Baaghi TV

Category: متفرق

  • لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

    لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

    بھارت کی ریاست چنئی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ گوتم نے کوویڈ 19 کی ویکسین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے ویکسین لگانے کے بعد ایک آٹو رکشہ کا ماڈل بنایا ہے-

    باغی ٹی وی :انڈین ایکسپریس کے مطابق تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکشے کو کس منفرد طرز سے ڈیزائن کیا گیا ہے رکشے پر نیلے رنگ کا پینٹ کیا گیا ہے اس کے چاروں اطراف سرنجیں نکلی ہوئی ہیں جبکہ چھت پر کورونا ویکسین کی بڑی سی شیشی بھی بنائی گئی۔

    اس رکشے میں ساؤنڈ سسٹم بھی نصب ہے جو اونچی آواز میں لوگوں کو کورونا وائرس کی ویکسین کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

    “میں ویکسینیشن کے بارے میں شعور پیدا کرنے پر کام کر رہا تھا اور میں نے گریٹر چنئی کارپوریشن سے رجوع کیا جو بھی کچھ ایسا ہی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ چنانچہ ہم مل کر ’ویکسین آٹو‘ لے کر آئے۔ یہ منصوبہ دو ماہ قبل تیار کیا جانا تھا لیکن بدقسمتی سے اس میں تاخیر ہوگئی کیونکہ میں کوویڈ ۔19 سے متاثر ہوا تھا ، ”گوتم نے انڈین ایکسپرس کو بتایا۔

    آٹو منی کندن نامی ایک شخص چلاتا ہے جو کارپوریشن کے ہر زون کو روزانہ کی بنیاد پر محیط کرتا ہے۔ گوھم کا کہنا ہے کہ زونل میڈیکل آفیسر انہیں ان علاقوں کی ایک فہرست فراہم کریں گے جہاں ویکسین لگانے کے بارے میں شعور کی کمی ہے۔ اس مہم کے دوران جی سی سی زون کے سپروائزر بھی موجود رہیں گے۔ گوتم اور دیگر رضاکار ویکسین سے متعلق پرچے دیتے ہیں اور لوگوں کوویکسین سے متعلق ان کے سوالات پوچھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    “جی سی سی کی طرف سے بہت کوشش کرنے کے باوجود ، شہر میں بہت سے لوگ اب بھی ویکسین سے آگاہ نہیں ہے۔ خوف کا عنصر بھی ہے۔ ہم ان کو سمجھاتے ہیں کہ ماضی میں ویکسین نے بیماریوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہا کہ اسے ویکسین کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ ٹیکہ لگانے کے لئےمطلوبہ دستاویزات رکھنے والے قریبی پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر میں جاؤ۔ بہت سے لوگ کوویشیلڈ اور کوویکسین کے فرق سے بخوبی واقف نہیں ہیں اور ہم ان سب چیزوں کو آسان زبان میں سمجھا رہے ہیں-

    گوتم نے بتایا کہ آٹو کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر بارش ہو بھی تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا اور یہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔

  • کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت.   تحریر: ایمان ملک

    کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت. تحریر: ایمان ملک

    سوات جسے پاکستان کا سویٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے سرسبز وشاداب میدانوں، خوبصورت مرغزاروں اور شفاف پانی کے چشموں سے مالا مال ہے۔ دنیا کے حسین ترین خطوں میں شمار کیا جانے والا یہ علاقہ، پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب 254 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جب کہ صوبائی دارلحکومت پشاور سے اس کا فاصلہ 170 کلو میٹرہے۔ مگرسنہ 2007ء سے سنہ2009ء کے درمیان دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم (تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی) کے بانی صوفی محمد اور اس کے داماد ملا فضل اللہ کے زیر قیادت طالبان نے سوات میں نظام عدل اور نفاذ شریعت کی آڑ میں ایسا گھناؤنا کھیل رچا کہ اس پوری وادی کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔
    جولائی سنہ 2007ء میں جنوبی ایشیاء کی یہ خوبصورت ترین وادی موت اور تباہی کی وادی میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں سیاحوں کی بجائے خوف کے سائے منڈلانے لگے۔ اور بچیوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانا بند کر دیئے گئے۔ اور ٹی وی سیٹس، سی ڈیز اور کمپیوٹرز کو حرام قرار دے کر نذرِآتش کرنا شروع کر دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بچیوں کے اسکولوں اور سی ڈیز کی دکانوں میں دھماکے ہونے لگے اور پولیس اور سیکورٹی فورسز پر خود کش حملے روزانہ کا معمول بن گیا۔ ملا فضل اللہ کی کھڑی کردہ دہشت گرد "شاہین فورس” نے طالبان کمانڈر سراج الدین کی زیر قیادت بالائی سوات کے اسکولوں، ہسپتالوں اور گورنمنٹ دفاتر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جہاں پاکستان کے قومی سبز ہلالی پرچم کو ٹی این ایس ایم کے سیاہ اور سفید پرچم سے تبدیل کر دیا گیا۔

    اس گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لئے اس وقت کی نگران حکومت نے تقریباً25000 کے قریب سپاہیوں پر مشتمل پاک فوج کے دستے وادی سوات روانہ کئے۔ جن کی کارروائی کے بعد ملا فضل اللہ کے بہت سے ساتھی مارے گئے اور وہ خود فرار ہو گیا۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 13 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو چارباغ اورمٹہ کے علاقوں میں بے دردی سے جانوروں کی طرح ذبحح کیا گیا۔ اور یہیں سے ہی پاکستان میں دہشت اور بربریت کے ایک ایسے باب کا آغاز ہواجس میں پاکستان کے متعدد سول اور عسکری اداروں سے وابستہ اہلکاروں نے جانیں نچھاور کر کے بہادری اور دلیری کی وہ داستانیں رقم کیں جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اوراس لئے ہم سے ڈومور کا مطالبہ کرنے والوں پر یہ لازم ہے کہ پاکستان کے ان شہریوں،فوجی افسران اور جوانوں کی لہو سے لکھی گئی منفرد داستانوں کو پڑھیں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر خود سے سوال کریں کہ کیوں ان کی ڈیرھ لاکھ کے قریب فوج، بے تحاشہ وسائل اور وسیع بجٹ کے باوجود افغانستان میں نہ تو امن قائم کر پائی اور نہ طالبان کے زیر تسلط علاقوں کا کنٹرول حاصل کر سکی؟؟؟

    بہرحال، سوات میں ملا فضل اللہ دوبارہ سرگرم ہوا اس نے پاکستانی ریاست اور اس کے نظام کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان کر دیا جو اس کے شر انگیز نقط نظر میں غیر اسلامی اور غیر شرعی تھا۔ حالات مزید بگڑتے گئے مگر اسی دوران حکومت اور دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم کے بانی صوفی محمد کے مابین ‘امن معائدہ’ طے پاگیا۔ اسی اثناء میں طالبان کی جانب سے ایس ایس جی (اسپیشل سروسز گروپ) کے 4 اہلکار بھی حراست میں لئے گئے جب وہ خوازہ خیلہ بازار میں معمول کے مطابق خریداری کرنے میں مشغول تھے۔ اگرچہ ان اہلکاروں کے پاس اسلحہ موجود تھا مگر پھر بھی انہوں نے امن معائدے کی پاسداری کرتے ہوئے ہر گز کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ اور خود کو چپ چاپ طالبان کے حوالے کر دیا۔ ان ایس ایس جی کے چار اہلکاروں میں سے ایک کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید بھی تھے جنہوں نے اپنے کردار اور عمل سے پاک فوج کے بعد دیگرنوجوان آفیسرز کے لئے ایک ایسی مثال چھوڑی جو سب کے لئے باعث تقلید بنی۔ اور آج اسی لئے ہم سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہمارے آفیسرز کی شہادتوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

    کہوٹہ سے تعلق رکھنے والے اس پاک فوج کے آفیسر نے اپنی ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی جو کہ پاک فوج کی نرسری تصور کی جاتی ہے۔ بعد ازاں پاک فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد کیپٹن نجم نے رضاکارانہ طور پر خود کو ایس ایس جی سروس کے لئے پیش کیا۔ جو عسکری تربیت سازی کے حوالے سے انتہائی دشوارگزار اورکٹھن انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ مگر کیپٹن نجم نے اس تربیت کی ہر مشکل کو آسانی سے عبور کیا اور ایک نڈر، سخت جان کمانڈو بنے جس کا ثبوت انہوں نے اُن بائیس 22 دنوں میں دیا جو انہوں نے اپنے چار دیگر ساتھیوں سمیت طالبان کی حراست میں گزارے۔ ان کی بڑی ہمشیرہ مسز وحیدہ عامر کے مطابق ان کے خاندان کو ان کی حراست کا علم پاک فوج سے نہیں بلکہ دنیا ٹیلی وژن کے اس براہ راست نشر کئے جانے والے انٹر ویو سے ہوا جو بہت عرصے تک علمی حلقوں میں زیرِ بحث رہا۔ دوران حراست کیپٹن نجم کو اپنے گھر والوں سے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کی اجازت تھی ۔ مگر انہوں نے اپنی گفتگو میں کبھی بھی اپنے گھر والوں پر عیاں نہیں ہونے دیا کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں اور نہ ان کے خاندان نے ان پر ظاہر کیا کہ وہ سب جانتے ہیں۔

    کیپٹن نجم کی ہمشیرہ کے مطابق ان کے بھائی ان 22 دنوں میں بہت باہمت اوربا حوصلہ رہے نہ تو ان کا ایمان ڈگمگایا نہ ان کے پاؤں لڑ کھڑائے۔ بلکہ وہ انہیں تاکید کرتے رہے کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو کبھی بھی پاک فوج کو برا بھلا نہ کہا جائے کیونکہ وہ پاک فوج کو اپنا حقیقی خاندان تصور کرتے تھے۔ یہاں واضح رہے کہ یہ تذکرہ سنہ 2009ء میں اپریل کے آخری اور مئی کے اوائل کے دنوں کا ہے جب پاکستان کے حالات بہت خراب تھے اور سرعام میڈیا پر پاک فوج کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جانا معمول سمجھا جاتا تھا ۔ اس دوران کیپٹن نجم کے ایک بھائی اور چھوٹی بہن ملک سے باہر قیام پذیر تھے جنہیں وہاں ان کے موبائل فونز پر طالبان کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے۔ طالبان یہ سب پریشر ٹیکٹکس کے لئے کر رہے تھے تا کہ ان چار اہکاروں کے بدلے ان کی حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل طے پا جائے۔ جو کہ ممکن نہیں ہوئی۔ اسی اثناء میں کیپٹن نجم اور ان کے دیگر ساتھی طالبان کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوئے اور انہوں نے ایک قریبی گاؤں میں پناہ لی۔ مگر وہاں ان کی مخبری ہو گئی اور انہیں وہاں سے بھی بھاگنا پڑا۔ مگراسی دوران ان کا ایک ساتھی ٹانگ پر گولی لگنے کے باعث زخمی ہو گیا اورزمین پر گر گیا۔ اس نے کیپٹن نجم سے کہا، "سر آپ جائیں، مجھے یہیں چھوڑ دیں”۔ مگر کیپٹن نجم ریاض شہید ایک حقیقی کمانڈو تھے وہ کیسے اپنے ساتھی کو وہاں اکیلا چھوڑ سکتے تھے۔ لہٰذا وہ سب اپنے زخمی ساتھی کو بچانے کے چکر میں دوبارہ طالبان کی گرفت میں چلے گئے۔ اب ان کی فون پر گھر والوں سے بات چیت ہونا بھی بند ہو گئی۔ کیونکہ طالبان کو سمجھ میں آچکا تھا کہ حکومت پاکستان اور پاک فوج ان ظالمان سے کسی بھی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کرے گی۔

    اب کیپٹن نجم اور ان کے دیگر تینوں ساتھیوں کو الگ الگ جگہوں پر حراست میں رکھا گیا تھا۔ ایک دن انہیں معلوم ہوا کہ صبح طالبان ان سب کو ذبح کر کے شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو ذبح کر بھی دیا گیا۔ مگر جب طالبان کیپٹن نجم کو لینے کمرے میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کس ماں کے شیر کو للکار رہے ہیں۔ کیپٹن نجم نے ایک ایک کر کے (کمرے میں انہیں لینے کے آنے والے) آٹھ دہشت گردوں کی گردنیں توڑ کر انہیں جہنم واصل کر دیا۔ اوراسی اثناء میں پاکستان کا یہ عظیم لخت جگر کمرے کے باہر کھڑے دہشت گرد کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گیا۔ اور بالآخر 11مئی سنہ 2009ء میں پاک فوج کے اس 24 سالا نوجوان آفیسر کو اپنے آبائی علاقے کہوٹہ میں پورے عسکری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ گو کہ کوئی بھی دنیاوی تمغہ یا اعزاز کیپٹن نجم کی قربانی اوربے مثال بہادری کے شایان شان نہیں مگر بعد از شہادت کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید کو حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ملک و قوم کے لئے خدمات اور عظیم قربانی کے اعتراف میں تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔
    کیپٹن نجم نے اپنے ساتھیوں سمیت جان کے نذرانے تو پیش کئے مگر ان چاروں سپاہیوں کی قربانی ہی تھی جو سوات کو طالبان کے ناپاک قدموں سے پاک کرنے کے لئے آپریشن راہِ نجات اور راہِ راست کا موجب بنی۔ یہ آپریشن آج دنیا بھر کی متعدد ملٹری اکیڈمیز میں ایک ٹیکسٹ کیس کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ جس نے جنت کا نظارہ پیش کرنے والی اس وادی(سوات) کو خوف کے سائے سے نکال کر دوبارہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

    آج ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ہماری افواج اور آئی ایس آئی پر دہشت گردوں سے روابط ہونے کےالزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ اس فوج پر الزامات لگائےجاتے ہیں جس نے کیپٹن نجم سمیت اپنے چار بیٹے شہید کروا دیئے مگران کی جانوں کے بدلےطالبان سے کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی۔ مگر کہیں نہ کہیں تو کوتاہی ہماری بھی ہے کیونکہ بد قسمتی سے ہم آج تک دہشت گردی خلاف جنگ میں اپنی قربانیاں اور اپنے نڈر ہیروز کی کارنامے اس طرح دنیا کے سامنے نہیں لا پائے جس طرح امریکہ اپنے سپاہیوں کی کہانیاں عالمی جنگوں کے بعد اور ابھی افغان جنگ کے حوالے سے منظر عام پر لاتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پروپیگنڈہ وار کا دور ہے۔ جس میں زمینی کارروائی کے علاوہ ذہن سازی اور مثبت سوچ کی نشونما اور ترویج پر بھی توجہ دینا لازم ہوتا ہے۔ اور جہاں ہم شاید بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

    یہ کام صرف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا نہیں بلکہ ہمارے پرائیویٹ میڈیا بشمول فلم انڈسری اور ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ہے کہ وہ آگئے آئیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو فلمانے میں اپنی کردار ادا کریں تاکہ دنیا بھی جان سکے کہ پاکستان دہشت گرد ریاست نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ریاست ہے۔

  • خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    پشتون قوم میں تین اقسام کے نوجوان ہیں۔ اور یہ وہ نوجوان ہیں کہ اگر مل کر ایک ساتھ چلیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔
    پہلی قسم کے نوجوان مذہبی طبقے سے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر شہ کو مذہب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ نوجوان ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جو ان نوجوانوں کے دلوں میں مذہب کے نام پر وطن سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔ یہ نوجوان مذہب کے نام پر خودکش دھماکوں کے لئے تیار کیے جاتے ہیں۔

    دوسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو قوم پرست ہیں۔ ان نوجوانوں کو بچپن سے قوم پرستی کی بناء پر نفرت سکھا دی گئی ہوتی ہے اور ان کے ذہنوں میں یہ بات رکھ دی گئی ہوتی ہے کہ پشتون قوم کو ہمیشہ سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر سطح پر قوم پرستی کا نعرہ لگاتے ہیں اور قوم پرستی کی خاطر پاکستان کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔
    تیسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو سوشل میڈیا پر فعال ہیں۔ یہ نوجوان ہر اس طبقے کی حمایت کرلیتے ہیں جو طبقہ انہیں اپنی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے انہیں پیسے فراہم کرتا ہو۔ یہ نوجوان پیسے کی لالچ میں ملک کے خلاف نفرت پھیلانے سے بھی نہیں کتراتے ہیں۔

    اس وقت پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے اور ملک کے دشمنوں کی یہی سازش ہے کہ پہلے اس ملک کے نوجوانوں کو تقسیم کریں اور پھر انہیں اپنی مفادات کے لئے استعمال کریں۔ اس وقت پاکستان میں 64 فیصد نوجوان ہیں۔ جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہے جہاں نوجوانوں کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک نوجوانوں کے اتحاد کے لئے کوئی پروگرام تربیت نہیں دیا گیا جہاں یہ نوجوان آپس میں بیٹھ جائیں، اور اس کی وجوہات اوپر بیان کر دی گئی ہے۔
    دوسری طرف غیر ملکی میڈیا نے پاکستان میں صرف خیبرپختونخواہ کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ اور ہر واقعے کو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف پیجز بناتے ہیں اور ایسا مواد شئیر کرتے ہیں جو پاکستان اور نوجوانوں کے لئے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ جبکہ نوجوان طبقہ میڈیا کے اس پراپیگنڈے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا پہلا ہدف بھی یہی نوجوان ہیں، کیونکہ نوجوان وہ طبقہ ہے جو جلد اثر انداز ہوتا ہے اور ان کو کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    اسی طرح بہت سے این جی اوز بھی پاکستان کے خلاف کام کرتے ہوئے نوجوانوں کے لئے مختلف تربیتی پروگرام تشکیل دیتے ہیں اور ان تربیتی پروگراموں میں نوجوانوں کو ایسی مواد فراہم کرتے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ ریاستی اداروں کے لئے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہاں نوجوانوں کی ایسی ذھن سازی کی جاتی ہے کہ یہ نوجوان اپنے ہی ریاستی اداروں کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ بیشتر این جی اوز نے پشتون نوجوانوں ہی کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے اور بے روزگار نوجوانوں کو چند روپوں کی لالچ میں ملک کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ان نوجوانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ ملک کتنی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کا نصاب بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ نوجوانوں کی ذہن سازی کرے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال انتہائی ناکارہ ہے ہے۔ جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اول تو طلباء کو دیگر زبانیں سکھائی جاتی ہیں اور جب طلباء میٹرک پاس کرلیتے ہیں تو نہ انہیں علامہ اقبال کے افکار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ قائد اعظم محمد علی جناح کی اس ملک کے لئے قربانیوں سے با خبر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ طلباء ان قومی رہنماؤں کے خلاف تک بولنے لگتے ہیں۔

    پاک فوج نے اس ملک کی حفاظت اور سربلندی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ لیکن اس وقت نوجوانوں کا ایسا ایک طبقہ موجود ہے جو پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ نوجوانوں کے اس طبقے میں پاکستان کے نوجوان کم جبکہ افغانستان کے نوجوان زیادہ ہیں۔ اس طبقہ نے پاکستان کے نوجوانوں کو تقسیم کر رکھا ہے اور یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں امن قائم ہو۔

    بھارت بھی پاکستان کا وہ دشمن ہے جو پاکستان میں امن نہیں چاہتا۔ بھارت بھی ان پشتون نوجوانوں کو اپنی مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے اور مختلف ذرائع سے خاص تنظیموں کو فنڈنگ فراہم کرکے پاکستان اور خصوصاً پاک فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ اگر اس وقت ہم نے اپنے ان مسائل پر غور نہ کیا تو چند ہی سالوں میں اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں ہمیں اپنے دوست اور دشمن کا پتہ تو لگ جائے گا لیکن تب وقت گزر چکا ہوگا۔

  • پاکستان کا عدالتی نظام .تحریر : حمزہ بن شکیل

    پاکستان کا عدالتی نظام .تحریر : حمزہ بن شکیل

    کسی بھی ملک، ریاست کے بنیادی ستونوں میں اہم ترین ستون انصاف کا ہے۔ اسلام بھی دنیا میں عدل و انصاف کی بنیاد پر پوری دنیا میں پھیلا جسے خود پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجہ الوداع کے موقع پر فرمایا کسی کالے کو گورے پر کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ اللہ پاک کے ہاں فوقیت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا اہم واقع بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے .”ایک فاطمہ نامی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کی جاتی ہے جس نے چور کی ہوتی ہے تو اس کے لیے بہت سفارشیں آتی ہیں کہ اس کا تعلق اچھے خاندان سے ہے ان کو معاف کر دیا جاۓ اور اس کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ لیکن اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور فرمایا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اس طرح کرتے تھے کہ امیر کو چھوڑ دیتے اور غریب کو سزا دیا کرتے تھے”

    اس وقت پاکستان میں عدالتی اصلاحات نا گزیر ہو چکی ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے۔ اول تو غریب اور کمزور کو انصاف ملتا ہی نہیں اور اگر مل جاۓ تو اس میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ مظلوم عدالتوں کی خاک چھانتے دنیا ہی چھوڑ جاتا ہے. غریب بیچارہ بے قصور بھی ہو تو کئی کئی سالوں تک عدالتوں کے دھکے کھاتا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور طاقتور اربوں روپے لوٹنے کے باوجود دے دلا کے چند ہی دنوں میں بری ہو جاتا ہے۔

    ایک طرف غریب روٹی یا چپل چوری کرتے پکڑا جاۓ تو ساری عمر جیل میں چکی پیستا ھے اور دوسری طرف لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ اور دن دھاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے رکن بلوچستان اسمبلی مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے نا کافی ثبوتوں کی بنیاد پر رہا ہو جاتے ہیں..

    کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا کیوں کے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ یاد رکھیں جہاں انصاف نہ ہو وہاں کبھی امن نہیں ہوتا اور غربت خیرات سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے۔اللّه پاک بھی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللّه کی عدالت میں صرف انصاف ہوتا ہے اور ظالم پر رحم کرنا مظلوم پر ظلم کرنے جیسا ہے۔ قدرت کا یہ قانون ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یہی مکافات عمل ہے۔

    آزاد اور خود مختار عدالتیں ہی حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ آج پاکستانی عدالتوں میں قریب 21 لاکھ سے زائد مقدمات انصاف کے منتظر ہیں- اس پرانے اور فرسودہ نظام کو اب بدلنے کا وقت ہے۔ ‏عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ موجودہ حکومت کے چند وعدوں میں سے ایک وعدہ عدالتی نظام میں اصلاحات اور تبدیلیاں تھی جو اب تک پورا نہیں ہو سکا۔

    حکومت کو تمام متعلقہ اداروں اور حکام کے ساتھ مل کر عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ سب لوگوں کو فوری اور بروقت انصاف مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جھوٹے مقدمات اور جھوٹی شہادتوں کو روکا جانا چاہئے اور مقدمات کے غیر ضروری التواء کے ذمہ دار ججز اور وکلاء کے خلاف عملی کروائی ہونی چاہئے۔ پارلیمنٹ کو عدالتی اصلاحات پر توجہ دینی چاہئیے۔

    اللّه تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

    {إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ o} [المائدہ:۴۲]
    ” بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ”

    إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
    (الحجرات 9)
    "اللہ قسط سے انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.”

    (حدیث قدسی ، مسلم : 2577 )
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    ” مظلوم کی بد دعا سے بچو ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا _” (بخاری : 1469 ، مسلم : 19)

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں تشریف لاتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں:

    ”اے لوگو! اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کبھی درّہ مارا ہے تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کو برابھلا کہا تو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ اس سے انتقام لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کا مال چھینا ہے تو میرا مال حاضر ہے، وہ اس سے اپنا حق لے سکتا ہے اور تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے انتقام لیا تو میں اس سے ناراض ہوں گا، یہ بات میری شان کے لائق نہیں۔”


  • اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ  سیکھو—— خاص تحریر—— (علی عمران شاھین)

    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو—— خاص تحریر—— (علی عمران شاھین)

    چند روز قبل کینیڈا میں ایک پاکستانی مسلم خاندان کو جو ٹرک کے نیچے کچل کر قتل کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا،میں نے اس پر اپنی ایک اصلاحی مجلس میں کچھ معروضات پیش کیں کہ ہم مسلمانوں کا اس طرح بلاوجہ و بلا ضرورت اپنے ملک چھوڑ کرکافروں کے ملکوں میں جاکر برضا و رغبت و اطمینان رہنا بالکل غلط ہے۔ایسا عمل کرنے والوں کے بارے میں پیارے نبی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ ہے کہ "میں ان سے بری ہوں”

    البتہ وہیں کے مقامی لوگوں کا معاملہ مختلف ہے۔بعد گفتگو نجی محفل ہوئی تو ایک دوست میرے پاس بیٹھ کر کینیڈاویورپ وغیرہ کے” فضائل "بیان کرنے لگے۔

    انہوں نے جب وہاں کی خوبیاں گنوانی شروع کیں تو میں نے کہا کہ ان خوبیوں کو اپنانے سے ہمیں کس نے روکا؟اور اس پر اختلاف کس کا ہے؟ ہمیں خود کو درست کرنا چاہیے، اخلاقی و معاشرتی آداب کو زندگی کا حصہ بنانا چائیے، یہ سب تو میں خود ابھی بیان بھی کر چکا ہوں۔

     

    باتوں باتوں میں انہوں نے ساتھ خود ہی انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کے بہت سے افراد کینیڈا میں ہی مقیم ہیں۔ ان کی پھوپھو حالیہ رمضان کے آغاز میں کینیڈا میں ہی وفات پا گئی تھیں تو ان کی وہیں تدفین ہوئی۔بتانےلگے کہ ان کی قبر کی جگہ کے لئے وہاں ان کی فیملی نے مقامی سرکاری انتظامیہ کو پاکستانی 9لاکھ روپے کے برابر ادا کی تب تدفین ممکن ہوئی۔

    (بصورت دیگر نعش تب تک سرد خانے میں رہتی ہے جب تک رقم کا انتظام نہ ہوجائے اور وہ مسلمان باہم چندہ وغیرہ جمع کرکے کرتے ہیں،اور سرد خانے کا بل بھی بھرنا پڑتا ہے)

    جی، آپ کو معلوم ہے کہ کینیڈا وہ ملک ہے،جو کرہ ارض پر رقبے کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر پے اور آبادی میں پونے چار کروڑ کے ساتھ 37ویں نمبر پر (یعنی ہمارے ایک شہر کراچی سے کچھ زیادہ )البتہ دولت وثروت میں دنیا کے پہلے 10امیر ترین ممالک میں سے ایک،لیکن دل اتنا تنگ اور ظرف اتنا چھوٹا ہے کہ ایک قبر کی جگہ اپنے کسی شہری کو مفت تو کجا کم قیمت میں نہیں دے سکتے۔۔۔۔۔

    میں ابھی پڑھ رہا تھا کہ ہماری ایک عدالت نے آج ہی پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ بڑے شہروں کے پوش امیر علاقوں میں بھی جو چند ہزار روپے لے کر تدفین ہوتی ہے،اسے بھی ختم کرے اور مکمل مفت تدفین کا اہتمام کرے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    اسی دوران ایک اور دوست بتانے لگے کہ ان ملکوں میں بسنے والے ہم پاکستانی وغیرہ تو انگریزوں کے علاقوں میں بہت کم جاتے ہیں کیونکہ ان کی ہم سے نفرت ہی اتنی ہوتی ہے جو برداشت نہیں ہو پاتی۔نائن الیون کے بعد تو وہاں ہر روز کتنی جگہ تارکین وطن مسلمانوں کو چن چن کر مارا جاتا،حملے کئے جاتے ہیں۔

    کمال دیکھئے کہ وہاں آپ پانی سے استنجا نہیں کرسکتے، کیوں کہ کسی بھی استنجا خانے میں پانی رکھنا سخت منع ہے،آپ جتنے مرضی امیر ہوں،گھر میں ملازم نہیں رکھ سکتے،گھر کے سارے کام اہل خانہ نے خود کرنے ہوتے ہیں،مر جائیں تو جنازے میں 40 موحد نمازی مسلمان شامل ہونے والے نہ مل پائیں،

    یہ کیسی زندگی ہے جس کی طرف ہمارے لوگ دوسروں پر محض اپنی سبقت ظاہر کرنے کے لئے لپک لپک کر دوڑے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہی جن کے یہاں ناز نخرے اٹھانے والے بے شمار ہوتے ہیں وہ وہاں محض چمک دمک پر نامعلوم و گمنام زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے سب لٹانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔جن کی یہاں حکومتی موج مستیاں ہوتی ہیں اور ہر طرف ہٹو بچو کی صدائیں ہوتی ہیں وہ وہاں سڑکوں گلیوں ٹرینوں میں ویسے ہی گھوم رہے ہوتے ہیں اور کوئی انہیں دیکھنے والا نہیں ہوتا۔

    اللہ فرماتے ہیں‌
    (اے مسلمانو !)تمھیں کافروں کا دنیا میں عیش و رونق کے ساتھ رہنا کسی دھوکے میں نہ ڈالے،یہ تو تھوڑا سا سامان زیست ہے اور پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ ٹھہرنے کی بہت بری جگہ ہے۔۔۔۔
    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
    سنگ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو۔۔۔۔۔۔
    خاص تحریر۔۔۔۔۔(علی عمران شاھین)

  • دولت عثمانیہ کا آغاز و ارتقا .تحریر: محمد سمیع اللہ

    دولت عثمانیہ کا آغاز و ارتقا .تحریر: محمد سمیع اللہ

    عثمانیوں کا تعلق ایک ترکمانی قبیلے سے ہے۔ جو ساتویں صدی ہجری بمطابق تیرھویں صدی عیسوی کو کردستان میں آباد تھا۔ اور پیشے سے چرواہا تھا۔ چنگیز خان کی قیادت میں جب منگولیوں نے عراق اور ایشیائے کوچک کے مشرقی علاقوں میں حملے کئے تو عثمان کا دادا سلیمان اپنے قبیلے کے ساتھ ہجرت کر کے کردستان سے اناضول کے علاقوں میں ا بسا اور اخلاط کے شہر کو اپنا مسکن بنایا۔ یہ 617ھ 1220ء کی بات ہے عثمان کا دادا سلیمان 627ھ بمطابق 1230ء کو فوت ہوا اور اپنے منجھے بیٹے ارطغرل کو اپنا جانشین بنایا ارطغرل اناضول سے شمال مغرب کی جانب مسلسل بڑھتا رہا اسکے ساتھ تقریبا سو خاندان اور چار سو سے زائد شہسوار تھے۔
    عثمان کا والد ارطغرل جب منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لئے یہاں سے نکلا تو اس وقت اسکے ساتھ چار سو کے قریب خاندان تھے۔ راستے میں ایک جگہ اچانک شوروغوغا بلند ہوا۔ ارطغرل جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ مسلمانوں اور نصرانیوں کے درمیان جنگ کا میدان گرم ہے اور بیزنطنی عیسائی مسلمانوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ ارطغرل کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اپنی پوری قوت اور شجاعت کے ساتھ آگے بڑھے اور اپنے ہم مذہب و ہم عقیدہ بھائیوں کو اس مشکل سے نکالے۔ ارطغرل نے اس زور سے حملہ کیا کہ نصرانیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اور اسکی پیش قدمی مسلمانوں کے لئے فتح کا سبب بن گئی۔ جب معرکہ کارزار ختم ہوا تو سلجوقی اسلامی لشکر کے سپہ سالار نے ارطغرل اور اسکے دستے کی بروقت پیش قدمی کی تعریف کی اور انہیں رومی سرحدوں کے پاس اناضول کی مغربی سرحدوں میں ایک جاگیر عطا کی۔ اس طرح انہیں موقع دیا کہ وہ رومی علاقوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سلجوقی سلطنت کی توسیع کا موجب بنے۔ سلجوقیوں کو ارطغرل اور اسکے قبیلے کی صورت میں ایک طاقتور حلیف مل گیا۔ جنہوں نے رومیوں کی خلاف جہاد میں انکا پورا پورا ساتھ دیا۔اس ابھرتی ہوئی سلطنت اور سلاجقہ روم کے درمیان ایک گہرہ تعلق پیدا ہو گیا جس کا سبب رومی تھے جو انکے مشترکہ دشمن تھے اور مذہب و عقیدہ میں انکے مخالف تھے۔
    ارطغرل جب تک زندہ رہا محبت کا یہ تعلق باقی رہا۔ارطغرل کی وفات کے بعد اسکے بیٹے نے بھی سلطنت سلجوقیہ کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔
    عثمان کی پیدائش::
    656ھ بمطابق 1258ء کو ارطغرل کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ والدین نے اس کا نام عثمان رکھا۔اسی عثمان کی طرف عثمانی سلطنت منسوب کی جاتی ہے۔ یہ اسی سال کی بات ہے جب ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں نے عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد پر حملہ کیا۔ بڑے بڑے واقعات پیش آئے۔مسلمانوں نے بڑی بڑی مصیبتیں دیکھی۔ منگولوں نے شہر میں تباہی مچا دی۔
    انہوں نے مرد عورتیں بزرگ بچے حتی کہ جو بھی ملا اسے قتل کر ڈالا سوائے نصرانیوں کہ یا ان لوگوں کہ جنہوں نے ان کے ہاں پناہ لی۔
    یہ بہت واقعہ اور عظیم حادثہ تھا۔ جس سے انت مسلمہ کو گزرنا پڑا۔ ایک ایسی امت جو اپنی نافرمانیوں اور گناہوں کی وجہ سے کمزور ہو گئی۔ اور اسکی طاقت جاتی رہی۔تاتاریوں نے دل کھول کر خون ریزی کی اور بےشمار انسانیت کو قتل کیا۔مال و دولت کو لوٹا۔ گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ان مشکل حالات میں جب امت مسلمہ کڑے وقت سے گزر رہی تھی دولت عثمانیہ کا مؤسس عثمان پیدا ہوا ۔
    عثمان میں اعلی قائدانہ صلاحیتیں

    شجاعت و حوصلہ مندی: جب بیزنطینوں نے مورصہ، مادانوس، ادرہ، نوس، کتہ، کستلہ، کے نصرانی امراء کو 700ھ 1301ء میں دولت عثمانیہ کے مؤسس عثمان سے جنگ کرنے کی غرض سے ایک صلیبی معاہدہ تشکیل دینے کی دعوت دی اور نصرانی امراء نے انکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نوزائدہ سلطنت کو ختم کرنے کے لئے ایکا کر لیا۔تو عثمان اپنی فوجوں کو لیکر آگے بڑھا خود جنگوں میں گھس گیا اور صلیبی فوجوں کو تتر بتر کر کے شجاعت و بہادری کا شاندار مظاہرہ کیا کہ عثمانیوں کے نزدیک اس کی بہادری ضرب المثل بن گئی۔
    حکمت و دانائی:
    عثمان جب اپنی قوم کا رئیس اعظم مقرر ہوا تو اس نے بڑی عقل ودانائی کا مظاہرہ کیا اور سلطان علاء الدین کی نصرانیوں کے خلاف مدد کی۔ بہت سے ناقابل شکست شہروں اور قلعوں کو فتح کرنے میں اسکے ساتھ رہا اسی وجہ سے دولت سلاجقہ روم کے فرمانروا سلجوقی سلطان علاءالدین نے اسے بڑی عزت دی اسے اپنے نام کا سکہ ڈھالنے اور اپنے ماتحت علاقوں میں اپنے نام کا خطبہ پڑھنے کی اجازت دی۔
    اخلاص و اللہیت : عثمان کے زیر نگیں علاقوں کے قریب بسنے والے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ وہ دین اسلام کا ایک مخلص سپاہی ہے تو وہ اسکی مدد کو کمربستہ ہو گئے اور ایک ایسی اسلامی سلطنت کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لئے متحد ہو گئے جو اسلام دشمن سلطنت کے سامنے نا قابل عبور دیوار بن کر کھڑی ہو گئی
    صبر واستقامت:
    جب عثمان نے قلعوں اور شہروں کو فتح کرنا شروع کیا تو یہ صفت ان کی شخصیت میں نمایاں طور پر سامنے آئی 707ھ میں اس نے یکے بعد دیگرے کتہ، لفکہ، اق، حصار، قوج حصار کے قلعے فتح کئے۔ 712ھ میں کبوہ، یکیجہ طراقلوا اور تکرر بیکاری وغیرہ قلعے فتح کیے۔
    عدل وانصاف:
    اکثر ترکی مراجع جنہوں نے عثمانیوں کی تاریخ قلم بند کی ہے بتاتے ہیں کہ ارطغرل نے اپنے بیٹے بانی دولت عثمانیہ قرہجہ حصار میں قاضی مقرر کیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب 684ھ 1285 ء میں مسلمانوں کا اس شہر پر قبضہ ہوا۔عثمان نے ایک جھگڑے میں ایک مسلمان کی خلاف فیصلہ سناتے ہوئے بیزنطنی نصرانی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔بیزنطینی کو اس سے بڑا تعجب ہوا اور اس نے عثمان سے پوچھا کہ آپ نے میرے حق میں کیسے فیصلہ سنا دیا جبکہ میں آپ کے دین پر نہیں ہوں تو عثمان نے اسے جواب دیا کہ ہمارا دین ہمیں انصاف کرنے کا کہتا ہے تو میں کیسے نہ انصاف کروں عثمان کے اس عدل و انصاف کی بدولت اس شخص اور اسکی قوم کو ہدایت نصیب ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
    وعدہ کی پابندی:
    وعدہ کی پاسداری کا انہیں بڑا خیال تھا وہ جو وعدہ کرتے پورا کرتے۔ قلعہ اولوباد کے بازنطینی امیر نے جب عثمانی سپاہ کے ہاتھ میں قلعے کی چابیاں دیں تو یہ شرط عائد کی کہ کوئی عثمانی سپاہی پل سے گزر کر قلعے میں داخل نہیں ہو گا۔ عثمان نے اسکا پورا پورا التزام کیا اور اسکے جانشینوں نے بھی اس عہد کو نبھایا۔
    عثمان کا دستور حکمرانی:
    دولت عثمانیہ کے بانی عثمان کی زندگی جہاد اور دعوت دین کے لئے عبارت تھی۔ علماء اسلام امیر کو گھیرے رکھتے تھے اور سلطنت میں شرعی احکام کی تنفیذ اور انتظامی امور کی

  • ‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

    ‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

    ‏افغان باشندے یا افغان طالبان یہ دونوں ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ روس جب اسی کی دہائی میں افغانستان کو فتح کرنے آیا تو امریکہ نے افغان لوگوں کو وہاں کے باشندے قرار دیا اور انکی مدد کی تاکہ روس کو شکست ہو۔ البتہ ایسا ہوا بھی لیکن امریکہ کی مدد سے زیادہ افغان باشندوں کی جنگجو سوچ نے مدد کی اور انہوں نے اس وقت کے بہترین روسی ٹینکس کو بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا اور روس کو شکست فاش ہوئی اور بدلے میں روس کو اپنی ریاستوں سے ہاتھ دوھونا پڑا۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہی افغانی باشندے طالبان کہلائے گئے۔ روس تو چلو دس سال رہا افغانستان میں لیکن امریکہ تقریبا بیس سال رہا اور اسکی جنگی صلاحیت روس سے بھی زیادہ طاقتور تھی لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ وہی جو روس کے ساتھ ہوا لیکن روس نے تو کوئی مدد نہیں کی اس بار امریکہ کے خلاف تو امریکہ کس کو الزام دے سکتا ہے اپنی شکست کا؟ امریکہ کو شکست اس لئے ہوئی کہ اس بار بھی امریکہ فوج کی لڑائی طالبان سے نہیں بلکہ افغانی باشندوں سے تھی جو کبھی ہار نہیں مانتے۔ اب امریکہ وہاں سے نکل رہا ہے تو طالبان یعنی افغانی باشندوں کو سول جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

    مگر حقیت بلکل اس کے برعکس ہے۔ امریکہ سے زیادہ طالبان نے سیکھا ہے اس جنگ سے۔ انہوں نے سفارتی تعلقات اتنے اچھے سے استعمال کیے کہ امریکہ کا کوئی مطالبہ بھی امریکہ کے اپنے مفاد میں نہیں گیا اور یوں طالبان نے اپنے سارے مطالبات بھی منوا لئے اور امریکہ کو معاہدے کا پابند بھی کرلیا۔ اب نیٹو ممالک کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ طالبان سول حکومت کو گرا کر لوگوں کا خون بہائیں گے جو کہ بلکل غلط ہے۔ اصل میں یہ امیج اشرف غنی نے بنایا ہے طالبان کا مگر جن شہروں پر طالبان نے اب قبضہ کیا ہے وہ وہاں موجود لوگوں کی مدد سے کیا ہے اور زیادہ تر شہروں میں ایک قطرہ خون بھی نہیں بہا۔ اس سے صاف ظاہر ہے اگلے الیکشن میں حکومت طالبان کی ہوگی یعنی اصل میں لوگوں کی منتخب کی گئی حکومت۔ اگر ایسا ہوا تو کیا امریکہ اس حکومت کو قبول کرے گا تو یقین سے کہہ رہی ہوں کہ ہاں قبول کرے گا آج نہیں توکل۔ اس ایشیائی خطے میں اگر امن قائم رکھنا ہے تو امریکہ اور بھارت کا اثرورسوخ ختم کرنا ہوگا جو کہ امریکہ کے جانے سے ہوجائے گا۔ساری عسکریت پسندی اور شدت پسندی بھارت اور امریکہ کے تعاون سے کی گئی اور اس خطے کا امن برباد کرکے اسلحہ کی مارکیٹ کو فائدہ پہنچایا گیا۔ مجھے یقین ہے طالبان کی حکومت سے لوگوں کے حالات بدلیں گے اور اسکا اثر پاکستان پر یقینا پڑے گا کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کا سب سے بڑا خواہش مند ہے کیونکہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ جیسے بھی ہوں وہ ہوتے تو بھائی بھائی ہی ہیں نا.

  • تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    اب پتہ نہیں یہ افواہ ہے یا یہ خبر جان بوجھ کر گزشتہ دس پندرہ دنوں سے پھیلائی جا رہی ہے ۔ کہ عمران خان نے اپنے چند انتہائی بااعتماد ساتھیوں سے مشاورت کے بعد قبل از وقت انتخاب کی تیاری شروع کردی ہے۔ اور شاید اس سال کے آخر میں یا پھر اگلے سال کے آغاز میں نئے الیکشن ہو جائیں ۔

    ۔ یہ بھی دیکھائی دے رہا ہے کہ عمران خان کے وزراء میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعے ایک نیا ’’بیانیہ‘‘ تشکیل دیتے نظر آرہے ہیں۔ جس میں اپوزیشن کو ہمشیہ کی طرح ’’چور اور لٹیرے‘‘کہہ کر پکارا جاتا ہے اور اپنے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے کرنا تو بہت کچھ تھا مگر حالات ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتیں بگاڑ پیدا ہی بہت زیادہ کرگئی ہیں ۔ پر عمران خان ڈٹ گیا ہے ۔ وہ ان چوروں اور لیٹروں کے سامنے نہیں جھک رہا ہے ۔۔ یہاں تک کہ عمران خان امریکہ کیا ، بھارت کیا ، کسی کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے ۔ اور پھر وہ ہی جنرل مشرف والا فارمولا لگایا جاتا ہے کہ عمران خان کے لیے pakistan first ہے ۔ یہ مسلسل گزشتہ کئی روز سے انٹرویو دیے گئے ہیں جس کا واحد ایجنڈا امریکہ ، افغانستان اور بھارت تھا اس کے بعد سے ٹیم عمران خان کپتان کو ایسا رہنما ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا ناکہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا ۔۔۔جو نہ امریکہ کے آگے جھکتا ہے ۔ نہ مودی کی پرواہ کرتا ہے ۔ نہ کسی مافیا سے ڈرتا ہے ۔ نہ اسٹیبلشمنٹ کی سنتا ہے ۔ اور نہ ہی پارٹی میں کسی بغاوت سے گھبراتا ہے ۔

    ۔ سچی بتاوں تو مجھے نہیں پتہ کہ عمران خان قبل ازوقت الیکشن کروائیں گے یا نہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم نہیں کہ امریکہ کے سامنے وہ یوں ہی ڈٹے رہیں گے یا نہیں ۔ ۔ پر اس سب شور شرابے ، قصے کہانیوں اور سازشوں کے بیچ میں ایک مسئلہ ہے جس پر جان بوجھ کر کسی کی نظر نہیں جانے دی جارہی ہے ۔ وہ ہے روز بروز عوام کی زندگی اجیرن ہونا ۔ صرف بجٹ پیش ہونے اور بجٹ پاس ہونے کے آس پاس کے پندرہ دنوں میں پیٹرول دو دفعہ مہنگا ہوگیا ہے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر نہ کسی کے پاس تسلی بخش جواب ہے نہ یہ معلوم کہ یہ لوڈ شیڈنگ ختم کیسے ہوگی ۔ ۔ لوگوں اور میڈیا کو گول گول دوسری چیزوں میں گھمانے کا ایک گھن چکر جاری ہے ۔ دیکھا جائے تو اپنے اقتدار کے روز اوّل سے عمران حکومت بازار میں کسادبازاری لائی۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے۔ بجلی ، پیڑول اور گیس کی قیمتوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوا۔ روزمرہّ استعمال کی اشیائے کی بڑھتی قیمتوں نے صرف کم آمدنی والوں کی ہی کمر نہیں توڑی اچھے اچھوں کے چینخیں نکوا دی ہیں ۔۔ اگر ان حقائق کو سامنے رکھا جائے تو عمران خان کو قبل از وقت انتخاب بارے سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

    ۔ کیونکہ اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی کہ جب جب وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی سب سے مشکل چیلنج ہے اور ساتھ ہی یقین دلاتے ہیں کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیں گے۔ تو گھی اور آئل کی قیمت میں سات روپے فی کلو اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ۔ عوام نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو موقع ہی اس لیے دیا تھا کہ یہ مہنگائی سے نجات دلائے گی کرپشن کا خاتمہ کرے گی اور کڑا احتساب کرے گی ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو زبوں حال معیشت ملی تھی۔ پر اب حکومتی عوؤں کے مطابق اس میں مضبوطی آ چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ پر اب بھی حکومت کے پاس صرف ایک ہی جواب ہے کہ معیشت اس سے کہیں زیادہ تباہ ہو چکی ہے جس کا اندازہ کیا گیا تھا۔ مسلسل تین سال سے مہنگائی پر قابو پانے کی امید دلائی جا رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ نہ صرف قابو میں نہیں آ رہی بلکہ مزید بھی پھن پھیلائے جا رہی ہے۔ ادھر بیروزگاری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

    ۔ مجھے تو یہ ایک لطیفہ لگتا ہے پتہ آپ اس کو کیسے لیتے ہیں ۔ اگر آپکو یاد ہو تو ان چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی اسمبلی میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔پتہ نہیں اب انھوں نے ٹیکس لگایا ہے یا نہیں پر ہر چیز اپنے آپ مہنگی ضرورہورہی ہے ۔ چاہے پھر وہ آٹا ہو ، چینی ہو ، دالیں ہو یا سبزیاں اور پھل ہوں ۔ ۔ کہا گیا تھا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا مگر بجٹ کے دوسرے دن انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی۔ بجٹ کے چوتھے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

    ۔ اس لیے اب عوام حکومتی گورننس اور وعدوں دونوں سے مایوس نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے دو سال باقی رہ گئے ہیں۔ اگر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو حکومت انتخابات میں عوام سے خیر کی امید نہ رکھے۔ حکومت کو سرپٹ دوڑتے مہنگائی کے گھوڑے کو لگام ڈالنا ہو گی۔ کیونکہ ملکی معیشت کو حکمرانوں کی نظر سے دیکھیں تو سب اچھا کی نوید ہے۔جب کہ غریب طبقے کی آنکھوں سے دیکھیں تو ہر آنے والا دن زندہ رہنے کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔۔ ایک مزدور، دیہاڑی دار، راج مستری، چھوٹا بلڈر، کسی دکان پر بارہ پندرہ سو روپے روزانہ کی ملازمت کرنے والے کے لیے ایک دن کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہیں، چائے پراٹھا کے دام بڑھ گئے، تھڑے پر ملنے والی چائے کا کپ تیس روپے کا ہوگیا ہے۔ مسالے مہنگے، دالیں، سبزیاں، ادرک، پیاز، دارچینی، الائچی، سونف، مچھلی، دودھ ، دہی سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ کوئی خاتون خانہ ایسی نہیں ملے گی جو مہنگائی کے ہاتھوں تنگ نہ ہو، کاروبار ٹھپ، تاجر پریشان، نان، ڈبل روٹی کے ریٹ ہوشربا ہوگئے ہیں ۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ مٹن کو بھول گیا ہے کیونکہ بیف اور چکن بھی اس کی جیب پر بھاری پڑ رہا ہے۔۔ ان حالات میں جب لوگ اقتصادی ترقی، ڈالروں کی برسات جیسے بیانات سنتے ہیں اور اپنے شب وروز دیکھتے ہیں تو انھیں افسوس ہوتا ہے کہ ارباب اختیار زمینی حقائق سے کس قدر بے بہرہ ہیں، یا اتنے سنگ دل اور بے حس ہیں کہ انھیں پتا ہی نہیں کہ ملک میں غریب خانے، مسافر خانے، مفت کھانے کھلا کر ملکی معیشت یا اقتصادی نظام کے مضبوط قلعے نہیں بنا ئے جاسکتے۔ باتیں تو حکمران غربت کے خاتمہ اور ایشین ٹائیگر بننے کی کرتے ہیں لیکن اپنے عوام کو معاشی آسودگی نہیں دے سکتے۔ مہنگائی کے لیے جس ٹائیگر فورس کو لائے تھے، اس کا کسی کو علم نہیں ہے کہ کہاں گئی ٹائیگر فورس۔۔ اس حکومت سے عوام کو امیدیں تھیں، شاید اب بھی ہے لیکن کوئی تو ایسی خبر سنائی دے جس سے غریب کو یقین آجائے کہ وہ اچھے دن بھی آئیں گے۔ جس کے خواب عمران خان نے دیکھائے تھے ۔

  • بچپن کی شرارت قسط 2۔۔۔تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارت قسط 2۔۔۔تحریر: طلعت کاشف سلام

    آج وعدے کے مطابق دوسری قسط لکھنے جا رہی ہوں، اور ان شاءاللہ ابھی یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔

    اچھا ایک بات سچ سچ بتائیں کیا آپ نے بچپن میں کسی کے گھر کی گھنٹی بجا کے بھاگے ہیں😅
    یہ شرارت میری ہر روز کی چلتے پھرتے معمول کا حصہ تھی۔ اسکول جاتے ہوئے، باہر کھیلتے ہوئے کبھی کوئی موقع جانے نہیں دیتی تھی۔
    پاکستان میں جب تھی تو بیل بجا کے معصوم بن کے چلنا شروع کردیتی تھی۔

    اور جب ابوظہبی میں تھی، تو شروع میں بڑی ٹینشن ہوئی کے اب یہ شرارت کیسے کروں، پر جی طلعت بیگم شرارت نہ کریں یہ تو ممکن ہی نہیں تھا اب سوچیں میرے شیطانی دماغ نے کیا طریقہ ڈھونڈا ھو گا۔

    سوچیں سوچیں ہاہاہاہاہاہاہا
    جی جناب ھم ابوظہبی میں اپارٹمنٹس میں رہتے تھے، اور وہاں بلڈنگ کے اندر داخل ہونے کے بعد انٹرکام ھوتے تھے جیسے یہاں ہوتے ہیں۔ اور اس زمانے میں کیمرے بھی نہیں ہوتے تھے۔ سوچیں میرے شرارتی یا شیطانی دماغ نے کیا سوچا، جی بلکل میں جب نیچے جاتی یا اوپر آتی، آتے جاتے 3 سے 4 لوگوں کو انٹرکام کردیتی۔ وہ فون اٹھا کے ہیلو ہیلو چیختے رہتے اور ھم(میں اور میری بہنیں) سایڈ میں چھپ کے انکے فون بند کرنے کا انتظار کرتے جیسے ہی بند ھوتا واپس جا کے اسے دوبارہ فون مار دیتے، اور پھر باہر جا کے کھیلنا شروع کردیتے، ایک بار تو ایک بندے نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی، وہ بیچارہ نیچے تک آگیا اور ھم وہاں معصوم بنے کھیلتے رہے۔ میری بڑی بہن مجھے اس حرکت سے بہت روکا کرتی تھی، پھر جب مزا آتا تو خود بھی ساتھ شامل ھو جاتی تھی۔

    یہ تو تھی ایک شرارت اب شرارت کا دوسرا لیول بھی سنیں، ویسے اب سوچتی ہو تو اپنی حرکتوں پر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کے بیچارے عربیوں، گوروں کے ساتھ ملباریوں کو بھی خوب تنگ کیا، ھمارے سامنے والے اپارٹمنٹ میں ایک امریکن فیملی رہتی تھی، میرے ابو اور پڑوسی دونوں اتصالات میں جوب کرتے تھے۔ ایک دن  انکا نمبر ابو کی ڈائری سے چوری کیا اور اسکے بعد نیچے گروسری شاپ میں فون کرکے پیپسی لانے کا کہا اور اپنے بجائے اسکا فون نمبر اور اپارٹمنٹ نمبر دے دیا، اور جب بیچارہ ملباری پیپسی دینے ایا تو میجک آئی سے انکھ لگا کے باہر دیکھتی رہی ہاہاہاہاہاہاہا وہ بیچارہ سامنے والا بھی اتنا اچھا تھا کے اس نے خاموشی سے پیپسی لے کے اسے پیسے دے دئے، اور جب میں نے یہ دیکھا تو ہر روز یہ کچھ نہ کچھ آرڈر کرنے لگی۔ اور وہ معصوم بس یہی کہتا کے میں نے تو آرڈر نہیں کیا تھا پر چلو تم آگئے ہو تو دے دو۔

    آپ بھی سوچتے ہونگے کے اتنی سوبر دیکھنے والی طلعت بچپن میں شیطان کی پڑیا تھی۔ ویسے میرا بس چلے تو بیل بجانے والی حرکت ابھی بھی کروں، یقین کریں جب میں کبھی کوئی شرارت کرنے کا سوچ بھی رہی ہوتی تو میری بیٹی میرا چہرا دیکھ کے ہی سمجھ جاتی کے مما کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے اور وہ پہلے ہی کہنا شروع کر دیتی، نو مما پلیز نو ہاہاہاہاہاہاہا
    چلیں آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے، پھر لیں گے ایک اور دوسری شرارت کے ساتھ۔۔۔

  • بلوچستان اور فاٹا  اللہ تعالیٰ کا  انمول تحفہ  اور پاک فوج  کی انتھک محنت کا ثمر.تحریر: امان الرحمٰن

    بلوچستان اور فاٹا اللہ تعالیٰ کا انمول تحفہ اور پاک فوج کی انتھک محنت کا ثمر.تحریر: امان الرحمٰن

    رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ قدرتی خوبصورتی بلند پہاڑوں ، چشموں اور معدنیات سے مالا مال فطرت کا تحفہ ہے۔ اس سے متصل خیبر پختونخوا میں فاٹا کا علاقہ ہے۔ بلوچستان میں وزیرستان اور فاٹا دونوں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدیں مشترک ہیں۔ سوویت یونین اور پھر امریکہ کے ذریعہ افغانستان پر حملے کے نتیجے میں ، افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان منتقل ہوگئی۔ آج بھی ، پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 300،000 سے زیادہ ہے جو گذشتہ 30 سالوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ ان مہاجرین میں سے زیادہ تر وزیرستان اور فاٹا سے آئے تھے۔ وہ بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے پاکستان آتے جاتے تھے

    منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ
    جب پاکستانی عوام اور حکومت افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے تھے ، کچھ مجرم ذہنیت پسند لوگوں نے آزادانہ تحریک کا فائدہ اٹھایا اور تینوں ممالک کے مابین بڑے پیمانے پر اسمگلنگ شروع کردی۔ جنگ سے تباہ حال بے روزگار افغانوں نے بھی منشیات بنانا شروع کردیا ، کچھ مقامی افراد بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ان مجرموں کا لالچ بڑھتا گیا اور آہستہ آہستہ وہ دہشت گردوں کے حامی بن گئے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اسے نقصان پہنچانے کا موقع کبھی نہیں کھوتا ہے۔ بھارت نے وزیرستان کے اسمگلروں کی مدد سے بلوچستان میں دہشت گردوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا اور پورے پاکستان میں بم دھماکے کیے ، جس سے ہزاروں بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔ بلوچستان سے ہندوستانی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور انکشافات نے ہندوستان کا بدصورت چہرہ پوری دنیا کو ظاہر کردیا۔ کلبھوشن نیٹ ورک کو ختم کرنے کے بعد ، پاکستانی فوج نے وزیرستان سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے فوجی آپریشن شروع کیا۔

    آپریشن ضرب عضب
    آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 180 بچے شہید ہوگئے۔ تب پوری قوم نے پاک فوج سے مطالبہ کیا کہ ان درندوں کو اس ظلم کی سزا دی جائے۔ اس دن کی حکومت کے حکم پر پاک فوج نے وزیرستان اور فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔ پہلے مرحلے میں ، مقامی افراد کو نکال لیا گیا اور انہیں پناہ گاہوں میں محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ اس کے بعد دنیا کا سب سے انوکھا اور مشکل فوجی آپریشن شروع کیا۔ ایک طویل جنگ کے بعد ، دہشت گردوں کو شکست ہوئی۔ اس کارروائی میں ہزاروں دہشتگرد ہلاک اور سیکڑوں پاکستانی فوجی شہید ہوگئے۔
    اس آپریشن کا تیسرا مرحلہ۔ مہاجرین کی ان کے گھروں کو واپسی بھی مکمل ہوچکی ہے ، لیکن پاک فوج ابھی بھی علاقے میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے کام کر رہی ہے۔

    آپریشن ضرب عضب نے علاقے سے 90٪ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک طویل عرصے بعد زندگی معمول پر آرہی ہے۔ اسکول اور کالج بنائے جارہے ہیں۔ میران شاہ میں پاکستان مارکیٹ نامی ایک بڑا تجارتی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ پاک فوج نے تباہ حال علاقے کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ علاقہ مکین ان سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ دوسری جانب دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردوں کی یلغار روکنے کے لئے پاک فوج سے پاک افغان بارڈر پر جرمانے کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں۔