Baaghi TV

Category: متفرق

  • افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    اگر میں کہوں کہ افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ روس اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا اور سر دھڑ کی بازی لگا کر بھی کامیاب ہونے میں ناکام رہا ہے ۔ امریکا آیا اور پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانیوں پر بم گرائے ۔ مختلف حیلوں بہانوں ، دھمکیوں اور لالچ سے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک کو ساتھ ملا کر طالبان کو الگ کردیا ۔ امریکا مکمل ناکام نہیں ہوا تو کام یاب نہیں ہوپایا ۔ ان بیس سالوں میں جہاں افغانیوں کو لاتعداد نقصان ہوا ہے وہی پر امریکا کا اس قدر نقصان ہوچکا ہے کہ اس نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی ہے ۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لمبے لمبے دور چلتے رہے اور بخیر و عافیت نکلنے کے راستے امریکا تلاش کرتا رہا ۔
    ایسے میں بھارت بھی اپنے مذموم مقاصد کو لے کر امریکا کے ساتھ آکھڑا ہوا اور پاکستان کے خلاف افغانی زمین کو استعمال کرتا رہا ۔ اربوں روپیہ افغانی زمین پر بھارت سرکار نے لگایا اور اپنے قدم جمانے لگا ۔ بھارت کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ امریکا کو اس طرح سے بھاگنا پڑے گا ۔ امریکا کے انخلا کے بعد بھارت جیسے ممالک افغانستان میں ٹک نہیں سکتے ۔ طالبان جس تیزی سے افغانستان کی زمین پر قابض ہورہے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلد وہ کابل پر بھی قابض ہوں گے۔ کابل پر قابض ہونے کا مطلب پورے افغانستان پر قابض ہونا ہے ۔ ہر ایسے عنصر پر طالبان کی نظر ہوگی اور ان کے نشانے پر ہوگا جو گھناونے عزائم لے کر افغانستان کی سر زمین پر حملہ آور ہوا تھا ۔ بھارت بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ رہا ہے لیکن اس بھاگنے کے ساتھ ساتھ وہ سازشوں میں بھی مصروف عمل ہے اور ڈبل گیم کھیل کر افغان انتظامیہ کو مزید مشکلات میں مبتلا کررہا ہے ۔

    اس وقت افغانستان میں بھارت کی حالت یہ ہے کہ قندھار سے اس کا تمام سفارتی عملہ اور را کے تمام ایجنٹ فرار ہوچکے ہیں اور قندھار میں واقع قونصل خانہ بند کردیا گیا ہے ۔ بھارت قندھار سے اپنے عملے کے نکالے جانے کی تصدیق تو کررہا ہے لیکن قونصل خانہ بند کرنے کی تردید کی گئی ہے ۔ اگر افغانستان میں بھارتی قونصل خانہ بند ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت افغانستان کے معاملات سے مکمل طور پر باہر ہوگا ۔ اسی لیے بھارت ڈبل گیم کھیل کر طالبان اور افغان حکومت کو باہمی لڑوانے کے چکروں میں ہے ۔

    عالمی طاقتیں جو افغان امن عمل میں براہ راست شامل ہیں وہ بھی بھارت کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور فی الوقت دیکھ رہے کہ بھارت کیا کررہا ہے ۔ بھارت کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر اس کی موجودہ گیم ناکام ہوتی ہے تو طالبان کا اگلا ہدف کشمیر ہوگا اور بھارت کے وہ علاقے ہوں گے جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالبان نے اگر بھارتی چالوں سے تنگ آکر امریکا سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا تو امریکا بھارت سے سختی سے نمٹنے پر مجبور ہوگا کیوں کہ امریکا کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ اپنے فوجیوں کو مزید مروائے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا کیوں کہ اگر افغان امن عمل خراب ہوتا ہے تو اس کی تپش صرف پاکستان اور افغانستان تک نہیں رہ گی بلکہ اس بار اس کی تپش کے ساتھ اس کے شعلے واشگٹن، لندن اور پیرس سمیت دیگر مغربی ممالک کے بڑے شہروں تک پہنچیں گے ۔

  • پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    جس میں کوکنگ ائل ، سویابین ملک ، دالیں ، فاسٹ فوڈز، خشک دودھ ، چائے کی پتی اور بھی بہت سی چیزیں
    ھم ایک جملہ اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ھے مگر آج تک کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی موجودہ حکومت نے اس طرف نہ صرف توجہ دی بلکہ عملی کام بھی شروع کر دیا ھے
    کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو ٹاسک دیا کہ آپ سروے اور ریسرچ کرو کہ ھم پاکستان میں کون کون سے فوڈز خود پیدا کر سکتے ہیں جو ھم باہر سے منگوا سکتے ہیں
    آپ سن کر حیران رہ جاو گے کہ جب ایگریکلچر ماہرین نے ریسرچ کیا تو ان کو پتہ چلا کہ ھم یہ تمام چیزیں نہ صرف خود کی ضرورت کے لئے پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اتنی وافر مقدار میں پیدا کر سکتے ہیں جس کو ھم ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں
    آپ کو صرف کچھ مثالیں دے دیتا ہوں اپ اندازہ کر لینگے
    پاکستان سالانہ صرف 1۔1 ارب ڈالر یعنی تقریبا 200 ارب روپے کا سویابین ملک ایمپورٹ کرتا ہے
    جبکہ 600 ملین ڈالر کا چائے ایمپورٹ کرتا ھے
    اس کے علاوہ پاکستان تقریبا تمام کوکنگ آئل باہر سے منگواتا ھے

    اب پاکستان ان شاءاللہ دو سال بعد اتنا سویابین دودھ پیدا کر سکے گا جو ضرورت سے زیادہ ھوگا اور ھم ایکسپورٹ کریں گے جبکہ چائے کی پتی بھی ھم ایکسپورٹ کریں گے ایمپورٹ کی وجہ سے ھمارے ملک کو سب سے بڑا نقصان یہ ھوتا ھے کہ ایک تو ملک میں روزگار کی کمی ھوتی ھے جبکہ ھمارے ملک سے ڈالر باہر جاتا ھے جس کی وجہ سے ھمارے ملک میں ڈالر کی کمی ھو جاتی ہے اور ھمارا روپیہ گر جاتا ھے اور مہنگائی ھو جاتی ھے حکومت کی کوششوں سے اب ھم اپنی ضروریات سے زیادہ یہ چیزیں پیدا کریں گے جس کا دو فائدے ھونگے ایک تو ھماری اپنی ضرورت پوری ھوگی جس سے روزگار بڑھے گا جبکہ دوسرا ھمارے ملک سے ڈالر باہر نہیں جائیں گے بلکہ زیادہ پیداوار کی وجہ سے ڈالر ھمارے ملک آتا رہے گا .جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ھوگا۔

    پاکستان ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ نے بلوچستان کے ایک کروڑ ایکڑ رقبے کو زیتون کی کاشت کے لئے موزوں قرار دیا ھے جس پر پلانٹشن شروع ہو گئی ہے اور اگلے 3 ، 4 سالوں میں ہم اتنا زیتون ائل پیدا کریں گے کہ دنیا کو ایکسپورٹ کریں گے اور خوشی کی بات یہ ھے کہ ھم دنیا کا سب سے زیادہ زیتون ایکسپورٹ کرنے والا ملک بنیں گے۔اس کے علاوہ دالوں کی کاشت بھی شروع ھو گئی ھے جو ھماری ضرورت سے زیادہ ھونگی ایک بات ذہن میں رہے کہ مقامی سطح پر جو چیزیں ھم پیدا کریں گے ایک تو اس کی قیمت کم ھوگی جنکہ دوسرا وافر مقدار میں دستیاب ھونگے۔
    موجودہ حکومت رزاعت کے ترقی کے لئے زمینداروں کو سہولیات دے رہی ہے جس کا فائدہ اس سال سامنے آیا ھے اور وزیراعظم صاحب مسلسل خود زمینداروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل خود سن کر سمجھ کر ان کو دور کیا جا سکے۔
    حکومت نے چین کے ساتھ بھی ایگریکلچر ریسرچ شئرینگ کا معاہدہ کیا ھے جس کے لئے بلوچستان میں جگہ مختص کی ھے۔
    ان شاءاللہ پاکستان بہت جلد زرعی شعبے میں صف اول کے ممالک میں شمار ھوگا۔
    ‎@THE_Z0R00

  • جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    آج کے پر فتن دور میں ہر روز اک نیا سکینڈل ایک نئ ویڈیو منظر عام پر آ رہی ہے۔ گرل فرینڈ کلچر کے نتائج ہسپتالوں میں نومولد کی لاشیں ڈال رہے ہیں تو کبھی ابارشن کے غیر قانونی طریقے اپنانے کے بعد لڑکیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔

    کبھی 4 سالہ معصوم بچے بچیاں اس ہوس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کبھی ہم جنس پرستی کا عفریت اس معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ہر طرف نوجوانوں کی ہوس کے شکار ہونے والے سہمے پڑے ہیں ہر انگلی اس نوجوان نسل کی طرف اٹھ رہی ہے ۔ ان لوگوں کی طرف کیوں نہیں جن کی ذمہ داری تھی اس نسل کی تربیت کرنا؟ کیا وہ اس سب سے مستثنٰی ہیں؟؟؟
    میرے ذاتی خیال میں سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ جنہوں نے اولاد کی لگثریز کی ذمہ داری تو اٹھا لی مگر تربیت بھول گئے۔ اور اگر تربیت کر بھی دی تو انکے وقت پر نکاح بھول گئے۔۔۔ بارہ سال کی عمر میں جوان ہونے والے بچے اپنی جنسی ضروریات کو کب تک دبایئں گے ؟ کیسے کنٹرول کریں گے جبکہ انکے ہاتھ میں موبائل اور صرف ایک کلک پر پورن کا ڈھیروں ڈھیر مواد موجود ہوگا؟؟ کالج یونیورسٹی تک پہنچتے جب انکو گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈر میسر ہو جایئں گے۔ اور جب والدین انکی تعلیم اور جاب کا انتظار کرتے ہوئے انہیں نکاح کے بندھن میں نہیں باندھیں گے تب وہ ایسے خود ساختہ بندھن خود بناتے جائیں گے۔۔ 100 میں سے 99 جوان اس مرحلے میں بھی خود پر قابو پا لیں اگر تب بھی باقی 1 جوان پھر بھی خطرہ رہے گا اس اپنی جنسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئ ایسا رشتہ ڈھونڈے گا نہ ملنے پر آسان میسر ٹارگٹ کو ریپ کرے گا۔۔

    اگر کوئ بچی/بچہ اپنی پسند بتا دے اور نکاح کرنا چاہے تب بھی یہی والدین ذات پات اونچ نیچ کے چکر میں اپنی انا کا پرچم بلند کر کے اس حق سے محروم کر دیتے ہیں ذہنی اذیت تو جو گزرتی ہے ان بچوں پر وہ الگ کہانی مگر جس جنسی اور جسمانی ضرورت کو اس سے روک لیا جاتا ہے وہ الگ سے اثر انداز ہوتی ہے ۔۔ اکثر نشے کی لت میں پڑ کر اپنی زندگی برباد کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس اس سب کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ 14 سال کی عمر میں جوان ہونے والے 32 سال تک بنا کسی پارٹنر کی کیسے رہ رہے ہیں اس بات کا اندازہ کیوں نہیں لگایا جاتا؟
    سب قصور انہی کی طرف کیوں نکلتے ہیں۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ رض کی شادی کم عمری میں کیوں کی گئ؟ تاکہ امت کو پیغام ملے ۔۔ مردوں کے لیے دو تین اور چار شادیوں کی اجازت دی گئ۔ مطلقہ و بیواوں سے نکاح کی تلقین کی بلکہ نبیﷺ نے خود کر کے مثال قائم کی ۔۔ نکاح کو آسان ترین بنایا گیا یہ سب کس کے لیے کیا گیا تھا؟ اسی بے راہ روی کو روکنے کے لیے لیکن آج ہم نے یہ سب چھوڑ دیا اور نتائج ہم بھگت رہے ہیں اور مزید تب تک بھگتیں گے جب تک یہ سب ہم اپنے معاشرے میں رائج نہ کر لیں۔۔۔ بلاشبہ نوجواں نسل اس کی ذمہ دار ہے مگر پہلا قدم والدین کو اٹھانا ہو گا

    ‎@NiniYmz

  • ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    وہ 20 سالوں سے افغانستان کٹھ پتلی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
    اصل میں طالبان کون ہیں؟ ان کو اتنی طاقت کیسے ملی  اور عالمی طاقتیں کیوں پریشان ہیں کہ وہ افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔
    یہ سب باتیں  سمجھنے کے لئے 1980 کی دہائ کے افغانستان کو جاننے کی ضرورت ہے جب افغان گوریلاز جنہے مجاہدین بھی کہا جاتا ہے نے نو سال تک  سوویت کا مقابلہ کیا جبکہ اسلحہ اور رقم سی آئ اے فراہم کرتا رہا ۔

    1989 میں سوویتوں نے انخلاء کرلیا اور اگلے کچھ سال افغانستان کافی افراتفری کا شکار رہا۔  1992 تک افغانستان کی جنگ  پوری طرح سے گھریلو جنگ بن چکی تھی کیونکہ قبائلی رہنما اقتدار کے لیے اپس میں گتھم گتھا تھے۔ دو سال بعد طالبان نامی ملیٹنٹ نے دنیا میں توجہ حاصل کی طالبان کے  بہت سارے ممبران نے افغانستان اور پاکستان  سے بڑے بڑے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان میں سے کچھ نے مجاہدین کی حیثیت سے جنگ بھی لڑی تھی۔اور اپنے ملک افغانستان کے لئے انکے اپنے منصوبے تھے ۔

    1996 تک طالبان نے  افغانستان دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔  انہوں نے افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور اسلامی قانون کی اپنی سخت ترجمانی مسلط کرنا شروع کردی۔ پھر نائن الیون ہوا جس کا ذمہ دار امریکہ اسامہ بن لادن کو سمجھتا تھا ، جو افغانستان میں طالبان کی مدد سے روپوش تھا۔طالبان نے امریکہ سے کہا کہ وہ اس بات کا ثبوت چاہتے ہیں کہ لادن ہی اس حملے کے پیچھے اور جب انہوں نے اسے فوری طور پر حوالے کرنے سے انکار کردیا تو امریکیوں نے حملہ کردیا۔کچھ ہی مہینوں میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور افغانستان کو ایک نئی عبوری حکومت مل گئی۔تین سال بعد اس کو نیا آئین ملا اور حامد کرزئی صدر منتخب ہوئے۔جب یہ سلسلہ چل رہا تھا تو طالبان نے دوبارہ متحد اور مضبوط ہوئے  وہ غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے باہر بھیجنا چاہیتے تھے  اور اقتدار واپس لینا چاہتے تھے اس کے بعد برسوں کے تباہ کن کشمکش جو اب بھی جاری ہے۔40،000 سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوئے۔کم از کم 64،000 افغان فوجی اور پولیس اور 3500 سے زائد بین الاقوامی فوجی ہلاک۔

    صرف امریکہ نے جنگ اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تقریبا ایک کھرب ڈالر خرچ کر دیا اور آمریکہ کے ہاتھ آیا کیا ککھ نہیں اب آمریکہ بہادر گھر جا رہا ہے جوبائیڈن نے11 ستمبر تک  افغانستان چھوڑنے کا علان کر چکا ہے  اور افغانستان آج بھی عدم استحکام کا شکار ہے اور طالبان اب پہلے سے بھی کئی زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں آج پورے ملک میں طالبان کے پاس 85،000 کے قریب کل وقتی جنگجو اور تربیتی کیمپ موجود ہیں۔پورے افغانستان میں مرکز کو چھوڑ کا  ان کا کنٹرول ہو چکا ہے طالبان پہلے سے زیادہ منظم اور زمانہ شناس ہو چکے ہیں ۔طالبان کا رہنما حبیب اللہ آخوندزادہ ہے وہ اس کونسل کے سربراہ ہیں جو خزانہ ، صحت اور تعلیم جیسی چیزوں کے انچارج ہے اس کے نیچے کئ  مقامی عہدیدار کام کرتے ہیں تو ایک طرح سے طالبان نے متوازی ریاست قائم کردی ہے۔وہ اپنی عدالتیں  اسلامی طرز پر چلاتے ہیں جو افغانوں میں کافی مشہور ہیں ۔اس سارے  عرصہ کنٹرول  اور حکمت عملی نے انہیں کافی مالدار بنا دیا ہے۔
    طالبان ممبران اور اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق وہ سال میں 1.5 بلین ڈالر کماتے ہیں۔ سننے میں اتا ہے کہ پہلے طالبان نے افھیم کی فروخت سے کافی پیسہ کمایا لیکن  اب انھوں نے آمدنی کے  لیے اور بھی راستے تلاش کر لئے ہیں۔  پچھلے سال انہوں نے کان کنی اور معدنیات کی تجارت اور methamphetamine کی پیداوار سے لاکھوں کمائے  ۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا افغان حکومت زندہ رہ سکے گی؟  اور طالبان کیا کریں گے؟ نیو یارک ٹائمز کے ایک پروگرام میں طالبان کے اس بیان نے چیزوں کو کافی صاف کیا جب انہوں نے کہا "ایک اسلامی نظام بنانا چاہتے ہیں … جہاں خواتین کے حقوق جو اسلام کے ذریعہ دیئے گئے ہیں – تعلیم کے حق سے لے کر کام کرنے کے حق تک محفوظ ہوں گے”طالبان کی اب تک کی حکمت عملی کافی کاریگر ثابت ہوئی  ہے ۔

  • جوڈیشل ایکٹیویزم۔ تحریر :ارم رائے

    جوڈیشل ایکٹیویزم۔ تحریر :ارم رائے

    اس ٹرم سے عام طور پر مطلب یوں لیا جاتا ہے کہ عدلیہ کا ایڈمنسڑیٹیو معاملات میں مداخلت کرنا یا پوچھ گچھ کرنا۔ اسکو سیاسی حکومتیں غلط سمجھتی ہیں اور اپوزیشن ٹھیک سمجھتی ہے کیونکہ اس سے حکومت کو فیصلہ لینے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ لینا پڑتا ہے تاکہ اگر عدلیہ نے پوچھ گچھ کرے تو کیا جواب دینا ہے اور اگر اس فیصلے کے خلاف عدلیہ کا حکم آگیا تو حکومتی پارٹی کی سبکی ہوگی اور ناکام سمجھی جائے گی۔ لیکن یہ ایک طرفہ سوچ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ سب نے عدلیہ کے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہی استعمال کیا اور جان بوجھ کر عدلیہ کو انتظامی معاملات میں مداخلت کا راستہ دکھایا۔

    مشرف تھا تو ایک ڈکٹیٹر مگر اس نے کچھ بہترین عدالتی اصلاحات کیں اور ان میں سے ایک "سو موٹو” کا قانون۔ اس قانون کے مطابق عدالت جب چاہے جس معاملے پر چاہے از خود نوٹس لیکر کاروائی شروع کرسکتی ہے ۔ اس کا مقصد تھا کہ اگر کسی ایسے انتظامی فیصلے کے خلاف کوئی بھی عدالت جانے کی جرات نہ رکھتا ہو تو عدالت خود اس پر نوٹس لیکر اسکا فیصلہ کرے۔ اسکا بنیادی مقصد عام عوام کو عدالتی ریلیف دینا تھا جیسے کہ جسٹس ثاقب نثار نے کیا۔ وہ ہسپتالوں کو چیک کرتے تھے اور اپنی ہی عدلیہ کے سیشن ججز کے خلاف بھی سوموٹو ایکشن لیتے تھے۔ اور تو اور انہوں نے پاکستان میں ڈیمز کے مسئلے پر سو موٹو ایکشن لیا اور کچھ ایسے فیصلے کیے جسکی بنا پر پروجیکٹس لگ رہے ہیں۔ اور ان پر کام بھی ہورہا ہے عوام نے بھی اسکو بہت سراہا

    عدلیہ ایکٹیویزم بنیادی طور پر ہونا ہی معاشرے میں انصاف کی فضا پیدا کرنے کے لئے تاکہ ہر شخص کو قانون کا پابند بنایا جائے۔ کوئی طاقت ور اگر کسی کمزور پر ظلم کرے تو عدالت نوٹس لیکر خود اس کی شنوائی کرے۔ اس سے معاشرے میں تحفظ کی فضا پیدا ہوگی اور ظالم اپنے ظلم سے بعض رہے گا۔ میرے خیال میں عدلیہ اپنا یہ قانون صرف اور صرف عوام کو انصاف دینے کے لئے استعمال کرنا چاہیے نہ کہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرکے۔ ہاں ملکی سلامتی اور منی لانڈرنگ کے خلاف ایکشن بھی لیا جاسکتا ہے تاکہ کرپشن کی روک تھام میں بھی یہ قانون اپنا کردار ادا کرسکے۔

  • ‏قدیم و جدید ہندوستان .تحریر : محمد صابر مسعود

    ‏قدیم و جدید ہندوستان .تحریر : محمد صابر مسعود

    ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپناقدم مبارک رکھا، جسکو موٴرخ اسلام علامہ قاضی محمد اطہر مبارکپوری رحمة اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق سترہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہا ہے، جسکو ایک شہر (قنوج) کے بادشاہ سربانک کے معجزہ شق القمر کو دیکھ کر مشرف باسلام ہونے کا رتبہ ملا ہے، جس کی طرف حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے برادر محترم ”حضرت حکم بن ابی العاص رضی اللہ عنہ“ کو ایک لشکر کا کمانڈر بنا کر ایک بندرگاہ ”تھانہ“ اور ”بھروچ“کے لئے روانہ کیا خلاصہ یہ کہ اس ملک کو ہزاروں سال قدیم ہونے کاشرف حاصل ہے۔

    یہاں قبل مسیح اشوک بادشاہ سے لے کر مغل فرماں رواں بہادر شاہ ظفر (جنہوں نے ہندوستان کی محبت میں اپنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر درد بھرے الفاظ میں ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہو کر باپ کے سامنے اپنا فرض ادا کرتی ہے ۔ اس کے بعد انگریزوں نے شہزادوں کے دھڑوں کو کوتوالی کے سامنے اور کٹے ہوئے سروں کو خونی دروازے پر لٹکا دیا تھا)
    بہر کیف مختلف بادشاہوں نے حکومت کی، کبھی تو یہ ملک ظالم و جابر حکمرانوں کے زیر دست رہا تو کبھی نیک دل اور عادل ومنصف فرماں رواؤوں کے زیر نگیں رہا ۔ اس ملک میں جہاں ایک طرف راجہ داہر جیسا ظالم، عہد و پیمان توڑنے والا بادشاہ گزرا (جس نے اپنے بھتیجے چچ کو قتل کرایا اور اپنے بھائی کی بیوہ سے شادی کی جو کہ سرہند لوہانہ نامی ایک سردار کی بہن تھی، جس نے سلطنت کی لالچ میں ایک جوتشی کے کہنے پر کہ اس کی بہن چندرا کی شادی جس شخص سے ہو گی وہ اروڑ کی سلطنت کا حکمران بنے گا چندرا سے شادی کر لی) تو وہیں دوسری طرف اس کے غرور کو خاک میں ملانے کے لئے محمد بن قاسم جیسا رحم دل جرنیل آیا ( جنکو عراق کے گورنر حجاج نے ہندوستان کی طرف بارہ ہزار افواج مع اسباب و آلاتِ حرب و ضرب کے رجا داہر کی گوشمالی کے لئے روانہ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اسلامی لشکر جرار کا راجا داہر کی فوج سے زبردست معرکہ ہوا اور راجا داہر مارا گیا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے راجا داہر کے غرور کو توڑ کر ہندوستان کی سرزمین کو ظلم و سرکشی سے پاک کردیا) اسی طرح ایک طرف اکبر نے دسویں صدی ہجری کے اخیر اور گیارہویں صدی ہجری کے آغاز میں شہنشاہیت کی ترنگ اور عقلیّت کے نشہ میں عقل وہوش سے بے نیاز ہوکر ”دینِ اسلام“ کے متوازی ”دین الٰہی“ کے نام سے ایک جدید مذہب کی تحریک چلائی (جسکا مختصر سا تعارف موٴرخ بدایونی نے کچھ اس طرح سے کرایا ہے کہ یہ برخود غلط مجتہد اور امام تھا، وحی الٰہی کو محال قرار دیتا، غیب اور عالم غیب سے متعلق ارشاداتِ نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کی برملا تکذیب کرتا، فرشتوں، جنّات، معجزات، بعث بعد الموت، حساب و کتاب اور ثواب وعذاب کا کھلے لفظوں انکار کرتا تھا۔ اس الحاد و زندقہ میں صرف اکبر ہی گرفتار نہیں تھا؛ بلکہ اس کے ارد گرد رہنے والوں میں سے اکثر لوگوں کا حال یہی تھا، معجزاتِ نبوی کے ساتھ استہزاء کی کیفیت کو ملابدایونی نے یوں بیان کیا ہے کہ ”بھرے دربار میں ایک پیر پر کھڑے ہوکر معراجِ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذاق اڑاتا اور کہتا کہ میں جب اپنا دوسرا پیر اٹھاکر کھڑا نہیں رہ سکتا تو راتوں رات ایک شخص آسمان سے اوپر کیسے پہونچ گیا، پھر خدا سے باتیں بھی کیں اور جب واپس ہوا تو بستر تک گرم تھا“ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ مذاق واستہزاء کا یہی معاملہ شق القمر اور دیگر معجزات کے ساتھ بھی تھا) تو دوسری طرف اس کے نو ایجاد دین کا پردہ چاک کرنے کے لئے مجدد الف ثانی اسکے خلاف علمِ جہاد بلندکرتے ہوئے اٹھا اور خدا کے حکم سے کامیابی و کامرانی نصیب ہوئی ، اس ملک میں عالم گیر جیسا نیک دل بادشاہ بھی پیدا ہوا جس نے حکومت کرکے اسلام کی حقانیت کو عملاً ثابت کیا، اور جسے شاہجہاں نے ایک حسین تاج محل جیسا تحفہ دیا (جس نے ہندوستان کو اپنے نور سے منور کیا ہوا ہے لیکن آج اسلام دشمنی میں اسی تاج محل کو یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ غیر ہندوستانی متصور کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں) ، اور پر شکوہ لال قلعہ دیا (اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاؤس واقع ہے جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے) ۔
    ہمارا یہ ہندوستان کبھی سونے کی چڑیا کہلاتا تھا؛ لیکن آج جھوٹے، لٹیرے و گھوٹالے باز حکمرانوں کی وجہ سے کنگال و بھکمری کا شکار ہے کبھی تو یہ ظالم حکومت یوپی کے ایک ضلع مظفر نگر میں الیکشن جیتنے کے لئے ہندو مسلم فسادات کراتے ہوئے نظر آتی ہے توکبھی اڈانی و امبانی کے چاپلوسی کرنے کے لئے کسانوں پر ظلم کرتے ہوئے دیکھی جاتی ہے،کبھی کورونا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کا قتل کر رہی ہے تو کبھی این آر سی کے نام پر مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کو بغیر کسی ثبوت کے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کر رہی ہے بالآخر اب یہ ملک سونے کی چڑیا نہیں بلکہ خون کے پیاسوں کا مسکن اور اسلام دشمنوں کا اڈہ بن چکا ہے جن کا تحریک آزادی میں دور دور تک نام نظر نہیں آتا اور اسی بات کو بھلانے کے لئے کہ ان اسلام دشمنوں کا تحریک آزادی میں کوئ حصہ نہیں تھا تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والے یہی مسلمان تھے جنکو آج نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، کبھی تو انکو نیوز چینلز کے ذریعہ ہراساں کیا جا رہا ہے تو کبھی آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعہ مابلنچنگ کی جا رہی ہے، کبھی سی اے اے کے تحت انہیں پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے تو کبھی عورتوں کو انصاف دلانے کے نام پر مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے الغرض یہ کہ مسلمانوں کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔وہ ٹیپو سلطان بھی ایک مسلمان ہی تھا جس کی موت پر انگریزوں نے فخریہ کہا تھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔ اسی ہندوستان کی آزادی کے لیے علماءِ حق نے شاملی کا میدان اپنے خون سے گرم کیا، لاہور سے دہلی تک کے درختوں کو اپنی جان کی قربانی دے کر آباد کیا، دریائے راوی میں بہے، لاہوری جامع مسجد میں لٹکائے گئے… اور ایک دن ان کےخون نے اثر دکھایا اور 1947میں آزاد ہوگیا ۔آزاد کیا ہوا، بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اسکی چھاتی کو دوحصوں میں چیر کر ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بھائیوں اوربہنوں کو الگ الگ ملک کا باشندہ بناکر ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا۔ برسوں شیروشکر ہوکر ایک ساتھ رہنے والے بھولے بھالے انسان انگریز کے جال میں پھنس گئے، گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے والے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور 1947ء میں تقسیم کے وقت وہ خون خرابہ ہوا کہ شیطان بھی شرمندہ ہوگیا، انسانیت کانپ اٹھی، ہر جگہ مہاجرین کی لاشیں نظر آنے لگیں، پنجاب کا گُروداس پور خون سے سرخ ہوگیا، انسانی لاشیں کتوں کی لاشوں کی طرح سڑکوں پر نظر آرہی تھیں، تعفن زدہ ماحول قائم تھا، لیکن لوگ خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ انگریز ہندوستان سے چلے گئے، ملک آزاد ہوگیا، ہم آزادہوگئے، لیکن شاید دونوں طرف کے رہنے والے باشندے اس بات سے نا بلد تھے کہ ہم تو رسماً آزاد ہوئے ہیں، جمہوریت کا نام نہاد طوق گلے میں لٹکا دیا گیا ہے جہاں مجبور محض ہوکر زندگی گزارنی پڑے گی، عوام کے پاس طاقت نہیں ہوگی، عوام محض مفلوک الحال ہوں گے، خیر کسی نہ کسی طرح 1947ء کا طوفان گزر گیا، عوام کو خوشی ہوئی کہ وہ آزاد ہوگئے اور خدا کا شکر ہے کہ آزاد ہیں؛ لیکن آزادی کے بعد سے ہی جس قوم نے آزادی کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جہادِ آزادی کا فتوی دیا، اسے نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوگیا، کانگریس نے اسے اپنے ووٹ بینک کی طرح استعمال کرنا شروع کیا تو بی جے پی اور دیگر پارٹیوں نے ا سے ڈرا دھمکا کر رکھا اور ایک دن ایسا آیا کہ آزاد ہونے پر افسوس ہونے لگا، کانگریس کی دوغلی پالیسی اور انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے گروہ نے تاریخی بابری مسجد کو آئینِ ہند بنانے والے بابا صاحب امبیڈکر کی یومِ پیدائش پر شہید کرکے یہ پیغام دے دیا کہ مسلمان جمہوریت پر یقین رکھیں لیکن ہم نہیں رکھیں گے (اور آج تک وہ درندے کتوں کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں جنمیں سر فہرست ہمارے پردھان منتری بھی ہیں) ، اور اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے ہم ان کی مساجد و عبادت گاہوں کو مسمار کرتے رہینگے ، فسادات کے ذریعے ان کے اَملاک تباہ کرتے رہینگے اور 1992ء کے بعد فسادات کا نہ تھمنے والا ایک ایسا سلسلہ جاری ہوا جو ممبئی، بھیونڈی، ملیانہ، اورنگ آباد ، مرادآباد، بھاگلپور، بہار شریف اور گجرات کے خونی ماحول سے ہوتا ہوا مظفر نگر اور دلی تک پہنچا جہاں صرف ایک ہی قوم کو نشانہ بنایا گیا، اس کی معیشت کو تباہ کیا گیا، ان کی ہی ماں و بہنوں کی عصمت لو ٹی گئی اور ستم بالائے ستم تو یہ ہوا کہ ان ہی سے حب الوطنی کا ثبوت بھی مانگا جانے لگا۔۔۔ !

    اب حال یہ ہے کہ جو لوگ آزادی کے لیےکبھی نہیں لڑے ان کی حکومت ہے اور جنہوں نے آزادی کے ذریعے اپنے خون سے سینچا وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں، ان کا ملک میں جینا دوبھر ہے، عدلیہ، مقننہ، حکومت، صحافت سب ان کے خلاف ہے، پھر کاہے کا جمہوری ہندوستان؟، اب ہندوستان جمہوری نہیں رہا، کچھ دن بعد عوام ۲۶؍جنوری کو جشنِ جمہوریت منائیں گے۔ اور یہ عہد کریں گے ’’بھارت میرا ملک ہے۔۔۔۔ہم سبھی بھارتی آپس میں بھائی بہن ہیں۔۔۔میں اپنے ملک سے محبت کرتاہوں۔۔۔۔اس کی باوقار اور مختلف النوع ثقافت پر مجھے ناز ہے۔۔۔۔میں ہمیشہ اس کے شایانِ شان بننے کی کوشش کرتارہوں گا۔۔۔۔میں اپنے والدین، اساتذہ اور سبھی گروؤں کی عزت کروں گااور ہر ایک کے ساتھ نرمی برتوں گا۔۔۔۔میں اپنے وطن اور اہلِ وطن کے ساتھ نیک نیتی کا حلف لیتا ہوں۔ ان کی بھلائی اور خوش حالی ہی میں میری خوشی ہے‘‘۔۔۔۔!اس عہد میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو سچے دل سے جمہوری ملک تسلیم کرتے ہیں، جمہوری دستور پر یقین رکھتے ہیں اور ملک میں امن و شانتی اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور وہ لوگ بھی عہد کریں گے اور جشن جمہوریت منائیں گے جنہوں نے جمہوریت و دستور کا مذاق اڑایا،اتنا ہی نہیں بلکہ وہ لوگ ہر لمحہ اور ہرپل آئین اور دستور کو ختم کرکے سیکولر کی حیثیت کو چھین کر ہندو راشٹر میں بدلناچاہتے ہیں، کاش اے کاش! وہ عادل و منصف حکمراں ہمیں پھر نصیب ہوجائیں، تاکہ ہزاروں سال کی پرانی روایت باقی رہے اور ہم خوشحال رہیں ۔۔۔!

  • ڈاکٹر عافیہ اور انکی 86 سالہ سزا . تحریر:سید عمیر شیرازی

    ڈاکٹر عافیہ اور انکی 86 سالہ سزا . تحریر:سید عمیر شیرازی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی جن پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے وہ افغانستان میں افغان طالبان اور القاعدہ کی سہولت کار تھیں اور اس بےبنیاد الزام کی بنا پر انکو چھیاسی سال کی طویل سزا سنا دی امریکی عدالت نے جب کہ یہ جھوٹ پر مبنی صرف ایک الزام تھا اس واقعے کی تحقیقات بھی نہیں کی گئی تھی
    لیکن امریکا نے دہشت گرد قرار دے دیا تھا پاکستانی حکومت کی کیا مجال تھی کہ اپنے آقا کے خلاف کچھ بول سکے
    ڈاکٹر عافیہ جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر تھی جو مختلف ممالک میں جا کر اپنی خدمات سر انجام دیتی رہتی تھیں
    افغانستان کا دورہ بھی اسی طرح کا ایک دورہ تھا کیوں کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان شدید قسم کی جنگ جاری تھی اور عوام بھی اس جنگ میں متاثر ہو رہی تھی ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر پاکستانی حکومت نے امریکا کے اس گھٹیا حرکت پر کوئی احتجاج تک نہ کیا اور وہ با آسانی ڈاکٹر عافیہ کو امریکا لے گے۔۔۔

    پاکستانی حکمران دیکھتے رہ گئے اور امریکی یہودی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو ان کی آنکھوں کے سامنے سے لے گئے اور ہم بے غیرتوں کی طرح
    دیکھتے رہے۔۔۔۔

    اب اللّه پاک ہی کسی معجزے کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کو ظالم یہودیوں سے آزاد کر سکتے ہیں کیوں کہ ان حکمرانوں میں تو جرات نہیں ہے .یا میرے مولا قوم کی بیٹی اور فخر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جلد از جلد یہودیوں سے آزادی دلوا دیں اور جب تک وہاں ہیں انکی حفاظت فرما۔ آمین

  • بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    عبدالستار ایدھی 29 فروری 1928 کو بھارت کی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے ، 1947 میں بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہوئے ، عبد الستار ایدھی نے 1966 میں اپنے نرسنگ ہوم کی ایک نرس بلقیس ایدھی سے شادی کی۔
    ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز

    عبد الستار ایدھی نے 1951 میں کراچی کے علاقے میٹھا در میں قلیل سرمایے سے میمن ویلنٹئر کور نام سے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے مدینہ ویلنٹئر رکھا گیا۔

    عبدالستار ایدھی نے خدمت خلق کا آغاز اسی ڈسپنسری سے کیا وہ سارا دن مجبور غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور رات کو اسی ڈسپنسری کے باہر ایک بنچ پر سو جاتے ۔

    فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے عبدالستار ایدھی نے کئی ممالک کے دورے کئے جن میں ایران، ترکی ،فرانس ،یونان، بلغاریہ، یوگوسلاویہ،شامل ہیں۔

    پاکستان واپس آ کر انہوں نے 1952 میں ایک زچگی سینٹر اور 1954 میں نرسوں کی تربیت کے لئے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا۔

    عبدالستار ایدھی نے 1957 میں ایشین فلو کے وقت کراچی میں مختلف مقامات پر امدادی خیمے لگائے اور بیماروں میں مفت ادویات بھی تقسیم کیں۔

    عبدالستار ایدھی کی ان گرانقدر خدمات اور خدمت خلق کی لگن کو دیکھتے ہوئے مخیر حضرات نے دل کھول کر مدد کرنا شروع کردی ۔

    ان فنڈز کی رقم سے عبدالستار ایدھی نے ایک وین خریدی اور اسے ایمبولینس میں تبدیل کیا ، یہ وین 24 گھنٹے مریضوں کو لانے لے جانے کیلئے مفت دستیاب رہتی، اسی دوران عبدالستار ایدھی نے مدینہ ویلنٹئر ڈسپنسری کا نام تبدیل کر کے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ رکھ لیا۔

    سیاست

    1970 میں خدمت خلق کے جذبے سے سر شار عبدالستار ایدھی نے باقاعدہ ملکی سیاست میں آ کر عوامی خدمت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے آذاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا ، تاہم کامیاب نہ ہوسکے، 1975 میں ایک مرتبہ پھر عبدالستار ایدھی نے انتخابات میں حصہ لیا مگر دوسری بار بھی ناکام ہوئے، اس کے بعد عبدالستار ایدھی نے ہمیشہ کیلئے سیاست سے کنارہ کرلیا۔

    ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات پر ایک نظر

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فری ایمبولینس سروس ہے، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس اس وقت اٹھارہ سو سے زائد ایمبولینسز موجود ہیں جو ملک بھر میں آج بھی مفت سروس مہیا کرتی ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو ائیر کرافٹ ، ایک ہیلی کاپٹر ایمبولینس، 28 لائف بوٹ (بحری ایمبولینس) بھی موجود ہیں، اس کے علاؤہ موبائل میت سرد خانہ اور مختلف مقامات پر 180 سرد خانے بھی بنائے گئے ہیں ، ایک سرد خانہ میں تیس میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، سرد خانوں میں رکھی میت کو اگر تین دن تک کوئی شناخت نہ کرے تو اسے مواچھ گوٹھ کراچی میں بنے ایدھی قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے، اس قبرستان میں لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد میتوں کو دفن کیا جاچکا ہے، ایدھی فاؤنڈیشن نے ملک بھر میں تقریباً 180 میت خانے ، میرج بیورو سینٹرز ، پاگل خانے، اینیمل شلٹرز ، اسکولز ، پناہ گاہیں ، زچگی سینٹرز ، معذور افراد کیلئے سینٹرز ، ایدھی لنگر خانے اور بےشمار مہاجرین کیمپ بنائے ہیں۔۔

    بین الاقوامی خدمات

    دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایدھی سینٹرز اپنی خدمات دے رہے ہیں جن میں افغانستان، ایران ، سوڈان ، ایتھوپیا شامل ہیں۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ، امریکہ ، انگلینڈ ، آسٹریلیا میں بھی ایدھی سینٹرز بنائے گئے ہیں ۔

    عبدالستار ایدھی کو ان کے خدمات بدولت بےشمار قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نواز گیا ہے۔

    وفات

    عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو 88 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔

  • کووڈ کی علامات و حقائق اور اس سے بچاؤ :تحریر: سجاد علی

    کووڈ کی علامات و حقائق اور اس سے بچاؤ :تحریر: سجاد علی

    کووڈ – 19 مختلف انسانوں پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتا ہے. بہت سے متاثرہ افراد میں بہت ہی معمولی نوعیت کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ بغیر ہسپتال داخل ہوئے بھی تندرست ہو جاتے ہیں.

    عام ابتدائی علامات :

    1- بخار
    2- خشک کھانسی
    3- تھکاوٹ

    غیر عام علامات :

    1- جسم درد
    2- گلہ کی سوزش
    3- اسہال
    4- آشوبِ چشم
    5- سر درد
    6- زائقہ اور سونگھنے کی حس کا غائب ہونا
    7- جلد کی سوزش
    8- جلد کی رنگت تبدیل ہونا

    سنگین علامات :
    1- سانس لینے میں دشواری
    2- سینے کا درد یا دباؤ
    3- بول چال یا حرکت کا ماؤف ہو جانا

    اگر آپ سنگین علامات کا شکار ہیں تو فورا معالج سے رجوع کریں.

    عام اور ہلکی علامات والے افراد جو کسی اور مرض میں مبتلا نہیں، گھر میں ہی معالج کی ہدایات کے مطابق عمل کر کے علامات پر قابو پا سکتے ہیں.

    کووڈ کی علامات پانچ سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں. اور بعض اوقات چودہ سے بیس دن میں نمایاں ہوتی ہیں.
    کم و بیش یہی دورانیہ مکمل صحتیابی کا بھی ہے، چودہ سے بیس دن میں مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں. بعض اوقات زیادہ سیریس علامات کی صورت میں دورانیہ تیس سے چالیس دن کا ہو سکتا ہے.

    احتیاطی تدابیر :

    کووڈ – 19 سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں. تجویز کردہ احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنی اور دوسروں کی صحت کا خیال رکھا جا سکتا ہے اور اسے مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے.

    1- باہر جاتے وقت اچھے اور معیاری فیس ماسک کا استعمال کریں.
    2- بلا ضرورت ہجوم میں جانے سے گریز کریں.
    3- دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھیں. متاثرہ فرد سے قریب ہونے کی صورت میں کورونا سمیت دیگر وائرس منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے.
    4- جب ضرورت ہو تو پانی اور صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں. ایسا کرنے سے ہاتھوں پر موجود وائرس ختم ہو سکتے ہیں.
    5- ہاتھ مختلف چیزوں کو چھونے کی وجہ سے وائرس منتقل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں اس لیے آنکھ، ناک اور منہ چھونے سے اجتناب کریں.
    6- اپنے نظام تنفس/سانس کی صحت کا خیال رکھیں.
    7- طبیعت بہتر محسوس نہ ہو تو گھر پر رہیں. اس طرح اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے.
    8- بخار، کھانسی یا سانس لینے میں مشکل ہو تو فوراً معالج سے رجوع کریں.
    9- تمام سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں.
    10- پکے ہوئے اور خام کھانوں، گوشت وغیرہ کے لیے الگ کٹنگ بورڈز اور چھریاں استعمال کریں.
    11- ایک دوسرے کے استعمال شدہ برتن استعمال کرنے سے اجتناب کریں.
    12- برتن اچھی طرح دھو کر خشک کر کے ڈھک کر رکھیں.
    13- بیمار جانوروں کا، یا باسی گوشت مت استعمال کریں.
    14- مارکیٹوں میں آوارہ جانوروں، کچرے اور فضلے سے دور رہیں.
    15- جانوروں یا ان سے متعلق مصنوعات کو استعمال کرتے وقت ہاتھوں پر دستانے پہنیں.
    16- جانوروں یا ان کی مصنوعات کو چھونے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں.
    17- یونیفارم صاف ستھرا رکھیں، روزانہ دھوئیں.
    18- باہر سے واپس آنے پر نہا کر لباس تبدیل کر لیں اور لباس دھو دیں.
    19- اہلخانہ کو کام کی جگہ پر پہنے جانے والے لباس/یونیفارم سے دور رکھیں.
    20- مکمل گھر، خاص کر کچن، باتھ روم اور زیادہ استعمال ہونے والے حصے، کام کی جگہ، زیرِ استعمال چیزیں، سواری وغیرہ کو کم ازکم دن میں ایک بار جراثیم کش دوائی سے ضرور صاف کریں.
    21- بیمار جانوروں یا غیرصحت مند نظر آنے والے جانوروں سے دور رہیں. اور ان کا علاج کروائیں.
    22- صابن اور پانی میسر نہ ہونے کی صورت میں ہینڈ سینیٹائزر وائیپس یا لیکویڈ ہمیشہ اپنے پاس رکھیں.
    23- کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ رہیں.
    24- اپنے معالج، طبی اداروں اور حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں.

    اللہ ہم سب کو اس ناگہانی آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین

  • عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ان کے گھر بچے کی پیدائش ہوئی، بہت پیارا صحت مند بیٹا۔اس کا نام ذیشان رکھا گیا، لیکن چند ہی دن بعد ایسا محسوس ہوا کہ بچے کے جسم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے چھوٹا اوروہ صحیح طرح حرکت نہیں کر رہا جب اس کو ہسپتال لے گئے تو پتہ چلا کہ بچہ Cerebral Palsy کا شکار ہے۔مدیحہ اور حیات حیران کہ بظاہر بالکل ٹھیک نظر آنے والا بچہ اس بیماری کا شکار کیسے ہوا؟ یہ بیماری میں بچوں کے دماغ کی نشوونما سے روکتی، جس سے اعصاب پر فرق پڑتا ہے بچے چل نہیں سکتے بول نہیں سکتے اور کچھ کیسز میں بات کرنے اورچیزیں سمجھنے سے قاصر ہوتے، یعنی دماغیجسمانی بیماری دونوں ایک ساتھ حملہ کرتی۔ کچھ کیسز میں بچوں کو دورے پڑتے جوکہ بچے کو دماغی اعصابی طور پر مزید کمزور کرتے۔
    یہ خبر ان دونوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ اتنے چھوٹے سے بچے کے ٹیسٹ، اتنی دوائیاں اور ان کا بچہ روتا بھی نہیں تھا کیونکہ بیماری کی وجہ سے اس کے پاس بولنے کی طاقت بھی نھیں تھی۔ جیسے جیسے ذیشان بڑا ہونے لگا تو اس کی معذوری سب کے سامنے آگئی، نا چل سکتا، نا بول سکتا اور چیزیں پکڑ نہیں سکتا ۔ یہاں سے کڑا امتحان شروع ہوا۔ لوگوں نے ان کو طعنے دینا شروع کردیے کہ یہ بچہ ایسا کیوں، تم دونوں نے ضرور کوئی گناہ کیا، لگتا کسی کی بددعا لگ گئی۔ ان کے اپنے خاندان میں گود بھرائی کی تقریب تھی، مدیحہ کو اس لیے رسم نہیں کرنے دی گئی کہ کہیں ان کے جیسا بچہ نا پیدا ہوجائے۔ وہ ساری تقریب میں مجرم کی طرح کھڑی رہی۔ سب اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے۔ لوگ اس کو طعنے دیتے، اس کو کہتے، اور بچے پیدا نہ کرنا تم میں کوئی نقص ہے، جبکہ ایسا نہیں تھا، مدیحہ اور حیات اچھے انسان تھے۔

    بیٹے کی بیماری اور لوگوں کی نفرت نے مدیحہ کو ذہنی مریض بنا دیا، وہ ہر وقت روتی رہتی، تاہم اس کے شوہر نے اس کا بہت ساتھ دیا، وہ بچے کا بھی خیال کرتا اور اس کا بھی دھیان کرتا۔ پھر ایک ماہر نفسیات سے ملنے کے بعد اس کی زندگی میں تبدیلی آئی۔ اُس نے دونوں میاں بیوی کا سمجھایا کہ دماغی اور جسمانی معذوری کے پیچھے طبی وجوہات ہوتی ہیں، یہ کسی بددعا یا جادو ٹونے کا نتیجہ نہیں۔ یہ قسمت میں لکھا تھا کہ آپ دونوں نے دنیا میں جنت کمانی تھی۔ ایک خصوصی بچے کی خدمت اور اس سے پیار کرکے آپ کو جو روحانی سکون ملے گا وہ شاید کسی اور چیز سے میسر نہ آئے۔ نابینا پن، قوت گویائی قوت سماعت سے محروم تو عام انسان بھی ہوسکتا ہے، کچھ حادثات میں انسانوں کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اسی صورت میں علاج اور تھراپی سے کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کو اس قابل کیا جائے کہ وہ روزمرہ زندگی میں اپنا تھوڑا حصہ ڈال سکے۔ ماہر نفسیات نے ان دونوں کو سنٹر برائے خصوصی اطفال میں بھیج دیا، یہ سرکاری ادارہ تھا، سہولیات تو کم تھیں، لیکن سٹاف بہت اچھا تھا، انہوں نے ذیشان کو مختلف ورزشیں کروائ، فزیو تھراپی کروائی، اس کے لیے خصوصی جوتے بنوائے گئے۔ تھراپی، علاج اور اساتذہ کی وجہ سے ذیشان میں تبدیلی آئی۔ پہلے جو شان ہر وقت بستر پر رہتا تھا، اس نے چیزیں پکڑنا شروع کردیں اور چلنے کی کوشش کرنے لگا۔ دو سال میں شان بیٹھنے اور ہاتھ سے چیزیں کھانے کے قابل ہوگیا۔ مدیحہ اور حیات دونوں مل کر ذیشان کا کام کرتے، تاہم وہ دیکھتے کہ خصوصی بچوں کے لیے نہ ہی پارکس میں جھولے اور نہ ہی ان کیلئے کھلونے بازار میں ملتے ۔ وہ اکثر یہ ناانصافی دیکھ کر اداس ہوجاتے۔ ذیشان کو اپنے سکول میں بہت سے دوست مل گئے، کوئی بول نہیں سکتا تھا، کوئی چل نہیں سکتا تھا، کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا، لیکن سب بہت پیارے۔ یہ بچے تو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ معصوم تھے، ایک دوسرے سے کوئی نفرت نہیں تھی، وہاں سب کی مل کی سالگرہیں منائی جاتی۔ بہت سے خاندان ان خصوصی بچوں کی بدولت قریب آگئے۔ حیات کی ٹرانسفر ہوگی، جب دوسرے شہر میں آکرانہوں نے شان کو خصوصی بچوں کے سکول میں داخل کروایا تو وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ فیس پچاس ہزار روپے ماہانہ تھی، یہ سکول صرف خصوصی بچوں کے والدین کو لوٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایسے سکول شاید پورے ملک میں بہت جگہ ہوں، لیکن حکومت کی دلچسپی نہیں، شاید خصوصی بچے ان کی ترجیح نہیں۔ مدیحہ نے ذیشان کی ہوم سکولنگ شروع کروادی اور ساتھ ہی ڈاکٹر سے سپیچ تھراپی اور ایکسر سا ئز بھی۔ وقت گزرتا گیا آج شان آٹھ سال کا ہے، وہ خود چل سکتا ہے، اپنے ہاتھ سے کھانا کھاسکتا ہے اور تھوڑا تھوڑا بول لیتا ہے۔ بہت اچھی تصویریں بناتا ہے، سب کہتے ہیں یہ بڑا ہوکر آرٹسٹ بنے گا۔ وہ خصوصی بچوں کیلئے قائم سرکاری سکول میں جاتا ہے، اس کی والدہ خود اس کو لے کر جاتی ہیں، تھراپی، کونسلنگ اور علاج نے اس کو پہلے سے بہت فعال کردیا ہے۔ طبی بنیادوں پر وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوسکتا، لیکن وہ اب کسی پر بوجھ نہیں ہے۔

    خصوصی ضروریات کی چار اقسام ہیں، وہ جن کو جسمانی مسائل ہوں، جنہیں نشوونما میں مسائل کا سامنا ہو، جن کو جذباتی رویے اور دماغ کے مسائل ہوں اور جس میں کمزوری شامل ہے۔ بچوں میں یہ بیماریاں عام ہیں :Down syndrome، Autism، ADHD، Bipolar disorder، Dystrophy، Epilepsy، Dyslexia، Visually impaired and Blindness۔ ان سے مکمل صحت یاب تو نہیں ہوسکتے، لیکن تھراپی اور ادویات سے جزوی فعال کیا جاسکتا ہے۔ خصوصی بچے اللہ کی نعمت ہیں، جن سے شفقت اور خدمت کرکے ہم جنت کماسکتے ہیں۔ جب بھی کسی خصوصی بچے کو دیکھیں، اس کے والدین سے غیر ضروری سوال نہ کریں۔ والدین کی اجازت سے اس بچے کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ دیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو استقامت دے اور وہ اسی طرح اپنے بچے کا خیال کرتے رہیں۔ خصوصی بچے عذاب نہیں جنت کے پھول ہیں، انہیں پاگل مت کہیں، ان کے والدین کے ساتھ بدتمیزی نہ کریں، ان کو تکلیف نہ دیں۔