Baaghi TV

Category: متفرق

  • پاک بحریہ کثیرالجہتی محاذوں پر مصروفِ عمل .تحریر:افتخار احمد خانزادہ

    پاک بحریہ کثیرالجہتی محاذوں پر مصروفِ عمل .تحریر:افتخار احمد خانزادہ

    پاک بحریہ ایک کثیر الجہتی مقاصد کا حامل ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کی بحری حدود کی حفاظت کے علاوہ خطے میں پُر امن جہاز رانی کا فروغ اور آبی گزرگاہوں کو محفوظ بناتے ہوئے پاکستان کی بحری تجارت کو بحفاطت پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے، اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے پاک بحریہ ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں وطنِ عزیز کی ساکھ،سربلندی اوردائمی استحکام کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے۔پاک بحریہ نے کبھی دہشت گردی کے خلاف کھلے سمندروں میں عالمی بحری قوتوں کے ہمراہ عالمی امن کے لیے اپنی خدمات پیش کیں، کبھی انسدادِبحری قزاقی کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کیاتو کبھی زلزلے،سیلاب اور قدرتی آفات میں گھرے متاثرین کو سامانِ خوردو نوش اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو ممکن بنایا۔
    قدرتی آفات اور حادثات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی اور متزلزل صورتِ حال میں پاک بحریہ نے قوم کو کبھی بھی مایوس ہونے نہیں دیا۔ کووڈ کی صورتِ حال کے دوران پاک بحریہ نے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں ضرورت مند خاندانوں تک غذائی اشیاء کی فراہمی کو ممکن بنا کر قوم کا اعتماد جیت لیا۔

    پاک بحریہ نہ صرف عسکری محاذوں پر برسرپیکار اپنی جرات،اولولعزمی، فرض شناسی اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ قومی سطح پر رفاہ عامہ کے کاموں میں بھرپور حصہ لے کر انسانی خدمت کا فریضہ بھی بخوبی نبھا رہی ہے۔پاک بحریہ نے نہ صرف1000 کلو میٹر کی ساحلی پٹی پر آباد سر کریک سے جیوانی تک کی آبادیوں کو ہمیشہ مفت طبی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایاہے بلکہ اندرونِ سندھ، وسطی پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں بھی ان سہولیات کو باہم پہنچانے کا بھر پوراہتمام کیا ہے، جس کا مظاہرہ پاک بحریہ اپنے میڈیکل کیمپس کے انعقاد کے ذریعے کرتی رہتی ہے۔ 8 اکتوبر کے زلزلے میں متاثرین کو طبی امداد اور ضروری سامان کی فراہمی کے ساتھ متاثرین کی اسپتالوں تک رسائی جیسے اقدامات میں پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا،شمالی علاقہ جات میں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے آپریشنز میں بھی پاک بحریہ نےدیگر مسلح افواج کے شانہ بہ شانہ اپنا کردار اداکیا،جس نے پاک بحریہ اور عوام کے درمیان پُر جوش اور متاثرکن جذبات کو جنم دیا۔ اس طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاک بحریہ اپنا کردار ادا کر کے عسکری اداروں پر عوام کا مزیداعتماد بحال کرتے ہوئے قوم پراپنا منفرد تشخص آشکار کر رہی ہے۔

    آزادکشمیر مظفرآباد میں پاک بحریہ کے 30 جون سے 2 جولائی 21 تک منعقد ہ 3روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں پاک بحریہ کی جانب سے پہلی بار اس فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آزادکشمیر مظفر آباد ڈویژن کے ضلع ہٹیاں کے علاقے چکار،نواحی علاقے چلہ پانڈی اور نیلم وادی کے علاقے کنڈل شاہی میں لگائے گئے3 روزہ فری میڈیکل کیمپ میں پاک بحریہ کے خصوصی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے علاقائی لوگوں کو گھر کی دہلیز پر مناسب تشخیص کے بعدفری ادویات کی فراہمی کو ممکن بناکرمقامی افراد میں زندگی کی روح پھونک دی اور اس طرح کشمیر کے دورافتادہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات سے محروم ضرورت مند اور مستحق افراد کے دل جیت لیے۔اس فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام نیول ہیڈ کواٹر کی خصوصی ہدایت کے تحت عمل میں لایا گیا تا کہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں رہائش پزیرافراد میں انسانی صحت سے متعلق شعور اُجاگر کرتے ہوئے انہیں مناسب طبی سہولیات اورادویات فراہم کی جا سکیں۔ہزاروں افراد کا مفت طبی معائنہ کیا گیااور تشخیص کے مطابق مختلف امراض میں مبتلا کثیر تعداد میں مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔پاک بحریہ کے طبی ماہرین کے متاثرکن اور خوش اخلاق رویے نے علاقائی افراد کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیں۔ پاک بحریہ کی یہ ٹیم کوالیفائیڈ ڈاکٹرزاور فزیشنز پر مشتمل تھی جس میں شامل میڈیکل،سرجیکل،امراضِ چشم،زچہ و بچہ اور جلدی امراض کے خصوصی ماہرین نے مختلف امراض میں مبتلا مستحق افراد کو بھرپور توجہ کے ساتھ معائنے کے بعد طبی سہولیات فراہم کیں۔عوام الناس کو صحت عامہ سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی بالخصوص خواتین کو ماں اور بچے کی صحت سے متعلق ضروری معلومات سے آگاہ کیا گیا کہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے اور صحت مند بچے ہی صحت مند معاشروں کا آئینہ دار ہوا کرتے ہیں۔

    آزاد کشمیر کے ان دور افتادہ دیہاتی علاقوں میں جہاں مناسب بنیادی طبی سہولیات کا فقدان موجود ہے، اچھے اسپتالوں تک رسائی اور مہنگی ادویات کا حصول عوام الناس کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ ان مقامات پر اس طرح کے فری میڈیکل کیمپس ضرورت مندافراد، بچوں، بوڑھوں، خواتین اور مستحق خاندانوں میں خوشیاں بانٹتے ہوئے ان کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جس کی بدولت مقامی لوگوں میں پاک بحریہ سے متعلق محبت سے بھرپور جذبات جنم لے رہے ہیں مقامی افراد پاک بحریہ سے متعلق دلوں میں نرم گوشے رکھتے ہوئے تشکر آمیز مسکراہٹوں کے ساتھ بحریہ کے اس اقدام پر دعا گو نظر آتے ہیں۔یقینا قوموں کی زندگی میں ایسے ہی لمحات باہمی ہم آہنگی اور یک جہتی کے فروغ کا باعث بنتے ہیں جس کی بنا پر مستقل بنیادوں پر قومیں معاشروں میں اپنے وجود کا احساس دلایا کرتی ہیں جن کے نتائج قومی حمیت اور ناقابلِ تسخیر دفاع کی صورت میں اقوامِ ِعالم پرآشکارہوتے ہیں اور تاریخ ان عوامل کو اپنے دامن میں جگہ دے کر قوموں کی زندگی کو امر کر دیا کرتی ہے۔ پاک بحریہ انہی عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف فلاحی کاموں میں بھرپور حصہ لیتی ہے اور ارضِ وطن کے دفاع اور دائمی استحکام کے لیے کثیر الجہتی محاذوں پر ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔

  • طالبان کی نئی حکمت عملی؟ تحریر: نوید شیخ

    طالبان کی نئی حکمت عملی؟ تحریر: نوید شیخ

    اب تک طالبان کی افغانستان کی مسسلسل پیش رفت کیا ہے اور کیسے وہ چن چن کر اپنے دشمنوں کو عبرت کا نشان بنا رہے ہیں ۔ اب جیسا کہ کل خبر آئی تھی کہ بھارت طالبان کے خلاف قوتوں کو افغانستان میں اسلحہ فراہم کر رہا ہے ۔ آج طالبان نے قندھار میں بھارتی قونصل خانے پر قبضہ کرکے یہ بدلہ اتار دیا ہے اور قونصل خانے پر قبضے کی ویڈیو بھی جاری کردی گئی ہے۔ ویڈیو میں طالبان کو قندھار میں بھارتی قونصل خانے کے مختلف حصوں میں جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارتی سفارتکاروں اور سکیورٹی عملے نے اپنا سامان بھی پیک نہیں کیا۔ اور بھاگ گئے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت بیس سال تک افغانستان میں کئی طرح کے جنگی جرائم میں امریکہ کا مددگار رہا ہے ۔ اب افغانستان میں بھارت کی حالت عجیب سی ہو گئی ہے ۔ تین ارب ڈالر وہاں کھپانے والا بھارت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ طالبان کے ساتھ چین ، روس ، ترکی اور امریکہ وغیرہ سیدھی بات کر رہے ہیں اور پاکستان بھی۔ لیکن بھارت کی وزارت خارجہ کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے کیونکہ سب کو انکی اصلیت معلوم ہے ۔ اس وقت بھارت کی وزارت خارجہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج افغانستان ہے۔ بھارت کو فوری طور پر جس چیز نے تشویش کا شکار کیا وہ اس کے پائلٹوں کا معاملہ ہے۔ طالبان زمینی حملوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں لیکن فضائی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بیس برسوں کے دوران بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے پاس یہ معلومات موجود ہیں کہ طالبان ، معصوم بچوں اور عام شہریوں پر بمباری کرنے والے کئی پائلٹ بھارتی فضائیہ کے ہیں۔ طالبان نے اب تک برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم پائلٹوں کے متعلق ان کی پالیسی غیر مبہم ہے۔ اب یہ بھی خبریں ہیں کہ حالیہ دنوں سات یا آٹھ پائلٹ طالبان نے قتل کئے ہیں۔ ان میں کچھ بھارتی بھی ہیں۔ بھارت کے لئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ اب تک بھارت اپنا بہت سا عملہ افغانستان سے نکال چکا ہے۔ ان میں زیادہ تر سفارتی کور میں کام کرنے والے انٹیلی جنس کے لوگ تھے۔

    ۔ یہ لوگ افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑائی اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اب بھارتی سفارت کار ایسے پراپیگینڈہ کر رہے ہیں کہ طالبان امن دشمن ہیں اور غیر مہذب ہیں ۔ جبکہ بھارتی میڈیا کو تو ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان دشمنی کے پیچس لگ گئے ہیں ۔ بھارتی میڈیا اس وقت رو رہا ہے ، چینخ رہا ہے ، چلا رہا ہے ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ جائیں تو جائیں کہاں ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے لئے افغانستان کی صورت حال مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور سیکرٹری خارجہ ہر وہ دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں جہاں سے طالبان کا گزر ہوا ہو ۔ مگر طالبان نے اب بھی اور پہلے بھی درپردہ رابطوں کی بھارتی کوششوں سے بیزاری کا اظہار کیا ہے ۔

    طالبان کے برسر اقتدار آنے سے بھارت افغانستان کی شکل میں ایک سٹریٹجک اتحادی سے محروم ہو چکا ہے۔ بھارت کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے۔ اور بھارت کو اس چیز کی بھی بہت تکلیف ہے کہ طالبان اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اس لئے پاکستان کو ایک اور دوست ہمسایہ مل گیا ہے ۔ پاکستان کا مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا۔ سی پیک اور وسط ایشیا تک جانے والے تجارتی راستے کھل سکتے ہیں۔ اس لیے بھارت کے لئے یہ تصور کرنا ہی ڈرونا خواب ہے کہ وہ ہارے اور فرار ہوتے لشکر کا سپاہی ہے۔ مودی ، جے شنکر اور اجیت ڈول کے پائوں تلے انگارے سلگ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے خطے میں پاکستان اور چین کے سوا سب سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور سب انہیں پاکستان کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ درحقیقت بھارت کو افغانستان میں خانہ جنگی سوٹ کرتی ہے کیونکہ اسے افغان سرزمین پر پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی سازشیں مزید پروان چڑھانے کا موقع ملے گا۔ چنانچہ افغانستان کا عدم استحکام ہمارے عدم استحکام پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا یہ موقف بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرمایہ کاری ڈوبنے پر بھارت شدید مایوسی کا شکار ہے اور ایسے میں اُس کی بوکھلاہٹ قابل فہم ہے ۔

    بھارت پہلے امریکا کی ناک کے نیچے بدامنی پھیلاتا رہا ۔ افغانستان میں امن نہیں ہونے دیا ۔ اب روس ،ایران ،چین اور سب ممالک دیکھ رہے ہیں کہ بھارت عدم استحکام کیلئے اسلحہ پہنچارہا ہے ۔ خطے کے امن کیلئے ضرور ی ہے کہ بھارتی دوغلی گیم کو روکا جائے ۔ حقیقت میں بھارت افغانستان میں خانہ جنگی کروا رہا ہے ۔ بنیادی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھے ،امریکا کو بھارت پر نظر رکھنی چاہئے ،بھارت کے جہاز اسلحہ بھر بھر کر افغانستان آرہے ہیں اور دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کو نظر نہیں آرہے ۔یہ اسلحہ آتش بازی کیلئے نہیں لڑائی کیلئے جارہا ہے ،اقوام عالم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے ،دنیا کو افغانستان میں خانہ جنگی نہیں ہونے دینی چاہئے ۔ کیونکہ اگر چاہے تو پاکستان بھی طالبان کو اسلحہ دے سکتا ہے۔ مگر افغانستان میں خانہ جنگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ افغانستان میں اگر امن لانا ہے تو کسی کو پراکسی نہیں بننے دینا چاہئے۔

    ۔ دوسری جانب طالبان نے شمالی اتحاد کا مرکز سمجھے جانے والے 100 اضلاع پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ وہ اضلاع ہیں جہاں طالبان اپنے دور حکومت میں بھی قبضہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اب شمالی صوبے بدخشاں کے تمام اضلاع پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ اس میں وہ ضلع فرخار بھی شامل ہے جو نائن الیون سے پہلے طالبان کے مخالف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے زیر قیادت شمالی اتحاد کا مرکز تھا۔ شمالی صوبوں میں طالبان کی کامیابی کی بڑی وجہ یہاں ان کی تنظیم سازی اور یہاں موجود تاجک اور ازبک آبادی کو اپنی صفوں میں شامل کرکے اعلیٰ عہدے دینا ہے۔ اس کے علاوہ ان صوبوں میں افغان فوجیوں کو کابل حکومت کی طرف سے امداد نہ مل سکی ۔ بہت سے فوجیوں نے طالبان کی عام معافی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھیار ڈالے اور طالبان سے نقدی اور کپڑے وصول کرکے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔ طالبان نے اب افغان فوج اور عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج ہتھیار ڈال دے تو ہم ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ ہماری حکومت سے عوام کو کوئی تشویش نہیں ہے۔ امریکہ کے خلاف جہاد میں عوام کی مدد سے امریکہ کو شکست دی ہے ۔ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان سے کوئی خوف نہ رکھیں۔ دراصل امریکی لوگ عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ جونہی امریکہ افغانستان سے جانے لگا ہے تو عوام بھی کھل کر ہمارا ساتھ دینے لگے ہیں۔

    ۔ اب تک کی صورتحال کے بارے میں افغان طالبان کے دوحا میں موجود ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے 80 فیصد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے اور اب صرف مرکز باقی رہ گیا ہے۔ جن اضلاع پر قبضہ کر رہے ہیں وہاں اپنا نظام بھی نافذ کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا کسی کے ساتھ کوئی شخصی یا ذاتی مسئلہ نہیں ہے، ہم نے جن حالات کی وجہ سے جہاد شروع کیا تھا وہ حق اورباطل کا معرکہ تھا۔ حق اور باطل کے معرکے کے آخر میں فتح حق کی ہوتی ہے۔ جو اقوام ہم پر حملہ آور ہوتی ہیں وہ ہماری روایات سے متصادم ہوتی ہیں اس لیے ظاہر سی بات ہے کہ ہم انہیں شکست ہی دیں گے۔ ہم اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم افراتفری نہیں پھیلائیں گے جس کی وجہ سے خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی طالبان نے ایک بار پھر کابل ائرپورٹ ترکی کے حوالے کرنے کی مخالفت کر دی ہے ۔ انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انخلاء مقررہ تاریخ تک کوئی غیرملکی فوج قبول نہیں۔

    اس بیان کے بعد افغان حکومت نے کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کیلئے اینٹی میزائل سسٹم نصب کردیا ہے ۔ افغان سکیورٹی فورسز کے ترجمان اجمل عمر شنواری نے کہا ہے کہ سکیورٹی سسٹم ہمارے غیر ملکی دوستوں نے دیا ہے ۔ یہ کافی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے ۔ اس لئے فی الحال ہمارے غیر ملکی دوست ہی اسے سنبھال رہے ہیں لیکن ہم اسے سنبھالنے کی صلاحیت میں اضافہ کررہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی عالمی ذمہ داریوں سے صرف نظر کیا ہے اور انتہائی عجلت میں افغانستان سے اپنی فوج واپس بلائی ۔ اس حوالے سے چین نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے اس عمل سے افغان عوام اور خطے کے دیگر ممالک پر ملبہ ڈال دیا حالانکہ اس ساری صورتحال کیلئے اصل قصور وار امریکی انتظامیہ ہے کیوں کہ اُسی پر تمام تر افغان مسئلے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں۔ وہ اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اور مطلب نکلنے پر اجنبی بن جاتا ہے۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک یقینا نئے سکیورٹی بحران سے نمٹ لیں گے لیکن دنیا امریکہ کو ہمیشہ ایک عجلت پسند ، مطلب پرست اور غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر یاد رکھے گی۔ امریکی منافقت کی انتہادیکھ لیجیے کہ بیس برس قبل افغان حکومت اس کی چہیتی جبکہ طالبان دہشت گرد اور خطے کے امن کیلئے ناسور قرار دیے جاتے تھے۔ پچھلے سال فروری کے مہینے میں قطرمیں طالبان سے معاہدہ کرکے امریکہ نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ طالبان کی افغانستان میں کیا اہمیت ہے

    اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے طالبان کے پانچ ہزار قیدی افغان حکومت کے جیلوں سے رہا کروائے۔ اس دوران امریکہ نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ہونے والے تاریخی معاہدے کے وقت اشرف غنی حکومت کی شرکت ضروری نہیں سمجھا۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال میں پاکستان کو بہرحال اپنے مفادات کو پیش نظر رکھنا ہے۔ اس وقت امریکہ بھی جارحانہ انداز ترک کرکے افغانستان میں امن کیلئے ہم سے ڈو مور کے تقاضے کر رہا ہے اور کابل انتظامیہ بھی پاکستان سے معاونت کی طلب گار ہے۔ جبکہ طالبان افغانستان میں ماضی کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں اور پوری آب وتاب کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں پر قابض ہورہے ہیں۔ افغان طالبان کا اعتماد اور لب و لہجہ اس امر کا عکاس ہے کہ وہ ابھی سے خود کو کابل کے اقتدار پر براجمان سمجھ رہے ہیں اور اسی تناظر میں وہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    اگرچہ پاکستان کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لحاظ سے علمی درجہ بندہ پہ تیسرے نمبر پہ رکھا گیا ہے۔
    بین الااقوامی سطح پر پاکستانی حکومت کی اقدام کی کافی پذیرائی بھی ہورہی ہے تاہم تمام تر احتیاط کے باوجود کرونا وائرس کی نئی قسم جو سب سے پہلے انڈیا میں تشخیص ہوئی تھی وہ پاکستان پہنچ چکی ہے یہ خبر یقیننا تشویش ناک ہے کہ وطن عزیز میں بھارتی کرونا وائرس کے مریض آنا شروع ہوگئے ہیں۔
    اس خطرناک وائرس کے پھیلنے کی خدشے کی وجہ سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر نے حکمت عملی ترتیب دی ہے اور اس پالیسي کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو ویکسین لازمی قرار دیا ہے ۔ حکومت کی پوری کوشش اس بات پہ منحصر ہے کہ کسی طرح اس خطرناک لہر پہ قابو پایا جاسکے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں اس لہر کی وجہ سے بھارت میں لاکھوں لوگوں کی اموات ہو چکی ہے ۔
    اور پاکستان میں اب دن بدن کیسز بڑھ رہے ہیں جو کہ تشویشناک صورتحال ہے ۔
    کچھ دن پہلے اسد عمر نے اپنی ٹویٹ میں واضح طور پر یہ کہاں تھا اگر کیسز کی شرح اسی طرح بڑھتی گئی تو ہمیں شادی هالز اور ہوٹلز پہ پابندی لگانی ہوگی۔ اس وقت پاکستان میں تعلمی ادارے پہلے سے بند کیے گئے ہیں۔

    اس ضمن میں عوام کو بھی چائے حکومت کے اقدام کا بھر پور طریقے سے ساتھ دیں کیونکہ اسی میں ملک وہ قوم کی بقا ہے ۔ اس وقت حکومت کی پوری کوشش ہے کہ جلد از جلد پاکستان کے تمام افراد کو ویکسین لگائی جائے جو کہ درست اقدام ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے حال ہی میں بتایا تھا کہ ’ڈیلٹا ویریئنٹ اب تک کرونا وائرس کی شناخت ہونے والی اقسام میں ’سب سے زیادہ منتقل‘ ہونے والی قسم ہے، جو  ویکسین نہ لگانے والی آبادی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
    پاکستان میں کم عقلی اور لاشعوری ویکسین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کی جارہی ہے اور حکومت کو چاہئے لوگوں کو اس بارے میں شعور و آگاہی دیں اور ایسی پالیسیز بنا لیں کہ جو عمل نہیں کرینگے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ اس چوتھی لہر سے ملک وہ قوم کو بچایا جا سکے۔
    ڈیلٹا وائرس اتنا خطرناک ہے کیونکہ یہ جلدی سے منتقل ہونے والا وائرس ہے ، پھیپھڑوں کے ری سیپٹرز کو مضبوطی سے جکڑنے اور اینٹی باڈیز کے رد عمل کو سست کرنے کی’ صلاحیت موجود ہے۔
    پاکستان کا کردار کو اب تک سراہا جا رہا ہے لگ بگ بائیس کروڑ سے زیادہ آبادی والا ملک اب تک بڑھے لیول کی تباہی سے بچا ہوا ہے اور اب بھی چائے کہ تمام قوم جلد از جلد اپنا ویکسین لگاوا لیں اور اس وائرس کی تباہی سے ملک وہ قوم کو بچائے اور ملک وہ قوم کی بقا میں اپنا مثبت کردار کو ادا کریں۔

    @I_MJawed

  • اسلامو فوبیا کیا ہے؟ تحریر: محمد عدنان شاہد

    اسلامو فوبیا کیا ہے؟ تحریر: محمد عدنان شاہد

    ‏اسلاموفوبیا لفظ اسلام اور یونانی لفظ فوبیا یعنی (ڈر جانا) کا مجموعہ ہے ۔
    غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف خوف پیدا ہو جاتا ہے جسے اسلاموفوبیا کہتے ہیں
    اسلام و فوبیا ایک جدید لفظ ہے جو مسلمانوں اور اسلام کو بد نام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے
    اس اصطلاح کا استعمال 1976 سے ہوا 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے استعمال کیا جانے لگا۔ اس کے بعد کئی مغربی ممالک میں مسلمانوں پر حملے کیے گئے۔
    سانحہ نیوزی لینڈ کو دنیا نے دیکھا جہاں 50 جیتے جاگتے انسانوں کو لحموں میں ڈھیر کردیاگیا ۔
    آخر یہ ظلم مسلمانوں پر ہی کیوں؟؟
    اسلام تو پر امن دین ہے اور امن کا درس دیتا ہے جس مذہب میں راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کو صدقہ جاریہ کہا جاتا ہے وہ مذہب کیسے کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے ؟
    اگر تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو دیکھا جائے گا کہ فتح مکہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی اس موقع پر ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کو معاف کر کی امن کی اعلی مثال قائم کی اور دنیا کو دکھایا کہ اسلام ایک پرامن دین ہے۔

    جو مذہب غیر مسلموں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے آخر اس مذہب سے اتنا ڈر کیوں ؟ جہاں تک دیکھا جائے تو اسلاموفوبیا کی سب سے بڑی وجہ سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ کہ اسلام کی بڑھتی مقبولیت۔
    زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں حال ہی میں 8 جون کو کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان کو گاڑی تلے روند کر قتل گیا اس واقعہ میں چار افراد ہلاک ہوئے اور 9 سال کا بچہ بچہ زندہ بچا۔
    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آئی سی او کے پلیٹ فارم پر بھی اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر زور دیا
    جناب عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اسلاموفوبیا بنیاد پرستی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کا سختی سے مقابلہ کریں عمران خان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کو کو خطوط لکھے جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام فوبیا کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  • "طالبان کا پس منظر اور افغانستان” .تحریر:محمد محسن

    "طالبان کا پس منظر اور افغانستان” .تحریر:محمد محسن

    عالمی جنگوں سے پہلے دنیا ملٹی پولر تھی یعنی کہ دنیا میں کوئی اک واحد سپر پاور نہ تھی۔ جیسے ہی دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو یہ ملٹی پولر دنیا بائی پولر بن گئی جس کے نتیجے میں سوویت یونین اور امریکہ دو بڑی طاقتیں نمودار ہوئیں۔ ان دونوں ممالک میں اک دوسرے پر فتح حاصل کرنے کی جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ کو عرف عام میں سرد جنگ کہا جاتا ہے جو کہ تقریباً 1945 میں شروع ہوئی اور 1991 میں آ کر ختم ہوئی۔ اس سرد جنگ کے دوران ان دونوں ممالک کی سیدھی آپسی تو کوئی جنگ نہ ہوئی لیکن انہوں نے اپنے اپنے حامیوں کو اک دوسرے کے مقابلے میں خوب سپورٹ کیا۔ اس سرد جنگ کے دوران دو بڑی جنگیں ہوئیں جن میں سے ایک میں امریکہ جبکہ دوسری میں سوویت یونین کو شکست ہوئی۔ پہلی اہم جنگ تو ویتنام کی جنگ تھی جس میں سامراجیت اور اشتراکیت کی بنیاد پر دونوں نے اپنے اپنے حامیوں کی مدد کی۔ شمالی ویتنام کے چین کے ساتھ رابطے کی وجہ سے یہ خطہ اشتراکیت کی طرف مائل تھا جبکہ جنوبی ویتنام کو امریکہ سپورٹ کر رہا تھا تا کہ ان کو بھی اشتراکی نظریات میں نہ ڈھال لیا جائے۔ خیر ویتنام میں اک لمبی جنگ ہوئی جس میں امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب امریکہ سوویت یونین سے اپنی اس شکست کا بدلہ لینا چاہتا تھا اور موقعہ کی تلاش میں تھا کہ سوویت یونین نے اپنے اشتراکیت کے نظام کو بڑھانے کے لیے افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں جس سے امریکہ کی جان کو لالے پڑ گئے اور اس نے سوویت یونین کے نظریات کو یہاں سے اکھاڑنے کے لیے مختلف مسلمان ممالک کی مدد حاصل کی جن میں پاکستان، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات سرفہرست تھے۔ خیر ان ممالک نے دل کھول کر امریکہ کی مدد کی جس کے بدلے میں پاکستان کی طرف امداد کے منہ کھول دئیے گئے۔ عرب ممالک خود تو لڑ نہیں سکتے تھے لہذا اس سارے منظر نامے کی زمہ داری پاکستان کو دی گئی۔ پاکستان، افغانستان، سعودی عرب وغیرہ سے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کو یہاں فوجی ٹریننگ دی گئی۔ اوپر سے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی جس نے پاکستان میں اسلامائزیشن کی اک ایسی جزباتی تحریک چلائی جس میں مسلمان آسانی سے پھنس گئے۔ اسلام کے لیے پاکستان میں بہت کام ہوئے۔ نت نئے قوانین متعارف کراۓ گۓ اور حدود آرڈیننس وغیرہ بھی تبھی پاس ہوئے۔ پاکستان اور افغانستان کے ملحقہ بارڈر پر دینی مدارس قائم کیے گئے جن کے لیے فنڈنگ دوسرے ممالک سے آتی تھی۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ ان لڑاکا گروہ کو مجاہدین کا نام دیا گیا جن کی گوریلا کارروائیوں کی بدولت سوویت یونین کو یہاں قدم نہ جمانے دئیے گئے۔ وہ سوویت یونین جو 1979 میں افغانستان میں داخل ہوا تھا اسے 1989 میں شکست کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا۔ اس عرصہ کے دوران جب سوویت یونین کی فوجیں یہاں افغانستان میں موجود تھیں ان کی حمایت یافتہ حکومت افغانستان میں قائم رہی۔ اب جب سوویت یونین کی افواج واپس جاچکی تھیں تو اس حکومت کا کوئی حامی نہیں تھا اس لیے لوکل افغان اس حکومت کے درپے ہو گئے۔ اگرچہ سوویت یونین واپس جا کا تھا لیکن پھر بھی اس نے افغانستان میں موجود اپنی حامی حکومت کی مدد جاری رکھی جو کہ غالباً 1989 کے بعد ڈیڑھ دو سال تک ہی قائم رہ سکی اور بعد میں اس کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس حکومت کے خاتمے کے بعد بھی افغانستان کے حالات سازگار نہیں ہو رہے تھے کیونکہ افغانستان مختلف قبائل پر مشتمل اک ملک ہے جنکی آپسی دشمنی کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتی ہے۔ اسی کشمکش میں ان مدارس کے طلباء جو کہ سوویت یونین کی جنگ کے دوران قائم کیے گئے تھے ملاں عمر کی قیادت میں اکٹھے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان کے دور دراز کے دیہاتوں میں قابض ہو گئے۔ 1994 میں طالبان اک منظم روپ میں سامنے آئے اور ٹھیک دو سال بعد 1996 میں افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ طالبان بنیادی طور پر پشتون قبائل کے لوگوں پر مشتمل اک جماعت ہے جس میں دوسرے قبائل کے لوگ بھی شامل ہیں۔

    اس وقت افغانستان میں چار بڑے قبائل ہیں جن میں پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ شامل ہیں۔ وہ طالبان جنہوں نے 1996 میں افغانستان میں حکومت بنائی تھی آہستہ آہستہ انکی حکومت تقریباً 90 فیصد افغانستان پر پھیل گئی سوائے شمال کے علاقے کے۔ طالبان کی اس حکومت کو بین الاقوامی سطح پر کوئی پزیرائی حاصل نہیں ہوئی اور نہ اس کو کسی نے تسلیم کیا سوائے پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے۔ وہی امریکہ جن کی خاطر یہ افغان لوگ لڑے تھے اسی نے افغانستان پر پانبدیاں عائد کر دیں لیکن طالبان بھی اپنی حکومت پر بضد رہے یہاں تک کہ 9/11 کا واقعہ رونما ہو گیا۔ اس واقعہ کی زمہ داری سعودی عرب کے اسامہ بن لادن پر عائد کی گئی جو کہ ان کے مطابق اس وقت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ پہلے طالبان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کو دینے کی حامی بھری لیکن پھر انکار کر دیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان میں وار آن ٹیرر کا اعلان کر دیا۔ لہذا 2001 سے امریکہ نے افغانستان کی زمین پر قدم رکھے جو کہ بیس سال تک بڑھتے چلے گئے۔ اس عرصہ کے دوران امریکہ نے سوویت یونین کی طرح اپنی حمایت یافتہ اک کٹھ پتلی حکومت قائم کیے رکھی جس میں پہلے حامد کرزئی اور اب اشرف غنی نے بطور صدر اپنی زمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اسی سوویت حکومت کی طرح یہ حکومت بھی عوامی پزیرائی حاصل نہ کر سکی اور بڑے بڑے شہروں تک ہی محدود رہی۔ بیس سال ہزاروں فوجی مروانے اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی جب کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا تو 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا اعلان کیا۔ فروری 2020 میں طالبان کو پیس ٹالکس کے لیے راضی کرنے کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے اپنا اپنا کردار ادا کیا اور اک معاہدہ کیا گیا کہ اب یہاں سے امریکہ اپنی افواج کو نکال لے گا تاکہ آپ لوگ افغان حکومت کے ساتھ ملکر اک حکومت بنا لو۔ صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد اس امریکی انخلاء میں اچانک تیزی آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بگرام ایئر بیس کو بھی خالی کر دیا گیا جبکہ باقی تھوڑے امریکی فوجی افغانستان میں واپس بچے ہیں۔ افغانستان میں اک بار پھر وہی خلا پیدا کر دیا گیا ہے جو کہ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد پیدا ہوا تھا۔ تب سوویت یونین کی حمایت کے باوجود افغانستان کی حکومت بمشکل تھوڑا عرصہ نکال پائی تھی لیکن اب کی بار تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ اب تو امریکہ کو بھی افغانستان سے کوئی خاص سروکار نہیں اگر ہوتا تو ایسے اچانک تو یہاں سے نہ نکلتا۔ اب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے اڈے مانگ رہا۔۔ اگر اتنی ہی ضرورت تھی تو پھر افغانستان سے نکل کر گیا ہی کیوں؟۔ اب دوسرے ممالک سے یہ کہہ رہا کہ ہمیں جگہ دو تا کہ ہم ان طالبان پر نظر رکھ سکیں اور عام لوگوں کی حفاظت کر سکیں۔

    اب آجائیں امریکی انخلاء کے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان پر مضمرات کی طرف۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب افغانستان میں سول وار شروع ہوئی تھی تو افغانستان سے لاکھوں مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے۔ تب کے پاکستانی حکمرانوں کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان پر کتنا بڑا بوجھ ڈال کر جارہے ہیں۔ تب امداد کی مد میں خزانوں کے منہ پاکستان کے لیے کھول دئیے گئے تھے جس میں کسی نے ان مجاہدین کے پاکستان میں مستقبل کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا۔ اور وہ مجاہدین جن کو پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے نام پر اپنے اندر سمویا کہ ابھی ان کے ملکی حالات ٹھیک نہیں لہذا یہ کچھ عرصہ یہاں گزار کر جب ملکی حالات ٹھیک ہوں گے واپس چلے جائیں گے لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس وہ مجاہدین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ پاکستان نے انہیں مسلم برادر سمجھ کر عارضی رہائش گاہ دی لیکن وہ یہاں پکے ہو گئے بلکہ پیچھے سے اوروں کو بھی بلاتے رہے۔ اس کے علاؤہ انکی آپسی لڑائی نے پاکستان کی اکانومی کو جو نقصانات پہنچائے اس کی وجہ سے آج پاکستان کی اکانومی کا یہ حال ہے۔ اوپر سے ان کی پر تشدد کارروائیاں پاکستان میں بھی جاری ہو گئیں جن کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ہزاروں ہی معزور اور اپاہج ہوئے۔ اب جب امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے تو پاکستان کو بھی اک ڈپلومیٹک طریقہ اختیار کرنا چاہیے نا کہ ماضی کی طرح جزباتی۔ آپ اندازہ لگا لیں کہ دنیا کا سپر پاور ملک ان جنگی اخراجات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہاں سے نکل رہا ہے تو ہم اک اور جنگ کا خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کی آپس میں نہیں بننی اور آخر کار حالات اسی طرف جاتے نظر آرہے ہیں جو کہ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد بنے تھے کیونکہ نہ تو طالبان نے موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کرنا اور نہ ہی سب قبائل نے طالبان کو۔ ایک بار پھر طالبان دیہی علاقوں میں ایسے ہی اپنے جھنڈے گاڑ رہے ہیں جیسے 1994 کے بعد گاڑے تھے۔ اس سارے پس منظر میں پاکستان کو افغان بارڈر پر باڑ مکمل کرنی چاہیے اور طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ نارمل سیاسی تعلقات استوار کرنے چاہیے نا کہ جزباتی کیونکہ اب پاکستان مزید مہاجرین کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

  • یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج کوئی الگ نسل نہیں ہے بلکہ یہ قوم حضرت نوح ع کی اولاد میں سے ہے۔حضرت نوح ع کے تین بیٹے تھے۔ان میں اک یافث تھا۔یافث کے بارہ بیٹے تھے۔ان بارہ بیٹوں میں سے دو کا نام یاجوج ماجوج تھا۔ انہی دو بیٹوں کے طفیل سے اک وحشی قوم کی نسل چلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں یاجوج ماجوج کا تذکرہ آتا ہے وہاں ذوالقرنین بادشاہ بھی ذکر لازمی آتا ہے کیونکہ یاجوج ماجوج کو پہاڑوں میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے والہ یہی بادشاہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہا جاتا ہے کہ ذوالقرنین بادشاہ ہمیشہ حالت سفر میں ہوتے تھے ۔اک دفعہ یہ بادشاہ ایک سلطنت میں پہنچے جہاں ترک آباد تھے۔یہ سلطنت آرمینا اور آذربائیجان کے قریب واقع ہے۔وہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم آباد تھی جو ترک قوم کا قتل اور بربریت کے پہاڑ توڑتی تھی۔اور اپنی شر پسندی اور فتنہ انگیزی میں بہت مشہور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترک قوم اس وحشی قوم سے محفوظ ہونے کے لیے ۔اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی ساری تکلیف سے ذوالقرنین بادشاہ کو آگاہ کیا۔ بادشاہ نے تب ترک قوم اور اپنے حواریوں سے مل کر ان دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو بند کرنے کا قدم اٹھایا۔ذوالقرنین نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے اس راستے پر رکھ دیے پھر ان کو نظر آتش کر کے ان کے اوپر پگھلا ہوا تانبا ڈالہ پھر اک ناقابل تسخیر دیوار سامنے آئ جو اب تک اپنی طاقت و توانائ سے قائم دائم ہے۔۔

    اس دیوار کی بلندی یاجوج ماجوج کی پہنچ سے بہت دور ہے اور اسے توڑنا اور اس میں سوراخ کرنا بھی اک ناممکن کام ہے۔اب یہ قوم ہماری دنیا سے ہمیشہ کے لیے کٹ گئ ہے۔کسی کو نہیں معلوم کہ اب ان کا طرز زندگی کیا ہے۔لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ وہ دیوار توڑنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔وہ روزانہ دیوار سے سوراخ کرتے ہیں اور جب سوراخ ہونے کو ہوتا ہے ہے تو ان کا سردار انہیں واپسی کا حکم دیتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ باقی کام کل کریں گے۔۔۔۔

    یہ بھی زبان ذد عام ہے کہ جب اس قوم کے خروج کا وقت آئے گا تو ان کی زبان سے لفظ۔۔انشاءاللہ ۔جاری ہو گا جو کہ تا حال اللہ کریم نے ان سے انشاءاللہ کی توفیق چھین رکھی ہے۔جب یہ قوم انشاءاللہ کہ کر دیوار توڑنا شروع کرے گی تو دیوار ٹوٹ جائے گی۔۔

    یاجوج ماجوج قہر بن کر نکلیں گے۔ہر طرف تباہی پھیلا دیں گے۔کسی کی جرآت نہیں ہوگی کے اس قوم کا سامنا کر سکے۔اس قوم کا جو پہلا گروہ نکلے گا اس کے سامنے پانی کی جھیل آئے گی وہ جھیل کا سارا پانی پی جائے گا ۔دوسرا گرو آ کر کہے گا کہ کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔یہ قوم ہر طرف خون ریزی کر دے گی ہر سمت عذاب ہی عذاب ہو گا۔ہر طرف ف کرب وبلا کا منظر ہو گا۔اک وقت آئے گا جب ساری زمین پر یاجوج ماجوج کا قبضہ ہوگا۔پھر یہ قوم یروشلم کے پہاڑ پر پہنچے گی اور کہے گی۔اب ساری زمین پر ہمارا قبضہ ہے۔پھر آسمان کی طرف تیر برسا ئے گی تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں۔گی اس وقت حضرت عیس ع کا نزول بھی ہو چکا ہو گا۔ اور دجال قتل ہو چکا ہو گا۔

    ۔عیسی ع کو خبر دی جائے گی ۔کہ یاجوج ماجوج نکل چکے ہیں۔جس کے مقابلہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔اس طرح عیسی ع اس وحشی قوم کی یلغار میں آئیں گے۔اور ان کو شکست دینے میں ناکام ہونگے۔ہزار میں سے نو سو آدمی اس قوم کے ساتھ جڑتے جائیں گے۔ آخر کار عیسی ع ساتھیوں سمیت کوہ طور پر چلے جائیں اور یاجوج ماجوج سے چھٹکارے اور ان کے شر سے پناہ کی اللہ کریم سے دعا کریں گے۔ عیسی ع کی دعا قبول ہو گی۔

    اللہ کریم یاجوج ماجوج کی گردن پر مخصوص قسم کا کیڑا پیدا کریں۔وہ کیڑا یاجوج ماجوج کی ہلاکت کا سبب بنے گا ۔ہر طرف اس وحشی قوم کی لاشیں ہی لاشیں ہوں گی۔جو بدبو پھیلا رہی ہوں گی ۔پھر خاص قسم کے پرندے آئیں جو ان لاشوں کو وہان لے جائیں گے جہاں حکم خدا وندی ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔ . ۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاجوج ماجوج کا قصہ تمام ہونے کے بعد۔پھر تیز بارش ہو گی۔زمین صاف شفاف ہوگی۔برکتوں کا زمانہ لوٹے گا۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔پھل اس قدر ہوں گے کہ اک انار بہت سے لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔مویشیوں کا دودھ پوری بستی کے لیے کافی ہو گا۔اس کے سات سال تک سکون رہے گا۔پھر وہ دن آن پہنچے گا۔جس کا ہمارے رب نے وعدہ کر رکھا ہے۔پھر توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا

    نوٹ : اگر تحریر میں کوئی غلطی ہوئی تو اس کے لئے پیشگی معزرت

  • سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف

    سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف

    مشرقی سوڈان کے علاقے ’کسنا‘ میں 4100 مربع کلومیٹر پر سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہوئے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی تی وی :لائیو سائنس کی رپورٹ کے مطابق 10 ہزار سے زیادہ کی تعداد میں یہ چھوٹے بڑے مقبرے کم از کم پانچ سو سال پرانے ہیں جو ’کسنا‘ میں ایک بہت وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیںان مقبروں میں دو طرح کی ساخت زیادہ نمایاں ہے ٹیومیولس اور قبہ ۔

    ٹیومیولس ایک عام کچی قبر جیسی ساخت ہوتی ہے جو ارد گرد کی سطح زمین سے کچھ بلند ہوتی ہے جبکہ ’قبہ‘ میں مقبرے کی چاردیواری اور چھت بھی ہوتی ہے جس پر گنبد موجود ہوتا ہے۔

    اتنے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ان ہزاروں مقبروں میں بظاہر کوئی ترتیب نہیں لیکن اٹلی کی نیپولی یونیورسٹی میں افریقہ اور بحیرہ روم کے آثارِ قدیمہ کے ایک ماہر اسٹیفانو کونسٹانزو کو چند سال پہلے شبہ ہوا کہ شاید اس بے ترتیبی میں بھی کوئی ترتیب ہے۔

    زمین پر نظر رکھنے والے مصنوعی سیارچوں سے لی گئی تفصیلی تصویروں کی مدد سے انہوں نے اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے مقبروں کا مجموعی نقشہ مرتب کیا جس میں ہر نقطہ ایک مقبرے کو ظاہر کرتا تھا۔ یہیں سے ان مقبروں میں ترتیب کی جھلکیاں نمایاں ہونے لگیں۔

    اپنے برطانوی اور سوڈانی تحقیق کار ساتھیوں کی مدد سے انہوں نے ایک خاص تکنیک استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جسے ’’نیمین اسکاٹ کلسٹر پروسیس‘‘ کہا جاتا ہے۔

    ’’نیمین اسکاٹ کلسٹر پروسیس‘‘ استعمال کرنے پر ہونے والا انکشاف خود ان ماہرین کےلیے بھی حیرت انگیز تھا: تمام مقبروں کی ترتیب کہکشانی جھرمٹوں جیسی تھی یعنی درمیان والے مقبروں کا ایک جھرمٹ اور اس کے گرد پھیلے ہوئے مقبروں کے مزید جھرمٹ جنہیں بعد کے زمانوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    اس ترتیب کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ درمیان والے مقبرے غالباً زیادہ اہم اور ’’مقدس‘‘ ہستیوں کے ہیں جبکہ ان کے ارد گرد پھیلے ہوئے چھوٹے مقبرے، ان ہستیوں سے عقیدت رکھنے والوں کے ہیں۔

    اس طرح یہ ترتیب بالکل ویسی ہوگئی ہے جیسی کسی کہکشاں میں ستاروں کے جھرمٹوں کی، یا پھر کہکشاؤں کے جھرمٹوں میں ہوتی ہے –

    اتنا سب کچھ معلوم ہوجانے کے باوجود، ماہرین یہ نہیں جان پائے ہیں کہ آخر یہ مقبرے اس پراسرار کائناتی ترتیب ہی میں کیوں تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کےلیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے جو شاید ایک طویل عرصے میں مکمل ہوسکے۔

  • افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

    افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

    کہا جاتا ہے کہ افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان ہے۔ جہاں برطانیہ اور روس نے شکست کھائی اور اب امریکہ کو ذلت آمیز شکست ہوئی ۔

    ۔ روس افغانستان سے ناراض ہے کہ ان کی وجہ سے سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ برطانیہ انہیں معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ افغانوں نے انہیں عبرتناک شکست دی تھی اور جب انگریز تاریخ کی کتابوں میں اس عظیم برطانوی سلطنت کا تذکرہ پڑھتے ہیں جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا تو وہ یہ پڑھ کر شرمندہ ہوتے ہیں کہ افغانوں نے انہیں ذلت آمیز شکست دی تھی۔ وہ بھی افغانوں کو نفسیاتی طور پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اب امریکہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے تو اسے خوب علم ہے کہ تاریخ اسے کن الفاظ میں یاد کرے گی۔ ۔ مگر امریکیوں کی ایک عادت ہے they are good manuplitators
    اب یہ توصاف پتہ چل گیا ہے کہ افغان حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ نہ ہی وہ کسی قابل ہیں کہ طالبان کا مقابلہ کر سکیں ۔ ان کی تو اپنی حالات یہ ہے کہ جتنی بھی ان کی 2 سے 3 لاکھ سیکورٹی فورس ہے ۔ اسکی تنخواہ اور دیگر اخراجات بھی امریکہ بہادر اٹھاتا رہا ہے ۔ اور اگر آج امریکہ یہ پیسہ دینا بند کردے تو ۔ شاید اشرف غنی اور افغان حکومت صرف دو سے تین ماہ ہی اپنی نکمی فوج کو تنخواہ دے سکیں ۔

    ۔ اب اس تمام صورتحال میں آپ دیکھ بھی رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے کہ امریکہ کی جانب سے رپورٹس بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ امریکہ صدر جوبائیڈن بھی کہہ رہے ہیں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھی بتا رہا ہے کہ افغان حکومت سمتبر کے بعد شاید بمشکل چھ ماہ بھی نہ چل سکے ۔ ۔ اب ایسا نظر آنا شروع ہوچکا ہے کہ امریکی افغانستان کو جان بوجھ کر ”لڑو اورمرو“ والی صورتحال میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ افغانستان تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغان طالبان کو یقین ہے کہ ان کا جوش و جذبہ انہیں فتح سے ہمکنار کرے گا۔۔ جبکہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو صورتحال کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ اپنی حکومت کو قانونی اور آئینی قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان کو ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور شرکت اقتدار کی کوئی ایسی صورت نکالنی چاہیے جس میں ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

    ۔ مگر سچ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کی قوت کے بل پر ہی قبضے کے بعد افغانستان میں حامد کرزئی اور اشرف غنی وغیرہ کی حکومتیں بنیں۔ یعنی ان کو جبری طور پر قابض طاقتوں کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ یہ حکومتیں کسی جمہوری طریقے سے اقتدار میں نہیں آئی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ۔ اس وقت بھی ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کی کیا حیثیت ہے؟ ۔ ان کے انتخابات میں ووٹوں کا کتنا ٹرن آؤٹ تھا؟۔ اس وجہ سے یہ کہنا کہ جو حکومت طاقت کے ذریعے آئے گی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا ۔

    ۔ دوسری طرف اب یہ دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ امریکہ کا خیال ہے کہ جس نے بھی حکمران بننا ہے بن جائے جو بھی فیصلہ ہونا ہو جائے ۔ اور اگر طالبان حکومت قائم بھی کرتے ہیں تو وہ ڈالروں کے ذریعے اسے کنٹرول کر لے گا۔ کیونکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ موجودہ افغان حکومت کی طرح طالبان حکومت کو بھی امریکی امداد کی ضرورت ہو گی۔ یعنی اگر طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتے خاص طور پر عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں تو انہیں امداد دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ گویا امریکی جو مقاصد اسلحہ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب ڈالروں کے ذریعے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    ۔ یقیناً پورا افغانستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایک فیصلہ کن مرحلہ اب آنے والا ہے۔ یہ مرحلہ ایک سال میں آتا ہے یادو سال میں، یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ افغانستان میں بالآخر طالبان حاوی ہو جائیں گے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم بڑھا رہے ہیں۔ انہیں کابل پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے، ابھی بتانا ممکن نہیں ہے۔

    ۔ ویسے افغان طالبان نے تو ملک کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کردیا ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے حالیہ تبصرے کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو دو ہفتوں میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ ۔ اس لیے اب افغانستان میں امن، مذاکرات کے ذریعے نہیں آئے گا، بلکہ جنگ کے ذریعے ہی آئے گا۔ آج جب آپ زمینی حالات کو دیکھتے ہیں تو یہ بات ٹھیک ہی معلوم ہوتی ہے۔۔ اچھی چیز یہ ہے کہ طالبان کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ اکیلے ملک پر حکومت نہیں کر سکتے۔ لہٰذا حکومت میں تاجک، ازبک اور ہزارہ شراکت ضرورت ہے اور سب سے امید افزا بات اس مرتبہ یہ ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس کی افغانستان کے بارے میں سوچ میں مطابقت ہے۔ 1996ء میں یہ صورت حال نہیں تھی۔۔ اسی لیے امریکہ کے ساتھ ساتھ روس، چین، ایران اور ترکی نے بھی طالبان سے روابط بڑھائے ہیں۔

    ۔ اس تناظر میں دیکھیں تو طالبان رہنماؤں نے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی امدادی تنظیمیں کام جاری رکھیں، بین الاقوامی انسانی حقوق گروپس مشن بند نہ کریں۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان چین کو افغانستان کا دوست سمجھتے ہیں ، امید ہے کہ ملک کی تعمیر نو کیلئے جلد بیجنگ کیساتھ بات ہو گی ۔ اگر چینی سرمایہ کار اور ورکرز واپس آتے ہیں تو انہیں سکیورٹی کی ضمانت دیں گے ،چینیوں کی سکیورٹی ہمارے لئے بہت اہم ہے ۔ چین کیساتھ بات چیت ضروری ہے ، ہم نے کئی بار چین کا دورہ کیا، چین کیساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اور افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے دوست چین کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔

    ۔ ایغور جنگجوؤں کے ذکر پر انہوں نے کہا کہ طالبان انہیں افغانستان میں پناہ نہیں دیں گے ،طالبان دوحہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد گروپ کو افغانستان میں قیام اور افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے زیر کنٹرول اضلاع کے سکول کھلے ہیں اور وہاں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنیکی اجازت ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے مالی معاونت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیر کنٹرول علاقوں کے ملازمین کو کابل حکومت نے تنخواہیں ادا کرنا بند کر دی ہیں۔ ۔ آپ دیکھیں ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی طالبان کے وفد نے یہ بات کہ ہے کہ ہمارا مقصد افغانستان کو غیرملکی تسلط سے آزاد کرانا تھا،افغانستان میں کئی دارالحکومتوں کا محاصرہ جاری ہے،افغان فورسز کی بڑی تعداد ہمارے ساتھ مل رہی ہے۔

    ۔ اسی کانفرنس میں طالبان رہنماؤں شہاب الدین دلاور اور سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان کے تمام سرحدی علاقے اس وقت طالبان کے زیر اثر ہیں۔ ملک میں نیا نظام لانے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ، جس کے لئے افغانستان کی کئی شخصیات کے ساتھ بات چیت جاری ہے ، ایسا نظام تیار کرنا چاہتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور افغان روایات کے اتحاد پر مبنی ہو، دنیا کیلئے قابل قبول معاہدہ لائیں گے ، طالبان اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ افغان سر زمین پڑوسی ممالک سمیت کسی بھی ملک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ روس کو طالبان سے کوئی تشویش نہیں ہے ، ہمارا روس کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے ۔داعش کی افغان سرزمین پر موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ داعش کو اپنے زیراثر شمالی علاقوں سے باہر نکال دیا ہے ، اب داعش کی لیڈر شپ کابل میں بیٹھی ہے ، جہاں2600 داعش ارکان نے کابل انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ داعش والے غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو سب کیلئے خطرہ ہیں۔ ۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے افغان فضائیہ کے پائلٹس کی ٹارگٹ کلنگ شروع کردی گئی ہے ۔ چند ہفتوں کے دوران سات پائلٹس ہلاک کردیئے گئے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ افغان پائلٹس اپنے لوگوں پر بم گراتے ہیں اس لئے ماررہے ہیں۔ ۔ تو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بگرام ایئر بیس کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے حکم دیا کہ ایئر بیس میں موجود جیل کی حفاظت کیلئے پروفیشنل سٹاف تعینات کیا جائے۔اس جیل میں طالبان جنگجوؤں کو قید رکھا گیا ہے۔

    ۔ غزنی میں افغان فورسز اور طالبان کے مابین لڑائی جاری ہے جبکہ طالبان افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں داخل ہو گئے ہیں۔ شہر کے اندر کئی مقامات پر طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے ۔ قندھار جیل کے اطراف میں زیادہ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔۔ دوسر ی جانب افغان حکومت نے کہا ہے کہ قندھار کے لوگ پریشان نہ ہوں، صورتحال کنٹرول میں ہے ۔ قندھار کے گورنر، ڈپٹی گورنر، پولیس چیف، سکیورٹی چیف، قبائلی لیڈر اور سپیشل فورسز سب فرنٹ لائن پر مقابلے کے لئے موجود ہیں، شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    ۔ جبکہ ہرات کے گوریلا سردار اسماعیل خان نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہرات کے محاذ پر جائیں گے اور صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیں گے ۔انہوں نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار کابل حکومت کو قرار دیتے ہوئے افغان فوج پر زور دیا کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرے ۔ اسماعیل خان شمالی اتحاد کے ان اہم ارکان میں شامل تھے جنہوں نے طالبان حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکا کی مدد کی تھی۔

    ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ افغانستان میں اگر امن آئے گا تو سول وار کے بعد ہی آئے گا۔۔ کچھ لو اور کچھ دوطالبان کا مزاج نہیں ہے۔ وہ ایک تحریک ہیں، جو افغانستان کو امارت اسلامیہ افغانستان بنانا چاہتے ہیں۔

  • مکمل طور پر سیاہ مرغی”کڑک ناتھ ” کا پورا گوشت بھی کالا

    مکمل طور پر سیاہ مرغی”کڑک ناتھ ” کا پورا گوشت بھی کالا

    بھارت کے بعض علاقوں میں عام پائی اور کھائی جانے والی مرغی مکمل طور پر گہرے سیاہ رنگ کی ہوتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا گوشت بھی بہت حد تک کالا ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : مرغ کا نام کڑک ناتھ اور بھارت میں اسے ’کالی ماسی‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یہ مرغ بھارت کے کئی علاقوں میں مشہور ہے اور رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ اگرچہ گوشت کی سیاہ رنگت عجیب لگتی ہے لیکن پکنے کے بعد اس میں کچھ تبدیلی ضرور آتی ہے۔

    اس مرغ کے پیر، سر، جلد ، چونچ اور پر تک بالکل کالے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس برائلر مرغیوں کے مقابلے میں کڑک ناتھ کا گوشت ذیادہ غذائیت رکھتا ہے۔ کالی ماسی پہلے پہل مدھیا پردیش کے ضلع جھابوا میں مقبول تھی اور دھیرے دھیرے اس کے کئی فارم ہندوستان کے کئی علاقوں میں قائم ہوئے۔ اب چھتیس گڑھ، تامل ناڈو، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں یہ عام پائی جاتی ہیں۔

    غذائی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس میں دیگر مرغیوں کے مقابلے میں چکنائی اور کولیسٹرول کی شرح بہت کم ہوتی ہے اور اس میں پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہے۔اور چربی کی مقدار بہت کم ہےاس بہت زیادہ غذائیت کی قیمت کی وجہ سے ، یہ دل کے مریضوں اور ذیابیطس کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا گوشت بہت مہنگا فروخت ہوتا ہے۔

    کئی بھارتی علاقوں میں زندہ مرغی کی قیمت 850 روپے اور گوشت کی قیمت 1000 سے 1200 روپے فی کلوگرام تک ہے۔ اس طرح عام مرغیوں کے مقابلے میں اس کی قیمت تین گنا زائد ہے۔

    کالی ماسی اس لیے مہنگی ہے کہ اسے پالنے اور پروان چڑھانے میں بہت وقت لگتا ہے۔ عام برائلر مرغی 45 دن میں تیار ہوجاتی ہے جبکہ کڑک ناتھ کو پروان چڑھنے میں 8 مہینہ لگتا ہے بعض تصاویر میں دکھایا جاتا ہے کہ کالی ماسی کے انڈے اور خون بھی سیاہ ہے جو ایک غلط بات ہے۔

    اس مرغی کا مطالبہ ملک بھر میں بہتزیادہ ہے۔ اس چکن کی تین اقسام ہیں جن میں جیڈ بلیک ، پینسیلڈ اور گولڈن کڈکاتھ ہیں۔ جیڈ بلیک کے پنکھ مکمل طور پر سیاہ ہیں اور پینسیلڈ کی شکل پنسل سے ملتی ہے۔ اور سنہری کڑک ناتھ میں ، اس کے پروں گولڈن چھلکیاں ہیں۔

    ایک اور حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ، ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ، ویرات کوہلی کو بھی اس چکن کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

    اگرچہ بھارت سے باہر اس طرح کی سیاہ گوشت اور رنگت والی مرغیاں عام نہیں ملتیں لیکن چین میں ’سلکیز‘ نامی مرغیاں عام ہیں جن کی رنگت گہری سرمئی اور گوشت بھی سرمئی ہوتا ہے۔

  • اولاد کی تربیت . تحریر:فروا منیر

    اولاد کی تربیت . تحریر:فروا منیر

    کسی بھی پختہ عمارت کے لئے اس کی بنیاد کا پختہ ہونا ضروری ہے اگر بنیاد پختہ نہیں ہوگی تو عمارت قائم نہیں رہ سکے گی۔
    کسی بھی معاشرے کی نوجوان اس معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں
    معاشرے کی مضبوط بنیاد کے لیے اس معاشرے کے نوجوانوں کی تربیت کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
    ہمارے معاشرے میں جب کسی نوجوان کو دیکھا جاتا ہے تو اس کی حرکات اور اس کے انداز کا بخوبی جائزہ لیا  جاتا ہے اگر اچھے کردار کا مالک ہو تو یقینا اس کی تربیت اور اسکے والدین کی تعریف کی جاتی ہے کہا جاتا ہے کے اسکےوالدین  نے اس کی تربیت اچھے انداز سےکی۔اور اگر کسی  برائی میں ملوث پایا جائے تو اس کا الزام بھی   والدین کی تربیت پر آتا ہے
    ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو تو پرانے زمانے میں جب کوئی بچہ روتا تھا تو اس کے والدین یا  قریبی عزیز اس کو اٹھا کر خاموش کرواتے اور اس بچے کو وقت دیتے تھے مگر آج کل جیسے ہی  بچے کی رونے کی آواز آتی ہے ماں بچے کے ہاتھوں موبائل تھما دیتی ہے ٹیلی ویژن کے سامنے بٹھا دیتی ہے اور خود بے خبری کی وادی میں کھو جاتی ہے
    وہ بچہ جب اس کو والدین کے وقت کی ضرورت تھی ان کی قربت کی ضرورت ہے کہ وہ جب موبائل کو پاتا ہے تو موبائل کو ان سب چیزوں سے بہتر پاتا ہے۔
    اور پھر آج کل کے والدین کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو بس موبائل میں کھو گیا ہے ہر وقت موبائل کے ساتھ لگا رہتا ہے تو سوچا جائے تو اس چیز کی بنیاد کس نے ڈالی تھی۔
    ہونا یہ چاہئے تھا کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ان کو اچھے برے کی تمیز کا فرق سکھاتے کیونکہ بچہ کچی عمر  میں جو سیکھتا ہے وہ اپنی زندگی اس کے مطابق کی گزارتا ہے
    جب ماں سے کہا جاتا ہے کہ بچے کے ہاتھ میں موبائل کیوں دیا تو یہی جواب آتا ہے کہ ہمیں گھر کے اور کام بھی ہوتے ہیں موبائل سے بچہ مصروف ہو جاتاہے تو ماں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے ۔

    بات کرتے ہیں شہزادی حضرت فاطمہ علیہ السلام کی جنہوں نے اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ آج بھی زمانہ رشک کرتا ہے فاطمہ ع چکی  پستیں ،گھر کے  کام بھی کرتیں مگر اپنی اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ    امام حسن ع اور حسین ع دونوں  جنت کے نوجوانوں کے سردار کہلوائے۔
    خدارا بچوں کی تربیت میں کوتاہی نہ کریں۔
    یہ آپ کی تربیت ہی ہے جو آپ کی اولاد کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد کا معاشر ے کے قابل افراد میں شمار ہو تو انکی تربیت اچھے انداز سے کریں ان کی بنیاد کو مضبوط بنائیے۔ایک مضبوط بنیاد پر ہی ایک مضبوط عمارت کھڑی ہو سکتی ہے