Baaghi TV

Category: متفرق

  • افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    پاکستان کی سات ہزار میں سے ساڑھے ہانچ ہزار کلومیٹر سرحدیں بھارت اور افغانستان کے ساتھ ہیں جو کسی طور پر بھی محفوظ اور دوستانہ نہیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کے بری طرح براہ راست متاثر ہو گا۔ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بیٹھے گا بھی یا نہیں۔ ۔ دوسری جانب بھارت نے جموں،کشمیر اور لداخ پر غاصبانہ قبضہ کرکے جنونی بھارتی قیادت خطہ کے حالات کو لہو لہان کردینا چاہتی ہے۔ ۔ تیسری طرف (FATF) نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھ کر عالمی پریشر برقرار رکھا ہے۔ ۔ چوتھا اقتصادی طور پر پاکستان بدستور آئی ایم ایف کی کالونی بنا ہوا ہے۔۔ یہ بہت مشکل صورت حال ہے جس سے ملک کو بچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ۔ اس وقت بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت میں بھی ایسے لوگ ہیں اور اپوزیشن میں بھی ایسے لوگ ہیں ۔ جو اپنے اپنے کام سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ حکومت والوں کا لہجہ اپوزیشن کا سا ہے اور اپوزیشن کا حکومت کا سا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ہماری جمہوریت آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے بھاگنے میں لگی ہے۔ میری نظر میں اگر اس وقت پاکستان کا کوئی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو وہ ہے افغانستان کی موجودہ صورتحال ۔ کیونکہ آنے والوں سالوں اور دہائیوں میں جو بھی افغانستان کے حالات ہوں گے وہ پاکستان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوں گے ۔ مگر دوسری چیزوں کی طرح اس معاملے پر بھی ہمارے سیاستدانوں کو کچھ ادراک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے ۔ رہی بات عوام کی تو وہ بھی لگتا ہے صرف ٹک ٹاک بنانےاور دیکھنے میں لگی ہے ۔ کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ ہمارے دروازے پر کیا مصیبت دستک چکی ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی بے ڈھنگا فیصلہ ملک کو ایک بار پھر شدید بحران سے دوچار کرے گا۔ قومی معیشت ویسے ہی کمزور ہے۔ کورونا وائرس نے بھی حالات کی خرابی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اب اگر افغانستان کے حوالے سے کوئی مہم جوئی ہوئی تو پاکستان کے لیے معاملات کو سنبھالنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بیانیے کا دور ہے اور انٹرنیشنل محاذ پر ہم ابھی تک وہ بیانیہ نہیں تشکیل دے پائے جو کہ دینا چاہیے تھا ۔

    ۔ آپ دیکھیں افغان فوج کا مورال گرا ہوا ہے اور اس معاملے میں افغانستان کے صدر پاکستان پر الزام تراشی کا موقع ضائع نہیں کر رہے۔ سوال یہ ہے کہ بیس سال تک امریکا اور اُس کے اتحادیوں سے بھرپور امداد پانے کے باوجود افغان فوج کو اب تک اتنا مضبوط کیوں نہیں کیا جاسکا کہ وہ اتحادی افواج کے بعد ملک کو بہتر طور پر سنبھال سکے؟ اب یہ سوال کوئی نہیں اُٹھا رہا ہے اور ایک بار پھر سارا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ اور شاید عنقریب آپکو پھر سے یہ سننے کو ملے کہ DO MORE ۔ پاکستان کے لیے ایک بار پھر فیصلے کی گھڑی آگئی ہے۔ اہم ۔۔۔ پیش رفت ۔۔۔ یہ ہے کہ پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کھل کر اور واضح پر سامنے آچکے ہیں کہ کسی بھی صورت میں پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ چاہے وہ طالبان کے لیے ہو یا پھر امریکہ کے لیے ۔ پاکستان افغانستان میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا مخالف بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان افغانستان میں خانہ جنگی نہیں چاہتا وہاں مستقل اور پائیدار امن چاہتا ہے اور اسکے لیے ہر حد تک جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ پاکستان افغانستان میں عوامی تائید سے بننے والی حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ یقینی طور پر یہ بڑا اچھا فیصلہ ہے ۔ ۔ پر اصل مسئلہ عالمی طاقتوں کا ہے سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں ۔ کیونکہ چین اور روس کے مفادات اپنی جگہ ہیں امریکہ کے مسائل اور اس کی ضروریات اپنی جگہ ہیں اس میں یہ تو طے ہے کہ ان تمام ممالک کو ہر حال میں پاکستان کی ضرورت ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جائے تو جائے کہاں ۔ یعنی ایک آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے ۔ ۔ اس حوالے سے حکومت کی واضح پالیسی بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ مگر اس حوالے سے دنیا کو قائل کرنا ، دنیا کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے ۔ جتنا ایک اچھا فیصلہ کرنا ہے ۔

    ۔ کیونکہ اس نئی جنگ کے پس منظر بہت سے ممالک اپنی دشمنیاں بھی نبھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کو چوکنا اور ہوشیار بھی رہنا ہے کہ کہیں افغانستان کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ پاکستان ان کی نئی
    battle groundنہ بن جائے ۔ کیا آپ نے نوٹس کیا ہے گزشتہ چند دنوں میں پاکستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ کیا ایک بار پھر سے بڑے شہروں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ شروع ہوگیا ہے ۔ ان تمام چیزوں پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ان سدباب کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ عمران خان کہتے ہیں کہ امریکا جس طور بھارت سے روابط رکھتا ہے بالکل اُسی طور پاکستان کو بھی جگہ دے۔ وزیراعظم شاید بھولتے ہیں کہ بھارت نہ صرف یہ کہ بڑی منڈی ہے بلکہ دنیا کو بڑی تعداد میں ورک فورس فراہم کرنے والا ملک بھی ہے۔ بھارت کسی بھی طاقت سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہے۔ بدقسمی سے ہم نہیں ہیں ۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اندرونی اختلافات اور تضادات سے جان چھڑانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے۔ ۔ دوسری جانب بات سخت ہے پر آپ دیکھیں کہ پاکستانی سیاست کے کردار ایک دوسرے کے ساتھ چلنے اور ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن افغانستان میں اشرف غنی اور طالبان کو دن رات سیاسی حل تلاش کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔ امریکہ تک کو عقل کے ناخن فراہم کرنے کے لیے سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔ لیکن یہی ناخن حکومت ، عمران خان ، نواز شریف ، زدراری یا دیگر اپنے استعمال میں لانے کو تیار نہیں ہیں ۔

    ۔ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں انتہائی اعتماد کے ساتھ یہ بات تو کر دی ہے کہ طالبان سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کابل پر قبضہ نہ کریں۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان وزیراعظم عمران خان کی بات مان لیں گے کیا طالبان، القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروہ اپنے وہ اہداف ترک کر دیں گے۔ جن کے لئے وہ دہائیوں سے لڑ رہے ہیں؟۔ اس لیے اس چیز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ طالبان کی قوت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف وہ دارالحکومت کابل کے دروازے تک پہنچ گئے ہیں اور دوسری طرف افغان قیادت امریکا کے در پر گری ہوئی ہے۔ معاملات بالکل واضح ہیں۔ ۔ افغان قیادت چاہتی ہے کہ امریکا اپنی افواج کا انخلا مکمل ہو جانے کے بعد کی صورتِ حال کے حوالے سے ضامن کا کردار قبول کرے۔ طالبان پر قابو پانا تنہا افغان قیادت یا فوج کے بس میں نہیں ہے ۔ ایسے میں صدر اشرف غنی امریکا اور یورپ سے کوئی باضابطہ ضمانت چاہتے ہیں کہ طالبان کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کی جاتی رہے۔ ۔ پر سوال یہ ہے کہ امریکا کیوں چاہے گا کہ فوج نکالنے کے بعد بھی اس کا افغانستان کے معاملات سے کچھ تعلق رہے؟ اور بالخصوص ایسا تعلق جس میں ذمہ داری بھی نمایاں ہو؟ ۔ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ افغان حکومت کا انجام بھی سویت افواج کے انخلا ء کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کی طرح ہونے والا ہے ۔ اس کے بعد امریکہ کے تشکیل کردہ داعش و القاعدہ گروہوں کے افغان طالبان کے ساتھ تصادم کی صورت میں ایک بڑی خانہ جنگی کا خطرہ ہے ۔ جس کے شعلوں سے پاکستان سمیت افغانستان کے دیگر ہمسائے کسی صورت محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ شاید امریکہ کی خواہش بھی یہی ہے کہ افغانستان بدامنی کے دلدل میں دھنسا رہے۔ کیونکہ جتنا اس خطے میں انتشار ہوگا چین کے سی پیک اور روس کے مفادات کو نقصان پہنچاتا رہے گا ۔ تو ہم کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں خانہ جنگی امریکہ کے مفاد میں ہے اور وہ حالات کو اس جانب ہی موڑ رہا ہے کہ افغانستان خوفناک اور خون خوار خانہ جنگی کا شکار ہو جائے ۔ ۔ کیونکہ جوبائیڈن کا یہ بیان بڑا معنی خیز اور پریشان کن ہے ۔ کہ ہم افغانستان سے جارہے ہیں۔ اب اپنی تقدیر کا فیصلہ افغانوں کو خود کرنا ہوگا۔ افغان قیادت کے لیے یہ ٹکا سا جواب راتوں کی نیندیں اڑانے دینے کو کافی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے پریشانی کا سامان ہوسکتا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں حالات خراب ہیں۔ ۔ اشرف غنی کی قیادت میں وہاں کی سیاسی قیادت شدید بے یقینی کا شکار ہے۔ اُس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا کہ مغرب کے مکمل انخلا کے بعد طالبان سے کیونکر نمٹا جاسکے گا۔

    ۔ اس لیے اب پاکستان کو افغانستان کے حوالے ہر فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ معمولی سی غلطی ایک بار پھر ہمیں داخلی سلامتی کے بحران سے دوچار کرسکتی ہے۔ لازم ہوچکا ہے کہ ہر پالیسی بہت سوچ سمجھ کر اپنائی جائے اور کسی بھی فریق کو بے جا طور پر نوازنے یا اُس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ رکھنے سے گریز کیا جائے۔۔ اس لیے وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سٹیک ہولڈرز افغان معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسی پالیسی بنائیں کہ پاکستان نقصان سے بچ جائے ۔ ورنہ نوشتہ دیوار اب سامنے لکھا دیکھائی دینے لگا ہے ۔ کیونکہ پاکستان ایک بار پھر تاریخ دو راہے پر کھڑا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک تمام فریق مطمئن و متفق نہیں ہونگے ۔ ورنہ امریکہ چلا جائے یا کوئی اور آ جائے۔ افغانستان میں امن نہیں آئے گا۔

  • مٹن کڑاہی کیوں نہیں کھلائی، دولہا بارات واپس لے گیا

    مٹن کڑاہی کیوں نہیں کھلائی، دولہا بارات واپس لے گیا

    بھارت میں دلہن والوں کی جانب سے باراتیوں کو کھانے میں مٹن کڑاہی پیش نہ کرنے پر دلہا بارات واپس لے گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں حالیہ چند دنوں میں عجیب و غریب وجوہات کی بنا پر بارات واپس لے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے حال ہی میں دلہن نے دلہا کی نظر کمزور ہونےکی وجہ سے شادی سے انکار کرتے ہوئے بارات کو خالی ہاتھ واپس کر دیا تھا-

    میڈیا کے مطابق اب ریاست اوڈیشا کے ضلع جے پور میں شادی کی تقریب میں اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب باراتیوں کو حسب وعدہ کھانے میں مٹن کڑاہی پیش نہیں کی گئی۔

    مٹن کڑاہی پیش نہ کرنے پر 27 سالہ دلہا رماکانت پترا اس پر نا صرف ناراض ہوگیا بلکہ شادی سے ہی انکار کردیا دلہن والوں نے دلہا اور اس کے گھر والوں کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن ودلہا مسلسل جھگڑا کرتا رہا اور بارات واپس لے گیا۔

    باراتی اپنے ایک عزیز کے گھر ٹھہرے اور راستے میں پڑنے والے ایک گاؤں کی لڑکی سے دلہا کی شادی کروا کر واپس اپنے گاؤں لوٹے تاکہ بارات خالی واپس آنے کا طعنہ نہ ملے۔

    ادھر دلہن والوں نے اس معاملے پر پولیس سے رجوع کرلیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دلہا دوسری شادی کر چکا ہے اور اب صلح صفائی کی بھی گنجائش نہیں بنتی۔

    فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

  • "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    بد قسمتی سے ہمارا طبقاتی نظام معاشرے کا بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے اس مسئلے کے پسِ آئینہ جو عوامل کارفرما ہیں اُن سے ہر باشعور اِنسان آگاہ ہے مگر ایسی آگہی اور ادراک کا کیا کرنا جس میں ان مسائل کا حل ہی نہ ہو نہ ان کے تدارک کے لئے کوئی کارگر حکمت عملی تیار کی جا سکے اور تفریق کو کم کرنے کے لئے ہم سب کو انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ایسے حالات میں
    ہر شخص اپنے وسائل سے بڑھ کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں رہتا ہے تا کہ اس کے بچے نہ صرف اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں بلکہ معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کے قابل بھی ہوں اور زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکیں
    لیکن دن رات کی تگ و دو اسے غریبی اور مفلسی کی زنجیروں میں جکڑ کر زہنی بیمار کر دیتے ہیں
    ایسے میں امیر طبقے کے لئے بہترین سہولیات ان کے بچوں کے لئے اچھے تعلیمی ادارے

    پروٹوکول، غریب رکشہ ڈرائیور کے لئے چالان کی ادائیگی لازم ہے جب کہ کسی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر قانون کی دھجیاں بکھیرتے امیر زادے کے لئے نہیں کیوں کہ وہ صاحب حیثیت کی اولاد ہے اس کے ماموں چاچو کی فون کال ہمارے نظام سے ماورا ہے دن رات اسی طبقاتی تفریق کی الجھن مڈل کلاس بچوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے
    سکولز کالجز میں امیروں کے بچوں کے لئے الگ رولز دیکھ کر مڈل کلاس بچے رات کو اپنے والدین سے بہت سے سوال کرتے ہیں ایسے میں ان کے والدین انکو کیا بتائیں کہ ان کے سوال غلط نہیں مگر جواب بھی نہیں ہے

    پھر بھی غریب والدین اپنے بچوں کو سنہرے مستقبل کے حوالے سے خوب صورت خواب دیکھا کر آنے والے کل کے لئے مضبوط کرتے ہیں
    اور پھر وہی بچے پڑھ لکھ کر جب کسی اچھی نوکری پر مامور ہوتے ہیں تو ان میں سے بیشتر اپنا ماضی بھول کر خود کو وی آئی پی کیٹیگری میں رکھ کر باقی سب کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں تو فرق کہاں اور کیسے کم ہو سکتا جب کہ انفرادی طور پر کوئی عمل پیرا نہیں ہوتا
    اس طبقاتی تفریق میں کمی کے لئے حکومتی پالیسیز پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تا کہ تعلیم علاج اور روزگار کے لئے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں ورنہ یہ فرق کبھی نہ ختم ہونے والی ایسی لکیر ہے جسے کوئی کبھی بھی نہیں مٹا سکتا۔

  • امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان

    امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان

    سان فرانسسکو: ریاست کیلیفورنیا میں نیا قانون منظور ہوا کہ اگر کوئی 950 ڈالر کے نیچے کوئی چیز چوری کرتا ہے تو پولیس چور کو روک نہیں یا اسے گرفتار نہیں کر سکتی –

    باغی ٹی وی : امریکہ میں کمیونزم اور سرمایہ داری ناکام ہوگئی ، اب جمہوریت کے ناکام ہونے کی باری ہے غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا میں 950 ڈالر سے کم کی چیزیں چوری کرنے پر پولیس چور کو نہ تو پکڑ سکتی یے اور نہ ہی روک سکتی ہے کیونکہ یہ غربت کو مجرم قرار دے رہا ہے کیلیفورنیا میں بہت سے دکانیں اس احمقانہ قانون کی وجہ سے بند ہورہی ہیں

    سان فرانسسکو میں وال گرین پرچون چین اسٹور سے سامان چوری کرتے ہوئے ایک شخص پکڑا گیا جب اسٹور پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے دیکھا اور اسے جانے دیا۔ ویڈیو میں ایک شخص دکھایا گیا ہے جس کا چہرہ چھپا ہوا ہے اور وہ ایک بڑے تھیلے میں سامان اٹھا رہا ہے اور اپنے سائیکل پر بھاگ رہا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے ، اور اس قانون کے غلط استعمال پر مباحثہ شروع ہوا ہے جس نے شمالی کیلیفورنیا کے شہر میں اس طرح کے واقعات کو جنم دیا ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں چوری کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ، خاص طور پر 2014 کے بعد جب اس شہر نے پروپوزیشن 47 نامی ایک متنازعہ قانون پاس کیا۔

    تجویز 47 کے تحت 950 ڈالر سے کم مالیت کا سامان چوری کرنا جرم نہیں بلکہ بدانتظامی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سان فرانسسکو میں یہ ایک عام سی نظر بن گئی ہے ، کیونکہ نئے قانون نے جرائم پیشہ افراد کو عام لوگوں کے لئے محفوظ بنانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

    پولیس اہلکاروں کے مطابق ، اگر کوئی 950 ڈالر سے کم مالیت کی چیزیں چوری کرتا ہے تو ، پولیس کے پاس حوالے کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا ہے اور ملزم وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اگر ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوتا ہے تو ، شاید اسے بینچ کا وارنٹ مل جائے گا۔

    چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بڑی تعداد میں اسٹور بند ہوگئے ہیں۔ اے بی سی نیوز کی خبر کے مطابق ، "شہر کے نگران اہشا صفائے نے کہا ،” پچھلے پانچ سالوں میں سترہ وال گرینز ، تقریبا ہر گیپ کے خوردہ فروشوں کی دکان ختم ہوچکی ہے ، سی وی ایس پر حملہ آور ہے۔

    وال گرین کے عہدے داروں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سان فرانسسکو اسٹورز میں شاپ لفٹنگ کے واقعات میں دوسرے شہروں کے اسٹوروں کے مقابلے میں چوری کے چار گنا زیادہ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

    صافائی نے کہا کہ بہت سارے واقعات میں ، یہ کیمروں کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ چور ایک دن میں متعدد مقامات پر حملہ کرتے ہیں۔ شہر میں اسٹورز بھی امریکہ کی جگہوں پر سیکیورٹی پر 35 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ سان فرانسسکو میں نہ صرف اسٹور کرائم بلکہ پراپرٹی کے جرائم بھی سب سے زیادہ ہیں۔ صورتحال اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اب منظم گروپس شاپ لفٹنگ کا دھندہ چلا رہے ہیں۔

    دی نیویارک پوسٹکے مطابق شہر کے پولیس نے استغاثہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ اٹارنی چیسہ بیوڈین نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پروجیکشن 47 منظور ہونے کے بعد سے گرفتاریوں کی تعداد پر مربوط قوانین کا مجموعی اثر پڑتا ہے۔ گرفتاری کے لئے صاف ہونے والے لاریسی کیسز کی تعداد 2018 میں 4.5 فیصد سے گھٹ کر 2020 میں 2.8 فیصد ہوگئی۔ تاہم ، نیویارک پولیس نے ، معاملات میں چار گنا زیادہ گرفتاری عمل میں لائی۔ سن 2018 میں ، سان فرانسسکو میں لارسی کیسز کی تعداد 18،363 رہی ، جبکہ 2020 میں یہ تعداد 11،062 ہوگئی۔
    https://www.youtube.com/watch?v=S6GcJ7sj7IY

  • بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر

    بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر

    بلوچستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے ساتھ پاکستان کی معاشی ترقی اور تجارت کا مرکز بھی ہے۔ بلوچستان کو قدرت نے محنتی اور جفاکش شہریوں سے بھی نوازا ہے جو پاکستان کا اثاثہ ہیں۔
    مقامی بلوچ رہنمائوں، منتخب حکومت اور افواج پاکستان بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے خوشحالی لا کر بلوچستان کے عام شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ موجودہ حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مربوط حکمت عملی کے ساتھ بلوچستان کے لئے ترقیاتی پیکیج تیار کیا ہے اور اس امر کو یقینی بنیایا گیا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد تک اس ترقیاتی پیکیج کے ثمرات پہنچیں۔
    حکومت بلوچستان کے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لئے 16 ڈیم تعمیر کرے گی جبکہ زیتون کا ایک پروسیسنگ یونٹ اور تین پروسیسنگ یونٹ کھجور کے لئے بنائے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ مقامی کاشتکاروں کو زیتون اور کھجور کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔
    کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی اور قیام امن تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور بلوچستان کے بچوں کو حصول تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے چھ لاکھ چالیس ہزار بچوں کو فاصلاتی تعلیم دی جائے گی اور وہ بڑے شہروں میں اساتذہ سے منسلک ہوں گے۔ وسیلہ التلیم پروگرام کے تحت 83،000 بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی جبکہ حکومت کی طرف سے لڑکوں کے لئے ماہانہ وظیفہ 1500 روپے اور لڑکیوں کے لئے 2 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ مختلف تربیتی ورکشاپس کے ذریعے بلوچستان کے 35 ہزار نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرکے معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے ساتھ انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ میں تمام جدید سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی ہے جس کے لئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں پانچ ڈیجیٹل لائبریریوں کا دوسرا مرحلہ قائم کیا جائے گا۔
    بلوچستان کے لئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیج کے مطابق علاقے کی 57 فیصد آبادی کو بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ اب تک صرف 12 فیصد شہریوں کو بجلی کی سہولت میسر ہے۔ شہریوں کو سفر کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لئے 3،083 کلومیٹر طویل سڑک کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جن پر کام کا آغاز موجودہ مالی سال کے دوران کیا جائے گا۔

    عوام کو صحت کی بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے بلوچستان بھر میں 200 صحت مراکز کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو صحت نشونما پروگرام کے تحت صحت بخش خوراک مہیا کی جارہی ہے۔
    نہ صرف بلوچستان بلکہ خطے کی معاشی خوشحالی کا مرکز سمجھے جانے والے گوادر کی ترقی ایک جامع حکمت عملی کے تحت کی جارہی ہے جس کے لئے اولڈ سٹی ٹاؤن میں طویل مدتی نکاسی آب کے نظام، پانی کی فراہمی اور طویل مدتی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ مقامی آبادی کے دیرینہ مسائل کا خاتمہ ہونے کے ساتھ انہیں دور جدید کی تمام تر سہولیات میسر آ سکیں۔ صحت مند معاشرے کو فروغ دینے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لئے صوبائی محکمہ کھیل اور ثقافت صوبہ بھر میں 33 اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔بلاشبہ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کی تعمیر وترقی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان کے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا رہا بلکہ بلوچستان ترقی کی دوڑ میں بھی خاصا پیچھے رہا مگر دیر آید درست آید کے مصداق موجودہ حکومت کی طرف سے بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنا کر عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی سنجیدہ کوششیں قابل تعریف ہیں۔

  • موجودہ  کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    موجودہ کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی ،وہ شہر تھا جسے روشنیوں اور ستاروں کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا بدقسمتی سے اب کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے میرا کراچی
    پاکستان بھر سے ہر قوم و ذات کے لوگ میرے کراچی میں روزگار کمانے آتے تھے یہ وہ شہر تھا جس کو بہترین دنیا کے شہروں میں چوتھا نمبر حاصل تھا پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی میرے شہر قائد کو،

    کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد سابقہ سٹی ناظم سید مصطفیٰ کمال کے دور نظامت میں ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کراچی پیرس کا منظر پیش کرنے لگا جی ہاں وہ مصطفیٰ کمال جس نے اپنے نظامت کے پانچ سال دن رات ایک کر کے کراچی کی خوب خدمت کی جب لوگ راتوں کو سوتے تھے مصطفیٰ کمال انکی صبح بہتر بنانے کے لئے مصروف عمل رہے 2005 سے 2010 کا یہ دورانیہ کراچی والوں کیلئے تاریخ کا سب سے بہترین وقت رہا ہے یہ وہ وقت تھا جب مصطفیٰ کمال میئر کراچی بنے اور دل و جان سے کراچی والوں کی خدمت کی کیا لیاری ایکسپریس وے جہاں چھتیس ہزار گھر نالوں پر بنے ہوئے تھے وہاں کے رہائشیوں کو مختلف آبادیوں میں آباد کیا یہاں بات ختم نہیں ہوتی کٹی پہاڑی جو پختون بھائیوں کا گڑھ تھا وہاں لوگ جانے سے ڈرتے تھے وہاں پہاڑی توڑ کر راستہ بنانے والے بھی یہی مصطفیٰ کمال ہی تھی آج کراچی والوں کو مصطفیٰ کمال کی یاد تو آتی ہوگی..

    بہرحال یہ وقت تھا جب کراچی شہر دنیا کے پانچ بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا اور آج دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی کا 16 واں نمبر ہے کراچی کے نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے سیاست کو چمکانے کے واسطے کراچی کو لاوارث بنا دیا استعمال کرکے اللّه پاک میرے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسی باکردار قیادت اور باصلاحیت کردار سے نوازے آمین۔

  • فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    بھارت میں 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق چند دن قبل ایک بھارتی لڑکی کے بھائی اور ان کی سہیلی نے ان کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر اخبارات میں رشتے کے لیے ایک اشتہار شائع کروایا۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ اشتہار مزاحیہ تھا اور مذاق میں ہی دیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کو شادی کے لیے 25 سے 28 سال کے امیر لڑکے کی تلاش ہے۔

    مذکورہ اشتہار بھارت کے متعدد چھوٹے اخبارات میں شائع کروایا گیا اور یہ اشتہار انگریزی زبان میں شائع کروایا گیا اشتہار میں بتایا گیا کہ سوشل سیکٹر میں ملازمت کرنے والی 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کو جس کے بال چھوٹے ہیں اور ناک بھی چھیدی ہوئی ہے، اسے شادی کے لیے 25 یا پھر زیادہ سے زیادہ 28 سال کی عمر کے لڑکے کی تلاش ہے۔

    اشتہار میں دولہے کی دیگر شرائط میں لکھا گیا تھا کہ اس کے پاس پیسہ ہونا چاہیے، کم از کم 20 ایکڑ رقبے پر فارم ہاؤس ہونا چاہیے اور یہ کہ اسے زیادہ سے زیادہ ایک بیٹا ہے جس کا اچھا کاروبار بھی ہونا چاہیے ساتھ ہی اشتہار میں ایک ای میل ایڈریس دیا گیا تھا کہ جس پر امیدواروں کو رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
    https://twitter.com/awryaditi/status/1404665961718841347
    مذکورہ اشتہار اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جب کہ ایک کامیڈین اداکارہ نے اسے ٹوئٹ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے اسے ری ٹوئٹ کرنا شروع کردیا بہت سارے دیگر لوگوں کی طرح اس اشتہار پر بالی وڈ کی اداکارہ رچا چڈھا نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا تاہم اس اشتہار کے پیچھے کون لوگ ہیں اس متعلق انڈیا میں خاصی چہ میگوئیاں ہوئیں اور یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا یہ اشتہار درست بھی تھا۔
    https://twitter.com/RichaChadha/status/1404693333599920130?s=20
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اشتہار شائع کروانے والی لڑکی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے بھائی نے ان کی 30 ویں سالگرہ پر مذاق کے طور پر مذکورہ اشتہار شائع کروایا، کیوں کہ بھارت میں عام طور پر جب کسی لڑکی کی عمر 30 سال ہوجاتی ہے تو اس پر شادی کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ انہیں ای میل پر کم از کم 60 ای میل موصول ہوئے ہیں، جن میں انہیں جہاں شادی کی پیش کش کی گئی، وہیں ان پر سخت تنقید بھی کی گئی کہ خود زیادہ عمر کی ہیں مگر انہیں لڑکا کم عمر چاہیے۔

    ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    مذکورہ لڑکی کے مطابق بعض افراد نے انہیں’سونے کی متمنی‘ اور ’منافق‘ تک کہا کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں مگر پھر بھی ایک امیر خاوند کی تلاش میں ہیں ورامیر لڑکے سےشادی کرنے کے بجائے خود پیسے کمانے کے مشورے بھی دیئے جب کہ بعض خواتین نے انہیں فیمنسٹ ہونے کی وجہ سے بھی غصے سے بھرپور ای میل کیے-

    کچھ لوگوں نے اس کے اشتہار کو ’زہریلا‘ قرار دیا اور یہ کہ وہ خود تو فربہ لگتی ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ تمام فیمنسٹس بے وقوف ہوتے ہیں۔ ایک خاتون تو اس قدر ناراض ہوئیں کہ انھوں نے دھمکی دی کہ میرا بھائی مذکورہ لڑکی کو 78 ویں منزل سے نیچے پھینک دے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں جہاں اب بھی 90 فیصد شادیاں ارینجڈ یعنی بغیر پسند کے ہوتی ہیں تو ایسے میں ہر کوئی ایک امیر دولہا چاہتا ہے اس اشتہار میں یہ دیکھنے کے لیے بہت سے لوگوں کو مشتعل کیا گیا اور وہ مشتعل ہو بھی گئے۔

    مزکورہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس اشتہار نے بہت سے لوگوں کی انا کو نقصان پہنچایا ہے ن کے مطابق آپ ایسی باتیں اونچی آواز میں نہیں کہہ سکتے۔ مرد ہر وقت ایک دراز، سمارٹ اور خوبصورت دلہنیں مانگتے ہیں۔ وہ اپنی دولت کے بارے میں شیخیاں بھگارتے ہیں۔ مگر جب صورتحال بدلتی ہے تو پھر وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک عورت اس طرح کا معیار کیسے طے کر سکتی ہے۔

    لڑکی کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار اس صورتحال پر ایک طنز تھا اور میرے خیال میں اس اشتہار پر وہی لوگ خفا ہوئے ہیں جنھیں ایسے اشتہارات میں ایسی سمارٹ، خوبصورت بیگمات کی تلاش ہوتی ہے۔

    اور جو اس طنز پر بھی مشتعل ہوئے ہیں ان سے لڑکی کا ایک سوال ہے کیا آپ روزانہ اخبارات میں ایسے اشتہارات پڑھنے کے بعد ایسی ای میلز تمام ایسی مطلوبہ دلہنوں کو بھی بھیجتے ہیں جو انتہائی پرکشش اور امیر ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ کو یہ پدرشاہی ختم کرنی ہو گی۔

  • دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

    دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں دلہن نے شادی سے انکار کردیا کیونکہ اس کے ہونے والے شوہر کی نظر اتنی زیادہ کمزور تھی کہ وہ چشمے کے بغیر اخبار بھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق خبروں کے مطابق، اتر پردیش کے علاقے صدر کوتوالی میں قصبہ جمال پور ے ارجن سنگھ نے اپنی بیٹی ’ارچنا‘ کی شادی اور قصبہ بنشی کے ’شیوم‘ سے طے کی تھی اور دونوں کے گھر والے تیاریوں میں مصروف تھے۔

    رشتہ طے کرتے وقت لڑکے کی تعلیم کو اولیت دی گئی۔ شِیوم مقررہ وقت پر بارات لے کر پہنچا تو اس کی عینک اس کی شادی میں رکاوٹ بن گئی۔

    شادی کی تقریبات میں دلہن کے گھر کی عورتوں نے دیکھا کہ دولہا نے زیادہ تر وقت چشمہ لگایا ہوا تھا جس پر انہیں اندازہ ہوا کہ شاید وہ چشمے کے بغیر ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتا۔

    رشتہ طے کرتے وقت لڑکے والوں نے یہ بات نہیں بتائی تھی، لہذا ان عورتوں نے عین شادی والے دن دولہا کا ’’امتحان‘‘ لینے کا فیصلہ کیا۔

    تاہم دلہن نے بھی دولہا کو عینک میں دیکھا تو کہا کہ وہ کمزور نظر کے آدمی کے ساتھ شادی نہیں کرسکتی۔ دلہن نے شرط رکھی کہ اگر دولہا بنا عینک کے اخبار پڑھ دے تو وہ شادی کرلے گی۔

    شِیوم نے دلہن کی شرط پوری کرنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام ہوگیا۔دلہن کے اس طرح انکار پر باراتیوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو دلہن کے گھر والوں نے بارات کو ہی خالی ہاتھ واپس لوٹادیا۔

    اس کے بعد انہوں نے مقامی تھانے میں دولہا کے گھر والوں کے خلاف شکایت بھی درج کروا دی جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں دولہا کی اس ’’خرابی‘‘ کے بارے میں نہ بتا کر دھوکا دیا گیا جبکہ دولہا والے شادی کے انتظامات پر دلہن والوں کے اخراجات کی رقم، جہیز میں دی گئی بھاری نقدی اور دولہا کےلیے موٹر سائیکل سمیت دوسرا تمام ساز و سامان واپس کرنے سے انکاری ہیں۔

    شکایت درج کرنے سے پہلے مقامی پولیس نے یہ مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن دولہا والوں کے تعاون نہ کرنے پر پولیس میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

    لڑکی کے والد ارجن سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ لڑکے کی نظر اتنی کمزور ہوگی۔ جب میری بیٹی کو اس بارے میں پتا چلا تو اس نے فوراً شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہم نے بھی اس کا ساتھ دیا-

    بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

  • نیوز اینکر نے براہ راست نشریات کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا

    نیوز اینکر نے براہ راست نشریات کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا

    لیوکاسا : نیوز اینکر نے براہ راست نیوز بلیٹن کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی افریقا کے ملک زمبیا میں نجی ٹی وی چینل (کے بی این ) ٹی وی سے تعلق رکھنے والے نیوز اینکر کلیمینا کبیندا نے براہ راست نشریات میں تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔

    اینکر نے بلیٹن کے اختتام پر کہا ہم انسان ہیں، ہمیں تنخواہ دی جانی چاہیے، بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے، مجھے اور میرے کچھ ساتھیوں کو تنخواہ نہیں دی جا رہی، ہمیں تنخواہ ملنی چاہیے۔


    بعد ازاں کلیمینا کبیندا نے نیوز بلیٹن کا ویڈیو کلپ اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کردیا اور لکھا کہ ہاں میں نے لائیو ٹی وی پر ایسا کیا، کیونکہ بہت سے صحافی اس بارے میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں آواز نہیں اٹھانا چاہیے۔

    نیوز ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اپنےبیان میں اینکر کے الزامات کا جواب نہیں دیا سی ای او کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اینکر کلیمینا نشے کی حالت میں تھے-

    انہوں نے کہا کہ کے بی این نے ملازمین کی شکایات کے لیے ایک بہترین نظام بنا رکھا ہے جہاں کوئی بھی ملازم اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے، لیکن اینکر نے براہ راست بلیٹن میں ایسا کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی مزید تحقیقات کرائیں گے کہ اینکر کو نشے کی حالت میں نیوز بلیٹن کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔

  • یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    سڈنی: آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی ہیں جو مینڈکوں سے باتیں کرنے کےلیے انہی کی طرح ’’ٹر ٹر‘‘ کرتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی نے مینڈکوں کی طرح ٹرانےمیں مہارت حاصل کی ہے وہ مینڈکوں کی آوازوں کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور ٹرّا کر انہیں جواب دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور جب مینڈک ٹرّا کر انہیں جواب دیتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

    پروفیسرمائیکل ماہونی نے”رائٹرز” کو بتایا کہ جب وہ مینڈکوں کو پکارتے ہیں اور انہیں جواب ملتا ہے تو انہیں خوشی ہوتی ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ مینڈک خاموش نہ ہوجائیں-

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں مینڈکوں کی 240 انواع پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے تقریباً 30 فیصد کی بقاء کو ماحولیاتی تبدیلیوں، بیماریوں، قدرتی پناہ گاہوں کی تباہی،سائٹرائڈ فنگس اور پانی کی بھیانک آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے ماہونی نے کہا کہ عالمی سطح پر تمام خطوں میں ورٹیبریٹس میں سب سے زیادہ خطرہ مینڈکوں کو ہے۔

    70 سالہ پروفیسر ماہونی اپنے طویل کیریئر میں مینڈکوں کی 15 انواع بھی دریافت کرچکے ہیں۔ جبکہ انہوں نے مینڈکوں کی کچھ انواع کو ناپید ہوتے بھی دیکھا ہے-

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    ماہونی نے کہا ، "شاید میرے کیریئر کا سب سے افسوسناک حصہ یہ ہے کہ ایک نوجوان کی حیثیت سے ، میں نے ایک مینڈک کو دریافت کیا اور اس کے دو سال کے اندر ہی پتہ چلا کہ مینڈک ناپید ہو گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ "میں نے اپنے کیریئر کے شروع میں ہی اس سے آگاہی حاصل کرلی کہ ہمارے کچھ مینڈک کتنے کمزور ہیں۔ ہمیں اپنے رہائش گاہوں کو دیکھ کر یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا غلط ہے۔”

    انہوں نے کہا ، "ہم نے ان کے تباہ کن نقصان کے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے جو کچھ کیا وہ آسٹریلیائی مینڈکوں کے لئے پہلا جینوم بینک قائم کرنا ہے۔”

    ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا کہ 2019 اور 2020 میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے تقریباً تین ارب جانور ہلاک ہوئے تھے جن میں کم از کم پانچ کروڑ مینڈک بھی شامل تھے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    اس عمر رسیدگی میں بھی ماہونی اپنے شاگردوں کو مینڈکوں سے بات کرنے کے طریقے اور انہیں آواز لگانا سکھاتے ہیں۔ البتہ ماہونی یا ان کے شاگردوں میں سے کوئی بھی مینڈکوں کی زبان سمجھنے کا دعویدار نہیں۔

    ماہونی کے تحفظ کے اس جذبے نے ان کے طلباء کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ان میں سے ایک ، سائمن کلو نے ، 2016 میں ماہونی کے اعزاز میں ایک نئے دریافت مینڈک کا نام "ماہونی ٹاڈلیٹ” رکھا تھا۔