بیھجی تھی۰یاد رہے اس سال پا کستان کو گزشتہ سالوں کی ترسیلات زر کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ وصول ہوٸ ہیں. پاکستان کو ترسیلات زر کا تقریبأ 60 فیصد خليجی ممالک اور 40فیصد امریکہ ، برطانیہ ، یورپ اور دیگر ملکوں کے اورسيز پاکستانيوں سے وصول ہوتا ہے ۔

    اورسيزپاکستانی ہمیشہ سے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعہ ملکی معاشی ترقی میں اہم حصہ رہے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات کرنا ضروری سمجتا ہوں سابقہ ​​تمام حکومتوں نے اورسیز پاکستانیوں کو ان کی شراکت کے لئے مختلف مراعات سے نوازنے کا وعدہ کیا تھا
    لیکن کسی نے بھی ان وعدوں کوتکميل تک نہیں پہنچایا جتنا وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں موجودہ حکومت نے کوشش کی ہے۔ جس کی وجہ سےاورسیز پاکستانی پہلے کے مقابلے اب زیادہ پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں۰

    @iusmanchoudhry

  • برین ڈرین اور پاکستان . تحریر : صالح ساحل

    برین ڈرین اور پاکستان . تحریر : صالح ساحل

    کسی بھی ملک کی افرادی قوت یا دوسرے لفظوں میں ہنر یافتہ لوگوں کا روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ملک کو چھوڑ کر چلے جانے کو برین ڈرین کہتے ہیں کسی بھی ملک کا سرمایہ اس کے ہنر یافتہ نوجوان ہوتے ہیں پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں جوان سب سے زیادہ ہیں مگر اس کے ساتھ بد نصیب بھی کیوں کے پاکستان کے ہنر یافتہ نوجوان یہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ان میں سے سب سے بڑی تعداد ڈاکٹروں کی ہے ایک ڈاکٹر پر ریاست لاکھوں روپے لگتی ہے اور کیا ہی بد قسمتی ہے کے وہ باہر چلا جاتا ہے اس کے بعد انجینر حتی کے الیکڑیشن تک یہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہیں اور ریاست ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی دیکھ رہی ہے اور اس میں ان نوجوان کا کیا قصور جب کسی کو یہ لگے کے نا اس کا یہاں مستقبل ہے کبھی سوچا ہے کے ہماری ریاست ہمارے ٹیکس کے پیسے سے ان کو ہنر دیتی ہے اور وہ اپنے اس ہنر کو باہر جا کر دوسروں کو دیتے ہیں ایک تو ریاست کے پاس وسائل نہیں اوپر سے سونے پر سہاگا کے یہ نظام اتنا گٹھیا اور بدبودار ہو چکا ہے کے جہاں ایک شریف اور ایماندار شخص کا کام کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے ایسے میں کوئ پاگل ہی ہو گا جو یہ کام کرے گا اپنے قیمتی ذہن ہم کھو رہے ہیں پھر ہم روتے ہیں کے ہم ہر چیز میں مغرب سے پیچھے ہیں ایسا نا ہو کے ہمارے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے اس پر سوچنا شروع کرو.

    @painandsmile334

  • افغانستان میں امن ۔ تحریر :‌ سید احد علی

    افغانستان میں امن ۔ تحریر :‌ سید احد علی

    افغانستان اک عرصہ سے جنگ کا شکار ہے اور یہی وجہ ہےکہ افغانستان کی معاشی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کی وجہ سے روپیہ پیسہ اور کاروبار کی اتنی قلت ہے کہ چالیس سے پینتالیس ہزارلوگوں نے غیرملکوں میں پناہ لی ہوئی ہے. افغانستان میں زندگی اتنی غیرمحفوظ ہے کہ ہر آۓ دن دھماکے اور بہت سے دیگر حادثات پیش آرہے ہوتے ہیں. اس پر سب سے بڑا ہاتھ انڈیا کا جو اپنی خفیاں ایجنسی کے زریعے ٹرینینگ دے رہی ہے جو وہاں پر دھماکے کرتے ہیں اور بعد میں اس کا سارا الزام طالبان پر لگا دیتے ہیں۔ انڈیا اس خطے میں بد امنی پھیلا رہا ہے انڈیا اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئے گا عالمی برادری کو چاہیے کے اس مسئلے کو در گزر نہ کریں بلکہ سنجیدہ لیں کیا وہاں انسان نہیں رہتے جو اتنی تکلیف دی جا رہی ہے.

    ان میں بہت سے معصوم بچے ہوتے ہیں جو ان بم دھماکو ں میں مارے جاتے ہیں ان بچوں کا کیا قصور اور ان معصوم لوگوں کا کیا قصور جو وہاں زندگی گزارنے کے لیے اپنی جان قربان کر رہے ہیں اور ہم انکے لئے افسوس کہ علاوہ کچھ اور نہیں کر پا تے انڈیا جو اوقات میں رہنا چاہیے اسکے لئیے کچھ ایسا کریں کہ وہاں کے لوگوں کے لیے بھی زندگی آسان ہو ، اور وہ سکون کی سانس لے سکیں، جتنی بھی عالمی برادری ہے اسکو انڈیا کے اس غیرسنجیدہ رویے پرغوروخوض کرنا چاہیے تاکہ جو بھی مسا ئل ہیں اس سے خطہ بچ سکے، اگر اس مسئلے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو ورلڈ وارتھری ہوسکتی ہے۔

    @S_Ali_9

  • کے الیکٹرک کراچی کو چمٹی جھونک . تحریر : احمد خان

    کے الیکٹرک کراچی کو چمٹی جھونک . تحریر : احمد خان

    کراچی کو اتنا بارشوں کے پانی نے نہیں ڈبوایا جتنا کے الیکٹرک نے ڈبویا ہے۔ کراچی کو بجلی سپلائی کرنے کا ذمہ دار یہ دارہ کراچی کو چمٹی ہوئی جھونک سے کم نہیں۔
    اس کی تباہی کا آغاز پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا۔ بے نظیر بھٹو نے اس کی نجکاری شروع کی اور مشرف دور تک پہنچتے پہنچتے اس کے 76 فیصد شیر بیچ دئیے گئے۔ مشرف دور میں ایک عرب کمپنی نے اس کے اکثر شیر 1600 ارب روپے میں خرید لیے۔
    اس کے بعد آیا کرپشن کنگ آصف زرداری جس نے حاتم طائی کی قبر کو لات مارتے ہوئے اس عرب کمپنی کو سال 2009ء میں 1300 ارب روپے واپس کر دئیے۔ ان میں سے خود زرداری کو کتنے واپس ملے ہونگے اس کا اندازہ خود کیجیے۔
    یوں سمجھ لیں کہ اس کمپنی کو پورا کے الیکٹرک صرف 300 ارب روپے میں مل گیا۔ لیکن بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی۔
    مذکورہ کمپنی نے کے الیکٹرک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ اس کے 1200 کلومیٹر لمبے تانبے کے تار ہٹا کر سستے ایلومینیم کے تار لگا دئیے۔ جو تانبا ہٹایا گیا اور لاکھوں ٹن وزنی تھا۔

    اس تانبے کی قیمت ایک اندازے کے مطابق 750 ارب روپے تھی۔ پھر وہ تار اچانک "غائب” بھی ہوگئے۔ اندر کی خبر یہ ہےکہ وہ تانبا اس عرب کمپنی کے ساتھ ملکر زرداری اور فریال تالتپور نے بیچ دیا اور 750 ارب روپے ہڑپ کر گئے۔
    کراچی کے تار چوری کر کے اس عرب کمپنی کو کے الیکٹرک تقریباً مفت میں مل گیا۔ اس واردات کے بعد زرداری کو متحدہ ارب امارات اور دبئی میں سینکڑوں ایکڑ زمینیں ملیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو دبئی حکومت اور عربوں کی بھرپور سپورٹ بھی ملنے لگی۔
    آپ نوٹ کیجیے زرداری ہمیشہ دبئی بھاگتا تھا اور وہیں اس کی پارٹی میٹنگز بھی ہوتی تھیں۔
    ایلومینیم کے تار لگانے کا کراچی کو بہت نقصان ہوا۔ ان سستے اور جلدی پگھل جانے والے تاروں کی وجہ سے کم از کم چار سے پانچ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ضروری ہے ورنہ تار پگھل سکتے ہیں۔ خاص طور پر گرمیوں میں۔
    یہ تار مسلسل گرم ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں بجلی کے لیے مزاحمت کی وجہ سے یہ ہر دو تین منٹ بعد میٹر کو تگنی رفتار سے گھما دیتے ہیں جسکی وجہ سے عوام کو کمر توڑ بجلی کے بل موصول ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے کے الیکٹرک سالانہ 30 تا 35 ارب روپے کما رہی ہے۔ یہ زہن میں رہے کہ ان کی انویسٹمنٹ پیسے واپس ملنے اور تانبا بیچنے کے بعد زیرو سے کچھ زیادہ ہوگی۔
    تانبا ایلومینیم سے 3 گنا مہنگا ہے۔ وہی تانبا اب اگر دوبارہ خریدنا پڑگیا تو کم از کم 2500 ارب روپے میں پڑے گا۔ یہ رقم پاکستان کے پاس کہیں سے نہیں آسکتی۔

    آپ کو بتاتے چلیں کہ جو 1300 ارب کمپنی کو واپس کیے گئے یا جو 750 ارب کا تانبا چوری کیا گیا ان میں ایک بڑا ڈیم آرام سے بن سکتا ہے جو دو روپے فی یونٹ بجلی کے علاوہ پانی بھی دیتا ہے۔ کے الیکٹرک سے دگنی بجلی بنا کر دیتا۔
    کے الیکٹرک 18 سے 20 روپے فی یونٹ بنا رہا ہے۔
    اس سارے معاملے کے خلاف ہماری دنیا میں 122 ویں نمبر پر آنے والی سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی گئی لیکن آفرین ہے ہماری عدلیہ پر جو اس قسم کے معاملات میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں لیتی۔ الٹا جن کے خلاف شکایت کی جاتی ہے ان کو سٹے آرڈر دے دیا جاتا ہے۔
    یہ ساری وجوہات ہیں جو کراچی میں تباہ کن لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور بجلی کی عدم دستیابی ہی پانی کی قلت بھی پیدا کرتی ہے۔

    یہ صرف ایک مثال ہے آئی پی پیز کی لوٹ مار کی۔ پاکستان میں بجلی بنانے والے نجی ادارے پاکستان کی معیشت کو چمٹی ہوئی خون آشام جھونکیں ہیں۔ یہ جھونکیں جب تک ہم اکھاڑ کر پھینک نہیں دیتے ہماری معیشت نہیں سنبھل سکتیں۔

    @iamAhmadokz

  • یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر : قاسم ظہیر

    یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر : قاسم ظہیر

    امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد جیسا کہ توقع کی جارہی تھی ویسا ہی ہوا. طالبان نے اس کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے قابل کا رخ کرلیا.اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کا اعلان کر دیا.افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اب دکھائی دے رہا ہے کہ یہ بات اب زیادہ دور تک جانے والی نہیں.
    جو بات یہاں سب سے زیادہ قابل غور ہے وہ یہ افغان فوج بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال رہی ہے.جس پر ناقدین آپ کو بٹے ہوئے نظر آئیں گے کچھ کے نزدیک یہ کسی سازش کا پیش خیمہ ہے اور کچھ کے نزدیک یہ لوگوں کا طالبان پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے.طالبان کے سامنے کسی مزاحمت کا مظاہرہ نہ کرنا امریکی تربیت یافتہ افغان فوج پر سوالیہ نشان ہے.
    کابل حکومت کی بے بسی دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب زیادہ دیر نہیں جب طالبان اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے. لیکن اس بات کو بھی اسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بیرونی طاقتیں طالبان کو حکومت میں نہیں دیکھنا چاہتی.
    پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان کو یہی کوشش کرنی چاہیے کہ ہر صورت افغانستان میں امن برقرار رہے یہ نہ صرف افغانستان کی عوام بلکہ پاکستان کے حق میں مفید ہے لیکن کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا.

    @QasimZaheer3

  • ‏ہمارا نصب العین خوشحال اور پرامن پاکستان ہے . تحریر : غلام مجتبیٰ

    ‏ہمارا نصب العین خوشحال اور پرامن پاکستان ہے . تحریر : غلام مجتبیٰ

    آج سے کچھ سال پیچھے چلیں تو ملک عزیز پاکستان کے حالات بد سے بدتر تھے امن و امان کی صورت حال مکمل تباہ تھی، اے روز بم دھماکے، ڈاکہ زنی، قتل وغارت، بھتہ خوری میں اضافہ ہوا جا رہا تھا۔ دشمنان پاکستان کی ارض پاکستان کو تباہ کرنے، غیرمحفوظ ملک قرار دے کرایٹمی اثاثے قبضہ میں لینے کی حکمت عملی موثر طور پراثرانداز میں ہو رہی تھی ۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر جا بجا حملے روز کا معمول تھا ۔

    ہوٹل، بازار، عام شہرائیں، اسکول، کالج ہرجگہ بم دھماکوں کا شورسنائی دیتا اورہر روز ہی کتنے معصوموں کے جنازے اٹھتے دیکھے ہیں ۔ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک قرار دلوا کر معاشی ، سیاسی ، ترقیاتی اور سیاحی طور پر کمزور کر دیا گیا

    دشمنان پاکستان را، سی آئی اے، موساد کی جامع حکمت عملی پاکستان کو کمزور سے کمزور تر کرتی جا رہی تھی لیکن وطن عزیز کی بہادر، نڈرعوام اور افواج نے حوصلے نا ہارے، دشمن کو خالی میدان نا دیا روزانہ کئی لاشیں اٹھانے کے باوجود ملک پاکستان کو سنسان نا ہونے دیا، اپنے عزم اورحوصلوں کو کبھی پست نا ہونے دینا، سانحہ آرمی پبلک اسکول میں سینکڑوں معصوم بچے شہید کردئے گئے ایسے سینکڑوں حملوں میں ستر ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئی، امن کے گہوارہ کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشیش کی گئی لیکن دشمن پاکستان اس ارض چمن کو گرا نا سکا، امن کی دیوارکو گرانا اس بزدل دشمن کے بس میں ہی نہیں تھا جو ہمارے روپ میں چھپ کر حملہ آور ہو رہا تھا
    ضرب عضب جیسے کئی آپریشن سٹارٹ ہوے ، افواج پاکستان نے بہادری ،جرات ، اور قربانیوں کی ایک طویل داستان رقم کرتے ہوئے دشمنان پاکستان کا مقابلہ کیا ۔ انڈیا جیسا بزدل دشمن جو چھپ کر پاکستان میں حملہ آور تھا اسکا سامنا کیا ۔ دہشت گردوں کو انڈیا کی بے شمار مالی معاونت ، اسلحہ کی فراہمی اور ٹريننگ نے مظبوط بنایا لیکن پاکستان افواج نے دشمن کے خوابوں کو چکنا چور کرتے ہوے امن کے گہوارہ پاکستان کا تحفظ یقینی بنایا اور دشمنوں کو ہر جگہ شکست فاش دیتے ہوے انکے ٹھکانے تباہ کرنے شروع کئے ۔ شدید مزاحمت اور ہزاروں قربانیوں کے بعد ، سوات ، کے پی کے ، کراچی ، اور وزیرستان سمیت پورے پاکستان کا امن لٹایا گیا ۔ * اس امن کے لیے کئی ماوں کے لال ، بہنوں کے اکلوتے بھائی ، معصوم بچوں کے باپ نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دئے ۔ * اور الحمد للہ آج پاکستان دنیا میں ایک پرامن ملک ہے. پاکستان نےہمیشہ دنیا میں امن کے لئے کردار ادا کیا. ہمیں دنیا کواس بات پرقائل کرنا ہو گا کہ ہم دنیامیں زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنے. اس وقت پاکستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے یہ سب پاک فوج سیاسی قیادت اور عوام کی قربانیوں ثمر ہے.

    پاکستان امن پسند قوم ہے اور یہ صرف سیکیورٹی فورسز کی مخلصانہ کاوشوں اور شہریوں اور پاک فوج کی عظیم قربانیوں سے ممکن ہوا ہے۔
    پرامن پاکستان افواج پاکستان اور اس عظیم قوم کی ہزاروں قربانیوں کا ثمر ہے جسکو قائم رکھنا ہر پاکستانی کی اولین ترجیع ہونی چاہیے ۔
    سرزمین پاکستان امن کا گہوارہ ہے جسکے بہت زیادہ قربانیاں دی گئی.
    خدارا نسلی ،لسانی ،مذہبی تعصب سے اسکے امن کو برباد مت کریں پاکستان کے وه تمام دشمن بشمول بی ایل اے ،پی ٹی ایم ، اور نام نہاد این جی اوز جو اس وطن کو پھر سے انتشار کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں انکو ہر جگہ پر بھرپور جواب دیں ۔ یہ وطن ہمارا ہے اسکا تحفظ ہر پاکستانی نصب العين ہونا چاہے.

    آئیے ہم سے خود سے ایک حلف اٹھائیں کہ ہم اپنی مادر وطن کو اپنے لئے ، دوسروں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ جنت بنائیں۔

    @mujtabamalik119