Baaghi TV

Category: متفرق

  • ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    ماہرین آثار قدیمہ نے ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق نئے حیران کن انکشافات کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چینی یونیورسٹی کے ماہرین نے 1930 میں چین سے ملنے والی انسانی کھوپڑی پر مزید تحقیق کی تھی۔

    ماہرین کے مطابق زمانہ قدیم کے ڈریگن مین کی آنکھیں مربع شکل اور منہ بڑا تھا ڈریگن مین نامی اس دور کے انسان کا دماغ آج کے انسان سے ملتا جلتا ہے، تاہم اس کے آئی سوکٹ مربع شکل کے تھے جبکہ ڈیڑھ لاکھ سال پہلے زمین پر موجود انسان کے دانت بھی بڑے تھے۔

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    ماہرین کا کہنا ہے کہ راملہ شہر کے نزدیک دریافت کی جانے والی باقیات ایک انتہائی قدیم انسانوں کی نسل کے ’آخری بچ جانے والوں‘ کی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے نے سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ محققین کی ٹیم کے مطابق یہ انسان اس نسل سے تعلق رکھتا ہے جو اس خطے میں لاکھوں سال قبل پھیل گئی تھی اور انھی کی نسل سے یورپ میں نینڈرتھل آئے تھے سائنسدانوں نے اپنی اس دریافت کو ’نیشر رملاہ ہومو‘ کا نام دیا ہے۔

    تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ہلا مے نے کہا کہ اس دریافت کے انسانی ارتقا کی کہانی بدل سکتی ہے، بالخصوص نینڈرتھل نسل کے انسانوں کے بارے میں نینڈرتھلز کے ارتقا کو عمومی طور پر یورپ سے جوڑا جاتا ہے یہ سلسلہ اسرائیل میں شروع ہوا ہمارا خیال ہے کہ یہاں کا ایک مقامی گروپ اس آبادی کا ذریعہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نیشر رملہ نسل کے لوگ مشرق وسطی سے پھر یورپ منتقل ہوتے چلے گئے۔‘

    ماہرین کی اس ٹیم کا کہنا تھا کہ اس گروپ سے تعلق رکھنے والے پہلے ممبران کوئی چار لاکھ برس قبل موجود تھے محققین کو اس نسل میں اور یورپ میں ملنے والے نینڈرتھلز نسل سے بھی پہلے کے انسانوں میں کچھ مماثلت نظر آئی ہے۔

    تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ریچل سارگ کہتی ہیں کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ہم نے لیوانت (بحیرۂ روم کا مشرقی علاقہ) میں رہنے والے ماضی کے انسانوں میں سے کوئی تعلق جوڑا ہوقاسم، زوتیاہ اور تبون کی غاروں سے ایسے کئی انسانی فوسلز ملے ہیں جنھیں ہم اس زمانے میں موجود ہیں انسانوں کے کسی مخصوص گروہ سے منسوب نہیں کر سکت۔ لیکن ان کی شکلوں کا نوشیر رملا سے ملنی والی نئی باقیات سے موازنہ کرنے سے (نئے انسانی) گروہ میں ان کی شمولیت کا جواز بنتا ہے ڈاکٹر مے کے مطابق یہ انسان نینڈرتھل نسل کے آباؤ اجداد تھے۔

    ’یورپی نینڈرتھل دراصل یہاں لیوانت سے شروع ہوئے تھے اور پھر یورپ ہجرت کر گئے، جبکہ انسانوں کے دوسرے گروہوں کے ساتھ ان کے جنسی تعلق سے بچے پیدا ہوتے رہے۔

    پروفیسر اسرائیل ہرشکوٹز کہتے ہیں کہ باقی کچھ افراد مشرق میں انڈیا اور چین کی طرف نکل گئے۔ اس طرح وہ یورپ میں قدیم مشرقی ایشیائی انسان اور نینڈرتھلز کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں مشرقی ایشیا میں دریافت ہونے والے کچھ فوسلز کی خصوصیات نیشر راملہ کی طرح نینڈرتھل سے ملتی جلتی ہیں۔

    محققین کہتے ہیں کہ ان کے دعوے اس بنیاد پر ہیں کہ اسرائیل میں ملنے والے فوسلز اور یورپ اور ایشیا سے ملنے والے فوسلز میں کئی خصوصیات مشترک ہیں، اگرچہ ان کا یہ دعویٰ متنازعہ ہے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کرس سٹرنگر حال ہی میں چینی انسانی باقیات کا مطالعہ کر رہے تھے۔

    پروفیسر کرس سٹرنگرکہتے ہیں کہ نیشر رملہ اس لیے اہم ہے کہ یہ تصدیق کرتی ہے کہ زحتلف سپیشیز اُس وقت خطے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتی تھیں اور اب ہمارے پاس مغربی ایشیا میں بھی یہی کہانی ہے تاہم، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اسرائیل کے کچھ پرانے فوسلز کو نینڈرتھلز سے جوڑنا ایک دور کی کوڑی ہے۔ میں نیشر رملہ اور چین کے فوسلز کے مابین کسی تعلق کی بات پر بھی حیران ہوں۔‘

    نیشر رملہ کی باقیات ایک ایسی جگہ سے ملی تھیں جو کبھی ایک سنک ہول ہوا کرتا تھا، اور اس علاقے میں قدیم انسان آیا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وہ علاقہ رہا ہو جہاں وہ جنگلی جانوروں، گھوڑوں اور ہرنوں کا شکار کرتے ہوں، جسکا اشارہ ہزاروں پتھر کے آلے اور شکار کیے گئے جانوروں کی ہڈیوں سے ملتا ہے۔

    یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے ڈاکٹر یوسی زیدنر کے ایک تجزیے کے مطابق یہ اوزار بھی اسی انداز میں بنائے گئے تھے جس طرح اس وقت کے جدید انسان نے اپنے لیے بنائے تھے یہ حیران کن بات ہے کہ قدیم انسان بھی اسی طرح کے آلات استعمال کر رہے تھے جو عموماً ہومو سیپیئنز یا موجودہ نسل کے انسان استعمال کرتے تھے۔‘

    ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف اسی طرح ممکن ہے کہ آلات کو (بنتا) دیکھ کر یا زبانی طریقے سے سیکھ کر ہی بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری دریافتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ارتقا بالکل سادہ نہیں ہے اور اس میں انسان کی مختلف سپیشیز کے درمیان بہت سا انتشار، روابط اور تعامل شامل ہے۔‘

    یاد رہے کہ چند ماہ قبل مشرقی کینیا کے ایک غار میں چھوٹے بچے کی ہڈیاں ملی تھیں جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ افریقہ میں سب سے قدیم تدفین ہے۔

    یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ہے ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا تھا لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔

    اس بچے کی عمرعمر 2 ½ اور 3 سال کے درمیان تھی ایک اندازے کے مطابق باقیات 7 8ہزار سال پرانی ہیں۔

    شواہد بتاتے ہیں کہ اس بچے ’مٹوٹو‘ کی موت قدرتی طور پر ہوئی تھی جبکہ اسے مرنے کے فوراً بعد ہی پورے اہتمام سے دفنا دیا گیا تھا ’مٹوٹو‘ کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر قبر میں اتارنے کے بعد، اس کے ننھے سر کو کسی نرم تکیے جیسی کسی چیز پر رکھا گیا اور اسے سیدھی (دائیں) کروٹ سے لٹا کر دفن کیا گیا ٹانگیں جوڑ کر سینے کی طرف اکٹھی کی گئی تھیں۔

    3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

  • امن و محبت کی علمبردار۔۔۔۔ ایف سی فورس پاکستان ! تحریر:ذیشان ہوتی

    امن و محبت کی علمبردار۔۔۔۔ ایف سی فورس پاکستان ! تحریر:ذیشان ہوتی

    فرنٹیئر کور (ایف سی) ایک پیرا ملٹری فورس ہے جو پاک-افغان اور پاک-ایران بارڈر سے منسلک حساس علاقوں اور قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی کے فرائض ادا کر رہی ہے۔
    سال2001 کے بعد خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع سمیت پورا صوبہ پڑوسی ملک افغانستان کے قریب تر ہونے کی وجہ سے دہشتگردی جیسی آگ کی لپیٹ میں آگیا جس کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ہزاروں لوگوں نے بھی اپنی جانیں قربان کیں اور کئی لاکھ خاندان بھی متاثر ہوئے۔ ان مشکل حالات میں ایف سی اور دیگر سیکیورٹی ادارے جہاں قبائلی علاقوں کی سرحدوں کا دفاع کر رہے تھے وہیں پختون روایات سے باخبر فرنٹیئرکور نے قبائلی علاقوں میں دہشتگردی سے متاثرہ لوگوں کے سروں پر دست شفقت رکھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران عوام کی خدمت اور ان کے جان و مال کے تحفظ میں آئی جی ایف سی سے لیکر فرنٹیر کور کے جوان تک ہر شخص بہ نفس نفیس شامل رہا جس نے ملک کے دفاع اور عوام کے تحظ کی قسم کھائی ہے۔

    خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع سمیت پورے پاکستان کو مستقل طور پر دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کیلئے ایف سی نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا آغاز کیا جسکو انتہائی مہارت اور خوش اسلوبی کیساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔
    ایف سی کے افسران بشمول جوانوں نے ارض مقدس کی سرحدوں کا نہ صرف جوانمردی سے دفاع کیا بلکہ دہشتگردی کے ناسور سے متاثرہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ بھی برقرار رکھا تاکہ عوام میں احساس محرومی پیدا نہ ہو جو ایک انتہائی شفیق اور بہترین عمل تھا۔ ایف سی نے عوام سے سناشائی کو بڑھایا اور ان میں گھل ملنے کے لئے ان کی ہر غمی خوشی میں شرکت کی۔ اس کی ایک بڑی مثال حالیہ ضلع مہمند کے زیارت ماربل کا حادثہ تھا جب فرنٹیر کور نے عوام کے دکھ کو اپنا سمجھتے ہوئے ان کے آنسؤں کو پونچھنے اورانہیں دلاسہ دینے کے لئے نہ صرف اپنا کندھا پیش کیا بلکہ ان کے خاندان کی مالی مدد بھی کی اور ساتھ ساتھ ان کے گھر کے ایک فرد کو ایف سی میں بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا۔
    فرنٹیر کور کی عوامی خدمت کا سلسلہ یہی پر نہیں رکتا بلکہ ایف سی نے قبائلی علاقوں میں بے شمار ترقیاتی اور خوشحالی کے منصوبے بھی شروع کیے۔ فرنٹیئر کور نے دہشتگردی سے متاثر ان علاقوں کے سکولوں اور کالجوں از سر نو تعمیر اور بحال کیا جن کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا تاکہ قبائلی بچے تعلیم جیسی نعمت سے محروم رہیں۔ ایف سی نے دہشت گردوں کی اس سازش کو ہر بچے کے لیے مفت اور آسان تعلیمی رسائی سے ناکام بنایا۔ کیونکہ فرنٹیئر کور کو معلوم ہے کہ قبائل محب وطن پاکستانی ہیں اور انکے بچے پاکستان کا روشن مستقبل۔ اور کل کو یہ تعلیم یافتہ بچے بھی اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار کریں گے۔ اسی لیے قبائلی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے فریضہ کو اہم اور ترجیحاتی بنیادوں پر لیتے ہوئے پاک فوج، ایف سی اور حکومتی مشران کی بدولت قبائلی علاقوں میں سینکڑوں نئے معیاری تعلیمی ادارے بنائے گئے اور بیسیوں جزوی یا مکمل طور پر تباہ شدہ اداروں کو از سر نو تعمیر کروایا تاکہ ان بچوں کو جو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکے۔ اعلی تعلیم کے کیے قائم کیے جانے والے اداروں میں سے ایک مثال مامد گٹ کیڈٹ کالج ضلع مہمند کی ہے۔ جس میں قبائلی بچے بین الاقوامی معیار کی تعلیم سے مستفید ہورہے ہیں اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
    قبائلی علاقوں میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ چند قدم کا فاصلہ خراب سڑکوں کی وجہ سے گھنٹوں میں طے کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو آمدو رفت میں دقت کا سامنا تھا بلکہ دہشتگردی کی وجہ سے لوگوں کے متاثرہ کاروبار کو سہارا دینے کی بھی اشد ضرورت تھی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے ایف سی کے مشران نے لوکل کنٹریکٹرز اور حکومت کی مدد سے امتیازی مواصلاتی نظام کا جال بچھانا شروع کردیا۔ سینکڑوں کلومیٹر طویل قومی سطح کی بہترین کشادہ سڑکیں بنائی گئیں اور ساتھ ساتھ تباہ شدہ مارکیٹوں کو ایک نئی شکل دے دی جو جدید سہولیات سے آراستہ ہیں۔ اب جس کی بدولت لوگوں کے کاربار میں بھی بہتری آئی ہے اور مقامی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا ہے۔

    قبائلی علاقوں میں امن بحالی کے بعد حکومت اور سیکورٹی اداروں کی اولین ترجیح میں تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ دینا تھا تاکہ یہ لوگ اپنے گھروں کو آباد کرکے نئی زندگی شروع کرسکیں ۔ اس مقصد کیلئے ایف سی کی نگرانی میں شفاف سی ایل سی پی سروے کا آغاز کیا گیا جس میں دو علاقائی مشران، ایک ڈیٹا انٹری آفیسر، ایک انجنئیر اور ایک ایف سی کیپٹن شامل تھا۔ پانچ افراد پر مشتمل اس کمیٹی نے متاثرہ خاندانوں کا شفاف ڈیٹا اکھٹا کیا جسکی بنیاد پر پی ڈی ایم اے کیجانب سے جزوی طور پر تباہ شدہ مکان کے مالکان کو فی خاندان ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے اور مکمل تباہ شدہ مکان والے کو چار لاکھ روپے کا امدادی معاوضہ دیا جاچکا ہے۔ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد خاندان مقیم تھے تو انکو فی خاندان کے حساب سے مندرجہ بالا معاوضہ مل چکا ہے اور یہ عمل تاحال جاری ہے۔
    قبائلی عوام کو صاف پانی کی فراہمی ایک خواب تھا جسکو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے ایف سی نے ہر قبائلی ضلع میں صاف پانی کے سینکڑوں پلانٹس لگائے تاکہ لوگوں کو گھر کی دہلیز پر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    چونکہ ان علاقوں میں جدید طبی و حفظان صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کا فقدان تھا تو یہاں کے عوام کو علاج معالجے کے لیے مجبوراً پشاور اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا تھا۔ اب ہر تحصیل میں بی ایچ یو اور ہر ضلع میں دور جدید کا ہیڈکوارٹر ہسپتال موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف سی کیجانب سے فری میڈیکل کیمپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے تحت فرنٹیئر کور جدید ترین میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرتی ہے اور دور پار کے دیہاتی علاقوں تک ضروری اور اہم علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔

    قبائلی علاقوں میں اکثر قوموں کے مابین تصادم اور دشمنیوں کا طویل سلسلہ چلا آ رہا تھا جس سے علاقائی لوگوں کو شدید مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ اس شیطانی روایت کو توڑنے اور قبائلی عوام کو متحد رکھنے کیلئے ایف سی مشران اور علاقائی ملکان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کی بدولت آج تک سینکڑوں تنازعات قبائلی روایات کے مطابق امن و عافیت سے حل کروائے گئے ہیں۔
    خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع میں اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور مویشی پالنے سے وابستہ ہے جنکی ضروریات کو دیکھتے ہوئے قبائلی اضلاع کے ہر تحصیل میں ویٹرنری ہاسپٹل اور زرعی مراکز بنائے گئے ہیں۔

    دہشت اور خوف کی فضا میں جوان ہوتی ہوئی قبائلی نسل کی ذہنی نشوونما کے لیے ایف سی مشران نے نہ صرف کھیلوں کے میدان بنائے بلکہ ان نوجوانوں کو مالی معاونت بھی فراہم کی گئی تاکہ انکو سپورٹس کٹس خریدنے میں آسانی ہو۔قبائلی علاقوں میں جاری ترقیاتی سفر کی داستان بڑی طویل ہے جسکو ایک آرٹیکل میں سمیٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ جاری اعدادوشمار کے مطابق امن بحالی کے بعد تقریبا 2900 ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے جن میں ایف سی کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ان شاء اللہ فرنٹیئرکور ایسے ہی عوام کی خدمت جاری رکھے گی اور میں ایف سی کے ناقابل فراموش کردار پر انکو دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں
    پاکستان زندہ باد

  • ابلیس کا دربار . تحریر:عمالقہ حیدر

    ابلیس کا دربار . تحریر:عمالقہ حیدر

    شیاطین کی انٹر نیشنل کانفرنس کچھ دیر تک شروع ہونے والی ہے دور دراز سے اور ہر ملک سے جنات جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں اس انٹر نیشنل کانفرس کی سب سے بڑی حیرانی یہ ہے کہ جنات کا سب سے بڑا امیر اس کانفرنس سے خطاب کرے گا یہ امیر ہر سو سال بعد ایک بڑے اجتماع سے مخاطب ہوتا ہے اور خطابت کے بعد پھر سو سال نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اس لیے آج کا اجتماع شیاطین کے لیے بہت اہم ہے کروڑوں شیاطین اپنے محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے بےتابی سے اجتماع کیطرف رواں دواں ہیں پھر اپنے امیر کی وعظ و نصیحت کو اپنے پلو باندھ کر اس پر عمل ہر صورت کرتے ہیں چاہیے اس کی خاطر خون کی ندیاں بھی بہانی پڑ جائیں اس لیے کچھ انسانوں کی دنیا میں بھی گروپ اس بڑے اجتماع میں شریک ہو رہے ہیں ۔ جو اس ابلیسی خطاب سے اپنی سماعتوں کو تسکین دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آئیے شیاطین کے امیر کی بارعب اور گرج دار آواز میں اس کا خطاب سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    *میرے کارندوں آپ جانتے ہیں کہ پچھلہ سو سالہ ہدف جسطرح نے کامیابی سے طے کیا ہے اس کی کارکردگی پر میری آتما بہت خوش ہے۔ جسطرح آپ نے اسلام میں فرقہ پرستی کو ہوا دی اور مسلمان کو مسلمان سے دور کیا اس کی اب مثال نہیں ملتی اور اس کی اور کامیابی کیا ہو۔ ایک ہی اللہ اور ایک رسول اور ایک قرآن رکھنے والے ایک دوسرے کے دشمن ہیں وجہ صرف آپکی بھڑ کائ ہوئ فرقہ پرستی کی آگ ہے ۔ہمیں اگر ڈر ہے تو صرف اسلام سے ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو ہماری ابلیسی پالیسی میں رکاوٹ ہے۔ اس لیے اس آگ کو مزید تیز کر کے اسلام کو منتشر کر دو لیکن آج کے اس بڑے اجتماع سے خطاب کرنے کا مقصد یہ لے کر آیا ہوں کہ اب آپ نےمزید اسلام کو کیسے کمزور کرنا ہے تاکہ اس کا نام بھی مٹ جائے کیونکہ ہماری فرقہ پرستی کا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اسلام کی نئ نسل ہماری اس پالیسی سے خوب واقف ہو گئ ہے ۔نئے نوجوان دوسرے کے مسلک کو ادب سے دیکھتے ہیں اس لیے مجھے نئ پالیسی کا اعلان کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہم نے اگلے سو سالہ کا سوچنا ہے کہ اسلام کے مقلدین کی کیسے دھجیاں آڑانی ہیں یہی وہ دین ہے جو مضبوط ہو گیا تو ہماری دھجیاں اڑا دے گا۔ کیونکہ دوسرے مذاہب کو ہم نے جسطرح بے منزل راہوں کا مسافر بنایا ہے اس کی مثال دینا مشکل ہے___

    سنو میرے پیرکارو ۔۔۔۔۔۔۔

    اسلام کے سینے میں مضبوط ترین اگر کوئ چیز محفوظ ہے تو وہ شرم و حیا اگر آج اسلامی تہزیب زندہ ہے تو اسی خوبی کی وجہ سے ہے۔ پچھلی صدی میں ہم نے یورپ میں عورت کا استعمال کر کے یورپ کا خاندانی اور معاشرتی نظام تباہ کیا اب دیکھو وہاں ماں بہن اور بھائ میں شرم و حیا ختم ہو گئ ہے بھائ کی بہن دوستوں کے ساتھ جہاں جائے کوئ روک تھام نہیں عورت کو ہم نے پورن انڈسٹری میں پہنچا کر اسے آزادی نسواں دی ۔اب دیکھو عورت یورپ میں اپنی من چاہی زندگی گزار کر ہماری پالیسی کی آئینہ دار ہے اور یہی ہماری کامیابی ہے اور یہی ہمارا مشن ہے جو ہر دن مزید سے مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے___

    آج کی اگلی سو سالہ پالیسی یہ ہے کہ اب آپ نے اہل مسلم خواتین کے دماغوں میں تحریک آزادی کا تخیل دینا ہے تاکہ وہ حدود و قیود اور حجاب جیسی گھٹیا اور روایتی انداز کو توڑ دے تاکہ مسلم خواتین سب سے پہلے ایک خاوند کی بیوی کہلانے سے نکلے اور اسے یہ حق دینے کی تقویت دینی ہے کہ۔۔۔۔ میرا جسم میری مرضی۔۔۔ اور اس جیسے شاندار نعرے اس کی روح تک اتار دینے ہیں۔ اور کچھ میرے پیروکار نے مزید Tikokاور BIGO LIV جیسے نئے راستوں سے مزید روشناس کرانا ہے کیونکہ ہم جب تک بے حیائ اور برہنہ تراکیب کو عام نہیں کریں گے اسلام کی بنیاد کمزور نہیں ہو گی اس کے لیے مزید پورن گرافی کو عام کرو۔یہی وہ راستہ جس کے ذریعے اس اسلام کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔
    تاکہ یہ جنسی تحریک دماغوں میں رچ بس جائے۔ خاندانی رشتوں کی تمیز ختم ہو ۔اس مشن کی پہلی کامیابی یہ ہو گی کہ جب بہن بھائ میں جنسی
    گفتگو میں کوئ ہچکچاہٹ نہ ہو تو سمجھو کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ۔ہمارا یہ مشن اس صدی میں مقبول ترین ہو گا کیونکہ میری آنکھیں آنے والے زمانے میں بہت کامیابیاں دیکھ رہی ہیں آپس میں اتفاق میں رینا اہل مسلم کی طرح تفرقوں سے دور رہنا اور اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹنا کیونکہ اگر اسلام مضبوط ہو گیا تو ہمارا نام و نشان مٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • ‏ماڈرن شیر . تحریر:عمالقہ حیدر

    ‏ماڈرن شیر . تحریر:عمالقہ حیدر

    ایک بار شیر اور لومڑی میں کسی بات پہ ٹھن گئی.
    لومڑی نے کہا کہ کچھ بھی ہو وہ شیر سے بدلا ضرور لے گی،،
    لومڑی نے جنگل میں ایک بیوٹی پارلر کھولا اور جنگل کے بادشاہ شیر سے عاجزی سے استدعا کی.
    کہ حضور عالی مقام آپ اپنے مبارک قدم ہمارے بیوٹی پارلر میں رکھیں اور اسکا افتتاح کیجیے ،،
    شیر ہنسا اور کہا کہ اے نادان لومڑی میں تو شیر ہوں مجھے بناؤ سنگھار سے کیا لینا دینا ہے.
    ،، یہ کام تم کسی اور سے کراو ،،
    لومڑی نے کہا اے خوبصورتی کے پیکر میرے رحمدل عالیجاہ میں آپکی ریپوٹیشن بہتر بنانا چاہتی ہوں آپکو علم ہی نہیں ہے بادشاہ عالی مرتبت کہ آپکے مخالفوں نے آپکے بارے میں کئی جھوٹے دعوے مشہور کیے ہیں.
    ،، نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے ،،
    آپ کو جنگل میں قدامت پسند اور تنگ نظر بادشاہ کہا جارہا ہے ،،
    اور آپکو روشن خیالی کا دشمن سمجھا جا رہا ہے ،،
    آپ بیوٹی پارلر کا افتتاح کریں گے تو آپکے متعلق یہ افواہیں دم توڑ دیں گی،،

    شیر نے ایک لمحہ لومڑی کی باتوں پہ سوچا اور پھر افتتاح میں آنے کی حامی بھر لی ،،

    شیر نے بیوٹی پارلر کا فیتہ کاٹا ،، ریچھ ،، لگڑ بگڑ ،، بھینسے ،، گائے ،، زیبرا ،،ہرن ،، وغیرہ نے خوب تالیاں بجائیں ،،
    اسٹیج سیکرٹری بندر تھا پہلے اس نے خوب اچھل اچھل کر داد دی ،،
    پھر مائک پہ آ کر اعلان کیا ،،
    ” شہنشاہ دوراں
    آج آپ نے اس محفل میں آکر ثابت کر دیا ھے.
    کہ آپ ایک روشن خیال بادشاہ ہیں ،،
    بناؤ سنگھار کی اس محفل کی سرپرستی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ احساس جمال سے بہرور ہیں ،،
    یوں آپکے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ جو یک طرفہ تھا زائل ہو گیا ہے ،،
    شیر کو یہ سب باتیں بڑی عجیب لگ رہی تھی لیکن جب سب نے تالیاں بجانی شروع کیں تو شیر کو بھی اچھا لگنے لگا ،،

    تقریب کے بعد لومڑی لہنگا پہن کر سٹیج پہ آئی اور پورے سات بار جھک کر بادشاہ کو سلامی دی ،، اور کہا
    ” یہ باندی آپکی آمد کا شکریہ ادا کرتی ہے ،،
    اب آپکی آمد کی خوشی میں یہ باندی ایک مجرہ پیش کرتی ہے ،،
    پھر لومڑی نے جی بھر کر مجرا پیش کیا.
    مجرا ایسا تھا کہ لومڑی نے میدان سے دھوئیں اٹھا دئیے ،،
    شیر پہلے تو حیرانگی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا پھر اسکو بھی لطف آنے لگا ،،
    یہ تقریب صبح تک جاری رہی ،،

    دوسرے دن لومڑی ایک ایک جانور کے پاس گئی..
    اور کہا کہ اب تو شیر کی چیرہ دستیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،،
    شیر سے کوئی شریف جانور نہیں محفوظ ،،
    وہ شریف جانورں سے بھی مجرہ کراتا ہے ، پہلے تو اس کمبخت کے ہاتھوں کسی کی جان محفوظ نہ تھیں اب عزتیں بھی نہیں محفوظ ،،
    اس طرح کئی جانوروں کے ساتھ میٹنگز طے کرتے کرتے لومڑی نے ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دے دیا اس اتحاد میں چیتا بھڑیا سانپ بندر ریچھ سب شامل تھے ،

    ایک دن شیر کے غار میں لومڑی حاضر ہوئی.
    اور عرض کی ظلِ الہی اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ،،

    ظللِ الہی اس وقت ایک ہرن نوش جاں فرمانے کے بعد اونگھ رہا تھا بادشاہ دوراں نے غنودگی کے عالم میں کہا بولو ،،
    لومڑی نے دست بستہ کہا.
    کہ شہنشاہ ہر دلعزیز کی روشن خیالی کی دھوم تو ہر طرف ہی ہے ،
    لیکن چیتے ریچھ ہاتھی وغیرہ نے آپکے خلاف ایک کولیشن تشکیل دی یے ،
    خود اس میں آپکے قریبی دوست شامل ہیں.. آپ جانتے ہیں یہ کافی ظالم جانور ہیں ،،
    آپکا ان سے بیک وقت ٹکرانا مصلحت نہیں ہے.
    میرے پاس ایک ترکیب ہے.
    جس پہ عمل کرنے سے انکے غبارے سے ہوا نکالی جا سکتی ہے ،،
    شیر نے غصے سے دھاڑتے ہویے کہا تجویذ پیش کیجائے ،

    ،لومڑی خوشامدی انداز سے بولی..
    بادشاہ سلامت آپکے خلاف سارہ پروپیگنڈہ آپکے دانتوں اور ناخن کی وجہ سے ہے ،،
    اس پہ شیر غصے سے داڑھا اور کہا تو کیا میں یہ نکلوا دوں ،،
    لومڑی بولی..
    خدا نہ کرے بادشاہ سلامت.
    لیکن اگر آپ صرف پنجوں کے ناخن کٹوا دیں اور سامنے والے تھوڑے سے دانت نکلوا دیں..
    تو آپکی طاقت بھی بحال رہے گی اور دشمن کا پروپیگنڈہ بھی مکمل خاک میں مل جایے گا ،

    ،، شیر نے سوچا کہ کہیں سارے جنگل کے اتحادی ملکر مجھ پہ حملہ نہ کر دیں..

    اس نے نہ چاہتے ہویے بھی لومڑی کی یہ تجویز مان لی.
    وہ بھول گیا کہ وہ ایک شیر ہے وہ بس ڈانس اور دوسرے محفلوں تک رہنے کا عادی ہو چکا تھا ،،

    ایک روز شیر شکار کرنے اپنی غار سے نکلا اور ایک ہرن کے پیچھے کئی کلومیٹر بھاگنے کے بعد اسکو قابو کیا ،،
    لیکن جب اسکے جسم میں اپنے ناخن گاڑھنا چاہے تو پنجے میں ناخن نہ ہونے کی وجہ سے پنجہ پھسل گیا..
    اس نے جلدی سے دانت ہرن کے گلے میں گاڑھنے کی کوشش کی لیکن یہ حربہ بھی ناکام ہؤا ،،

    اس جدوجہد کے دوران ہرنی کو بھی علم ہو گیا…
    کہ شیر فارغ ہے یہ بس نام کا شیر ہے..
    تو ہرنی نے شیر کو چار پانچ لاتیں اچھی رسید کر لیں اور وہاں سے بھاگ نکلی ،،

    شیر نے کئی جانوروں پہ قسمت آزمائی کی لیکن ایک بھی جانور پہ داؤ نہ چلا شام تک بھوک سے برا حال ہو گیا تھا ،،

    نڈھال شیر گرتے پڑتے اپنے کچھار پہنچا اور اس وقت امید کی کرن دکھائی دی.
    جب اسکو دور سے لومڑی غار میں داخل ہوتی ہوئی نظر آئی…

    لومڑی نے بادشاہ سلامت کے آگے نہ سلام پیش کیا نہ عزت دی نہ اسکو ظل الہی یا عالی جاہ کہا نہ ہی شیر کو شہنشاہ دوراں کہا…
    ،، لومڑی نے طنزیہ انداز سے کہا بھوک تو بہت لگی ہو گی،
    شیر نے نقاہت سے کہا.
    ہاں بہت زیادہ تم میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو،
    میں نے تمہارے ہی مشورے پہ ناخن نکلوائے ہیں اور تمہارے ہی کہنے پہ سامنے کے دانت نکلوائے.
    اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے.
    کہ میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو ،،

    لومڑی نے یہ سنا تو ایک لمبا قہقہ لگایا اور شیر کو ایک لات رسید کر کے کہا..

    او بیوقوف چوپائے

    کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا ،،،،،،
    ہاں تمہارے ساتھ چونکہ ایک تعلق ہے ،،
    لہذا میں تیرے لیے گوشت تو نہیں لیکن گھاس کا انتظام کر سکتی ہوں ،،

    یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا ، اس نے لومڑی پہ اچانک حملہ کیا لیکن لومڑی پہلے سے تیار تھی وہ وہاں سے ہٹی اور شیر جو نڈھال تھا اسی جگہ گر پڑا ،،
    کچھ دن بعد لومڑی شیر کے پاس پھر آئی..
    شیر بے ہوشی کے عالم سے دو چار تھا.
    اس نے لومڑی کو دور سے دیکھا تو چلا کر کہا.

    مجھے گھاس کھانا بھی منظور ہے.
    اللہ کے لیے کہیں سے میرے لیے گھاس کا انتظام ہی کر دو..
    اب تو میں گھاس کے لیے گھومنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔۔
    لومڑی نے شیر کی یہ بے بسی دیکھی تو لومڑی کی آنکھوں میں جیت کی چمک واضح دکھائی دی لومڑی نے شیر کو طنزیہ کہا..

    "گھاس بھی تب ہی مل سکتی ہے جب تم منہ سے میاؤں کی آواز نکالو ”

    یہ سن کر شیر کا جی چاہا کہ…
    زمین پھٹ جایے اور وہ اس میں دھنس جائے.
    لیکن جس کو اپنے وقار سے زیادہ اپنی جان عزیز ہو اسکی زمین میں دھنس جانے کی خواہش پوری نہیں ہؤا کرتی…

    چنانچہ شیر نے اپنا جی کڑا کر کے اپنے منہ سے میاؤں کی آواز نکالی اور پھر رحم طلب نظروں سے لومڑی کی طرف دیکھنے لگا ،،

    لومڑی نے حقارت سے اسے دیکھا اور کہا یہ میاؤں کی آواز تم نے ٹھیک نہیں نکالی تم کچھ دن ریاضیت کرو پریکٹس کرو جس دن سے تم میاؤں کی صیحح آواز نکالنے میں کامیاب ہو جاؤ تو اس دن سے تم کو گھاس باقاعدگی سے ملنا شروع ہو جائے گی ،،

    آخری اطلاعات آنے تک شیر ابھی تک میاؤں میاؤں کی آواز نکالنے میں مصروف ہے…
    شیر اب تک میاؤں میاؤں کی اواز نکالنے میں کافی دسترس حاصل کر چکا ہے ،،۔۔

    یہ چالاک لومڑی یہود و ہنود ہیں اور شیر مسلم ممالک اور امت مسلمہ ہے.

    ان گنت کوتاہیوں اور مختلف ہتھکنڈوں میں پھنس کر امتِ مسلمہ بھول بیٹھی ہے کہ وہ ایک شیر ہے.
    سائنس و ٹیکنالوجی, پروڈکشن اور دفاعی امور میں ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیا گیا اور ہم نے بھی عقل و دانش کو سلائے رکھا اور مسلسل سوئے ہوے ہیں.

    آج یہ شیر بس میاؤں میاؤں کر رہا ہے ،،….
    بقول علامہ اقبال

    تھے تو آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو,
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو,

  • پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی
    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ایک حسین ترین ملک ہے، جیسے اللہ سبحانہ و تعالی نے برف سے ڈھکی چوٹیاں، سرسبز سبزہ زار، بنجر چٹانیں اور چکردار پہاڑیاں، جنگلات، سمندر، زرخیر میدان، دریا، صحرا اور ساحلی علاقے، غرض ہمارا ملک کسی جنت سے کم نہیں ہے، لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارا ملکِ پاکستان بدترین عالمی حدت کا شکار ہے،ماحولیاتی مطالعات سروے  کے مطابق پاکستان  عالمی حدت سے متاثرہ دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ پاکستان میں عالمی حدت کے حوالے سے بہت کم لوگ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں..

    زمین کے اوسط درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کا نام عالمی حدت ہے۔ ہماری زمین کے ماحول میں کچھ ایسی گیسز پائی جاتی ہیں جو نیم مستقل لیکن دیرپا رہتی ہیں یہ گیسز قدرتی طور پر نہیں بلکہ زمین پر انسانی تجربات کے باعث مثلاً صنعتی ترقی ، آبادی میں اضافے ، جنگلات کی کٹائی اور انتہائی آلودگی پھیلانے والے فوسیل ایندھن کے استعمال سے ہم آہنگ ہے۔ جس کی وجہ سے قدرتی ماحول متاثر ہوتا ہے اور یہی عالمی حدت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔۔

     سائنسدانوں کے مطابق عالمی حدت میں بنیادی طور پر جوچھ گیسیں اضافہ کررہی ہیں ان میں سب سے بڑاحصہ کاربن ڈائی اکسائیڈکاہے۔ جبکہ میتھین، نائٹڑس آکسائیڈ، ہائیڈرو فلورو کاربن اورسلفر اکسا فلورائیڈ با الترتیب دوسرے تیسرے چوتھے پانچویں اور چھٹے نمبرپرہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک مرکب سالمہ ہے جس جو کاربن کے ایک اور آکسیجن کے دو عددایٹموں سے ملکر تشکیل پاتا ہے یوں یہ تین ایٹمی سالمہ سورج کی توانائی کوجذب کرکے اس کے اخراج کے نتیجے میں تپش میں اضافہ کرتاہے۔

    مکرمی! پاکستان میں اگر عالمی حدت سے پیدا ہونے والے اثرات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کوئلے کو توانائی حاصل کرنے کے لئے جلایا جاتا ہے اور یہ عالمی حدت اور دیگر ماحولیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنے کے باعث بھی گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔کوئلہ جلنے کے بعد کاربن گیس کا اخراج کرتا ہے جو ماحول میں حد درجہ آلودگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں کاربن کی مقدار بڑھا دیتا ہے اور یوں درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث کرہ ارض پرقائم حفاظتی غلاف جسے اوزون لیئر کا نام دیا جاتا ہے اس میں سوراخ پیدا ہوگیا ہے جس کے باعث سورج کی مضر شعائیں زمین کی سطح تک پہنچ کر درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔ انسان ترقی کے نام پر اپنی تباہی کا انتظام خود کرتا آ رہا ہے اور آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اسے کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ اور میتھین، دونوں گلوبل وارمنگ کا سبب ہیں۔ یہ گیسیں ہماری زمین کے اوپر فضا میں ایک ایسا دائرہ کھینچ دیتی ہیں جو سورج سے حرارت کو زمین پر آنے تو دیتا ہے، لیکن واپس نہیں جانے دیتا، جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔درجہ حرارت بڑھنے سے زمین کے قدرتی نظام میں خلل پڑتا ہے۔

    عالمی حدت کے باعث انسان کو مختلف مسائل کا سامنا ہے مثلاً زمین کے درجہ حرارت کے باعث برفانی تودوں کا تیزی سے پگھلنے سیلاب کے خطرات پیدا ہورہے ہیں ،اس کی وجہ سے سمندروں کا پانی گرم سے گرم تر ہو رہا ہے، اس کے اثرات پاکستان میں بسنے والی ہر مخلوق پر پڑیں گے عالمی حدت پانی کے چکر کو متاثر کرتی ہے ، اور اس کے ساتھ پینے کے پانی تک رسائی ہوتی ہے تو ، بیماریوں خصوصا سانس اور جلد کی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر عالمی حدت کو روکا نہیں گیا توو وہ مقام آ سکتا ہے کہ کہ زمین پر انسانوں کی بود و باش مشکل ہو جائے گی ،اس کا حل صرف اور صرف درخت لگانا ہے۔

    عالمی حدت پر کنٹرول کا ایک نسخہ اب ہماری دسترس میں ہے وہ ہے "درخت لگانا” ۔ درخت نہ صرف صدقہ جاریہ ہیں بلکہ اس وقت پاکستان اوردنیا کی سب سے بڑی ضرورت ہیں،درخت دن کے وقت کاربن گیس جذب کر کے آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں درخت انسانوں کے دوست اور زمین کا زیور ہیں ۔درخت انسانوں کو نہ صرف آکسیجن، سایہ، پھل ،میوہ جات اور ایندھن مہیا کرتے ہیں بلکہ یہ ماحول کو آلودگی سے بھی بچاتے ہیں، زمین کو زرخیز کرتے ہیں، جنگلی حیات کا مسکن ہیں، زمینی کٹائو میں کمی لاتے ہیں ،سیلاب کو روکتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم رکھتے ہیں،درخت دن کے وقت کاربن گیس جذب کر کے آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں ۔ درخت ماحولیات کو سازگار اور موسم کو اعتدال پر رکھنے میں معاون ہوتے ہیں.

    درخت ہمارے قدرتی ماحول کو آلودگی اور عالمی حدت سے بچاتے ہیں۔ مگربدقسمتی سے پاکستان میں شب و روز درختوں کو بے دردی کے ساتھ کاٹے جارہا ہے، جس سے فضا میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا توازن یقینی طور پر بگڑ سکتاہے اور یہ عالمی حدت میں اضافہ کا اہم سبب بن جائے گا کیونکہ جس حساب سے درختوں کی کٹائی ہوگی، اس تناسب سے پیڑ پودے نہیں لگائے جائیں گے۔ ہم روزانہ اپنے آس پاس میں بھی یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ آبادی میں اضافہ کے سبب جس بے دردی کے ساتھ درختوں کو کاٹا جاتا ہے، اس کے مقابلے نئے پیڑ پودے نہیں لگائے جاتے۔ بہرحال یہ بات قطعاً فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج پاکستان میں عالمی حدت کے لیے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو بھی اہم سبب مانا جاتا ہے۔ 

    پاکستان کو عالمی حدت کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے۔آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ نے شجر کاری کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے”اگر قیامت قائم ہو جائے، اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو، اور اسے قیامت قائم ہونے سے پہلے پودا لگانے کی مہلت مل جائے تو وہ اس پودے کو لگا دے” اگر کوئی شخص ایک پودا لگائے تو اس کو قیامت تک اس کا اجر ملتا رہے گا لہٰذا ضروری ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے مشن میں حکومت کی مکمل معاونت کریں اورجہاں بھی وزیر اعظم عمران کے بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت دس بلین درخت لگانے کا پروگرام منعقد ہو بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔اس سے ثواب بھی ملے گا آکسجن بھی ملے گی سایہ بھی ملے گا۔نہ صرف درخت لگا کر جان چھڑانی ہے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرنی ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔اس لیے ہر فرد ایک درخت لازمی لگاٸیں ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا عمل پاکستان کو عالمی حدت کے تباہ کن اثرات سے بچانے کا سبب ہوگا۔ اور یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے کہ جس کا فاٸدہ ہماری آنے والی نسلوں کو ہوگا۔

    اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
    جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

    اللہ پاک ﷻہمارے ملک پاکستان کو سر سبز و شاداب رکھے ۔آمین!!

  • اسامہ بن لادن فریڈم فائٹر یا دہشتگرد .تحریر: عمار احمد عباسی

    اسامہ بن لادن فریڈم فائٹر یا دہشتگرد .تحریر: عمار احمد عباسی

    وزیراعظم عمران خان کا بین الاقوامی میڈیا کو دیا گیا انٹرویو اور پھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا افغان میڈیا کو دیا گیا انٹرویو دونوں میں ایک چیز کی مماثلت ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ بین الاقوامی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو جائے مگر اس تناظر میں طالبان کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب افغان صحافی نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اسامہ بن لادن کا پوچھا کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا تو کیا آپ بھی اسامہ کو شہید سمجھتے ہیں؟؟ جس کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے اسامہ ماضی بن چکا ہے مگر صحافی کے اسرار کرنے پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسامہ بن لادن نے افغان عوام کے لیے کوئی تشدد کا راستہ نہیں اپنایا جس کا مطلب کہ انہوں نے اِسے دہشتگرد ماننے سے انکار کر دیا ۔ چلیں ماضی کے کچھ حصوں کا زکر کرتے ہیں جس کی بنیاد پر آپ اسامہ بن لادن کو فریڈم فائٹر یا دہشتگرد کہا جائے۔

    جب نائن الیون کا واقعہ ہؤا تو القاعدہ نے اس کی زمہ داری قبول کی جس کے نتیجے میں امریکی افواج نے افغانستان میں چڑھائی کر دی مگر اُس وقت میں دنیا کی بہترین اور موجودہ دور میں بھی دنیا کی بہترین ٹاپ تین خبرایجنسی میں سے ایک "Reuters” ہے جس نے نائن الیون حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کو دہشتگرد لکھنے سے انکار کر دیا جس پر پوری دنیا کو تشویش ہوئی اور امریکہ نے بھی اس پر بھرپور احتجاج کیا مگر "Reuters” انتظامیہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن مسلم دنیا کے لیے فریڈم فائٹر ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے موٹیویشن ہے اِس لیے ہم اُسے دہشتگرد نہیں لکھیں گے۔

    مگر سچ تو یہ ہے کہ سویت یونین کی افغان چڑھائی کے دوران اسامہ بن لادن کو سعودی عرب سے بلایا گیا اور امریکہ نے اسلحہ فراہم کیا اور پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ساتھیوں کو افغان جہاد میں امریکہ کے کہنے پر استعمال کیا اور امریکہ نے ہر سہولت فراہم کی اور یوں امریکہ کی مدد سے سویت یونین کو شکست ہو گئی مگر پھر اس افغان جہاد کے بعد اسامہ بن لادن کو بطور فریڈم فائٹر متعارف کرایا گیا مگر جب اس عرصے میں امریکی اسلحہ جو پاکستان نے محفوظ کر لیا تھا اس کو اجڑی کیمپ میں اسلحہ ڈپو میں ہی تباہ اور ناکارہ کر دیا گیا۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اسامہ بن لادن دہشتگرد تھا تو اس وقت دہشتگرد کیوں نہیں کہا گیا کہ جب اس نے افغان جہاد میں سویت یونین کے خلاف جہاد کیا اور کئی لوگوں کو مارا تو کیا یہ سب درست تھا؟؟ اگر آپ کے نزدیک دہشتگردی کی تعریف یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے مخالف قوتوں کے خلاف لڑنا بہادری اور امریکہ اور اس کی حامی قوتوں کے خلاف لڑنا دہشتگردی ہے تو آپ کو اپنی اس دہشتگردی کی تعریف پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔۔ جب ایبٹ آباد آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا گیا تو بہت سے سوالات اٹھائے گئے مگر سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کا علمبردار امریکہ اسامہ کے معاملے میں انسانی حقوق کیوں نہیں برقرار رکھ پایا؟؟ بن لادن کو قتل کرنے کے بجائے اسے صدام حسین کی طرح پروسیکیوشن کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟؟ کیا مہذب معاشرے میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کو سراہا جاتا ہے؟؟حقیقت تو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کو اس طرح قتل کر کے مسلم دنیا میں ہیرو بنا دیا جس کی وجہ سے مسلم دنیا میں لوگ اسے آج بھی ہیرو اور فریڈم فائٹر مانتے ہیں۔کسی معصوم اور بے گناہ کی جان لینا دہشتگردی ہے اس کا تعلق کسی رنگ و نسل سے نہیں ہوتا مگر افغان جہاد کے بعد اور نائن الیون کے بعد اس دوران کچھ لوگوں کو یہ چیز نظر کیوں نہیں آئی کہ داڑھی سے انکار پر لوگوں کی گردنیں اُڑا دی گئی اور ان کے ساتھ فٹبال کھیلا گیا یہ سب چیزیں نائن الیون کے بعد ہی کیوں نظر آئیں؟؟
    امریکی مفادات میں کسی کو فریڈم فائٹر یا دہشتگرد کہنا زوال کی نشانی ہے۔

  • پاکستان میں جنسی تشدد کی اہم وجوہات اور انکا سد باب .تحریر : حسن ساجد

    پاکستان میں جنسی تشدد کی اہم وجوہات اور انکا سد باب .تحریر : حسن ساجد

    باغی ٹی وی ویب سائٹ کے توسط سے راقم الحروف نے اپنی گزشتہ تحریر کے ذریعے پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونیوالے جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ کی طرف ارباب اختیار اور عوام الناس کی توجہ دلانے کی کوشش کی۔ میں باغی ٹی کی انتظامیہ کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ پر میری تحریر کو شائع کیا۔ بڑھتا ہوا جنسی تشدد ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے سے پہلے اس کی ممکنہ وجوہات کو تلاش کرنا اہم ہوتا ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند اہم وجوہات اور ان کا ممکنہ میری حل آج کی تحریر کا حصہ ہے۔

    1- ماحول، معاشرہ اور شعور:
    کسی بھی جاندار کی طبیعت، مزاج، کردار اور اوصاف پر اس کے ماحول اور معاشرہ کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ انسان پیدائشی طور پر سلیم الفطرت اور معصوم ہوتا ہے۔ انسان خیر اور شر دونوں چیزیں اپنے معاشرے اور اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر نیکوکار یا بدکار نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف ایک انسان ہوتا ہے، معاشرہ ہی اس کو اچھائی یا برائی کی جانب راغب کرتا ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں منفی سوچ اور منفی روایات فروغ پا رہی ہیں جن کو سیکھ کر ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ میرے نزدیک جب بری صحبت کا شکار یہ نوجوان اپنے جذبات کی تسکین کے لیے خیر اور شر کی تمیز بھول جاتے ہیں تو ایسے واقعات جنم لیتے ہیں۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو باکردار بنانے اور اس لعنت سے چھٹکارہ پانے کے لیے ان کے ذہنوں سے منفی سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا اور تربیت کے اس فقدان کا خلا پر کرنا ہوگا جس کی بدولت وہ ایک انسان کی بجائے وحشی درندے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کیونکہ ہم معاشرے سے منفی سوچ اور منفی رویوں کو ختم کیے بغیر اس برائی اور اس جیسی دیگر برائیوں سے نہیں بچ سکتے ۔

    اس معاملے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی برائی کو ختم کرنے سے پہلے اس برائی کے متعلق شعور اور اس سے متعلق آگہی کا ہونا ضروری ہے مگر ہمارے نوجوان میں شعور اور آگہی کی کمی ہے ۔ جس کے باعث ہم ایک صحت مند اور باشعور معاشرہ تشکیل دینے سے قاصر ہیں۔ معاشرتی برائیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مثبت روایات کا امین اور تہذیب و اخلاقیات کا پاسدار ایک صحت مند، مہذب، باشعور اور پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دیں جو مثبت سوچ کی حامل ایک ایسی نوجوان نسل تیار کرے جن میں ایسی خرافات بالکل موجود نہ ہوں۔ اور اس طرز کے صحت مند اور تہذیب یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے سامنے گندی اور فحش گفتگو سے پرہیز کریں۔ ان کے سامنے اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو نہ تو خود کریں اور نہ ہی کسی دوسرے کو کرنے دیں۔ ہم ان کے اندر مثبت سوچوں کو پروان چڑھائیں اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں معاشرے کا ایک ذمہ دار اور باشعور شہری بننے میں مدد فراہم کریں۔

    2- والدین اور بچوں کے تعلقات میں کھچاؤ:-

    بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں والدین اور بچوں کے تعلقات اکثر خاندانوں میں کھچاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ والدین اور بچوں کے تعلقات میں اعتماد کی جگہ سختی اور ڈر پایا جاتا ہے۔ جس کے باعث نہ تو بچے کھل کر اپنے مسائل کا اظہار اپنے والدین سے کر سکتے ہیں اور نہ ہی والدین بچوں کو دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں مسائل کو سن کر اس کا مؤثر حل نکالا جائے۔
    یہاں اس بات کا تذکرہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے کہ میری نظر سے چند ایسے واقعات بھی گزرے ہیں جن میں بچوں نے جب والدین سے اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین سلوک کا تذکرہ کیا تو والدین نے ان کو اعتماد دینے اور ان کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے الٹا ان کو ڈانٹ دیا کہ وہ متعلقہ شخص پر الزام تراشی کر رہے ہیں جس کی بدولت بظاہر شرافت کا لبادہ اوڑھے معاشرے کے مکروہ کرداروں کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی اور بہت سے دیگر بچے انکی وحشت کا شکار ہوتے رہے۔ جب تک والدین ایسے مسائل پر اپنے بچوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان پر مؤثر انداز سے کوئی ایکشن نہیں لیں گے یا اپنے بچوں کی شکایات کو محبت سے دوستانہ ماحول میں سن کر ان کے مسائل اور شکایات کو دور کرنے کی مخلص کوشش نہیں کریں گے ہمارے معاشرے میں ایسے مسائل جنم لیتے رہیں گے۔
    ایسے دلخراش واقعات سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ اعتماد کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات قائم کریں جس میں وہ بچوں کو ایسی پیش آنے والی اور دیگر تمام شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں اور جب بچوں کو ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو وہ بچوں کو ڈرانے یا دھمکانے کے بجائے ان کے ساتھ بہتر اور مثبت رویہ رکھتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کریں۔

    3- غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب:-
    حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک مبارک حدیث کا مفہوم ہے کہ “قریب ہے کہ تمہاری غربت تمہیں کفر تک لے جائے”۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی خرافات کے پیش آنے میں ایک بڑی وجہ غربت اور بے روزگاری بھی ہے۔ میرے نزدیک ایسے واقعات کے بڑھنے کی ایک وجہ غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب ہے کیوں کہ غربت کے باعث والدین اپنے بچوں کا پیٹ پالنے میں بے حد مصروف ہیں۔ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچے کی حرکات پر توجہ دیں یا اس سے ملنے جلنے والے افراد پر نظر رکھیں۔
    اب اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری نوجوانوں کو ٹینشن، ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل، معاشی اضطراب اور محرومیاں دے رہی ہے اور نوجوان اس ہیجانی کیفیت سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ فحش بینی، نشہ اور دیگر سماجی برائیوں کی نظر ہوجاتے ہیں۔ ایسے کام کرنے سے ان کے اندر منفی سوچوں کا رجحان بڑھتا ہے جو ان کو سماجی برائیوں مثلاً کرپشن بدعنوانی اور جنسی تشدد جیسے واقعات کی طرف ابھارتا ہے۔
    ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ہنگامی بنیادوں پر اپنے معاشی مسائل کو حل کریں۔ بالخصوص نوجوان طبقہ کی کریئر کونسلنگ پر توجہ دی جائے تا کہ ہمارا نوجوان معاشی بدحالی کا شکار ہو کر سماجی خرافات کی نظر نہ ہو جائے۔

    4- کمزور قوانین اور سماجی بے حسی :-
    کمزور عدالتوں اور ناقص قانون سازی کے حوالہ سے ہم جہاں کرپشن اور بدعنوانی سمیت بہت سے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں وہیں جنسی تشدد کے واقعات کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں کے قوانین اور عدالتی کاروائیاں بہت کمزور ہیں۔ سیاسی دباؤ، اثر و رسوخ رشوت اور دیگر افعال کے ذریعے ہم انصاف کو مظلوم کی پہنچ سے دور کر دیتے ہیں۔ اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ اجتماعی سماجی بے حسی کا شکار ہے۔ کیونکہ ہمیں صرف اپنا ہی درد محسوس ہوتا ہے دوسرے کے درد کو محسوس کرنے کا جذبہ ہم میں ناپید ہوچکا ہے۔ ہم دوسروں کی تکلیف کو محسوس کر کے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے اپنے اوپر اس مصیبت کے نازل ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
    ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم معاشرے میں احساس ذمہ داری، باہمی اخوت اور ایثار کا جذبہ پیدا کریں تاکہ ہم دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے مسائل پر ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ ہمیں اپنے عدالتی نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا اور ہمارے پولیس اور تھانہ کلچر کو بھی ہمیں ٹھیک کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کے رونما ہونے پر ملزمان کو فورا پکڑا جائے اور مناسب سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں برائیوں کے خاتمے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    5- علاقائی تہذیب و ثقافت سے انحراف :
    مثل مشہور ہے کہ “جیسا دیس ویسا بھیس”۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارا لباس اور ہمارا طرز زندگی ویسا ہونا چاہیے جیسا اس معاشرے اور کمیونٹی کے باقی تمام لوگوں کا ہے جس میں ہم رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں مغربی طرز زندگی پر کاربند ہونا اور مغربی لباس زیب تن کر کے مکمل طور پر معمول کے مطابق زندگی گزارنا مشکل کام ہے۔ مغربی طرز کا لباس زیب تن کر کے جب بچے اور بچیاں باہر نکلتے ہیں تو خون سونگھنے والے ان درندوں کی نگاہیں ان بچوں کا تعاقب کرتی ہیں جو موقعہ ملتے ہی اپنی تسکین کا سامان پیدا کرلیتی ہیں۔
    ایسے واقعات کو مناسب انداز سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بالخصوص بچیوں کو ایشیائی طرز کا لباس پہنائیں جو ہماری روایات اور ہمارے اردگرد کے ماحول کے متصادم نہ ہو۔ میں وزیراعظم پاکستان کے مختصر لباس کی ممانعت پر دیئے گئے بیانہ کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ کیونکہ مختصر لباس زیب تن کرنا ہماری تہذیب و ثقافت اور ہمارے کلچر کا حصہ نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے خواتین اور بچیوں کا مختصر لباس مردوں میں درندگی ابھارنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے لہذا ہمیں بطور قوم اس کلچر اور اس رواج کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے شعار اور روایات کی پاسداری کرتے ہوئے خود بھی اسلامی لباس زیب تن کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسکی عادت ڈالیں۔

    6- ریاستی اداروں کا کردار:-
    مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کسی بھی ریاست کے چار اہم ستون ہیں۔ معاشرتی و اخلاقی تعمیر میں ان اداروں کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ یہ ادارے اپنے لوگوں کے مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بےشمار واقعات کے ہو جانے کے بعد بھی ریاستی اداروں میں بھی اس مسئلہ کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جانے کے نام پر سیاست تو ہوئی ہے مگر کوئی ٹھوس اقدامات ہمیں نظر نہیں آئے جس کے ذریعے ہم اپنے مستقبل اپنے بچوں اور بچیوں کو اس آگ سے محفوظ رکھ سکیں۔ میڈیا پر بھی محض ٹی وی ریٹنگ بڑھانے اور واقعات کو اچھالنے کا کام ہوتا ہے واقعات کو حل کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روکتھام کے حوالے سے میڈیا بھی اپنا تعمیری کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ میری ان تمام ریاستی اداروں میں بیٹھے ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ “بچے محفوظ مستقبل محفوظ” کے اصول پر عمل پیرا ہو کر مقننہ، عدلیہ اور میڈیا میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ قانون سازی کے عمل کو یقینی بنائیں تاکہ مجرموں کے لیے مؤثر سزاؤں اور قانونی حدود و قیود کا تعین کرتے ہوئے ان واقعات کو روکا جا سکے۔ بحیثیت پاکستانی میری اپنی قوم سے بھی گزارش ہے کہ ہمارے بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر ہم نے یوں ہی بے حسی دکھائی تو کل کو یہ آگ پھیل کر ہمارے گھر تک پہنچ جائے گی اور پھر ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
    لہذا ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ہمیں مل کر آج ہی اس برائی کو روکنا ہوگا تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو۔ اللہ پاک پاکستان کے ہر بچے اور ہر بیٹی کو محفوظ مستقبل عطا فرمائے اور اسے اس ملک کا وفادار اور باعزت شہری بنائے۔
    آمین

  • بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    بھارت کی شمالی ریاست میزورام میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق یوں تو کئی ریاستیں آبادی میں کمی کے لیے خصوصی مہم چلا رہی ہیں تاہم ایک ریاست ایسی بھی ہے جہاں معاملہ اس کے برعکس ہے اور زیادہ بچے پیدا کرنے والے والدین کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

    شمالی ریاست میزورام کے کھیل کے وزیر رابرٹ روماویا نے اپنے حلقے میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ بھارتی روپے، ٹرافی اور تعریفی سند دینے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے بچے ہونے پر یہ انعام دیا جائے گا۔

    اس موقع پر رابرٹ روماویا نے مزید کہا کہ زیادہ بچوں والے والدین کو انعام سرکاری خزانے سے نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کے بیٹے کی ایک تعمیراتی کنسلٹنسی فرم ینگ میزو ایسوسی ایشن انعامات کے لیے رقم فراہم کرے گی۔

    وزیر کھیل نے اپنے موقف کی تائید میں کہا کہ ریاست میں بانجھ پن میں اضافے اور آبادی میں مسلسل کمی تشویشناک ہے جس سے مختلف قبائل اور برادریوں کی بقا خطے میں پڑ گئی جب کہ کئی شعبوں میں ترقی کے لیے ریاست کی آبادی میں اضافہ ناگزیر ہوگیا۔

    واضح رہے کہ 2011 کی مردم شماری میں میزورام کی آبادی 10 لاکھ 91 ہزار 14 تھی یعنی 21 ہزار 87 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر محیط اس ریاست میں فی اسکوائر کلومیٹر 52 افراد رہتے ہیں۔ میزورام بھارت میں آروناچل پردیش کے بعد سب سے کم آبادی والی ریاست ہے۔

    ان کا یہ اعلان ایک متعدد عیسائی مذہبی گروہ کے رہنما صیہون چنا کی موت کے ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے جس کی 39 بیویاں اور 94 بچے تھے جن کے علاوہ کئی پوتے پوتیاں ہیں۔

    ایوارڈ اسکیم آسام حکومت کے سرکاری ملازمتوں کے لئے دو بچوں کی پالیسی پر عمل درآمد کے بالکل برعکس تھی اور کہا ہے کہ سرکاری اسکیموں کے لئے بھی آہستہ آہستہ اسی طرح کے اصولوں کا اطلاق کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق مسٹر روئٹے شمال مشرق میں پہلے رہنما نہیں ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ بچوں والے جوڑوں یا خواتین کو نقد ایوارڈ دینے کا اعلان کیا یا دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ "بیرونی افراد” اور تارکین وطن کی تعداد میں کمی ہونے کے خدشے کے مطابق وہ کام کر رہے ہیں۔

    میگھالیہ کی کھاسی پہاڑیوں کی خودمختار ضلعی کونسل نے جنوری 2017 میں امیلیا سوہتن کو 17 بچوں کو جنم دینے کے لئے 16،000 ڈالر دیئے تھے جبکہ ڈوروتھیا خارانی اور فیلومینا سوہلنگپیا کو 15 بچوں کو جنم دینے پر 15،000 ڈالر دیئے گئے تھے۔ کونسل نے کہا ، یہ انعام دوسروں کے لئے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب تھا۔

    تقریبا ایک دہائی کے بعد ، منی پور میں غیر سرکاری تنظیموں نے زیادہ تر بچوں والی ماؤں کے لئے مقابلہ جات کا انعقاد شروع کیا۔ ایسے ہی ایک گروپ ، ارمدام کنبہ اپنبا لپ ، نے جولائی 2016 میں 10 اور 15 بچے پیدا کرنے والی 13 خواتین کو انعام سے نوازا تھا-

    جون 2018 میں ، وائی ایم اے کے صدر وانلالرواتا نے کہا کہ میزورم کو "بیبی بوم” کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ میزوز نے "ہزاروں تارکین وطن مزدوروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا-

    جبکہ این ڈی ٹی وی کے مطابق آسام کے وزیر اعلی ہمانتا بِسوا سرما نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ریاست کی مالی معاونت سے چلنے والی کچھ اسکیموں کے تحت فائدہ اٹھانے کے لئے دو بچوں کی پالیسی پر آہستہ آہستہ عمل درآمد کرے گی۔

    2019 میں ، ریاستی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ جنوری 2021 سے دو سے زیادہ بچے ہوں گے وہ سرکاری ملازمت کے اہل نہیں ہوں گے آسام میں اس وقت پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے دوسری ضروریات کے ساتھ دو بچوں کا معمول ہے۔

    چند روز قبل ، اتر پردیش لاء کمیشن کے چیئرمین آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ بڑھتی آبادی پر ایک نظر رکھنی چاہئے کیونکہ اس سے ریاست میں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

    ایک غیر سرکاری تنظیم ، پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا (پی ایف آئی) نے کہا ہے کہ بھارت کو چین کے اس دو بچوں کی پالیسی پر نظر ثانی سے سبق حاصل کرنا چاہئے جس کا یہ دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا زبردستی آبادی کی پالیسیوں سے بہتر کام کرتا ہے۔

    گذشتہ سال دسمبر میں ، مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ہندوستان میں خاندانی بہبود کا پروگرام رضاکارانہ ہے۔

  • سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت کے آخری طاقتور بادشاہ محمد شاہ کے انتقال کے بعد سلجوق سلطنت آہستہ آہستہ اپنے زوال کی جانب جانے لگی۔ ملک شاہ جب فوت ہوا تو اس نے اپنے پیچھے چار بیٹے چھوڑے۔ برکیاق، محمد ، سنجر اور محمود۔ محمود جو کہ بعد میں ناصر الدین محمود کے نام سے پہچانا گیا بچہ تھا۔ اسکے ہاتھ پر بحث کی گئی۔ کیونکہ اس کی ماں ترکان خاتون کو ملک شاہ کے دور حکومت میں بڑی قدر ومنزلت حاصل تھی۔ محمود تقریبا دو سال 485ھ بمطابق 1092 ء تا 487ھ بمطابق 1094ء تک حکمران رہا۔ کیونکہ انکا اور انکی والدہ کا وصال ہو گیا۔ ان کے بعد رکن الدین ابو المظفر برکیاق بن ملک شاہ آیا۔ اور 498ھ بمطابق 1105ء تک حکمراں رہا۔ پھر رکن الدین ملک شاہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ اور اسی سال اقتدار غیاث الدین ابو شجاع محمد کے ہاتھ لگا اور وہ 511ھ بمطابق 1118ء تک حکمراں رہا۔
    عظیم دولت سلجوقیہ کا آخری حکمراں غیاث الدین ابو شجاع محمد تھا۔ جس کا پایہ تخت مارواء النہر کا علاقہ تھا خراسان، ایران اور عراق کے علاقوں پر بھی اس کی حکمرانی تھی۔ بالآخر 511ھ بمطابق 1118ء کو شاہنات خوارزم کے ہاتھوں اسکا خاتمہ ہوا۔
    ماوراءالنہر سے سلجوقیوں کی سلطنت کے خاتمے کے ساتھ ہی سلاجقہ افتراق و انتشار کا شکار ہو گئے۔ اور ان کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی۔ انکی طاقت اس قدر کمزور ہو گئی کہ سلجوقی متعدد گروہوں اور باہم متصادم لشکروں میں تبدیل ہو گئے جو تخت و تاج حاصل کرنے کے لئے باہم دست و گریباں رہتے تھے۔ عظیم سلجوقی سلطنت چھوٹی چھوٹی امارات اور دول میں تبدیل ہو گئی۔ اور یہ امارات اور سلطنتیں کسی ایک سلطان کے اقتدار کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئی جیسا کہ طغرل بیگ سلطان الپ ارسلان ، ملک شاہ اور اسکے اسلاف کے دور میں متحد تھی۔ ہر ایک علاقہ خود مختار تھا۔ ہر ایک کا اپنا فرمانروا تھا اور ان میں کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں تھا۔
    اس افتراق و انتشار کے نتیجے میں مارواءالنہر میں ایک اور طاقت ابھر کر سامنے آئی۔ یہ خوارزمی سلطنت تھی جو ایک عرصہ تک منگولی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی۔ خوارزمی سلطنت کے ساتھ سلجوقی امارات، عراق اور شام کے شمال میں قائم ہوئیں۔ جو اتابک امارات کے نام سے پہچانی جاتی تھی۔ اسی عرصہ میں سلاجقہ روم کی سلطنت سامنے آئی۔ یہ وہ سلطنت تھی جس نے صلیبی حملوں کو روکا اور ایشیائے کوچک کا شمال مغربی کونا دشمن کے دست وبرد سے محفوظ رکھا۔ لیکن یہ سلطنت منگولوں کے تابڑ توڑ حملوں کا مقابلہ نہ کر سکی اور بالآخر ان غارت گروں نے ان علاقوں میں تباہی مچا دی۔
    سلجوقی سلطنت کے سقوط میں چند عوامل کار فرما تھے اور یہی عوامل عباسی خلافت کے سقوط کا پیش خیمہ ثابت ہوئے
    ان عوامل میں چند ایک یہ ہیں

    1) سلجوقی گھر کے اندر بھائیوں، چچاؤں، بیٹوں اور پوتوں کے درمیان تخت و تاج کے لئے چپقلش۔
    2) بغص امراء، وزراء اور اتابکوں کی طرف سے سلجوقی حکمرانوں کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانا۔
    3) حکومتی امور میں خواتین کا عمل دخل۔
    4) عباسی خلفاء کا سلجوقی فوجی قیادت کے سامنے کمزور اور بے بس ہونا اور ہر طاقتور سلجوق تاجور کی حکومت کو تسلیم کر کے خطبہ میں اس کے نام کو شریک کرنے کی اجازت دے دینا اور اس سلسلے کی طرف احتیاط نہ کرنا۔
    5) سلجوقی سلطنت کا شام ، مصر اور عراق کو عباسی خلافت کے جھنڈے کے نیچے متحد کرنے میں ناکام ہونا۔
    6) سلجوقیوں کا مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہنا۔ اسی چیز نے انکی قوت کا خاتمہ کیا اور عراق میں انکی سلطنت ختم ہو گئی۔
    7) سلجوقی سلطنت کے خلاف باطینیوں کی مذموم سازشیں اور سلجوقی سلاطین ان کے قائدین، زعماء کو دھوکے سے قتل کرنے کی انکی مسلسل کوششیں اور خونی حملے۔
    8) سمندر پار سے آنے والے صلیبی جنگجو اور سلجوقی سلطنت کا یورپ سے آنے والے وحشی لشکروں کے ساتھ ٹکراؤ ۔
    اسکے علاؤہ کئی دوسرے اسباب بھی تھے۔
    لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ اپنے دور حکومت میں انہوں نے عظیم کارنامے انجام دیے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
    1) سلجوقی سلطنت کی بدولت عباسی خلافت کا زوال دو صدیاں مؤخر ہو گیا۔ اگر سلجوقی نہ ہوتے تو شیعہ رافضیوں کے ہاتھوں بہت پہلے عباسی خلافت کا وجود مٹ جاتا۔
    مصریوں کی سلطنت عبیدی فاطمی سلجوقیوں کی طاقت کہ وجہ سے مشرق کے عرب مسلمانوں کو باطینی عبیدی رافضی سلطنت کے جھنڈے تلے جمع نہ کر سکی اور انکے مذموم مقاصد پورے نہ ہوئے۔
    3) دولت سلجوقی کی کوشیش اسلامی مشرق کے اتحاد کی تمہید اور پیش خیمہ تھی اور یہ اتحاد سنی سلطنت عباسی کے جھنڈے کے نیچے سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں مکمل ہوا۔
    4) سلجوقیوں نے اپنے زیر نگیں خطے میں علمی اور انتظامی ترقی کے حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اور اس علاقے میں امن و امان قائم کیا۔
    5) بیزنطینی شہنشاہیت کی طرف سے ہونے والے صلیبی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کافی حد تک منگولی خطرے سے نمٹنے کی کوشش کی۔
    6) ان علاقوں میں سنی مذہب کی ترویج کی اور سنی علماء کی قدرومنزلت کو بڑھایا۔

  • تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

    تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

    بنکاک: تھائی لینڈ میں کھانےکی تلاش میں بھوکا ہاتھی ایک گھر کی دیوار توڑ کر باورچی خانے میں گھس گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجیئن کے مطابق یہ واقعی مغربی تھائی لینڈ کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ شور شرابے اور دیوار ٹوٹنے کی آواز سن کے رٹچر وان نامی ایک رہائشی کی آنکھ کھل گئی، جب وہ اصل ماجرا دیکھنے کے لیے اپنے باورچی خانے میں گئے تو سامنے موجود منظر انہیں حیران کرنے کے لیے کافی تھا کیوںکہ ایک ہاتھی ان کے باورچی خانے کی دیوار توڑ کر بن بلائے مہمان کی طرح اپنی سونڈ سے درازوں میں کچھ تلا ش کر رہا تھا۔

    رٹچر کا کہنا ہے کہ بون چوائے نامی یہ ہاتھی شاید کچھ کھانے کے لیے تلاش کر رہا تھا کیوں کہ وہ باورچی خانے کی درازوں سے چیزیں باہر نکال کر پھینک رہا تھا، اس نے برتن اور دیگر سامان کو بھی درازوں سے نکال کر فرش پر پھینک دیا تھا۔ اور آخر میں نے اس پلاسٹک کی تھیلیوں کو چبانا شروع کردیا۔ رٹچر نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بنا لی۔

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    اس واقعے کے بارے میں کائینگ کراچین نیشنل پارک کےمنتظم اتھیپون تھائی مونکول کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نینشل پارک میں رہنے والے ہاتھی بون چوائے نے کھانے کی تلاش میں قریبی دیہات کا رخ کیا ہو، اس سے قبل بھی وہ رٹچر کے گاؤں میں گھس چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق بون چوائے کا رٹچر کے باورچی خانے کا دورہ انہیں کافی مہنگا پڑا ہے اور تقریبا 50 ہزار بھات کا نقصان ہوا ہے۔

    تھائی لینڈ میں ہاتھیوں پر تحقیق کرنے والے محقق ڈاکٹر جوشوا پلاٹنک کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک میں رہنے والے ہاتھیوں کے لیے قریبی دیہاتوں میں گنے اور بھٹے کی فصلوں پر حملہ بہت عام بات ہے اور یہ زیادہ تر رات میں کھیتوں پر حملہ کرتے ہیں،کسانوں اور ہاتھیوں دونوں کے لئے یہ واقعی ایک مشکل مسئلہ ہے-

    پلاٹنک کا کہنا ہے بہت سے دیہاتی ہاتھیوں کے لیے عقیدت اور ہمدردی رکھنے کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے وہ عام طور پر ہاتھیوں پر الزام نہیں لگاتے ہیں لیکن وہ اس مسلئے کا دیرپا حل چاہتے ہیں۔

    مقامی کمیونٹی کے رضاکار اور نیشنل پارک کے افسر مل کر ہاتھیوں کی نگرانی کرتے ہیں ، عموماً انہیں جنگلوں میں واپس بھیجنے کے لیے تیز شور اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ چین میں بھی حال ہی میں ہاتھیوں کا ایک جھنڈ سامنے آیا ہے جو کہ گزشتہ 15 ماہ سے کسی نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہے اور اپنے راستے میں آنے والی گنے اور بھٹے کی فصلوں کو تباہ کرچکا ہے، جب کہ حکام اس جھنڈ کے سفر کو ٹریک کرنے کے لیے ڈرون اور مقامی لوگوں کی مدد سے نگرانی کر رہے ہیں تاہم اس جھنڈ کے مستقل سفر کرنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ ہاتھیوں نے اب تک کیوں سفر کیا ہے پلاٹنک نے کہا ، "ایشیاء میں یہ واقعات بڑھ رہے ہیں ، اور یہ ہاتھیوں کے رہائش گاہ میں دستیاب وسائل میں کمی اور انسانی پریشانی میں اضافے کی وجہ سے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جسمانی رکاوٹوں یا ہاتھیوں کو منتقل کرنے جیسے طریقوں سے صرف ایک قلیل مدتی اثر پڑے گا۔

    اگر آپ ہاتھیوں کو ان کے قدرتی رہائش گاہ میں خوراک ، پانی اور دیگر وسائل کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے ہیں (یا اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پاس وہ کہیں اور موجود ہیں) ، تو وہ ان وسائل کی تلاش میں رکاوٹوں اور دیہاتوں یا فصلوں کے میدانوں تک رسائی حاصل کریں گے۔