Baaghi TV

Category: متفرق

  • ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہمارے ملک میں بہت سی مافیاز میں سے ایک "ہسپتال مافیا” بھی ہے، جو کہ عام شہری (غریب ہو یا امیر) کے جزبات سے کھیلتی جسکا اولین کام صرف اور صرف پیسہ بٹورنا ہے.
    یہ اب پرانی بات ہوئی کہ ہسپتال والے مسیحائی کا کام کرتے آج کے دور میں یہ بات الف لیلی کی داستان ہی لگتی، پورے ملک سے آپکو سینکڑوں واقعات سننے کو ملینگے کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے ڈیڈ باڈی دینے کے لیئے کس طرح سے رقم نکلوائی،
    ہمارے ایک دوست ضیاء الدین ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں انکے بقول ہمیں باقاعدہ یہ لیکچر دیا جاتا کے جبتک مریض کے لواحقین پیسے دینے کی استطاعت رکھتے ہوں ان سے پیسے نکلواتے رہو کیونکہ آپکی تنخواہ اور ہسپتال کے اخراجات اسی سے چلتے ہیں-
    جب بوڑھے والدین اپنے آخری وقت کو پہنچتے تو یہ ہسپتال گدھ کی طرح حملہ آور ہوتے،ایک تو گھر والوں پر فیملی پریشر بھی ہوتا کہ والدین کو ہسپتال کیوں لیکر نہی گئے؟

    نا ہونے کے برابر کیسس میں ایسا ہوا ہوگا کہ ستر اسی سال عمر کا پیشنٹ سیریس حالت کے بعد صحت یاب ہوکر گھر لوٹا ہو، 95% کیسس میں یہ ہسپتال اس عمر کے مریضوں کو میت میں بدل نے کے لاکھوں روپے لیتے، جسکے لیئے غریب مڈل کلاس شخص قرض لیتا، زیور بیچتا مگر ان ہسپتال والوں کو زرا بھی احساس نہی ہوتا،
    حکومت کو چاہئے اس معاملے میں قانون سازی کرے اور ہسپتال کی انتظامیہ کو پابند کرے کہ علاج میں کامیابی کی صورت میں ہی اسے بل ادا کیا جائے اور اگر مریض جاں بر نہی ہوتا تو بل کی ادائیگی کو لواحقین کے حالات سے مشروط کیا جائے کہ اگر وہ دینے کے قابل ہیں تو ادا کریں ورنہ ہسپتال کی انتظامیہ اس شخص سے حلفیہ بیان لیکر بل کو خود ادا کرے،اس یہ ہوگا انتظامیہ لواحقین کو مریض کے متعلق درست معلومات بتائے گی غیر ضروری علاج سے اجتناب کریگی، نیب کو بھی چاہیئے کہ زرا ہسپتالوں کی لوٹ ماری کو چیک کرے کرونا کی وبا کے دوران عام شہری کو کسی چور ڈکیت نے نہی لوٹا ہوگا جتنا کے ان مسیحاؤں نے لوٹا
    #شعیب_رحمان

  • ذرائع  ابلاغ پر امریکی پابندیاں .تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    ذرائع ابلاغ پر امریکی پابندیاں .تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    گذشتہ دنوں میڈیا پر چلنے والی خبرو ں میں ایک ایسی خبر نظر سے گذرہی ہے کہ جس کا عنوان خود میڈیا کے خلاف تھا یعنی یہ خبر تھی کہ امریکی حکومت نے ایسے تمام ذرائع ابلاغ کو بند کرنے اور بلاک کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے جو کسی بھی طور پر ایسی خبریں شاءع کرتا ہوں جس میں امریکی حکومت کے اقدامات پر نقد ہو یا یہ کہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتاہو ۔ مزید برآں کہ وہ ذرائع ابلاغ کہ جو فلسطین کاز کے حامی ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ فلسطین سے متعلق خبروں کو ترجیحی بنیادوں پر نشر کرتے ہیں ان سب کو امریکی حکومت کے اس پابندی کے فیصلہ کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اس حکم نامہ کے بعد درجنوں ایسے ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس کو امریکہ اور کئی اور ممالک میں بند کر دیا گیا ہے کہ جو امریکی استعماری نظام کی مخالفت کرتے ہیں ، اسرائیل کے جارحانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کو دہشت گردی کہتے ہیں ، فلسطینی عوام پر ظلم و بربریت کو عوام تک پہنچا کر آگہی فراہم کرتے ہیں ، یہ سب کے سب امریکی حکم نامہ کا نشانہ بنتے ہوئے بند کر دئیے گئے ہیں ۔

    امریکی حکومت کے اس یکطرفہ اقدام نے ماضی کے ان تمام امریکی صدور اور خاص طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کی یا دتازہ کر دی ہے کہ جنہوں نے خود سے ہی یکطرفہ اعلان کر کے بیت المقدس کی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ذرائع ابلاغ کی بندش کے امریکی فیصلہ اور اقدامات نے دنیا بھر میں کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے ۔

    سب سے اہم سوال تو امریکی نظام حکومت اور بنیا دپر یہی اٹھ رہا ہے کہ امریکہ جو ہمیشہ دنیا کو آزادی اظہار رائے کے نام پر یرغمال بناتا رہا ہے اب خود اس عنوان سے ایک بہت بڑی حق تلفی کا مرتکب ہو رہا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر قد غن لگائی گئی ہے ۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی حکومت کے اس اقدام سے جہاں امریکہ مخالف سوچ رکھنے والے عوام اور حکومتوں میں امریکہ کے خلاف مزید شدت اور نفرت آ رہی ہے وہاں ساتھ ساتھ امریکی اقدامات سے خود امریکی عوام بھی تنگ آ چکے ہیں اور اس طرح کے اقداما ت کے جو ایک طرف بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں تو دوسری طرف امریکی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔

    امریکی عوام کا ہمیشہ سے آنے والی تمام حکومتوں سے ایک اہم سوال یہی رہا ہے کہ کہ آخر امریکی سرکار کس قانون کے تحت امریکی عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والی خطیر رقم کو اسرائیل کے لئے بھیجی جاتی ہے ۔ آخر امریکی عوام کے ٹیکس سے اسرائیل کو اسلحہ اور ٹیکنالوجی کیوں فراہم کی جا رہی ہے ؟ کہ جس کا استعمال اسرائیل نہ صرف فلسطین کے مظلوم عوام کے خلاف کرتا ہے بلکہ پورے خطے میں دہشت گردی اور انارکی کے لئے استعمال ہونے والے وسائل سب امریکی عوام کے ٹیکس سے خریدے گئے ہوتے ہیں ۔

    بین الاقوامی تعلقات عامہ اور علوم سیاسیات سے تعلق رکھنے والے ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ایسے ذرائع ابلاغ کو بند کرنا اور بلیک لسٹ کرنا کہ جو فلسطین کی خبروں کو ترجیحی بنیادوں پر نشر کر تے ہیں یا یوں کہا جائے کہ امریکی نظام حکومت اور پالیسیوں سے اختلاف رائے رکھتے ہیں ، اس فیصلہ سے امریکی حکومت کو صرف اور صرف عالمی سطح پر سبکی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہونے والا ۔

    امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کے اقداما ت نے ایک مرتبہ پھر امریکی حکومت کی فلسطین دشمن پالیسی کو واضح کر دیا ہے ۔ آج امریکی حکومت ایک طرف اسرائیل کی سرپرستی کر رہی ہے کہ جہاں اسرائیل ستر سال سے مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث ہے ۔ دوسری طرف یہی امریکی حکومت ہے کہ جس نے یمن میں گذشتہ پانچ برس سے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان کی دہشت گردانہ جنگ کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ یمنی شہری جس میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں موت کی نیند سو چکے ہیں ۔

    امریکہ کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کا اقدام اس لئے کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کو خطرہ ہے کہ اگر فلسطین اور یمن جیسے مسائل کے بارے میں عوام تک ایک ایسا نقطہ نظر بھی بیان ہوتا رہے کہ جو آزاد ذرائع اور حقائق پر مبنی ہو تو یقینا امریکی ریاستوں میں بسنے والے عوام میں بھی بیداری کی لہر دیکھی جا سکتی ہے ۔ شاید اسی خدشہ کے باعث امریکی حکومت نے ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کی ہے ۔

    امریکی حکومت کے اس اقدام سے غرب ایشیاء میں موجود ٹی وی چینل اور ذرائع ابلاغ بری طرح متاثر ہوئے ہیں کہ جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر اپنی خبروں اور پروگراموں میں فلسطین کے مسئلہ کو اہمیت دیتے تھے ۔ غرب ایشیاء سے ہی تعلق رکھنے والے متعدد ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابند ی کا فیصلہ احمقانہ فیصلہ ہے ۔ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور کوئی بھی خبر اور حقیقت دنیا سے مخفی نہیں رہ سکتی ۔ دنیا کے عوام با شعور ہیں اور فلسطین سمیت دنیا میں جہاں جہاں عالمی استعماری قوتوں کا جبر اور ظلم جاری ہے عوام اس کی کھل کر مذمت کر رہے ہیں ۔

    فلسطین،لبنان، شام،عراق اور ایران سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی رائے کے مطابق فلسطینی عوام کی گذشتہ گیارہ روزہ جنگ میں اسرائیل کے مقابلہ میں مزاحمت اور استقامت نے نہ صرف اسرائیل کو بوکھلاہٹ کا شکار کیا ہے بلکہ اسرائیل کی سرپرست ریاست امریکہ بھی شدید بھونچال میں آ چکی ہے ۔ امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کا فیصلہ امریکہ کی خطے میں شکست اور کمزوری کو واضح کر رہا ہے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ گذشتہ بیس سالوں میں امریکہ اور اسرائیل جو کچھ خطے میں چاہتے تھے اس طرح سے نہیں ہو اہے بلکہ اس کے بر عکس ہو رہا ہے ۔ عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہو چکی ہے، فلسطین میں موجود مزاحمتی تنظی میں پہلے سے زیادہ مستحکم اور طاقتور ہو چکی ہیں ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ امریکی حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے نہ تو فلسطین سے متعلق بیداری کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کے عوام تک فلسطین کا پیغام پہنچنے میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ ایسے اقداما ت سے امریکی حکومت کے انسانی حقوق کے دعوے اور آزادی اظہار رائے کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے اور دنیا کے سامنے امریکہ کا دوہرا معیار واضح ہو رہاہے کہ امریکی حکومت ہمیشہ کی طرح ظالم اور جابر نظاموں اور قوتوں کی سرپرستی میں مشغول ہے ۔

  • انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

    انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

    انسانیت کیا ہے؟ کیا انسانیت نام کا کوئی تصور ہے؟ اگر ہے تو اس میں کوئی ترقی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو اس افسانے کی حقیقت کیا ہے؟ ابھی تک نہ کوئی ایسی کتابیں نظر سے گزری، جس کا مرکز انسانیت ہو البتہ کچھ ماہرین نے موجودہ معاشی ترقی عناصر ترکیبی پر ضرور اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ صر ف مادّی یا منافع پر مبنی چیزوں کے اعداد و شمار کا نام ترقی ہونی چاہیے۔ ان میں وہ کام بھی شامل ہونا چاہیے جو لوگ خیرات و صدقات کی مد میں کرتے ہیں اور اس میں وہ خرچے بھی شامل ہونے چاہئیں، جو لوگ تعلیم و تربیت پر خرچ کرتے ہیں۔

    اگر ہم انسانیت پر غور کریں تو انسانیت کا پہا اصول قربانی کا ہونا چاہیے کیونکہ اج ہم اس لیے زندہ ہیں کہ ہماری ماؤں نے ہمارے لیے قربانیاں دیں۔ جسمانی طور پر ہم ان کے خون کا حصہ ہیں۔ اگر قربانی کی تشریح ہم یوں کریں کہ کسی کسی دوسرے انسان یا حیوان کو راحت پہنچانے کے لیے اپنے وسائل خرچ کرنا۔ اب یہ وسائل مالی، جسمانی، مکانی، زمانی، یا ذہنی ہو سکتے ہیں۔

    انسانیت کا دوسرا اصول ایمان داری کا ہونا چاہیے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے وہ چیز پسند کریں، جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ انسانیت یہ نہیں ہے کہ میں خود فاسٹ فوڈ نہ کھاؤں بلکہ دوسروں کو کھلا کر فائدہ حاصل کرنے کے لیے اشتہار بازی کا ہر ذریعہ استعمال کروں۔ مطلب یہ کہ ایک چیز جس کو میں اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہوں، دوسروں کو کھلاتا ہوں۔

    تیسرا اصول، عزت نفس۔ نفسیاتی طور پر ہر انسان کو عزت نفس عزیز ہے، لہٰذا ہر انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کی عزت کا خیال رکھے۔ آدمیت و احترام آدمی کے اصول کی پاسبانی کرے اور یہ احترام بلا تفریق ہونا چاہیے۔ عزت کا تعلق زبان کے استعمال سے ہے لہٰذا انسانیت کا تقاضا ہے کہ اپنی زبان کو انسانیت کے تابع کریں۔

  • بھارتی دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف کاروائیاں، تحریر:نوید شیخ

    بھارتی دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف کاروائیاں، تحریر:نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لاہور میں دھماکے کا ذمہ دار اور ماسٹر مائنڈ ’’را‘‘ ایجنٹ تھا ۔ اب تو سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے دھماکے کے ذمہ داروں اور ان کی نقل و حرکت کا پورا ریکارڈ کھنگال لیا ہے ۔ اس وقت پاکستان کے پاس ملزم کے بیرون ملک روابط کے تمام ریکارڈ موجود ہیں۔ جن میں فنانس، بینک اکاؤنٹ، آڈیوز اور دیگر ثبوت شامل ہیں۔۔ میں آپکو بتاوں ۔ جس دن لاہور میں دھماکہ ہوا ہمارے انوسٹی گیشن نیٹ ورک پر سائبر حملے کئے گئے تھے ۔ ۔ اس لاہور واقعہ کی کچھ لوگوں نے باہر بیٹھ کر پوری کارروائی پلان کی ہے ۔ جبکہ کچھ لوگوں نے پھر ان ہدایات پر عمل کرکے پاکستان میں تمام کارروائی پر عمل کیا، دھماکے میں ملوث 56 سال کا peterکراچی کا رہنے والا ہے، peter زیادہ تر بیرونی ممالک میں رہا ہے اور اس کا
    ۔۔۔ را۔۔۔ سے تعلق ثابت ہوگیا ہے ۔

    ۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پنجاب پولیس کے شعبہ انسدادِ دہشتگردی نے جس محنت اور برق رفتاری سے شواہد اکٹھے کئے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔ ۔ اس واردات کے لیے پیسے تیسرے ملک سے بھجوائے گئے ۔ ایک ملزم عید گل کا تعلق افغانستان سے ہے جس نے پاکستانی شناختی کارڈ بھی بنوا رکھا ہے۔ جس تیسرے ملک کا نام نہیں لیا گیا وہ بھی افغانستان ہی ہے کیونکہ اس سے بہت پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے جب دہشت گردی کے بارے میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کئے تھے تو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کا اس دہشت گردی میں کیا کردار ہے ان میں بیٹھے ہوئے بھارت کے کون کون سے سفارت کار کس کس سے رابطے میں ہیں کس کس طرح اور کس کس چینل سے انہیں پیسے پہنچائے جاتے ہیں۔ کس طرح ان کے اکاؤنٹ میں یہ رقم ٹرانسفر ہوتی ہے۔ انہیں جدید اسلحہ کیسے فراہم کیا جاتا ہے۔ تربیت کس طرح دی جاتی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے لئے انہیں کس طرح ٹارگٹ دیا جاتا ہے اور کیسے سرحد پار کرائی جاتی ہے اور لانچ کیا جاتا ہے۔ اتنا عرصے پہلے اتنے سارے ثبوت ایک ہی پریس کانفرنس میں فراہم کر دیئے گئے تھے اور اقوام متحدہ اور اس کے اداروں سمیت دنیا کے کئی ملکوں کو ڈوزئیر بھی بھیجے گئے تھے جن میں یہ سارے ثبوت موجود تھے۔ لیکن آج تک نہیں سنا کہ دنیا کے کسی ملک نے اس معاملے میں بھارت کے ساتھ بات کی ہو اور اگر کی بھی ہو گی تو اس سے کوئی باخبر نہیں ہو سکا چند روز تک ان خبروں اور ان ثبوتوں کا اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر تذکرہ ہوا اور پھر دنیا اپنے اپنے مسائل میں الجھ گئی۔ بھارت البتہ اسی طرح دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کرتا رہا ۔ اُس ڈوزیئر کے پیش ہونے کے بعد بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے کئی بڑے چھوٹے واقعات ہوئے جن میں ڈائریکٹ بھارت کا ہاتھ تھا۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔

    ۔ اس لیے اس دفعہ جو کارروائیاں ہوئیں اور جو شواہد ملے ہیں وہ اتنے مضبوط ہیں کہ اگر اس پر بھی دنیا خاموش رہی تو پھر سمجھا جائے گا کہ دنیا امن نہیں چاہتی۔۔ بھارت کو کیونکہ معلوم تھا کہ وہ پکڑا گیا ہے تو جوہر ٹاؤن دھماکے کے بعد جموں میں ڈرون حملے کا ڈرامہ رچایا گیا اور اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی گئی۔ جس پر دنیا نے اسکو کوئی خاص لفٹ نہیں کروائی ۔ ۔ پر سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی دہشت گردی ہوتی ہے وہ بھارت کراتا ہے۔ اور یہ ہمارا دشمن نمبر ون ہے۔ ۔ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کی بات کی۔ جبکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی پرامن شناخت کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر ایک منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔۔ کیونکہ آپ دیکھیں ممبئی حملے ہوں، بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہو یا پلوامہ کا واقعہ ہو بھارت کے پاس پاکستان پر عائد کئے جانے والے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ صرف اپنے عالمی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر پاکستان کو قصور وار ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے پاس دہشت گردی کے متعدد واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہیں ۔ اے پی ایس کے سانحہ میں بھارتی کردار تھا۔ چند سال قبل لاہور کی مال روڈ پر پولیس پر خودکش حملہ ہوا اس میں بھارتی کردار سامنے آیا۔ بلوچستان سے بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو پکڑا گیا۔ کلبھوشن نے دہشت گردانہ کارروائیوں میں معاونت کا اعتراف بھی کیا۔ ۔ پر آپ دیکھیں الٹا پاکستان پر بھارت کے کہنے پر ایف اے ٹی ایف اور چائلڈ سولجر ایکٹ کے تحت پابندیاں لگانے کا فیصلہ ہو گیا۔ ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں ہماری کسی کوتاہی کا دخل ہے کہ ہمارے مہیا کئے ہوئے ثبوتوں پر غور نہیں کیا جاتا یا ہم اپنا مقدمہ اچھی طرح نہیں لڑ رہے یا کہیں نہ کہیں کوئی خرابی ہے کہ اتنے سارے ڈھیروں ثبوتوں کے باوجود دنیا مان کر نہیں رہی کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی نہ کوئی ملک تو ایف اے ٹی ایف سے کہتا کہ بھارت کو بھی واچ لسٹ میں رکھو، یا ہمارا کوئی غمگساربھارت سے کہتا کہ بہت ہو چکی، اب یہ سلسلہ روک دو، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے دوست ملک بھی بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے بے چین رہتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ کشمیر میں اس کی زیادتیوں پر بھی نہیں بولتے ہیں اور کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کے تحت ہی بھارتی قیادت سے کہا ہو کہ کشمیری بھی انسان ہیں ان کے ساتھ کم از کم انسانی سلوک تو کرو، ایسے میں ہم کب تک بھارتی دہشت گردی کے ثبوت پیش کرکے دنیا سے یہ توقع رکھیں گے کہ وہ ان ثبوتوں کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔

    ۔ دنیا سے امیدیں باندھنے کی بجائے ہمیں خود ہی ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ساتھ کسی ٹھوس لائحہ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ افسوس ہے کہ ایسی ناقابل تردید شہادتوں کے باوجود عالمی طاقتوں نے بھارتی رویے سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ، ایف اے ٹی ایف اور سلامتی کونسل سمیت کوئی ادارہ بھارت کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی جرأت نہیں کر پا رہا جو عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کی دلیل ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت مسلسل پاکستان میں تخریب کاری میں مصروف ہے۔ اگر ان تمام ثبوتوں اور شواہد کے پیش نظر دنیا بھارت کے خلاف کارروائی کرتی تو بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر دہشت گرد حملے نہ ہوتے اورنہ ہی لاہور میں دھماکا ہوتا۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے تمام واقعات میں بھارت براہ راست ملوث رہا ہے۔ بھارت کے دہشت گردوں سے بالواسطہ روابط ہیں اور اس مقصد کے لئے بھارت عرصہ دراز سے افغانستان کی سرزمین کو بیس کیمپ کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ لاہور میں دھماکا بھی سازش کے تحت کرایا گیا جب فیٹف اجلاس میں پاکستان کے بارے میں فیصلہ ہورہا تھا۔ ایسے موقع پر لاہور میں دھماکا کرانے کا مقصد یہی تھا کہ یہ ظاہر کیا جائے کہ پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے میں فی الحال کامیاب نہیں ہوسکااور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے بجائے بلیک لسٹ کیا جائے ۔ وہ الگ بات ہے کہ ہر بار کی طرح بھارت کو اس بار بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے والے ملک پاکستان کو تو ایک عرصے سے گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ لیکن پاکستان میں دہشت گردی کرانے والا ملک بھارت فیٹف کی نظروں سے اوجھل ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ فیٹف فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کرکے بھارت کو بلیک لسٹ کردے۔ اور لاہور دھماکا اس حوالے سے تازہ ترین ثبوت ہے۔ ۔ اب ضروری ہے کہ عالمی ادارے بھارت کے حقیقی چہرے کو دیکھیں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی سرپرستی کرنے پر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عالمی برادری نے بھار ت کے مکارانہ کردار پر خاموشی اختیار کئے رکھی تو سمجھا جائے گا کہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کسی قانون اور اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ امتیازی، انتقامی خواہشات کے تحت کی جا رہی ہیں۔ جبکہ بھارت مسلسل خطے کے امن کے ساتھ کھیل رہا ہے۔

  • آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    اس وقت آزاد کشمیر میں انتخابات کا شور سنائی دے رہا ہے۔ہر شخص اپنی من پسند پارٹی اور امیدوار کو سپورٹ کررہا ہے۔الیکشن میں تقریباََ بیس دن باقی ہیں۔جوں جوں پولنگ کا دن قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں میں ایک نیا جوش اورولولہ محسوس کیا جارہا ہے۔جہاں تحریک انصاف،پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار و کارکنان جیت کے لیے پرعزم ہیں وہیں کچھ نئی جماعتیں بھی اس سیاسی اکھاڑے میں قدم رکھ کر جیت کے لیے پرعزم ہیں۔لیکن اصل مقابلہ تین بڑی جماعتوں کے درمیان ہے۔ سب جماعتوں کے قائدین اپنی جماعتوں کو جتوانے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی کشمیر کا دورہ کیا۔وہ آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران کوٹلی کے علاقے ہجیرہ میں خطاب کے دوران کہا کہ جیالے بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے،آزاد کشمیر میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی۔اس دوران وہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں اپنے امیدواران کی کارنر میٹنگز اور جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔انہیں آزاد کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔انہوں نے کوٹلی میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ یہ خود دھاندلی کے ذریعے ملک پر مسلط ہوئے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی بات کی جائے تو گذشتہ پانچ سال انہوں نے کشمیر میں حکومت کی۔مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کی سیاسی مہم کے لیے مریم نواز صاحبہ کو میدان میں اتارا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں گلگت بلتستان کے انتخابات میں مریم نواز صاحبہ نے بھر پور مہم میں حصہ لیا لیکن وہاں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شہباز شریف بھی مریم نواز کے ساتھ مل کر کشمیر کی انتخابی مہم چلائیں گے۔مریم نواز آٹھ جولائی کو کشمیر میں اپنی مہم کا آغاز کریں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف بھی کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔تحریک انصاف کی طرف سے علی امین گنڈا پور پہلے سے ہی مظفر آباد میں موجود ہیں اور مہم چلا رہے ہیں۔سردار تنویر الیاس بھی بھر پور متحرک ہیں،سردار تنویر الیاس نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔اس دوران وزیر اعظم کے کشمیر دورے کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

    تمام بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلم کانفرنس،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کی بھر پورتیاری کررہی ہیں۔سابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ حمید گل کی جماعت بھی حصہ لے رہی ہے۔اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں تحریک لبیک اور جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ بھی حصہ لے رہی ہے،دونوں جماعتوں کا کشمیر کی سیاست میں پہلا قدم ہے۔تحریک لبیک پر شروع میں پابندی بھی لگائی گئی لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے ترجمان سردار حمزہ رافع نے بتایا کہ وہ تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر چکے ہیں،ان کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں وہ کشمیر کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں اور بلدیاتی الیکشنز بحال کروانا ان کے منشور کا حصہ ہے،انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر موومنٹ کے سربراہ سردار بابر حسین تحریک انصاف سے منسلک رہے اس کے بعد انہوں نے اپنے چند نظریاتی رفقاء کے ساتھ مل کر جماعت کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی مہلک وباء میں موومنٹ نے خدمت خلق کا کام بھی کیا ,بھوکوں تک کھانا پہنچایا اور گھر گھر جاکر کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی دی اور آئندہ بھی خدمت کے کام کرتے رہیں گے .گذشتہ روز سوموار کے دن اسلام آباد پبلک سیکرٹریٹ میں امیدواران سے گفتگو کرتے ہوئے سردار بابر حسین نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پچیس جولائی کو کرسی پر مہر لگا کر اسے کامیاب بنائیں،ہمارا مقصد کشمیر کی تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔بلدیاتی انتخابات کے لیے ریاست کو مجبور کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کرادار ادا کرے۔سردار بابر حسین خود بھی سہنسہ،پنجیڑہ کے حلقے سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور حلقے میں کارنر میٹنگز کررہے ہیں۔آزاد کشمیر کی فتح کا تاج کس کے سر سجے گا اب اس کا فیصلہ عوام پچیس جولائی کو کرے گی۔

  • بچپن کی شرارت قسط 3۔  تحریر : طلعت سلام

    بچپن کی شرارت قسط 3۔ تحریر : طلعت سلام

    السلام علیکم دوستوں

    امید ہے کے آپ لوگ میری اپنی بچپن کی شرورتوں سے محظوظ ہو رہے ہونگے۔۔

    آج پھر ایک پرانی ایسی شرارت جو کے تھوڑی شرارت کے لیول سے اوپر تھی اور جس پر مجھے اکثر افسوس بھی ہوتا ہے وہ آپ سب کے ساتھ شیعر کرتی ہوں۔۔۔

    ھمارا گھر پاکستان میں ڈبل اسٹوری گھر تھا۔ بیڈ رومز سب کے اوپر والے حصے میں تھے۔ اور جس جگہ ھمارا بیڈروم تھا وہ گلی میں سامنے کی طرف تھا اس میں بالکونی بھی تھی اور ایک بہت ہی بڑی کھڑکی۔ گھر کیونکہ کارنر کا تھا تو سٹی کے ایک پول پر بڑا سا بلب لگا رہتا تھا۔۔۔

    اب آپ سوچ رہے ھونگے کے میں یہ کیوں بتا رہی😂 جی جناب اصل میں رات کو اس بلب سے ھمارے بیڈروم میں بہت روشنی آتی تھی جو کے ھم تینوں بہنوں کو بودر کرتی تھی۔ چھوٹی اور بڑی بہنیں تنگ ہوتی پر خاموش ھو جاتی۔
    لیکن طلعت بیگم کے پاس ہر چیز کا علاج ھوتا تھا۔ ایک دن میں نے اپنی بہنوں کے ساتھ مل کے پلان بنایا کے کسی طرح اس بلب کو توڑنا ہے😬🤭

    پہلے تو بڑی نے منع کیا پھر آخر کار بار بار اسے سمجھانے پر وہ بھی شامل ھوگئی۔

    اب مسئلہ یہ تھا کے توڑیں کیسے؟؟؟
    چھوٹی نے مشورہ دیا کے پتھر مارتے ہیں شاید نشانہ لگ جائے اور بلب ٹوٹ جائے۔ ایک رات ھم تینوں ڈھیر سارے چھوٹے پتھر جمع کر کے اپنے بیڈ روم میں لے گئے۔ اور جب سب سو گئے تو ھم تینوں بالکونی میں گئے اور بلب کا نشانہ لے کے پتھر مارا، پتھر بلب کو تو لگا نہیں سامنے والے کی چھت پر چلا گیا۔ ھم پھر بھی نہیں رکے ایک کے بعد ایک مارتے رہے۔ اور ہوا کچھ یوں کے بلب کے بجائے سامنے والے کی کھڑکی ٹوٹ گئی۔

    اور اسکے بعد تو ھم تینوں اندر بھاگے ی
    ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
    اس کے بعد سامنے والے باہر نکلے اور جو گلی میں ہنگامہ ھوا، اففففففف اندر ھم تینوں دبکے بیٹھے رہے۔ اور وہ بیچارے کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر الزام ڈالتے رہے۔ کسی کا شک ھم پر نہیں گیا، گلی میں موجود لڑکوں پر شک کرتے رہے، ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کے لڑکیاں بھی یہ کام کر سکتی ہیں۔

    لیکن اس کوشش سے بھی بلب نہیں ٹوٹا تھا۔ اب ھم نے اگلی رات دوسرا پلان کیا۔ اور یہ میرا پلان تھا، ھمارے پاس آئیر گن تھی تو جناب میں دوسری رات آئیر گن لے کے آئی اور اندر بیٹھے بیٹھے کھڑکی سے بلب کا نشانہ لیا، دو تین بار کی کوشش کے بعد بالآخر بلب ٹوٹ گیا۔ اور ھم تینوں بہنیں رات میں ہی جشن منا کے سو گئے۔

    لیکن اس وقت کراچی انتظامیہ کچھ زیادہ ہی افیشینٹ تھی ایک دن کی شکایت پر ہی آ کے بلب بدل دیتے ہیں۔ باز آنے والے ھم بھی نہیں تھے۔ ہر ھفتے نیا بلب لگتا اور طلعت بیگم کا نشانہ بھی ایسا پکا ھو گیا تھا کے ایک ہر فائر میں بلب توڑ دیتی۔

    پر ایک دن امی جان کو پتہ چل گیا کے یہ حرکت میری بیٹیاں کر رہی ہیں اففففففف اسکے بعد کچھ بتانے کی ھمت نہیں ہاہاہاہاہاہاہا، اچھے خاصے تھپڑ سے میرا سواگت جو ھوا تھا۔

    اب سوچتی ہوں یار کتنی بدتمیز تھی میں بلب راہ گیروں کی اسانی کے لیے لگائے جاتے اور میں کیا کرتی تھی۔

    شکر ہے امی کے تھپڑ نے مجھے مزید یہ کام کرنے سے روک دیا ورنہ نجانے میں سٹی کا اور لوگوں کا کتنا نقصان کرتی رہتی۔

    اب اجازت دیں پھر ملینگے ایک نئی شرارت کے ساتھ۔

  • 3 فٹ 7 انچ  کا شوہر اور 5 فٹ 5 انچ کی بیوی نے نیاعالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    3 فٹ 7 انچ کا شوہر اور 5 فٹ 5 انچ کی بیوی نے نیاعالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    برطانوی نژاد جوڑے جیمس لسٹڈ اور کلوئی نے حال ہی میں ایک منفرد ریکارڈ اپنے نام کیا ہے جس کے مطابق ان میاں بیوی کے قد میں سب سے زیادہ فرق ہے جو تقریباً دو فٹ بنتا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی شدہ جوڑوں میں عموماً شوہر اور بیوی کا قد ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کبھی بیوی زیادہ لمبی ہوتی ہے تو کبھی شوہر کا قد زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، میاں بیوی کے قد میں اب تک بہت زیادہ فرق مشاہدے میں نہیں آیا۔

    33 سالہ جیمس لسٹڈ کا قد 3 فٹ 7 انچ ہے جبکہ ان کی بیوی، 27 سالہ کلوئی کی اونچائی 5 فٹ 5 انچ ہے۔ یعنی ان دونوں میں قد کا فرق 1 فٹ 10 انچ (تقریباً دو فٹ) ہے گزشتہ روز ان کی شادی کو 5 سال ہوئے ہیں جبکہ ان کی ایک بیٹی ’’اولیویا‘‘ بھی ہے۔

    جیمس ایک برطانوی اداکار اور ٹیلی ویژن چینل پر میزبان ہیں جبکہ وہ ’’تھری فٹ سیون‘‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی چلا رہے ہیں جہاں چھوٹی جسامت والے لوگوں کےلیے ٹی شرٹس فروخت کی جاتی ہیں جبکہ کلوئی ایک اسکول ٹیچر ہیں۔

    ایک جینیاتی بیماری کی وجہ سے جیمس کا قد چھوٹا رہ گیا لیکن انہوں نے اپنے چھوٹے قد کو اپنے لیے مجبوری بننے نہیں دیا۔ البتہ، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے قد کی وجہ سے شاید ہی کبھی شادی کر پائیں گے۔

    2012 میں جیمس کو اپنے علاقے میں اولمپک مشعل تھام کر دوڑنے کا موقع ملا جسے پوری دنیا میں دیکھا گیا۔ اس کے بعد کچھ دوستوں نے ان کا تعارف کلوئی سے کروایا جو اس وقت صرف اٹھارہ سال کی تھیں۔

    حیرت انگیز طور پر، جیمس سے پہلی ملاقات ہی میں کلوئی کو ان سے پیار ہوگیا اور بالآخر 2016 میں دونوں نے شادی کرلی۔

    یہ دونوں آج بھی برطانیہ کی ویلز کاؤنٹی میں اپنی بیٹی اولیویا کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں گنیز ورلڈ ریکارڈ نے بھی ’’میاں بیوی میں قد کے سب سے زیادہ فرق‘‘ کا عالمی ریکارڈ ان دونوں کے نام کردیا ہے۔

  • ‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہ زیب

    ‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہ زیب

    کائناتِ ارضی و سماوی کی تخلیق و حیران کر دینے والی ترتیب، خوبصورت و سر سبز لہلہاتی فصلوں اور کھیتیوں، گھنے اور قد آور درختوں سے مزین جنگلات، عقل و خرد اور دل و نگاہ کو مست و بےخود کر دینے والی سُریلی آبشاروں، روح وقلب کو تازگی بخشتے دریاؤں اور سمندروں، اسمان کوچھوتے سخت جان پہاڑوں، الگ الگ نوعیت کے رنگ و بو سے مزین خوشبودار پھولوں اورصحت افزا پھلوں، خوشوں والی کھجوروں اور بھوسے اور خوراک و معاشی ضروریات کی تکمیل کرنے والے اناج سے مزین یہ کائنات انسانی سوچ کی تمام حدوں سے ورا اُلوریٰ یقیناً اُس ذات کا بے حد و بے شمار شکر ادا کرنے کے لئے عظیم نشانیاں ہیں جِس نے انہیں حضرت انسان کے لئے انہیں پیدا فرمایا۔

    یقیناً تمام کبریائی، بزرگی اورعظمت اُسی ذات کے شایانِ شان ہے جِس نے تمام آسمانی کرّے باہمی ترتیب و مطابقت کے ساتھ اس پیدا فرمائے کہ نہ ان میں کوئی جھول ہے نہ کوئی خامی، اور اسی ذات بزرگ و برتر نے آسمانِ دنیا کو روشن ستاروں اور سیّاروں سے روشن و آراستہ فرمایا۔ اس کائنات کا یہ نظام ودیعت اور تخلیق ذرا بھر بے ضابطگی اور عدمِ تناسب سے مکمل طور پر پاک و مبرا ہے اور اس طرح مرتب کہ ایک کا نظام دوسرے میں کسی طرح بھی مُدخل نہیں-

    قرآن پاک اللہ تعالی کی تخلیق پر تمام معترضین نقادوں کو چیلنج کرتا ہوا فرماتا ہے :

    ’’الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاؕ-مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍؕ-فَارْجِعِ الْبَصَرَۙ-هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ(۳)ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ(۴)
    ترجمہ: کنزالایمان
    جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ(خرابی وعیب) نظر آتا ہےپھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی‘‘
    تفسیر:
    اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار میں  سے یہ ہے کہ اس نے کسی سابقہ مثال کے بغیر ایک دوسرے کے اوپرسات آسمان بنائے۔ہر آسمان دوسرے کے اوپر کمان کی طرح ہے اور دنیا کا آسمان زمین کے اوپر گنبد کی طرح ہے اور ایک آسمان کا فاصلہ دوسرے آسمان سے کئی سوبرس کی راہ ہے۔ تو اے بندے! تو اللّٰہ تعالیٰ کے بنانے میں  کوئی فرق اور کوئی عیب نہیں دیکھے گا بلکہ انہیں  مضبوط،درست،برابر اور مُتَناسِب پائے گا۔تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ تا کہ تو اپنی آنکھوں  سے اس خبر کے درست ہونے کو دیکھ لے اور تیرے دل میں  کوئی شبہ باقی نہ رہے،پھر دوبارہ نگاہ اٹھا اور باربار دیکھ، ہر بارتیری نگاہ تیری طرف ناکام ہو کر تھکی ماندی پلٹ آئے گی کہ بار بار کی جُستجُو کے باوجود بھی وہ ان میں کوئی خَلَل اور عیب نہ پاسکے گی۔

    اللہ پاک نے نہ صرف یہ کائنات اور اس میں موجود نظام تخلیق فرمایا بلکہ خود اس نظامِ بے مثال و باکمال کی حفاظت کاذمہ بھی لیا۔

    کبھی غور تو کریں کہ اس نظام کی ترتیب کس قدر عقل و خرد کو لاچار کر دیا کرتی ہے۔
    اس شمسی و قمری نظام و ترتیب میں سورج اور چاند مقررہ حساب و اوقات کے پابند ہیں جو منزلیں اور اوقات ان کیلئے مقرر ہیں نہ ان سے تجاوز کرتے ہیں اور نہ روگردانی ، اپنے اپنے مدار میں مصروف و متحرک ہیں کیا مجال کہ سرسائی دائیں ہوں یا بائیں یا لمحہ بھر کی بھی تقدیم، تاخیر و سکونت ہو سکے۔

    الغرض نظامِ ارض و سمٰوات میں جس جہت غور و تفکر کر لیں مکمل نظم و ضبط اور ترتیب و تکمیل پائی جاتی ہے، نظامِ قدرت کے اس توازن و ترتیب کی وجہ سے ہر شے مکمل افادیت اور حسن و تازگی کا منبع ہے-

    جبتک یہ نظام اِسی ترتیب و توازن سے چلتا رہتا ہے انسان اِس کی افادیت سے مستفید و متنفع رہتا ہے لیکن ادھر انسان نے اس توازن و ترتیب کو زاتی مفاد کے لئے عدم توازن کا شکار کرنے کی کوشش کی تو اس کو دور رس منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا- یہ ہر ذی شعور و خرد پر مثلِ شمس واضح و عیاں ہے کہ تخلیقِ کائنات میں کوئی کمی، کوئی کجی، کوئی نقص وآلودگی کا شائبہ بھی نہیں –
    تو پھر یہ جو آج کا انسان نواع و اقسام کی آلودگیوں و پیچیدگیوں کا شکار نظر آتا ہے یہ اس کی زاتی تخلیق شُدہ ہیں۔

    بظاہر آج کے انسان نے مادی اشیا و صنعت میں فقیدالمثال ترقی کر لی ہے۔ ایجادات و تعمیرات میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی نئی سے نئی دریافت میں سرگرداں ہے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دھن میں نئے سے نئے تجربات و ریاضات کی کھوج میں ہے۔ لیکن اِسی کھوج اور طاقت ور بننے کے نشے میں بےشُمار ایسے عوامل و طریق میں کھو چکا ہے کہ وقتی مفاد کے لئے دورافتادہ نقصانات کو پرکھنے و ادراک کرنے سے عاری ہو چکا ہے۔ انسان کی اسی دھن کا شکار آج کا معاشرہ ہوتا جا رہا ہے۔

    صنعتی و سائنسی ترقی کے نام پر جب انسان نے گیسی مادوں کی بڑے پیمانے پر ایجادات و استعمال کو اس کے دور رس مضمرات سے کنارہ کش ہوتے ہوئے، مختلف الاقسام ایجادات، تحقیقات کے نام پر کیمیائی اور حیاتیاتی دریافتوں کے ذریعے ترقی حاصل کی- اِس ترقی کی راہ میں آنے والے نقصانات سے پیدا ہونے والے احتساب و سوالات سے مبرا و منزہ انسان جب اپنی دھن میں بھاگتا چلاگیا تو اسی ترقی کی وجہ سے قدرتی ماحول پر انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہونے لگے-
    آج کے دور کا ہر ترقیاتی منصوبہ اس اجتماعی ماحول کو کسی نہ کسی طرح نقصان سے دوچار کر رہا ہے۔
    1880ء سے پہلے توکبھی کسی نے اس ماحولیاتی آلودگی پر کسی قسم کی خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ لیکن اس صنعتی ترقی میں استعمال ہونے والی مادی گیسوں، کیمیائی و نباتاتی اشیاء و اجزا کے کثرتِ استعمال اور نئی ایجادات کے بنا پر پیدا ہونے والی اس
    آلودگی کی پیمائش کی حساب و کتاب کرنے کے لئے پہلا ادارہ عمل میں لایا گیا۔
    اس ادارے کی تحقیقات کے تحت اِن تمام استعمال شدہ عوامل کے پیشِ نظر فضا میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
    اس کی تحقیق کے مطابق سنہ 1880 سے سنہ 1980 تک اس درجہ حرارت میں 0.13 فارن ہیٹکے حساب سے ہر دس سال میں اضافہ ہوا ہے۔
    1981 کے بعد اس میں 0.32 ڈگری فارن ہیٹ/10سال کے حساب سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق اِس طویل عرصہ میں 2019 ایسا سال تھا جِس میں درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔
    تحقیقاتی ادارے کو یہ کہنا ہے کہ اگر اسی رفتار سے ماحولیاتی الودگی میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے چند سالوں کے بعد یہ اس کے باعث سطح سمندر میں اضافے سے ساحلی علاقےزیر آب آنے کےخطرے سے دوچار ہیں۔
    اِسی درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشئیرز پگلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور بارشوں کے سلسلے متاثر ہونے اور غیر متوقع طوفانوں کی تباہی کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔

    اس موسمی تبدیلی کے پیشِ نظر مجبوری ہجرت،انواع القسام بیماریوں، قلتِ اجناس، جنگلی حیات کا ناپید ہونا، پانی کی قلت اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل کا سامنا ناگزیر ہے-

    اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت انسانی جان کی بقاء کو اِس ماحولیاتی آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے۔
    اس پر تو کوئی دوسری رائے نہی ہو سکتی کہ روئے زمین پر تمام جانداروں اور بالخصوص انسانی جان کے تحفظ کا انحصار جن ضروریاتِ حیات پر کیاجا سکتا ہے ان میں سےایک پاک و شفاف ماحول و ہوا ہے- اس اہم اور حساس معاملے پر ادراک و فہم ہر ذی شعور کو جاننا اور اِن مضمرات کی روک تھام کے لئے اُن عوامل کو کارفرما لانا انتہائی ضروری ہے جِس سے ماحول آلودہ ہونے سے بچ سکے کیونکہ اس کا بالواسطہ تعلق انسانی حیات سے ہے۔
    اس ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کا اندازہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جِس کے مطابق دنیا میں 70 لاکھ لوگ ہوائی آلدگی اور آکسیجن کی کمی کیوجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔

    جیسا کہ شروع میںذکر ہوا کہ اللہ کا نظام ایک اکمل واعلٰی اور ہر نقص و کمی سے پاک نظام ہے۔ اسی نظام میں ہر مسئلے کا حل اور تدارک رکھا گیا ہے۔ دین اسلام جہاں دیگر مسائل کے متعلق راہنما و پیشوا ہے وہاں ہر ماحولیاتی آلودگی سے متعلق بھی ایک آفاقی نقطۂ نظر رکھتا ہے-
    ماحولیاتی نقصان و فضائی آلودگی کے تدارک کیلئے اسلام میں واضح احکام کے ذریعے صفائی اور شجر کاری کے فوائد ذکر کیے ہیں قرآن پاک میں کھیتی باڑی اور پودوں کا نقصان پہنچانا منافقین کا شیوہ قرار دیا ہے۔

    اسلام میں بلاضرورت درختوں کو کاٹنے سے منع کیا گیا ہے- حتیٰ کہ جنگ میں روانگی کے وقت فوجوں کو اس بات کی باقاعدہ ہدایت کی جاتی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو برباد نہی کریں گے-
    حضور نبی اکرم (ﷺ) نے شجر کاری کو صدقہ قرار دیا اور حکم فرمایا:
    “ اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو‘‘
    لہٰذا ہمیں بطور مسلمان اِن اسلامی تعلیمات و تربیت کی روشنی میں اپنے گردونواع کے ماحول و فضا کو پاک و صاف رکھنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہنا ہے۔ اور اپنی آنےوالی نسلوں کو اس آلودگی کے نقصانات سے بچانے کے لئے ایسے اقدام کرنے ہوں گے جِن کے ثمرات کے نتیجہ میں وہ ایک صحت مند اور توانا زندگی گزار سکیں۔
    ہر فرد معاشرے کا حصہ اور اہم اکائی ہے۔ مختلف اکائیوں کے اجتماع کو معاشرہ کہتے ہیں۔ جب تمام اکائیاں اپنے مثبت کردار کو جمع کرتی ہیں تو ہی صحت مند معاشرہ وجود پا سکتا ہے۔
    آئیے سب ملکر اس معاشرے کی فضا کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنااپنا کردار ادا کریں۔
    جتنا ممکن ہو اپنے گردو نواع میں صفائی ستھرائی رکھنے، پانی کے ضیاع سے بچنے، غلاظت اور گندگی کوپھیلاؤ کے تدارک کاذریعہ بنیں اور زیادہ سے زیادہ شجر کاری کےذریعے ماحول کو ہرا بھرا اور سر سبز و شاداب بنا دیں اِنࣿ شَاءاَللٰؔه
    @shahzeb___

  • ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    پاکستان کا خواب دیکھنے اور اپنی لازوال شاعری کے زریعے محکوم اور بدحال مسلمانانِ برصغیر کو جگانے والے عظیم مفکر ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کے لکھے گئے اس شعر میں جتنا وزن، وسعت اور دور اندیشی میں نے محسوس کی ہے آج اپنی اس تحریر کے زریعے اور اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک اس کا احاطہ کر سکوں

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

    جب کبھی بھی ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کا یہ شعر میری نظر سے گزرتا ہے تو یقین جانیں کہ میں اس سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا میں علامہ صاحب کی اس بات پہ پورا اتر رہا ہوں یا پھر اس پہ پورا اتر سکنے کی کوشش تک بھی کر رہا ہوں

    لیکن! ہر بار میں اس کے جواب میں خاموش سا رہ جاتا ہوں اور کوئی جواب نہیں ڈھونڈ پاتا وہ اِس لئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ علامہ محمد اقبال رح صاحب کی زیادہ تر فکر اور شاعری حضورِ اقدس جناب محمّد رسول اللہ ﷺ کی احادیث و فرامین اور اُن کی قائم کردا ریاستِ مدینہ میں نافذ کردہ قوانین اور اصولوں کے گرد ہی گھومتی ہے

    تو میرے مطابق علامہ اقبال رح صاحب کا یہ کہنا کہ

    “ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

    یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اگر کوئی سمجھے تو ہم سب کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بھی بات ہے۔ جس کو بطور ایک “ملّت کا ستارہ” بن کے نبھانا ہم سب پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ چاہے آپ ایک وزیراعظم، ایک وزیر، ایک آرمی چیف، ایک جنرل، ایک فوجی،ایک چیف جسٹس، ایک جج، ایک وکیل، ایک سی ایس پی آفیسر، ایک سائنسدان، ایک پروفیسر، ایک ٹیچر، ایک بیوروکریٹ، ایک گورنمنٹ آفیسر، ایک سول سروینٹ، ایک ڈاکٹر، ایک بینکر، ایک بزنس مین، ایک انجینئر، ایک صحافی، ایک ادیب و شاعر، ایک اداکار و فنکار، ایک سنگر، ایک کسان و دہقان، ایک مزدور و دیہاڑی دار، ایک طالب علم، کوئی بچہ یا بوڑھا اور کوئی مرد یا عورت یہاں تک کہ ہر اِک فرد اِس ملکِ خدا داد پاکستان کیلئے ایک روشن اور چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے اور ہم سب اپنی اپنی پہنچ اور استطاعت کے مطابق پاکستان کے ہر اچھے اور بُرے ایمج کے ذمہ دار ہیں۔

    تو پھر کیوں ناں ہم سب بطور ایک ذمہ دار شہری اپنی اپنی اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے (قطع نظر اس کے کہ آپ سیاسی طور پہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کو پسند یا نا پسند اور سپورٹ یا مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جہاں ہمارے پیارے ملک پاکستان کی عزت اور وقار کی بات آئے تو ہمیں اپنی ہی کھینچی ہوئی اِن ریڈ لائنز کو خود ہی جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے اپنے اس ملک پاکستان کے حق میں ہونے والی ہر اچھائی کے ساتھ اور ہر برائی کے خلاف کھڑا ہونا ہے) ہمیں اپنے اِرد گرد ہر اُس اچھائی کا ساتھ دینا ہو گا جو ہمارے پیارے مذہب اسلام، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے مطابق ہوں اور ہر اُس برائی کے خلاف دیوار بن کے بھی کھڑے ہونا ہو گا جو آنحضرت ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے برعکس ہوں اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال رح صاحب کے اِن اشعارمیں بھی اسی بات کا درس دیا گیا ہے۔

    اور ایک طرح سے اگر غور کیا جائے تو اس میں اصلاً آپ کو “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہی کی اصل روح بھی نظر آئے گی جس کا حکم ہمیں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بھی بار بار دیا ہے۔

    تو میرے پیارے پاکستانیو! جس طرح سے ڈاکٹر علامہ اقبال رح صاحب نے ہم سب کو یہ کہہ کر ذمہ دار قرار دیا ہے کہ “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” میرے نزدیک اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنے ملک اور قوم کی تقدیر کو خود لِکھ کے (اچھی یا بُری) اِس کو عملی جامہ پہنانا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

    اور اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم اس ملک و قوم کی شان، قدر ومنزلت کو دنیا کے سامنے اچھائی کی صورت میں پیش کرتے ہوئے اپنے پیارے ملک پاکستان کی شان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں یا پھر اس سب کے برعکس ہم اپنے اِس ملک پاکستان کی شان، قدر ومنزلت کو اپنی اپنی برائیوں میں پڑنے کے بعد اقوامِ عالم میں بدنام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

    اور ہم میں سے ہر کوئی اس میں برابر کا شریک ہے۔

    تو اب آخر میں اپنے سب پاکستانیوں سے یہ کہوں گا کہ آپ کبھی بھی اس بات کو فراموش مت کرنا کہ آپ لوگ اُس ملک کے باسی ہیں جو ریاستِ مدینہ کے بعد اسلام کے نام پہ کی گئی ہجرت کے بعد اور ہمارے بزرگوں کی لاکھوں قربانیوں، بہت سے ولیوں کی دُعاؤں اور کئی عظیم لیڈروں کی محنت کے بعد ہمیں نصیب ہوا تھا۔

    اور اب ہم سب پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اِس ملک پاکستان کو اقوامِ عالم میں عظیم سے عظیم تر بنانے کیلئے ہر قسم کی تگ و دو کریں اور اپنے تائیں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔

    یقیناً! اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم سب مِل کے اس ایک مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ڈٹ جائیں تو ایک دن انشاءاللہ ہم اس میں ضرور کامیاب بھی ہو جائیں گے۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو- آمین ثم آمین

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بیچ میں اتوار آگیا تھا مگر چند دن پہلے کی بات ہے کہ بھارتی فواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دنیا کے سامنے اڑنے لگے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ناThe man behind the gun always matters ۔ اب مسلسل ناکامیوں کے سبب بھارتی افواج کے دو بڑے آپس میں لڑ پڑے ہیں ۔۔ بپن راوت نے زمینی افواج کو برتر کہا ہے جبکہ بھارتی ائیر فورس کو معاون کہا ہے ۔

    ۔ اب یہ بپن راوت کی جانب سے ایئر فورس پر ایک ڈائریکٹ حملہ تھا تو بھارتی ایئر چیف نے بھی بیان داغ دیا ۔ اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کے بیان کی نفی کر دی۔ کہ بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو کبھی رافیل طیاروں میں کرپشن، پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے۔۔ حالانکہ شفاف تجزیہ کیا جائے تو بھارتی فوج ۔ ایئر فورس اور نیوی سب ہی ہر جگہ ہر معاملے میں ناکام ہی ہوئی ہیں ۔ ۔ ویسے ہم کو سی ڈی ایس بپن راوت کا شکرگزار ہونا چاہیئے اور دعا کرنی چاہیئے کہ ان کا یہ عہد یوں ہی سالوں سال چلتا رہا ہے ۔ کیونکہ ان کی بدولت ہی دنیا کو معلوم ہورہا ہے کہ بھارتی افواج کوئی منظم فورس نہیں بلکہ ایک ملیشیاء ہیں ۔ ۔ جہاں افسران کو جنگ لڑنا تو نہیں آتا مگر کرپشن کرنی آتی ہے ۔ جہاں یہ تو نہیں پتہ کہ جہاز اُڑانا کیسے ہے مگر رافیل ڈیل میں دیہاڑی لگانی آتی ہے ۔ جہاں افسران کو یہ تو نہیں پتہ کہ سرحد پر کھڑے جوان کوکھانے کے لیے سوکھی روٹی اور دال کیسے پہنچانی ہے مگر یہ پتہ ہے کہ اپنے سے جونئیرز اور انکی بیگمات کو جنسی ہراساں کیسے کرنا ہے ۔ ۔ تو میری نظر میں چاہے بپن راوت ہوں بھارتی ایئر چیف ہوں یا بھارتی نیوی تینوں ہی فیل ہیں ۔ کیونکہ بھارتی فوج نے لداخ میں مار کھائی تھی تو ابھی نندن پاکستان چائے پی کر گیا تھا ۔ تو بھارتی نیوی اپنے کھڑے جہاز اور submarinesکو ڈبونے میں مہارت رکھتی ہے ۔

    ۔ میں کچھ آپکو بپن راوت کے کارنامے گنوا دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے تو بپن روات کی سربراہی میں بھارت میں رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا سکینڈل سامنے آیا تھا ۔ جس سے انھوں نے اپنی ہی ایئر فورس کو 45 ہزار 696 کروڑ بھارتی روپے کا ٹیکہ لگایا تھا۔۔ تو یہ ان کے کرتوت ہیں ۔ دراصل ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو 6.25 بلین ڈالر کے ٹھیکے سے نوازا گیا اور تیجا جہاز لینے پر مجبور کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فضائیہ پہلے دن ہی ان جہازوں کو ان کی تکنیکی مسائل کی وجہ سے مسترد کر چکی تھی۔ کیونکہ 1970 ء کے بعد سے MIG-21
    کے حا دثات میں 170 سے زیادہ پائلٹ اور 40 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ بلکہ اس کو میڈیا نے flying cofins کا نام دے دیا تھا ۔یوں مگ-21 کے فرسودہ بیڑے کی جگہ تیجا جہازوں کو متعارف کرایا گیا لیکن اب تک 60 فیصد تیجا گراؤنڈ ہو چکے ہیں۔ مودی حکومت اور بھارتی ائیر فورس کا 27 جنوری کو تیجا جہاز استعمال نہ کرنا اس پروجیکٹ کی ناکامی کا عکاس ہے۔ یوں بھارتی ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری اپنی غیر معیاری پیداوار اور دہائیوں پرمحیط اپنی مسلسل نا کامیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں بد نام ہے۔ دنیا میں خود کو چین کا متبادل اور مقابل متعارف کروانے والا ملک 26 سال میں اپنے تیار کردہ جہاز کی کینوپی کا فالٹ تک درست نہ کر پایا۔ تو یہ کارکردگی بھارتی ایئر فورس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    ۔ دوسرا آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سی ڈی ایس بپن راوت ہی ہیں جن کہ miscalculationکی وجہ سے بھارتی افواج نے 2020میں چین کے خلاف ایک ناکام آپریشن کیا جس میں بھارتی فوج کے افسر سمیت پتہ نہیں کتنے جوان جان کی بازی ہار گئے ۔ چینیوں نے اٹھا اٹھا کر سیدھا اوپر سے نیچے پھینکا تھا ۔ اور اگر آپ کو یاد ہو تب کی اخباری رپورٹس کے مطابق یہ کلی طور پر سی ڈی ایس بپن راوت کا پلان تھا اور بھارتی آرمی چیف کو اس کا کچھ معلوم نہیں تھا ۔ اس آپریشن کی ناکامی کے بعد یہ سننے میں بھی آیا تھا کہ سی ڈی ایس بپن راوت اور بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے کی آپس میں ۔۔۔ توتو میں میں ۔۔۔ بھی ہوئی تھی ۔ چین سے مار کھانے کے بعد بپن راوت یہاں تک نہیں روکا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت جو امریکہ کے کواڈ گروپ میں شامل ہوا ہے یہ بھی بپن راوت کا کارنامہ ہے ۔ کیونکہ اس کو یہ معلوم ہے کہ بھارتی فوج تو کسی صورت چین کا مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔ تو امریکہ کا ہی آسرا ہو جائے مگر وقت نے طے کیا کہ یہ ایک بہت بڑا بلنڈر ثابت ہوا ۔ کیونکہ بپن راوت نے تو بس سوچا کہ امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پتہ نہیں ان کو ٹیکنالوجی سمیت کیا کیا ملے گا ۔ جس سے یہ چین کا بھرکس بنا دیں گے ۔ پر بھارت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا بھارت کو معاشی طور پر کتنا دھچکا لگے گا ۔ چین نے بھارتی اشیاء پر مختلف طرح کی پابندی لگائی ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو معاشی طور پر کافی نقصان پہنچا ۔ اور بھارت چین کے منتے ترالے کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ چین نے جب سے لداخ کے علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ہے ۔ ساتھ ہی بھارت کو اپنی افواج اتنی بلندی پر رکھنے پر اچھا خاصا خرچہ بھی کرنا پڑرہا ہے اوراچھی خاصہ تعداد میں بھارتی افواج کو مستقل طور پر وہاں رکھنا پڑ رہا ہے ۔ یوں بپن راوت کی ایک غلطی جو اس نے شروعات میں ایک ناکام آپریشن کرکے کی اس کا نقصان اب تک بھارت اٹھا رہا ہے ۔

    ۔ پھر بپن راوت نے باوجود اس کے بھارت اندرونی طور پر کچھ نہیں بناتا ہے ۔ یہ آئیڈیا دیا کہ بھارتی افواج کو made in india equipmentاستعمال کرنا چاہیئے ۔ اس فارمولے نے ابھی اپنا اثر نہیں دیکھایا ہے مگر عنقریب آپکو اس کے اثرات بھی دیکھائی دینے لگیں گے ۔ کیونکہ یاد رکھیں خراب tejasبنانے میں تیس سے چالیس سال لگے ہیں اور ساٹھ فیصد تیجا گراونڈ ہیں ۔ پیسوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے ۔ تو یہ made in indiaاسلحہ بھارتی فوج کی ایک اور قبر بننے جا رہا ہے ۔ ۔ اچھا جس مقصد کے لیے بپن راوت کو ایک طرح سے extension دے کر سی ڈی ایس لگایا گیا تھا ۔ وہ مقصد پورا نہیں ہوا ۔ وہ یہ تھا کہ بھارتی فوج ، بھارتی نیوی ، بھارتی ایئر فورس کے آپریشنز کو یکجا کیا جائے ۔ یعنیinteroperabilityبنائی جائے ۔ اس میں تو وہ مکمل ناکام ہوگئے ہیں ۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت سے خوش نہیں ۔ بھارتی ایئر فورس چیف سے ان کا حالیہ پھڈا آپکے سامنے ہے ۔ یقینی طور پر انڈین نیوی کو بھی ان سے شکایات ہوں گی ۔ ۔ کیونکہ بپن راوت سمجھتا ہے کہ ایئر فورس اور نیوی آرمی کے supporting armsہیں ۔ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے ۔ یوں بپن راوت اپنی ہی فورسز کو ایک دوسرے کے سامنے لا رہا ہے ۔ اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے خلاف کر رہا ہے ۔ پھر بپن راوت جو cold star doctrine کی دھمکی دیا کرتا تھا وہ بھی پاکستان کب کا اٹھا کر بحر ہند میں پھینک چکا ہے ۔

    ۔ اس کے علاوہ آپکو یاد ہو یہ وہ ہی بپن راوت ہے جو two war frontsپر اکیلا لڑنے کے دعوے کیا کرتا تھا ۔ یعنی بیک وقت پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ ۔ اب گزشتہ ایک سال سے یہ چین سے معافیاں مانگ رہے ہیں مگر اب وہ ان کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے اور مذاکرات کے نام پر بھارتی افواج کو بھی exposeکررہا ہے اور بھارتی حکومت کے بھی ناک سے چنے چبوا رہا ہے ۔ یوں بھارتی افواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دُنیا کے اُڑانے میں بپن راوت کا کریڈٹ سب سے زیادہ ہے ۔آپ کا کیا خیال ہے ۔