Baaghi TV

Category: متفرق

  • بچپن کی شرارت قسط 3۔  تحریر : طلعت سلام

    بچپن کی شرارت قسط 3۔ تحریر : طلعت سلام

    السلام علیکم دوستوں

    امید ہے کے آپ لوگ میری اپنی بچپن کی شرورتوں سے محظوظ ہو رہے ہونگے۔۔

    آج پھر ایک پرانی ایسی شرارت جو کے تھوڑی شرارت کے لیول سے اوپر تھی اور جس پر مجھے اکثر افسوس بھی ہوتا ہے وہ آپ سب کے ساتھ شیعر کرتی ہوں۔۔۔

    ھمارا گھر پاکستان میں ڈبل اسٹوری گھر تھا۔ بیڈ رومز سب کے اوپر والے حصے میں تھے۔ اور جس جگہ ھمارا بیڈروم تھا وہ گلی میں سامنے کی طرف تھا اس میں بالکونی بھی تھی اور ایک بہت ہی بڑی کھڑکی۔ گھر کیونکہ کارنر کا تھا تو سٹی کے ایک پول پر بڑا سا بلب لگا رہتا تھا۔۔۔

    اب آپ سوچ رہے ھونگے کے میں یہ کیوں بتا رہی😂 جی جناب اصل میں رات کو اس بلب سے ھمارے بیڈروم میں بہت روشنی آتی تھی جو کے ھم تینوں بہنوں کو بودر کرتی تھی۔ چھوٹی اور بڑی بہنیں تنگ ہوتی پر خاموش ھو جاتی۔
    لیکن طلعت بیگم کے پاس ہر چیز کا علاج ھوتا تھا۔ ایک دن میں نے اپنی بہنوں کے ساتھ مل کے پلان بنایا کے کسی طرح اس بلب کو توڑنا ہے😬🤭

    پہلے تو بڑی نے منع کیا پھر آخر کار بار بار اسے سمجھانے پر وہ بھی شامل ھوگئی۔

    اب مسئلہ یہ تھا کے توڑیں کیسے؟؟؟
    چھوٹی نے مشورہ دیا کے پتھر مارتے ہیں شاید نشانہ لگ جائے اور بلب ٹوٹ جائے۔ ایک رات ھم تینوں ڈھیر سارے چھوٹے پتھر جمع کر کے اپنے بیڈ روم میں لے گئے۔ اور جب سب سو گئے تو ھم تینوں بالکونی میں گئے اور بلب کا نشانہ لے کے پتھر مارا، پتھر بلب کو تو لگا نہیں سامنے والے کی چھت پر چلا گیا۔ ھم پھر بھی نہیں رکے ایک کے بعد ایک مارتے رہے۔ اور ہوا کچھ یوں کے بلب کے بجائے سامنے والے کی کھڑکی ٹوٹ گئی۔

    اور اسکے بعد تو ھم تینوں اندر بھاگے ی
    ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
    اس کے بعد سامنے والے باہر نکلے اور جو گلی میں ہنگامہ ھوا، اففففففف اندر ھم تینوں دبکے بیٹھے رہے۔ اور وہ بیچارے کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر الزام ڈالتے رہے۔ کسی کا شک ھم پر نہیں گیا، گلی میں موجود لڑکوں پر شک کرتے رہے، ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کے لڑکیاں بھی یہ کام کر سکتی ہیں۔

    لیکن اس کوشش سے بھی بلب نہیں ٹوٹا تھا۔ اب ھم نے اگلی رات دوسرا پلان کیا۔ اور یہ میرا پلان تھا، ھمارے پاس آئیر گن تھی تو جناب میں دوسری رات آئیر گن لے کے آئی اور اندر بیٹھے بیٹھے کھڑکی سے بلب کا نشانہ لیا، دو تین بار کی کوشش کے بعد بالآخر بلب ٹوٹ گیا۔ اور ھم تینوں بہنیں رات میں ہی جشن منا کے سو گئے۔

    لیکن اس وقت کراچی انتظامیہ کچھ زیادہ ہی افیشینٹ تھی ایک دن کی شکایت پر ہی آ کے بلب بدل دیتے ہیں۔ باز آنے والے ھم بھی نہیں تھے۔ ہر ھفتے نیا بلب لگتا اور طلعت بیگم کا نشانہ بھی ایسا پکا ھو گیا تھا کے ایک ہر فائر میں بلب توڑ دیتی۔

    پر ایک دن امی جان کو پتہ چل گیا کے یہ حرکت میری بیٹیاں کر رہی ہیں اففففففف اسکے بعد کچھ بتانے کی ھمت نہیں ہاہاہاہاہاہاہا، اچھے خاصے تھپڑ سے میرا سواگت جو ھوا تھا۔

    اب سوچتی ہوں یار کتنی بدتمیز تھی میں بلب راہ گیروں کی اسانی کے لیے لگائے جاتے اور میں کیا کرتی تھی۔

    شکر ہے امی کے تھپڑ نے مجھے مزید یہ کام کرنے سے روک دیا ورنہ نجانے میں سٹی کا اور لوگوں کا کتنا نقصان کرتی رہتی۔

    اب اجازت دیں پھر ملینگے ایک نئی شرارت کے ساتھ۔

  • 3 فٹ 7 انچ  کا شوہر اور 5 فٹ 5 انچ کی بیوی نے نیاعالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    3 فٹ 7 انچ کا شوہر اور 5 فٹ 5 انچ کی بیوی نے نیاعالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    برطانوی نژاد جوڑے جیمس لسٹڈ اور کلوئی نے حال ہی میں ایک منفرد ریکارڈ اپنے نام کیا ہے جس کے مطابق ان میاں بیوی کے قد میں سب سے زیادہ فرق ہے جو تقریباً دو فٹ بنتا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی شدہ جوڑوں میں عموماً شوہر اور بیوی کا قد ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کبھی بیوی زیادہ لمبی ہوتی ہے تو کبھی شوہر کا قد زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، میاں بیوی کے قد میں اب تک بہت زیادہ فرق مشاہدے میں نہیں آیا۔

    33 سالہ جیمس لسٹڈ کا قد 3 فٹ 7 انچ ہے جبکہ ان کی بیوی، 27 سالہ کلوئی کی اونچائی 5 فٹ 5 انچ ہے۔ یعنی ان دونوں میں قد کا فرق 1 فٹ 10 انچ (تقریباً دو فٹ) ہے گزشتہ روز ان کی شادی کو 5 سال ہوئے ہیں جبکہ ان کی ایک بیٹی ’’اولیویا‘‘ بھی ہے۔

    جیمس ایک برطانوی اداکار اور ٹیلی ویژن چینل پر میزبان ہیں جبکہ وہ ’’تھری فٹ سیون‘‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی چلا رہے ہیں جہاں چھوٹی جسامت والے لوگوں کےلیے ٹی شرٹس فروخت کی جاتی ہیں جبکہ کلوئی ایک اسکول ٹیچر ہیں۔

    ایک جینیاتی بیماری کی وجہ سے جیمس کا قد چھوٹا رہ گیا لیکن انہوں نے اپنے چھوٹے قد کو اپنے لیے مجبوری بننے نہیں دیا۔ البتہ، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے قد کی وجہ سے شاید ہی کبھی شادی کر پائیں گے۔

    2012 میں جیمس کو اپنے علاقے میں اولمپک مشعل تھام کر دوڑنے کا موقع ملا جسے پوری دنیا میں دیکھا گیا۔ اس کے بعد کچھ دوستوں نے ان کا تعارف کلوئی سے کروایا جو اس وقت صرف اٹھارہ سال کی تھیں۔

    حیرت انگیز طور پر، جیمس سے پہلی ملاقات ہی میں کلوئی کو ان سے پیار ہوگیا اور بالآخر 2016 میں دونوں نے شادی کرلی۔

    یہ دونوں آج بھی برطانیہ کی ویلز کاؤنٹی میں اپنی بیٹی اولیویا کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں گنیز ورلڈ ریکارڈ نے بھی ’’میاں بیوی میں قد کے سب سے زیادہ فرق‘‘ کا عالمی ریکارڈ ان دونوں کے نام کردیا ہے۔

  • ‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہ زیب

    ‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہ زیب

    کائناتِ ارضی و سماوی کی تخلیق و حیران کر دینے والی ترتیب، خوبصورت و سر سبز لہلہاتی فصلوں اور کھیتیوں، گھنے اور قد آور درختوں سے مزین جنگلات، عقل و خرد اور دل و نگاہ کو مست و بےخود کر دینے والی سُریلی آبشاروں، روح وقلب کو تازگی بخشتے دریاؤں اور سمندروں، اسمان کوچھوتے سخت جان پہاڑوں، الگ الگ نوعیت کے رنگ و بو سے مزین خوشبودار پھولوں اورصحت افزا پھلوں، خوشوں والی کھجوروں اور بھوسے اور خوراک و معاشی ضروریات کی تکمیل کرنے والے اناج سے مزین یہ کائنات انسانی سوچ کی تمام حدوں سے ورا اُلوریٰ یقیناً اُس ذات کا بے حد و بے شمار شکر ادا کرنے کے لئے عظیم نشانیاں ہیں جِس نے انہیں حضرت انسان کے لئے انہیں پیدا فرمایا۔

    یقیناً تمام کبریائی، بزرگی اورعظمت اُسی ذات کے شایانِ شان ہے جِس نے تمام آسمانی کرّے باہمی ترتیب و مطابقت کے ساتھ اس پیدا فرمائے کہ نہ ان میں کوئی جھول ہے نہ کوئی خامی، اور اسی ذات بزرگ و برتر نے آسمانِ دنیا کو روشن ستاروں اور سیّاروں سے روشن و آراستہ فرمایا۔ اس کائنات کا یہ نظام ودیعت اور تخلیق ذرا بھر بے ضابطگی اور عدمِ تناسب سے مکمل طور پر پاک و مبرا ہے اور اس طرح مرتب کہ ایک کا نظام دوسرے میں کسی طرح بھی مُدخل نہیں-

    قرآن پاک اللہ تعالی کی تخلیق پر تمام معترضین نقادوں کو چیلنج کرتا ہوا فرماتا ہے :

    ’’الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاؕ-مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍؕ-فَارْجِعِ الْبَصَرَۙ-هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ(۳)ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ(۴)
    ترجمہ: کنزالایمان
    جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ(خرابی وعیب) نظر آتا ہےپھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی‘‘
    تفسیر:
    اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار میں  سے یہ ہے کہ اس نے کسی سابقہ مثال کے بغیر ایک دوسرے کے اوپرسات آسمان بنائے۔ہر آسمان دوسرے کے اوپر کمان کی طرح ہے اور دنیا کا آسمان زمین کے اوپر گنبد کی طرح ہے اور ایک آسمان کا فاصلہ دوسرے آسمان سے کئی سوبرس کی راہ ہے۔ تو اے بندے! تو اللّٰہ تعالیٰ کے بنانے میں  کوئی فرق اور کوئی عیب نہیں دیکھے گا بلکہ انہیں  مضبوط،درست،برابر اور مُتَناسِب پائے گا۔تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ تا کہ تو اپنی آنکھوں  سے اس خبر کے درست ہونے کو دیکھ لے اور تیرے دل میں  کوئی شبہ باقی نہ رہے،پھر دوبارہ نگاہ اٹھا اور باربار دیکھ، ہر بارتیری نگاہ تیری طرف ناکام ہو کر تھکی ماندی پلٹ آئے گی کہ بار بار کی جُستجُو کے باوجود بھی وہ ان میں کوئی خَلَل اور عیب نہ پاسکے گی۔

    اللہ پاک نے نہ صرف یہ کائنات اور اس میں موجود نظام تخلیق فرمایا بلکہ خود اس نظامِ بے مثال و باکمال کی حفاظت کاذمہ بھی لیا۔

    کبھی غور تو کریں کہ اس نظام کی ترتیب کس قدر عقل و خرد کو لاچار کر دیا کرتی ہے۔
    اس شمسی و قمری نظام و ترتیب میں سورج اور چاند مقررہ حساب و اوقات کے پابند ہیں جو منزلیں اور اوقات ان کیلئے مقرر ہیں نہ ان سے تجاوز کرتے ہیں اور نہ روگردانی ، اپنے اپنے مدار میں مصروف و متحرک ہیں کیا مجال کہ سرسائی دائیں ہوں یا بائیں یا لمحہ بھر کی بھی تقدیم، تاخیر و سکونت ہو سکے۔

    الغرض نظامِ ارض و سمٰوات میں جس جہت غور و تفکر کر لیں مکمل نظم و ضبط اور ترتیب و تکمیل پائی جاتی ہے، نظامِ قدرت کے اس توازن و ترتیب کی وجہ سے ہر شے مکمل افادیت اور حسن و تازگی کا منبع ہے-

    جبتک یہ نظام اِسی ترتیب و توازن سے چلتا رہتا ہے انسان اِس کی افادیت سے مستفید و متنفع رہتا ہے لیکن ادھر انسان نے اس توازن و ترتیب کو زاتی مفاد کے لئے عدم توازن کا شکار کرنے کی کوشش کی تو اس کو دور رس منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا- یہ ہر ذی شعور و خرد پر مثلِ شمس واضح و عیاں ہے کہ تخلیقِ کائنات میں کوئی کمی، کوئی کجی، کوئی نقص وآلودگی کا شائبہ بھی نہیں –
    تو پھر یہ جو آج کا انسان نواع و اقسام کی آلودگیوں و پیچیدگیوں کا شکار نظر آتا ہے یہ اس کی زاتی تخلیق شُدہ ہیں۔

    بظاہر آج کے انسان نے مادی اشیا و صنعت میں فقیدالمثال ترقی کر لی ہے۔ ایجادات و تعمیرات میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی نئی سے نئی دریافت میں سرگرداں ہے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دھن میں نئے سے نئے تجربات و ریاضات کی کھوج میں ہے۔ لیکن اِسی کھوج اور طاقت ور بننے کے نشے میں بےشُمار ایسے عوامل و طریق میں کھو چکا ہے کہ وقتی مفاد کے لئے دورافتادہ نقصانات کو پرکھنے و ادراک کرنے سے عاری ہو چکا ہے۔ انسان کی اسی دھن کا شکار آج کا معاشرہ ہوتا جا رہا ہے۔

    صنعتی و سائنسی ترقی کے نام پر جب انسان نے گیسی مادوں کی بڑے پیمانے پر ایجادات و استعمال کو اس کے دور رس مضمرات سے کنارہ کش ہوتے ہوئے، مختلف الاقسام ایجادات، تحقیقات کے نام پر کیمیائی اور حیاتیاتی دریافتوں کے ذریعے ترقی حاصل کی- اِس ترقی کی راہ میں آنے والے نقصانات سے پیدا ہونے والے احتساب و سوالات سے مبرا و منزہ انسان جب اپنی دھن میں بھاگتا چلاگیا تو اسی ترقی کی وجہ سے قدرتی ماحول پر انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہونے لگے-
    آج کے دور کا ہر ترقیاتی منصوبہ اس اجتماعی ماحول کو کسی نہ کسی طرح نقصان سے دوچار کر رہا ہے۔
    1880ء سے پہلے توکبھی کسی نے اس ماحولیاتی آلودگی پر کسی قسم کی خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ لیکن اس صنعتی ترقی میں استعمال ہونے والی مادی گیسوں، کیمیائی و نباتاتی اشیاء و اجزا کے کثرتِ استعمال اور نئی ایجادات کے بنا پر پیدا ہونے والی اس
    آلودگی کی پیمائش کی حساب و کتاب کرنے کے لئے پہلا ادارہ عمل میں لایا گیا۔
    اس ادارے کی تحقیقات کے تحت اِن تمام استعمال شدہ عوامل کے پیشِ نظر فضا میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
    اس کی تحقیق کے مطابق سنہ 1880 سے سنہ 1980 تک اس درجہ حرارت میں 0.13 فارن ہیٹکے حساب سے ہر دس سال میں اضافہ ہوا ہے۔
    1981 کے بعد اس میں 0.32 ڈگری فارن ہیٹ/10سال کے حساب سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق اِس طویل عرصہ میں 2019 ایسا سال تھا جِس میں درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔
    تحقیقاتی ادارے کو یہ کہنا ہے کہ اگر اسی رفتار سے ماحولیاتی الودگی میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے چند سالوں کے بعد یہ اس کے باعث سطح سمندر میں اضافے سے ساحلی علاقےزیر آب آنے کےخطرے سے دوچار ہیں۔
    اِسی درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشئیرز پگلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور بارشوں کے سلسلے متاثر ہونے اور غیر متوقع طوفانوں کی تباہی کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔

    اس موسمی تبدیلی کے پیشِ نظر مجبوری ہجرت،انواع القسام بیماریوں، قلتِ اجناس، جنگلی حیات کا ناپید ہونا، پانی کی قلت اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل کا سامنا ناگزیر ہے-

    اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت انسانی جان کی بقاء کو اِس ماحولیاتی آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے۔
    اس پر تو کوئی دوسری رائے نہی ہو سکتی کہ روئے زمین پر تمام جانداروں اور بالخصوص انسانی جان کے تحفظ کا انحصار جن ضروریاتِ حیات پر کیاجا سکتا ہے ان میں سےایک پاک و شفاف ماحول و ہوا ہے- اس اہم اور حساس معاملے پر ادراک و فہم ہر ذی شعور کو جاننا اور اِن مضمرات کی روک تھام کے لئے اُن عوامل کو کارفرما لانا انتہائی ضروری ہے جِس سے ماحول آلودہ ہونے سے بچ سکے کیونکہ اس کا بالواسطہ تعلق انسانی حیات سے ہے۔
    اس ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کا اندازہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جِس کے مطابق دنیا میں 70 لاکھ لوگ ہوائی آلدگی اور آکسیجن کی کمی کیوجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔

    جیسا کہ شروع میںذکر ہوا کہ اللہ کا نظام ایک اکمل واعلٰی اور ہر نقص و کمی سے پاک نظام ہے۔ اسی نظام میں ہر مسئلے کا حل اور تدارک رکھا گیا ہے۔ دین اسلام جہاں دیگر مسائل کے متعلق راہنما و پیشوا ہے وہاں ہر ماحولیاتی آلودگی سے متعلق بھی ایک آفاقی نقطۂ نظر رکھتا ہے-
    ماحولیاتی نقصان و فضائی آلودگی کے تدارک کیلئے اسلام میں واضح احکام کے ذریعے صفائی اور شجر کاری کے فوائد ذکر کیے ہیں قرآن پاک میں کھیتی باڑی اور پودوں کا نقصان پہنچانا منافقین کا شیوہ قرار دیا ہے۔

    اسلام میں بلاضرورت درختوں کو کاٹنے سے منع کیا گیا ہے- حتیٰ کہ جنگ میں روانگی کے وقت فوجوں کو اس بات کی باقاعدہ ہدایت کی جاتی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو برباد نہی کریں گے-
    حضور نبی اکرم (ﷺ) نے شجر کاری کو صدقہ قرار دیا اور حکم فرمایا:
    “ اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو‘‘
    لہٰذا ہمیں بطور مسلمان اِن اسلامی تعلیمات و تربیت کی روشنی میں اپنے گردونواع کے ماحول و فضا کو پاک و صاف رکھنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہنا ہے۔ اور اپنی آنےوالی نسلوں کو اس آلودگی کے نقصانات سے بچانے کے لئے ایسے اقدام کرنے ہوں گے جِن کے ثمرات کے نتیجہ میں وہ ایک صحت مند اور توانا زندگی گزار سکیں۔
    ہر فرد معاشرے کا حصہ اور اہم اکائی ہے۔ مختلف اکائیوں کے اجتماع کو معاشرہ کہتے ہیں۔ جب تمام اکائیاں اپنے مثبت کردار کو جمع کرتی ہیں تو ہی صحت مند معاشرہ وجود پا سکتا ہے۔
    آئیے سب ملکر اس معاشرے کی فضا کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنااپنا کردار ادا کریں۔
    جتنا ممکن ہو اپنے گردو نواع میں صفائی ستھرائی رکھنے، پانی کے ضیاع سے بچنے، غلاظت اور گندگی کوپھیلاؤ کے تدارک کاذریعہ بنیں اور زیادہ سے زیادہ شجر کاری کےذریعے ماحول کو ہرا بھرا اور سر سبز و شاداب بنا دیں اِنࣿ شَاءاَللٰؔه
    @shahzeb___

  • ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    پاکستان کا خواب دیکھنے اور اپنی لازوال شاعری کے زریعے محکوم اور بدحال مسلمانانِ برصغیر کو جگانے والے عظیم مفکر ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کے لکھے گئے اس شعر میں جتنا وزن، وسعت اور دور اندیشی میں نے محسوس کی ہے آج اپنی اس تحریر کے زریعے اور اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک اس کا احاطہ کر سکوں

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

    جب کبھی بھی ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کا یہ شعر میری نظر سے گزرتا ہے تو یقین جانیں کہ میں اس سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا میں علامہ صاحب کی اس بات پہ پورا اتر رہا ہوں یا پھر اس پہ پورا اتر سکنے کی کوشش تک بھی کر رہا ہوں

    لیکن! ہر بار میں اس کے جواب میں خاموش سا رہ جاتا ہوں اور کوئی جواب نہیں ڈھونڈ پاتا وہ اِس لئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ علامہ محمد اقبال رح صاحب کی زیادہ تر فکر اور شاعری حضورِ اقدس جناب محمّد رسول اللہ ﷺ کی احادیث و فرامین اور اُن کی قائم کردا ریاستِ مدینہ میں نافذ کردہ قوانین اور اصولوں کے گرد ہی گھومتی ہے

    تو میرے مطابق علامہ اقبال رح صاحب کا یہ کہنا کہ

    “ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

    یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اگر کوئی سمجھے تو ہم سب کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بھی بات ہے۔ جس کو بطور ایک “ملّت کا ستارہ” بن کے نبھانا ہم سب پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ چاہے آپ ایک وزیراعظم، ایک وزیر، ایک آرمی چیف، ایک جنرل، ایک فوجی،ایک چیف جسٹس، ایک جج، ایک وکیل، ایک سی ایس پی آفیسر، ایک سائنسدان، ایک پروفیسر، ایک ٹیچر، ایک بیوروکریٹ، ایک گورنمنٹ آفیسر، ایک سول سروینٹ، ایک ڈاکٹر، ایک بینکر، ایک بزنس مین، ایک انجینئر، ایک صحافی، ایک ادیب و شاعر، ایک اداکار و فنکار، ایک سنگر، ایک کسان و دہقان، ایک مزدور و دیہاڑی دار، ایک طالب علم، کوئی بچہ یا بوڑھا اور کوئی مرد یا عورت یہاں تک کہ ہر اِک فرد اِس ملکِ خدا داد پاکستان کیلئے ایک روشن اور چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے اور ہم سب اپنی اپنی پہنچ اور استطاعت کے مطابق پاکستان کے ہر اچھے اور بُرے ایمج کے ذمہ دار ہیں۔

    تو پھر کیوں ناں ہم سب بطور ایک ذمہ دار شہری اپنی اپنی اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے (قطع نظر اس کے کہ آپ سیاسی طور پہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کو پسند یا نا پسند اور سپورٹ یا مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جہاں ہمارے پیارے ملک پاکستان کی عزت اور وقار کی بات آئے تو ہمیں اپنی ہی کھینچی ہوئی اِن ریڈ لائنز کو خود ہی جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے اپنے اس ملک پاکستان کے حق میں ہونے والی ہر اچھائی کے ساتھ اور ہر برائی کے خلاف کھڑا ہونا ہے) ہمیں اپنے اِرد گرد ہر اُس اچھائی کا ساتھ دینا ہو گا جو ہمارے پیارے مذہب اسلام، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے مطابق ہوں اور ہر اُس برائی کے خلاف دیوار بن کے بھی کھڑے ہونا ہو گا جو آنحضرت ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے برعکس ہوں اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال رح صاحب کے اِن اشعارمیں بھی اسی بات کا درس دیا گیا ہے۔

    اور ایک طرح سے اگر غور کیا جائے تو اس میں اصلاً آپ کو “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہی کی اصل روح بھی نظر آئے گی جس کا حکم ہمیں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بھی بار بار دیا ہے۔

    تو میرے پیارے پاکستانیو! جس طرح سے ڈاکٹر علامہ اقبال رح صاحب نے ہم سب کو یہ کہہ کر ذمہ دار قرار دیا ہے کہ “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” میرے نزدیک اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنے ملک اور قوم کی تقدیر کو خود لِکھ کے (اچھی یا بُری) اِس کو عملی جامہ پہنانا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

    اور اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم اس ملک و قوم کی شان، قدر ومنزلت کو دنیا کے سامنے اچھائی کی صورت میں پیش کرتے ہوئے اپنے پیارے ملک پاکستان کی شان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں یا پھر اس سب کے برعکس ہم اپنے اِس ملک پاکستان کی شان، قدر ومنزلت کو اپنی اپنی برائیوں میں پڑنے کے بعد اقوامِ عالم میں بدنام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

    اور ہم میں سے ہر کوئی اس میں برابر کا شریک ہے۔

    تو اب آخر میں اپنے سب پاکستانیوں سے یہ کہوں گا کہ آپ کبھی بھی اس بات کو فراموش مت کرنا کہ آپ لوگ اُس ملک کے باسی ہیں جو ریاستِ مدینہ کے بعد اسلام کے نام پہ کی گئی ہجرت کے بعد اور ہمارے بزرگوں کی لاکھوں قربانیوں، بہت سے ولیوں کی دُعاؤں اور کئی عظیم لیڈروں کی محنت کے بعد ہمیں نصیب ہوا تھا۔

    اور اب ہم سب پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اِس ملک پاکستان کو اقوامِ عالم میں عظیم سے عظیم تر بنانے کیلئے ہر قسم کی تگ و دو کریں اور اپنے تائیں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔

    یقیناً! اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم سب مِل کے اس ایک مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ڈٹ جائیں تو ایک دن انشاءاللہ ہم اس میں ضرور کامیاب بھی ہو جائیں گے۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو- آمین ثم آمین

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بیچ میں اتوار آگیا تھا مگر چند دن پہلے کی بات ہے کہ بھارتی فواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دنیا کے سامنے اڑنے لگے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ناThe man behind the gun always matters ۔ اب مسلسل ناکامیوں کے سبب بھارتی افواج کے دو بڑے آپس میں لڑ پڑے ہیں ۔۔ بپن راوت نے زمینی افواج کو برتر کہا ہے جبکہ بھارتی ائیر فورس کو معاون کہا ہے ۔

    ۔ اب یہ بپن راوت کی جانب سے ایئر فورس پر ایک ڈائریکٹ حملہ تھا تو بھارتی ایئر چیف نے بھی بیان داغ دیا ۔ اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کے بیان کی نفی کر دی۔ کہ بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو کبھی رافیل طیاروں میں کرپشن، پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے۔۔ حالانکہ شفاف تجزیہ کیا جائے تو بھارتی فوج ۔ ایئر فورس اور نیوی سب ہی ہر جگہ ہر معاملے میں ناکام ہی ہوئی ہیں ۔ ۔ ویسے ہم کو سی ڈی ایس بپن راوت کا شکرگزار ہونا چاہیئے اور دعا کرنی چاہیئے کہ ان کا یہ عہد یوں ہی سالوں سال چلتا رہا ہے ۔ کیونکہ ان کی بدولت ہی دنیا کو معلوم ہورہا ہے کہ بھارتی افواج کوئی منظم فورس نہیں بلکہ ایک ملیشیاء ہیں ۔ ۔ جہاں افسران کو جنگ لڑنا تو نہیں آتا مگر کرپشن کرنی آتی ہے ۔ جہاں یہ تو نہیں پتہ کہ جہاز اُڑانا کیسے ہے مگر رافیل ڈیل میں دیہاڑی لگانی آتی ہے ۔ جہاں افسران کو یہ تو نہیں پتہ کہ سرحد پر کھڑے جوان کوکھانے کے لیے سوکھی روٹی اور دال کیسے پہنچانی ہے مگر یہ پتہ ہے کہ اپنے سے جونئیرز اور انکی بیگمات کو جنسی ہراساں کیسے کرنا ہے ۔ ۔ تو میری نظر میں چاہے بپن راوت ہوں بھارتی ایئر چیف ہوں یا بھارتی نیوی تینوں ہی فیل ہیں ۔ کیونکہ بھارتی فوج نے لداخ میں مار کھائی تھی تو ابھی نندن پاکستان چائے پی کر گیا تھا ۔ تو بھارتی نیوی اپنے کھڑے جہاز اور submarinesکو ڈبونے میں مہارت رکھتی ہے ۔

    ۔ میں کچھ آپکو بپن راوت کے کارنامے گنوا دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے تو بپن روات کی سربراہی میں بھارت میں رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا سکینڈل سامنے آیا تھا ۔ جس سے انھوں نے اپنی ہی ایئر فورس کو 45 ہزار 696 کروڑ بھارتی روپے کا ٹیکہ لگایا تھا۔۔ تو یہ ان کے کرتوت ہیں ۔ دراصل ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو 6.25 بلین ڈالر کے ٹھیکے سے نوازا گیا اور تیجا جہاز لینے پر مجبور کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فضائیہ پہلے دن ہی ان جہازوں کو ان کی تکنیکی مسائل کی وجہ سے مسترد کر چکی تھی۔ کیونکہ 1970 ء کے بعد سے MIG-21
    کے حا دثات میں 170 سے زیادہ پائلٹ اور 40 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ بلکہ اس کو میڈیا نے flying cofins کا نام دے دیا تھا ۔یوں مگ-21 کے فرسودہ بیڑے کی جگہ تیجا جہازوں کو متعارف کرایا گیا لیکن اب تک 60 فیصد تیجا گراؤنڈ ہو چکے ہیں۔ مودی حکومت اور بھارتی ائیر فورس کا 27 جنوری کو تیجا جہاز استعمال نہ کرنا اس پروجیکٹ کی ناکامی کا عکاس ہے۔ یوں بھارتی ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری اپنی غیر معیاری پیداوار اور دہائیوں پرمحیط اپنی مسلسل نا کامیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں بد نام ہے۔ دنیا میں خود کو چین کا متبادل اور مقابل متعارف کروانے والا ملک 26 سال میں اپنے تیار کردہ جہاز کی کینوپی کا فالٹ تک درست نہ کر پایا۔ تو یہ کارکردگی بھارتی ایئر فورس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    ۔ دوسرا آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سی ڈی ایس بپن راوت ہی ہیں جن کہ miscalculationکی وجہ سے بھارتی افواج نے 2020میں چین کے خلاف ایک ناکام آپریشن کیا جس میں بھارتی فوج کے افسر سمیت پتہ نہیں کتنے جوان جان کی بازی ہار گئے ۔ چینیوں نے اٹھا اٹھا کر سیدھا اوپر سے نیچے پھینکا تھا ۔ اور اگر آپ کو یاد ہو تب کی اخباری رپورٹس کے مطابق یہ کلی طور پر سی ڈی ایس بپن راوت کا پلان تھا اور بھارتی آرمی چیف کو اس کا کچھ معلوم نہیں تھا ۔ اس آپریشن کی ناکامی کے بعد یہ سننے میں بھی آیا تھا کہ سی ڈی ایس بپن راوت اور بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے کی آپس میں ۔۔۔ توتو میں میں ۔۔۔ بھی ہوئی تھی ۔ چین سے مار کھانے کے بعد بپن راوت یہاں تک نہیں روکا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت جو امریکہ کے کواڈ گروپ میں شامل ہوا ہے یہ بھی بپن راوت کا کارنامہ ہے ۔ کیونکہ اس کو یہ معلوم ہے کہ بھارتی فوج تو کسی صورت چین کا مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔ تو امریکہ کا ہی آسرا ہو جائے مگر وقت نے طے کیا کہ یہ ایک بہت بڑا بلنڈر ثابت ہوا ۔ کیونکہ بپن راوت نے تو بس سوچا کہ امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پتہ نہیں ان کو ٹیکنالوجی سمیت کیا کیا ملے گا ۔ جس سے یہ چین کا بھرکس بنا دیں گے ۔ پر بھارت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا بھارت کو معاشی طور پر کتنا دھچکا لگے گا ۔ چین نے بھارتی اشیاء پر مختلف طرح کی پابندی لگائی ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو معاشی طور پر کافی نقصان پہنچا ۔ اور بھارت چین کے منتے ترالے کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ چین نے جب سے لداخ کے علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ہے ۔ ساتھ ہی بھارت کو اپنی افواج اتنی بلندی پر رکھنے پر اچھا خاصا خرچہ بھی کرنا پڑرہا ہے اوراچھی خاصہ تعداد میں بھارتی افواج کو مستقل طور پر وہاں رکھنا پڑ رہا ہے ۔ یوں بپن راوت کی ایک غلطی جو اس نے شروعات میں ایک ناکام آپریشن کرکے کی اس کا نقصان اب تک بھارت اٹھا رہا ہے ۔

    ۔ پھر بپن راوت نے باوجود اس کے بھارت اندرونی طور پر کچھ نہیں بناتا ہے ۔ یہ آئیڈیا دیا کہ بھارتی افواج کو made in india equipmentاستعمال کرنا چاہیئے ۔ اس فارمولے نے ابھی اپنا اثر نہیں دیکھایا ہے مگر عنقریب آپکو اس کے اثرات بھی دیکھائی دینے لگیں گے ۔ کیونکہ یاد رکھیں خراب tejasبنانے میں تیس سے چالیس سال لگے ہیں اور ساٹھ فیصد تیجا گراونڈ ہیں ۔ پیسوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے ۔ تو یہ made in indiaاسلحہ بھارتی فوج کی ایک اور قبر بننے جا رہا ہے ۔ ۔ اچھا جس مقصد کے لیے بپن راوت کو ایک طرح سے extension دے کر سی ڈی ایس لگایا گیا تھا ۔ وہ مقصد پورا نہیں ہوا ۔ وہ یہ تھا کہ بھارتی فوج ، بھارتی نیوی ، بھارتی ایئر فورس کے آپریشنز کو یکجا کیا جائے ۔ یعنیinteroperabilityبنائی جائے ۔ اس میں تو وہ مکمل ناکام ہوگئے ہیں ۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت سے خوش نہیں ۔ بھارتی ایئر فورس چیف سے ان کا حالیہ پھڈا آپکے سامنے ہے ۔ یقینی طور پر انڈین نیوی کو بھی ان سے شکایات ہوں گی ۔ ۔ کیونکہ بپن راوت سمجھتا ہے کہ ایئر فورس اور نیوی آرمی کے supporting armsہیں ۔ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے ۔ یوں بپن راوت اپنی ہی فورسز کو ایک دوسرے کے سامنے لا رہا ہے ۔ اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے خلاف کر رہا ہے ۔ پھر بپن راوت جو cold star doctrine کی دھمکی دیا کرتا تھا وہ بھی پاکستان کب کا اٹھا کر بحر ہند میں پھینک چکا ہے ۔

    ۔ اس کے علاوہ آپکو یاد ہو یہ وہ ہی بپن راوت ہے جو two war frontsپر اکیلا لڑنے کے دعوے کیا کرتا تھا ۔ یعنی بیک وقت پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ ۔ اب گزشتہ ایک سال سے یہ چین سے معافیاں مانگ رہے ہیں مگر اب وہ ان کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے اور مذاکرات کے نام پر بھارتی افواج کو بھی exposeکررہا ہے اور بھارتی حکومت کے بھی ناک سے چنے چبوا رہا ہے ۔ یوں بھارتی افواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دُنیا کے اُڑانے میں بپن راوت کا کریڈٹ سب سے زیادہ ہے ۔آپ کا کیا خیال ہے ۔

  • لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

    لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

    بھارت کی ریاست چنئی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ گوتم نے کوویڈ 19 کی ویکسین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے ویکسین لگانے کے بعد ایک آٹو رکشہ کا ماڈل بنایا ہے-

    باغی ٹی وی :انڈین ایکسپریس کے مطابق تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکشے کو کس منفرد طرز سے ڈیزائن کیا گیا ہے رکشے پر نیلے رنگ کا پینٹ کیا گیا ہے اس کے چاروں اطراف سرنجیں نکلی ہوئی ہیں جبکہ چھت پر کورونا ویکسین کی بڑی سی شیشی بھی بنائی گئی۔

    اس رکشے میں ساؤنڈ سسٹم بھی نصب ہے جو اونچی آواز میں لوگوں کو کورونا وائرس کی ویکسین کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

    “میں ویکسینیشن کے بارے میں شعور پیدا کرنے پر کام کر رہا تھا اور میں نے گریٹر چنئی کارپوریشن سے رجوع کیا جو بھی کچھ ایسا ہی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ چنانچہ ہم مل کر ’ویکسین آٹو‘ لے کر آئے۔ یہ منصوبہ دو ماہ قبل تیار کیا جانا تھا لیکن بدقسمتی سے اس میں تاخیر ہوگئی کیونکہ میں کوویڈ ۔19 سے متاثر ہوا تھا ، ”گوتم نے انڈین ایکسپرس کو بتایا۔

    آٹو منی کندن نامی ایک شخص چلاتا ہے جو کارپوریشن کے ہر زون کو روزانہ کی بنیاد پر محیط کرتا ہے۔ گوھم کا کہنا ہے کہ زونل میڈیکل آفیسر انہیں ان علاقوں کی ایک فہرست فراہم کریں گے جہاں ویکسین لگانے کے بارے میں شعور کی کمی ہے۔ اس مہم کے دوران جی سی سی زون کے سپروائزر بھی موجود رہیں گے۔ گوتم اور دیگر رضاکار ویکسین سے متعلق پرچے دیتے ہیں اور لوگوں کوویکسین سے متعلق ان کے سوالات پوچھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    “جی سی سی کی طرف سے بہت کوشش کرنے کے باوجود ، شہر میں بہت سے لوگ اب بھی ویکسین سے آگاہ نہیں ہے۔ خوف کا عنصر بھی ہے۔ ہم ان کو سمجھاتے ہیں کہ ماضی میں ویکسین نے بیماریوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہا کہ اسے ویکسین کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ ٹیکہ لگانے کے لئےمطلوبہ دستاویزات رکھنے والے قریبی پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر میں جاؤ۔ بہت سے لوگ کوویشیلڈ اور کوویکسین کے فرق سے بخوبی واقف نہیں ہیں اور ہم ان سب چیزوں کو آسان زبان میں سمجھا رہے ہیں-

    گوتم نے بتایا کہ آٹو کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر بارش ہو بھی تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا اور یہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔

  • کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت.   تحریر: ایمان ملک

    کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت. تحریر: ایمان ملک

    سوات جسے پاکستان کا سویٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے سرسبز وشاداب میدانوں، خوبصورت مرغزاروں اور شفاف پانی کے چشموں سے مالا مال ہے۔ دنیا کے حسین ترین خطوں میں شمار کیا جانے والا یہ علاقہ، پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب 254 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جب کہ صوبائی دارلحکومت پشاور سے اس کا فاصلہ 170 کلو میٹرہے۔ مگرسنہ 2007ء سے سنہ2009ء کے درمیان دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم (تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی) کے بانی صوفی محمد اور اس کے داماد ملا فضل اللہ کے زیر قیادت طالبان نے سوات میں نظام عدل اور نفاذ شریعت کی آڑ میں ایسا گھناؤنا کھیل رچا کہ اس پوری وادی کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔
    جولائی سنہ 2007ء میں جنوبی ایشیاء کی یہ خوبصورت ترین وادی موت اور تباہی کی وادی میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں سیاحوں کی بجائے خوف کے سائے منڈلانے لگے۔ اور بچیوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانا بند کر دیئے گئے۔ اور ٹی وی سیٹس، سی ڈیز اور کمپیوٹرز کو حرام قرار دے کر نذرِآتش کرنا شروع کر دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بچیوں کے اسکولوں اور سی ڈیز کی دکانوں میں دھماکے ہونے لگے اور پولیس اور سیکورٹی فورسز پر خود کش حملے روزانہ کا معمول بن گیا۔ ملا فضل اللہ کی کھڑی کردہ دہشت گرد "شاہین فورس” نے طالبان کمانڈر سراج الدین کی زیر قیادت بالائی سوات کے اسکولوں، ہسپتالوں اور گورنمنٹ دفاتر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جہاں پاکستان کے قومی سبز ہلالی پرچم کو ٹی این ایس ایم کے سیاہ اور سفید پرچم سے تبدیل کر دیا گیا۔

    اس گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لئے اس وقت کی نگران حکومت نے تقریباً25000 کے قریب سپاہیوں پر مشتمل پاک فوج کے دستے وادی سوات روانہ کئے۔ جن کی کارروائی کے بعد ملا فضل اللہ کے بہت سے ساتھی مارے گئے اور وہ خود فرار ہو گیا۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 13 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو چارباغ اورمٹہ کے علاقوں میں بے دردی سے جانوروں کی طرح ذبحح کیا گیا۔ اور یہیں سے ہی پاکستان میں دہشت اور بربریت کے ایک ایسے باب کا آغاز ہواجس میں پاکستان کے متعدد سول اور عسکری اداروں سے وابستہ اہلکاروں نے جانیں نچھاور کر کے بہادری اور دلیری کی وہ داستانیں رقم کیں جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اوراس لئے ہم سے ڈومور کا مطالبہ کرنے والوں پر یہ لازم ہے کہ پاکستان کے ان شہریوں،فوجی افسران اور جوانوں کی لہو سے لکھی گئی منفرد داستانوں کو پڑھیں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر خود سے سوال کریں کہ کیوں ان کی ڈیرھ لاکھ کے قریب فوج، بے تحاشہ وسائل اور وسیع بجٹ کے باوجود افغانستان میں نہ تو امن قائم کر پائی اور نہ طالبان کے زیر تسلط علاقوں کا کنٹرول حاصل کر سکی؟؟؟

    بہرحال، سوات میں ملا فضل اللہ دوبارہ سرگرم ہوا اس نے پاکستانی ریاست اور اس کے نظام کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان کر دیا جو اس کے شر انگیز نقط نظر میں غیر اسلامی اور غیر شرعی تھا۔ حالات مزید بگڑتے گئے مگر اسی دوران حکومت اور دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم کے بانی صوفی محمد کے مابین ‘امن معائدہ’ طے پاگیا۔ اسی اثناء میں طالبان کی جانب سے ایس ایس جی (اسپیشل سروسز گروپ) کے 4 اہلکار بھی حراست میں لئے گئے جب وہ خوازہ خیلہ بازار میں معمول کے مطابق خریداری کرنے میں مشغول تھے۔ اگرچہ ان اہلکاروں کے پاس اسلحہ موجود تھا مگر پھر بھی انہوں نے امن معائدے کی پاسداری کرتے ہوئے ہر گز کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ اور خود کو چپ چاپ طالبان کے حوالے کر دیا۔ ان ایس ایس جی کے چار اہلکاروں میں سے ایک کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید بھی تھے جنہوں نے اپنے کردار اور عمل سے پاک فوج کے بعد دیگرنوجوان آفیسرز کے لئے ایک ایسی مثال چھوڑی جو سب کے لئے باعث تقلید بنی۔ اور آج اسی لئے ہم سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہمارے آفیسرز کی شہادتوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

    کہوٹہ سے تعلق رکھنے والے اس پاک فوج کے آفیسر نے اپنی ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی جو کہ پاک فوج کی نرسری تصور کی جاتی ہے۔ بعد ازاں پاک فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد کیپٹن نجم نے رضاکارانہ طور پر خود کو ایس ایس جی سروس کے لئے پیش کیا۔ جو عسکری تربیت سازی کے حوالے سے انتہائی دشوارگزار اورکٹھن انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ مگر کیپٹن نجم نے اس تربیت کی ہر مشکل کو آسانی سے عبور کیا اور ایک نڈر، سخت جان کمانڈو بنے جس کا ثبوت انہوں نے اُن بائیس 22 دنوں میں دیا جو انہوں نے اپنے چار دیگر ساتھیوں سمیت طالبان کی حراست میں گزارے۔ ان کی بڑی ہمشیرہ مسز وحیدہ عامر کے مطابق ان کے خاندان کو ان کی حراست کا علم پاک فوج سے نہیں بلکہ دنیا ٹیلی وژن کے اس براہ راست نشر کئے جانے والے انٹر ویو سے ہوا جو بہت عرصے تک علمی حلقوں میں زیرِ بحث رہا۔ دوران حراست کیپٹن نجم کو اپنے گھر والوں سے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کی اجازت تھی ۔ مگر انہوں نے اپنی گفتگو میں کبھی بھی اپنے گھر والوں پر عیاں نہیں ہونے دیا کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں اور نہ ان کے خاندان نے ان پر ظاہر کیا کہ وہ سب جانتے ہیں۔

    کیپٹن نجم کی ہمشیرہ کے مطابق ان کے بھائی ان 22 دنوں میں بہت باہمت اوربا حوصلہ رہے نہ تو ان کا ایمان ڈگمگایا نہ ان کے پاؤں لڑ کھڑائے۔ بلکہ وہ انہیں تاکید کرتے رہے کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو کبھی بھی پاک فوج کو برا بھلا نہ کہا جائے کیونکہ وہ پاک فوج کو اپنا حقیقی خاندان تصور کرتے تھے۔ یہاں واضح رہے کہ یہ تذکرہ سنہ 2009ء میں اپریل کے آخری اور مئی کے اوائل کے دنوں کا ہے جب پاکستان کے حالات بہت خراب تھے اور سرعام میڈیا پر پاک فوج کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جانا معمول سمجھا جاتا تھا ۔ اس دوران کیپٹن نجم کے ایک بھائی اور چھوٹی بہن ملک سے باہر قیام پذیر تھے جنہیں وہاں ان کے موبائل فونز پر طالبان کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے۔ طالبان یہ سب پریشر ٹیکٹکس کے لئے کر رہے تھے تا کہ ان چار اہکاروں کے بدلے ان کی حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل طے پا جائے۔ جو کہ ممکن نہیں ہوئی۔ اسی اثناء میں کیپٹن نجم اور ان کے دیگر ساتھی طالبان کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوئے اور انہوں نے ایک قریبی گاؤں میں پناہ لی۔ مگر وہاں ان کی مخبری ہو گئی اور انہیں وہاں سے بھی بھاگنا پڑا۔ مگراسی دوران ان کا ایک ساتھی ٹانگ پر گولی لگنے کے باعث زخمی ہو گیا اورزمین پر گر گیا۔ اس نے کیپٹن نجم سے کہا، "سر آپ جائیں، مجھے یہیں چھوڑ دیں”۔ مگر کیپٹن نجم ریاض شہید ایک حقیقی کمانڈو تھے وہ کیسے اپنے ساتھی کو وہاں اکیلا چھوڑ سکتے تھے۔ لہٰذا وہ سب اپنے زخمی ساتھی کو بچانے کے چکر میں دوبارہ طالبان کی گرفت میں چلے گئے۔ اب ان کی فون پر گھر والوں سے بات چیت ہونا بھی بند ہو گئی۔ کیونکہ طالبان کو سمجھ میں آچکا تھا کہ حکومت پاکستان اور پاک فوج ان ظالمان سے کسی بھی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کرے گی۔

    اب کیپٹن نجم اور ان کے دیگر تینوں ساتھیوں کو الگ الگ جگہوں پر حراست میں رکھا گیا تھا۔ ایک دن انہیں معلوم ہوا کہ صبح طالبان ان سب کو ذبح کر کے شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو ذبح کر بھی دیا گیا۔ مگر جب طالبان کیپٹن نجم کو لینے کمرے میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کس ماں کے شیر کو للکار رہے ہیں۔ کیپٹن نجم نے ایک ایک کر کے (کمرے میں انہیں لینے کے آنے والے) آٹھ دہشت گردوں کی گردنیں توڑ کر انہیں جہنم واصل کر دیا۔ اوراسی اثناء میں پاکستان کا یہ عظیم لخت جگر کمرے کے باہر کھڑے دہشت گرد کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گیا۔ اور بالآخر 11مئی سنہ 2009ء میں پاک فوج کے اس 24 سالا نوجوان آفیسر کو اپنے آبائی علاقے کہوٹہ میں پورے عسکری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ گو کہ کوئی بھی دنیاوی تمغہ یا اعزاز کیپٹن نجم کی قربانی اوربے مثال بہادری کے شایان شان نہیں مگر بعد از شہادت کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید کو حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ملک و قوم کے لئے خدمات اور عظیم قربانی کے اعتراف میں تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔
    کیپٹن نجم نے اپنے ساتھیوں سمیت جان کے نذرانے تو پیش کئے مگر ان چاروں سپاہیوں کی قربانی ہی تھی جو سوات کو طالبان کے ناپاک قدموں سے پاک کرنے کے لئے آپریشن راہِ نجات اور راہِ راست کا موجب بنی۔ یہ آپریشن آج دنیا بھر کی متعدد ملٹری اکیڈمیز میں ایک ٹیکسٹ کیس کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ جس نے جنت کا نظارہ پیش کرنے والی اس وادی(سوات) کو خوف کے سائے سے نکال کر دوبارہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

    آج ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ہماری افواج اور آئی ایس آئی پر دہشت گردوں سے روابط ہونے کےالزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ اس فوج پر الزامات لگائےجاتے ہیں جس نے کیپٹن نجم سمیت اپنے چار بیٹے شہید کروا دیئے مگران کی جانوں کے بدلےطالبان سے کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی۔ مگر کہیں نہ کہیں تو کوتاہی ہماری بھی ہے کیونکہ بد قسمتی سے ہم آج تک دہشت گردی خلاف جنگ میں اپنی قربانیاں اور اپنے نڈر ہیروز کی کارنامے اس طرح دنیا کے سامنے نہیں لا پائے جس طرح امریکہ اپنے سپاہیوں کی کہانیاں عالمی جنگوں کے بعد اور ابھی افغان جنگ کے حوالے سے منظر عام پر لاتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پروپیگنڈہ وار کا دور ہے۔ جس میں زمینی کارروائی کے علاوہ ذہن سازی اور مثبت سوچ کی نشونما اور ترویج پر بھی توجہ دینا لازم ہوتا ہے۔ اور جہاں ہم شاید بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

    یہ کام صرف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا نہیں بلکہ ہمارے پرائیویٹ میڈیا بشمول فلم انڈسری اور ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ہے کہ وہ آگئے آئیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو فلمانے میں اپنی کردار ادا کریں تاکہ دنیا بھی جان سکے کہ پاکستان دہشت گرد ریاست نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ریاست ہے۔

  • خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    پشتون قوم میں تین اقسام کے نوجوان ہیں۔ اور یہ وہ نوجوان ہیں کہ اگر مل کر ایک ساتھ چلیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔
    پہلی قسم کے نوجوان مذہبی طبقے سے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر شہ کو مذہب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ نوجوان ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جو ان نوجوانوں کے دلوں میں مذہب کے نام پر وطن سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔ یہ نوجوان مذہب کے نام پر خودکش دھماکوں کے لئے تیار کیے جاتے ہیں۔

    دوسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو قوم پرست ہیں۔ ان نوجوانوں کو بچپن سے قوم پرستی کی بناء پر نفرت سکھا دی گئی ہوتی ہے اور ان کے ذہنوں میں یہ بات رکھ دی گئی ہوتی ہے کہ پشتون قوم کو ہمیشہ سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر سطح پر قوم پرستی کا نعرہ لگاتے ہیں اور قوم پرستی کی خاطر پاکستان کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔
    تیسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو سوشل میڈیا پر فعال ہیں۔ یہ نوجوان ہر اس طبقے کی حمایت کرلیتے ہیں جو طبقہ انہیں اپنی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے انہیں پیسے فراہم کرتا ہو۔ یہ نوجوان پیسے کی لالچ میں ملک کے خلاف نفرت پھیلانے سے بھی نہیں کتراتے ہیں۔

    اس وقت پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے اور ملک کے دشمنوں کی یہی سازش ہے کہ پہلے اس ملک کے نوجوانوں کو تقسیم کریں اور پھر انہیں اپنی مفادات کے لئے استعمال کریں۔ اس وقت پاکستان میں 64 فیصد نوجوان ہیں۔ جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہے جہاں نوجوانوں کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک نوجوانوں کے اتحاد کے لئے کوئی پروگرام تربیت نہیں دیا گیا جہاں یہ نوجوان آپس میں بیٹھ جائیں، اور اس کی وجوہات اوپر بیان کر دی گئی ہے۔
    دوسری طرف غیر ملکی میڈیا نے پاکستان میں صرف خیبرپختونخواہ کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ اور ہر واقعے کو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف پیجز بناتے ہیں اور ایسا مواد شئیر کرتے ہیں جو پاکستان اور نوجوانوں کے لئے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ جبکہ نوجوان طبقہ میڈیا کے اس پراپیگنڈے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا پہلا ہدف بھی یہی نوجوان ہیں، کیونکہ نوجوان وہ طبقہ ہے جو جلد اثر انداز ہوتا ہے اور ان کو کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    اسی طرح بہت سے این جی اوز بھی پاکستان کے خلاف کام کرتے ہوئے نوجوانوں کے لئے مختلف تربیتی پروگرام تشکیل دیتے ہیں اور ان تربیتی پروگراموں میں نوجوانوں کو ایسی مواد فراہم کرتے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ ریاستی اداروں کے لئے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہاں نوجوانوں کی ایسی ذھن سازی کی جاتی ہے کہ یہ نوجوان اپنے ہی ریاستی اداروں کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ بیشتر این جی اوز نے پشتون نوجوانوں ہی کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے اور بے روزگار نوجوانوں کو چند روپوں کی لالچ میں ملک کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ان نوجوانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ ملک کتنی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کا نصاب بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ نوجوانوں کی ذہن سازی کرے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال انتہائی ناکارہ ہے ہے۔ جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اول تو طلباء کو دیگر زبانیں سکھائی جاتی ہیں اور جب طلباء میٹرک پاس کرلیتے ہیں تو نہ انہیں علامہ اقبال کے افکار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ قائد اعظم محمد علی جناح کی اس ملک کے لئے قربانیوں سے با خبر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ طلباء ان قومی رہنماؤں کے خلاف تک بولنے لگتے ہیں۔

    پاک فوج نے اس ملک کی حفاظت اور سربلندی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ لیکن اس وقت نوجوانوں کا ایسا ایک طبقہ موجود ہے جو پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ نوجوانوں کے اس طبقے میں پاکستان کے نوجوان کم جبکہ افغانستان کے نوجوان زیادہ ہیں۔ اس طبقہ نے پاکستان کے نوجوانوں کو تقسیم کر رکھا ہے اور یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں امن قائم ہو۔

    بھارت بھی پاکستان کا وہ دشمن ہے جو پاکستان میں امن نہیں چاہتا۔ بھارت بھی ان پشتون نوجوانوں کو اپنی مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے اور مختلف ذرائع سے خاص تنظیموں کو فنڈنگ فراہم کرکے پاکستان اور خصوصاً پاک فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ اگر اس وقت ہم نے اپنے ان مسائل پر غور نہ کیا تو چند ہی سالوں میں اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں ہمیں اپنے دوست اور دشمن کا پتہ تو لگ جائے گا لیکن تب وقت گزر چکا ہوگا۔

  • پاکستان کا عدالتی نظام .تحریر : حمزہ بن شکیل

    پاکستان کا عدالتی نظام .تحریر : حمزہ بن شکیل

    کسی بھی ملک، ریاست کے بنیادی ستونوں میں اہم ترین ستون انصاف کا ہے۔ اسلام بھی دنیا میں عدل و انصاف کی بنیاد پر پوری دنیا میں پھیلا جسے خود پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجہ الوداع کے موقع پر فرمایا کسی کالے کو گورے پر کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ اللہ پاک کے ہاں فوقیت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا اہم واقع بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے .”ایک فاطمہ نامی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کی جاتی ہے جس نے چور کی ہوتی ہے تو اس کے لیے بہت سفارشیں آتی ہیں کہ اس کا تعلق اچھے خاندان سے ہے ان کو معاف کر دیا جاۓ اور اس کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ لیکن اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور فرمایا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اس طرح کرتے تھے کہ امیر کو چھوڑ دیتے اور غریب کو سزا دیا کرتے تھے”

    اس وقت پاکستان میں عدالتی اصلاحات نا گزیر ہو چکی ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے۔ اول تو غریب اور کمزور کو انصاف ملتا ہی نہیں اور اگر مل جاۓ تو اس میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ مظلوم عدالتوں کی خاک چھانتے دنیا ہی چھوڑ جاتا ہے. غریب بیچارہ بے قصور بھی ہو تو کئی کئی سالوں تک عدالتوں کے دھکے کھاتا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور طاقتور اربوں روپے لوٹنے کے باوجود دے دلا کے چند ہی دنوں میں بری ہو جاتا ہے۔

    ایک طرف غریب روٹی یا چپل چوری کرتے پکڑا جاۓ تو ساری عمر جیل میں چکی پیستا ھے اور دوسری طرف لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ اور دن دھاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے رکن بلوچستان اسمبلی مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے نا کافی ثبوتوں کی بنیاد پر رہا ہو جاتے ہیں..

    کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا کیوں کے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ یاد رکھیں جہاں انصاف نہ ہو وہاں کبھی امن نہیں ہوتا اور غربت خیرات سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے۔اللّه پاک بھی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللّه کی عدالت میں صرف انصاف ہوتا ہے اور ظالم پر رحم کرنا مظلوم پر ظلم کرنے جیسا ہے۔ قدرت کا یہ قانون ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یہی مکافات عمل ہے۔

    آزاد اور خود مختار عدالتیں ہی حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ آج پاکستانی عدالتوں میں قریب 21 لاکھ سے زائد مقدمات انصاف کے منتظر ہیں- اس پرانے اور فرسودہ نظام کو اب بدلنے کا وقت ہے۔ ‏عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ موجودہ حکومت کے چند وعدوں میں سے ایک وعدہ عدالتی نظام میں اصلاحات اور تبدیلیاں تھی جو اب تک پورا نہیں ہو سکا۔

    حکومت کو تمام متعلقہ اداروں اور حکام کے ساتھ مل کر عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ سب لوگوں کو فوری اور بروقت انصاف مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جھوٹے مقدمات اور جھوٹی شہادتوں کو روکا جانا چاہئے اور مقدمات کے غیر ضروری التواء کے ذمہ دار ججز اور وکلاء کے خلاف عملی کروائی ہونی چاہئے۔ پارلیمنٹ کو عدالتی اصلاحات پر توجہ دینی چاہئیے۔

    اللّه تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

    {إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ o} [المائدہ:۴۲]
    ” بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ”

    إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
    (الحجرات 9)
    "اللہ قسط سے انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.”

    (حدیث قدسی ، مسلم : 2577 )
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    ” مظلوم کی بد دعا سے بچو ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا _” (بخاری : 1469 ، مسلم : 19)

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں تشریف لاتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں:

    ”اے لوگو! اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کبھی درّہ مارا ہے تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کو برابھلا کہا تو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ اس سے انتقام لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کا مال چھینا ہے تو میرا مال حاضر ہے، وہ اس سے اپنا حق لے سکتا ہے اور تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے انتقام لیا تو میں اس سے ناراض ہوں گا، یہ بات میری شان کے لائق نہیں۔”


  • اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ  سیکھو—— خاص تحریر—— (علی عمران شاھین)

    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو—— خاص تحریر—— (علی عمران شاھین)

    چند روز قبل کینیڈا میں ایک پاکستانی مسلم خاندان کو جو ٹرک کے نیچے کچل کر قتل کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا،میں نے اس پر اپنی ایک اصلاحی مجلس میں کچھ معروضات پیش کیں کہ ہم مسلمانوں کا اس طرح بلاوجہ و بلا ضرورت اپنے ملک چھوڑ کرکافروں کے ملکوں میں جاکر برضا و رغبت و اطمینان رہنا بالکل غلط ہے۔ایسا عمل کرنے والوں کے بارے میں پیارے نبی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ ہے کہ "میں ان سے بری ہوں”

    البتہ وہیں کے مقامی لوگوں کا معاملہ مختلف ہے۔بعد گفتگو نجی محفل ہوئی تو ایک دوست میرے پاس بیٹھ کر کینیڈاویورپ وغیرہ کے” فضائل "بیان کرنے لگے۔

    انہوں نے جب وہاں کی خوبیاں گنوانی شروع کیں تو میں نے کہا کہ ان خوبیوں کو اپنانے سے ہمیں کس نے روکا؟اور اس پر اختلاف کس کا ہے؟ ہمیں خود کو درست کرنا چاہیے، اخلاقی و معاشرتی آداب کو زندگی کا حصہ بنانا چائیے، یہ سب تو میں خود ابھی بیان بھی کر چکا ہوں۔

     

    باتوں باتوں میں انہوں نے ساتھ خود ہی انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کے بہت سے افراد کینیڈا میں ہی مقیم ہیں۔ ان کی پھوپھو حالیہ رمضان کے آغاز میں کینیڈا میں ہی وفات پا گئی تھیں تو ان کی وہیں تدفین ہوئی۔بتانےلگے کہ ان کی قبر کی جگہ کے لئے وہاں ان کی فیملی نے مقامی سرکاری انتظامیہ کو پاکستانی 9لاکھ روپے کے برابر ادا کی تب تدفین ممکن ہوئی۔

    (بصورت دیگر نعش تب تک سرد خانے میں رہتی ہے جب تک رقم کا انتظام نہ ہوجائے اور وہ مسلمان باہم چندہ وغیرہ جمع کرکے کرتے ہیں،اور سرد خانے کا بل بھی بھرنا پڑتا ہے)

    جی، آپ کو معلوم ہے کہ کینیڈا وہ ملک ہے،جو کرہ ارض پر رقبے کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر پے اور آبادی میں پونے چار کروڑ کے ساتھ 37ویں نمبر پر (یعنی ہمارے ایک شہر کراچی سے کچھ زیادہ )البتہ دولت وثروت میں دنیا کے پہلے 10امیر ترین ممالک میں سے ایک،لیکن دل اتنا تنگ اور ظرف اتنا چھوٹا ہے کہ ایک قبر کی جگہ اپنے کسی شہری کو مفت تو کجا کم قیمت میں نہیں دے سکتے۔۔۔۔۔

    میں ابھی پڑھ رہا تھا کہ ہماری ایک عدالت نے آج ہی پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ بڑے شہروں کے پوش امیر علاقوں میں بھی جو چند ہزار روپے لے کر تدفین ہوتی ہے،اسے بھی ختم کرے اور مکمل مفت تدفین کا اہتمام کرے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    اسی دوران ایک اور دوست بتانے لگے کہ ان ملکوں میں بسنے والے ہم پاکستانی وغیرہ تو انگریزوں کے علاقوں میں بہت کم جاتے ہیں کیونکہ ان کی ہم سے نفرت ہی اتنی ہوتی ہے جو برداشت نہیں ہو پاتی۔نائن الیون کے بعد تو وہاں ہر روز کتنی جگہ تارکین وطن مسلمانوں کو چن چن کر مارا جاتا،حملے کئے جاتے ہیں۔

    کمال دیکھئے کہ وہاں آپ پانی سے استنجا نہیں کرسکتے، کیوں کہ کسی بھی استنجا خانے میں پانی رکھنا سخت منع ہے،آپ جتنے مرضی امیر ہوں،گھر میں ملازم نہیں رکھ سکتے،گھر کے سارے کام اہل خانہ نے خود کرنے ہوتے ہیں،مر جائیں تو جنازے میں 40 موحد نمازی مسلمان شامل ہونے والے نہ مل پائیں،

    یہ کیسی زندگی ہے جس کی طرف ہمارے لوگ دوسروں پر محض اپنی سبقت ظاہر کرنے کے لئے لپک لپک کر دوڑے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہی جن کے یہاں ناز نخرے اٹھانے والے بے شمار ہوتے ہیں وہ وہاں محض چمک دمک پر نامعلوم و گمنام زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے سب لٹانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔جن کی یہاں حکومتی موج مستیاں ہوتی ہیں اور ہر طرف ہٹو بچو کی صدائیں ہوتی ہیں وہ وہاں سڑکوں گلیوں ٹرینوں میں ویسے ہی گھوم رہے ہوتے ہیں اور کوئی انہیں دیکھنے والا نہیں ہوتا۔

    اللہ فرماتے ہیں‌
    (اے مسلمانو !)تمھیں کافروں کا دنیا میں عیش و رونق کے ساتھ رہنا کسی دھوکے میں نہ ڈالے،یہ تو تھوڑا سا سامان زیست ہے اور پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ ٹھہرنے کی بہت بری جگہ ہے۔۔۔۔
    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
    سنگ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو۔۔۔۔۔۔
    خاص تحریر۔۔۔۔۔(علی عمران شاھین)