Baaghi TV

Category: متفرق

  • طالبان نے سوچ لیا ۔۔۔ افغانستان کی قیادت کون کرے گا ؟ تحریر:نوید شیخ

    طالبان نے سوچ لیا ۔۔۔ افغانستان کی قیادت کون کرے گا ؟ تحریر:نوید شیخ

    ۔ جیسے جیسے امریکی و مغربی افواج کا انخلا اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، افغان علاقوں میں کشیدگی شدت اختیار کر رہی ہے اور افغان طالبان کی پیش قدمی میں تیزی آرہی ہے۔ طالبان نے افغانستان میں صوبہ ہرات کے سرحدی علاقے اسلام قلعہ پر قبضہ کرلیا ، یہ علاقہ ایرانی سرحد سے جڑا ہوا ہے ۔ جبکہ اس سرحدی علاقے میں افغان فوجی پسپائی اختیار کرتے ہوئے ایران میں پناہ کے لیے داخل ہوگئے۔

    ۔ اس سے پہلے طالبان نے وسط ایشیائی سرحدی ریاستوں سے جڑے صوبوں میں بھی بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا جس کے سبب افغان فوجیوں کو پسپائی اختیار کرکے وسط ایشیائی ممالک میں پناہ لینا پڑی تھی۔ اس افغان صورتحال پر پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس سے خطرناک صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ ایران کے سفیر نے الزام لگایا کہ امریکا نے پہلے شام، عراق میں داعش کو پالا اور اب افغانستان میں داعش کو لے کر آیا ہے۔ ایران مزید افغان مہاجرین نہیں لے سکتا اور نہ ہی لے گا۔ دوسری جانب ایران کے بعد طالبان قیادت مذاکرات کے لیے روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچ گیا ہے۔طالبان نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔یہاں یہ ذہن میں رکھیں کہ طالبان کا وفد ایسے وقت روس پہنچا ہےجب روس کے اتحادی تاجکستان کے سرحدی علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہوگیا ہےاور تاجکستان نے اپنے 20 ہزار فوجی سرحد پر تعینات کردیے ہیں جبکہ روس کے وزیرخارجہ کا کہنا ہےکہ ان کا ملک تاجکستان میں موجود اڈے کو اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

    ۔ افغانستان کے بگڑتے حالات کے پیش نظر پڑوسی ملکوں کی جانب سے بھی سرحدوں پر سختی کردی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو حالات ایک بار پھر نوے کی دہائی کی جانب پلٹتے محسوس ہورہے ہیں جب امریکہ نے روسی شکست کے بعد افغان سرزمین کو خانہ جنگی میں دھکیل کر واپسی کی راہ لی تھی۔ پر اس وقت افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کرنے والا بھارت نئی صورت حال سے پریشان ہوگیا جبکہ بھارتی میڈیا بھی بوکھلا گیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے ہرات میں بھارتی فنڈ سے بنے ڈیم پر قبضہ کر لیا جبکہ افغان حکومت اور طالبان نے بھارتی میڈیا رپورٹس کی تردید کردی۔ اب بھارت نے حالات کے پیش نظر کابل میں اپنے سفارت خانے کے علاوہ مزار شریف اور قندھار میں قونصل خانوں سے 500 کے قریب اسٹاف کو نکالنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کا زخم خوردہ بھارت اپنے پرانے حلیف تاجکستان کے ساتھ مل کر اکٹھی حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ تاجکستان کا خیال ہے کہ وہاں پر موجود کالعدم حزب نہضتِ اسلامی کے لوگوں کو طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ایک نیا ولولہ ملے گا، جبکہ بھارت کی شمالی اتحاد کو لاکھوں ڈالر کی خفیہ عسکری امداد ضائع ہونے کا دکھ ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے افغانستان مین تین ارب ڈالر سے جو ترقیاتی کام کیے تھے وہ ساری سرمایہ کاری ضائع ہوگئی ہے۔ افغانستان میں بھارت دوستی اور پاکستان دشمنی کا جو پودا لگایا گیا تھا، اسے طالبان کی فتح نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔

    ۔ آپ دیکھیں پہلے دوستی و محبت کا یہ عالم تھا کہ افغانستان کی پارلیمنٹ کی عمارت جو بھارت نے بنائی تھی،اس میں 25دسمبر 2015ء کو افتتاحی تقریب میں نریندر مودی نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے آپ کو ہم سے دوستی سے روکے رکھا اور آج ہم پاکستان کو شکست دے کر آپ سے دوستی کی روایت کو زندہ کر رہے ہیں۔ اسی دن مودی اور اشرف غنی نے واجپائی کے نام پر اٹل بلاک کا افتتاح بھی کیا۔ آج وہ پانچ فیصد افغانستان جوکبھی طالبان حکومت کے خلاف بڑا میدانِ جنگ تھا، سب سے پہلے وہی طالبان کے کنٹرول میں آچکا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت اور تاجکستان کا خوفزدہونا لازم تھا۔ ساتھ ہی کچھ معلومات امریکہ نے جاری کی ہیں ۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افغانستان میں مجموعی فوجی اخراجات 778 بلین ڈالر تھے۔ پینٹاگان کے مطابق سی 130 مال بردار طیاروں کی 984 پروازوں کے ذریعے فوجی سازوسامان افغانستان سے باہر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 17074 فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیفنس لاجیسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں۔ پر اس جنگ کی کچھ تلخ حقیقتیں بھی ہیں ۔ امریکہ کی اس افغان وار میں دو لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں دو ہزار 442 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 67 ہزار ہے۔ ستائیس لاکھ افغان مہاجرین ایران،پاکستان اور یورپ میں آئے جب کہ چالیس لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہوئے۔

    ۔ یہ تو پوری دنیا میں’خدشہ‘ ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی فوج کا مکمل انخلا ہوتے ہی افغانستان پر طالبان کا راج قائم ہوجائے گا۔ ۔ یہی امارت اسلامیہ کا ترجمان ماہنامہ ’شریعت‘ کہتا ہے اس میں تو ان تیاریوں کی تفصیلات بھی دی جارہی ہیں کہ آزادی کے بعد امارت اسلامیہ کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ ان کے موجودہ سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک خالص اسلامی نظام کے سائے تلے ملک کی تعمیر نَو اور ترقی کے فوری اقدامات کیے جائیں۔عالمی سرمایہ کاری کے لئے ماحول سازگار کیا جائے تاکہ ہماری معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے۔۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی یہ متفقہ پیش گوئی ہے کہ امریکی فوج کے جاتے ہی چھ ماہ کے اندر افغان حکومت زمیں بوس ہوجائے گی۔ پر میرے خیال میں تو چھ ماہ بھی نہیں لگیں گے بلکہ چند دن اور چند ہفتوں میں ہی اشرف غنی کی حکومت گر جائے گی ۔ کیونکہ افغان نیشنل آرمی کے فوجی بڑی تعداد میں منحرف ہورہے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ امریکہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ بہت سے افغان جو امریکی فوج اور انتظامیہ کی مدد کررہے تھے، ان سب کو تاجکستان میں پناہ دلوائی جارہی ہے۔ وہاں سے وہ امریکہ پہنچتے رہیں گے۔ طالبان کی اپنی اطلاع یہ ہے کہ ہر ماہ ایک ہزار سے پندرہ سو لوگ دشمن کی صفوں سے نکل کر ان میں شامل ہورہے ہیں۔ مجھ تو نظر آرہا ہے کہ 72سالہ اشرف غنی، 60سالہ عبدﷲ عبدﷲ اور 63 سالہ کرزئی یہ تو سب امریکہ میں پناہ گزیں ہوں گے۔ جبکہ مستقبل کی قیادت ملا محمد عمر کے صاحبزادے 30 سالہ ملا محمد یعقوب کے ہاتھوں میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

    ۔ کیونکہ آج بیس سالہ جنگ کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر صرف اور صرف ایک ہی قوت تھی اور ہے ۔۔۔۔جسے ’’طالبان‘‘ کہتے ہیں۔

  • افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    کہانی آج سے بیس سال پہلے سے شروع ہوتی ہے جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے افغانستان میں ط الب ان کی حکومت کا تختہ الٹا تو اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہوئے۔ اس خطے میں افغانستان کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔
    جن میں 5 ہزار سکیورٹی اہلکار، 70 ہزار معصوم لوگ شہید اور تقریباً 100 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
    پر امن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ کیونکہ پاکستان پہلے سے تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ سے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ چاہے وہ دوہا قطر میں ہونے والے امر یکہ طا لبان امن مذاکرات ہوں یا پھر ڈیورنڈ لائن پر طورخم سے لیکر چمن تک سرحد پر باڑ لگانا ہوں۔

    اب چونکہ ام ر یکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور افغانستان چھوڑنا پڑا لیکن امر یکہ کا شاطرانہ اور مداخلتی پالیسی جوکہ شاید ان کو فرانسیسیوں اور انگریزوں سے ورثے میں ملی ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کو آسانی سے نہیں چھوڑتا بلکہ کسی نہ کسی ٹول کے ذریعے اپنی مداخلت جاری رکھتا ہے۔
    اس لیے امریکہ کا افغانستان سے مکمل طور پر انخلاء کے بعد اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اڈے دینا کا مطالبہ کیا گیا۔ آج کے جدید اصطلاح میں اس کو (Drone Treatment) کہا جاتا ہے جس میں UAVS کو استعمال کر کے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی سرزمین سے باہر جنگ لڑی جاتی ہے جس میں امریکہ کا نہ تو کوئی فوجی مرتا ہے اور نہ کوئی اور نقصان۔

    اس سلسلے میں پاکستانی ریاست نے "Absolutely Not” کا انتہائی واضح اور
    دو ٹوک موقف دے کر مزید کسی بھی جنگ کا متحمل نہ ہونے کا واضح پیغام دے دیا۔
    پاکستان کا یہ موقف انتہائی خوش آئند اور ہمارے غیرت و حمیت کے عین مطابق ہے۔
    پاکستان کے اس دو ٹوک اور غیر متوقع سٹانس کے بعد امریکہ اور اس کے خوار دوست پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرینگے۔
    جن میں ہائبرڈ وار، انفارمیشن وار انسرجنسی اور مختلف قسم کے کانسپریسی تھیوریز کے ذریعے عوام کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا جائے گا۔ میڈیا کو استعمال کیا جائے گا مذہبی اور مختلف لسانی جماعتوں کو استعمال کیا جائے گا۔
    ہماری قوم نے بہت سی قربانیاں دیے کر اس پاک چمن کا امن دوبارہ بحال کیا ہے۔ اور اب یہ ہم سب کی ذمّہ داری ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم ریاست کے اس بہادرانہ اور دلیرانہ موقف اور فیصلوں کا ہر صورت دفاع کریں۔ اور ریاستی اداروں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرکے اغیار کے سازشوں کو ناکام بنائیں۔
    اللہ تعالیٰ مملکت پاکستان اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افراد اور قوموں کی اپنی کوئی نہ کوئی تہذیب ہوتی ہے جس سے ان کی بہت گہری وابستگی ہوتی ہے۔ تہذیبوں کا مذہب یا اجتماعی نظام سے بھی بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے کہیں کہیں تہذیب سے مذہب سے بھی بڑھ کر جذباتی تعلق ہوتا ہے،ہمارے روشن خیال لوگ مغربی معاشرے کی انسان دوستی ،انصاف وقانون کی بالادستی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اورمغرب کومہذب معاشرہ ثابت کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہوئے ہیں لیکن ان روشن خیالوں نے کبھی بھی تاریخ کے اوراق پلٹ کرنہیں دیکھے کہ وہ جس تہذیب کے گرویدہ انہوں نے ماضی میں کتنے مظالم ڈھائے اورکتنے بیگناہوں کوپلک جھپکتے ہی موت کی ابدی نیندسلادیااورکتنے لوگوں اپاہج بنایا ،یہ 13 اپریل 1919 ء کی بات ہے جب جلیانوالہ باغ میں انگریزوں نے قتلِ عام کیا، جسے امرتسر قتلِ عام بھی کہا جاتا ہے،جب پرامن احتجاجی مظاہرے پر برطانوی ہندوستانی فوج نے جنرل ڈائر کے احکامات پر گولیاں برسا دیں۔ اس مظاہرے میں بیساکھی کے شرکا ء بھی شامل تھے جو پنجاب کے ضلع امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے تھے۔ یہ افراد بیساکھی کے میلے میں شریک ہوئے تھے جوسکھوں کا ثقافتی اور مذہبی اہمیت کا تہوار ہے۔ بیساکھی کے شرکا ء بیرون شہر سے آئے تھے اور انہیں علم بھی نہیں تھا کہ شہر میں مارشل لاء نافذ ہے۔اتوارکے دن جنرل ڈائر کو بغاوت کا پتہ چلا تو اس نے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا دی مگر لوگوں نے اس پر زیادہ کان نہ دھرے۔ چونکہ بیساکھی کا دن سکھ مذہب کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ باغ میں جمع ہو گئے تھے۔ جب جنرل ڈائر کو باغ میں ہونے والے اجتماع کا پتہ چلا تو اس نے فورا پچاس گورکھے فوجی اپنے ساتھ لیے اور باغ کے کنارے ایک اونچی جگہ انہیں تعینات کر کے مجمعے پر گولی چلانے کا حکم دیا۔ دس منٹ تک گولیاں چلتی رہیں حتی کہ گولیاں تقریبا ختم ہو گئیں۔ جنرل ڈائر نے بیان دیا کہ کل 1650 گولیاں چلائی گئیں۔ شاید یہ عدد فوجیوں کی طرف سے جمع کیے گئے گولیوں کے خولوں کی گنتی سے آیا ہوگا۔ برطانوی ہندوستانی اہلکاروں کے مطابق 379 کو مردہ اور تقریبا 1100 کو زخمی قرار دیا گیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اندازہ 1000 اور زخمیوں کی تعداد 1500 کے لگ بھگ تھی۔

    گذشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں نسلی ناانصافی کے خلاف مظاہروں میں مظاہرین کی طرف سے سلطنت ، استعمار اور غلامی کی علامتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مظاہرے مئی 2020 میں افریقی نژاد امریکی شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں پھٹ پڑے۔اس طرح دنیاکے مختلف ممالک میں ظلم،جبراورناانصافیوں پراحتجاجوں کالامتناہی سلسلہ جاری ہے ، کینیڈا میں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے پرتشدد مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے گرادیے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں برآمد ہونے والی سیکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر سڑکوں پر نکلنے والے نارنجی شرٹ پہنے مظاہرین نے احتجاجی ریلی نکالی۔وینیپیگ میں نکلنے والی ریلی میں سیکڑوں افراد شریک تھے جنہوں نے ایک چوک پر پہنچنے کے بعد وہاں نصب ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کی طرف پیش قدمی کی۔ریلی میں شامل چند مشتعل مظاہرین چبوترے پر چڑھے اور انہوں نے پہلے ملکہ وکٹوریہ پھر ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے کو زمین پر گرادیا۔ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کو گرانے کے بعد شہریوں کا غصہ مزید بڑھ گیا، مشتعل افراد نے مجسمے گرانے کے بعد نسل کشی پر فخر نہیں کا نعرہ بھی لگایا۔کینیڈین میڈیا کے مطابق یہ معاملہ ایک روز قبل اس وقت پیش آیا جب روایتی طور پر ملک بھر میں سرکاری سطح پر جشن منایا جانا تھا تاہم بچوں کی باقیات ملنے کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا۔ بچوں کی باقیات ملنے پر دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرین سڑکوں پر آئے اور انہوں نے حکومت سے واقعات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔واضح رہے کہ کینیڈا میں گذشتہ دنوں اجتماعی قبروں سے ایک ہزارسے زائد قبائلی بچوں کی باقیات دریافت ہوئیں تھیں جبکہ اس سے قبل مقامی رہائشی اسکول میں 215 بچوں کی باقیات پر مشتمل ایک اجتماعی قبر ملی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اسکول کو 1978 میں بند کردیا گیا ہے، جن کی باقیات ملیں وہ برٹش کولمبیا کے کیملوپس انڈین رہایشی اسکول کے طالب علم تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے قدیم مقامی باشندوں کے قبائل میں سے ایک رہنما نے بتایا کہ برٹش کولمبیا میں قدیمی باشندوں کے بچوں کے لیے قائم ایک سابقہ مشنری اسکول کے قریب سے مزید 182 قبریں دریافت ہوئی ہیں۔لوئر کوٹینے ہینڈ نے بتایا کہ کرین بروک کے قریب سابقہ سینٹ یوجینز مشن اسکول کے پاس سے لاشیں برآمد ہوئیں۔کمیونٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ اسکول 1913 سے 1970 تک چلتا رہا اور 2020 میں یہاں تلاش شروع کی گئی تھی۔کینیڈا کے صوبے سسکاچیوان میں پرانے اسکول کی سائٹ سے 751 نامعلوم قبریں دریافت کی گئی ہیں۔اسی طرح ایک اورغیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی ریاست سسکاچیوان کے شہرریجینا سے تقریبا 140 کلومیٹر دورایک سابق بورڈنگ اسکول میں قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں سینکڑوں قبائلی بچوں کی لاشیں دفن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ جگہ رومن کیتھولک چرچ کے زیر انتظام تھی، تمام قبریں بچوں کی ہیں یا بالغ افراد کی ہیں اس بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔واضح رہے کہ 1863 سے 1998 تک کینیڈا میں حکومت اورمذہبی حکام کے ذریعے چلائے جانے والے بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بچوں کووالدین سے زبردستی علیحدہ رکھ کر نئی زبان اور جدید ثقافت اپنانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ان بچوں کو اکثر اپنی زبان بولنے یا اپنی ثقافت پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور ان میں سے بہت سوں کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کی جاتی تھی۔ 2008 میں اس نظام کے اثرات کو جاننے کے لیے قائم کردہ کمیشن کو معلوم ہوا کہ مقامی بچوں کی بڑی تعداد کبھی بھی اپنے گھروں اور اپنی برادریوں میں واپس نہیں آئی۔ 2015 میں جاری کی گئی تاریخی ‘ٹرتھ اینڈ ریکنسلیشن رپورٹ’ میں کہا گیا کہ یہ پالیسی ‘ثقافتی نسل کشی’ کے مترادف تھی۔

    کینیڈا کے مختلف شہروں میں، چرچوں کی نگرانی میں چلنے والے بورڈنگ اسکولوں میں مقامی بچوں کی کئی اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعد، متعدد کلیسائوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔غیرملکی نیوزایجنسی کے مطابق ذرائع کاکہناہے کہ ان قدیم چرچوں بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے بچوں سے متعلق ریکارڈموجود ہے اس لئے منظم طریقے سے ریکارڈ کوتحقیات کرنے والوں اداروں کے ہاتھ لگنے سے بچانے کیلئے کلیساؤں کو آگ لگائی جارہی ہے اور اس کا الزام احتجاج کرنے والوں پرلگایاجارہاہے ۔سوچنے کی بات ہے اگرخدانخواستہ یہ قبریں کسی مسلم ملک کے تعلیمی ادارے سے ملتی توتحقیقات سے قبل ہی اسے اسلامی دہشت گردی قراردیاگیاہوتا،اب یہ قبریں مغرب کے مہذب معاشرے سے تعلق رکھنے والے ملک کینیڈاجوکہ برطانوی کالونی ہے کیتھولک عیسائی چرچوں کے زیرانتظام چلائے جانے والے سکولوں سے ملی ہیں ،اگراسے مغرب کے پیمانے سے ماپاجائے تو اسے لازی طورپر کیتھولک عیسائی دہشت گردی کہناچاہئے اوراس سے بڑھ کر تعجب کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان جب اپنے حق کی حصول کے لیے کھڑا ہو تو انھیں دہشت گرد کہنے میں اور ثابت کرنے میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں کہ مذہب اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیتے ہیں، جبکہ اسلام مخالف طاقتیں ہر روز کہیں نہ کہیں بے چارے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرکے ناحق انکا خون بہاتے ہیں، اور بلا وجہ ان کو شہید کردیتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ وہ مسلمان ہیں، انھیں کوئی عیسائی دہشت گرد، یہودی دہشت گرد،اورہندو دہشت گردنہیں کہتا، انھیں کبھی تو دماغی معذور بنا کر،اور کبھی تو یہ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتااور ا ن کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے حتیٰ کہ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیاپر پابندی لگا دی جاتی ہے مظالم پر آوازاٹھانے والوں کے سوشل میڈیا اکائونٹ بلاک کردئے جاتے ہیں تا کہ ا ن مظالم کی ویڈیوزوائرل نہ ہوسکیں ،یہ ہے مغرب کی سیاہ تہذیب جو انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے لیکن خوبصورت سلوگن کی وجہ دنیاسے اوجھل ہے ۔

  • اسرائیل ٹو پاکستان براستہ سعودی عرب. تحریر:رانا عزیر

    اسرائیل ٹو پاکستان براستہ سعودی عرب. تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑی ہوئی ہے، امریکا اس جنگ کی شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، پاکستان نے جب امریکا کو تاریخی جواب دیا تو امریکی کی چودھراٹ خطرہ میں پڑھ گئی، اور جو بیڈن اس حوالے سے پاکستان کا محتاج ہے، جو بیڈن جب یہ جنگ دنیا کی طاقتور مشینری سے بھی ہار گیا تو اس نے نیا انداز اپنا لیا ، اور پاکستان سے دوسرے انداز سی نمٹنے کی تیاری کر چکا ہے. راصل امریکا پاکستان کو ایران ، عراق اور دیگر واسطی اشیائی مملک کے ساتھ توانائی کا کوریڈور تباہ کرنا چاہتا ہے. یہ ایک بہت بڑی پائپ لائن ہے جوعراق سے شروع ہوتی ہے ، پاکستان کے زریعے ہوتی ہوئی، ہمالیہ اور کشمیر سی چین تک جائے گی، اس سے تیل چین جائے گا اور چائنیز انویسٹمنٹ مشرق وسطیٰ تک جائے گی جس سے چین مزید مظبوط ہوگا اور امریکا کا پتا ہمیشہ کے لئے صاف ہوجاے گا اور جب اس پورے خطے سے امیرکا جائے گا تو CPEC افغانستان تک جائے گا اور یہ یہ کوریڈور بن جائے گا، تو امریکا اس چیز کو روکنا چاہتا ہے. اب امریکا پاکستان کی کیسے تباہی کرسکتا ہے ؟ ایک یہ ڈائریکٹ حملہ کرے گا، لیکن وہ نہیں کر سکتا ایک تو پاکستان بہت بڑا ہے دوسرا پاکستان ایٹمی ملک ہے، اس کے پاس اب ایک راستہ ہے جسے پاکستان کو روکنا ہوگا، امریکا کا پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی اور بلوچ کارڈکھیل کر پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے تاکہ پاکستان کو توڑ دیا جائے، اس امریکا PTM اور BLA جیسی اپنی proxies کا سہارا لے گا. اس کے لئے ہماری پاک فوج بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں دہشتگردوں کو پکڑ چکا ہے جو اس طرح کی ہوا دینے کے منصوبے سے آئے تھے.

    دوسرا بھارت کو امریکا نے گرین سگنل دے دیا ہے، کہ وہ کشمیر میں پوری طرح سے قبضہ کرنا شروع کردے اور ہندوں کو مزید بسانا شروع کردیے اور برارست پاکستان پر بھارت حملے کی تیاریاں بھی کر چکا ہے تو پاکستان دونوں بارڈر پر ہائی الرٹ ہے_
    دونوں صورتوں میں امریکا کو شکست ہوئی ہے

    اب وہ نئے انداز میں سامنے آیا ہے
    اسرائیلی جریدے ” ہیوم“ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سابق مشیر زلفی بخاری نے نومبر2020 میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا تھا اور وزارت خارجہ کی سنیئراہلکار سے ملاقات بھی کی تھی. اسرائیلی جریدے کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری اپنے برطانوی پاسپورٹ کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد سے براستہ لندن اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پہنچے تھے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد انہیں سرکاری گاڑی کے ذریعے تل ابیب لے جایا گیا جہاں ان کی اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار سے انہوں نے ملاقات کی.

    رواں ماہ کے آخر میں سعودی وزیر خارجہ ایک خطرناک پیغام لیکر جوبایڈن اور اسرائیلی وزیراعظم بینٹ کا پاکستان آرہے ہیں، چونکہ سعودی عرب اب اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے اور اسرائیل نے ایک ڈرامہ رچا کر کہ ہم مسجد اقصی کا کنٹرول سعودی عرب کو دے رہے ہیں، تو اس بہانا سعودی عرب تسلیم بھی کرے گا۔ تو سعودی عرب یہ چاہتا ہے کہ پاکستان۔ بھی اسرائیل کو تسلیم کرے تاکہ اس پر پریشر بھی کم ہو اور اس کے مقاصد بھی پورے ہوجائیں، لیکن ریاست نے دوٹوک فیصلہ کیا ہے ہم اب کسی پریشر میں نہیں آئیں گے، عمران خان کی دکھتی رگ سعودی عرب میں موجود پاکستانی ہیں، سعودیہ عرب ہمیں یہ دھمکی دے سکتا ہے کہ ہم انھیں سعودی عرب سے نکال دیں گے۔

    اب اسرائیل کے زریعے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کے پاکستان کو عالمی دنیا کے سامنے بدنام کیا جائے گا ، پاکستانی قوم کو بھٹکایا جائے گا، اور پاکستان پر دہشتگردی کے لیبل لگا کر فلمیں بنائی جایں گی اگر پاکستان نے امریکا کی افغانستان کی جنگ میں ساتھ نہ دیا. تو یہ ساری گیم دوبارہ سے پاکستان کے خلاف کھلی جارہی ہے جو پھلے نومبر میں اور ٹرمپ دور میں کھیلی گئی تھی

  • فاشزم (فسطائیت). تحریر :عمر خان

    فاشزم (فسطائیت). تحریر :عمر خان

    فاشزم (فسطائیت) لاطینی لفظ "فاشیو” سے اخذ کیا گیا ہے جس کا لفظی معنی "ایک بنڈل” ہے، قدیم روم میں سول مجسٹریٹ کے پاس ڈنڈوں کا ایک بنڈل ہوتا تھا وہ گلیوں بازاروں میں پھرتا اور اگر کوئی شہری قانون کی خلاف ورزی کررہا ہوتا تو اس کو سزا کے طور پر ان ڈنڈوں سے پیٹا جاتا۔
    فسطائیت (Fascism) آمریت کی ہی ایک شکل ہے ، یعنی ایک پارٹی یا ایک فرد کی حکومت۔ فاشزم ایک ایسا نظام حکومت ہے جس کی قیادت ایک آمر کرتا ہے جو سیاسی مخالف کو جبر و تشدد سے دبائے ، صنعت و تجارت پر مکمل کنٹرول کرے اور قوم پرستی یا نسل پرستی کو فروغ دے کر اپنی آمرانہ حکمرانی برقرار رکھے۔
    فاشزم کی واضح مثال اٹلی کا حکمران "بینیتو موزولینی” اور جرمنی کا حکمران ” ایڈولف ہٹلر” رہے ہیں۔
    اگرچہ فاشسٹ جماعتیں اور تحریکیں ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف تھیں ، لیکن ان میں بہت سی خصوصیات مشترک تھیں جن میں انتہائی شدت پسندانہ رویہ، انتہائی عسکریت پسندانہ قوم پرستی ، سیاسی و ثقافتی آذادی کی توہین ، قدرتی معاشرتی درجہ بندی اور اشرافیہ کی حکمرانی کا اعتقاد شامل ہیں۔

    • نیشنلزم (قوم پرستی)

    نیشنلزم (قوم پرستی) لفظ Nation (قوم) سے
    اخذ کیا گیا ہے۔ قوم کا مطلب انسانوں کا ایسا گروہ جن میں ثقافت ، نسل ، جغرافیائی محل وقوع ، زبان ، سیاست ، مذہب یا روایات پرستی میں سے کوئی ایک بھی قدر مشترک ہو ۔
    18 ویں صدی سے پہلے کچھ مخصوص ادوار میں خاص طور پر جنگ ،تناؤ اور تنازعات کے دوران مختلف سلطنتوں میں مخصوص گروہوں یا علاقائی اکائیوں کے اندر قومی احساس کے جذبات اور سوچ موجود تھی۔ 18 ویں صدی میں تہذیب کو قومیت کا تعین سمجھا گیا۔ اس سے قبل کسی بھی سلطنت کے عوام کی پہچان بادشاہ یا حکمران کے نام سے ہوتی تھی ، عوام نے بادشاہ کو قوم کا مرکز بنائے رکھا تھا۔ قوم پرستی کی آئیڈیالوجی نے واضح کیا کہ بادشاہ قوم یا ریاست نہیں ہے۔ ریاست عوام کی قومی ریاست ، آبائی وطن یا مادر وطن ہے۔ جب ریاست کی شناخت قومی تہذیب سے ہوئی تب ریاست قوم کی پہچان بن گئی۔ مثال کے طور پر تب یہ اصول پیش کیا گیا تھا کہ لوگوں کو صرف ان کی اپنی مادری زبان میں ہی تعلیم دی جاسکتی ہے ، نہ کہ دوسری تہذیبوں کی زبانوں میں۔

    سلطنتوں کے زیر اقتدار بڑی مرکزی ریاستوں نے لسانی ، ثقافتی ، علاقائی یا مذہبی شناخت کے طور خود کو ایک قوم میں متحد کیا اور پرانے جاگیردارانہ ، آمرانہ ، شخصی حکمرانی سے آذادی حاصل کی۔ ان قومی ریاستوں نے عوام کی ذاتی زندگی اور تعلیمی نصاب کی سیکولرائزیشن کی جس سے عام زبانوں کو فروغ ملا، اور چرچ یا مذہبی شخصیات کے تسلط کو قومی ریاست کی حکومت سے الگ کیا۔ تجارت میں اضافے اور معاشی ترقی نے قوم پرست آئیڈیالوجی میں نئی روح پھونک دی۔اس ترقی نے ان تصورات کا مقابلہ کیا جو صدیوں تک سیاسی فکر اور شہری آزادی پر حاوی تھے
    امریکی اور فرانسیسی انقلابات کو اس کا پہلا طاقتور مظہر سمجھا جاسکتا ہے۔ نیشنل ازم 19 ویں صدی کے شروع میں وسطی یورپ میں اور صدی کے وسط تک مشرقی اور جنوب مشرقی یورپ میں پھیلا۔ 20 ویں صدی کے آغاز میں ایشیاء اور افریقہ میں بھی قوم پرستی پھیل گئی۔ اس طرح 19 ویں صدی کو یورپ میں قوم پرستی کا دور کہا جاتا ہے ، جبکہ 20 ویں صدی میں پورے ایشیاء اور افریقہ میں طاقتور قومی تحریکوں کے عروج اور جہدوجہد کا آغاز ہوا۔
    مذہبی قوم پرستی کی بنیاد پر بنی ریاست پاکستان اور لسانی نسلی بنیاد پر بنگلہ دیش کا قیام بھی قوم پرستی کی واضح مثالیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر قوم کے پاس ایک مخصوص علاقائی ریاست ہو مثال کے طور پر فلسطینوں کے پاس ریاست نہیں ہے لیکن وہ ایک قوم کی شناخت رکھتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی ریاست منقسم ہے لیکن اس ریاست کے شہری ایک قوم ہی جانے جاتے ہیں۔

    •حب الوطنی (Fascism)

    حب الوطنی (Patriotism) کسی ملک ، قوم یا سیاسی جماعت سے وابستگی وفاداری اور محبت کا نام ہے ۔ حب الوطنی (ملک سے پیار) اور قوم پرستی (کسی ایک قوم سے وفاداری) کو اکثر مترادف سمجھا جاتا ہے جبکہ ان دونوں میں واضح فرق ہے۔
    حب الوطنی وطن سے محبت جبکہ نیشنل ازم ایک قوم کی عکاس ہے

    #عمر نامہ

  • ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہمارے ملک میں بہت سی مافیاز میں سے ایک "ہسپتال مافیا” بھی ہے، جو کہ عام شہری (غریب ہو یا امیر) کے جزبات سے کھیلتی جسکا اولین کام صرف اور صرف پیسہ بٹورنا ہے.
    یہ اب پرانی بات ہوئی کہ ہسپتال والے مسیحائی کا کام کرتے آج کے دور میں یہ بات الف لیلی کی داستان ہی لگتی، پورے ملک سے آپکو سینکڑوں واقعات سننے کو ملینگے کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے ڈیڈ باڈی دینے کے لیئے کس طرح سے رقم نکلوائی،
    ہمارے ایک دوست ضیاء الدین ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں انکے بقول ہمیں باقاعدہ یہ لیکچر دیا جاتا کے جبتک مریض کے لواحقین پیسے دینے کی استطاعت رکھتے ہوں ان سے پیسے نکلواتے رہو کیونکہ آپکی تنخواہ اور ہسپتال کے اخراجات اسی سے چلتے ہیں-
    جب بوڑھے والدین اپنے آخری وقت کو پہنچتے تو یہ ہسپتال گدھ کی طرح حملہ آور ہوتے،ایک تو گھر والوں پر فیملی پریشر بھی ہوتا کہ والدین کو ہسپتال کیوں لیکر نہی گئے؟

    نا ہونے کے برابر کیسس میں ایسا ہوا ہوگا کہ ستر اسی سال عمر کا پیشنٹ سیریس حالت کے بعد صحت یاب ہوکر گھر لوٹا ہو، 95% کیسس میں یہ ہسپتال اس عمر کے مریضوں کو میت میں بدل نے کے لاکھوں روپے لیتے، جسکے لیئے غریب مڈل کلاس شخص قرض لیتا، زیور بیچتا مگر ان ہسپتال والوں کو زرا بھی احساس نہی ہوتا،
    حکومت کو چاہئے اس معاملے میں قانون سازی کرے اور ہسپتال کی انتظامیہ کو پابند کرے کہ علاج میں کامیابی کی صورت میں ہی اسے بل ادا کیا جائے اور اگر مریض جاں بر نہی ہوتا تو بل کی ادائیگی کو لواحقین کے حالات سے مشروط کیا جائے کہ اگر وہ دینے کے قابل ہیں تو ادا کریں ورنہ ہسپتال کی انتظامیہ اس شخص سے حلفیہ بیان لیکر بل کو خود ادا کرے،اس یہ ہوگا انتظامیہ لواحقین کو مریض کے متعلق درست معلومات بتائے گی غیر ضروری علاج سے اجتناب کریگی، نیب کو بھی چاہیئے کہ زرا ہسپتالوں کی لوٹ ماری کو چیک کرے کرونا کی وبا کے دوران عام شہری کو کسی چور ڈکیت نے نہی لوٹا ہوگا جتنا کے ان مسیحاؤں نے لوٹا
    #شعیب_رحمان

  • ذرائع  ابلاغ پر امریکی پابندیاں .تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    ذرائع ابلاغ پر امریکی پابندیاں .تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    گذشتہ دنوں میڈیا پر چلنے والی خبرو ں میں ایک ایسی خبر نظر سے گذرہی ہے کہ جس کا عنوان خود میڈیا کے خلاف تھا یعنی یہ خبر تھی کہ امریکی حکومت نے ایسے تمام ذرائع ابلاغ کو بند کرنے اور بلاک کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے جو کسی بھی طور پر ایسی خبریں شاءع کرتا ہوں جس میں امریکی حکومت کے اقدامات پر نقد ہو یا یہ کہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتاہو ۔ مزید برآں کہ وہ ذرائع ابلاغ کہ جو فلسطین کاز کے حامی ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ فلسطین سے متعلق خبروں کو ترجیحی بنیادوں پر نشر کرتے ہیں ان سب کو امریکی حکومت کے اس پابندی کے فیصلہ کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اس حکم نامہ کے بعد درجنوں ایسے ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس کو امریکہ اور کئی اور ممالک میں بند کر دیا گیا ہے کہ جو امریکی استعماری نظام کی مخالفت کرتے ہیں ، اسرائیل کے جارحانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کو دہشت گردی کہتے ہیں ، فلسطینی عوام پر ظلم و بربریت کو عوام تک پہنچا کر آگہی فراہم کرتے ہیں ، یہ سب کے سب امریکی حکم نامہ کا نشانہ بنتے ہوئے بند کر دئیے گئے ہیں ۔

    امریکی حکومت کے اس یکطرفہ اقدام نے ماضی کے ان تمام امریکی صدور اور خاص طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کی یا دتازہ کر دی ہے کہ جنہوں نے خود سے ہی یکطرفہ اعلان کر کے بیت المقدس کی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ذرائع ابلاغ کی بندش کے امریکی فیصلہ اور اقدامات نے دنیا بھر میں کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے ۔

    سب سے اہم سوال تو امریکی نظام حکومت اور بنیا دپر یہی اٹھ رہا ہے کہ امریکہ جو ہمیشہ دنیا کو آزادی اظہار رائے کے نام پر یرغمال بناتا رہا ہے اب خود اس عنوان سے ایک بہت بڑی حق تلفی کا مرتکب ہو رہا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر قد غن لگائی گئی ہے ۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی حکومت کے اس اقدام سے جہاں امریکہ مخالف سوچ رکھنے والے عوام اور حکومتوں میں امریکہ کے خلاف مزید شدت اور نفرت آ رہی ہے وہاں ساتھ ساتھ امریکی اقدامات سے خود امریکی عوام بھی تنگ آ چکے ہیں اور اس طرح کے اقداما ت کے جو ایک طرف بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں تو دوسری طرف امریکی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔

    امریکی عوام کا ہمیشہ سے آنے والی تمام حکومتوں سے ایک اہم سوال یہی رہا ہے کہ کہ آخر امریکی سرکار کس قانون کے تحت امریکی عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والی خطیر رقم کو اسرائیل کے لئے بھیجی جاتی ہے ۔ آخر امریکی عوام کے ٹیکس سے اسرائیل کو اسلحہ اور ٹیکنالوجی کیوں فراہم کی جا رہی ہے ؟ کہ جس کا استعمال اسرائیل نہ صرف فلسطین کے مظلوم عوام کے خلاف کرتا ہے بلکہ پورے خطے میں دہشت گردی اور انارکی کے لئے استعمال ہونے والے وسائل سب امریکی عوام کے ٹیکس سے خریدے گئے ہوتے ہیں ۔

    بین الاقوامی تعلقات عامہ اور علوم سیاسیات سے تعلق رکھنے والے ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ایسے ذرائع ابلاغ کو بند کرنا اور بلیک لسٹ کرنا کہ جو فلسطین کی خبروں کو ترجیحی بنیادوں پر نشر کر تے ہیں یا یوں کہا جائے کہ امریکی نظام حکومت اور پالیسیوں سے اختلاف رائے رکھتے ہیں ، اس فیصلہ سے امریکی حکومت کو صرف اور صرف عالمی سطح پر سبکی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہونے والا ۔

    امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کے اقداما ت نے ایک مرتبہ پھر امریکی حکومت کی فلسطین دشمن پالیسی کو واضح کر دیا ہے ۔ آج امریکی حکومت ایک طرف اسرائیل کی سرپرستی کر رہی ہے کہ جہاں اسرائیل ستر سال سے مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث ہے ۔ دوسری طرف یہی امریکی حکومت ہے کہ جس نے یمن میں گذشتہ پانچ برس سے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان کی دہشت گردانہ جنگ کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ یمنی شہری جس میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں موت کی نیند سو چکے ہیں ۔

    امریکہ کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کا اقدام اس لئے کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کو خطرہ ہے کہ اگر فلسطین اور یمن جیسے مسائل کے بارے میں عوام تک ایک ایسا نقطہ نظر بھی بیان ہوتا رہے کہ جو آزاد ذرائع اور حقائق پر مبنی ہو تو یقینا امریکی ریاستوں میں بسنے والے عوام میں بھی بیداری کی لہر دیکھی جا سکتی ہے ۔ شاید اسی خدشہ کے باعث امریکی حکومت نے ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کی ہے ۔

    امریکی حکومت کے اس اقدام سے غرب ایشیاء میں موجود ٹی وی چینل اور ذرائع ابلاغ بری طرح متاثر ہوئے ہیں کہ جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر اپنی خبروں اور پروگراموں میں فلسطین کے مسئلہ کو اہمیت دیتے تھے ۔ غرب ایشیاء سے ہی تعلق رکھنے والے متعدد ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابند ی کا فیصلہ احمقانہ فیصلہ ہے ۔ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور کوئی بھی خبر اور حقیقت دنیا سے مخفی نہیں رہ سکتی ۔ دنیا کے عوام با شعور ہیں اور فلسطین سمیت دنیا میں جہاں جہاں عالمی استعماری قوتوں کا جبر اور ظلم جاری ہے عوام اس کی کھل کر مذمت کر رہے ہیں ۔

    فلسطین،لبنان، شام،عراق اور ایران سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی رائے کے مطابق فلسطینی عوام کی گذشتہ گیارہ روزہ جنگ میں اسرائیل کے مقابلہ میں مزاحمت اور استقامت نے نہ صرف اسرائیل کو بوکھلاہٹ کا شکار کیا ہے بلکہ اسرائیل کی سرپرست ریاست امریکہ بھی شدید بھونچال میں آ چکی ہے ۔ امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کا فیصلہ امریکہ کی خطے میں شکست اور کمزوری کو واضح کر رہا ہے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ گذشتہ بیس سالوں میں امریکہ اور اسرائیل جو کچھ خطے میں چاہتے تھے اس طرح سے نہیں ہو اہے بلکہ اس کے بر عکس ہو رہا ہے ۔ عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہو چکی ہے، فلسطین میں موجود مزاحمتی تنظی میں پہلے سے زیادہ مستحکم اور طاقتور ہو چکی ہیں ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ امریکی حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے نہ تو فلسطین سے متعلق بیداری کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کے عوام تک فلسطین کا پیغام پہنچنے میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ ایسے اقداما ت سے امریکی حکومت کے انسانی حقوق کے دعوے اور آزادی اظہار رائے کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے اور دنیا کے سامنے امریکہ کا دوہرا معیار واضح ہو رہاہے کہ امریکی حکومت ہمیشہ کی طرح ظالم اور جابر نظاموں اور قوتوں کی سرپرستی میں مشغول ہے ۔

  • انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

    انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

    انسانیت کیا ہے؟ کیا انسانیت نام کا کوئی تصور ہے؟ اگر ہے تو اس میں کوئی ترقی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو اس افسانے کی حقیقت کیا ہے؟ ابھی تک نہ کوئی ایسی کتابیں نظر سے گزری، جس کا مرکز انسانیت ہو البتہ کچھ ماہرین نے موجودہ معاشی ترقی عناصر ترکیبی پر ضرور اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ صر ف مادّی یا منافع پر مبنی چیزوں کے اعداد و شمار کا نام ترقی ہونی چاہیے۔ ان میں وہ کام بھی شامل ہونا چاہیے جو لوگ خیرات و صدقات کی مد میں کرتے ہیں اور اس میں وہ خرچے بھی شامل ہونے چاہئیں، جو لوگ تعلیم و تربیت پر خرچ کرتے ہیں۔

    اگر ہم انسانیت پر غور کریں تو انسانیت کا پہا اصول قربانی کا ہونا چاہیے کیونکہ اج ہم اس لیے زندہ ہیں کہ ہماری ماؤں نے ہمارے لیے قربانیاں دیں۔ جسمانی طور پر ہم ان کے خون کا حصہ ہیں۔ اگر قربانی کی تشریح ہم یوں کریں کہ کسی کسی دوسرے انسان یا حیوان کو راحت پہنچانے کے لیے اپنے وسائل خرچ کرنا۔ اب یہ وسائل مالی، جسمانی، مکانی، زمانی، یا ذہنی ہو سکتے ہیں۔

    انسانیت کا دوسرا اصول ایمان داری کا ہونا چاہیے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے وہ چیز پسند کریں، جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ انسانیت یہ نہیں ہے کہ میں خود فاسٹ فوڈ نہ کھاؤں بلکہ دوسروں کو کھلا کر فائدہ حاصل کرنے کے لیے اشتہار بازی کا ہر ذریعہ استعمال کروں۔ مطلب یہ کہ ایک چیز جس کو میں اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہوں، دوسروں کو کھلاتا ہوں۔

    تیسرا اصول، عزت نفس۔ نفسیاتی طور پر ہر انسان کو عزت نفس عزیز ہے، لہٰذا ہر انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کی عزت کا خیال رکھے۔ آدمیت و احترام آدمی کے اصول کی پاسبانی کرے اور یہ احترام بلا تفریق ہونا چاہیے۔ عزت کا تعلق زبان کے استعمال سے ہے لہٰذا انسانیت کا تقاضا ہے کہ اپنی زبان کو انسانیت کے تابع کریں۔

  • بھارتی دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف کاروائیاں، تحریر:نوید شیخ

    بھارتی دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف کاروائیاں، تحریر:نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لاہور میں دھماکے کا ذمہ دار اور ماسٹر مائنڈ ’’را‘‘ ایجنٹ تھا ۔ اب تو سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے دھماکے کے ذمہ داروں اور ان کی نقل و حرکت کا پورا ریکارڈ کھنگال لیا ہے ۔ اس وقت پاکستان کے پاس ملزم کے بیرون ملک روابط کے تمام ریکارڈ موجود ہیں۔ جن میں فنانس، بینک اکاؤنٹ، آڈیوز اور دیگر ثبوت شامل ہیں۔۔ میں آپکو بتاوں ۔ جس دن لاہور میں دھماکہ ہوا ہمارے انوسٹی گیشن نیٹ ورک پر سائبر حملے کئے گئے تھے ۔ ۔ اس لاہور واقعہ کی کچھ لوگوں نے باہر بیٹھ کر پوری کارروائی پلان کی ہے ۔ جبکہ کچھ لوگوں نے پھر ان ہدایات پر عمل کرکے پاکستان میں تمام کارروائی پر عمل کیا، دھماکے میں ملوث 56 سال کا peterکراچی کا رہنے والا ہے، peter زیادہ تر بیرونی ممالک میں رہا ہے اور اس کا
    ۔۔۔ را۔۔۔ سے تعلق ثابت ہوگیا ہے ۔

    ۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پنجاب پولیس کے شعبہ انسدادِ دہشتگردی نے جس محنت اور برق رفتاری سے شواہد اکٹھے کئے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔ ۔ اس واردات کے لیے پیسے تیسرے ملک سے بھجوائے گئے ۔ ایک ملزم عید گل کا تعلق افغانستان سے ہے جس نے پاکستانی شناختی کارڈ بھی بنوا رکھا ہے۔ جس تیسرے ملک کا نام نہیں لیا گیا وہ بھی افغانستان ہی ہے کیونکہ اس سے بہت پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے جب دہشت گردی کے بارے میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کئے تھے تو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کا اس دہشت گردی میں کیا کردار ہے ان میں بیٹھے ہوئے بھارت کے کون کون سے سفارت کار کس کس سے رابطے میں ہیں کس کس طرح اور کس کس چینل سے انہیں پیسے پہنچائے جاتے ہیں۔ کس طرح ان کے اکاؤنٹ میں یہ رقم ٹرانسفر ہوتی ہے۔ انہیں جدید اسلحہ کیسے فراہم کیا جاتا ہے۔ تربیت کس طرح دی جاتی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے لئے انہیں کس طرح ٹارگٹ دیا جاتا ہے اور کیسے سرحد پار کرائی جاتی ہے اور لانچ کیا جاتا ہے۔ اتنا عرصے پہلے اتنے سارے ثبوت ایک ہی پریس کانفرنس میں فراہم کر دیئے گئے تھے اور اقوام متحدہ اور اس کے اداروں سمیت دنیا کے کئی ملکوں کو ڈوزئیر بھی بھیجے گئے تھے جن میں یہ سارے ثبوت موجود تھے۔ لیکن آج تک نہیں سنا کہ دنیا کے کسی ملک نے اس معاملے میں بھارت کے ساتھ بات کی ہو اور اگر کی بھی ہو گی تو اس سے کوئی باخبر نہیں ہو سکا چند روز تک ان خبروں اور ان ثبوتوں کا اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر تذکرہ ہوا اور پھر دنیا اپنے اپنے مسائل میں الجھ گئی۔ بھارت البتہ اسی طرح دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کرتا رہا ۔ اُس ڈوزیئر کے پیش ہونے کے بعد بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے کئی بڑے چھوٹے واقعات ہوئے جن میں ڈائریکٹ بھارت کا ہاتھ تھا۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔

    ۔ اس لیے اس دفعہ جو کارروائیاں ہوئیں اور جو شواہد ملے ہیں وہ اتنے مضبوط ہیں کہ اگر اس پر بھی دنیا خاموش رہی تو پھر سمجھا جائے گا کہ دنیا امن نہیں چاہتی۔۔ بھارت کو کیونکہ معلوم تھا کہ وہ پکڑا گیا ہے تو جوہر ٹاؤن دھماکے کے بعد جموں میں ڈرون حملے کا ڈرامہ رچایا گیا اور اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی گئی۔ جس پر دنیا نے اسکو کوئی خاص لفٹ نہیں کروائی ۔ ۔ پر سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی دہشت گردی ہوتی ہے وہ بھارت کراتا ہے۔ اور یہ ہمارا دشمن نمبر ون ہے۔ ۔ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کی بات کی۔ جبکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی پرامن شناخت کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر ایک منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔۔ کیونکہ آپ دیکھیں ممبئی حملے ہوں، بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہو یا پلوامہ کا واقعہ ہو بھارت کے پاس پاکستان پر عائد کئے جانے والے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ صرف اپنے عالمی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر پاکستان کو قصور وار ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے پاس دہشت گردی کے متعدد واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہیں ۔ اے پی ایس کے سانحہ میں بھارتی کردار تھا۔ چند سال قبل لاہور کی مال روڈ پر پولیس پر خودکش حملہ ہوا اس میں بھارتی کردار سامنے آیا۔ بلوچستان سے بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو پکڑا گیا۔ کلبھوشن نے دہشت گردانہ کارروائیوں میں معاونت کا اعتراف بھی کیا۔ ۔ پر آپ دیکھیں الٹا پاکستان پر بھارت کے کہنے پر ایف اے ٹی ایف اور چائلڈ سولجر ایکٹ کے تحت پابندیاں لگانے کا فیصلہ ہو گیا۔ ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں ہماری کسی کوتاہی کا دخل ہے کہ ہمارے مہیا کئے ہوئے ثبوتوں پر غور نہیں کیا جاتا یا ہم اپنا مقدمہ اچھی طرح نہیں لڑ رہے یا کہیں نہ کہیں کوئی خرابی ہے کہ اتنے سارے ڈھیروں ثبوتوں کے باوجود دنیا مان کر نہیں رہی کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی نہ کوئی ملک تو ایف اے ٹی ایف سے کہتا کہ بھارت کو بھی واچ لسٹ میں رکھو، یا ہمارا کوئی غمگساربھارت سے کہتا کہ بہت ہو چکی، اب یہ سلسلہ روک دو، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے دوست ملک بھی بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے بے چین رہتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ کشمیر میں اس کی زیادتیوں پر بھی نہیں بولتے ہیں اور کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کے تحت ہی بھارتی قیادت سے کہا ہو کہ کشمیری بھی انسان ہیں ان کے ساتھ کم از کم انسانی سلوک تو کرو، ایسے میں ہم کب تک بھارتی دہشت گردی کے ثبوت پیش کرکے دنیا سے یہ توقع رکھیں گے کہ وہ ان ثبوتوں کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔

    ۔ دنیا سے امیدیں باندھنے کی بجائے ہمیں خود ہی ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ساتھ کسی ٹھوس لائحہ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ افسوس ہے کہ ایسی ناقابل تردید شہادتوں کے باوجود عالمی طاقتوں نے بھارتی رویے سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ، ایف اے ٹی ایف اور سلامتی کونسل سمیت کوئی ادارہ بھارت کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی جرأت نہیں کر پا رہا جو عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کی دلیل ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت مسلسل پاکستان میں تخریب کاری میں مصروف ہے۔ اگر ان تمام ثبوتوں اور شواہد کے پیش نظر دنیا بھارت کے خلاف کارروائی کرتی تو بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر دہشت گرد حملے نہ ہوتے اورنہ ہی لاہور میں دھماکا ہوتا۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے تمام واقعات میں بھارت براہ راست ملوث رہا ہے۔ بھارت کے دہشت گردوں سے بالواسطہ روابط ہیں اور اس مقصد کے لئے بھارت عرصہ دراز سے افغانستان کی سرزمین کو بیس کیمپ کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ لاہور میں دھماکا بھی سازش کے تحت کرایا گیا جب فیٹف اجلاس میں پاکستان کے بارے میں فیصلہ ہورہا تھا۔ ایسے موقع پر لاہور میں دھماکا کرانے کا مقصد یہی تھا کہ یہ ظاہر کیا جائے کہ پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے میں فی الحال کامیاب نہیں ہوسکااور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے بجائے بلیک لسٹ کیا جائے ۔ وہ الگ بات ہے کہ ہر بار کی طرح بھارت کو اس بار بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے والے ملک پاکستان کو تو ایک عرصے سے گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ لیکن پاکستان میں دہشت گردی کرانے والا ملک بھارت فیٹف کی نظروں سے اوجھل ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ فیٹف فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کرکے بھارت کو بلیک لسٹ کردے۔ اور لاہور دھماکا اس حوالے سے تازہ ترین ثبوت ہے۔ ۔ اب ضروری ہے کہ عالمی ادارے بھارت کے حقیقی چہرے کو دیکھیں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی سرپرستی کرنے پر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عالمی برادری نے بھار ت کے مکارانہ کردار پر خاموشی اختیار کئے رکھی تو سمجھا جائے گا کہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کسی قانون اور اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ امتیازی، انتقامی خواہشات کے تحت کی جا رہی ہیں۔ جبکہ بھارت مسلسل خطے کے امن کے ساتھ کھیل رہا ہے۔

  • آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    اس وقت آزاد کشمیر میں انتخابات کا شور سنائی دے رہا ہے۔ہر شخص اپنی من پسند پارٹی اور امیدوار کو سپورٹ کررہا ہے۔الیکشن میں تقریباََ بیس دن باقی ہیں۔جوں جوں پولنگ کا دن قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں میں ایک نیا جوش اورولولہ محسوس کیا جارہا ہے۔جہاں تحریک انصاف،پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار و کارکنان جیت کے لیے پرعزم ہیں وہیں کچھ نئی جماعتیں بھی اس سیاسی اکھاڑے میں قدم رکھ کر جیت کے لیے پرعزم ہیں۔لیکن اصل مقابلہ تین بڑی جماعتوں کے درمیان ہے۔ سب جماعتوں کے قائدین اپنی جماعتوں کو جتوانے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی کشمیر کا دورہ کیا۔وہ آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران کوٹلی کے علاقے ہجیرہ میں خطاب کے دوران کہا کہ جیالے بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے،آزاد کشمیر میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی۔اس دوران وہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں اپنے امیدواران کی کارنر میٹنگز اور جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔انہیں آزاد کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔انہوں نے کوٹلی میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ یہ خود دھاندلی کے ذریعے ملک پر مسلط ہوئے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی بات کی جائے تو گذشتہ پانچ سال انہوں نے کشمیر میں حکومت کی۔مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کی سیاسی مہم کے لیے مریم نواز صاحبہ کو میدان میں اتارا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں گلگت بلتستان کے انتخابات میں مریم نواز صاحبہ نے بھر پور مہم میں حصہ لیا لیکن وہاں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شہباز شریف بھی مریم نواز کے ساتھ مل کر کشمیر کی انتخابی مہم چلائیں گے۔مریم نواز آٹھ جولائی کو کشمیر میں اپنی مہم کا آغاز کریں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف بھی کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔تحریک انصاف کی طرف سے علی امین گنڈا پور پہلے سے ہی مظفر آباد میں موجود ہیں اور مہم چلا رہے ہیں۔سردار تنویر الیاس بھی بھر پور متحرک ہیں،سردار تنویر الیاس نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔اس دوران وزیر اعظم کے کشمیر دورے کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

    تمام بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلم کانفرنس،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کی بھر پورتیاری کررہی ہیں۔سابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ حمید گل کی جماعت بھی حصہ لے رہی ہے۔اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں تحریک لبیک اور جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ بھی حصہ لے رہی ہے،دونوں جماعتوں کا کشمیر کی سیاست میں پہلا قدم ہے۔تحریک لبیک پر شروع میں پابندی بھی لگائی گئی لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے ترجمان سردار حمزہ رافع نے بتایا کہ وہ تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر چکے ہیں،ان کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں وہ کشمیر کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں اور بلدیاتی الیکشنز بحال کروانا ان کے منشور کا حصہ ہے،انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر موومنٹ کے سربراہ سردار بابر حسین تحریک انصاف سے منسلک رہے اس کے بعد انہوں نے اپنے چند نظریاتی رفقاء کے ساتھ مل کر جماعت کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی مہلک وباء میں موومنٹ نے خدمت خلق کا کام بھی کیا ,بھوکوں تک کھانا پہنچایا اور گھر گھر جاکر کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی دی اور آئندہ بھی خدمت کے کام کرتے رہیں گے .گذشتہ روز سوموار کے دن اسلام آباد پبلک سیکرٹریٹ میں امیدواران سے گفتگو کرتے ہوئے سردار بابر حسین نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پچیس جولائی کو کرسی پر مہر لگا کر اسے کامیاب بنائیں،ہمارا مقصد کشمیر کی تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔بلدیاتی انتخابات کے لیے ریاست کو مجبور کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کرادار ادا کرے۔سردار بابر حسین خود بھی سہنسہ،پنجیڑہ کے حلقے سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور حلقے میں کارنر میٹنگز کررہے ہیں۔آزاد کشمیر کی فتح کا تاج کس کے سر سجے گا اب اس کا فیصلہ عوام پچیس جولائی کو کرے گی۔